پیر، 5 دسمبر، 2016

اولاد کی تربیت

 اولاد کی ظاہری وباطنی تربیت

اہمیت ․․․․انداز


از:مولانا محمد شفیق الرحمن علوی

دفتر ماہنامہ بینات، بنوری ٹاؤن کراچی


بچے مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر اُنھیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے؛ اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔
بچپن کی تربیت نقش علی الحجرکی طرح ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبڑے ہونے کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔نیز! اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے؛ جب کہ نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہو گی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔
لفظِ ”تربیت“ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے، اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں میں بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں۔ ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد وغرض‘ عمدہ، پاکیزہ، بااخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے۔ تربیت ِ اولاد بھی اُنھیں اقسام میں سے ایک اہم قسم ہے۔
آسان الفاظ میں ”تربیت“ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ:” برے اخلاق وعادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک صالح ،پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ”تربیت“ ہے۔ “
تربیت کی دو قسمیں
تربیت دو قسم کی ہوتی ہے: (۱)ظاہری تربیت،(۲)باطنی تربیت۔
ظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں، یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں۔اور باطنی تربیت سے مراد اُن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔
اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔ ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اُن کی ضروریات کی کفالت پر اُنھیں اُبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔
قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
” قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ“(التحریم:۶)
ترجمہ:”اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں“۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر وتشریح میں فرمایا کہ:
”علموھم وأدِّبوھم“
ترجمہ:”ان (اپنی ولاد )کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ“۔
فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لیے کوشش کرے۔
اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ان احادیث سے بھی ہوتا ہے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
۱- ”مَانَحَلَ والدٌ أفضلَ مِنْ أدبٍ حسنٍ“ (بخاری، جلد:۱،ص:۴۲۲)
ترجمہ:”کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادے“۔
یعنی اچھی تربیت کرنا اور اچھے آداب سکھانا اولاد کے لیے سب سے بہترین عطیہ ہے۔
۲- ”عن ابن عباس․․․․․․قالوا: یارسول اللّٰہ! قد علمنا ما حق الوالد فماحق الولد؟ قال: أن یحسن اسمہ ویحسن أدبہ“ (سنن بیہقی)
ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! والدین کے حقوق تو ہم نے جان لیے، اولاد کے کیا حقوق ہیں؟آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے “۔
۳- ”یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انسان جن کا ذمہ دارورکھوالا ہے، اُنھیں ضائع کردے، ان کی تربیت نہ کرے“۔
یہ بھی ضائع کرنا ہے کہ بچوں کو یونہی چھوڑدینا کہ وہ بھٹکتے پھریں، صحیح راستہ سے ہٹ جائیں، ان کے عقائد واخلاق برباد ہوجائیں۔نیز اسلام کی نظر میں ناواقفیت کوئی عذر نہیں ہے، بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں جن امور کا جاننا ضروری ہے، اُس میں کوتاہی کرنا قیامت کی باز پرس سے نہیں بچا سکتا۔
حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
”اپنی اولاد کوادب سکھلاوٴ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گاکہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔“ (شعب الإیمان للبیہقی)
بچوں کی حوصلہ افزائی
بچہ نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتا ہے، ہم اس سے جس طرح پیش آئیں گے، اس کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کی تعریف سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس پر اُسے شاباش اورکوئی ایسا تحفہ وغیرہ دینا چاہیے جس سے بچہ خوش ہوجائے اور آئندہ بھی اچھے کام کا جذبہ اور شوق اس کے دل میں پیدا ہوجائے۔
بچوں کی غلطی پرتنبیہ کا حکیمانہ انداز
بچوں کو کسی غلط کام پر باربار اور مسلسل ٹوکنا اُن کی طبیعت میں غلط چیز راسخ ہونے سے حفاظت کا سبب بنتا ہے،جس سے اگر غفلت نہ برتی گئی تو اس میں شک نہیں کہ بچوں اور بچیوں میں غلط افکار جڑپکڑنے سے پہلے کامل طریقہ سے ان کی بیخ کنی ہوگی ۔بچے سے خطا ہوجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، غلطی تو بڑوں سے بھی ہوجاتی ہے۔ ماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟ اسی اعتبار سے اسے سمجھایا جائے۔تربیت میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، مربی کو اس بات سے باخبر ہونا چاہیے کہ اس وقت بچہ کے لیے نصیحت کارگر ہے یا سزا؟ تو جہاں جس قدر سختی اور نرمی کی ضرورت ہو اسی قدر کی جائے۔ بہت زیادہ سختی اور بہت زیادہ نرمی بھی بعض اوقات بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔
تربیت میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہیے؛ چنانچہ غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی چاہیے : ۱-سمجھانا۔۲-ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔۳-مارکے علاوہ کوئی سزا دینا۔۴-مارنا۔۵- قطع تعلق کرنا۔ یعنی غلطی ہوجانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کی جائے، اگر پہلی مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اُسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے، صراحةً برائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگربچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی، اس وقت بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہیں ہے، نصیحت اور پیار سے اُسے غلطی کا احساس دلایاجائے ۔
پیارومحبت سے بچوں کی تربیت واصلاح کا ایک واقعہ حضرت عمر بن ابی سلمہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ میں بچپن میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرتربیت اور زیرکفالت تھا، میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا، یہ دیکھ کر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”یا غلامُ سَمِّ اللّٰہ! وکل بیمینک وکل ممایلیک“ ․․․․”اے لڑکے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ۔“
اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے بعد بھی بچہ غلطی کرے تو اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کو کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جاسکتی ہے۔ تربیت کے یہ طریقے نوعمر بچوں کے لیے ہیں؛لیکن بلوغت کے بعد تربیت کے طریقے مختلف ہیں، اگر اس وقت نصیحت سے نہ سمجھے تو جب تک وہ اپنی برائی سے باز نہ آئے اس سے قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے، جو شرعاً درست ہے اور کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہمکے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفل کے ایک رشتہ دار تھے جو ابھی بالغ نہ ہوئے تھے، انھوں نے کنکر پھینکا تو حضرت عبداللہ نے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ: ”إنّھا لاتصید صیدًا“ اس سے کوئی جانور شکار نہیں ہوسکتا، اس نے پھر کنکر پھینکا تو انھوں نے غصہ سے فرمایا کہ میں تمہیں بتلارہا ہوں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر دوبارہ ایسا ہی کررہے ہو؟ میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی اپنے بیٹے سے ایک موقع سے قطع تعلق کیا تھا اور مرتے دم تک اس سے بات نہ کی۔
بچوں کو ڈانٹنے اور مارنے کی حدود
بچوں کی تربیت کے لیے ماں باپ یا استادکااُنھیں تھوڑابہت، ہلکا پھلکا مارنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے؛بلکہ بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔اس معاملہ میں افراط وتفریط کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ غصہ میں بے قابو ہوجانا اور حد سے زیادہ مارنایا بچوں کے مارنے ہی کو غلط سمجھنا دونوں باتیں غلط ہیں۔ پہلی صورت میں افراط ہے اور دوسری میں تفریط ہے۔اعتدال کا راستہ وہ ہے جو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا کہ”اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو؛ جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور ان کو نماز نہ پڑھنے پر مارو؛ جب کہ وہ دس سال کے ہوجائیں“۔ (مشکوٰة) اس حدیث سے مناسب موقع پر حسبِ ضرورت مارنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔
مارنے میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اس حد تک نہ ماراجائے کہ جسم پر مار کا نشان پڑجائے۔ نیز جس وقت غصہ آرہا ہو، اس وقت بھی نہ مارا جائے؛ بلکہ بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس وقت مصنوعی غصہ ظاہر کرکے ماراجائے؛کیونکہ طبعی غصہ کے وقت مارنے میں حد سے تجاوز کرجانے کا خطرہ ہوتا ہے اور مصنوعی غصہ میں یہ خطرہ نہیں ہوتا، مقصد بھی حاصل ہوجاتا ہے اور تجاوز بھی نہیں ہوتا۔
لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینا گناہ ہے
اولاد اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمت اورتحفہ ہے،خواہ لڑکا ہو یا لڑکی۔اسلامی تعلیمات کی رو سے بچوں پر رحم وشفقت کے معاملہ میں مذکر ومؤنث میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ جو والدین لڑکے کی بہ نسبت لڑکی سے امتیازی سلوک کرتے ہیں، وہ جاہلیت کی پرانی برائی میں مبتلا ہیں، اس طرح کی سوچ اور عمل کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ بلکہ دینی اعتبار سے تو اس پر سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں۔ لڑکی کو کمتر سمجھنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے سے ناخوشی کا اظہار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُسے لڑکی دے کر کیا ہے، ایسے آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ تو کیا پوری دنیا بھی مل کراللہ تعالیٰ کے اس اٹل فیصلہ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔یہ درحقیقت زمانہٴ جاہلیت کی فرسودہ اورقبیح سوچ ہے، جس کو ختم کرنے کے لیے رحمة للعالمین  صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین اور تربیت کرنے والوں کو لڑکیوں کے ساتھ اچھے برتاؤاوران کی ضروریات کا خیال رکھنے کی باربار نصیحت کی۔
اولاد کے درمیان برابری اور عدل
ابوداؤد شریف میں حضرت نعمان بن بشیر  کی حدیث ہے:
”قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: اعدلوا بین أبنائکم اعدلوا بین أبنائکم اعدلوا بین أبنائکم“․(ابوداؤد،جلد:۲،ص:۱۴۴)
ترجمہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو، اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو،اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو“۔
مطلب یہ ہے کہ ظاہری تقسیم کے اعتبار سے سب بچوں میں برابری کرنی چاہیے؛کیونکہ اگر برابری نہ ہو تو بچوں کی دل شکنی ہوتی ہے۔ہاں! فطری طور پر کسی بچے سے دلی طور پر زیادہ محبت ہو تواس پر کوئی پکڑ نہیں؛بشرطیکہ ظاہری طور پر برابری رکھے۔ حدیث میں تین بارمکرر برابری کی تاکیدآئی ہے جو اس کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے، یعنی اولاد کے درمیان برابری کرنا واجب ہے، اور برابری نہ کرنا ظلم شمار ہوگا۔اور اس کا خیال نہ رکھنا اولاد میں احساسِ کمتری اور باغیانہ سوچ کو جنم دیتا ہے، جس کے بعد بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان والدین کو اپنی اولاد سے متعلق ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
$ $ $

ہفتہ، 3 دسمبر، 2016

حقوق انسانی



قرآن وحدیث کے تناظر میں حقوقِ انسانی کی تشریح

از: ابواللیث الحسنی کھگڑیاوی ‏، دارجدید، دارالعلوم دیوبند


بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے وہ خونچکاں حالات، جہاں جان ومال، عزت وآبرو ہر چیز خطرے میں تھی، اس کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک روح فرسا کیفیت طاری ہوجاتی ہے، اخوت ومحبت ، ہمدردی وغم گساری، نامانوس بلکہ ناپید تھی، معمولی معمولی سی باتوں پر جنگ چھڑ جاتی اور ایسی بھیانک شکل اختیار کرلیتی، جس کا تذکرہ تو کجا تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے، غرض ہر طرف ظلم وبربریت کا دور دورہ تھا، ایسے مہیب سائے میں فاران کی چوٹی سے ایک آفتاب عالمتاب نمودار ہوا جس کی ضیاء پاش کرنوں سے ایک نئی صبح کا آغاز ہوا، دم توڑتی اور جاں بلب انسانیت کو آبِ حیات ملا، اور انسانیت پہلی بار اپنے حقوق سے آشنا ہوئی۔

حقوق انسانی کے معنی: یہ دو کلموں سے مرکب ہے حقوق جو حق کی جمع ہے: وہ چیز جو ثابت ہو (کسی فرد یا جماعت کیلئے) انسانی: انسان کی طرف منسوب ہے، انسان کی تعریف وہ جاندار یعنی جسم و روح والاجو قادرالکلام ہو۔

حقوق انسانی کا مفہوم: انسان اس دنیا میں تنہا نہیں رہ سکتا، وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور ہے، اپنی ضروریاتِ زندگی کی تکمیل اور آفات ومصائب کے ازالہ کے سلسلہ میں دوسرے انسانوں کے تعاون کا محتاج ہے، اس قضیہ کے پیش نظر ہر انسان کا یہ عقلی و طبعی حق بنتا ہے کہ دوسرااس کی مدد کرے،اس کے حقوق و فرائض کا لحاظ رکھے۔

حقوق انسانی کی ارتقائی تاریخ کا مختصر جائزہ:حقوق انسانی پر کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی بحث کرنے سے قبل ان حقوق کی ارتقائی تاریخ کا مختصر جائزہ لینا بے محل نہ ہوگا تاکہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے، اور آج کی مہذب دنیا (امریکہ) جو انسانی حقوق کی رٹ لگاتے نہیں تھکتا، یہ جان جائے کہ انسانی حقوق کے جس کھوکھلے تصور تک وہ اب پہنچا ہے اس سے کہیں زیادہ جامع اور واضح تصور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سوسال قبل پیش کردیا تھا۔ خطبہٴ حجة الوداع کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی شدومد اور تاکید کے ساتھ حقوق انسانی ہی کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

حقوق انسانی کے شعور وارتقاء کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک ندوی فاضل جناب مولانا سید احمد ومیض ندوی اپنے وقیع مضمون میں رقمطراز ہیں ”صنعتی انقلاب کے آغاز سے مغرب میں حقوق انسانی کا شعور پیدا ہوا کہ انسان کے بھی بحیثیت انسان ہونے کے چند فطری حقوق ہوتے ہیں جن سے کسی بھی فرد کو محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ انسانی حقوق کا شعور بیسویں صدی کے شروع میں نمودار ہوا اور انقلابِ فرانس کا اہم جزو قرار پایا، اس میں قوم کی حاکمیت، آزادی، مساوات اور ملکیت جیسی فطری حقوق وغیرہ کا اثبات کیاگیا تھا، تدریجاً حقوق انسانی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا، اور اخیر میں حقوقِ انسانی کا عالمی منشور سامنے آیا، دسمبر ۱۹۴۶/میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک ریزرویشن پاس کیا جس میں انسانوں کی نسل کشی کو ایک بین الاقوامی جرم قرار دیاگیا۔ ۱۹۴۸/ میں نسل کشی کے انسداد کیلئے ایک قرار داد پاس کی گئی اور ۱۲/جنوری ۱۹۸۱/ میں نفاذ ہوا۔

حقیقی انسانی حقوق: انسان کے بنیادی اور فطری حقوق کے تحت جن جن امور کو شامل کیاجاتا ہے ان میں حقوق اِنسانی کا جامع ترین تصور، انسانی مساوات کا حق، انسانی عزت وآبرو کی حفاظت، انسانی جان ومال اورجائداد کی حفاظت، مذہبی آزادی کا حق، آزادیٴ ضمیر کا حق ضروریات زندگی کا انتظام، انسانی حقوق میں فرد ومعاشرے کی رعایت، بچوں کے حقوق کی حفاظت،اسی طرح انسانوں کے معاشی وثقافتی اور تعلیمی حقوق نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔

حقوقِ انسانی کی صحیح تشریح: سطور بالا میں دور حاضر کے انسانی حقوق کے ارتقاء کا جو سرسری جائزہ لیاگیا ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مغرب میں حقوق انسانی کے تصور کی دو تین صدیوں قبل کوئی تاریخ نہیں ہے۔ جبکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی حقوق انسانی کا ایک جامع تصور انسانیت کے سامنے پیش کرکے بذاتِ خود اسے عملی جامہ پہناکر ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کی۔

فاضل مضمون نگار مولانا ندوی حقوقِ انسانی کے اس مغربی منشور کی عدم تاثیر اور فرسودگی کے اسباب ومحرکات متعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”جن مغربی ممالک نے منشور حقوقِ انسانی کی داغ بیل ڈالی تھی، آج وہی ممالک حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں میں پیش پیش نظر آتے ہیں، چنانچہ آئے دن ان ممالک میں جرائم پیشہ افراد کی شرح میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ مفکرین و مدبرین نے اس کے بہت سے اسباب متعین کیئے ہیں، لیکن حقوق انسانی پر ڈاکہ زنی کا بنیادی سبب ان انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے کسی داخلی قوتِ نافذہ کا فقدان ہے، علاوہ ازیں مغرب کے حقوق انسانی کا فلسفہ صرف اس کے مفادات کے اردگرد گھومتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حقوقِ انسانی ایک نظریہ بن کر رہ گیا، جس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوقِ انسانی کے صحیح نفاذ اور ان کو عملی زندگی سے مربوط کرنے کے لیے فکر آخرت سے جوڑدیا جس کے باعث بندوں کے اندر حقوقِ انسانی کی رعایت وحفاظت کی ایسی اسپرٹ پیدا ہوگئی کہ بندہ از خود حقوق انسانی کا محافظ بن جاتا ہے۔

حقوقِ انسانی کا جامع ترین تصور اسلام نے دیا: مغرب نے حقوقِ انسانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ انتہائی ناقص اور فرسودہ ہے، اس کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرسکے اس کے باوجود مغرب حقوق انسانی کی رٹ لگائے تھکتا نہیں، لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مربوط نظام، انسانی حقوق کا پیش کیا وہ زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے، جن میں احترام انسانیت، بشری نفسیات ورجحانات اور انسان کے معاشرتی، تعلیمی، شہری، ملکی، ملی، ثقافتی، تمدنی اورمعاشی تقاضوں اور ضروریات کا مکمل لحاظ کیاگیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کو اسلام نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اگر کسی شخص نے دنیا میں کسی کا حق ادا نہیں کیا تو آخرت میں اس کو ادا کرنا پڑے گا ورنہ سزا بھگتنی پڑے گی، حتیٰ کہ جانوروں کے آپسی ظلم وستم کا انتقام بھی لیا جائے گا۔ اللہ کے رسول نے فرمایا: حق والوں کو ان کے حقوق تمہیں ضرور بالضرور قیامت کے روز ادا کرنے پڑیں گے، حتیٰ کہ بے سنگھے بکرے کو سینگھ والی بکری سے بدلہ دیا جائے گا۔

زکوٰة اور حقوق انسانی: یہ ایک بدیہی امر ہے کہ ایک مخصوص طبقہ کے پاس مال ودولت کے منجمد رہنے سے کمزور طبقے بیروزگاری کے شکار ہوجاتے ہیں، اور انسانی معاشرہ کی ایک معتد بہ تعداد خط افلاس کے نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اسلامی قوانین نے زکوٰة کو فرض قرار دے کر سالانہ آمدنی کا ڈھائی فیصد حصہ غریبوں کیلئے خاص کیا کہ دولت ایک ہاتھ میں سمٹ کر نہ رہ جائے، صدقہ وخیرات کی اہمیت اجاگر کرکے غرباء ومساکین کا بھرپور خیال رکھا، ارشاد ربانی ہے: وَفِیْ أمْوَالِہِم حَقٌ للسَّائِلِ وَالمَحْرُومِ اور ان کے مالوں میں غرباء ومساکین کا حق ہے۔

اسلام میں انسانیت کی میزبانی: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر دنیا کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ اعزاز بخشا، اس کے احترام واکرام کی تعلیم دی، اس کو خوبصورت سانچہ میں ڈھال کر اسے دنیا کی نعمتوں سے مالا مال کیا، ارشاد ربانی ہے: ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ہے اور خشکی ودریا میں ان کو سواری دی، اور پاکیزہ چیزوں سے روزی دی اور ہم نے ان کو بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ہم نے آدمی کو اچھی شکل وصورت میں پیدا کیا ہے۔ تیسری جگہ فرمایا: اللہ نے تمہارے نفع کیلئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کی ہیں۔ چوتھی جگہ یوں فرمایا: میں سب جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح اسلام نے انسانی حرمت وشرافت کی اتنی پاسداری کی کہ انسان کا احترام پس مرگ تک باقی رکھا، چنانچہ آپ کے زمانے میں ایک عورت کا جنازہ گذررہا تھا، اللہ کے رسول کھڑے ہوگئے، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو یہودی ہے، اللہ کے رسول نے فرمایا ألیسَتْ نفسًا: یعنی کیا وہ انسان نہیں؟ اسی طرح نبوت وشریعت کی دولت بھی صرف اور صرف انسان ہی کو عطا کیاگیا ہے، اسی طرح اسلام نے علوم وعقل اور خرد جیسی گرانقدر انعام سے نوازا، ارشاد ہے: اللہ کی تمام پیداکردہ چیزوں میں عقل اللہ کے نزدیک سب سے باعزت ہے۔

انسانی اخوت ومساوات: محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ ونسل، قومیت ووطنیت، اور اونچ نیچ کے سارے امتیازات کا یکسر خاتمہ کرکے ایک عالمگیر مساوات کا آفاقی تصور پیش کیا، اور ببانگ دُہل یہ اعلان کردیا کہ سب انسان آدم کی اولاد ہیں، لہٰذا سب کا درجہ مساوی ہے، حجة الوداع کے موقع پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تاریخی خطبہ میں جن بنیادی انسانی حقوق سے وصیت وہدایت فرمائی ان میں انسانی وحدت ومساوات کا مسئلہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، ارشاد نبوی ہے:

اے لوگو! یقینا تمہارا پروردگار ایک ہے، تمہارے باپ بھی ایک ہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، یقینا تم میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی اورپاک باز ہو، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری نہیں مگر تقویٰ کی بنا پر، اور فتح مکہ کے موقع پر ایک اہم خطبہ میں اسی طرح کا حکم ارشاد فرمایا۔ اسی طرح ارشاد ربانی ہے: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلادئیے، دوسری جگہ ارشاد ہے: لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قوم اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو، اور خدا کے نزدیک تم میں سے قابل اکرام اور عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو۔

انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت: یہ انسانی حقوق میں سب سے پہلا اور بنیادی حق ہے اس لیے کہ جان سب سے قیمتی اثاثہ ہے، اس کے اردگرد زندگی کی سرگرمیاں گھومتی ہیں، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہ تھی، سب سے پہلے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان وحشی درندوں کو انسانی جان کا احترام سکھایا، اور ایک جان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ قرآن پاک میں بھی اس کی تائید کی گئی چنانچہ ارشاد باری ہے: جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے، یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اس نے گویا تمام لوگوں کا قتل کیا، اور جو اس کی زندگی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا۔ اسی طرح ارشاد نبوی ہے: رحم کرنے والوں پر اللہ رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ دوسری حدیث میں ارشاد ہے: اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہ کرے۔ اور مال کے تحفظ کو یوں موکد کیاگیا ہے، ارشاد ربانی: اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، واضح رہے کہ انسانی زندگی کی بقاء کے لیے مال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

جس طرح حق زندگی اور تحفظ مال، انسان کے بنیادی حقوق ہیں، اسی طرح عزت وآبرو کا تحفظ بھی انسان کا بنیادی حق ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، ممکن ہے کہ وہ اس سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ، اور ایک دوسرے کو برے نام سے مت پکارو۔

تحفظ آزادی (شخصی ومذہبی): اسلامی معاشرہ میں چونکہ ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہیں کسی کا کسی پر بیجا دباؤ نہیں، ہر ایک آزاد اور خود مختار ہے اس لیے اسلام نے انسان کی شخصی آزادی کی بقاء کے لیے انسان کی نجی اور پرائیویٹ زندگی میں مداخلت سے دوسروں کو روکا ہے اور خواہ مخواہ کی دخل اندازی ٹوہ بازی اور بلا اجازت کسی کے گھر میں دخول سے منع کیا ہے۔ ارشاد حق ہے: مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں) کے گھروں میں گھروالوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کیے بغیر داخل نہ ہواکرو۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: اے ایمان والو! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ (بعض) گمان گناہ ہے اور ایک دوسرے کے حال کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ اسی طرح اسلام میں مذہب اور ضمیر واعتقاد کے تحفظ کی گارنٹی یوں دی گئی: دین اسلام میں زبردستی نہیں ہے، ہدایت یقینا گمراہی سے ممتاز ہوچکی ہے۔ ایک دانشور مفکر لکھتے ہیں ”صبر واعتقاد کی آزادی ہی کا قیمتی حق تھا، جسے حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ کے سیزدہ سالہ دور ابتلاء میں مسلمانوں نے ماریں کھاکھا کر کلمہ حق کہااور بالآخر یہ حق ثابت ہوکر رہا۔ اسلامی تاریخ اس بات سے عاری ہے کہ مسلمانوں نے کبھی اپنی غیرمسلم رعایا کو اسلام قبول کرنے پرمجبور کیا ہو، یا کسی قوم کو مارمار کر کلمہ پڑھوایا ہو۔

عورتوں، بچوں، غلاموں، یتیموں اور حاجتمندوں کے حقوق: اعلان نبوت سے قبل عورتوں کی حالت بڑی ناگفتہ بہ تھی، معاشرہ میں اس کی حیثیت سامان لذت سے کچھ زیادہ نہ تھی، معاشی، سماجی ہرلحاظ سے بے بس تھی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سسکتی، بلکتی عورت کی فریاد رسی کی اس کے حقیقی مقام کومتعین فرمایا: چنانچہ حجة الوداع کے موقع پر ان کے حقوق کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ اسی طرح قبل از اسلام اسقاط حمل اور دختر کشی کی رسم عروج پر تھی، اسلام نے سختی کے ساتھ اس گھناؤنے فعل سے منع کیا۔ ارشاد ہے: اپنی اولاد کو فقر وفاقہ کے خوف سے نہ قتل کرو، ان کو اور تم کو روزی ہم ہی دیتے ہیں۔ یقینا یہ بڑا گناہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں غلاموں اور غریبوں کے حقوق بھی روندے، پامال کیے جاتے انہیں حقارت وذلت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، اسلام نے انہیں بھی اتنے حقوق دئیے کہ ان کی سطح زندگی بلند کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ چنانچہ ایسے ایسے اصول وقوانین طے کیے جن سے لوگ زیادہ سے زیادہ غلامی کی طوق سے نکل سکے بریں بنا بہت سے گناہوں اور حکم عدولیوں کا کفارہ غلاموں کی آزادی رکھی، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا۔

 ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 12 ‏، جلد: 94 ‏، محرم الحرام 1432 ہجری مطابق دسمبر 2010ء
٭٭٭

جمعہ، 2 دسمبر، 2016

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت

قرآن و حدیث کی روشنی میں
مفتی احسان الله شائق بحواله ماهنامه الفاروق
اس وقت دنیا میں مسلمان کس قدر بے راہ روی کا شکار ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،خود گناہوں سے اجتناب کرنے کی بجائے دوسروں کو گناہ کی طرف دعوت دے رہے ہیں ،بہت سے مسلمان شیطان کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں ،سودی کاروبار کو فروغ دیا جارہا ہے ،کھیل کود کے ایسے آلات ایجاد کرلیے گئے جو سراسر اسلام کے خلاف اور اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے ،جگہ جگہ منی سینما گھر،فلمی اڈے ،جوئے کے اڈے ،ہیروئن منشیات کے اڈے، شراب خانے ،گلی ،محلوں اور بازاروں میں ٹی وی ،وی سی آراور کیبل کے ذریعہ فحاشی پھیلانے کی کوششیں ،اب نت نئے ڈیزائینوں کے کیمرہ والے موبائل ،بڑے بڑے سائن بورڈوں میں خواتین کی ننگی تصویریں ،شادی بیاہ دیگر پروگراموں میں مرد وعورتوں کا مخلوط ماحول ،اسی طرح کالج یونیورسٹیوں میں لڑکے اور لڑکیوں کا بے تحاشا اختلاط ۔اس جیسے سینکڑوں اعلانیہ گناہوں میں مسلمان معاشرہ مبتلا ہوگیا ہے۔ نیز خلاف شرع رسم ورواج کی پابندی ،آپس میں ظلم وستم ،چوری، ڈاکہ ،جھوٹ،غیبت،بہتان باندھنا،الزام تراشی،خودغرضی،بداخلاقی،بدگمانی،بدزبانی،زناکاری، گانا سننا سناناوغیرہ دیگر بہت ظاہری وباطنی گناہوں میں انفرادی واجتماعی طور پر ابتلائے عام ہے۔
ہر موٴمن بندے کی دوطرح کی ذمہ داریاں بنتی ہیں:
1... ایک توخود ہر قسم کے گناہوں سے اجتناب کرنے کی کوششیں کرے ،جہاں کہیں گناہ کا کام ہوجائے تو فوری طور پر توبہ استغفار کرے اور گناہوں سے پاک وصاف ہونے کی کوشش کرے ۔
نہی عن المنکر کا فریضہ
2... اس کے ساتھ ہر مسلمان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ دوسرے مسلمان کو گناہوں سے روکنے کی کوشش کرے۔
یہ کام انفرادی واجتماعی دونوں طرح انجام دیا جانا ضروری ہے، ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّةٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون﴾․ (آل عمران:104)
ترجمہ:تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے ،جو نیکی کی طرف لوگوں کو بلائے اور ان کو بھلائی کا حکم کرے اور برائی سے روکے، وہی فلاح پانے والے ہیں ۔
منکرات سے روکنے کے درجات
دوسروں کو برے کاموں سے روکنے کے درجات میں ہر شخص پر اپنی استطاعت وقدرت کے مطابق یہ ذمہ داری ادا کرنا لازم ہے ۔
قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ، فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ، وذلک ضعف الایمان․(مسلم:177)
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تم میں سے کسی منکر ناجائز کام کو اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھے تو چاہیے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل ڈالے (یعنی بزور طاقت برے کام کو روک دے)،پس اگر اتنی طاقت نہ رکھے تو زبان سے منع کرے۔(کہ غلط اور گناہ کے کام ہیں، باز آجاوٴ) اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو(بلکہ زبان سے روکنے میں فتنے کا بھی اندیشہ ہو تو پھر)اپنے دل سے(اس کو برا جانے)اور یہ کمزور ایمان ہے۔یعنی ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ بری بات کو صرف دل سے برا جانتا رہے اور اگر دل سے بھی اس کو برا نہ سمجھا تو پھر ایمان کہاں رہا؟(مسلم شریف)
نہی عن المنکر نہ کرنے والے علماء کی مذمت
قال اللہ تبارک وتعالیٰ :﴿لَوْلاَ یَنْہَاہُمُ الرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ عَن قَوْلِہِمُ الإِثْمَ وَأَکْلِہِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَصْنَعُون﴾․(المائدة:63)
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ا ن کو مشائخ اور علماء گناہوں کی بابت کہنے سے (یعنی جھوٹ بولنے سے )اور حرام مال کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے:واقعی ان کی یہ عادت بری ہے کہ اپنا فرض منصبی امربالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے،قوم کو ہلاکت کی طرف جاتا ہوا دیکھتے ہیں اور ان کو نہیں روکتے۔اس آیت کے آخری جملہ بہت ہی قابل غور ہے﴿لبئس ما کانو ا یصنعون﴾․
ان علماء ومشائخ کا برائیوں سے نہ روکنا بہت بری حرکت ہے، ان بدکاروں کے اعمال بد سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے۔
مفسر قرآن شیخ عماد الدین ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اس آیت کا حاصل یہ ہوا کہ جس قوم کے لوگ جرائم اور گناہوں میں مبتلا ہوں گے اور ان کے علماء اور مشائخ کو یہ بھی اندازہ ہو کہ ہم روکیں گے تو یہ باز آجائیں گے۔ ایسے حالات میں اگر کسی لالچ یا خوف کی وجہ سے ان جرائم اور گناہوں سے نہیں روکتے تو ان کا جرم اصل مجرموں ،بدکاروں کے جرم سے بھی زیادہ سخت ہے“۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مشائخ اور علماء کے لیے پورے قرآن میں اس آیت سے زیادہ سخت تنبیہ کہیں نہیں۔اور امام تفسیر حضرت ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ برے علماء اور مشائخ کے لیے یہ آیت سب سے زیادہ خوف ناک ہے۔(تفسیر ابن کثیر وابن جریر)
گناہوں سے روکنے کی کوشش نہ کرنے پر دنیا میں سزا
گناہوں سے روکنے کی کوشش نہ کرنے پر آخرت کی سزا تو الگ رہی ،اس کے علاوہ دنیا میں بھی سخت سزا ہوگی ۔
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :مامن رجل یکون فی قوم یعمل فیھم بالمعاصی یقدرون علی ان یغیروا ولا یغیرون الا اصابھم اللہ بعقاب من قبل ان یموتوا․ (ابوداوٴد:4339)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی قوم میں ہو اور وہاں گناہ کے کام ہو رہے ہوں وہ گناہ کرنے والوں کو گناہ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو،(پھر بھی)نہ روکے توا للہ تعالیٰ (گناہ سے روکنے میں غفلت کرنے والوں کو)مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔(ابوداوٴد)
اب دنیا میں آنے والے عذاب عمومی بھی ہوسکتے ہیں ،جیسے زلزلہ، طوفان،قحط سالی،خشک سالی،مہنگائی،آپس کے لڑائی جھگڑے، قومیت، وطنیت کے نام پر قتال، ظالم بادشاہوں کا مسلط ہونا وغیرہ۔اسی طرح خصوصی نوعیت کے مختلف عذاب بھی ہوسکتے ہیں،جیسے ذاتی اور خاندانی دشمنی،اولاد کا نافرمان ہونا،قسم قسم کی نت نئی بیماریاں ،بھوک، افلاس،تنگ دستی ،وغیرہ یہ سب اجتماعی انفرادی گناہوں کا وبال ہے۔چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُو عَن کَثِیْر﴾․(شوریٰ :30)
”اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچ جائے سو وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے ،اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتاہے “۔
گناہ گاروں کی بستی الٹ دی گئی
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اوحی اللہ عزوجل الی جبرائیل علیہ السلام: ان اقلب مدینة کذا وکذا باھلھا، قال: فقال: یارب، ان فیھم عبدک فلان لم یعصک طرفة عین، قال: فقال:اقلبھا علیہ وعلیھم، فان وجھة لم یتمعر في ساعة قط․ (شعب الایمان للبیہقی:7595)
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل عليه السلام کی طرف وحی بھیجی کہ فلاں شہر کو الٹ دو(عذاب میں اس بستی کو الٹ پلٹ دو)،اس کے باشندوں سمیت،پس جبرائیل عليه السلام نے عرض کیا ،باری تعالیٰ !بے شک اس میں تیر افلاں بندہ ہے جس نے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تیری نافرمانی نہیں کی ؟تو ارشاد باری
تعالیٰ ہو ا کہ اس شہر کو الٹ دو، اس نیک بند ے پر اور ان لوگوں پر،کیوں کہ میری خاطر (یعنی میری نافرمانیوں اور کھلے عام گناہوں کو دیکھ کر)کبھی اس کے چہرے کا رنگ بھی نہیں بدلا ۔(شعب الایمان)
اور ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے نیک کاموں کا حکم کیا کرو،اور برے کاموں سے روکا کرو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر ایساعذاب نازل کرے ،پھر تم اس سے (عذاب دور کرنے کی )دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔ (ترمذی)
بس میرے مسلمان بھائیوں سے عرض کرنے کا حاصل یہ ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر کوشش کریں کہ خود پورے دین پر عمل کریں،مکمل طور پر شریعت مطہرہ کی پابندی کریں اور ساتھ ہی دوسروں کی بھی فکر کریں ،وہ بھی سنت وشریعت کے پابند بن جائیں اور جو برا کام ہوتا ہوا نظر آئے ، اسے روکنے کی حتی المقدور کوشش کریں، خصوصا اپنے گھر کے افراد ،محلے کے افراداورجہاں تک ممکن ہو کوشش کریں۔ان کو گناہوں سے بچالیں ،زبان سے بھی منع کریں اور اس برے کام کو دل سے بھی برا جانے اور اس کے لیے انفرادی اور اجتماعی ہر طرح کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید رکھیں،آج نہیں تو کل ضرور ہماری کوشش بار آور ثابت ہو گی،اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔(آمین)!

جمعرات، 1 دسمبر، 2016

اسلامی لباس

اسلامی لباس


از: مولانا توحید عالم بجنوری استاذ دارالعلوم، دیوبند


          یٰبَنِی آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْآتِکُمْ وَرِیْشاً (اے اولادِ آدم! ہم نے تمہارے لیے لباس پیدا کیا جو تمہارے ستر کو چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے) آیت شریفہ میں حضرتِ حق جَلَّ مجدُہ نے تمام اولاد ِ آدم کو خطاب فرمایا کہ تمہارا لباس قدرت کی ایک عظیم وبیش قیمت نعمت ہے اس کی قدر کرو، صرف اہل اسلام کو یعنی دین سماوی اور قانونِ الٰہی کے ماننے والے کو خاص نہیں کیا؛ بلکہ پوری انسانیت کو شامل فرمایا، اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ لباس اور سترپوشی انسان کی فطری خواہش اور ضرورت ہے، مزید آیت کریمہ میں اس طرف بھی اشارہ موجود ہے کہ ہم نے تمہاری صلاح وفلاح کے لیے ایسا لباس اُتارا ہے جس سے تم اپنے قابلِ شرم اعضا چھپاسکو اور سترپوشی کے علاوہ ایک مزید فائدہ لباس سے اور حاصل ہوتا ہے کہ انسان اپنی ہیئت اورحالت کو مہذب وشائستہ بنانے کے لیے لباس سے زینت وجمال حاصل کرسکتا ہے نیز دوسری آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰبَنِیْ آدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ (اے آدم کی اولاد! لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت) حضرت علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی تحریر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اُن لوگوں کے رد میں نازل ہوئی ہے جو کعبہ کا طواف برہنہ ہوکر کرتے تھے اور اسے پرہیزگاری اور اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھتے تھے، اللہ رب العزت نے ان کو بتلایا کہ یہ کوئی نیکی نہیں اورنہ ہی اس کا تقویٰ سے تعلق ہے، خدا کی دی ہوئی پوشاک جس سے تمہارے بدن کا ستر اور آرائش ہے، وہ اس کی عبادت کے وقت دوسرے اوقات سے بڑھ کر قابلِ استعمال ہے؛ تاکہ بندہ اپنے پروردگار کے دربار میں اُس کی نعمتوں کا اثر لے کر حاضر ہو۔ (تفسیر عثمانی سورة الاعراف:۳۱)
          پس دنیا کی ہر مہذب اور باشعور قوم سترپوشی اور لباس کو لازم قرار دیتی ہے اور لباس کے بغیر ستر کھول کر رہنا پسند نہیں کرتی، اطرافِ عالم میں شاید کوئی انسانی آبادی اور بستی ایسی ہو جو اس فطری قانون اور ضابطہٴ حیاتِ انسانی سے انحراف کرتی ہو؛ البتہ جنگلی اور وحشی قوموں کے بارے میں ضرور سنا ہے جو انسانیت سے عاری ہوتی ہیں اور اُن کا بود وباش اور رہن، سہن بالکل جانوروں جیسا ہوتا ہے وہ لباس کیا؟ کسی بھی تہذیبی عمل اور قانونِ انسانیت سے واقف نہیں ہوتیں؛ لہٰذا اُن سے بحث ہی نہیں۔ بات تو باشعور اور خردمند معاشروں کی چل رہی ہے، وہ سب اس فطری خواہش وضرورت کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں اور ہر مہذب معاشرہ وماحول مردوں کی بہ نسبت عورتوں کی سترپوشی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے؛ لیکن آج تہذیب وتمدن اور ترقی و شائستگی کا مفہوم بدل کر دَجَّالی قومیں اور شیطانی ذُرّیت فطرت سے بغاوت کررہی ہیں۔
ربِ کائنات کا پسندفرمودہ لباس:
          اللہ رب العزت کا کوئی نبی اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاشرے اور تہذیب سے متاثر نہیں ہوتا؛ بلکہ ہر ہر مسئلے اور حکم میں مامور من اللہ ہوتا ہے، اسی لیے حضرات انبیاء علیہم الصلوٰة والتسلیم اپنے ماننے والوں اور پیروکاروں کو فطری ضروریات اور مواقع پر بھی خدائی ہدایات اور قوانین الٰہی کی روشنی میں راستے اور طریقے بتاتے اور سکھاتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ سونے، جاگنے، کھانے، پینے اور بول وبراز جیسے معمولی اور چھوٹے امور میں بھی خدائی احکامات سے ہدایات جاری کرتے ہیں اور خود بھی عمل کرتے ہیں، اسی لیے آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے جاں نثاروں کو یہ باتیں تعلیم کیں تو دشمنانِ خدانے ٹھٹا کیا تھا کہ لو دیکھ لو یہ کیسا خدا کا پیغمبر ہے ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں سکھاتا ہے؟ ان عقل کے اندھوں کو یہ کہاں معلوم تھا کہ دین اور مذہب ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہوتا ہے، انسانی زندگی اور حیات کے کسی شعبہ اور گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا جاتا؛ بلکہ ہر مسئلہ کا حل بیان کردیا جاتاہے جب نبی اور رسول تمام امور میں مامور من اللہ ہوتا ہے تو لباس اور سترپوشی جیسے اہم مسئلہ میں کیوں نہ خدائی حکم موجود ہوگا؛ ایسا ہوناکہ لباس کے حوالے سے کوئی غیبی اشارہ اور الہام باطنی نبی کے پاس نہ ہو اور وہ اپنی قوم وملت کے معاشرہ اور ماحول سے متاثر ہوکر انھیں کا لباس اپنا لے اور اپنی امت کو بھی اسی کا حکم کرے، ایسا ہونا عقل ونقل دونوں اعتبار سے بعید معلوم ہوتا ہے ، نقلاً تو اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انَّ ہٰذِہ مِنْ ثِیَابِ الْکُفَّارِ فَلاَ تَلْبَسْہا (مسلم شریف کتاب اللباس والزینة) (یہ کافروں کا لباس ہے اس کو مت پہننا) جو انسان ماحول ومعاشرے سے متاثر ہوکر لباس استعمال کرتا ہو وہ ایسا جملہ کیسے کہہ سکتا ہے؟ جب عام آدمی اور انسان اپنے قول وعمل میں ایسا کھلا تضاد نہیں کرسکتا تو نبی اور رسول سے ایسا معاملہ کیوں کر ممکن ہے؟ اسی طرح ذخیرئہ احادیث میں بکثرت ایسی روایات موجود ہیں جن میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: یہ لباس جائز ہے وہ ناجائز ہے، فلاں بہتر ہے اور فلاں غیر مناسب ہے، کہیں تشبہ بالکفار کی ممانعت فرمائی تو کہیں یہود ونصاریٰ اورمشرکین کی مخالفت کا حکم فرمایا، جو نبی اور رسول  صلی اللہ علیہ وسلم ایسے احکامات اور ہدایات بیان فرمائے وہ خود کافر معاشرہ اور مشرکانہ ماحول سے کیسے متاثر ہوسکتا ہے؟
          اور عقلاً اس لیے کہ جو نبی اسلام اور پیغمبر برحق معاش اور معاد کے تمام شعبوں میں غیبی اشارات اور باطنی الہامات سے سرفراز کیاجاتا ہو، جو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم حیاتِ انسانی کے ہر ہر گوشہ پر انسان کی ہدایت ورہنمائی خدائی پیغامات اور آسمانی ہدایات کی روشنی میں کرتا ہو وہ سترپوشی اور لباس کے مسئلہ میں موجودہ معاشرہ سے کیسے مرعوب ہوسکتا ہے؟
          لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ جو سترپوشی کاطریقہ اور جولباس خالق کائنات کو پسند تھا اور ہے، وہی اس کے حبیب  صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا اور جیسے حبیب اِلٰہ العالمین قیامت تک کے نبی ہیں ایسے ہی قیامت تک اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ لباس بھی وہی ہے جو سنتی لباس ہو؛ چنانچہ ان لوگوں کی بات کوئی وزن اور حیثیت نہیں رکھتی جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ کوئی لباس شرعی نہیں؛ بلکہ پیغمبر خدا اگر یورپ اور امریکا میں مبعوث ہوتے تو وہاں کے معاشرہ اور تہذیب کے مطابق لباس اختیار فرماتے اور اسی لباس کو شرعی لباس کا درجہ دیتے، یہ سب سراسر جہالت وگمراہی پر مبنی باتیں ہیں۔
لباسِ نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام:
          آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کا لباسِ مبارک نہایت سادہ اور معمولی ہوتا تھا، فقیرانہ اور دُرویشانہ زندگی تھی، زیادہ تر اور عام طور پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس میں تہہ بند، چادر، کرتہ ، جبہ اور کمبل ہوتے تھے اور فقر ودرویشی کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مبارک لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے، رنگت میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو سبز لباس پسند تھا؛ البتہ نبی رحمت اور ہادیِ برحق  صلی اللہ علیہ وسلم کی پوشاک عموماً سفید ہوتی تھی، آنحضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یمنی چادر تھی جس پر سبز اور سرخ دھاریاں تھیں وہ آپ کو بہت پسند تھی؛ لہٰذا تقریب وغیرہ کے موقع پر آپ اس کو استعمال فرماتے تھے، وہ بردیمانی کے نام سے مشہور تھی۔
          فائدہ: آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے خالص سرخ لباس استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
          ٹوپی: نبوی لباس میں ٹوپی کا جہاں تذکرہ ملتا ہے تو ایسی ٹوپی کا ملتا ہے جو سر سے چپٹی ہوئی، اور حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے حوالے سے بھی اسی وصف کی ٹوپی کا استعمال ثابت ہے، صحابہٴ کرام کی ٹوپیاں سرسے لگی ہوئی ہوتی تھیں۔
          عمامہ: حضور علیہ الصلوٰة والسلام پگڑی اور عمامہ استعمال فرماتے تھے اور دونوں شانوں کے درمیان اس کاشملہ لٹکایا کرتے تھے البتہ کبھی دائیں اور بائیں جانب بھی ڈال لیتے تھے اور کبھی تھوڑی کے نیچے لپیٹ لیا کرتے تھے، آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ کے نیچے ٹوپی ضرور استعمال فرماتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے کہ: ہم میں اور مشرکین میں یہی فرق اورامتیاز ہے کہ ہم پگڑی کے نیچے ٹوپیاں استعمال کرتے ہیں اور وہ نہیں کرتے (ابوداؤد شریف کتاب اللباس) حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: حق تعالیٰ شانہ نے غزوئہ بدر اورحنین میں میری امداد کے لیے جو فرشتے اتارے وہ عمامے باندھے ہوئے تھے۔
          لنگی: ہادیِ انسانیت  صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کپڑے ٹخنوں سے اوپر رہتے تھے اور بالخصوص تہہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا۔
          پائیجامہ: حدیث پاک میں ہے کہ نبی دوجہاں  صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ کے بازار میں پائیجامہ بکتا ہوا دیکھا، دیکھ کر پسند فرمایا اور ارشاد فرمایاکہ : اس میں ازارکی بہ نسبت ستر زیادہ ہے، آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم سے پائیجامہ خریدنا بھی ثابت ہے؛ البتہ استعمال کرنا ثابت نہیں ہے۔ (سیرت مصطفی ج۳ ص۲۸۱ وفتاویٰ دارالعلوم ج۱۶، ص۱۵۵)
          موزے: محبوبِ رب العالمین سے موزے استعمال کرنا بھی ثابت ہے اور آپ موزوں پر مسح فرماتے تھے۔
          خِرقہ: لباسِ نبوی میں خرقہ یعنی کملی کا تذکرہ بھی بکثرت ملتا ہے؛ بلکہ خرقہ تو تمام انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کا لباس رہا ہے روایت ہے:
          قال ابن مسعود: کانَتِ الأنْبِیَاءُ یَرْکَبُوْنَ الحُمُرَ ویَلْبَسُونَ الصُّوفَ ویَحْتَلِبُوْنَ الشَّاةَ (رواہُ الطیالسی)
(حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایاکہ: حضرات انبیاء گدھوں کی سواری فرماتے تھے، اون پہنا کرتے تھے اور بکریوں کادودھ پیتے تھے)
          وعنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: کان علی موسیٰ یوم کَلَّمہ ربُّہ کساءُ صوفٍ وکمةُ صوفٍ وجبةُ صوفٍ وسراویلُ صوفٍ وکان نَعْلاَہُ مِنْ حِمَارٍ مَیّتٍ رواہ الترمذی وقال غریب والحاکم صححہ علی شرط البخاری (سیرتِ مصطفی ج۳، ص۲۸۳ بحوالہ زرقانی)
(اور آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس روز حضرت موسیٰ کو حضرتِ حق جل شانہ سے شرفِ ہم کلامی حاصل ہوا اُس روز ان کا کمبل اون کا تھا، ان کی ٹوپی، جبہ اور پائیجامہ سب اون کے تھے اور جوتے مردار گدھے کی کھال کے تھے)
           حضرت مولانا شبیراحمد عثمانی صاحب رحمة اللہ علیہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: حق تعالیٰ شانہ نے اپنے حبیب کویٰأیُّہَا الْمُزَمِّلُ سے خطاب کرکے ایک پوری سورتِ مبارکہ خرقہ پوش دُرویشوں کے لیے نازل فرمائی جس میں ان کے لیے بہت سے شرائط ولوازم ذکر فرمائے ہیں۔ (ترجمہ شیخ الہند تفسیر سورة المزمل)
شیطانی حملہ:
          انسانیت کا دشمن اور حضرت آدم اور اولادِ آدم کا ابدی مخالف لعین مردود کا سب سے پہلے جو انسان اور مٹی کے پُتلے پر حملہ ہوا اُس کا اثر بد اور بُرا انجام ننگا اور برہنہ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا کہ جنت الفردوس اور بہشت بریں میں ابوالبشر اور خلیفة اللہ فی الارض حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا بڑے سکون ووقار کے ساتھ رہ رہے تھے؛ لیکن انسانیت اور بشریت سے ابدی حسد رکھنے والا ملعون اس کو پسند کہاں کرسکتا تھا؛ چنانچہ اس نے وساوس اور تصرفات کرکے دونوں کو بہکانا شروع کیا اور زوجین اغواءِ شیطانی کا شکار ہوگئے کہ خدا کی نافرمانی سرزد ہوئی جس کے نتیجہ میں دونوں ننگے ہوگئے اور قابلِ شرم اعضا کھل گئے جن کو درختوں کے پتوں سے چھپاتے پھرتے تھے؛ کیوں کہ اِن اعضا کا دوسروں کے سامنے کھولنا یا کھل جانا انتہائی ذلت ورُسوائی اور نہایت بے حیائی کی علامت ہے اور مختلف النوع شروفساد کا مقدمہ ہے۔
          فائدہ: بعض خودساختہ دانشوروں اور فلاسفروں کا یہ کہنا کہ: انسان ابتداءً ننگا پھرا کرتا تھا، پھر ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد اُس نے لباس ایجاد کیا یہ سرتاپا بے اصل اور نادانی وجہالت ہے؛ کیوں کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کے مذکورہ واقعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سترپوشی اور لباس انسان کی فطری خواہش اور پیدائشی ضرورت ہے جو روزِ اوّل ہی سے انسان کے ساتھ ساتھ ہے۔
دورِ حاضر کی حالتِ زار:
          عصرِ حاضر فتنہ وفساد، اخلاقی پستی وتباہی، اسلامی اور مذہبی اقدار و روایات کی پامالی اور بے راہ روی وغلط کاری کا ہے، آج کل جہاں اور بہت سی خرابیاں اور خرافات نسلِ انسانی کی پستی کا سبب ہیں وہیں سترپوشی اور لباس میں بھی انسانیت، حیوانیت سے ہم آہنگ ہے، شیطان اور اس کی ذریت اولادِ آدم اور بناتِ حوَّا کو برہنہ یا نیم برہنہ کرکے انسانیت کو شرمسار کرنے پر پوری طاقت وقوت صرف کررہی ہے، کبھی تہذیب و شائستگی اور ترقی وخوشحالی کے نام سے بناتِ حوا کو برہنہ یا نیم برہنہ حالت میں گلی، کوچوں، سڑکوں اور چوراہوں میں لے آتے ہیں اور کبھی آزادیِ نسواں کا دلفریب اور خوش نما نعرہ دے کر پارکوں، نائٹ کلبوں، ہوٹلوں، کھیلوں کے میدانوں اور فلمی ڈراموں میں عورتوں اور خاص طور پر نوعمر بچیوں کو ننگا نچاتے ہیں، کبھی اس شیطانی مشن کو ترقی کا لبادہ اڑھادیا جاتا ہے تو کبھی روشن خیالی سے موسوم کیا جاتا ہے؛ لیکن یہ انسان اور وہ بھی دین ومذہب کا پاسبان اس طاغوتی چال اور شیطانی جال کے دامِ فریب میں بڑی آسانی سے پھنس جاتا ہے، آج مغربی تہذیب وتمدن، بود وباش اور کاٹ چھانٹ کو نوجوان نسل خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں دوڑکر اختیار کررہے ہیں، نوجوان لڑکیوں نے ان کی نقل کرتے ہوئے اپنے مستور جسم اور باپردہ بدن کو برملا کھول ڈالا، سرسے اوڑھنی اور دوپٹہ بالکل غائب ہوگیا ، باقی لباس بھی یا توپورے جسم کے لیے ساتر اور چھپانے والا ہی نہیں ہے دونوں ہاتھ اوپر تک کھلے ہوئے ہیں، دونوں پاؤں رانوں تک کھلے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ پیٹ اور پیٹھ بھی کھل گئے ہیں اور یا بہت زیادہ باریک لباس ہے، جس سے جسم چھپتا ہی نہیں؛ بلکہ صاف نظر آتا ہے ایسے لباس کا مقصد سترپوشی نہیں محض زینت ہوتی ہے اور اگر لباس میں مذکورہ دونوں کمی نہ ہوں تو تیسری کمی اور نقص یہ ہے کہ وہ اتنا چست اورٹائٹ ہوتا ہے کہ جس سے بدن کا نشیب وفراز خوب ظاہر ہوتا ہے، ایسا لباس جس میں مذکورہ تینوں باتوں میں سے کوئی بھی ہو اس کو پہننے والی عورتوں پر اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے؛ لہٰذا نبی کی لعنت اور بددعاء سے بچنے کے لیے مذکورہ لباس کو استعمال نہ کریں۔
          یہی حال نوجوان لڑکوں کا ہے کہ مغربی اقوام کے ساتھ قدم بہ قدم اور شانہ بہ شانہ چلنے کی ہوڑ اور ہوس میں ہمارے نوجوان اپنی تہذیب، اپنا خاندانی تمدن اور اسلامی روایات کو بالائے طاق رکھ کر ایسا لباس زیب تن کرتے ہیں جو جسمانی خدوخال کو چھپانے کے بجائے اور زیادہ نمایاں کرتا ہے؛ حالاں کہ دوسری قوموں سے مرعوب ہوکر ان کی تہذیب، اُن کا طرز اپنانا تشبہ میں آتا ہے جس پر احادیث میں سخت ترین وعیدیں آئی ہیں کہ جو انسان دنیا میں جس قوم کی شباہت اختیار کرے گا وہ کل قیامت میں انہی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا اور اس کا حشر انھیں کے ساتھ ہوگا، اللہ تعالیٰ شانہ تمام امت کی حفاظت فرمائے، آمین۔
فریضہٴ سترپوشی:
          مذہبِ اسلام اور شریعت محمدی نے تمام شیطانی راستے اور دجالی شرور وفتن کے دروازوں کی طرح اس راستے اور دروازہ کو بھی بند کرنے کے لیے ایمان کے بعد سترپوشی کو فرض قرار دیا، نماز، روزہ اور تمام ارکانِ اسلام بعدمیں لباس پہلے فرض وواجب ہے۔
لباس کے آداب:
          (۱) نیا لباس پہنتے وقت اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد بیان کرے (دعاء پڑھے) خلیفہ ثانی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نیا لباس پہنے تو اس کو چاہیے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ دعاء پڑھے: الحمدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِيْ مَا أُوَارِيْ بِہ عَوْرَتِيْ وَأتَجَمَّلُ بِہ فِيْ حَیَاتِی (اللہ تعالیٰ کا شکر واحسان ہے جس نے ایسا لباس عطا فرمایا جس سے میرا بدن بھی چھپ جاتاہے اور میری زندگی میں زیبائش بھی حاصل ہوتی ہے) (معارف القرآن ج۳،ص۵۳۴ و۵۳۵)
          (۲) نیا لباس بنانے کے وقت پُرانا لباس فقراء اور مساکین پر صدقہ کردے؛ کیوں کہ حضرت نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص نیا لباس پہننے کے بعد پرانا جوڑا غریب ومسکین کو صدقہ کردے وہ اپنی موت وحیات کے ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری اور پناہ میں آگیا۔ ( ابن کثیر عن مسند احمد بہ حوالہ معارف القرآن ج۳/۵۳۵)
          (۳) ایسا لباس ہرگز استعمال نہ کیا جائے جس سے تکبر اور غرور ٹپکتا ہو؛ کیوں کہ کسی بھی انسان کو تکبر اور گھمنڈ زیبا نہیں اور اگر کوئی نادان اور بے وقوف اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے غرور کا ارتکاب کرتاہے تو حدیث ہے کُلْ مَا شِئْتَ وَالْبَسْ مَا شِئْتَ مَا أخْطَأَتْکَ اثْنَتَانِ: سَرَفٌ أوْ مَخْیَلَةٌ (صحیح البخاری ج۲، ص۸۶۰)
ترجمہ: جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو (البتہ) دو چیزیں تمھیں خطا اور گناہ میں مبتلا نہ کردیں: (۱) فضول خرچی (۲) تکبر اور گھمنڈ۔
          (۴) لباس اختیار کرنے میں تنعم و اسراف سے اجتناب کرے ؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ (بنی اسرائیل آیت ۲۷) فضول خرچی اور اسراف کرنے والے شیطانوں کے چیلے ہیں۔
          (۵) دشمنانِ اسلام یہود ونصاریٰ اور کفار ومشرکین کے لباس سے اجتنابِ کلی ہونا چاہیے؛ کیوں کہ اُس کو اختیار کرنے میں اُن کی مشابہت ہوگی جس سے بڑی شدومد کے ساتھ باز رکھا گیا اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ (مسند احمد ابن حنبل ج۲ ص۵۰) جو بندئہ خدا کسی جماعت اور قوم کی شباہت اپنائے گا وہ اسی میں سے ہے یعنی قیامت میں اُسی قوم کے ساتھ اٹھے گا۔
          (۶) تہہ بند یا اس کی جگہ استعمال ہونے والا کوئی بھی کپڑا (پائیجامہ وغیرہ) نصف پنڈلی تک ہو یا کم از کم ٹخنوں سے اوپر ہو؛ کیوں کہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے پر بڑی سخت وعید ہے ارشادِ نبوی ہے: مَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الازَارِ فِي النَّارِ (بخاری شریف ) ٹخنوں کا جو حصہ ازار کے نیچے رہے گا وہ حصہ جہنم میں جائے گا۔
          (۷) ریشمی کپڑا مردوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے، اس سے بچنا چاہیے، حدیث نبوی ہے: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انَّمَا یَلْبَسُ الْحَرِیْرَ فِي الدُّنْیَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہ فِي الْآخِرَةِ (بخاری ومسلم) فرمایا جو شخص دنیا ہی میں ریشم کا کپڑا پہنے گا کل قیامت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
          (۸) خالص سُرخ اور زرد لباس مردوں کے لیے غیرمناسب اورمکروہ ہے، فتاویٰ شامی میں ہے کُرِہَ لُبْسُ المُعَصْفَرِ وَالْمُزَعْفَرِ الْأَحْمَرِ وَالْأصْفَرِ لِلرِّجَالِ (فتاویٰ دارالعلوم، ج۱۶، ص۱۴۷ بحوالہ الدرالمختار مع رد المحتار)
          (۹) مرد عورتوں کا لباس اور عورتیں مردوں کا لباس استعمال نہ کریں؛ کیوں کہ ایساکرنے والے نبی کی بددعاء کے مستحق ہوں گے حدیث ہے لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُتَخَنِّثِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجّلاَتِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ أخْرِجُوْہُمْ مِنْ بُیُوْتِکُمْ (بخاری شریف رقم الحدیث۵۵۴۷) اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی شباہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایاکہ: اے مسلمانو! تم ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔
          (۱۰) ایسا لباس جو جسم اور بدن سے چپکا ہوا ہو اور بہت زیادہ چست ہو ایسے لباس سے مردوں اور عورتوں دونوں کو بچنا چاہیے بالخصوص عورتوں کو؛ کیوں کہ حدیث پاک میں ایسے لباس والی عورتوں کو لباس سے عاری اور برہنہ کہا گیا ہے جن کے لیے دوزخ کی وعید ہےنِسَاءٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ (مسلم شریف رقم ۲۱۲۸) دوزخ میں ایسے ایسے لوگ جائیں گے جن میں وہ عورتیں بھی ہیں جو کپڑا پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔
          (۱۱) اتنا باریک لباس جس میں جسم کے اعضاء نظر آتے ہوں عورتوں کے لیے ایسا لباس بالکل جائز نہیں، اور مردوں کو لنگی یا پائیجامہ ایسا پہننا جائز نہیں البتہ دوسرے کپڑے باریک ہوں تو مضائقہ نہیں کیوں کہ مردوں کا ستر صرف تہہ بند یا پائیجامہ سے چھپ جاتا ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم، ج۱۶، ص۱۴۸)
          (۱۲) مرد اور عورت ہمیشہ ایسا لباس وملبوس استعمال کریں جو ان کی جنس کے اعتبار سے خوبصورتی اور زینت کا سبب بنے اور ایسا لباس ہرگز اختیار نہ کریں جس میں بے ہودگی اورحماقت ٹپکتی ہو؛ کیوں کہ ارشادِ باری تعالیٰ یٰبَنِي آدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی فرماتے ہیں: اس آیت میں لباس کو زینت سے تعبیر فرمایا جس سے ایک مسئلہ یہ بھی نکلتا ہے کہ نماز میں افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ صرف سترپوشی پر کفایت نہ کی جائے؛ بلکہ اپنی وسعت کے مطابق زینت اختیار کی جائے۔ نواسہٴ رسول حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ نماز کے وقت اپنا سب سے بہتر لباس پہنتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ: اللہ تعالیٰ جمال کو پسند فرماتے ہیں؛ اس لیے میں اپنے رب کے لیے زینت وجمال اختیار کرتا ہوں پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرماتے۔ (معارف القرآن ج۳، ص۵۷۳)
          اور خود رب کائنات نے لباس کو سترپوشی کا ذریعہ اور سبب بتاتے ہوئے آرائش اور زینت فرمایا ہے ، ارشاد باری ہے یٰبَنِیْ آدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْآتِکُمْ وَرِیْشًا(سورة الاعراف آیت۳۱)
مسائل:
          (۱) مرد کا ستر جس کو ہرحالت میں چھپانا فرض ہے، ناف سے گھٹنوں کے نیچے تک ہے، اس حصہٴ بدن میں اسے کوئی عضو حالتِ نماز میں کھل جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے اور عام حالت میں کھل جائے تو گناہ ہوگا۔ (معارف القرآن ج۳ ص۵۴۴)
          (۲) عورت کا تمام بدن ستر ہے؛ البتہ چہرہ، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم ستر سے مستثنیٰ ہیں، یعنی حالت نماز میں یا عام حالت میں ضرورت سے ان کو کھول دیا جائے تو نماز درست ہوگی اور کوئی گناہ بھی نہیں ہوگا؛ لیکن یہ مطلب نہیں کہ چہرہ وغیرہ کھول کر عورت غیرمحرموں کے سامنے بے روک ٹوک نکلے اس کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔(فتاویٰ دارالعلوم ، ج۱۶، ص۱۸۶)
          فائدہ: حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس گھر میں عورت ننگے سر ہو اُس گھر میں نیکی اور فرشتے نہیں آتے۔ (معارف القرآن ج۳ ص۵۴۴)
          (۳) ایسا لباس زیب تن کرکے نماز پڑھنا مکروہ ہے جسے پہن کر انسان اپنے دوستوں اور عوام کے سامنے جانے میں عار اور شرم محسوس کرتاہو جیسے صرف بنیان پہن کر نماز پڑھنا (معارف القرآن ج۳ ص۵۴۴)
          (۴) نماز میں پردہ اور ستر پوشی کے علاوہ زینت اختیار کرنے کا بھی حکم ہے پس ننگے سر نماز پڑھنا، مونڈھے یا کہنیاں کھول کر نماز پڑھنا مکروہے ہے۔ (معارف القرآن ج۳ ص۵۴۴)
          (۵) کوٹ پتلون پہن کر اگرچہ نماز ہوجاتی ہے، مگر تشبہ بالکفار کی وجہ سے ان کا پہننا مکروہ وممنوع ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم، ج۱۶، ص۱۵۴)
          (۶) جس علاقہ میں جس لباس کا رواج ہو عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے؛ البتہ کوئی بھی لباس ہو یہ ضروری ہے کہ کشف عورت اس میں نہ ہو اور عورتوں کے لیے افضل وہ لباس ہے جس میں ستر (پردہ) زیادہ ہو جیسے کرتا، پاجامہ اور اوڑھنی۔ (فتاویٰ دارالعلوم، ج۱۶، ص۱۵۸)
          (۷) سرپرٹوپی کی جگہ کوئی چھوٹا سا رومال یا کپڑا باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ اور بے ادبی ہے۔ (معارف القرآن ج۳ ص۵۴۴)
          (۸) جس لباس میں واجب الستر اعضاء کا حجم اور بناوٹ نظر آتی ہو، مرد اور عورت دونوں کے لیے حرام ہے اور اس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے،اور مروجہ لباس میں اس قباحت کے علاوہ کفار کے ساتھ مشابہت بھی ہے، اس لیے جائز نہیں۔ (احسن الفتاویٰ، ج۸، ص۸۲ کتاب الخطر والاباحة)