منگل، 6 جون، 2017

نماز تراویح

نبی اکرم اکے ارشادات کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نمازِ تراویح فرض نہیں؛ بلکہ سنت موٴکّدہ ہے۔ البتہ ۱۴۰۰ سال سے جاری عمل کے خلاف بعض حضرات ۲۰ رکعت نمازِ تراویح کو بدعت یا خلاف ِسنت قرار دینے میں ہر سال رمضان اور رمضان سے قبل اپنی صلاحیتوں کا بیشتر حصہ صرف کرتے ہیں، جس سے امت مسلمہ کے عام طبقہ میں انتشار پیدا ہوتا ہے؛ حالانکہ اگر کوئی شخص ۸ کی جگہ ۲۰ رکعت پڑھ رہا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہی تو ہے؛ کیونکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ساری امت مسلمہ متفق ہے کہ رمضان کی راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے، نیز حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے امت مسلمہ جماعت کے ساتھ ۲۰ ہی رکعت تراویح پڑھتی آئی ہے، حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں آج تک کبھی بھی ۸ رکعت تراویح نہیں پڑھی گئیں۔
          اس موضوع سے متعلق احادیث کا جتنا بھی ذخیرہ موجود ہے، کسی بھی ایک صحیح ،معتبر ،اور غیرقابل نقد وجرح حدیث میں نبی اکرم اسے تراویح کی تعداد رکعت کا واضح ثبوت نہیں ملتا ہے، اگرچہ بعض احادیث میں جن کی سند میں یقینا کچھ ضعف موجود ہے ۲۰ رکعت کا ذکر ملتا ہے۔
          خلیفہٴ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں بیس رکعت تراویح اورتین رکعت وتر جماعت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام ہوا،جیساکہ محدثین،فقہاء ، موٴرخین اور علماء کرام نے تسلیم کیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ان خلفاء راشدین میں سے ہیں، جن کی بابت نبی اکرم انے فرمایا ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرو اور اسی کو ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ علامہ ابن تیمیہ  فرماتے ہیں کہ حضور اکرم انے ڈاڑھوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ڈاڑھوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے، لہٰذا حضرت عمر فاروق  کا یہ اقدام عینِ سنت ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ۲ ص ۴۰۱، ج ۲۲ ص ۴۳۴)
          ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات ۵۷ یا ۵۸ ہجری میں ہوئی او ر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ۱۵ ہجری میں تراویح کی جماعت حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں باقاعدہ شروع فرمائی، اگر بیس رکعات تروایح کا عمل بدعت ہوتا تو ۴۲سال کے طویل عرصہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا آٹھ رکعت والی حدیث کو بیس رکعت پڑھنے والوں کے خلاف پیش کرنا ثابت ہوتا؛ حالانکہ ایسا نہیں ہوا، بلکہ سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں ثابت کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت سے آج تک حرمین (مسجد حرام اور مسجد نبوی) میں کبھی بھی ۲۰ سے کم تراویح نہیں پڑھی گئیں۔
تراویح کے معنی:
          بخاری شریف کی مشہور ومعروف شرح لکھنے والے حافظ ابن حجر العسقلانی  نے تحریر کیا ہے کہ تراویح، ترویحہ کی جمع ہے اور ترویحہ کے معنی: ایک دفعہ آرام کرنا ہے، جیسے تسلیمہ کے معنی ایک دفعہ سلام پھیرنا۔ رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ عشاء کے بعد باجماعت نماز کو تراویح کہا جاتا ہے، کیونکہ صحابہٴ کرام کا اتفاق اس امر پر ہوگیا کہ ہر دوسلاموں (یعنی چار رکعت ) کے بعد کچھ دیر آرام فرماتے تھے ۔ (فتح الباری شرح صحیح البخاری، کتاب صلاة التراویح)
نماز تراویح کی فضیلت:
          * حضرت ابوہریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا : جو شخص رمضان (کی راتوں) میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو ، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہرت اور دکھاوے کے لیے نہیں؛ بلکہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے عبادت کی جائے۔
نماز تراویح کی تعدادِ رکعت:
           تراویح کی تعداد ِرکعت کے سلسلہ میں علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ تراویح پڑھنے کی اگرچہ بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے؛ لیکن فرض نہ ہونے کی وجہ سے تراویح کی تعدادِ رکعت میں یقینا گنجائش ہے۔ جمہور محدثین اورفقہاء کی رائے ہے کہ تراویح ۲۰رکعت پڑھنی چاہئیں۔ تراویح کی تعداد ِرکعت میں علماء کرام کے درمیان اختلاف کی اصل بنیاد یہ ہے کہ تراویح اور تہجد ایک نماز ہے یا دو الگ الگ نمازیں۔ جمہور محدثین،فقہائے کرام نے اِن دونوں نمازوں کو الگ الگ نماز قرار دیا ہے، اُن کے نقطہٴ نظر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے۔ جس کے انہوں نے مختلف دلائل دیے ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں :
          (۱) امام بخاری  نے اپنی مشہور کتاب (بخاری) میں نمازِ تہجد کا ذکر (کتاب التہجد) میں؛ جبکہ نماز تراویح کو (کتاب صلاة التراویح) میں ذکر کیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا کہ دونوں نمازیں الگ الگ ہیں، جیساکہ جمہور علماء اور ائمہٴ اربعہ نے فرمایا ہے، اگر دونوں ایک ہی نماز ہوتی تو امام بخاری  کو دو الگ الگ باب باندھنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوتی۔ حضرت عائشہ  والی حدیث کتاب التہجد میں ذکر فرماکر امام بخاری نے ثابت کردیا کہ اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے۔
          (۲) تراویح صرف رمضان میں پڑھی جاتی ہے، اور اِس حدیث میں ایسی نماز کا ذکر ہے جو رمضان کے علاوہ بھی پڑھی جاتی ہے۔
          (۳) اگر حضرت عائشہ  کے فرمان کا تعلق تراویح کی نماز سے ہے تو حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں جب باضابطہ جماعت کے ساتھ ۲۰ رکعت تراویح کا اہتمام ہوا تو کسی بھی صحابی نے اِس پر کوئی تنقید کیوں نہیں کی؟ (دنیا کی کسی کتاب میں ، کسی زبان میں بھی، کسی ایک صحابی کا حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں ۲۰رکعت تراویح کے شروع ہونے پر کوئی اعتراض مذکور نہیں ہے) اگر ایسی واضح حدیث تراویح کی تعداد کے متعلق ہوتی تو حضرت عمر فاروق  اور صحابہٴ کرام کو کیسے ہمت ہوتی کہ وہ ۸ رکعت تراویح کی جگہ ۲۰ رکعت تراویح شروع کردیتے۔ صحابہٴ کرام تو ایک ذرا سی چیز میں بھی آپ ا کی تعلیمات کی مخالفت برداشت نہیں کرتے تھے۔ اور نبی اکرم ا کی سنتوں پر عمل کرنے کا جذبہ یقینا صحابہٴ کرام میں ہم سے بہت زیادہ تھا؛ بلکہ ہم (یعنی آج کے مسلمان) صحابہ کی سنتو ں پر عمل کرنے کے جذبہ سے اپنا کوئی مقارنہ بھی نہیں کرسکتے۔ نیز نبی اکرم ا کا فرمان ہے : ہم خلفاء راشدین کی سنتوں کوبھی مضبوطی سے پکڑلیں۔ (ابن ماجہ)
          (۴) اگر اس حدیث کا تعلق واقعی تراویح کی نماز سے ہے (اور تہجد و تراویح ایک نماز ہے) تو رمضان کے آخری عشرہ میں نمازِ تراویح پڑھنے کے بعد تہجد کی نماز کیوں پڑھی جاتی ہے؟
          (۵) اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جیساکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص ۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) ۔
          علامہ شمس الدین کرمانی (شارح بخاری) تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کے بارے میں ہے اور حضرت ابوسلمہ  کا مذکورہ بالا سوال اور حضرت عائشہ  کا جواب تہجد کے متعلق تھا۔ (الکوکب الدراری شرح صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۵۵۔۱۵۶)
          حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی  فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ حضور اکرم ا گیارہ رکعت (وتر کے ساتھ) پڑھتے تھے وہ تہجد کی نماز تھی۔
          حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی  تحریر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث تہجد کی نماز پر محمول ہے جو رمضان اور غیر رمضان میں برابر تھی۔ (مجموعہ فتاوی عزیزی ص ۱۲۵)
نمازِ تراویح نبی اکرم ا کے زمانے میں:
          * حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ انے (رمضان کی) ایک رات مسجد میں نماز تراویح پڑھی۔ لوگوں نے آپ اکے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر دوسری رات کی نماز میں شرکاء زیادہ ہوگئے، تیسری یا چوتھی رات آپ ا نماز تراویح کے لیے مسجد میں تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں نے تمہارا شوق دیکھ لیا اور میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر رمضان میں فرض نہ کردی جائے۔ (مسلم ، الترغیب فی صلاة التراویح)․․․․․․اِن دو یا تین رات کی تراویح کی رکعت کے متعلق کوئی  تعداد احادیثِ صحیحہ میں مذکور نہیں ہے۔
          * حضرت ابوہریرہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا قیام رمضان کی ترغیب تو دیتے تھے؛ لیکن وجوب کا حکم نہیں دیتے۔ آپ ا فرماتے کہ جوشخص رمضان کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھے اور وہ ایمان کے دوسرے تقاضوں کو بھی پورا کرے اور ثواب کی نیت سے یہ عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرمادیں گے۔ رسول اللہ ا کی وفات تک یہی عمل رہا، دورِ صدیقی اور ابتداء عہد فاروقی میں بھی یہی عمل رہا۔ (مسلم ۔ الترغیب فی صلاة التراویح)
          صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ا کی حیات میں ، حضرت ابوبکر صدیق کے دورِ خلافت اور حضرت عمر فاروق  کے ابتدائی دور خلافت میں نماز تراویح جماعت سے پڑھنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا، صرف ترغیب دی جاتی تھی؛ البتہ حضرت عمر فاروق  کے عہد خلافت میں یقینا تبدیلی ہوئی ہے، اس تبدیلی کی وضاحت مضمون میں محدثین اورفقہائے کرام کی تحریروں کی روشنی میں آرہی ہے۔
          * حضرت عائشہ  کی روایت (جس میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ا رمضان اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعت سے زائد نماز نہیں پڑھتے تھے) میں لفظ ِتراویح کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے؛ کیونکہ محدثین نے اس حدیث کو تہجد کے باب میں نقل کیا ہے، نہ کہ تراویح کے باب میں۔ (ملاحظہ ہو : مسلم ج۱ ص ۱۵۴، ابوداوٴد ج۱ ص ۱۹۶، ترمذی ج۱ ص۵۸، نسائی ج۱ ص ۱۵۴، موٴطا امام مالک ص ۴۲) اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان محدثین کے نزدیک یہ حدیث تہجد کی نماز سے متعلق ہے نہ کہ تراویح سے۔
          امام محمد بن نضر مروزی نے اپنے مشہور کتاب (قیام اللیل ، ص ۹۱ اور ۹۲) میں قیام رمضان کا باب باندھ کر بہت سی حدیثیں اور روایتیں نقل فرمائی ہیں؛ مگر مذکورہ بالا حدیث ِعائشہ نقل نہیں فرمائی؛ اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث تراویح کے متعلق ہے ہی نہیں۔
          علامہ ابن قیم نے اپنی مشہور ومعروف کتاب (زاد المعاد ص ۸۶) میں قیام اللیل (تہجد) کے بیان میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ علاوہ ازیں اس روایت کے متعلق حافظ حدیث امام قرطبی  کا یہ قول بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ بہت سے اہل علم حضرات اس روایت کو مضطرب مانتے ہیں۔ (عینی شرح بخاری ج۷ ص ۱۸۷)
نمازِ تراویح خلفاء راشدین کے زمانے میں:
          * حضرت ابو بکر صدیق  کے عہد میں کتنی تراویح پڑھی جاتی تھیں، احادیث صحیحہ میں صحابہٴ کرام کا کوئی واضح عمل مذکور نہیں ہے۔ گویا اس دور کا معمول حسب سابق رہا اور لوگ اپنے طور پر نماز تراویح پڑھتے رہے، غرضے کہ حضرت ابو بکر صدیق  کے عہدِ خلافت (یعنی دو رمضان) میں نماز تراویح باقاعدہ جماعت کے ساتھ ایک مرتبہ بھی ادا نہیں  ہوئی ۔
          * حضرت عمر فاروق  نے جب اپنے عہد خلافت میں لوگوں کو دیکھا کہ تنہا تنہا تراویح کی نماز پڑھ رہے ہیں تو حضرت عمر فاروق  نے سب صحابہ کو حضرت ابی بن کعب کی امامت میں جمع کیا، اور عشاء کے فرائض کے بعد وتروں سے پہلے باجماعت ۲۰ رکعت نماز تراویح میں قرآن کریم مکمل کرنے کا باضابطہ سلسلہ شروع کیا۔
          * حضرت عبد الرحمن قاری  فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر فاروق کے ہمراہ رمضان میں مسجد میں گیا تو دیکھا کہ لوگ مختلف گروپوں میں علیحدہ علیحدہ نماز تراویح پڑھ رہے ہیں، کوئی اکیلا پڑھ رہا ہے اور کسی کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شریک ہیں، اس پر حضرت عمر فاروق  نے فرمایا کہ واللہ! میرا خیال ہے کہ اگر ان سب کو ایک امام کی اقتداء میں جمع کردیا جائے تو بہت اچھا ہے اور سب کو حضرت ابی بن کعب  کی اقتداء میں جمع کردیا ۔ ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ پھر جب ہم دوسری رات نکلے اور دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی امام کی اقتداء میں نماز تراویح ادا کررہے ہیں تو حضرت عمر فاروق  نے فرمایا کہ یہ بڑا اچھا طریقہ ہے اور مزید فرمایا کہ ابھی تم رات کے جس آخری حصہ (تہجد)  میں سوجاتے ہو ،وہ اس (تراویح) سے بھی بہتر ہے جس کو تم نماز میں کھڑے ہوکر گزارتے ہو۔ (موٴطا امام مالک ، باب ماجاء فی قیام رمضان)
          * حضرت یزید بن رومان  فرماتے ہیں کہ لوگ (صحابہٴ کرام) حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں ۲۳ رکعت (۲۰ تراویح اور۳وتر) ادا فرماتے تھے۔ (موٴطا امام مالک ، باب ماجاء فی قیام رمضان، ص ۹۸)
          * علامہ بیہقی نے کتاب المعرفہ میں نقل کیا ہے کہ حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے دور حکومت میں ہم ۲۰ رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ امام زیلعی  نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (نصب الرای ج ۲ ص ۱۵۴)
          * حضرت ابی بن کعب  سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے انہیں حکم دیا کہ رمضان کی راتوں میں نماز پڑھائیں؛ چنانچہ فرمایا کہ لوگ سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور قراء ت اچھی طرح نہیں کرسکتے۔ اگر آپ رات کو انہیں (نماز میں) قرآن سنائیں تو بہت اچھا ہوگا۔ پس حضرت ابی بن کعب  نے انہیں ۲۰ رکعتیں پڑھائیں۔ (مسند احمد بن منیع بحوالہ اتحاف الخیرة المہرة للبوصیری علی المطالب العالیہ ج۲ ص ۴۲۴)
          * موطا امام مالک میں یزید بن خصیفہ کے طریق سے سائب بن یزید  کی روایت ہے کہ عہد فاروقی میں بیس رکعت تراویح تھیں۔ (فتح الباری لابن حجر ج ۴ ص ۳۲۱، نیل الاوطار للشوکانی ج۲ ص ۵۱۴)
          * حضرت محمد بن کعب القرظی  (جو جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر  کے دور میں بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔ ( قیام اللیل للمروزی ص ۱۵۷)
          * حضرت یحییٰ بن سعید  کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے۔ (مصنف بن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت حسن  سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب  کی امامت پر جمع فرمایا۔ وہ لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھاتے تھے۔ (ابو داوٴد ج۱ ص ۲۱۱، باب القنوت والوتر)
          * حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے دور میں تین رکعت (وتر) اور بیس رکعت (تراویح) پڑھی جاتی تھیں۔ (مصنف عبد الرزاق ج ۴ ص ۲۰۱، حدیث نمبر ۷۷۶۳)
          * حضرت سائب بن یزید  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق  کے زمانے میں ہم ۲۰ رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے، اور قاری صاحب سو سو آیات والی سورتیں پڑھتے تھے اور لمبے قیام کی وجہ سے حضرت عثمان غنی  کے دور میں لاٹھیوں کا سہارا لیتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج۲ ص ۴۹۶)
          * حضرت ابو الحسناء سے روایت ہے کہ حضرت علی  نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت ابو عبدالرحمن السلمی سے روایت ہے کہ حضرت علی  نے رمضان میں قاریوں کو بلایا۔ پھر ان میں سے ایک قاری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بیس رکعت تراویح پڑھائے اور حضرت علی  خود انہیں وتر پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
نماز ِ تراویح سے متعلق صحابہ وتابعین کا عمل:
          * حضرت اعمش  فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود  کا معمول بھی بیس رکعت تروایح اور تین رکعت وتر پڑھنے کا تھا۔ (قیام اللیل للمروزی ص ۱۵۷)
          * حضرت حسن بصری حضرت عبد العزیز بن رفیع  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب  رمضان میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت عطا بن ابی رباح  (جلیل القدر تابعی، تقریباً ۲۰۰ صحابہٴ کرام کی زیارت کی ہے) فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں (صحابہ ) کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھتے پایا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت ابراہیم نخعی  (جلیل القدر تابعی، کوفہ کے مشہور ومعروف مفتی) فرماتے ہیں کہ لوگ رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت پڑھتے تھے۔ (کتاب الآثار بروایت ابی یوسف ص ۴۱)
          * حضرت شیتر بن شکل  (نامور تابعی، حضرت علی  کے شاگرد) لوگوں کو رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
          * حضرت ابو البختری  (اہل کوفہ میں اپنا علمی مقام رکھتے تھے، حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت عمر  اور حضرت ابو سعید  کے شاگرد) ۔ آپ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
          * حضرت سوید بن غفلہ  (حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت علی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود وغیرہ صحابہ کی زیارت کی ہے آپ کے بارے میں ابو الخضیب فرماتے ہیں کہ حضرت سوید بن غفلہ  رمضان میں پانچ ترویحہ سے بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۹۶)
          * حضرت ابن ابی ملیکہ  (جلیل القدر تابعی، تقریباً تیس صحابہٴ کرام کی زیارت سے مشرف ہوئے) آپ کے متعلق حضرت نافع بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی ملیکہ  ہمیں رمضان میں بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۲۸۵)
نماز ِ تراویح سے متعلق اکابرین امت کے اقوال:
امام ابو حنیفہ : علامہ ابن رشد  لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ  کے ہاں قیام رمضان بیس رکعت ہے۔ (بدایہ المجتہد ج۱ ص ۲۱۴)
          امام فخر الدین قاضی خان  لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ  فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہر رات بیس یعنی پانچ ترویحہ وتر کے علاوہ پڑھنا سنت ہے۔ (فتاوی قاضی خان ج۱ ص۱۱۲)
          علامہ علاء الدین کاسانی حنفی  لکھتے ہیں کہ جمہور علماء کا صحیح قول یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے حضرت ابی بن کعب  کی امامت میں صحابہٴ کرام کو تراویح پڑھانے پر جمع فرمایا تو انہوں نے بیس رکعت تراویح پڑھائی اور صحابہ کی طرف سے اجماع تھا۔ (بدائع الصنائع)
امام مالک: امام مالک  کے مشہور قول کے مطابق تراویح کی ۳۶ رکعت ہیں؛جبکہ ان کے ایک قول کے مطابق بیس رکعت سنت ہیں۔ علامہ ابن رشدقرطبی مالکی  فرماتے ہیں کہ امام مالک  نے ایک قول میں بیس رکعت تراویح کو پسند فرمایا ہے۔ (بدایہ المجتہد ج۱ ص ۲۱۴)
          مسجد حرام میں تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد ترویحہ کے طور پر مکہ کے لوگ ایک طواف کرلیا کرتے تھے، جس پر مدینہ منورہ والوں نے ہر ترویحہ پر چار چار رکعت نفل پڑھنی شروع کردیں تو اس طرح امام مالک کی ایک رائے میں ۳۶ رکعت (۲۰ رکعت تراویح اور ۱۶ رکعت نفل) ہوگئیں۔
امام شافعی : امام شافعی  فرماتے ہیں کہ مجھے بیس رکعت تراویح پسند ہیں، مکہ مکرمہ میں بیس رکعت ہی پڑھتے ہیں۔ (قیام اللیل ص ۱۵۹) ایک دوسرے مقام پر امام شافعی  فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعت نماز تراویح پڑھتے پایا ہے۔ (ترمذی ج ۱ ص ۱۶۶) علامہ نووی شافعی  لکھتے ہیں کہ تراویح کی رکعت کے متعلق ہمارا (شوافع) مسلک وتر کے علاوہ دس سلاموں کے ساتھ بیس رکعت کا ہے، اور بیس رکعت پانچ ترویحہ ہیں اور ایک ترویحہ چار رکعت کا دوسلاموں کے ساتھ، یہی امام ابوحنیفہ  اور ان کے اصحاب اور امام احمد بن حنبل  اور امام داوٴد ظاہری کا مسلک ہے اور قاضی عیاض  نے بیس رکعت تراویح کو جمہور علماء سے نقل کیا ہے۔ (المجموع)
امام احمد بن حنبل: فقہ حنبلی کے ممتاز ترجمان علامہ ابن قدامہ  لکھتے ہیں : امام ابو عبد اللہ (احمد بن حنبل) کا پسندیدہ قول بیس رکعت کا ہے اور حضرت سفیان ثوری  بھی یہی کہتے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت عمر فاروق  نے صحابہٴ کرام کو حضرت ابی بن کعب  کی اقتداء میں جمع کیا تو وہ بیس رکعت پڑھتے تھے، نیز حضرت امام احمد ابن حنبل  کا استدلال حضرت یزید وعلی کی روایات سے ہے۔ ابن قدامہ  کہتے ہیں کہ یہ بمنزلہ اجماع کے ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ جس چیز پر حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ عمل پیرا رہے ہوں ، وہی اتباع کے لائق ہے۔ (المغنی لابن قدامہ ج۲ ص۱۳۹، صلاة التراویح)
          امام ترمذی  فرماتے ہیں کہ جمہور اہل علم کا مسلک وہی ہے جو حضرت علیو حضرت عمر  اور دیگر صحابہٴ کرام سے منقول ہے کہ تراویح میں بیس رکعت ہیں، حضرت سفیان ثوری، ابن مبارک  اور امام شافعی  کا بھی یہی مسلک ہے اور امام شافعی  فرماتے ہیں کہ میں نے اہل مکہ کو بیس رکعت پڑھتے دیکھا۔ (ترمذی، ما جاء فی قیام شہر رمضان) امام ترمذی نے اس موقع پر تحریر کیا ہے کہ بعض حضرات مدینہ منورہ میں ۴۱ رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔ لیکن امام ترمذی  نے اہل مکہ یا اہل مدینہ میں سے ۸ تراویح پر کسی کا عمل نقل نہیں کیا۔
          مسلم شریف کی سب سے مشہور ومعروف شرح لکھنے والے علامہ نووی  جو ریاض الصالحین کے مصنف بھی ہیں فرماتے ہیں کہ قیام رمضان سے مراد تراویح ہے اور تمام علماء متفق ہیں کہ یہ نماز اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے؛ البتہ اس میں کچھ اختلاف ہے کہ گھر میں اکیلا پڑھنا بہتر ہے یا مسجد میں باجماعت؟ تو امام شافعی  ، امام ابو حنیفہ ، امام احمد بن حنبل ، بعض مالکی اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ باجماعت پڑھنا بہتر ہے؛ چونکہ حضرت عمر فاروق  اور حضرات صحابہٴ کرام نے ایسا ہی کیا اور اس پر مسلسل عمل جاری ہے حتی کہ یہ مسلمانوں کی ظاہری علامات میں سے ایک علامت ہے۔ (شرح مسلم للنووی، ملخص: الترغیب فی قیام رمضان)
          نیز علامہ نووی  فرماتے ہے کہ جان لو کہ نماز تراویح کے سنت ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے اور یہ بیس رکعت ہیں، جن میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جاتا ہے۔ (الاذکار ص ۸۳)
          علامہ عینی (بخاری شریف کی شرح لکھنے والے) تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان ، حضرت علی  کے زمانہ میں تراویح کی بیس رکعت پڑھی جاتی تھیں۔ (عینی ج۷ ص ۱۷۸)
          شیخ امام غزالی  فرماتے ہیں کہ تراویح بیس رکعتیں ہیں جن کا طریقہ معروف ومشہور ہے اور یہ سنت موٴکدہ ہے۔ (احیاء العلوم ج۱ ص ۱۳۲)
          شیخ عبد القادر جیلانی  فرماتے ہیں کہ تراویح نبی اکرم ا کی سنت مبارکہ ہے اور یہ بیس رکعت ہیں۔ (غنیہ الطالبین ص ۲۶۷، ۲۶۸)
          مولانا قطب الدین خان محدث دہلوی  فرماتے ہیں : اجماع ہوا صحابہ کا اس پر کہ تراویح کی بیس رکعت ہیں۔ (مظاہر حق ج۱ ص ۴۳۶)
          حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  نے اپنی سب سے مشہور ومعروف کتاب (حجة اللہ البالغہ) میں تحریر کیا ہے کہ صحابہٴ کرام اور تابعین کے زمانہ میں تراویح کی بیس رکعت مقرر ہوئی تھیں؛ چنانچہ فرماتے ہیں کہ صحابہٴ کرام اور تابعین نے قیام رمضان میں تین چیزیں زیادہ کی ہیں :
          (۱) مسجدوں میں جمع ہونا؛ کیونکہ اس سے عوام وخواص پر آسانی ہوتی ہے۔
          (۲) اس کو شروع رات میں ادا کرنا؛ جبکہ اخیر رات میں پڑھنا زیادہ افضل ہے جیساکہ حضرت عمر فاروق  نے اس طرف اشارہ فرمایا۔
          (۳) تراویح کی تعداد بیس رکعت۔ (حجة اللہ البالغہ ج۲ ص ۶۷)
          مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی  نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت عمرفاروق کے دور میں جو طریقہ بیس رکعت پڑھانے کا ہوا ، اس کو علماء نے اجماع کے مثل شمار کیا ہے۔ (عون الباری ج۴ ص ۳۱۷)
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کی حدیث کی
مکمل عبارت اور اس کا صحیح مفہوم:
          عَنْ اَبِی سَلْمیٰ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہ اَخْبَرَہ اَنَّہ سَألَ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کَیْفَ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ رَمَضَانَ فَقَالَتْ مَا کَان رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَزِیْدُ فِیْ رَمَضَانَ وَلَا فِیْ غَیْرِہ عَلَی اِحْدَی عَشَرَةَ رَکْعَةً یُصَلِّیْ اَرْبَعاً فَلَا تَسْئَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ اَرْبَعاً فَلَا تَسْئَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ ثَلَاثاً قَالَتْ یَارَسُولَ اللّٰہِ اَتَنَامُ قَبْلَ اَنْ تُوتِرَ فَقَالَ: یَا عَائِشَةُ! اِنَّ عَیْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ․․ (بخاری، کتاب التہجد)
          حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کی کیا کیفیت ہوا کرتی تھی؟ تو حضرت عائشہ  نے فرمایا کہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھاکرتے تھے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اوران کی خوبی اور ان کی لمبائی کے بارے میں مت پوچھو (کہ وہ کتنی خوب اور کتنی لمبی ہوا کرتی تھیں) پھر آپ چار رکعت اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔ پھر تین رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں، میرا دل نہیں سوتا۔
          ﴿وضاحت﴾: یاد رکھیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا اصل تعلق تہجد کی نماز سے ہے اور تہجد اور تراویح دو الگ الگ نمازیں ہیں، یہی جمہور علماء کا مسلک ہے۔
          اس حدیث میں حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خوب لمبے قیام ورکوع وسجدہ والی چار رکعت ادا کرتے تھے پھر خوب لمبے قیام ورکوع وسجدہ والی چار رکعت ادا کرتے تھے، اور پھر تین رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔ حدیث کے الفاظ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سوال اور جواب کا اصل مقصد حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کو بیان کرنا ہے، نہ کہ تعداد رکعت کو۔ بعض حضرات نے تہجد اور تراویح کی نماز کو ایک سمجھ کر حدیث میں وارد گیارہ میں سے آٹھ کے لفظ کو تراویح کے لیے لے لیا؛ لیکن گیارہ رکعت پڑھنے کی کیفیت اور تین رکعت وتر کو نظرانداز کردیا۔
          اگر نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح ایک ہی نماز ہے اور تراویح کے آٹھ رکعت ہونے کی یہی حدیث دلیل ہے، تو چاہیے کہ اس حدیث کے تمام اجزاء پر عمل کیا جائے اور اس میں بیان کردہ پوری کیفیت کے ساتھ نماز تراویح ادا کی جائے یا کم از کم اس کے مسنون ہونے کو بیان کیا جائے؛مگر اس حدیث سے صرف آٹھ کا لفظ تو لے لیا؛ مگر آٹھ رکعت نماز کی کیفیت کو چھوڑ دیا؛ کیونکہ اس میں لمبی لمبی چار چار رکعت پڑھنے کاذکر ہے اور تین رکعت وتر کا ذکر ہے، نیز وتر کے لیے تین کے لفظ کو چھوڑ کر صرف ایک ہی رکعت وتر کو اپنی سہولت کے لیے اختیار کرلیا۔ اس حدیث میں ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھنے کے بعد سوجاتے پھر وتر پڑھتے تھے؛ حالانکہ ماہِ رمضان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سے سارے حضرات نماز عشاء کے ساتھ تراویح پڑھنے کے فوراً بعد وتر جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ بخاری کی اس حدیث کے صرف آٹھ کے لفظ کو لے کر باقی تمام امور کو چھوڑ نا، یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر عمل کرنا نہیں ہوا؛ بلکہ اپنے اسلاف کے قرآن وحدیث فہمی پر قناعت کرنا ہے اور یہی تقلید ہے؛ حالانکہ بخاری میں ہی حضرت عائشہ  کی دوسری حدیث ہے : کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی بِالَّیْلِ ثَلَاثَ عَشَرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ یُصَلِّیْ اِذَا سَمِعَ النِّدَا بِالصُّبْحِ رَکْعَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ (باب ما یقرأ فی رکعتی الفجر) یعنی اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز تیرہ رکعت پڑھتے تھے اور جب فجر کی اذان سنتے تو دو ہلکی رکعت ادا کرتے (یعنی فجر کی سنت)۔غور فرمائیں کہ گیارہ رکعت والی حدیث بھی بخاری میں ہے اور تیرہ رکعت والی حدیث بھی بخاری میں اور دونوں حدیثیں حضرت عائشہ  سے ہی مروی ہیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ گیارہ رکعت والی حدیث میں سے لفظ آٹھ کو تو لے لیا اور تیرہ رکعت والی حدیث کو بالکل ہی چھوڑدیا؛ حالانکہ تیرہ رکعت والی حدیث میں  ”کان“ کالفظ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں ماضی استمرار کے لیے ہے یعنی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا تیرہ رکعت پڑھنے کا معمول تھا۔ نمازِ تہجد اور نمازِ تراویح کو ایک کہنے والے حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں دونوں احادیث میں تطبیق دینے سے قاصر ہیں۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ کی آٹھ رکعت والی حدیث  میں تو چار چار رکعت پڑھنے کا تذکرہ ہے؛ لیکن عمل دو دو رکعت پڑھنے کا ہے تو جواب میں دوسری حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں نماز تہجد کو دو دو رکعت پڑھنے کا تذکرہ ہے، اور وہ حضرت عبد اللہ بن عباس  کی حدیث ہے جو بخاری ہی (کتاب الوتر) میں ہے: ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ اَوْتَرَ․حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر نماز تہجد پہلے دو رکعت ادا کی، پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر دورکعت ادا کی،پھر وتر پڑھے۔ بخاری کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ وتر کے علاوہ دو دو رکعت کرکے تہجد کی کل بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ آٹھ رکعت تراویح کا موقف رکھنے والے حضرات کے نزدیک تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے تو ان احادیث میں تطبیق کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ غرضے کہ حضرت عائشہ کی پہلی حدیث سے آٹھ کا لفظ لیا اور حضرت عبد اللہ بن عباس کی اس حدیث سے دو دو رکعت پڑھنے کو لیا، تو نہ تو حضرت عائشہ کی حدیث پر عمل ہوا اور نہ حضرت عبداللہ بن عباس  کی حدیث پرعمل ہوا؛ بلکہ اپنے اسلاف کی تقلید ہوئی؛ حالانکہ یہ تینوں احادیث صحیح بخاری کی ہی ہیں۔ معلوم ہوا کہ نمازِ تراویح اور نمازِ تہجد کو ایک قرار دینا ہی غلط ہے؛ کیونکہ اس کا ثبوت دلائل شرعیہ سے نہیں دیا جاسکتا ہے۔ چاروں ائمہ میں سے کوئی بھی دونوں نمازوں کو ایک قرار دینے کا قائل نہیں ہے۔ امام بخاری  تو تراویح کے بعد تہجد بھی پڑھا کرتے تھے، امام بخاری  تراویح باجماعت پڑھا کرتے تھے اور ہر رکعت میں بیس آیتیں پڑھا کرتے تھے اور پورے رمضان میں تراویح میں صرف ایک ختم کرتے تھے، جب کہ تہجد کی نماز امام بخاری  تنہا پڑھا کرتے تھے اور تہجد میں ہر تین رات میں ایک قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔ (امام بخاری کے اس عمل کی تفصیلات پڑھنے کے لیے صحیح بخاری کی سب سے مشہورومعروف شرح "فتح الباری" کے مقدمہ کا مطالعہ فرمائیں)۔
          بس بات صحیح یہی ہے کہ نماز تراویح اور نماز تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں، تہجد کی نماز تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے متعین ہوئی ہے، سورة المزمل کی ابتدائی آیات (یَااَیَّہَا الْمُزَمِّلُ قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلا......) پڑھ لیں؛ جبکہ تراویح کا عمل حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے مشروع ہوا ہے، جیساکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : سَنَنْتُ لَہ قِیَامَہ (نسائی، ابن ماجہ) تراویح کا عمل میں نے مسنون قرار دیا ہے۔ حضرت عمر فاروق  کے عہد میں جماعت کے ساتھ بیس رکعت کا باقاعدہ اہتمام کے ساتھ شروع ہونا، روز روشن کی طرح واضح ہے، جیساکہ محدثین وعلماء کرام کے اقوال، حوالوں کے ساتھ اوپر تحریر کیے جاچکے ہیں۔لہٰذا اس حقیقت کا انکار کرنا صرف اور صرف ہٹ  دھرمی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث کا تعلق تہجد کی نماز سے ہے، جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کم کبھی زیادہ پڑھا کرتے تھے۔
ایک شبہ کا ازالہ:
          بعض حضرات نے ابن خزیمہ وابن حبان میں وارد حضرت جابر کی روایت سے ثابت کیا ہے کہ آپ ا نے رمضان میں آٹھ رکعات تراویح پڑھیں؛ حالانکہ یہ روایت اس قدر ضعیف ومنکر ہے کہ اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے؛ کیونکہ اس میں ایک راوی عیسیٰ بن جاریہ ہے، جس کی بابت محدثین نے تحریر کیا ہے کہ اس کے پاس منکر روایات ہیں، جیساکہ ۸ رکعت تراویح کا موقف رکھنے والے حضرات نے دوسرے مسائل میں اس طرح کے راویوں کی روایات کو تسلیم کرنے سے منع کیا ہے۔ اس نوعیت کی متعدد احادیث جمہور مسلمین کے پاس بھی موجود ہیں، جن میں مذکور ہے کہ حضور اکرم انے بیس رکعت تروایح پڑھیں: حضرت عبد اللہ بن عباس  سے روایت ہے کہ بیشک نبی  اکرم ا ماہِ رمضان میں بلاجماعت بیس رکعت اور وتر پڑھتے تھے۔ (بیہقی، ج۱ ص ۴۹۶، اس حدیث کو طبرانی نے کبیر میں، ابن عدی نے مسند میں اور علامہ بغوی نے مجمع صحابہ میں ذکر کیا ہے) (زجاجة المصابیح)۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام رافعی کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیس رکعت دو راتیں پڑھائیں پھر تیسری رات کو لوگ جمع ہوگئے؛ مگر آپ باہر تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح کو فرمایا کہ مجھے اندیشہ تھا کہ یہ تمہارے اوپر فرض نہ ہوجائے اور تم اس کو ادا نہ کرسکو؛اس لیے باہر نہیں آیا۔
دوسرے شبہ کا ازالہ:
          بعض حضرات نے ایک روایت کی بنیا د پر تحریر کیا ہے کہ حضرت عمر فاروق  نے گیارہ رکعت تراویح کا حکم دیاتھا؛ حالانکہ یہ حدیث تین طرح سے منقول ہے اور حدیث کی سند میں شدید ضعف بھی ہے۔ ۔۔ نیز حضرت عمر فاروق  کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح پڑھی گئیں، یہ بات سورج کی روشنی کی طرح محدثین واکابر امت نے تسلیم کی ہے، جیساکہ محدثین وعلماء کرام کے اقوال حوالوں کے ساتھ اوپر تحریر کیے جاچکے ہیں۔ لہٰذا اس حقیقت کا انکار کرنا صرف ہٹ دھرمی ہے۔ امام ترمذی، امام غزالی ، علامہ نووی ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، علامہ ابن قدامہ ، علامہ ابن تیمیہ  اور مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی  نے بھی وضاحت کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ مشہور غیر مقلد عالم مفتی محمد حسین بٹالوی نے جب پہلی دفعہ ۱۲۸۴ھ میں باضابطہ طور پر فتوی جاری کیا کہ آٹھ رکعت تراویح سنت اور بیس رکعت بدعت ہے تو اس انوکھے فتوے کی ہر طرف سے مخالفت کی گئی۔ مشہور غیر مقلد بزرگ عالم مولانا غلام رسول صاحب نے خود اس فتویٰ کی سخت کلمات میں مذمت کی، اور اس کو سینہ زوری قرار دیا۔ (رسالہ تراویح ص۲۸، ۵۶)
تیسرے شبہ کا ازالہ:
          کچھ حضرات کہتے ہیں کہ نبی اکرم ا اور صحابہٴ کرام کے اقوال میں اگر کوئی تضاد ہو تو صحابہ کے اقوال کو چھوڑکر نبی اکرم ا کے قول کو لیا جائے گا۔ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ اگر کوئی اِس میں شک بھی کرے ، تو اُسے اپنے ایمان کی تجدید کرنی ہوگی؛ لیکن یہاں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ نبی اکرم ا کے اقوال وافعال میں کہیں بھی تراویح کی کوئی تعداد مذکور نہیں ہے ۔ نبیِ اکرم ا کی سنتوں سے صحابہٴ کرام کو ہم سے زیادہ محبت تھی۔ اور دین میں نئی بات پیدا کرنے سے صحابہٴ کرام ہم سے زیادہ ڈرنے والے تھے۔
خصوصی توجہ:
          سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویحُ أکْثَرُ مِنْ ألْفِ عَامٍ فِی الْمَسْجِدِ النبوی) لکھی ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی میں نماز تراویح ہورہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں ، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اس طرح یہ لوگ مسجد نبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ،لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں؛ تاکہ ان  لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہوجائے․․․․ اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمد سالم  لکھتے ہیں: اس تفصیلی تجزیہ کے بعد ہم اپنے قراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک  موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجد نبوی میں مستقل آٹھ تراویح پڑھی جاتی تھیں؟ یا چلیں بیس سے کم تراویح پڑھنا ہی ثابت ہو؟ بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس یا اس سے زائد ہی پڑھی جاتی تھیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی صحابی یا ماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ ۸ سے زائد تراویح جائز نہیں ہیں اور اس نے حضرت عائشہ  کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو ؟
***

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 7 - 8 ‏، جلد: 97 ‏، رمضان – شوال 1434 ہجری مطابق جولائی - اگست 2013ء





پیر، 8 مئی، 2017

خطبه جمعة

پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ سب کے اعمال کی نگرانی کر رہا  ہے اور وہ سب کو اعمال کا پورا بدلہ دے گا وہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، {وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو وہ اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔[النساء: 40]، میں اپنے رب کے فضلِ عظیم پر اسی کی تعریف اور شکر بجا لاتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی جاننے اور خبر رکھنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی  جناب محمد  ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ بشیر و نذیر اور سراج منیر ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول جناب محمد   - جنہیں روشن کتاب دے کر بھیجا گیا  ان - پر ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود  و سلام اور برکتیں نازل فرما  جن کے ذریعے اللہ تعالی نے دین کو غالب فرمایا اور شرک کو ذلیل و رسوا کیا۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
تقوی الہی اپناؤ ؛ اس کیلیے بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرو  اور حرام کاموں سے بچو، تو تم اعلی درجات پا لو گے نیز تباہ کن نتائج سے بچ جاؤ گے۔
مسلمانو!
بیشک اللہ تعالی نے تم سے سچا وعدہ کیا ہے، وہ اپنے وعدے  کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کر سکتا ہے،  اللہ تعالی نے اپنے فرمانبردار بندوں سے دنیا میں اچھی زندگی کا وعدہ فرمایا  اور آخرت میں اچھے نتائج کا وعدہ دیا،  اللہ تعالی ان پر راضی ہو گا اور انہیں سرمدی جنتوں میں دائمی نعمتوں سے نوازے گا، انہیں انبیائے کرام اور نیک لوگوں کی رفاقت بھی ملے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} اور اگر بستی والے ایمان لاتے اور تقوی اپناتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے ضرور کھول دیتے۔[الأعراف: 96]
ایسے ہی فرمایا: {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ (65) وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ}  اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوی  اختیار کر لیتے تو ہم ان سے ان کے گناہ زائل کر کے انہیں نعمتوں والے باغات میں داخل کرتے [65] اور اگر یہ لوگ تورات ،انجیل اور جو دوسری کتابیں ان پر انکے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی تھیں، ان پر عمل پیرا رہتے تو انکے اوپر سے بھی کھانے کو رزق برستا، اور پاؤں کے نیچے سے بھی ابلتا۔ [المائدة: 65، 66]
یعنی اگر وہ قرآن پر ایمان لے آتے  اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ساتھ میں اپنی کتابوں پر بھی بغیر کسی تحریف کے ایمان رکھتے  تو اللہ تعالی انہیں دنیا میں خوشحال زندگی سے نوازتا اور آخرت  میں ا نہیں نعمتوں والی جنت میں داخل فرماتا۔
اسی طرح نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو ترغیب   دی تو اسے اللہ تعالی نے بیان کرتے ہوئے فرمایا: {فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11)وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا} تو میں[نوح] نے کہا: اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو؛ بیشک وہی بخشنے والا ہے [10] وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا [11] نیز تمہاری دولت اور نرینہ اولاد کے ذریعے مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات اور نہریں بہا دے گا۔[نوح: 11، 12]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی فرماتا ہے: جو میرے کسی ولی سے دشمنی روا رکھے تو اس کے خلاف میں اعلانِ جنگ کرتا ہوں،  فرائض سے بڑھ کر میرا بندہ میرا قرب حاصل نہیں کر سکتا، میرا بندہ   تسلسل کے ساتھ نوافل کے ذریعے میرے قرب کی تلاش میں لگا رہتا ہے  یہاں تک میں ہی اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جب میں  اس سے محبت کرنے لگوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، میں اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر  وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دے دوں، مجھے اپنے کسی بھی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا  مجھے موت سے ڈرنے والے مؤمن کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے، مجھے مؤمن کی ناگواری پسند نہیں) بخاری، اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ : اللہ تعالی اپنے لطف و کرم اور رحمت و قدرت کے ساتھ اپنے فرمانبردار بندوں کے امور چلاتا ہے، اور دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہترین منصوبہ بندی فرماتا ہے۔
ہمارے پروردگار کا وعدہ سچا ہے، اس میں ذرہ برابر بھی خلاف ورزی نہیں ہو گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ} ہمارے پروردگار! بیشک تو ہی اس دن کیلیے لوگوں کو جمع کرنے والا جس میں کوئی شک نہیں ہے، بیشک اللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا۔[آل عمران: 9]
اسی طرح فرمایا: {رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ}  ہمارے رب ! تو نے اپنے رسولوں (کی زبان) پر ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا، بیشک تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی  نہیں کرتا ۔[آل عمران: 194]
مومنوں سے آخرت کے متعلق بھی اللہ تعالی کے وعدے سچے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}  اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغات کا وعدہ کر رکھا ہے جن میں نہریں جاری ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے نیز سدا بہار باغات میں پاکیزہ قیام گاہوں کا بھی (وعدہ کر رکھا ہے) اور اللہ کی خوشنودی تو ان سب نعمتوں  سے بڑھ کر ہوگی۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے ۔[التوبہ: 72]
مومنین  اپنی دنیاوی زندگی میں بھی اللہ تعالی کے وعدوں کی تکمیل کا مشاہدہ کرتے ہیں اور انہیں اللہ تعالی کی جانب سے مسلسل نعمتیں اور رحمتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ}  تو اللہ نے انہیں دنیا میں بدلہ بھی دیا اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی خوب ہے۔ اور ایسے ہی نیک عمل کرنے والوں کو اللہ محبوب رکھتا ہے [آل عمران: 148]
انہیں آخرت میں بھی وعدہ شدہ اجر و ثواب  اور ابدی نعمتیں ملیں گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَفَمَنْ وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَنْ مَتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ} بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو، اس شخص کی طرح  ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا  سامان دے رکھا ہو پھر وہ قیامت کے دن پیش کیا جانے والا ہو ؟ [القصص: 61]
جس طرح اللہ تعالی نے اپنے فرمانبردار بندوں سے نعمتوں کا وعدہ کیا ہے بالکل اسی طرح نافرمان کافروں اور سرکش گناہگاروں کو وعید بھی سنائی ، انہیں عذاب اور عقاب سے  ڈرایا، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ} اور جو کافر ہیں وہ چند روز فائدہ اٹھا لیں، وہ اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے  کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ [محمد: 12]
اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا} اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے  جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے [الجن: 23]
ان کی دنیا کی زندگی بھی بد ترین زندگی ہے، اس کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى}  اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگ  ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ [طہ: 124] اور اگر انہیں دنیا مل بھی جائے تو بھی وہ بد ترین زندگی میں ہوتے ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا: {فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ}  ان لوگوں کے مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ انہیں دنیا کی زندگی میں سزا  دے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت یہ کافر ہی ہوں [التوبہ: 55]
اور یہ ممکن ہے کہ انسان کسی ایسی آزمائش میں پھنس جائے جو انسان کو مفید چیزوں سے موڑ کر  نقصان دہ چیزوں میں مبتلا کر دے، آزمائش اور امتحان کے طور پر اسے نیکیوں سے موڑے، گناہوں کو خوبصورت بنا کر دکھائے؛ تا کہ اللہ تعالی اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنے والوں اور نفس پرستی سے بچنے والوں  کو ان لوگوں سے الگ کر دے جو نفس پرستی میں پڑ جائیں اور شیطان کے پیچھے چل پڑیں؛ تا کہ  اللہ تعالی ہدایت یافتہ لوگوں کو درجات سے نوازے اور ہوس پرستوں  کو کھائیوں میں گرا دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ}  ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ یہ معلوم  کر لیں کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں اور صابر کون ؟ اور تمہارے احوال کی جانچ پڑتال کریں گے [محمد: 31]
اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:  {وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ}  اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم یقیناً انہیں اپنی راہیں دکھا دیتے  ہیں [العنكبوت: 69]
اس لیے انسان کا نفس ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور شیطان اسی کے ذریعے ہی  انسان پر حملہ آور ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي}  نفس تو اکثر برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جس پر میرے پروردگار کی رحمت ہو۔ [يوسف: 53]
اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} اور جو شخص اپنے نفس کی حرص  سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔ [الحشر: 9]
نفس جس قدر جہالت اور ظلم سے متصف ہو گا انسان اسی قدر اللہ تعالی کے وعدوں کی تصدیق سے دور ہو گا، انسان کو استقامت اور راہِ اعتدال سے منحرف کر دے گا۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:  "جو شخص اپنی حقیقت اور فطرت سے آشنا ہو جائے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ  اس کا نفس ہر قسم کی برائی اور بدی کا منبع ہے، جبکہ اس میں ہر قسم کی خیر محض فضلِ الہی اور احسان کی وجہ سے ہے، اس میں نفس کا اپنا کوئی کمال نہیں، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا} اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف  نہ رہ سکتا تھا۔ [النور: 21]"انتہی
شریعت کے لائے ہوئے علمِ نافع سے جہالت کا خاتمہ ہوتا ہے، مسلمان کیلیے ضروری ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالی کی جانب راغب رہے، اپنے نفس کی اصلاح کیلیے اللہ تعالی سے دعا مانگتا رہے، چنانچہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: "رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: (اَللَّهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اَللَّهُمَّ إني أَعُوْذُ بِكَ  مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا"[ یا اللہ! میرے نفس کو تقوی عطا فرما، اور اس کا تزکیہ فرما تو ہی اس کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی تزکیہ کر سکتا ہے اور میرے نفس کا مولی ہے، یا اللہ! میں غیر مفید علم، خشوع سے عاری دل، سیر نہ ہونے والے نفس، اور مسترد ہو جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں]) مسلم
اسی طرح ترمذی میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عمران بن حصین  رضی اللہ عنہ کے والد کو دو جملے دعا کیلیے سکھائے تھے: (اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِيْ وَأَعِذْنِيْ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ[یا اللہ! میری رہنمائی میرے دل میں ڈال دے اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما دے])
لہذا اگر نفس شرعی علم اور عمل صالح کے ذریعے پاکیزہ نہ بنے تو انسان پر جہالت اور ظلم کا راج ہوتا ہے، نفس ہوس کے ساتھ مل کر انسان سے اللہ تعالی کے وعدوں کی تکذیب کرواتا ہے، جس کی بنا پر نفس شہوت پرست بن جاتا ہے اور خسارہ، عذاب، ذلت اور رسوائی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے، اور دونوں جہانوں میں نامراد ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو۔ اور اللہ تعالی ایسے ظالموں  کو ہدایت نہیں دیتا۔ [القصص: 50]
اس کے بر عکس اگر نفس کا تزکیہ ہو ، علمِ نافع اور عملِ صالح کے ذریعے نفس پاکیزہ ہو جائے تو انسان اللہ تعالی کے وعدوں کو سچا مانتا ہے اور مطمئن ہو کر اپنے پروردگار  سے تعلق بناتا ہے، اسے موت کے وقت بھی عزت افزائی کی خوشخبری دی جاتی ہے، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27)ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي} اے اطمینان پانے والی روح [27] اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی  [29] میرے بندوں میں داخل ہو جا [30] اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ [الفجر: 27 - 30]
بھلائی کے تمام راستے بند کرنے والا، برائیوں کی طرف دعوت دینے والا انسان کا ازلی دشمن - اللہ کی پناہ -شیطان مردود  اور پلید ہے اللہ تعالی نے شیطان کو مکلف لوگوں کیلیے آزمائش بنایا ؛ لہذا شیطان کے پیچھے چلنے والا شخص بد ترین مقام پر ہو گا اور شیطان کی نافرمانی کرنے والا بلند ترین مقام پر فائز ہو گا۔
شیطان انسان کو گمراہ کر کے لذت اور سرور محسوس کرتا ہے، اسے اللہ تعالی کے وعدوں اور وعیدوں کو جھٹلانے کی دعوت دیتا ہے، وہ اس کے سامنے حرام چیزوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، فرائض اور مستحبات سے روکنا شیطان کا مشغلہ ہے، وہ انسان کو سبز باغ دکھا کر دھوکا دیتا ہے اور وسوسے ڈال کر اسے گمراہ کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} شیطان یقیناً تمہارا دشمن ہے۔ لہذا اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے پیرو کاروں کو صرف اس لئے بلاتا ہے تا کہ وہ  دوزخی بن جائیں [فاطر: 6]
اللہ تعالی نے جہنم میں شیطان کا اپنے چیلوں سے خطاب ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} اور جب (تمام امور کا) فیصلہ  چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا : "اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے ایک وعدہ کیا تھا جس کی میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔ اور میرا تم پر کچھ زور نہ تھا بجز اس کے کہ میں نے تمہیں (اپنی طرف) بلایا تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا (آج) مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ  ہی کو کرو۔ (آج) نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری کر سکتے ہو۔ اس سے پہلے جو تم مجھے اللہ کا شریک بناتے رہے ہو میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے یقیناً درد ناک عذاب ہے " [ابراہیم: 22]
شیطان اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کیلیے سات انداز اپناتا ہے: [1]سب سے پہلے شیطان -اللہ کی پناہ-کفر کی دعوت دیتا ہے ، اگر انسان پہلے داؤ پر ہی اس کی دعوت قبول کر لے تو شیطان کا ہدف پورا ہو جاتا ہے اور شیطان اسے اپنی رذیل جماعت میں شامل کر لیتا ہے، [2]لیکن اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو پھر اسے بدعت کی دعوت دیتا ہے ، اگر انسان سنت نبوی اور کتاب و سنت پر کار بند رہتے ہوئے بدعات سے بچ جائے [3]تو شیطان اسے کبیرہ گناہوں کی دعوت دیتا ہے اور اس کیلیے کبیرہ گناہ خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، پھر اسے توبہ نہیں کرنے دیتا ، اس پر انسان کبیرہ گناہوں کا دلدادہ بن جاتا ہے اور وہ مکمل طور پر گناہوں کی جکڑ میں آ  کر ہلاک ہو جاتا ہے،[4]اگر انسان کبیرہ گناہوں کی دعوت بھی قبول نہ کرے تو شیطان صغیرہ گناہوں کی دعوت دیتے ہوئے صغیرہ گناہوں کو معمولی بنا کر پیش کرتا ہے؛ چنانچہ انسان کے صغیرہ گناہوں پر اصرار  اور تکرار کے باعث صغیرہ بھی کبیرہ کے برابر ہو جاتے ہیں اور انسان ہلاک ہو جاتا ہے؛ کیونکہ انسان ان گناہوں سے توبہ نہیں کرتا۔ [5]انسان اگر صغیرہ گناہوں سے بھی بچ جائے تو شیطان مباح چیزوں میں مگن رکھ کر دیگر نیکیوں سے دور رکھتا ، اسے مباح چیزوں میں اتنا مشغول کر دیتا ہے کہ آخرت اور نیکیوں کیلیے جد و جہد کا وقت ہی نہیں ملتا،  [6]اگر اس داؤ سے بھی انسان بچ نکلے تو انسان سے افضل کام چھڑوا کر غیر افضل کام کرواتا ہے تا کہ انسان کے اخروی اجر و ثواب میں کمی واقع ہو؛ کیونکہ نیکیوں کا ثواب یکساں نہیں ہوتا ، اور [7]اگر انسان اس مکاری سے بھی بچنے میں کامیاب ہو جائے تو شیطان اپنا لاؤ لشکر تکلیف دینے کیلیے مومن کے پیچھے لگا دیتا ہے ، جو کہ مومن کو انواع و اقسام کی تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔
انسان ہمیشہ شیطان کے شر سے تحفظ اور نجات کیلیے اللہ تعالی کی پناہ مانگے، دائمی طور پر اللہ تعالی کا ذکر کرے، نماز با جماعت کا اہتمام کرے؛ یہ اعمال شیطان سے تحفظ کیلیے قلعہ، جائے پناہ اور حرزِ جان کا مقام رکھتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالی پر توکل اور شیطان  کے خلاف دائمی جد و جہد، اسی طرح ظلم  سے اجتناب بھی باعث نجات اعمال ہیں۔
فرمانِ باری تعالی ہے: { وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ}  پھر اگر کسی وقت تمہیں کوئی شیطانی وسوسہ  آنے لگے تو اللہ کی پناہ  مانگو۔ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ [فصلت: 36]
راہِ حق ،استقامت  اور نیکی کے راستے میں یہ عمل بھی رکاوٹ  بن سکتا ہے کہ دنیا سے محبت اور آخرت کے مقابلے میں دنیا پر راضی ہو جائیں، دنیا داری میں حلال و حرام کا فرق مٹا دیں، دنیا میں اتنے مگن ہو جائیں کہ آخرت بھول جائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} جو لوگ ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی  پر ہی راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری قدرت کے نشانوں سے غافل ہیں [7] یہی لوگ ہیں ان  کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کا ٹھکانا آگ ہے۔[يونس: 7، 8]
اسی طرح فرمایا: {أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ} کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے ہو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں معمولی ترین ہے۔[التوبہ: 38]
حقیقت میں دنیا بھی انسان کی دشمن ہے، یہی وجہ ہے کہ جب انسان کے دل پر دنیا کی محبت غالب ہو جائے تو انسان دنیا داری میں مشغول ہو جاتا ہے اور آخرت کیلیے کوئی کام نہیں کرتا اور تباہ ہو جاتا ہے، اس دھرتی کے اکثر لوگ دنیا کو ہی ترجیح دیتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى} بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو [16] حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔[الأعلى: 16، 17]
اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {وَوَيْلٌ لِلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (2) الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ} اور کافروں کے لئے سخت عذاب (کی وجہ) سے تباہی ہے [2] جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں (اپنی خواہشوں کے مطابق) ٹیڑھ پیدا  کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ گمراہی میں دور تک نکل گئے ہیں [ابراہیم: 2، 3]
دنیا کے شر  و ضرر سے نجات اور بچاؤ ایسے طریقے سے دنیا کمانے پر ملے گا جو کہ شرعی طور پر جائز ہو اور اللہ تعالی کی طرف سے حلال کردہ چیزوں کو بغیر اسراف اور فضول خرچی کے استعمال کریں، اللہ تعالی کی مخلوق پر تکبر اور گھمنڈ مت کریں، ان پر نخوت اور غرور نہ جمائیں، اپنی قوت  کے بل بوتے پر حقوق العباد پامال مت کریں۔
یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ  دنیا فانی اور دھوکے والی ہے، یہاں حالات تہ و بالا ہوتے رہتے ہیں، اگر یہ حقیقت ہمیشہ یاد رہے تو اس کی وجہ سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے۔
جیسے کہ مستورد فہری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (آخرت کے مقابلے میں دنیا صرف اتنی سی ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور دیکھے کہ انگلی پر کتنا پانی ساتھ آتا ہے) احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے اسے روایت کیا ہے۔
انسان کو ہمیشہ دنیا کے شر اور انجام بد سے چوکنا رہنا چاہیے، اور یہ بات کبھی ذہن میں نہ آئے کہ تمہیں یہ دنیا تمہارے  علم یا کسی خوبی کی وجہ سے ملی ہے! جیسے قارون نے اسی طرح کا دھوکا کھایا  تو اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ وہ آپ کو معلوم ہے۔
دنیا کے بارے میں ایک اہم بات جسے پورا کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے ، وہ یہ ہے کہ دنیاوی مال و متاع میں سے حقوق اللہ اور حقوق العباد  پورے کریں  جیسے کہ :  زکاۃ کی ادائیگی، اہل خانہ اور اولاد کے اخراجات، مہمان نوازی، کمزوروں کی مدد، رفاہِ عامہ کے کاموں میں  تعاون، ان سب کیلیے اخلاص ہونا اور ریاکاری سے دوری لازمی امر ہے،  ان کاموں کے بدلے میں شہرت، ناموری، کلمات تشکر کچھ بھی مطلوب نہ ہو؛ کیونکہ ریا کاری سے عمل برباد ہو جاتا ہے۔
بڑے بڑے صحابہ کرام بھی دولت مند تھے، لیکن اس کے با وجود وہ دنیا سے انتہائی بے رغبت تھے، ابو سلیمان کے مطابق: عثمان اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کی اس دھرتی پر اللہ تعالی کے خزانچیوں میں سے خزانچی تھے، وہ اللہ کی اطاعت میں خرچ کرتے ، ان کا اللہ تعالی کے ساتھ گہرا دلی معاملہ تھا۔
ایک حدیث ہے کہ : (دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے پاس جو کچھ سے اس سے بے نیاز ہو جاؤ تو لوگ تم سے محبت کریں گےابن ماجہ نے اسے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ لوگوں کے مال سے بے نیاز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر لوٹ مار نہ کرے اور نہ ہی ان کے حقوق غصب کر کے ان پر ظلم ڈھائے، ان کو حاصل نعمتوں کے زائل ہونے کی تمنا نہ کرے، لوگوں کی دولت پر لالچ بھری آنکھوں سے مت دیکھے،  اور اس کیلیے دست درازی مت کرے۔
سب سے زیادہ قابل ستائش زُہد یہ ہے کہ دنیا میں تکبر نہ کرے، اس کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ}  یہ آخرت کا گھر تو ہم نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دیا ہے جو زمین میں بڑائی  یا فساد  نہیں چاہتے اور (بہتر) انجام تو پرہیز گاروں کیلیے ہے۔ [القصص: 83]
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین  ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے،  میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ تعالی سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔
دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں  اللہ کیلیے ہیں وہی میرا پروردگار ہے، دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں اسی کیلیے تعریفیں ہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ہم اس کی بلند و بالا صفات  کے ذریعے اسی کی ثنا خوانی کرتے ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے  بندے  اور چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی  آل ، اور متقی صحابہ کرام پر رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
کما حقُّہ تقوی اختیار کرو ، اور مضبوط دین کو اچھی طرح تھام لو۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ} لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ ہی اللہ کے بارے میں وہ دھوکا باز  (شیطان) تمہیں دھوکا دینے پائے۔  [فاطر: 5]
اور ایک حدیث میں ہے کہ: (عقل مند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچان لے اور موت کے بعد کی تیاری کرے، عاجز وہ ہے  جو ہوس پرستی میں ڈوبا رہے اور اللہ تعالی سے امید لگائے رکھے)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا منقول ہے کہ : فرشتہ دل میں احساس پیدا کرتا ہے جو کہ اللہ کے وعدوں اور حق کی تصدیق پر مشتمل ہوتا ہے، اور بسا اوقات شیطان دل میں منفی احساس پیدا کرتا ہے جو کہ اللہ کے وعدوں اور حق کی تکذیب پر مشتمل ہوتا ہے۔
مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے نفس کا مسلسل محاسبہ کرے اور اسے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے، نفس کو شیطانی مکاریوں اور ہتھکنڈوں سے بچاتے ہوئے ہوس پرستی سے بھی دور رکھے، نیز دنیا کے دھوکے میں نہ آنے دے؛ کیونکہ دنیاوی فائدے سب عارضی ہیں۔
اللہ کے بندو!
 }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ یقیناً اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]
اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)
اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود  و سلام پڑھو۔
اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔
یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،  یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،  تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت و کرم اور جود و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا رب العالمین!
یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! بدعات کو رسوا فرما، یا اللہ! بدعات کو رسوا فرما، یا اللہ! رسول اللہ ﷺ کے دین سے متصادم بدعات کو قیامت تک کیلیے ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! بدعات کو رسوا فرما دے، کسی بھی اعتبار سے ان کا بول بالا نہ ہونے دے، یا رب العالمین! یا اللہ! تجھ سے اور تیرے نبی ﷺ سے عداوت رکھنے والے بدعتی لوگوں میں پھوٹ ڈال دے، یا اللہ! انہیں روزِ قیامت تک کیلیے ذلیل و رسوا فرما دے، یا ذو الجلال والاکرام! یا شدید العقاب! یا سریع الحساب!
یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔
یا اللہ! تمام معاملات کا انجام ہمارے لیے بہتر فرما، اور ہمیں دنیاوی رسوائی اور اخروی عذاب سے محفوظ فرما۔
یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! ان کی قبروں کو منور اور کشادہ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! ان کی حسنات میں اضافہ فرما، ان کی خطاؤں کو معاف فرما۔
یا اللہ! تو ہمارے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جنہیں تو ہم سے بہتر جانتا ہے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی ترقی و تنزلی دینے والا ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل  سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، لشکروں، اور شیطان کے ہمنواؤں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!  یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، لشکروں، اور شیطان کے ہمنواؤں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں اور بد اعمالیوں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ان کے نفسوں اور بد اعمالیوں کے شر سے محفوظ فرما۔
یا اللہ! یا ذو الجلال وا لاکرام! یا ارحم الراحمین! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل  سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہ! خادم حرمین شریفین  کو تیری مرضی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری مرضی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کیلیے مختص فرما ، یا رب العالمین!  یا اللہ! ان کی ہر اچھے کام کیلیے مدد فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں صحت و عافیت سے نواز، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔یا اللہ! ان کے دونوں نائبوں کو تیری مرضی اور تیری رہنمائی کے مطابق ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو۔
یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ بنا، ہماری سر زمین کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں صحیح سمت میں گامزن فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! مسلمانوں میں الفت ڈال دے، یا اللہ! فتنوں کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! مسلم خطوں میں بپا فتنوں کا خاتمہ فرما دے۔
یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی شام میں مدد فرما،  یا اللہ! ظالموں کے خلاف ان کی مدد فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ ، عذاب اور غضب نازل فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! شام میں مسلمانوں پر ظلم کرنے والے لوگوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، اسی طرح پوری دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر ان کے دین کی وجہ سے ظلم ڈھانے والوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تجھ سے اور تیرے نبی ﷺ سے عدوات رکھنے والے بدعتی لوگوں کی اجتماعیت توڑ دے، یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! یمن کے فتنے کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! یمن کے فتنے کا خاتمہ ایسے فرما  کہ جس میں اسلام کی بالا دستی ہو،  یا اللہ! یمن کے فتنے کا خاتمہ ایسے فرما دے جس میں مسلمانوں کیلیے عافیت ہو۔
یا اللہ! بے لباس مسلمانوں کو لباس مہیا فرما، دہشت زدہ مسلمانوں کو امن عطا فرما، بے گھر افراد کو رہنے کیلیے جگہ مہیا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! تمام مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! تمام مسلمان اور مومن مرد و خواتین کے معاملات سنوار دے۔
اللہ کے بندو!
}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]
اور نماز قائم کرو، بیشک نماز مومنوں کے ذمہ وقت مقررہ پر فرض ہے۔
درود و سلام ہوں ہمارے نبی محمد -ﷺ- ، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔