ہفتہ، 5 اکتوبر، 2019

عوام کی حاکمیت جمہوریت ایک جائزہ



استفادہ تحریر: اسلام اور جدید سیاسی نظریات.  از مفتی تقی عثمانی
 آج کا سب سے زیادہ فیشن ایبل سیاسی نظریہ سیکولر جمہوریت ہے، اس وقت دنیا میں یہ کہا اور سمجھا جارہا ہے کہ دنیا کے مختلف نظاموں کے تجربات کرنے کے بعد آخر میں میں سیکولر جمہوریت ہی سب سے بہتر نظام حکومت ہے۔ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب اس سے بہتر نظام حکومت وجود میں نہیں آسکتا۔ ابھی حال ہی میں امریکہ کی وزارت خارجہ کے ایک بڑے افسر کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام “The End of the History and the Last Man” ’’تاریخ کا خاتمہ اور آخری آدمی‘‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ میں جو ارتقاء ہوتا رہا ہے اس کے بعد اب تاریخ اپنی انتہا پر جا پہنچی ہے۔ سیکولر جمہوریت دریافت کرنے کے بعد لبرل جمہوریت تیار کرنے کے بعد اب کوئی اچھا نظام وجود میں نہیں آسکتا۔ یہ باقائدہ اسی طرح کی پیش گوئی ہے جیسے کسی زمانے میں کارل مارکس کہا کرتا تھا کہ اشتراکی نظام ہی دنیا کا آخری نظام ہے اور اس کے بعد کوئی اور بہتر نظام وجود میں نہیں آئے گا۔ اسی طرح سیکولر جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں بھی یہ بات کہی جارہی ہے۔ بالخصوص روس کی سوویت یونے کے سقوط کے بعد یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ سیاست میں سیکولر جمہوریت اور معیشت میں سرمایہ دارانہ نظام کو عملا ایسی فتح حاصل ہوگئی ہے کہ اب کوئی دوسرا نظام اس کی ہم سری نہیں کرسکتا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ نظام جس کو جمہوریت کہا جاتا ہے یہ کس قدر پختہ او رمعقول نظام ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کے تحت ایسے اصول دنیا میں پھیلے جنہوں نے بحیثیت مجموعی فرد کی آزادی کو فائدہ پہنچایا اس سے پہلے مطلق العنان حکومتیں اور بادشاہتیں تھیں یا ڈکٹیٹر شپ تھی، ان میں جو جبر تشدد ہوتا تھا یا فرد پر جونارواپابندیاں عائد ہوتی تھیں، اس نظام میں ان کا بڑی حد تک خاتمہ ہوا اور یہ بھی درست ہے کہ لوگوں ک یاظہار رائے پر جو قدغن تھی وہ جمہوریت نے دور کی اور مطلق االعنان بادشاہوں میں جو گھٹن کی فضا پائی جاتی تھی اس کو جمہوریت نے بڑی حد تک رفع کیا، لیکن اگر اس کے بنیادی تصور کے لحاظ سے دیکھئے تو یہ نظام در حقیقت کسی سنجیدہ فکر پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں کے ان نظاموں کا رد عمل ہے جو خود ساختہ تصورات کے تحت لوگوں پر جابرانہ حکومت کررہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ یورپ کی تاریخ کے بیشتر حصے میں مطلق العنان بادشاہتیں رہیں، اگر کہیں مذہب کا درمیان میں ذکر آیا یا مذہب کو بنیاد بنایا گیا بھی تو تھیوکریسی کی ان خرابیوں کے ساتھ سلطنت روما کی تھیوکریسی میں درحقیقت کوئی روحانی بنیاد موجود نہیں تھی محض پوپ کے ذاتی تصورات کو معصوم قرار دے کر ان کو مذہبی حکمت کے طور پر نفاذ کیا جاتا تھا اور اس سے لوگوں کے حقوق پا مال ہوتے تھے۔ اس کا رد عمل ے ہوا کہ جمہوریت والوں نے مذہب کا جوا بالکل اتا رپھینکا، اور تصور یہ قائم ہوا کہ حاکمیت اعلیٰ خود عوام کو حاصل ہے۔
جمہوریت در اصل انگریزی لفظ ڈیموکریسی (Democracy) کا ترجمہ ہے۔ جس کے معنی ہیں عوام کی حاکمیت۔ اس طرح نظریہ یہ وجود میں آیا کہ عوام خود حاکم ہیں۔ پھر عوام کے خود حاکم ہونے کے تصور کوسیکولرازم کے ساتھ وابستہ کرنا پڑا جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاست کے معاملات میں کسی دین اور مذہب کی پابندی نہیں ہے۔ مذہب انسانوں کا ذاتی معاملہ ہے جو ان کی انفرادی زندگی سے متعلق ہے، لیکن سرکار کے معاملات سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ کیونکہ عوام جب خود حاکم ہیں، اور کسی دوسری اتھارٹی کے پابند نہیں ہیں تو اس کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ وہ حکومت کے معاملات میں کسی الٰہی قانون کے بھی پابند نہیں بلکہ وہ خود فیصلہ کریں گے کہ کیا چیز اچھی اور کیا چیز بُری ہے؟ لہٰذا آزاد جمہوریت یا لبرل ڈیموکریسی سیکولرازم کے بغیر نہیں چل سکتی۔ حاکمیت کے معنی خود علم سیاست کے ماہرین یہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کا کسی دوسرے کا پابند ہوئے بغیر خود اپنی مرضی سے حاکمانہ اختیارات استعمال کرنا یا دوسرے پر احکام جاری کرنا۔ خود علم سیاست کی رو سے یہ حاکمیت کے معنی قرار دیتے جاتے ہیں۔ لہٰذا جب یہ کہا جائے کہ عوام حاکم ہیں تو اسکے معنی یہ ہیں کہ وہ کسی دوسری اتھارٹی کے پابند نہیں ہیں حالانکہ عوام کی اکثریت اپنے بنائے ہوئے نمائندوں کی اتھارٹی کے پابند ہوتے ہیں، پھر وہ حاکمیت کہاں رہی؟ دوسرے عوام کو بے مہار طریقے پر حاکم ماننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوا کہ اس جمہوری حکومت کا مقصد کیا ہے؟ یہ کس مقصد کے تحت وجود میں لائی جائیگی؟
اس سوال پر علم سیاست کے ماہرین نے گفتگو کی ہے کہ جمہوریت کا کیا مقصد ہے؟ جب کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آیا تو کسی نے عاجز آکر کہا کہ حکومت بذات خود مقصد ہے۔ یہ ایک تھیوری ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اس حکومت کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوشی فراہم کرنا ہے، اور عوام جو کچھ بھی احکام جاری کریں گے خوشی فراہم کرنے کیلئے کریں گے۔ لیکن خوشی تو ایک اضافی چیز ہے، ایک شخص کو ایک کام میں خوشی ہوتی ہے اور دوسرے شخص کو دوسرے کام میں خوشی ہوتی ہے، اب کون سی خوشی کو مقدم رکھا جائے؟ اس کا کوئی اطمینان بخش خواب سوائے اس کے نہیں ہے کہ جس کام میں اکثریت کو خوشی حاصل ہو وہی خوشی برحق ہے لیکن سارے عوام کو تو خوشی حاصل نہ ہوئی، اس کے علاوہ اگر عوام کی اکثریت کو کسی بداخلاقی میں خوشی حاصل ہوجائے تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس بد اخلاقی کا رواج بھی جمہوریت کے مقاصد میں شامل ہوگیا۔آخری تھیوری جو سب سے زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جمہوری حکومت کا مقصد ہے عوام کے حقوق کا تحفظ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کے جن حقوق کا تحفظ مقصود ہے وہ حقوق کون متعین کرے گا؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ بھی خود عوام ہی کرینگے۔ لیکن عوام کا حال یہ ہے کہ وہ آج ایک چیز کو حق قرار دیتے ہیں اور کل اس کے حق ہونے سے منکر ہوجاتے ہیں اس لئے حقوق کا کوئی مطلق یا دائمی تصور موجود نہیں ہے بلکہ حقوق سارے کے سارے اضافی ہیں۔بہرحال! جمہوریت مبینہ مقاصد میں کہیں بھی آپ یہ نہیں پائیں گے کہ خیر کو پھیلایا جائے گا اور شرکو روکا جائے گا اچھائی کو فروغ دیا جائے گا اور برائی کو روکا جائے گا یہ اس لئے نہیں کہتے کہ اول تو اچھائی اور بُرائی کا کوئی اَبدی دائمی معیار ان کے پاس نہیں ہے کہ فلاں چیز اچھی اور فلاں چیز بُری ہے۔ بلکہ اب تازہ ترین فلسفہ یہ ہے کہ خیر اور شر کوئی چیز نہیں ہے دنیا میں ساری چیزی اضافی ہیں، ایک زمانے میں ایک چیز خیر ہے اور دوسرے زمانے میں وہ شر ہے ایک زمانے میں ایک چیز شر ہے اور دوسرے زمانے میں وہ خیر ہے، اور ایک ملک میں خیر ہے دوسرے ملک میں شر ہے ایک ماحول میں خیر ہے اور دوسرے ماحول میں شر ہے یہ اضافی چیزیں ہیں ان کا کوئی اپنا حقیقی وجود نہیں ہے بلکہ خیر و شر کے پیمانے ماحول کے زیر اثر متعین ہوتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ جب سیکولر جمہوریت کا رواج ہوا ہے اسی وقت سے مغرب میں اخلاقی بے راہ روی جنسی بے راہ روی کا طوفان اٹھا ہے کیونکہ جمہوریت نہ کسی اخلاقی قدر کی یا پابند ہے نہ کسی آسمانی ہدایت سے فیض یاب ہے، بلکہ عوام کی اپنی مرضی اور خواہش پرسارا دارومدار ہے ۔
جمہوریت میں خیر و شر کا تعین :
حال ہی میں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے جنس پرستی کو سندِ جواز دی، اور اس کے جواز کا قانون تالیوں کی گونج میں منظور کیا اور اس کے بعد یورپ کے بعض ممالک میں ہم جنس شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا جارہا ہے، جس وقت برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہوا تو سب لوگ تو اسکے حامی نہیں تھے اختلاف رائے موجود تھا، اس اختلاف رائے کو دور کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی اس کمیٹی کو “Wolfendern Committee” کہا جاتا ہے۔ وہ کمیٹی اس لئے بنائی گئی تھی کہ وہ اس معاملے میں رائے عامہ کااندازہ لگائے اور جو مفکرین اور دانشور ہیں، ان سے تبادلہ خیال کرے اور بالآخر یہ رپورٹ پیش کرے کہ ایوان رائے عامہ کا جائزہ لینے کے بعد اور تمام متعلقہ حلقوں سے گفتگو کرنے کے بعد کس نتیجے پر پہنچے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ بڑی عبرت ناک ہے۔ اس رپورٹ میں کمیٹی نے جو باتیں کہی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جنس پرستی ایک بُرائی ہے لیکن ہماری دشواری یہ ہے کہ ہم نے اپنے پروگرام کو اچھائی یا بُرائی پر تعمیر نہیں کیا ہے بلکہ اس بنیاد پر تعمیر کیا ہے کہ افراد اپنے لئے قانون طے کرنے کے لئے آزاد ہیں اور جب ہم نے یہ اصول تسلیم کرلیا تو قانون کا دائرہ کار اخلاق کے دائرہ کار سے بالکل الگ ہوگیا ہے قانون اور چیز ہے اور اخلاق اور چیز ہے اخلاق انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور قانون رائے عامہ کا مظہر ہے۔
لہٰذا جب تک معاشرے میں کوئی ایسی کوشش نہیں کی جو بد اخلاقی یا گناہ کو جرم کے مساوی قرار دے دے، تو اخلاق اور قانون کا دائرہ کار الگ رہے گا اور یہ قانو ن کاکام نہیں ہے کہ وہ خیر اور شر کا فیصلہ کرے کہ کون سی چیز اچھی ہے اور کون سی چیز بُری ہے لہٰذا ہم اس قانون کی حمایت میں رائے دینے پر مجور ہیں جب رائے عامہ اس کے جواز کی طرف جاری ہے تو ہم اس پر یہ رائے دیں گے کہ یہ قانون بنادیا جائے۔ چنانچہ اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر برطانیہ کے دارالعوام نے یہ فیصلہ کردیا کہ ہم جنس پرستی قانوناً جائز ہے اور جب برطانیہ پر یہ قانو ن بنایا تو امریکہ نے بھی بنایا اور اب یورپ ار امریکہ میں ان کی باقاعدہ جماعتیں قائم ہیں جن کو ہم جن پرست کہتے ہیں برسرعام یہ لوگ اپنے آپ کو Gay کہتے ہیں اس کے لفظی معنی ہیں مگن، یعنی خوشی میں مگن، ان کی جماعتیں ہیں اور ان کی تنظیمیں ہیں جن کے ذریعے وہ اس نقطہ نظر کا پرچار کرتے ہیں، نہ صرف پرچار کرتے ہیں مرد gay کہلاتے ہیں او رعورتیں Lesbian کہلاتی ہیں۔
ایک اور تنظیم چلی ہے جو Swap Union کہلاتی ہے، اس کے معینی تبادلہ ہے اور اس سے مراد بیویوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور اس کے کلب قائم ہیں، چونکہ ابھی تک یہ قانون نافذ ہے کہ غیر شادی شدہ عورت کو اجازت ہے کہ وہ جوچاہے کرے لیکن ایک شادی شدہ عورت کسی دوسرے مرد کے ساتھ زنا نہیں کرسکتی کیونکہ اس سے شوہر کا حق پامال ہوتا ہے لیکن Swap union کی تنظیم کی طرف سے اب یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ پابندی ختم ہونی چاہئے اب شادی شدہ عورت کو بھی اجازت ملنی چاہئے کہ وہ جو چاہے کرے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت یورپ اور امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں لوگوں کی اکثریت یا کم از کم بہت بڑی تعداد غیر ثابت النسب ہے، بعض ریاستوں کے اعداد وشمار شائع ہوچکے ہیں، اور بعض کے نہیں ہوئے ہیں، ابھی کچھ عرصے قبل “Time” رسالے میں ایک مضمون آیا تھا کہ امریکہ میں غیر ثابت النسب افراد کی تعدا بڑھتی جارہی ہے افسوس اس بات کا نہیں تھا کہ یہ کیسی قوم پیدا ہورہی ہے جو ثابت النسب نہیں ہے اس بات پر اخلاقی اعتبار سے کوئی تشویش نہیں تھی، تشویش صرف یہ تھی کہ جو بچے غیر ثابت النسب ہوئے ہیں، ان کا معاشی طور پر دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ارو اس سے معاشی مسائل پیدا ہورہے ہیں، معاشی مسائل کی وجہ سے وہ یہ مسئلہ قابل غور تھا، فی نفسہ غیر اخلاقی ہونے کی وجہ نہیں، اور اب عورتوں نے یہ مطالبہ شروع کردیا ہے اور بعض ریاستوں میں منظوری بھی ہوگئی ہے کہ اسقاط حمل کی قانونی اجازت ہونی چاہیے اور اس کے حق میں بہت بڑی قضا بن رہی ہے جس رفتار سے یہ بات چل رہی ہے اس سے اندازہ یہی ہے کہ اسقاط حمل کی اجازت ہوجائیگی،
ایک زمانہ تھا کہ عریانی قانوناً منع تھی۔ لیکن اب رفتہ رفتہ ساری قیدیں ختم ہوگئی ہیں، اب کوئی قید برقرار نہیں ہے اس وقت عریاں فلموں اور تصاویر کا جو سیلاب ہے وہ ہمارے ملک میں بھی آرہا ہے اٹھتا وہاں سے ہے اور پہنچتا یہاں بھی ہے اس کے اوپر کوئی روک عائد نہیں ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی بنیاد نہیں ہے جس کی بناء پر روکا جائے کیونکہ جب عوام کی حاکمیت ٹھہری اور وہ اس کو پسند کرتے ہیں تو اسے ناجائز کہنے کی کویء معقول دلیل نہیں ہے غرض کوئی بد سے بدتر کام ایسا نہیں ہے جو جمہوریت کے سائے میں جائز قرار نہ دیا جارہا ہو اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے یعنی خاندان کے جو رشتے ختم ہوچکے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طور پر ایڈز کی بیماری مسلط کردی ہے یہ بیماری پیدا کیسے ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ بیماری دو چیزوں سے پیدا ہوئی ہے ایک ہم جنس پرستی دوسرے ایک شخص کا کئی عورتوں سے یا ایک عورت کا کئی مردوں سے جنسی تعلق قائم کرنا۔ لیکن بیماری کے نتیجے میں بجائے اس کے کہ فحاشی میں اور اضافہ ہوگیا اس لئے کہ ایڈز کی بیماری کو روکنے کے لئے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ناجائز جنسی تعلق قائم نہ کرو، لہٰذا یہ کہتے ہیں کہ ان حفاظتی تدابیر کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرو اور ان تدابیر کے لئے باقاعدہ تعلیمی کورس منعقد ہوتے ہیں، ٹیلی ویژن پر عملی تربیت دی جاتی ہے اور کوئی تعلیم گاہ ایسی نہیں ہے جس میں جنسی تعلیم کا انتظام نہ کیا گیا ہو، بات کہتے ہوئے بھی ایک حجاب معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت حال بتانے کے لئے عرض کردیتا ہوں کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جہاں غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیاں پڑھتے ہیں وہاں ایڈز کی روک تھام کے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے غسل خانے میں وہ خود کار مشینیں لگائی ہوئی ہیں جن کے اندر پیسے ڈال کر کنڈوم نکل آتا ہے تاکہ بوقت ضرورت ہر آدمی وہ کنڈوم استعمال کرسکے، اس طرح جو بیماری درحقیقت اس جنسی بے راہروی سے پیدا ہوئی تھی اس کی روک تھام کی جو تدابیر اختیار کی گئیں ان سے جنسی بے راہ روی کو اور فروغ ملا، غرض کوئی اخلاقی قدر سالم نہیں رہی اور کمال کی بات یہ ہے کہ جو انتہائی حیرت ناک اور عبرت ناک بھی ہے کہ جس معاشرے میں زنا ارو بدکاری اتنی سستی ارو آسان ہے ، کسی بھی عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، برسر عام طوائفوں کا سلسلہ بے روک ٹوک جاری ہے، بعض ملکوں میں قانوناً عصمت فروشی کی اجازت ہے، عصمت فروشی کی باقاعدہ کمپنیاں بنی ہوئی ہیں اس کے باوجود امریکہ میں زنا بالجبر کے جتنے واقعات ہوتے ہیں، دنیا میں کہیں نہیں ہوتے، جہاں رضا مندی کے ساتھ یہ عمل کرنا اتنا آسن ہے، وہاں زنا بالجبر کی شرح تمام دنیا سے زیادہ ہے، تعداد ازواج منع ہے، جسے ایک گالی بنادیا گیا ہے۔ ایک سے زیادہ شادی کرلیں تو قید ہوجائیں، اور دس فحاش عورتوں کے ساتھ تعلق قائم کرلیں تو اجازت ہے، اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ سارا نتیجہ عوام کی بے لگام حاکمیت کے اس تصور کا ہے جو سیکولر جمہوریت نے پیدا کیا ہے۔
عوام کی حاکمیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ درحقیقت یہ لفظ بھی ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ اس لفظ کے ذریعے عوام کو خوش کردیا گیا ہے کہ تم حاکم بن گئے لیکن حقیقت میں ہوتا یہ ہے کہ حکومت میں عوام کی شرکت محض ایک تخیلاتی اور تصوراتی حیثیت رکھتی ہے، عملاً اکثر جگہوں پر عوام کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ حکومت کیا کررہی ہے؟ اس لئے جو لوگ جمہوریت کے حامی ہیں، وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جمہوریت کی کامیابی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب عوام میں تعلیم کا معیار بلندہو، ان میں سیاسی شعور ہو، اور وہ اپنے لئے بہترحکمرانوں اور بہتر نظام کا انتخاب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، لیکن اگر تعلیم کا معیار گرا ہوا ہے تواس وقت عوام کی حکومت میں شرکت حقیقت میں نہیں ہوتی بلکہ لیڈران کو گمراہ کرتے ہیں جو نعرہ لیڈروں نے لگادیا اس پر چل پڑے، لہٰذا جن ملکوں میں تعلیم کا معیار بلند ہے، وہاں پر جمہوریت نسبتاً زیادہ مستحکم ہے اور جن ملکوں میں تعلیم کا معیار گرا ہوا ہے وہاں جمہوریت ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے مثلاً ہمارے ملک میں پارلیمانی نظام رائج ہے اور پارلیمانی نظام کا اصل تصور یہ ہے کہ پہلے منشور کی بنیاد پر پارٹیاں بنیں، ان پارٹیوں کے منشور کی بنیاد پر لوگ ان کو ووٹ دیں اور ووٹ دینے کے نتیجے میں جو پارٹی اکثریت میں آجائے وہ حکومت بنائے، اب ہمارے ہاں خواندگی کی شرح تو بمشکل 22 فیصد ہے اور آبادی کے اضافے کی وجہ سے بڑھنے کے بجائے گھٹ رہی ہے زیادہ تر آبادی دیہاتی اور ان پڑھ ہے، ان اُن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ پہلے وہ سیاسی جماعتوں کے منشوروں کا تقابلی مطالعہ کریں کہ پیپلز پارٹی کا منشور کیا اور مسلم لیگ کا منشور کیا ہے؟ اور ان منشوروں کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کریں کہ ہمارے ملک کے حالات میں کونسا منشور زیادہ بہتر ہے؟ اور اس فیصلے کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کو یا مسلم لیگ کو ووٹ دیں، ظاہر ہے کہ ناخواندہ عوام سے یہ مطالبہ کرنا حماقت ہی کہلا سکتا ہے۔ لہٰذا عملاً اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ لیڈ رایک نعرہ دے گا جس میں ہزار فریب ہونگے اور اس نعرے کی بنیاد پر عوام کے جذبات کو بھڑکا کر ان کا ووٹ اپنے حق میں استعمال کرے گا۔
پھر اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو صحیح معنی میں سیاسی ذوق رکھتے ہوں اور اس سیاسی ذوق کے مطابق دیکھ بھال کر سوچ سمجھ کر فیصلے کرتے ہوں۔ چنانچہ جہاں جہاں انتخابات ہوتے ہیں ان میں اگر اوسط نکالا جائے تو 45 فیصد سے زیادہ لوگ ووٹ نہیں ڈالتے۔
اب آپ دیکھئے کہ اس معاشرے میں جہاں تعلیم کا اوسط 100 فیصد کے قریب ہے، وہاں سیاسی دلچسپی کا یہ حال ہے لہٰذا حقیقی معنی میں عوام یا ان کی اکثریت کے حکومت میں شریک ہونے کا دعویٰ ایک تخیلاتی دعویٰ ہے جس کاعمل میں کوئی وجود نہیں ہے۔ پھر لٹریسی ریٹ کا ہائی ہونا بھی اس بات کی گارنٹی نہیں کہ ملک و قوم کے لیے ایک بہتر شخصیت کا انتخاب ہوگا امریکہ میں ٹرمپ کے صدر بننے کی مثال سب کے سامنے ہے . واللہ اعلم

منگل، 24 ستمبر، 2019

جنگِ خندق


اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی سِلامٌ عَلیٰٓ عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اسْطَفی

۵ھ؁ کی تمام لڑائیوں میں یہ جنگ سب سے زیادہ مشہور اور فیصلہ کن جنگ ہے چونکہ دشمنوں سے حفاظت کے لئے شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی اس لئے یہ لڑائی ”جنگ خندق” کہلاتی ہے اور چونکہ تمام کفار عرب نے متحد ہو کر اسلام کے خلاف یہ جنگ کی تھی اس لئے اس لڑائی کا دوسرا نام ”جنگ احزاب”(تمام جماعتوں کی متحدہ جنگ)ہے،قرآن مجید میں اس لڑائی کا تذکرہ اسی نام کے ساتھ آیا ہے۔
جنگ خندق کا سبب
میثاق مدینہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے”قبیلہ بنو نضیر” کے یہودی جب مدینہ سے نکال دئیے گئے تو ان میں سے یہودیوں کے چند رؤسا ”خیبر” میں جا کر آباد ہو گئے اور خیبر کے یہودیوں نے ان لوگوں کا اتنا اعزاز و اکرام کیا کہ سلام بن مشکم وابن ابی الحقیق وحیی بن اخطب و کنانہ بن الربیع کو اپنا سردار مان لیایہ لوگ چونکہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے اور انتقام کی آگ ان کے سینوں میں دہک رہی تھی اس لئے ان لوگوں نے مدینہ پر ایک زبردست حملہ کی اسکیم بنائی،چنانچہ یہ تینوں اس مقصد کے پیش نظر مکہ گئے اور کفار قریش سے مل کر یہ کہا کہ اگر تم لوگ ہمارا ساتھ دو تو ہم لوگ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر سکتے ہیں کفار قریش تو اس کے بھوکے ہی تھے فوراً ہی ان لوگوں نے یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی کفار قریش سے ساز باز کر لینے کے بعد ان تینوں یہودیوں نے ”قبیلہ بنو غطفان” کا رُخ کیااور خیبر کی آدھی آمدنی دینے کا لالچ دے کر ان لوگوں کو بھی مسلمانوں کےخلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر لیاپھر بنو غطفان نے اپنے حلیف ”بنو اسد” کو بھی جنگ کے لئے تیار کر لیاادھریہودیوں نے اپنے حلیف ”قبیلہ بنو اسعد” کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا اور کفار قریش نے اپنی رشتہ داریوں کی بنا پر ”قبیلہ بنو سلیم” کو بھی اپنے ساتھ ملا لیاغرض اس طرح تمام قبائل عرب کے کفار نے مل جل کر ایک لشکر جرار تیار کر لیا جس کی تعداد دس ہزار تھی اور ابوسفیان اس پورے لشکر کا سپہ سالار بن گیا۔(زُرقانی ج
۲ ص۱۰۴ تا ۱۰۵)
مسلمانوں کی تیاری
جب قبائل عرب کے تمام کافروں کے اس گٹھ جوڑ اور خوفناک حملہ کی خبریں مدینہ پہنچیں تو حضورِ اقدسﷺنے اپنے اصحاب کو جمع فرما کر مشورہ فرمایا کہ اس حملہ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے؟ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ رائے دی کہ جنگ ِ اُحد کی طرح شہر سے باہر نکل کر اتنی بڑی فوج کے حملہ کو میدانی لڑائی میں روکنا مصلحت کے خلاف ہے لہٰذا مناسب یہ ہے کہ شہر کے اندر رہ کر اس حملہ کا دفاع کیا جائے اور شہر کے گرد جس طرف سے کفار کی چڑھائی کا خطرہ ہے ایک خندق کھود لی جائے تاکہ کفار کی پوری فوج بیک وقت حملہ آور نہ ہو سکے،مدینہ کے تین طرف چونکہ مکانات کی تنگ گلیاں اور کھجوروں کے جھنڈ تھے اس لئے ان تینوں جانب سے حملہ کا امکان نہیں تھا مدینہ کا صرف ایک رُخ کھلا ہوا تھا اس لئے یہ طے کیا گیا کہ اسی طرف پانچ گز گہری خندق کھودی جائے،چنانچہ
۸ ذوقعدہ ۵ھ؁ کو حضور ﷺ تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے،حضور ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے خندق کی حد بندی فرمائی اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم فرما دی اور تقریباً بیس دن میں یہ خندق تیار ہوگئی۔ (مدارج النبوۃ ج۲ ص۱۶۸ تا ۱۷۰)
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ خندق کے پاس تشریف لائے اور جب یہ دیکھا کہ انصار ومہاجرین کڑکڑاتے ہوئے جاڑے کے موسم میں صبح کے وقت کئی کئی فاقوں کے باوجود جوش و خروش کے ساتھ خندق کھودنے میں مشغول ہیں تو انتہائی متأثرہو کر آپ نے یہ رجز پڑھنا شروع کر دیا کہ  ؎     اَ
للّٰھُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَۃ  *******    فَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃ
اے اﷲ!عزوجل بلا شبہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے لہٰذا تو انصار و مہاجرین کو بخش دے۔
اس کے جواب میں انصار و مہاجرین نے آواز ملا کر یہ پڑھنا شروع کر دیا کہ  ؎   
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد پر حضرت محمد ﷺ کی بیعت کر لی ہے جب تک ہم زندہ رہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ (بخاری غزوۂ خندق ج۲ ص۵۸۸)
حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ خودبھی خندق کھودتے اور مٹی اُٹھا اُٹھا کر پھینکتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے شکم مبارک پر غبار کی تہ جم گئی تھی اور مٹی اٹھاتے ہوئے صحابہ کو جوش دلانے کے لئے رجز کے یہ اشعار پڑھتے تھے کہ  ؎
وَاللہِ لَوْلَا اللہُ مَا اھْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا  ...
خدا کی قسم! اگر اﷲ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔
فَاَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِنْ لَاقَیْنَا
لہٰذا اے اﷲ!عزوجل تو ہم پر قلبی اطمینان اتار دے اور جنگ کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ۔
اِنَّ الْاُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا
یقینا ان (کافروں) نے ہم پر ظلم کیا ہے اور جب بھی ان لوگوں نے فتنہ کا ارادہ کیاتو ہم لوگوں نے انکار کر دیا۔
لفظ ”اَبَیْنَا” حضور ﷺ بار بار بہ تکرار بلند آواز سے دہراتے تھے۔
ایک عجیب چٹان
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ خندق کھودتے وقت ناگہاں ایک ایسی چٹان نمودار ہو گئی جو کسی سے بھی نہیں ٹوٹی جب ہم نے بارگاہ رسالت میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ ﷺ اٹھے تین دن کا فاقہ تھا اور شکم مبارک پر پتھر بندھاہوا تھاآپ نے اپنے دست مبارک سے پھاوڑا مارا تو وہ چٹان ریت کے بھربھرے ٹیلے کی طرح بکھر گئی۔ (بخاری جلد
۲ ص۵۸۸ خندق)
اور ایک روایت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس چٹان پر تین مرتبہ پھاوڑا ماراہر ضرب پر اس میں سے ایک روشنی نکلتی تھی اور اس روشنی میں آپ نے شام و ایران اور یمن کے شہروں کو دیکھ لیااور ان تینوں ملکوں کے فتح ہونے کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بشارت دی۔(زُرقانی جلد
۲ ص۱۰۹ و مدارج ج۲ ص۱۶۹)
اور نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مدائن کسریٰ و مدائن قیصر و مدائن حبشہ کی فتوحات کا اعلان فرمایا۔(نسائی ج
۲ ص۶۳)
حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ فاقوں سے شکم اقدس پر پتھر بندھا ہوا دیکھ کر میرا دل بھر آیاچنانچہ میں حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے گھر آیا اور بیوی سے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس قدر شدید بھوک کی حالت میں دیکھا ہے کہ مجھ کو صبر کی تاب نہیں رہی کیا گھر میں کچھ کھانا ہے؟ بیوی نے کہا کہ گھر میں ایک صاع جو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے،میں نے کہا کہ تم جلدی سے اس جو کو پیس کر گوندھ لواور اپنے گھر کا پلا ہوا ایک بکری کا بچہ میں نے ذبح کرکے اس کی بوٹیاں بنا دیں اور بیوی سے کہا کہ جلدی سے تم گوشت روٹی تیار کر لومیں حضور ﷺ کو بلا کرلاتا ہوں،چلتے وقت بیوی نے کہا کہ دیکھنا صرف حضور ﷺ اور چند ہی اصحاب کو ساتھ میں لاناکھانا کم ہی ہے کہیں مجھے رسوا مت کر دینا۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خندق پر آ کر چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!ﷺ ایک صاع آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچے کا گوشت میں نے گھر میں تیار کرایا ہے لہٰذا آپ ﷺصرف چند اشخاص کے ساتھ چل کر تناول فرما لیں،یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے خندق والو!جابر نے دعوت عام دی ہے لہٰذا سب لوگ ان کے گھر پر چل کر کھانا کھا لیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آجاؤں روٹی مت پکوانا،چنانچہ جب حضور ﷺ تشریف لائے تو گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعا فرمائی اور گوشت کی ہانڈی میں بھی اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ پھر روٹی پکانے کا حکم دیااور یہ فرمایا کہ ہانڈی چولھے سے نہ اتاری جائے پھر روٹی پکنی شروع ہوئی اور ہانڈی میں سے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے گوشت نکال نکال کر دینا شروع کیاایک ہزار آدمیوں نے آسودہ ہو کر کھانا کھا لیامگر گوندھا ہوا آٹا جتنا پہلے تھا اتنا ہی رہ گیا اور ہانڈی چولھے پر بدستور جوش مارتی رہی۔(بخاری ج
۲ ص۵۸۹ غزوہ خندق)
بابرکت کھجوریں
اسی طرح ایک لڑکی اپنے ہاتھ میں کچھ کھجوریں لے کر آئی،حضور ﷺ نے پوچھا کہ کیا ہے؟ لڑکی نے جواب دیا کہ کچھ کھجوریں ہیں جو میری ماں نے میرے باپ کے ناشتہ کے لئے بھیجی ہیں،آپ ﷺ نے ان کھجوروں کواپنے دست مبارک میں لے کر ایک کپڑے پر بکھیر دیا اور تمام اہل خندق کو بلا کر فرمایا کہ خوب سیر ہو کر کھاؤچنانچہ تمام خندق والوں نے شکم سیر ہو کر ان کھجوروں کو کھایا۔
(مدارج جلد
۲ ص۱۶۹)
یہ دونوں واقعات حضور سرور کائنات ﷺ کے معجزات میں سے ہیں۔
اسلامی افواج کی مورچہ بندی
حضورِ اقدس ﷺ نے خندق تیار ہو جانے کے بعد عورتوں اور بچوں کو مدینہ کے محفوظ قلعہ میں جمع فرما دیا اور مدینہ پر حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا کر تین ہزار انصار و مہاجرین کی فوج کے ساتھ مدینہ سے نکل کر سَلَع پہاڑ کے دامن میں ٹھہرے سلع آپ کی پشت پر تھااور آپ کے سامنے خندق تھی۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دیااور انصار کا علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بنایا۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۱)
کفار کا حملہ
کفار قریش اور ان کے اتحادیوں نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں پر ہلابول دیا اور تین طرف سے کافروں کا لشکر اس زور شورکے ساتھ مدینہ پر امنڈ پڑا کہ شہر کی فضاؤں میں گردو غبار کا طوفان اٹھ گیااس خوفناک چڑھائی اور لشکر کفار کے دل بادل کی معرکہ آرائی کا نقشہ قرآن کی زبان سے سنیے:
اِذْ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنۡکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوۡبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ زُلْزِلُوۡا زِلْزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱
جب کافر تم پر آ گئے تمہارے اوپر سے ا و ر تمہارے نیچے سے اور جب کہ ٹھٹھک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس(خوف سے)آ گئے اور تم اﷲ پر (امید و یاس سے) طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس جگہ مسلمان آزمائش اور امتحان میں ڈال دئیے گئے اور وہ بڑے زور کے زلزلے میں جھنجھوڑ کر رکھ دئیے گئے۔(احزاب)
منافقین جو مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑے تھے وہ کفار کے اس لشکر کو دیکھتے ہی بزدل ہو کر پھسل گئے اوراس وقت ان کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگنی شروع کر دی۔ جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوْرَۃٌ ؕۛ وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾ )
اور ایک گروہ(منافقین) ان میں سے نبی کی اجازت طلب کرتا تھا منافق کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے نہیں تھے ان کا مقصد بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔(احزاب)
لیکن اسلام کے سچے جاں نثار مہاجرین و انصار نے جب لشکر کفار کی طوفانی یلغار کو دیکھا تو اس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے کہ ”سلع” اور ”احد” کی پہاڑیاں سراٹھا اٹھا کر ان مجاہدین کی اولوالعزمی کو حیرت سے دیکھنے لگیں ان جاں نثاروں کی ایمانی شجاعت کی تصویر صفحات قرآن پر بصورت تحریر دیکھیے ارشاد ربانی ہے کہ
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَمَا زَادَہُمْ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسْلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲
اور جب مسلمانوں نے قبائل کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کا اﷲ اوراسکے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھااور خدا اور اسکا رسول دونوں سچے ہیں اور اس نے ان کے ایمان و اطاعت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔(احزاب)
بنو قریظہ کی غداری
قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی اب تک غیر جانبدار تھے لیکن بنو نضیر کے یہودیوں نے ان کو بھی اپنے ساتھ ملا کر لشکر کفار میں شامل کر لینے کی کوشش شروع کر دی چنانچہ حیی بن اخطب ابو سفیان کے مشورہ سے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا پہلے تو اسنے اپنا دروازہ نہیں کھولا اور کہا کہ ہم محمد (ﷺ) کے حلیف ہیں اور ہم نے ان کو ہمیشہ اپنے عہد کا پابند پایا ہے اس لئے ہم ان سے عہد شکنی کرنا خلاف مروت سمجھتے ہیں مگر بنو نضیر کے یہودیوں نے اس قدر شدید اصرار کیااور طرح طرح سے ورغلایا کہ بالآخر کعب بن اسد معاہدہ توڑنے کے لئے راضی ہو گیا،بنو قریظہ نے جب معاہدہ توڑ دیا اور کفار سے مل گئے تو کفار مکہ اور ابو سفیان خوشی سے باغ باغ ہو گئے۔
حضورِ اقدس ﷺ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے حضرت سعدبن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو تحقیق حال کے لئے بنو قریظہ کے پاس بھیجاوہاں جا کر معلوم ہوا کہ واقعی بنو قریظہ نے معاہدہ توڑ دیا ہے جب ان دونوں معزز صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے بنو قریظہ کو ان کا معاہدہ یاد دلایا تو ان یہودیوں نے انتہائی بے حیائی کے ساتھ یہاں تک کہہ دیا کہ ہم کچھ نہیں جانتے کہ محمد(ﷺ) کون ہیں؟ اور معاہدہ کس کو کہتے ہیں؟ ہمارا کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں تھایہ سن کر دونوں حضرات واپس آ گئے اور صورتحال سے حضور ﷺ کو مطلع کیاتو آپ نے بلند آواز سے ”اﷲ اکبر” کہا اور فرمایا کہ مسلمانو! تم اس سے نہ گھبراؤنہ اس کا غم کرو اس میں تمہارے لئے بشارت ہے۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۳)
کفار کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر ٹھہر گیااور شہر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور تقریباً ایک مہینے تک کفار شہر مدینہ کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے پڑے رہے اور یہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ قائم رہا کہ حضورﷺ اورصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر کئی کئی فاقے گزر گئے۔
کفار نے ایک طرف تو خندق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور دوسری طرف اس لئے حملہ کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی عورتیں اور بچے قلعوں میں پناہ گزیں تھے مگر حضور ﷺ نے جہاں خندق کے مختلف حصوں پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقرر فرما دیا تھا کہ وہ کفار کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہیں اسی طرح عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے بھی کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو متعین کر دیا تھا۔
انصار کی ایمانی شجاعت
محاصرہ کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی دیکھ کر حضورِ اکرم ﷺنے یہ خیال کیا کہ کہیں مہاجرین و انصار ہمت نہ ہار جائیں اس لئے آپ نے ارادہ فرمایا کہ قبیلہ غطفان کے سردار عیینہ بن حصن سے اس شرط پر معاہدہ کر لیں کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار لے لیا کرے اور کفار مکہ کا ساتھ چھوڑ دے مگر جب آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے اپنا یہ خیال ظاہر فرمایاتو ان دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(ﷺ) اگر اس بارے میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی اتر چکی ہے جب تو ہمیں اس سے انکار کی مجال ہی نہیں ہو سکتی اور اگر یہ ایک رائے ہے تو یا رسول اﷲ!(ﷺ) جب ہم کفر کی حالت میں تھے اس وقت تو قبیلہ غطفان کے سرکش کبھی ہماری ایک کھجور نہ لے سکے اور اب جب کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو اسلام اور آپ ﷺ کی غلامی کی عزت سے سرفراز فرما دیا ہے تو بھلا کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنا مال ان کافروں کو دے دیں گے؟ ہم ان کفار کو کھجوروں کا انبار نہیں بلکہ نیزوں اور تلواروں کی مار کا تحفہ دیتے رہیں گے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا،یہ سن کر حضورﷺ خوش ہوگئے اورآپ کوپوراپورااطمینان ہو گیا۔(زرقانی ج
۲ص۱۱۳)
خندق کی و جہ سے دست بدست لڑائی نہیں ہو سکتی تھی اور کفار حیران تھے کہ اس خندق کو کیونکر پار کریں مگر دونوں طرف سے روزانہ برابر تیر اور پتھر چلا کرتے تھے آخر ایک روز عمرو بن عبدودو عکرمہ بن ابو جہل وہبیرہ بن ابی وہب وضرار بن الخطاب وغیرہ کفار کے چند بہادروں نے بنو کنانہ سے کہا کہ اٹھوآج مسلمانوں سے جنگ کرکے بتا دو کہ شہسوار کون ہے؟ چنانچہ یہ سب خندق کے پاس آ گئے اور ایک ایسی جگہ سے جہاں خندق کی چوڑائی کچھ کم تھی گھوڑا کودا کر خندق کو پار کر لیا۔
سب سے آگے عمرو بن عبدود تھایہ اگرچہ نوے برس کا بوڑھا تھا مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھاجنگ ِ بدر میں زخمی ہو کر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہ لے لوں گا بالوں میں تیل نہ ڈالوں گا،یہ آگے بڑھا اور چلا چلا کر مقابلہ کی دعوت دینے لگاتین مرتبہ اس نے کہا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ کو آتا ہے؟ تینوں مرتبہ حضرت علی شیرخداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اُٹھ کر جواب دیا کہ ”میں” حضور ﷺ نے روکاکہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم یہ عمرو بن عبدود ہے۔حضرت علی شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عرض کیا کہ جی ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے لیکن میں اس سے لڑوں گا،یہ سن کر تاجدار نبوت ﷺ نے اپنی خاص تلوار ذوالفقار اپنے دست مبارک سے حیدر کرارکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مقدس ہاتھ میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر انور پر عمامہ باندھااوریہ دعا فرمائی کہ اےاللہ! تو علی کی مدد فرما ۔حضرت اسد اﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دونوں میں اس طرح مکالمہ شروع ہوا:
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اے عمرو بن عبدود! تو مسلمان ہو جا!
عمرو بن عبدود یہ مجھ سے کبھی ہر گز ہر گز نہیں ہو سکتا!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لڑائی سے واپس چلا جا!
عمرو بن عبدود یہ مجھے منظور نہیں!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تو پھر مجھ سے جنگ کر!
عمرو بن عبدود ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا
میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔
عمرو بن عبدود آخر تمہارا نام کیا ہے؟
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ علی بن ابی طالب
عمرو بن عبدود اے بھتیجے!تم ابھی بہت ہی کم عمر ہومیں تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تمہاراخون بہانے کوبے حدپسندکرتا ہوں۔
عمرو بن عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیاحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھااس پر جو غیرت سوار ہوئی توگھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اورحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پر تلوار کا بھرپور وار کیاحضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا،یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگامگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیاحضرت علی شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو! سنبھل جااب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد اﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ذوالفقار کا ایسا جچا تلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گرااور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیا.
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیااور منہ پھیر کر چل دئیے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم آپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا۔(زُرقانی ج
۲ ص۱۱۴و۱۱۵)
اس کے بعد نوفل غصہ میں بپھرا ہوا میدان میں نکلااور پکارنے لگا کہ میرے مقابلہ کے لئے کون آتا ہے؟ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس پر بجلی کی طرح جھپٹے اور ایسی تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور تلوار زین کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی کمر تک پہنچ گئی لوگوں نے کہا کہ اے زبیر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہاری تلوار کی تو مثال نہیں مل سکتی آپ نے فرمایاکہ تلوار کیا چیز ہے؟ کلائی میں دم خم اور ضرب میں کمال چاہیے۔ ہبیرہ اور ضرار بھی بڑے طنطنہ سے آگے بڑھے مگر جب ذوالفقار کا وار دیکھا تو لرزہ برانداہو کر فرار ہو گئے کفار کے باقی شہسوار بھی جو خندق کو پار کرکے آ گئے تھے وہ سب بھی بھاگ کھڑے ہوئے اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تو اس قدر بدحواس ہو گیا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جا کر اس کو قرار آیا۔(زرقانی جلد ۲ )
اس دن کاحملہ بہت ہی سخت تھادن بھرلڑائی جاری رہی اوردونوں طرف سے تیراندازی اورپتھربازی کاسلسلہ برابرجاری رہااورکسی مجاہدکااپنی جگہ سے ہٹنانا ممکن تھا، خالد بن ولید نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں حضور ﷺ کے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو گیامگر حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو ساتھ لے کر دوڑ پڑے اور خالد بن الولید کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے اس لئے کفار خیمہ رسول ﷺ تک نہ پہنچ سکے ۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۷)
ا س گھمسان کی لڑائی میں حضورﷺ کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ
یا رسول اﷲ!ﷺ میں نماز عصر نہیں پڑھ سکا ۔تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے پھر آپ نے وادی بطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی۔ اور کفار کے حق میں یہ دعا مانگی کہ
مَلَاَ اللہُ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا کَمَا شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ (بخاری ج2ص۵۹۰)
اﷲ ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطیٰ سے روک دیایہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔
جنگ خندق کے دن حضور ﷺ نے یہ دعا بھی فرمائی کہ :
اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ (بخاری ج۲ ص۵۹۰)
اے اﷲ!عزوجل اے کتاب نازل فرمانے والے!جلدحساب لینے والے!تو ان کفار کے لشکروں کو شکست دے دے،
اے اﷲ!عزوجل ان کو شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ دے۔
حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطاب ملا
حضور ﷺ نے جنگ خندق کے موقع پر جب کہ کفار مدینہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھاتین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے؟ تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزند ہیں یہ کہا کہ ”میں یا رسول اﷲ!( ﷺ)خبر لاؤں گا۔” حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس جان نثاری سے خوش ہو کر تاجدار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ  لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَّاِنَّ حَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ (بخاری ج۲ ص۵۹۰)
ہرنبی کے لئے حواری(مددگارخاص)ہوتے ہیں اور میرا ”حواری” زبیر ہے۔
اسی طرح حضرت زبیررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوبارگاہ رسالت سے ”حواری” کا خطاب ملاجو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔
حضرت سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید
اس جنگ میں مسلمانوں کا جانی نقصان بہت ہی کم ہوایعنی کل چھ مسلمان شہادت سے سرفرازہوئے مگر انصار کا سب سے بڑا بازو ٹوٹ گیایعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو قبیلہ اوس کے سردار اعظم تھے،اس جنگ میں ایک تیر سے زخمی ہو گئے اور پھر شفا یاب نہ ہو سکے۔
آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے جوش میں بھرے ہوئے نیزہ لے کر لڑنے کے لئے جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا کہ جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام اکحل ہے وہ کٹ گئی جنگ ختم ہونے کے بعد ان کے لئے حضور ﷺ نے مسجد نبوی میں ایک خیمہ گاڑااور ان کا علاج کرنا شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے ان کے زخم کو دو مرتبہ داغا، ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن انہوں نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ
یااﷲ!عزوجل تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے جنگ کرنے کی مجھے اتنی زیادہ تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا،اے اﷲ!عزوجل میرا تویہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہوجب تومجھے تو زندہ رکھ تا کہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جہاد کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو تو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے موت عطا فرما دے۔
آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیااور خون بہ کر مسجد نبوی کے اندر بنی غفار کے خیمہ میں پہنچ گیاان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو! یہ کیسا خون ہے جو تمہارے خیمہ سے بہ کر ہماری طرف آ رہا ہے؟ جب لوگوں نےدیکھا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہ رہا تھااسی زخم میں ان کی وفات ہو گئی۔
حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت سے عرش الٰہی ہل گیا اور ان کے جنازہ میں ستر ہزار ملائکہ حاضر ہوئے اور جب ان کی قبر کھودی گئی تو اس میں مشک کی خوشبو آنے لگی۔ (زرقانی ج
۲ ص۱۴۳)
عین وفات کے وقت حضور انور ﷺ ان کے سرہانے تشریف فرما تھے،انہوں نے آنکھ کھول کر آخری بار جمال نبوت کا نظارہ کیا اور کہا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ۔پھر بہ آواز بلند یہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اﷲ کے رسول ہیں اور آپ نے تبلیغ رسالت کا حق ادا کر دیا۔(مدارج النبوۃ ج
۲ ص۱۸۱)
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بہادری
جنگ خندق میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ جب یہودیوں نے یہ دیکھا کہ ساری مسلمان فوج خندق کی طرف مصروفِ جنگ ہے تو جس قلعہ میں مسلمانوں کی عورتیں اور بچے پناہ گزین تھے یہودیوں نے اچانک اس پر حملہ کر دیااور ایک یہودی دروازہ تک پہنچ گیا،حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس کو دیکھ لیا اور حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم اس یہودی کو قتل کردو،ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو یہاں کا حال و ماحول بتا دے گاحضرت حسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس وقت ہمت نہیں پڑی کہ اس یہودی پر حملہ کریں یہ دیکھ کر خود حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ کر اس یہودی کے سر پر اس زور سے مارا کہ اس کا سر پھٹ گیاپھرخود ہی اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے باہر پھینک دیایہ دیکھ کر حملہ آور یہودیوں کو یقین ہو گیا کہ قلعہ کے اندر بھی کچھ فوج موجود ہے اس ڈر سے انہوں نے پھر اس طرف حملہ کرنے کی جراء ت ہی نہیں کی۔(زرقانی ج
۲ ص۱۱۱)
کفار کیسے بھاگے؟
حضرت نعیم بن مسعود اشجعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قبیلہ غطفان کے بہت ہی معزز سردار تھے اور قریش و یہود دونوں کو ان کی ذات پر پورا پورا اعتماد تھایہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن کفار کو ان کے اسلام کا علم نہ تھاانہوں نے بارگاہ رسالت میں یہ درخواست کی کہ یارسول اﷲ! ﷺ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہود اور قریش دونوں سے ایسی گفتگو کروں کہ دونوں میں پھوٹ پڑ جائے،آپ نے اس کی اجازت دے دی چنانچہ انہوں نے یہود اور قریش سے الگ الگ کچھ اس قسم کی باتیں کیں جس سے واقعی دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔
ابو سفیان شدید سردی کے موسم، طویل محاصرہ،فوج کا راشن ختم ہو جانے سے حیران و پریشان تھاجب اس کو یہ پتا چلا کہ یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو اس کا حوصلہ پست ہو گیا اور وہ بالکل ہی بددل ہو گیاپھر ناگہاں کفار کے لشکر پر قہر قہار و غضب جبار کی ایسی مار پڑی کہ اچانک مشرق کی جانب سے ایسی طوفان خیز آندھی آئی کہ دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ ہو گئیں،خیمے اکھڑ اکھڑ کر اڑ گئے اور کافروں پر ایسی وحشت اور دہشت سوار ہو گئی کہ انہیں راہ فرار اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں رہا،یہی وہ آندھی ہے جس کا ذکر خداوند قدوس نے قرآن میں اس طرح بیان فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوۡدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا ؕ وَ کَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹
اے ایمان والو! خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم پر فوجیں آ پڑیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی۔ اور ایسی فوجیں بھیجیں جو تمہیں نظر نہیں آتی تھیں اور اﷲ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے۔ (احزاب)
ابو سفیان نے اپنی فوج میں اعلان کرا دیا کہ راشن ختم ہو چکا،موسم انتہائی خراب ہے،یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیالہٰذا اب محاصرہ بے کار ہے،یہ کہہ کر کوچ کا نقارہ بجا دینے کا حکم دے دیااور بھاگ نکلا قبیلہ غطفان کا لشکر بھی چل دیابنو قریظہ بھی محاصرہ چھوڑ کر اپنے قلعوں میں چلے گئے اور ان لوگوں کے بھاگ جانے سے مدینہ کا مطلع کفار کے گردو غبار سے صاف ہو گیا اور اس طرح غزوہ خندق میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
اللهم أعز الإسلام والمسلمين وأذل الشرك والمشركين ودمر أعداء الدين وانصر عبادك الموحدين  أمين يا رب العلمين

بدھ، 17 اپریل، 2019

امانت اورخیانت



 ...................................................................

از:مفتی مولانا تنظیم عالم قاسمی

 ...........................................................................................
امانت داری ایمان کا حصہ ہے‘ جو شخص اللہ اورآخرت پر یقین رکھتا ہے وہ کسی کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔ اسے اس بات کا احساس ہو تا ہے کہ اگر میں نے کسی کا حق دبالیا یا اس کی ادائیگی میں کمی اورکو تاہی کی تو میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، وہ یقینا اس کا حساب لے گا اوراس دن جب کہ ہر شخص ایک ایک نیکی کا محتاج ہوگا حق تلفی کے عوض میری نیکیاں دوسروں کو تقسیم کردی جائیں گی، پھر میری مفلسی پر وہاں کو ن رحم کرے گا؟ اس طرح کے تصورات سے اہل ایمان کا دل کانپ اٹھتا ہے اورپھر خیانت یا حق تلفی کر نے سے باز آجاتا ہے؛ لیکن جس کے دل میں ایمان ہی نہ ہو یا ماحول اورحالات نے ایمان کی روشنی سلب کر لی ہو تو خیانت کر نے میں ایسے شخص کو کوئی تردد نہیں ہوتا؛ اسی لیے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت داری کو ایمان کی علامت اورپہچان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
”لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہ“(سنن بیہقی-۱۲۶۹۰)
ترجمہ: ” جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں “۔
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کے متعدد مقامات پر امانت داری کی تاکید فرمائی ہے، ارشاد باری ہے:
فَلْیُؤَدِّ الَّذِیْ اؤْتُمِنَ أَمَانَتَہُ وَلْیَتَّقِ اللّہَ رَبَّہ (بقرة: ۲۸۳)
ترجمہ: ”تو جو امین بنایا گیا ا س کو چاہیے کہ اپنی امانت ادا کرے اورچاہیے کہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرے “۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں امانت داری کو تقویٰ سے جوڑ دیا ہے یعنی جس کو موت کے بعد کی زندگی حساب وکتاب اورعدالت الٰہی پر یقین ہو جس کے دل میں خوف خدا اوراس کی گرفت کا احساس ہو ا سے چاہیے کہ امانت میں خیانت نہ کرے جس کا جو حق ہے پورا پورا ادا کردے؛ اس لیے کہ اس دنیا میں خیانت کر نے والا قیامت کے دن چین وسکون سے نہیں رہ سکتا، وہاں ایک ایک کا حق ادا کر نا ہوگا اوربڑی دشواریوں کا سامنا ہوگا؛ لیکن جس کو آخرت پر یقین نہیں وہ جوچاہے کرے دنیا میں چند روزہ زندگی کے بعد آخراپنے کیے ہوئے پر افسوس ہوگا اوربڑے خسارے میں ہوگا۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ زمانہ قیامت سے جیسے جیسے قریب ہوگا ایمانی قوت کم ہوتی چلی جائے گی اس کے نتیجے میں امانت داری بھی اٹھ جائے گی اورحال یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی بڑی بڑی آبادی ہوگی مگر امانت داری پوری آبادی میں ایک آدھ بڑی مشکل سے دستیاب ہوگا اوروہ بھی حقیقت میں امین نہ ہوگا۔ لو گ مثال کے طور پر کہیں گے کہ فلاں قوم میں ایک امانت دار شخص ہے ، آدمی کی تعریف ہوگی کہ کیسا عقلمند ، کیسا خوش مزاج اورکیسا بہادر ہے ؛ حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان داری نہ ہوگی ۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الفتن)
امانت داری کی اس قدر اہمیت کے باوجود آج کے معاشرہ میں اسے کوئی وزن نہیں دیا جاتا ، اچھے اچھے لوگ بھی جو عرف میں دین دار سمجھے جاتے ہیں وہ بھی امانت اور حق کی ادائیگی کا پاس ولحاظ نہیں رکھتے ، انھیں اس بات کا احساس نہیں ہوتاکہ امانت کی حفاظت اور اس کا مکمل طور پر اداکرنا دینی وشرعی فریضہ ہے، بعض لوگوں میں امانت داری کا جذبہ ہو تابھی ہے تو وہ صرف مال کی حدتک محدود رہتا ہے کہ اگرکسی شخص کے پاس کسی کا مال رکھا ہو تو وہ اسے ادا کردیتا ہے، عام طور پر لوگوں کا ذہن اسی مالی امانت کی طرف جاتا ہے ؛ حالانکہ امانت کی اوربھی مختلف قسمیں ہیں، جن کی اہمیت بعض صورتوں میں مالی امانت سے بھی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، ان کی حفاظت بھی ایک مسلمان کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مالی امانت کی ہوتی ہے ؛ اسی لیے فتح مکہ کے موقع پر خانہٴ کعبہ کی کنجی جب عثمان بن طلحہ بن عبد الدار شیبی کو دینے اوران کی امانت ان کو واپس کر نے کی تاکید کی گئی تو امانت کو جمع کے صیغے کے ساتھ استعمال کیاگیا، ارشاد باری ہے: إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا(النساء آیت ۵۸) ”اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچا دیا کرو“ قابل غور بات یہ ہے کہ کنجی کو ئی اہم مال نہیں ؛ بلکہ یہ خانہٴ کعبہ کی خدمت کی نشانی ہے جس کا تعلق مال سے نہیں عہد ے سے ہے، پھر بھی اس کو امانت سے تعبیر کیا گیا اورپھر جمع کا صیغہ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیاگیا کہ امانت کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں جن کی ادائیگی تمام مسلمانوں پرلازم ہے، ذیل میں امانت کی چند ایسی صورتیں بیان کی جارہی ہیں جن کی طرف عام طور پر لوگوں کا ذہن نہیں جاتا ؛ چنانچہ وہ ان امانتوں میں خیانت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اورانھیں کسی معصیت کا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا؛ حالانکہ شریعت کی نظر میں ان چیزوں میں بھی خیانت قبیح اورموجب گناہ عمل ہے جس سے ہر مسلمان کا بچنا نہایت ضروری ہے مثلاً:
نااہلوں کو عہدے اورمناصب سپرد کردنا
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جس عہدہ اورمنصب کا جواہل ہو اسی کو وہ عہدہ سپرد کیا جائے؛ اس کے لیے سب سے پہلے غور کر نا چاہیے کہ اس کے ماتحتوں میں کون ایسا شخص ہے، جس میں پیش نظر ملازمت یاعہدے کی مکمل شرطیں پائی جارہی ہیں، ایسا کوئی شخص مل جائے تو وہی اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے لہٰذا کسی پس وپیش کے بغیر وہ عہدہ اورملازمت اس کو سپرد کریا جائے اوراگر مطلوب صلاحیت کا حامل کوئی شخص دستیاب نہ ہو تو موجودہ لوگوں میں جو سب سے زیادہ لائق وفائق ہو اس کو منتخب کیا جائے، غرض یہ کہ حکومت کے ماتحت جتنے بھی عہد ے اورمناصب ہوتے ہیں وہ امانت ہیں اورارباب حکومت اس کے امین ہیں، اگر حکومت نے اپنے ماتحت کسی شخص کو اس کا مجاز بنایا ہے تو وہ بھی امین ہے ‘ان سب کو چاہیے کہ عہدے اورمنصب پوری دیانت داری سے تقسیم کریں‘ صلاحیت اورشرائط کو اس کے لیے معیار بنایا جائے نہ کہ قرابت اورتعلق کو۔ اگر کسی شخص کو ذاتی تعلق یا سفارش کی بنیاد پر یارشوت لے کر کوئی عہدہ اورمنصب سپرد کیا جاتا ہے تو یہ خیانت ہے اورتمام ذمہ دار اس خیانت کے مرتکب ہوں گے ، ایک موقع پر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپر د کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کے پیش نظر دے دیا ، اس پر اللہ کی لعنت ہے نہ اس کا فرض مقبول ہے نہ نفل یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جا ئے۔ (جمع الفوائد :ص: ۳۳۵)
نااہلوں کو عہدے سپر د کر نے سے گناہ تو ہو تا ہی ہے خود دنیوی اعتبار سے بھی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، اس سے مستحقین اورباصلاحیت افراد کے بجائے ناکارہ اورنااہل لوگ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں ان میں کام کی صلاحیت نہیں ہوتی ؛ اس لیے پورا شعبہ بگڑ جاتا ہے اورپھر عوام کے لیے یہ اذیت رسانی کا باعث ہوتا ہے ، آج کل ملکی حالات کا جائز ہ لیں تو معلوم ہو گا کہ نیچے سے لے کر اوپر تک تمام شعبوں میں کہیں رشوت اورسفارش اورکہیں تعلق اورقرابت کی بنیاد پر عہدے اورملازمت تقسیم کی جارہی ہیں؛ یہاں تک کہ عصری تعلیم گاہوں میں اساتذہ کی تقرری میں رشوت کالین دین عام ہوگیا ہے، اس کے نتیجے میں یہ تعلیم گاہیں باصلاحیت افراد سے محروم ہیں تقریباً تمام شعبوں کا یہی حال ہے، اس لیے حکومت کا نظام فساد کا شکار ہوگیا ہے اورآج ہر شخص اپنی جگہ بے چین ومضطر ب نظر آرہا ہے ۔
 رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: اِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ الٰی غَیْرِ أَہْلِہ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ (صحیح بخاری:۵۹) ”جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو سپرد کردی گئی جو ان کے اہل اورقابل نہیں تو قیامت کا انتظار کرو“
یعنی جب نااہل افراد کو کوئی ذمہ داری یا عہدہ اورمنصب سپرد کیا جائے تو فساد یقینی ہے اوراب دنیوی نظام کو فساد سے کوئی بچا نہیں سکتا ؛ اس لیے اب قیامت کا انتظار کرو، اس میں خلافت سے لے کر ایک ادنیٰ ملازمت بھی شامل ہے۔
اس خیانت کا تعلق صرف حکومت اورسرکاری عہدوں سے ہی نہیں؛ بلکہ نجی کمپنی ‘انجمن اورعوامی اداروں سے بھی ہے جو ان اداروں اورکمپنیوں کو مفید اوربافیض بنانا چاہتے ہیں انھیں چاہیے کہ جس کام کے جو لائق اوراہل ہے، اسے وہیں رکھا جائے ،کسی بھی وجہ سے اگر کم تر صلاحیت والے افراد کو فوقیت دی جائے تو ادارہ کبھی ترقی نہیں پاسکتا ، دینی مدارس میں بھی تقسیم اسباق اوردیگر امور میں اس اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے ورنہ اس سے تعلیمی نظام متاثر ہوگا اورذمہ داران خیانت کے مرتکب ہوں گے۔
مزدور اورملازمین کاکام چوری کرنا:
جو شخص کسی کا مزدور یاملازم ہو اسے چاہیے کہ مالک اورذمہ دار سامنے ہو یا نہ ہومکمل دیانت داری کے ساتھ کام کر ے، نہ تو وقت میں کمی کرے اورنہ کام میں سستی اورنہ ہی اپنی صلاحیت کو استعمال کر نے سے گریز کرے، ان تینوں میں سے کچھ پایاگیا توخیانت شمار ہوگی؛ اس لیے کہ ایک ملازم کی صلاحیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تنخواہ طے ہوتی ہے اگر اس نے کام کر نے میں پوری صلاحیت صرف نہ کی اورکسی بھی وجہ سے دلچسپی لیے بغیر محض ظاہری طور پر کام کر دیا تو کام میں وہ معنویت پیدا نہیں ہوگی جو ذمہ دار کو مطلوب تھی؛ اس لیے وہ تنخواہ بھی مشکوک ہو جا ئے گی اور خیانت کا بھی گناہ ہوگا ۔اسی طرح اگر مزدور وملازم سے پانچ چھ گھنٹے کام کرنے کا وقت طے ہوجائے اورپھر کام کر نے والا وقت میں چوری کرے ، وقت کے بعد آئے یا متعین وقت سے پہلے چلا جائے تو یہ بھی خیانت ہے، ایک مسلمان ملازم جو کائنات کے مالک کو سمیع وبصیر سمجھتا ہے اوراس پر پورا یقین رکھتا ہے اسے احساس ہو نا چاہیے کہ اگر چہ میرا مجازی مالک اورذمہ دار مجھے نہیں دیکھ رہا ہے ؛ لیکن رب تو مجھے دیکھ رہا ہے، اس کی گرفت سے جوبچ گیا وہی کامیاب اورفلاح پانے والا ہے ؛ اسی طرح کام میں سستی اورٹال مٹول کر نا بھی خیانت ہے، وہ کام جو پانچ گھنٹے میں ہوسکتا تھا اس کو دس گھنٹے میں تکمیل کر نا ؛ تاکہ مزید پیسے ملتے رہیں اوراس کے معاش کا مسئلہ حل ہو تا رہے ، یہ بری سوچ اورناپسندیدہ عمل ہے، امانت داری کا تقاضا ہے کہ مکمل تندہی سے کام کو انجام دیا جائے پورا وقت اورپوری طاقت اس کے لیے صرف کی جائے، ورنہ وہ مالک کے ساتھ خیانت کر نے کا مرتکب ہوگا اوراس کا بھی حساب روزمحشر میں دینا ہوگا۔
 حضرت موسیٰ  نے مدین کے سفر میں دولڑکیوں کی بکریوں کے پینے کے لیے پانی بھر دیا تو ان دونوں نے واپس جا کر اپنے بزرگ باپ سے ان کی تعریف کی اورکہا کہ یہ بڑے امانت دار اورطاقت ور ہیں ان کو اپنے گھر میں ملاز م رکھ لیجیے۔ قرآن نے اس کوان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
 یَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْہُ إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْأَمِیْنُ (قصص-۲۶)
”اے میرے ابا! ان کو مزدور رکھ لیجیے اچھا مزدور وہ ہے جوطاقت ور اورامانت دار ہو“
اس آیت میں جہاں ملازم اورمزدور کے اوصاف کی طرف رہنمائی کی گئی ہے وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ موجود ہے کہ مزدور امین ہو تا ہے اسے کام کر تے ہوئے اپنی امانت داری کا مکمل ثبوت دینا چاہیے، اس سے خود اس کی زندگی خوشگوار ہوگی اورغیب سے اس کے رزق کے لیے بہتر انتظام کیا جائے گا۔
خاص مجالس کی بات کو عام کر نا
چند لوگ کسی جگہ بیٹھ کر باتیں کریں اورپھر علیحدہ ہو جائیں تو اس مجلس کی تمام باتیں ہر ایک کے لیے امانت ہیں، کسی کے لیے جائز نہیں کہ اجازت اوررضا مندی کے بغیر ان باتوں کو دوسروں کے سامنے نقل کر ے اوراسے پھیلا نے کی کوشش کر ے؛ اس لیے کہ مجلس میں بہت سی راز کی باتیں ہوتی ہیں ،بولنے والا بسااوقات یہ چاہتا ہے کہ اس کے ان منصوبوں اورخیالات سے موجود افراد کے علاوہ دوسرے واقف نہ ہوں‘ اسے وہ راز میں رکھنا چاہتا ہے، ممکن ہے کہ اس کی باتوں کو پھیلا دیا جائے تو اس کو ذاتی نقصان ہو یاملامت اورشرمندگی کا سامنا کر نا پڑے، شریعت نے بھی اس کا لحاظ رکھاہے اورمسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی راز کو راز میں رکھیں اس کو پھیلا نے کی سعی نہ کریں ‘ہاں البتہ کوئی راز ایسا معلوم ہو جا ئے جس کا تعلق فتنہ اورفساد سے ہو جس سے دوسروں کا نقصان ہو سکتا ہے تو اس کو بتادینا چاہیے ، پھر ایسی مجلسوں کی باتوں کو محفوظ رکھنا جائز نہیں؛ بلکہ واجب اورضروری ہے کہ دوسرے شرکاء اس کو عام کردیں۔
 چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: المجالس بالأمانة الاثلٰثة مجالس سفک دم حرام اوفرج حرام اواقتطاع مال بغیرحق (سنن ابوداوٴد: ۴۸۶۹) یعنی مجلسیں امانت ہیں مگر تین موقعوں پر ،کسی کے ناحق قتل کی، یا آبرو ریزی کی یاکسی کامال ناجائز طور پر لے لینے کی ساز ش ہو تو متعلقہ لوگوں کو اس سے آگاہ کر دیا جائے، اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ مجلسی بات کا تعلق جب تک کسی کی ایذا رسانی حق تلفی یا نقصان پہنچا نے سے نہ ہو، اس کی حفاظت مجلس کے شرکاء پر ضروری ہے، اسے امانت سمجھ کر اپنے دل میں دفن کر دینا چاہیے بالخصوص وہ باتیں جن کے بارے میں محسوس ہو کہ متکلم اسے مجلس تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہے ؛ لیکن اگر مجلس میں ہو نے والی باتوں کا تعلق راز سے نہ ہو ؛ بلکہ عام باتیں ہوں جیسے دینی وشرعی مسائل ‘قرآن وحدیث کی باتیں‘ تاریخ وسیرت کی گفتگو وغیرہ تو ان باتوں کو عام کر نا اورلوگوں تک پہنچا نا مستحب ہے ؛ اس لیے کہ ان باتوں کو کوئی بھی چھپانا نہیں چاہتا اورنہ اس کے عام کر نے سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے۔
غلط مشورہ دینا
مشورہ جب کسی سے لیاجاتا ہے تو وہ ان کے حق میں امین ہوتا ہے اسے چاہیے کہ وہی مشورہ دے جس میں اس کے علم کے مطابق مشورہ لینے والے کا خیروفلاح مضمر ہو۔ دل میں جو بات آئے کسی ذہنی تحفظ کے بغیر صاف صاف کہہ دے ، رسول اکر م  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے مشورہ لینے پر ارشاد فرمایا: المستشار موٴتمن (ترمذی۔۲۸۲۳) ”جس سے مشورہ چاہا جائے وہ امانت دار کی ہے“
مشورہ لینے والا اپنا خیر خواہ سمجھ کر کسی سے مشورہ طلب کرتا ہے، اب اگر وہ ذاتی حسد اورعناد کی بنیاد پر ایسا مشورہ دے جس میں اس کے لیے نقصان ہو تو گو یا اس نے مشورہ طلب کر نے والے کو دھوکہ دیا اوراس کے ساتھ خیانت کا معاملہ کیا؛ کیونکہ اس نے اپنے علم ودانست کے خلاف مشورہ دیا ہے، کسی ایک شخص کو اگر کسی سے دشمنی وعداوت ہو یا کسی بنیاد پرآپس میں رنجش کا ماحول ہو اوراتفاق سے ایک نے دوسرے سے کسی بابت مشورہ طلب کر لیا، تو اسے اخلاص دل سے محبت کے ساتھ صحیح صحیح مشورہ دینا چاہیے اوراپنا دل صاف کر لینا چاہیے؛ اس لیے کہ مشورہ لینے کا مطلب اس نے اسے اپنا ہمدرد اورخیر خواہ تسلیم کر لیا ہے اورجب ایک شخص دوستی کا ہاتھ بڑھائے تو اخلاق وانسانیت کا تقاضا ہے کہ دوسرا بھی تواضع کی پلکیں بچھا دے اورمحبت کا بدلہ محبت سے دینے کا فیصلہ کرے اوراگر دل میں نفرت اس قدر ہو کہ بھلائی اس کے حق میں سوچ ہی نہیں سکتا تو پھر مشورہ دینے سے صاف انکار کردے ؛ لیکن اگر کدورت اورعداوت کے سبب غلط مشورہ دیا ؛تاکہ وہ ہلاک ہو جائے یا اسے پر یشانیوں کا سامنا کر نا پڑے تو یہ معصیت کاارتکاب ہوگا قیامت کے دن اس کا حساب دینا ہوگا۔
کسی کاراز ظاہر کرنا:
 حضرت جابر بن عبد اللہ  سے روایت ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اذاحدث الرجل الحدیث ثم التفت فہی امانة (ترمذی:۱۹۵۹)
”جب ایک شخص کوئی بات کہے اورچلا جائے تو یہ بھی امانت ہے“
 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے آپ سے کوئی ایسی بات کہی جس کو وہ دوسروں سے چھپا نا چاہتا ہے، آپ پر اعتمادکرتے ہوئے اس نے اپنے دل کے خیالات کا اظہار کیا ؛ تاکہ آپ کوئی مشورہ دے سکیں یا اس کے د کھ دردمیں کام آئیں، توآپ کے لیے اس کی یہ بات امانت کے درجے میں ہے، اپنی ذات تک اسے محدود رکھیں، دوسروں کو بتانا جائز نہیں اس سے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی اورتکلیف کا احساس ہوگا، بسا اوقات انسان دوستی اورتعلقات کی بنیاد پر کسی سے کچھ کہہ دیتا ہے اوراسے یقین ہوتا ہے کہ میرا یہ راز اس کے سینے میں محفوظ رہے گا مگر دوسرا شخص اس کا خیال نہیں کرتا بالخصوص جب دونوں میں کسی وجہ سے دوستی رنجش میں تبدیل ہو جاتی ہے، تو اس کے سارے راز دوسروں کے سامنے اگل دیتا ہے ؛ تاکہ اس کی تحقیر ہو اورلوگ اسے برا بھلا کہیں یہ نہایت براعمل اورنچلی حرکت ہے، اس سے خدا ناراض ہوتا ہے اورنہ معلوم خدا کی کون سی ناراضگی ہلاکت کا سبب بن جائے۔
اسی طرح میاں بیوی کے درمیان جو بات ہوتی ہے وہ بھی امانت ہے‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے لباس ہے، لباس بدن کے عیوب اورراز کی چیزوں کو چھپاتا ہے اسی طرح زوجین کو چاہیے کہ وہ باہمی گفتگو اورقابل اخفاء چیزوں کو پر دے میں رکھیں اورکسی بھی حال میں دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کریں؛ چنانچہ حضرت ابوسعید کی روایت ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان من اعظم الأمانة عند اللہ یوم القیامة الرجل یفضی الی امرأتہ وتفضی الیہ ثم ینشر سرھا (صحیح مسلم۱۲۴۔۱۴۳۷)
”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت قابل موٴا خذہ یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی کے پاس جائے اوربیوی اس سے لطف اندوز ہو اورپھر شوہر عورت کے راز کو دوسروں کے سامنے ظاہر کردے “
راز تو بہر حال راز ہوتا ہے وہ خواہ میاں بیوی کے درمیان ہو یا دودوست اوردوساتھیوں کے درمیان، اسے چھپانے کی شریعت نے تاکید کی ہے۔ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے لوگوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی جائے، کسی کی عزت سے کھلواڑ نہ کیا جائے اورنہ کسی کو ایذادی جائے اورراز کے اظہار میں ان میں سے کسی کا ارتکاب ضرور ہو تاہے؛ اس لیے یہ ممنوع اور ناپسندیدہ ہے۔
حق تلفی کر نا
ایک شخص کسی کو بطور امانت رکھنے کوئی چیز دے اوروہ بھول جائے یا اسے یاد تو ہومگر اس کے پاس کوئی شہادت نہیں ہے، یہ نازک گھڑی ہوتی ہے ‘اس میں امانت کامال لینے والے کے ایمان کا امتحان ہے، وہ اللہ کی گرفت پر یقین رکھتے ہوئے مال واپس کردیتا ہے یا اس کا حق دبا کر اپنی آخرت کو تباہ کر لیتا ہے، اگراس نے مال واپس نہ کیا تو یہ حق تلفی ہے اوراس پر سخت وعید آئی ہے، روز محشر اس کا حساب دیناہوگا ۔
جس طرح مادی حق کی ادائیگی سے پہلو تہی حق تلفی ہے‘ اسی طرح بعض حقوق ایسے ہوتے ہیں جو مادی تو نہیں ہیں؛ لیکن شریعت نے انہیں حق اورامانت سے تعبیر کیا ہے ان کی ادائیگی ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے جیسے میاں بیوی کے باہمی حقوق۔ ایک شخص جب کسی عورت کو اپنے نکاح میں لیتا ہے تو اس پر عورت کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں اسی طرح زوجیت میں آنے کے بعد عورت سے بھی شوہر کے کچھ حقوق وابستہ ہو جاتے ہیں‘ یہ حقوق امانت کے درجے میں ہیں، ان کی ادائیگی میں ٹال مٹول یاکمی وکوتاہی کر نا حق تلفی اورخیانت ہے جو ان کے لیے جائز نہیں، والدین اوراولاد کے باہمی حقوق بھی امانت ہے اس میں کمی وکوتاہی خیانت ہے اورموجب گناہ ہے ، اسی طرح استاذ اورشاگرد کے درمیان کے حقوق بھی امانت کے درجے میں ہیں، شاگرد کو چاہیے کہ اپنے استاذ کی خدمت‘ عزت واحترام اوران کا ادب کریں تو استاذ کو بھی چاہیے کہ وہ پوری امانت داری کے ساتھ اپنے شاگرد کو علمی غذا فراہم کریں، خود کتاب کا مطالعہ کریں اورپوری محنت سے علمی صلاحیت ان میں منتقل کرنے کی کوشش کریں، اس میں کچھ خامی خیانت کے دائرے میں داخل ہے
حاکموں اوررعایا کے درمیان باہمی حقوق کا بھی یہی حکم ہے جس طرح عوام پر حکومت کے اصول وقوانین کی پاسداری ضروری ہے اسی طرح حکمرانوں کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ممکن حدتک عوام کو سہولت فراہم کریں، ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھیں، اقتدار کے ذمہ دارنے وسعت کے باوجود اگر رعا یا کے حقوق ادا نہ کیے تو گویا اس نے خیانت کی جس کا اسے ضرور حساب دینا ہوگا ‘اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جن کا تعلق ایسے حقوق سے ہے جو مادی نہیں ہیں ؛ لیکن وہ بھی حق تلفی اورخیانت کے دائرے میں آتے ہیں اوراوراس کا بھی وہی حکم ہے جو مال میں خیانت کر نے کا ہے۔
ناانصافی کرنا
قاضی‘ حاکم اورتمام فیصلہ کر نے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ کے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کریں اورپوری دیانت داری کے ساتھ فریقین کے دلائل کی سماعت کریں پھر قوت دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کریں، اس میں قرابت‘خاندان‘ قوم، علاقہ اورمذہب ومسلک وغیرہ کو ہرگز دخل نہ دیں، اگر فیصلہ کر نے والوں نے کسی ذہنی تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا تو گویا اس نے خیانت کی اوربڑے گناہ کا ارتکاب کیا؛ اس لیے کہ قاضی حاکم وغیرہ اپنے ماتحتوں کے حق میں امین ہوتا ہے امانت داری کا انھیں پورا پورا پاس ولحاظ رکھنا چاہیے۔ گاوٴں دیہات وغیرہ کے سرپنچ کا بھی یہ حکم ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان بھی کسی بارے میں فیصل بنایا جائے تو وہ بھی امین ہوتا ہے ‘اللہ تعالی کو حاضر و ناظر رکھ کر اور اپنی گرفت کا احساس کرتے ہوے اسے صحیح صحیح فیصلہ کرنا چاہیے ‘کسی کی جانب داری اس کے لیے باعث ہلاکت ہے ۔
ان ساری تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت کا دائرہ صرف روپے پیسے‘ جائداد اورمال و منال تک محدود نہیں ؛ بلکہ ہر مالی، قانونی اوراخلاقی امانت تک وسیع ہے، عام طور پر امانت کالفظ بولنے سے لوگوں کا ذہن مالی امانت کی طرف جاتا ہے، اوراسی امانت کی ادائیگی کو کافی سمجھا جاتا ہے، جب کہ امانت داری کے مفہوم میں کافی وسعت ہے، اسی وسیع تر مفہوم میں مسلمانوں کا عمل ہو نا چاہیے ۔ آج بہت سے فسادات‘لڑائی جھگڑے اسی امانت داری کے نہ ہو نے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ اگر مالی‘ قانونی‘ اخلاقی اورتمام طرح کی دیانت کو ملحوظ رکھا جائے تو معاشرہ میں امن چین اورسکون ہوگا‘ بہتر سماج کی تشکیل عمل میں آئے گی اورلوگ خیانت کے گناہ اورآخرت کی گرفت سے بچ سکیں گے ۔
$ $ $

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ7-8، جلد:100 ‏، شوال-ذيقعده 1437 ہجری مطابق جولائی-اگست 2016ء