اتوار، 17 نومبر، 2019

طبقاتِ کتب حدیث


طبقاتِ کتب حدیث 

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ


اس زمانہ میں احکام اور حدیثِ نبوی کو جاننے کے لیے بجز اس کے کوئی راہ نہیں کہ فن حدیث میں لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے۔ آج ایسی کوئی روایت موجود نہیں، جو قابلِ اعتماد ہو اور وہ حدیث کی کتابوں میں نہ آگئی ہو؛ اس لیے اب معرفتِ حدیث کا مدار کتبِ حدیث پر ہے، کتبِ حدیث مختلف مراتب کی ہیں، سب ایک درجہ اورایک مرتبہ کی نہیں؛ بلکہ حدیثیں جمع کرنے والوں میں بعض کا مقصد صرف صحیح حدیثوں کا انتخاب تھا، جیسے صحیح بخاری وصحیح مسلم اور بعض کا مقصد حدیث کے ساتھ مستدلاتِ فقہاء کو جمع کرنا تھا، جیسے سنن ترمذی اور بعض کا مقصد جملہ روایات کو جمع کرنا تھا، خواہ وہ کیسی بھی ہوں، جیسے مسند ابویعلی، مصنف عبد الرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ۔ ایسی صورت میں ان احادیث سے مسئلہ مسائل اخذ کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہوجاتا ہے کہ کون سی کتاب کس پایہ کی ہے اور اس پر اعتماد کس حد تک کیا جاسکتا ہے۔ یعنی مسئلہ مسائل صرف صحیح اور حسن درجہ کی روایات سے معلوم کیے جاسکتے ہیں؛ جب کہ فضائل ووعظ ونصیحت اور ترغیب وترہیب کے لیے ان روایات کو بھی بیان کیا جاسکتا ہے جو از قبیلِ ضعیف ہیں؛ جب کہ موضوع روایت کو کسی بھی دینی مقصد کے لیے بیان کرنا جائز نہیں۔
          حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے کتبِ حدیث کو صحت وشہرت کی بنیاد پر چار طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں طبقہٴ اولیٰ کی وہ کتاب ہے جس میں صحت وشہرت دونوں باتیں کامل طورپر پائی جائیں اور ان دو صفات میں جتنی کمی ہوگی، اس کتاب کا مقام ومرتبہ بھی اسی مناسبت سے فروتر ہوگا اوراگر یہ دونوں باتیں کسی کتاب میں بالکل نہ ہوں تو وہ کتاب قابلِ اعتبار نہیں۔
صحت:
          صحت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب میں درج روایات اعلیٰ درجے کی ہوں، مقلوب، شاذ اور ضعیف روایات کو کتاب میں جگہ نہ دی گئی ہو اور اگر کوئی روایت ہوبھی تو اس کا حال بیان کردیاگیا ہو۔ ان میں سب سے پہلے متواترروایات ہیں، جن کو امت نے قبول کیاہو اور ان پر عمل بھی کیاہو۔ متواتر کی دو قسمیں ہیں: (۱) لفظاً جیسے پورا قرآن تواترِ لفظی ہے۔ اسی طرح احادیث کا بھی ایک حصہ تواتر سے ثابت ہے، گوکہ وہ بہت کم ہے، ایسی روایات کی تعداد علامہ سیوطی کے مطابق ۱۱۲ ہے، جیسے یہ روایت کہ تم عنقریب اپنے رب کو دیکھوگے، جس طرح چاند کو دیکھتے ہو کہ اس کے دیکھنے میں کوئی بھیڑ نہیں کرتے۔ (۲) متواتر کی دوسری قسم معناً ہے، جیسے طہارت، نماز، زکوٰة اورحج، بیع وشراء، نکاح اور غزوات کے بہت سے احکام معناً متواتر ہیں۔ ان مسائل میں اسلامی فرقوں میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔
          متواتر کے بعد غیرمتواتر وآحاد کا درجہ ہے، یہ بہت بڑی تعداد میں ہیں اور مختلف درجات کی ہیں۔ ان میں اعلیٰ درجہ مستفیض (مشہور) روایات کا ہے۔ مستفیض وہ حدیث کہلاتی ہے جس کو آں حضرت … سے تین یا زیادہ صحابہ نے روایت کیا ہو، پھر پانچویں طبقہ تک رواة برابر بڑھتے رہے ہوں۔ ذخیرئہ حدیث میں مستفیض روایات بہت ہیں اورانھیں پرفقہ کے اہم مسائل کی بنیاد قائم ہے۔
          اس کے بعد ان احادیث کا درجہ ہے جن کو حفاظِ حدیث اور اکابر محدثین نے صحیح یا حسن تسلیم کیا ہو اور وہ کوئی ایسا متروک قول نہ ہو جس کو امت میں سے کسی نے نہ لیاہو۔ پھر ان احادیث کا مرتبہ ہے جو متکلم فیہ ہیں۔ یعنی ان کی سند کو بعض محدثین نے قبول کیا ہو اور بعض نے قبول نہیں کیا۔ یہ روایات اگر شواہد ومتابعات کے ساتھ، یا اکثر اہلِ علم کے قول کے ساتھ، یا عقلِ صریح - یعنی اجتہاد- کی موافقت کے ساتھ موٴیّد ہوں تو ان پر عمل واجب ہے۔
ساقط الاعتبار روایات:
          یعنی موضوع، منقطع، مقلوب الاسناد، مقلوب المتن یا مجہول رُوات کی روایات۔ یہ سب روایات مردود ہیں، ان کو قبول کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
شہرت:
          شہرت کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب میں درج روایات ایسی ہوں جو مصنف کی کتاب کی تصنیف سے پہلے اور بعد میں محدثین کی زبانوں پر دائر وسائر رہی ہوں اوراپنی جوامع ومسانید میں درج کیا ہو اور ان کی روایت وحفاظت میں مشغول رہے ہوں۔ ان روایات کی مبہم باتوں کی وضاحت کی ہو اوراس کے مشکل کلمات کے معانی بیان کیے گئے ہوں۔ اس کی پیچیدہ عبارتوں کی ترکیب کی ہو۔ ان حدیثوں کی تخریج کی ہو اور ان سے مسائل مستنبط کیے ہوں۔ راویوں کے حالات کی تفتیش ہر زمانہ میں ہوتی رہی ہو اور مصنف سے پہلے اور بعد میں بھی ناقدینِ حدیث نے ان روایات میں مصنف کی رائے میں موافقت کی ہو اور ان روایات کی صحت کا فیصلہ کیا ہو اور انھوں نے مدح وتوصیف کے ساتھ اس کتاب کا استقبال کیا ہو اور فقہاء برابر اس کی حدیثوں سے مسائل کا استخراج کرتے رہے ہوں اور محدثین نے اس کتاب پر بھروسہ کیا ہو اور عوام بھی ان روایات کی عقیدت اور تعظیم سے خالی نہ ہوں۔
          جب یہ دونوں باتیں - صحت وشہرت - کسی کتاب میں کامل طور پر جمع ہوجائیں تو وہ کتاب طبقہٴ اولیٰ میں شمار ہوں گی اور ان میں جتنی کمی ہوگی مقام ومرتبہ بھی ان کا اتنافروتر ہوگا اوراگر یہ دونوں باتیں کسی کتاب میں بالکل نہ پائی جائیں تو وہ کتاب قابلِ اعتبار نہیں۔
          شرائطِ صحت وشہرت کی کسوٹی پر پوری اترنے والی حضرت شاہ ولی اللہ کے نزدیک طبقہٴ اولیٰ کی کتابیں تین ہیں ان میں پہلے مقام پر موطا امام مالک ہے۔ اس کے بعد امام بخاری ومسلم کی صحاح ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں:
          ”قد اتفق اہل الحدیث علی ان جمیع ما فیہ صحیح علی رایٴ مالک ومن وافقہ، واما علی رایٴ غیرہ فلیس فیہ مرسل ولا منقطع الّا وقد اتصل السند بہ من طرق أخریٰ فلا جرم أنہا صحیحة من ہذا الوجہ“(۱)
(محدثین نے اس بات پر اتفاق کیاہے کہ وہ تمام روایات جو موطا میں ہیں، صحیح ہیں۔ امام مالک اور ان کے موافقین کی رائے کے مطابق تو یہ بات ظاہر ہے اور دوسرے حضرات کی رائے کے مطابق اس طرح صحیح ہیں کہ اس کی تمام مرسل ومنقطع روایات دوسری سندوں سے متصل ہوگئی ہیں؛ لہٰذا وہ بھی صحیح ہیں۔)
          اس کی تفصیل یہ ہے کہ موطا میں تین طرح کی روایات ہیں:(۱) مسند (۲) مرسل (۳) بلاغات۔ متقدمین مسند کے سوا سب کو مرسل کہتے ہیں اور مرسل روایات کی حجیت میں اختلاف ہے۔ امام مالک اوران کے زمانہ کے دوسرے ائمہ، جیسے حسن بصری، سفیان بن عیینہ اور امام ابوحنیفہ حجت مانتے ہیں۔ حسن بصری سے منقول ہے، وہ فرماتے ہیں: ”اذا اجتمع اربعة من الصحابة علی حدیث ارسلتہ“(۲) (جب صحابہ میں چار لوگ کسی حدیث پر جمع ہوجائیں تو اسے مرسل رکھتاہوں)۔
          حسن بصری ہی سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے کہوں کہ مجھ سے بیان کیا فلاں نے تو وہ حدیث ہے اور کچھ نہیں اور جب میں کہوں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو میں نے اسے ۷۰ یا اس سے زیادہ لوگوں سے سنا ہے۔(۳)
          اس طرح دوسری صدی ہجری کے اواخر تک تمام ائمہ متفقہ طورپر مرسل روایات کو قبول کرتے تھے۔ حافظ بلقینی نے فرمایا:
          ”ان التابعین أجمعوا بأمرہم علی قبول المراسیلِ ولم یأت عنہم انکارہ ولا عن أحد من الأئمة بعدہم الی رأس المئین“(۴)
(تمام تابعین متفقہ طور پر مرسل روایات کو قبول کرتے تھے؛ بلکہ تابعین کے بعد بھی دوسری صدی ہجری تک ائمہ میں سے کسی کی طرف سے مراسیل قبول کرنے سے انکار ثابت نہیں)
          مرسل روایات کو ضعیف اور ناقابلِ احتجاج قرار دینے والوں میں سب سے پہلے امام شافعی ہیں(۵)، اس کے بعد تمام محدثین کا اس سے ترکِ احتجاج پر اتفاق ہوگیا؛ لیکن دوسری صدی کے اختتام سے پہلے پہلے تمام ائمہ ومحدثین مرسل روایات کو قبول کرتے تھے، خود امام شافعی کبارِ تابعین کی مراسلات کو قبول کرتے تھے، بشرطے کہ ان کی تائید دوسری حدیث وسند سے ہوجاتی۔ جہاں تک موطا میں درج مرسل روایات اوراس کی صحت کی بات ہے ، خود امام شافعی سے منقول ہے، انھوں نے فرمایا: ”أصحُّ الکتاب بعد کتاب اللّٰہ موطا امام مالک“(۶) (کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب موطا مالک ہے)
          موطا کی تمام مرسل روایات کی سندیں چونکہ دوسری کتابوں میں پائی جاتی ہیں؛ اس لیے اس پر صحیح کا اطلاق درست ہے۔ امام زرقانی لکھتے ہیں:
          ”ما من مرسل فی الموطا الاّ ولہ عاضد أو عواضد فالصواب اطلاق الموطا صحیح لا یستثنیٰ منہ شيء وقد صنف ابن عبد البر کتابا فی وصل ما فی الموطا من المرسل والمنقطع والمعضل قال وجمیع ما فیہ من قولہ بلغنی ومن قولہ عن الثقة عندہ مما لم یسندہ أحد وستون کلہا مسند من غیر طریق مالک الاّ أربعة“(۷)
(موطا میں کوئی روایت مرسل نہیں؛ مگر اس کی تائیں کرنے والے اور معاون حدیث موجود ہے؛ لہٰذا بلا استثناء موطا پر صحیح کا اطلاق درست ہے۔ حافظ ابن عبدالبر نے ایک کتاب تصنیف کی جس میں موطا کی تمام مرسل، منقطع اور معضل روایات کی سندیں بیان کی ہیں اور فرمایا کہ موطا میں امام مالک نے جس قدر ”بلغنی“ اور ”عن الثقة“ کہہ کر روایات بیان کی ہیں اور ان کی سندیں نہیں بیان کیں وہ کل ۶۱ ہیں، جن میں سوائے چار کے تمام روایات امام مالک کے علاوہ دوسرے طرق سے مسند ہیں)
          حضرت شاہ صاحب نے المصفّٰی (فارسی شرح موطا) میں ان چار کے بارے میں فرمایاکہ گرچہ ان الفاظ سے ثابت نہیں، تاہم ان کے معنی صحیح ہیں۔
          حضرت شاہ صاحب نے موطا کی افضلیت ثابت کرنے کے لیے کئی ٹھوس دلائل دیے ہیں: ایک یہ کہ موطا کی احادیث کی اسناد میں راویوں کی تعداد سب سے کم ہے۔ وہ تین چار سے زیادہ نہیں۔ دوم یہ کہ اس کے بیشتر راوی (۹۵ راویوں میں ماسوا چھ کے تمام کے تمام راوی) مدنی ہیں، جو سب کے سب معروف ومشہور ہیں۔ ان راویوں میں سب سے زیادہ روایات امام مالک نے حضرت نافع مولیٰ عبداللہ بن عمر سے نقل کی ہیں۔ محدثین کے یہاں یہ سند اصح الاسانید یا سلسلة الذہب کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت نافع کے علاوہ دوسرے راویوں میں زیادہ تر ایسے راوی ہیں، جو حضرت عمر کے قضایا اور فتاویٰ کے سب سے بڑے عالم تھے، جن پر مذاہبِ فقہ کا دارومدار ہے۔ موطا نہ صرف ان فقہاء کرام کا عظیم ذخیرہ ہے؛ بلکہ دوسرے محدث وفقیہ صحابہٴ کرام وتابعین کے فتاویٰ کا مخزن بھی، موسمِ حج ہو یا اس کے سوا، ہر زمانے میں تمام ممالک سے علماء ومحدثین مدینہ منورہ آتے تھے اور وہاں کے علماء سے اکتسابِ فیض کرتے تھے۔ اس زمانہ میں یہ مشہور ہوگیا تھا کہ جو علوم علماء واہلِ مدینہ کے پاس ہیں وہ منقح ہیں، جو دوسرے شہر اور علماء کے پاس نہیں۔ امام مالک نے اسی شہر ’روح البلاد‘ میں رہ کر ہی موطا کی تالیف کی۔
          اس کے علاوہ موطا کی اور بھی خوبیاں ہیں، مثلاً یہ کہ اس کی تمام روایات عمل اہل مدینہ کی ترجمان ہیں؛ کیونکہ قبولیت حدیث کے لیے امام مالک کے یہاں یہ ضروری تھا کہ وہ جمہور اہل مدینہ کے عمل کے خلاف نہ ہو۔ محمد ابوزہو لکھتے ہیں: ”فاشترط الامام مالک فی قبول خبر الواحد أن لا یعمل علی خلافہ الجمہور والجم الغفیر من أہل المدینة“(۹) (خبرواحد کی قبولیت کے لیے امام مالک نے یہ شرط رکھی کہ وہ جم غفیر اور جمہور اہلِ مدینہ کے عمل کے خلاف نہ ہو)۔
          خبرواحد اور عمل اہلِ مدینہ میں تعارض کے وقت وہ اہلِ مدینہ کے عمل کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدینہ کا عمل جو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثتاً ملا ہے، وہ خبرِواحد کے مقابلہ میں زیادہ مستند ہے؛ چنانچہ انھوں نے شیخ لیث کے نام رسالہ میں عمل اہل مدینہ کو خبر واحد پر مقدم رکھنے کو جائز قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اہلِ مدینہ کی اتباع کرتے ہیں، مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی اور مدینہ میں قرآن نازل ہوا۔ یہاں اللہ نے حلال کو حلال اور حرام کو حرام کہا۔ رسول اللہ… صحابہ کے سامنے تھے، آپ حکم دیتے تھے وہ اس پر عمل کرتے تھے، آپ انھیں سکھاتے تھے وہ اس کا اتباع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ حضور کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد امت میں ابوبکر وعمر وعثمان، جیسے صاحب امر ہوئے جن کی لوگوں نے اتباع کی۔ ان کے بعد تابعین بھی اسی راہ پر چلے اور انھیں سنتوں کی پیروی کرتے رہے۔ مدینہ میں جس بات پر لوگوں کا عمل ہوتا تھا اس پر کسی کو اختلاف کرتے ہم نے نہیں پایا تو اسی سے الگ ہونا اوراس کے خلاف ہونا جائز نہیں۔(۱۰)
          اسی بنیاد پر امام مالک نے حدیث کی تحقیق کا معیار عمل اہل مدینہ کو قرار دیا۔ ان کے نزدیک اہل مدینہ کا عمل اور ان کی رائے مشہور سنت کی حیثیت رکھتی ہے اور مشہور سنت خبرواحد پر ہمیشہ مقدم ہوتی ہے؛ اس لیے امام مالک خبرِ واحد پر عمل اہل مدینہ کو مقدم رکھتے تھے۔
          امام مالک کے شیخ ربیعہ کا بھی یہی مسلک تھا، وہ کہتے تھے کہ ہزار ہزار سے نقل کریں یہ بہتر ہے اس سے کہ ایک ایک سے نقل کرے۔(۱۱)
          موطا لکھنے سے امام مالک کی غرض ان حدیثوں کو جمع کرنا نہیں تھا، جن کے راوی ثقہ ہوں، جیساکہ کتبِ صحاح کے مصنّفین نے التزام کیا؛ بلکہ ان روایات کو جمع کرنا تھا، جن پر اہل مدینہ کا عمل اوراجماع تھا؛ اسی لیے (غالباً) انھوں نے موطا میں اسناد کی طرف زیادہ توجہ نہیں کی؛ کیونکہ یہ روایات جم غفیر اور جمہور اہل مدینہ کے عمل کی ترجمان ہیں، ان کا راوی اِکّا دُکّا نہیں؛ بلکہ ہزاروں ہیں۔ دوسری چیز یہ کہ التزام سند کے سوا راویوں کی تحقیق کے تمام علوم، مثلاً علم تاریخ رواة، فنِ جرح وتعدیل اور علم مصطلح الحدیث سب بعد میں ایجاد ہوئے، جن کی مدد سے راویوں کی جانچ و پرکھ ہوئی اور موطا ان اصولوں کے وضع کیے جانے سے پہلے لکھی جاچکی تھی۔
          حضرت شاہ صاحب نے موطا کو صحیح بخاری و مسلم پر اس لیے بھی فوقیت دی ہے کہ انھوں نے اسے تمام کتبِ حدیث کی اصل واساس قرار دیا ہے اور بعد کی تمام کتابوں کو اس کی شروح وتکملے اور مستخرجات مانا ہے۔ جمہور محدثین نے اس کی روایات کو صحیح تو تسلیم کیا ہے؛ لیکن اس میں موجود مرسل اور منقطع روایات کی بنیاد پر صحاح ستہ میں اسے شامل نہیں کیا ہے؛ حالانکہ اس کی تمام روایات متن کے اعتبار سے تمام کتبِ حدیث میں سب سے اعلیٰ ہیں۔ آج تک اس کی ایک بھی روایت پر کسی نے موضوع ہونے کا شبہ تک نہیں کیا؛ جب کہ صحاح ستہ کی ایک معتدبہ روایات پر غیرصحیح؛ بلکہ موضوع ہونے کا الزام جائز ٹھہرایا ہے۔ حضرت شاہ صاحب کے نزدیک ”صحت“ کا مطلب محض سنداً نہیں؛ بلکہ متنا ً اور درایتاً بھی ہے؛ اس لیے انھوں نے موطا کو تمام کتبِ حدیث میں پہلے درجہ پر رکھا اوراس میں وہ حق بجانب ہیں۔
          موطا امام مالک سے بلاواسطہ ایک ہزار سے زاید اشخاص نے روایت کیا، ان میں بعض فائق فقہاء ہیں، جیسے امام شافعی۲۰۴ھ)، امام محمد بن الحسن شیبانی (م۱۸۹ھ)۔ (امام شیبانی نے امام مالک سے موطا پڑھ کر اس کو مرتب کیا ہے اوراس میں اضافہ بھی کیا ہے، جو موطا محمد کے نام سے معروف ہے۔ درحقیقت وہ موطا امام مالک ہی ہے۔) عبد اللہ بن وہب مصری (م۱۹۷ھ) عبدالرحمن بن القاسم مصری (م۱۹۱ھ) اور بعض اونچے درجے کے محدث ہیں، جیسے یحییٰ بن سعید القطان، عبدالرحمن بن مہدی، عبدالرزاق صنعانی (صاحب مصنَّف عبدالرزاق) اور بعض بادشاہ اور امراء ہیں، جیسے خلیفہ ہارون رشید اوراس کے دو بیٹے امین ومامون۔
          موطا کی شہرت خود امام مالک کی زندگی ہی میں اسلامی مملکت کے کونے کونے میں پھیل چکی تھی اور مابعد زمانوں میں اس کی شہرت میں اضافہ ہی ہوتا رہا؛ یہاں تک کہ اسلامی دنیا کے سب ہی مجتہدین نے اس پر اپنے مذہب کی عمارت تعمیر کی۔ علماء اسلام برابر موطا کی حدیثوں کی تخریج،اس کے متابعات وشواہد کا تذکرہ،اس کے نامانوس الفاظ کی تشریح، اس کے مبہم امور کا انضباط، اس کی حدیثوں سے مسائل کا استنباط اور اس کے راویوں کے حالات کی تفتیش کرتے رہے اور یہ سب کام اس درجہ تک ہوتا رہا کہ اس کے بعد کوئی درجہ نہیں۔
صحیحین:
          صحیحین حدیث کے صفِ اوّل کی کتب ہونے میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ ان کی مرفوع ومتصل روایتیں قطعی طور پر صحیح ہیں؛ مگر امام دارقطنی، ابومسعود دمشقی اور ابوعلی غسانی نے صحیحین کی ایک سو دس روایات پر نقد کیا ہے اور ان کو غیرصحیح بتایا ہے۔ حافظ ابن صلاح نے اس استثناء کو تسلیم کیا ہے، انھوں نے فرمایا کہ بخاری ومسلم پر جو مواخذہ یا قدح، معتمد حفاظ حدیث مانند دارقطنی وغیرہ کی طرف سے وارد ہے، وہ ہمارے فیصلہٴ سابق سے مستثنیٰ ہے(۱۲)؛ کیوں کہ اتنے حصے کی تلقی بالقبول پر اجماع نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ جو صحیحین کی روایات کی بے قدری کرتا ہے اور ان کو ہیچ سمجھتا ہے وہ مبتدع (گمراہ) ہے۔(۱۳)
دوسرے طبقے کی تین کتابیں:
          اس کے بعد کچھ دوسری کتابیں ہیں، جو موطا اور صحیحین کے مرتبہ تک تو نہیں پہنچتیں؛ مگر وہ ان سے متصل اور پیچھے پیچھے ہیں۔ ان کے مصنف اعتماد، عدالت، حفظ اور علومِ حدیث میں تبحر میں معروف ہیں۔ انھوں نے اپنی کتابوں کے لیے جو شرائط (صحت واتصال) طے کی تھیں، ان میں سہل انگاری سے کام نہیں لیا۔ بعد والوں نے ان کی کتابوں کا قبولیت کے ساتھ استقبال کیا ہے اور ہر زمانہ میں محدثین وفقہاء نے ان کے ساتھ اعتناء برتا ہے اور وہ کتابیں لوگوں کے درمیان مشہور ہوئیں اور علماء نے ان کتابوں کے ساتھ تعلق رکھا۔ کسی نے ان کے نامانوس الفاظ کی تشریح کی ہے، کسی نے ان کے رجال کا تتبع کیا ہے اور کسی نے ان کی حدیثوں سے مسائل مستنبط کیے ہیں اور ان روایات پر عام طور پر علومِ دینیہ کا مدار ہے، جیسے امام ابوداؤد (م۲۷۵ھ) کی سنن، امام ابوعیسیٰ ترمذی (م۲۷۹ھ) کی جامع (سنن ترمذی) اور امام ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی (م۳۰۳ھ) کی مجتبیٰ جس کو سنن صغریٰ اور مطلق سنن بھی کہتے ہیں۔
          چھٹی صدی ہجری کے محدث رزین بن معاویہ عبدری سرقُسطی (م۵۳۵ھ) نے طبقہٴ دوم کی یہ تین کتابیں اور طبقہٴ اولیٰ کی ماقبل مذکور تین کتابیں تجرید الصحاح الستہ میں ان کی حدیثوں کی اسناد حذف کرکے جمع کیا ہے۔ ان کے بعد ابن الاثیر جزری (م۶۰۶ھ) نے مذکورہ تجرید کی تہذیب و ترتیب کی ، جس کا نام جامع الاصول لاحادیث الرسول رکھا، جو مطبوعہ اور متداول ہے۔
          امام احمد کی مسند کو بھی حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اسی طبقہ سے منسلک کیاہے۔ آپ لکھتے ہیں:
          ”وکان مسند أحمد یکون من جملة ہذہ الطبقة فان الامام أحمد جعلہ أصلاً یعرف بہ الصحیح من السقیم قال ما لیس فیہ فلا تقبلوہ“(۱۴)
(اور قریب ہے کہ مسند احمد کہ ہو وہ من جملہ اس طبقہ کی کتابوں کے بے شک امام احمد نے اس کتاب کو ایسی اصل (کسوٹی) بتایا ہے جس کے ذریعہ صحیح وسقیم روایات کو جانا جاسکتا ہے) آپ نے فرمایا کہ جو مسند میں نہیں ہے، اس کو قبول نہ کرو (یعنی صحیح روایات سب مسند میں جمع ہیں اور جو اس سے باہر ہیں وہ صحیح نہیں)؛ مگر اطلاق کے ساتھ امام احمد کی یہ بات علماء نے قبول نہیں کی)۔
          کیونکہ مسند احمد ذخیرئہ حدیث کی مسند روایات کا بہت بڑا مجموعہ سہی؛ لیکن تمام روایات کا استیعاب نہیں؛ اس لیے کہ اس میں بہت سی روایات امام احمد سے نقل کرنے میں چھوٹ گئیں، مثلاً ترجمہ حضرت عائشہ میں قصہٴ ام ذرع والی حدیث اس میں نہیں۔ اسی طرح بقول علامہ سیوطی: تقریباً مختلف صحابہ کی دو سو روایات مسند میں درج ہونے سے رہ گئیں، جن سے صحیح بخاری اور مسلم میں حدیثیں منقول ہیں(۱۵)۔ ہوسکتا ہے، یہ روایات انھیں دستیاب نہ ہوسکی ہوں اور وہ بعد کے ائمہ مثلاً بخاری ومسلم کو دستیاب ہوگئیں۔ بہرحال اس سے مسند میں درج روایات کی صحت پر فرق نہیں پڑتا۔ اور نہ ہی امام احمد کے دعویٰ کو سامنے رکھ کر اسے یہ درجہ دیا گیا؛ بلکہ یہ درجہ اس میں درج روایات کی صحت و شہرت کی بنیادپر عطا کیا۔
          دوسری بات یہ کہ مسند احمد طبقہٴ دوم میں براہِ راست نہ ہوکر اس کے ”قریب“ہے۔ یہ بات مسلّم ہے کہ مسانید میں احادیث کی تخریج میں ہر صحابی کی تمام روایات کو بلا ترتیبِ عنوان ایک جگہ جمع کردیا جاتاہے۔ اس میں صرف صحیح روایات کوجمع کرنے پر اکتفا نہیں کیاجاتا۔ حافظ ابن صلاح مسانید میں درج روایات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
          ”فَہٰذِہ عَادَتُہُمْ فِیْہَا أنْ یَخْرُجُوا فِيْ مُسْنَدِ کُلِّ صَحَابِيٍ مَا رَوَوْہُ مِنْ حَدِیْثِہ غَیْرِ لَتَقَیِّدِیْنَ فِأنْ یَکُوْنَ حَدِیْثًا مُحْتَجًّا بِہ “(۱۶)
(مسند میں احادیث کی تخریج کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں ہر صحابی کی تمام روایات کو ایک جگہ جمع کردیا جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی قید نہیں ہوتی کہ تمام احادیث قابلِ احتجاج ہوں)۔
          مسانید اور فقہی ابواب کے مطابق ترتیب دی جانے والی کتابوں میں جو فرق ہے، اس کو واضح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے فرمایا:
          ”وضع التصنیف للحدیث علی الأبواب أن یقتصر فیہ علی ما یصلح للاحتجاج أو الاستشہاد بخلاف من رتب علی المسانید فان أصل رفعہ“(۱۷)
(ابواب کی ترتیب پر تصنیفات (جوامع) میں صرف انھیں روایات کو جمع کیاجاتاہے، جو احتجاج اور استشہاد کی صلاحیت رکھتی ہوں، بخلاف مسانید کے جن کے لکھنے کا مقصد صرف جمعِ حدیث ہوتا ہے)۔
          اسی وجہ سے شیخ طاہر الجزائری لکھتے ہیں:
          ”أما کتب المسانید دون کتب السنن فی الرتبہ“(۱۸)
(کتب مسانید مرتبہ میں کتبِ سنن سے کم تر ہوتی ہیں)۔
          لیکن مسانید میں مسند احمد سب سے افضل ہے، اس کی روایات دوسری تمام مسانید کے مقابلہ میں صحیح تر ہیں۔ امام شوکانی نے اسے ان تمام کتابوں میں اصح بتایا ہے، جن کتب (مسانید) میں روایات راوی کی بنیاد پر جمع کی جاتی ہیں۔(۱۹)
          علامہ سیوطی نے مام ہیثمی (م۸۰۷ھ) کے واسطے سے فرمایا: مسند أحمد أصح صحیحا من غیرہ(۲۰) (مسند احمد تمام مسانید میں سب سے صحیح ہے)۔
          حاصل یہ کہ مسند احمد طبقہٴ دوم میں چوتھی اور من جملہ کتبِ حدیث میں چھٹی مستند ترین کتاب ہے؛ اسی لیے یہ ہرزمانے کے محدثین کے لیے قابلِ اعتماد ومرجع رہی ہے۔
سنن ابن ماجہ:
          حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے سنن ابن ماجہ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، طبقاتِ کتب حدیث بیان کرتے ہوئے، اس کا ذکر نہ طبقہٴ دوم میں کیا اور نہ سوم وچہارم میں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں موجودضعیف روایات کی کثرت کی وجہ سے امام ولی اللہ نے اسے طبقہٴ دوم کی کتب میں شامل نہیں کیا۔
روایات سنن ابن ماجہ کی نوعیت:
          سنن ابن ماجہ میں ایک بڑی تعداد ان روایات کی ہے، جو کتبِ خمسہ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ترمذی) میں نہیں پائی جاتیں۔ امام ابن ماجہ ان احادیث کی روایت میں منفرد ہیں۔ ان میں بہت سی ضعیف الاسناد احادیث بھی ہیں۔ حافظ ابن حجر نے فرمایا: ”وفیہ احادیث کثیرة منکرة“(۲۱)(اس میں منکر روایات بہ کثرت ہیں)۔
          حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ ابن ماجہ نے کتاب مرتب کرکے ابوزرعہ پر پیش کی۔ انھوں نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ شاید اس میں تیس سے زیادہ ایسی حدیثیں نہیں، جن کی اسناد میں ضعف ہے، سیراعلام النبلاء میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ابوزرعہ کا قول کہ اس میں تیس سے زیادہ ضعیف حدیثیں نہیں، اگر یہ قول صحیح ہے تو اس سے مراد تیس ایسی حدیثیں ہیں جو مردود (المطرحہ الساقطہ) ہیں؛ لیکن ایسی روایات جو احتجاج کے قابل نہیں، وہ ہزار کے قریب ہیں۔ آگے لکھتے ہیں کہ امام ابن ماجہ حافظ الحدیث، بہترین ناقد حدیث، صادق القول اور وسیع العلم ہیں۔ ان کی کتاب سنن کے مرتبہ سے کم تر ہے؛ اس لیے کہ اس میں منکر اور کچھ موضوع روایتیں بھی ہیں۔(۲۲)
          سنن ابن ماجہ کی ۴ہزار روایات میں سے ایک بڑی تعداد (ہزار کے قریب) روایت ناقابلِ استدلال ہونے کی وجہ سے یہ جملہ مشہور ہوا ”کل ما انفرد بہ ابن ماجہ فہو ضعیف“ (ہر وہ روایت جسے امام ماجہ بیان کرنے میں منفرد ہوں وہ ضعیف ہے)؛ لیکن اس جملہ میں حقیقت سے زیادہ مبالغہ سے کام لیاگیا ہے۔ حافظ ابن حجر اس جملہ پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”لیس الأمر فی ذلک علی اطلاقہ فاستقرائی وفی الجملة ففیہ أحادیث کثیرة منکرة“(۲۳) (میرے استقراء وعلم کے مطابق یہ حکم علی الاطلاق درست نہیں، تاہم اس سے انکار نہیں کہ اس میں منکر احادیث کی تعداد زیادہ ہے)۔ علامہ ابن جوزی نے اس کی تیس روایات کو موضوع کہاہے۔
          ابن ماجہ میں بڑی تعداد میں روایات کا ضعیف ہونا اور علامہ ابن جوزی اور حافظ ذہبی اور دوسرے ائمہ کی طرف سے اس کی ایک معتدبہ روایات پر موضوع ہونے کے الزام کے پیش نظر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اسے دوسرے طبقہ کی کتب میں شامل نہیں گردانا۔ حافظ ذہبی نے یہ بات صاف طور پر بیان کی کہ اس کا مرتبہ سنن (ابوداؤد، نسائی اور ترمذی) سے کم تر ہے(۲۴)۔ یہی رائے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کی بھی ہے اور صحیح ہے؛ کیونکہ کتبِ خمسہ میں کوئی بھی ایسی کتاب نہیں، جس میں اتنی بڑی تعداد میں روایات ضعیف ہوں۔
ابن ماجہ اور صحاح ستہ:
          چوتھی صدی ہجری کے وسط میں موجودہ کتبِ ستہ یا صحاحِ ستہ کے تصور کی طرح کتبِ اربعہ کا تصور پیدا ہوا، جس میں صرف صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد اور سنن نسائی تھیں۔ حافظ ابن السکن اور حافظ مندہ نے فقط اِنھیں چارکتابوں کے ذکر پر اکتفا کیا ہے(۲۵)۔ یہ ائمہٴ سنن ترمذی اور ابن ماجہ کو اس پایہ کی کتب نہیں تسلیم کرتے تھے، بعد میں حافظ ابوطاہر سلفی نے پانچویں صدی ہجری میں سنن/جامع ترمذی کو بھی مذکورہ کتبِ اربعہ کے ساتھ ملحق کیا۔ اسی دوران محمد بن طاہر مقدسی (م۵۰۷ھ) نے سنن ابن ماجہ کو بھی کتبِ اربعہ سے ملحق کرنے کی کوشش کی؛ لیکن امام حازمی (۵۸۴ھ) اور ابن جوزی (م۵۹۷ھ) جیسے ائمہ نے اس سے اتفاق نہیں کیا؛ لیکن ترمذی کو کتبِ خمسہ کی حیثیت سے تسلیم کرلیاگیا۔ اس کے بعد حافظ عبدالغنی (م۶۰۰ھ) نے اس کی حسنِ ترتیب اور فقہی ابواب کی منفعت کی بنیاد پر ابن ماجہ کو اصولِ خمسہ سے ملحق کرنے کی کوشش کی جو کامیاب رہی۔ اس کے بعد ابن النجار (م۶۴۳ھ) ابن تیمیہ (م۶۵۲ھ)، امام جزری (م۷۱۱ھ) اوراکثر اہل علم نے ابن ماجہ کو کتبِ ستہ کی حیثیت سے قبول کرلیا؛ لیکن اسی زمانے کے شیخ ابن صلاح (م۶۴۳ھ)، امام نووی(م۶۷۶ھ) اور ابن خلدون (۸۰۸ھ) نے ابن ماجہ کو چھٹی کتاب کی حیثیت سے کبھی نہیں تسلیم کیا۔ یہ ائمہ اور امام حازمی اور علامہ ابن جوزی صرف اصولِ خمسہ ہی کا ذکر کرتے ہیں۔
          جس دوران ابن ماجہ کو کتبِ ستہ میں شامل کرنے کی پہلی کوشش کی گئی، اس وقت علامہ رزین مالکی نے (م۵۲۵ھ) التجرید للصحاح والسنن میں اور ابن الاثیر جزری (م۶۰۶ھ) نے جامع الاصول میں ودیگر علماء مغرب نے موطا کو کتب ستہ میں شامل تسلیم کرلیا(۲۷)۔ اس کے بعد یہ امر طے ہوگیاکہ علماء مغرب کے نزدیک موطا اور بقیہ سہ جانب ائمہ کے یہاں ابن ماجہ شامل صحاح ستہ ہے۔
          ابن ماجہ حسن ترتیب اور اختصار میں بے نظیر ہے۔ اس کتاب کو جس چیز نے عوام وخواص میں پذیرائی اور قبولیت عطا کی وہ اس کا شاندار اسلوب اور روایات کا حسنِ انتخاب ہے۔ ابواب کی فقہی ترتیب سے مسائل کا واضح استنباط اور تراجمِ ابواب کی احادیث سے بغیر کسی پیچیدگی اور الجھن کے مطابقت نے سننِ ابن ماجہ کے حسن کو نکھاراہے۔ اس کی ایک اہم انفرادیت اور خصوصیت یہ ہے کہ امام ابن ماجہ اپنی سنن میں کوئی حدیث مکرر نہیں لائے ہیں۔ یہ وہ خوبی ہے جو بقیہ کتبِ اصول کی کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی۔
          دوسری بات یہ ہے کہ سنن ابن ماجہ میں دیگر کتب سنن کی بہ نسبت بہت زیادہ اختصار سے کام لیاگیا ہے، اس کے باوجود یہ کتاب ضروری مسائل اور احکام کی جامع ہے۔ زیادہ تر اس کتاب میں مسائل اوراحکام سے متعلق احادیث ہیں۔ فضائل ومناقب کی روایات اس کتاب میں نہیں ہیں۔ ابن ماجہ کی ان ہی فنی خصوصیات کے پیش نظر درس وتدریس کے طلبا اور عام قارئین کے لیے مفید سمجھتے ہوئے ائمہٴ حدیث نے اسے کتبِ ستہ سے ملحق کیا ورنہ نفس روایات اور اس کے رواة کا حال دیکھتے ہوئے سننِ دارمی اور دسری کتب، جیسے صحیح ابن حبان، دارقطنی اور کئی دیگر کتب ابن ماجہ سے برتر ہیں؛ لیکن ان کتب کو وہ قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو نصیب ہوا۔ علامہ سخاوی حافظ علائی (م۷۷۱ھ) کے واسطے سے فرماتے ہیں: ”ینبغی أن یکون کتاب الدارمی سادسہا للخمسة بدلہ فانہ قلیل الرجال الضعفاء نادر الأحادیث المنکرة والشاذة“(۲۸) (کتب ستہ میں سنن ابن ماجہ کے بدلے سنن دارمی زیادہ مناسب ہے؛ اس لیے کہ سننِ دارمی میں ضعیف روایات کم ہیں اور منکر وشاذ روایات بھی نادر ہیں)۔
          اسی طرح علامہ سیوطی نے فرمایاکہ دارمی کی کتاب مرتبہ میں سنن اربعہ سے کم نہیں؛ بلکہ اگر اس کو کتب خمسہ سے ملحق کیا جائے تو ابن ماجہ کی بہ نسبت یہ اولیٰ ہے؛ کیونکہ وہ سنن ابن ماجہ سے کہیں فائق ہے۔(۲۹)
تیسرے طبقے کی کتب حدیث:
          اس طبقہ میں حضرت شاہ صاحب نے حدیث کی ان کتابوں کو شامل کیا جو بخاری ومسلم سے پہلے یا ان کے زمانہ میں یا ان کے بعد لکھی گئیں، جن میں صحیح، حسن، ضعیف، معروف، غریب، شاذ، منکر، ثابت، مقلوب سبھی طرح کی حدیثیں مندرج ہیں اوران کو علماء کے درمیان بہت زیادہ شہرت حاصل نہیں ہوئی، گرچہ وہ بالکل انجانی بھی نہیں رہیں۔ اور جن روایات کے ساتھ وہ کتابیں منفرد ہیں وہ فقہاء کے درمیان بہت زیادہ متداول بھی نہیں رہیں اور محدثین نے ان روایات کی صحت وسقم کے بارے میں بہت زیادہ تفحص بھی نہیں کیا۔ ان میں بعض وہ ہیں،جن کے غریب کلمات کی شرح کرکے کسی عالم لغت نے اور ان کی روایات کو سلف کے مذاہب کے ساتھ تطبیق دے کر کسی فقیہ نے اور ان کے مبہمات کی وضاحت کرکے کسی محدث نے اور اس کے رجال کے ناموں کا تذکرہ کرکے کسی مورخ نے کوئی خدمت نہیں کی؛ گوکہ زمانہ مابعد میں ان کی خدمت کی گئی؛ مگر متقدمین نے ان کو درخور اعتناء نہیں سمجھا؛ لہٰذا وہ کتابیں پوشیدگی اور گمنامی میں رہیں، جسے ابو یعلی موصلی (م۳۰۷ھ) کا مسند جو مطبوعہ ہے، عبدالرزاق بن ہمام (م۲۱۱ھ) کی مصنف جو محدث عصر مولانا حبیب الرحمن اعظمیکی تعلیقات کے ساتھ مطبوعہ ہے، ابوبکر عبداللہ بن محمد، معروف بابن ابی شیبہ واسطی (م۲۳۴ھ) کا مصنف جو طبع ہوچکا ہے، عبدبن حمید کسی (م۲۴۹ھ) کا مسند، ابوداؤد سلیمان بن ابوداؤد طیالسی (م۲۰۳ھ) کا مسند جو مطبوعہ ہے؛ مگر یہ مسند خود ابوداؤد کا ترتیب دیا ہوا نہیں؛ بلکہ بعد میں کسی نے ان کی بعض مسموعات کو جمع کیاہے، احمد بن حسین البیہقی (م۴۵۸ھ) کی کتابیں ”السنن الکبریٰ“ دس جلدوں میں ہے، الجامع المصنف فی شعب الایمان جو صرف شعب الایمان بھی کہلاتی ہے، مطبوعہ ہے۔ معرفة السنن والآثار، دلائل النبوة (مطبوعہ)، الاسماء والصفات (مطبوعہ)، القرأة خلف الامام (مطبوعہ)، ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی (م۳۲۱ھ) کی کتابیں: شرح معانی الآثار المختلفة المرویہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الاحکام، جو معانی الآثار کے نام سے مشہور ہے (مطبوعہ)، بین مشکل الآثار (مطبوعہ)، سلیمان بن احمد طبرانی (م۳۶۰ھ) کی کتابیں: جیسے المعجم الکبیر (مطبوعہ)، المعجم الصغیر (مطبوعہ)، المعجم الوسیط (غیرمطبوعہ)۔
          ان حضرات کا مقصد ان تمام روایات کو جمع کرنا تھا، جو انھیں دستیاب ہوجائیں، تلخیص وتہذیب اور قابلِ عمل روایات کا انتخاب ان کا مقصد نہیں تھا، یہ کام انھوں نے بعد والوں کے لیے چھوڑا۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ چونکہ حدیثوں کے ساتھ ان کی سند بیان کردی گئی ہیں، متاخرین سند دیکھ کر ان روایات کا معیار خود متعین کرلیں گے؛ لیکن فی الواقع ایسا ہوا نہیں۔ بعد والوں نے ان کتب کے مصنّفین کی شان وجلالت دیکھ کر ان کی کتابوں پر اسی حالت میں بھروسہ کرلیا۔
چوتھے طبقے کی کتابیں:
          ذخیرئہ حدیث میں کچھ وہ کتابیں ہیں جن کے مصنّفین نے صدیاں بیت جانے کے بعد ان روایات کو جمع کرنے کا قصد کیا، جو پہلے دو طبقوں کی کتابوں میں نہیں تھیں۔ وہ روایات جوامع اور مسانید میں مخفی تھیں۔ ان حضرات نے ان روایات کی شان بلند کی، یہ سات قسم کی روایات ہیں:
۱-       ایسے روایوں کی روایتیں جن کو محدثین نے نہیں لکھا، جیسے بے احتیاط بولنے والے واعظین، گمراہ فرقوں کے لوگ اور روایت حدیث میں کمزور رُوات۔
۲-       صحابہ وتابعین کے آثار یعنی موقوف اور مقطوح روایات۔
۳-       حکماء اور واعظوں کی باتیں، جن کو راویوں نے سہواً یا عمداً مرفوع روایات کے ساتھ خلط ملط کردیا۔
۴-       اسرائیلی روایات۔
۵-       قرآن وحدیث کے احتمالی مطالب۔ کچھ نیک لوگوں نے جو روایت کی باریکیوں کو نہیں جانتے تھے، ان کو بالمعنی روایت کیا اور ان کو مرفوع روایت بنادیا۔
۶-       قرآن وحدیث کے ارشادات سے سمجھی ہوئی باتیں جن کو رُوات نے مستقل بالذات حدیثیں بنادیا۔
۷-       مختلف حدیثوں کے متفرق جملے جن کو ملاکر ایک سیاق کی حدیث بنادیاگیا۔
          یہ روایات عام طور پر درج ذیل کتابوں میں پائی جاتی ہیں:
          (۱) ابوحاتم محمد بن حبّان بُستی (م۳۵۴ھ) کی کتاب الضعفاء والمجروحین۔
          (۲) ابواحمد عبداللہ بن عدی جرجانی (م۳۶۵ھ) کی الکامل فی الضعفاء والمتروکین (اس کتاب میں ہر متکلم فیہ راوی کا تذکرہ کیا ہے، اگرچہ وہ صحیحین کا راوی ہو)۔
          (۳) خطیب بغدادی، ابوبکر احمد بن علی (م۵۶۳ھ) کی کتابیں مثلاً تاریخ بغداد (اس کتاب میں احادیث کا کافی ذخیرہ ہے)۔
          الکفایة فی علم الروایة (اصول حدیث میں)، اقتضاء العلم العمل، موضح احکام الجمع والتفریق، الفوائد المنتخبة اورالجامع لاخلاق الراوی وآداب السامع۔
          (۴) حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی (م۴۳۰ھ) کی کتابیں، مثلاً حلیة الاولیاء، طبقات الاصفیاء اور دلائل النبوة ومعرفة الصحابہ۔
          (۵) ابواسحاق جوزجانی احمد بن عبداللہ محمد شام (م۲۵۹ھ) کی کتابیں، جیسے کتاب فی الجرح والتعدیل اور کتاب الصغفاء۔
          (۶) ابوالقاسم ابن عساکر علی بن الحسن دمشقی (م۵۷۱ھ) کی کتابیں، مثلاً: تاریخ دمسق الکبیر، جس کی شیخ عبدالقادر بدران نے تلخیص کی ہے، جو تہذیب تاریخ ابن العساکر کے نام سے طبع ہوئی ہے۔
          (۷) ابن النجار محمد بن محمود بغدادی (م۶۴۳ھ) کی کتابیں، جیسے: الدرة الثمینة فی اخبار المدینة اور الکمال فی معرفة الرجال۔
          (۸) الدیلمی شیرویہ بن شہردار (م۵۰۹ھ) کی کتاب فردوس الاخبار۔ جس کا اختصار ان کے صاحب زادے شہردار بن شیرویہ (م۵۵۸ھ) نے کیاہے، جس کا نام مسند الدیلمی ہے۔
          (۹) قاضی القضاة ابوالموید محمد بن محمود خوارزمی (م۶۵۵ھ) کی کتاب جامع مسانید الامام ابی حنیفہ کو بھی اسی طبقہ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس میں امام اعظم کی پندرہ مسانید کو جمع کیاگیا ہے۔
          اس طبقہ (چہارم) کی کتابیں علامہ ابن الجوزی عبدالرحمن بن علی (م۵۹۷ھ) کی کتاب الموضوعات وغیرہ ہیں۔ یعنی زیادہ تر انھیں کتابوں کی روایات پر انھوں نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے۔
چاروں طبقات کی کتابوں کے احکام:
          پہلے اور دوسرے طبقہ کی کتابوں کے بارے میں حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انھیں کتب پر محدثین کا اعتماد ہے اور انھیں پر قناعت کرتے ہیں۔(۳۰)
          تیسرے طبقے کی کتابوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کتب سے قابلِ عمل روایات وہی حضرات منتخب کرسکتے ہیں، جو حاذق وناقد ہیں، جن کو راویوں کے حالات اور اسانید کی خرابیاں معلوم ہیں۔ اور کبھی کبھار اس طبقہ کی روایات شواہد ومتابعات کے لیے بھی قبول کی جاتی ہیں؛ جب کہ چوتھے درجے کی روایت سے شغل رکھنا، ان کو جمع کرنا اور ان سے مسائل مستنبط کرنا متاخرین کا ایک طرح کا غلو اور تعمق ہے۔ روافض اور معتزلہ اور ان جیسے دیگر فرق سے وابستہ لوگوں کو انھیں کتابوں سے مواد ہاتھ آتا ہے؛ جب کہ اس طبقہ کی کتابوں میں درج روایات سے علمی سطح پر استدلال درست نہیں چہ جائے کہ ان سے عقائد اخذ کیے جائیں، جیساکہ گمراہ فرقوں نے کیا۔(۳۱)
          اس کے بعد حضرت شاہ صاحب نے ایک پانچواں طبقہ بھی بیان کیاہے، فرماتے ہیں کہ اس طبقہ کی کتابیں دراصل حدیث کی کتابیں نہیں؛ بلکہ فقہ یا تاریخ کی کتابیں ہیں یا صوفیاء کے ملفوظات یا دیگر موضوعات پر لکھی گئی ہیں۔ شاہ صاحب نے ان کتابوں کے لیے اک پانچواں طبقہ علاحدہ قائم کیا ہے، فرماتے ہیں کہ پانچویں درجہ میں وہ روایتیں ہیں جو فقہاء، صوفیاء، مورخین اور اس قسم کے دوسرے حضرات جیسے واعظین ومبلغین کی زبانوں پر معروف ہیں؛ مگر مذکورہ چار طبقات کی کتابوں میں ان کی کوئی اصل نہیں پائی جاتی۔ اس طبقہ میں بعض روایتیں وہ بھی ہیں جو بے حیا لوگوں نے دین میں داخل کردی ہیں، جو عربی زبان جانتے تھے؛ اسی لیے اچھے مضمون پر مشتمل کوئی بلیغ فقرہ بناکر حدیث کے نام سے چلتا کرتے تھے۔ وہ کلامِ نبوت کے مشابہ ہوتا ہے؛ اسی لیے آسانی سے اس کو حدیث باور کرلیا جاتا ہے۔ پھر وہ بددین مزید چالاکی یہ کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ قوی سند جوڑدیتے ہیں، جس پر جرح ممکن نہیں ہوتی۔ ان لوگوں کی یہ حرکت دین میں بڑا فتنہ ہے؛ مگر نقادِ حدیث ان روایات کو متابعات اور شواہد کے ساتھ ملاتے ہیں تو ان روایات کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔(۳۲)
***


حواشی ومراجع:
(۱)         حجة اللہ البالغہ، ۱/۱۳۳، ادارة الطباعة المنیریة، ۱۳۵۲ھ۔ اس مقالہ میں مفتی سعید احمد پالن پوری دام ظلہ (شیخ الحدیث و صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند) کی ”رحمة اللہ الواسعہ شرح حجة اللہ البالغہ“ جلد ۲ سے حضرت شاہ ولی اللہ کی عبارت کا مفہوم اور اس کی شرح وغیرہ میں مدد لی گئی ہے۔    
(۲)        مالک حیاتہ وعصرہ وآراء ہ وفقہہ، ۲۹۶، ابوزہرہ، قاہرہ، ۱۳۶۳ھ۔
(۳)        ایضاً۔
(۴)        محاسن الاصطلاح وتضمین کتاب ابن صلاح، ص۱۴۱، سراج الدین بلقینی، دارالکتب، مصر ۱۹۷۴/۔
(۵)        مقدمہ ابن صلاح، ص۱۳۶۔
(۶)        تذکرة الحفاظ ۱/۲۰۸، ابوعبداللہ شمس الدین الذہبی، حیدرآباد ۱۳۳۵ھ۔
(۷)        شرح الزرقانی علی صحیح الموطا، ص۹، محمد زرقانی، مصر۔
(۸)        مصفی ۱/۷۔
(۹)        الحدیث والمحدثون، ص۲۸۱، محمد محمد ابوزہو، مصر ۱۳۷۸ھ۔
(۱۰)       مالک حیاتہ، ص۱۲۲۔
(۱۱)        ایضاً۔
(۱۲)       مقدمہ ابن صلاح، ص۱۰۱۔
(۱۳)       حجة اللہ البالغہ ۱/۱۳۴۔
(۱۴)       ایضاً۔
(۱۵)       تدریب الراوی، ۱/۷۳، جلال الدین سیوطی، پاکستان ۱۳۷۹ھ۔
(۱۶)       مقدمہ ابن صلاح، ص۱۱۲۔
(۱۷)       تعجیل المنفعہ، ص۳، حافظ ابن حجر عسقلانی، حیدرآباد ۱۳۲۷ھ۔
(۱۸)       توجیہ النظر، ص۵۳، طاہر بن صالح بن احمد الجزائری، مصر ۱۳۲۸ھ۔
(۱۹)       نیل الاوطار، ۱/۱۰، محمد بن علی الشوکانی، مصر، مطبع بولاق۔
(۲۰)       تدریب الراوی ۱/۱۷۲۔
(۲۱)       تہذیب التہذیب ۹/۵۳۱، حافظ ابن حجر عسقلانی، حیدرآباد ۱۳۲۶ھ۔
(۲۲)       سیراعلام النبلاء، ترجمہ امام ابن ماجہ محمد بن یزید، شمس الدین الذہبی، قاہرہ ۱۹۶۱/۔
            ایضاً، دیکھیے تذکرة الحفاظ ۲/۱۵۹، شروط الائمة الستة، ص۷۲ پر ابوذرعہ الرازی فرماتے ہیں: طالعت کتاب ابی عبد اللّٰہ فلم اجد فیہ الاقدر یسیر مما فیہ شيء․
(۲۳)      تہذیب التہذیب ۹/۵۳۱۔
(۲۴)      سیر اعلام النبلاء، ترجمہ امام ابن ماجہ، محمد بن یزید۔
(۲۵)      شروط الائمہ الستة، ص۷۱۔
(۲۶)       Gold Aihar, Muslim Studies, P.240. V-2. Oxford, London, 1971
(۲۷)      مقدمہ ابن صلاح، ص۱۱۲، فتح المغیث، ص۳۳، شمس الدین محمد السخاوی، مطبع انوارمحمدی ۱۳۰۳ھ۔
(۲۸)      فتح المغیث، ص۳۳۱۔
(۲۹)       تدریب الراوی ۱/۱۷۴۔
(۳۰)      حجة اللہ البالغہ ۱/۱۳۵۔
(۳۱)       ایضاً۔
(۳۲)      ایضاً۔
...........................................................................................................

از:   علامه          ڈاکٹر محمد سلیم قاسمی‏( بتغیر یسیر  )    اکبر حسین اورکزئی


ہفتہ، 5 اکتوبر، 2019

عوام کی حاکمیت جمہوریت ایک جائزہ



استفادہ تحریر: اسلام اور جدید سیاسی نظریات.  از مفتی تقی عثمانی
 آج کا سب سے زیادہ فیشن ایبل سیاسی نظریہ سیکولر جمہوریت ہے، اس وقت دنیا میں یہ کہا اور سمجھا جارہا ہے کہ دنیا کے مختلف نظاموں کے تجربات کرنے کے بعد آخر میں میں سیکولر جمہوریت ہی سب سے بہتر نظام حکومت ہے۔ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب اس سے بہتر نظام حکومت وجود میں نہیں آسکتا۔ ابھی حال ہی میں امریکہ کی وزارت خارجہ کے ایک بڑے افسر کی طرف سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام “The End of the History and the Last Man” ’’تاریخ کا خاتمہ اور آخری آدمی‘‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تاریخ میں جو ارتقاء ہوتا رہا ہے اس کے بعد اب تاریخ اپنی انتہا پر جا پہنچی ہے۔ سیکولر جمہوریت دریافت کرنے کے بعد لبرل جمہوریت تیار کرنے کے بعد اب کوئی اچھا نظام وجود میں نہیں آسکتا۔ یہ باقائدہ اسی طرح کی پیش گوئی ہے جیسے کسی زمانے میں کارل مارکس کہا کرتا تھا کہ اشتراکی نظام ہی دنیا کا آخری نظام ہے اور اس کے بعد کوئی اور بہتر نظام وجود میں نہیں آئے گا۔ اسی طرح سیکولر جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں بھی یہ بات کہی جارہی ہے۔ بالخصوص روس کی سوویت یونے کے سقوط کے بعد یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ سیاست میں سیکولر جمہوریت اور معیشت میں سرمایہ دارانہ نظام کو عملا ایسی فتح حاصل ہوگئی ہے کہ اب کوئی دوسرا نظام اس کی ہم سری نہیں کرسکتا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ نظام جس کو جمہوریت کہا جاتا ہے یہ کس قدر پختہ او رمعقول نظام ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کے تحت ایسے اصول دنیا میں پھیلے جنہوں نے بحیثیت مجموعی فرد کی آزادی کو فائدہ پہنچایا اس سے پہلے مطلق العنان حکومتیں اور بادشاہتیں تھیں یا ڈکٹیٹر شپ تھی، ان میں جو جبر تشدد ہوتا تھا یا فرد پر جونارواپابندیاں عائد ہوتی تھیں، اس نظام میں ان کا بڑی حد تک خاتمہ ہوا اور یہ بھی درست ہے کہ لوگوں ک یاظہار رائے پر جو قدغن تھی وہ جمہوریت نے دور کی اور مطلق االعنان بادشاہوں میں جو گھٹن کی فضا پائی جاتی تھی اس کو جمہوریت نے بڑی حد تک رفع کیا، لیکن اگر اس کے بنیادی تصور کے لحاظ سے دیکھئے تو یہ نظام در حقیقت کسی سنجیدہ فکر پر مبنی نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں کے ان نظاموں کا رد عمل ہے جو خود ساختہ تصورات کے تحت لوگوں پر جابرانہ حکومت کررہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ یورپ کی تاریخ کے بیشتر حصے میں مطلق العنان بادشاہتیں رہیں، اگر کہیں مذہب کا درمیان میں ذکر آیا یا مذہب کو بنیاد بنایا گیا بھی تو تھیوکریسی کی ان خرابیوں کے ساتھ سلطنت روما کی تھیوکریسی میں درحقیقت کوئی روحانی بنیاد موجود نہیں تھی محض پوپ کے ذاتی تصورات کو معصوم قرار دے کر ان کو مذہبی حکمت کے طور پر نفاذ کیا جاتا تھا اور اس سے لوگوں کے حقوق پا مال ہوتے تھے۔ اس کا رد عمل ے ہوا کہ جمہوریت والوں نے مذہب کا جوا بالکل اتا رپھینکا، اور تصور یہ قائم ہوا کہ حاکمیت اعلیٰ خود عوام کو حاصل ہے۔
جمہوریت در اصل انگریزی لفظ ڈیموکریسی (Democracy) کا ترجمہ ہے۔ جس کے معنی ہیں عوام کی حاکمیت۔ اس طرح نظریہ یہ وجود میں آیا کہ عوام خود حاکم ہیں۔ پھر عوام کے خود حاکم ہونے کے تصور کوسیکولرازم کے ساتھ وابستہ کرنا پڑا جس کا مطلب یہ تھا کہ ریاست کے معاملات میں کسی دین اور مذہب کی پابندی نہیں ہے۔ مذہب انسانوں کا ذاتی معاملہ ہے جو ان کی انفرادی زندگی سے متعلق ہے، لیکن سرکار کے معاملات سے اس کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ کیونکہ عوام جب خود حاکم ہیں، اور کسی دوسری اتھارٹی کے پابند نہیں ہیں تو اس کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ وہ حکومت کے معاملات میں کسی الٰہی قانون کے بھی پابند نہیں بلکہ وہ خود فیصلہ کریں گے کہ کیا چیز اچھی اور کیا چیز بُری ہے؟ لہٰذا آزاد جمہوریت یا لبرل ڈیموکریسی سیکولرازم کے بغیر نہیں چل سکتی۔ حاکمیت کے معنی خود علم سیاست کے ماہرین یہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کا کسی دوسرے کا پابند ہوئے بغیر خود اپنی مرضی سے حاکمانہ اختیارات استعمال کرنا یا دوسرے پر احکام جاری کرنا۔ خود علم سیاست کی رو سے یہ حاکمیت کے معنی قرار دیتے جاتے ہیں۔ لہٰذا جب یہ کہا جائے کہ عوام حاکم ہیں تو اسکے معنی یہ ہیں کہ وہ کسی دوسری اتھارٹی کے پابند نہیں ہیں حالانکہ عوام کی اکثریت اپنے بنائے ہوئے نمائندوں کی اتھارٹی کے پابند ہوتے ہیں، پھر وہ حاکمیت کہاں رہی؟ دوسرے عوام کو بے مہار طریقے پر حاکم ماننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوا کہ اس جمہوری حکومت کا مقصد کیا ہے؟ یہ کس مقصد کے تحت وجود میں لائی جائیگی؟
اس سوال پر علم سیاست کے ماہرین نے گفتگو کی ہے کہ جمہوریت کا کیا مقصد ہے؟ جب کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آیا تو کسی نے عاجز آکر کہا کہ حکومت بذات خود مقصد ہے۔ یہ ایک تھیوری ہے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اس حکومت کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوشی فراہم کرنا ہے، اور عوام جو کچھ بھی احکام جاری کریں گے خوشی فراہم کرنے کیلئے کریں گے۔ لیکن خوشی تو ایک اضافی چیز ہے، ایک شخص کو ایک کام میں خوشی ہوتی ہے اور دوسرے شخص کو دوسرے کام میں خوشی ہوتی ہے، اب کون سی خوشی کو مقدم رکھا جائے؟ اس کا کوئی اطمینان بخش خواب سوائے اس کے نہیں ہے کہ جس کام میں اکثریت کو خوشی حاصل ہو وہی خوشی برحق ہے لیکن سارے عوام کو تو خوشی حاصل نہ ہوئی، اس کے علاوہ اگر عوام کی اکثریت کو کسی بداخلاقی میں خوشی حاصل ہوجائے تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس بد اخلاقی کا رواج بھی جمہوریت کے مقاصد میں شامل ہوگیا۔آخری تھیوری جو سب سے زیادہ مقبول سمجھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جمہوری حکومت کا مقصد ہے عوام کے حقوق کا تحفظ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کے جن حقوق کا تحفظ مقصود ہے وہ حقوق کون متعین کرے گا؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ بھی خود عوام ہی کرینگے۔ لیکن عوام کا حال یہ ہے کہ وہ آج ایک چیز کو حق قرار دیتے ہیں اور کل اس کے حق ہونے سے منکر ہوجاتے ہیں اس لئے حقوق کا کوئی مطلق یا دائمی تصور موجود نہیں ہے بلکہ حقوق سارے کے سارے اضافی ہیں۔بہرحال! جمہوریت مبینہ مقاصد میں کہیں بھی آپ یہ نہیں پائیں گے کہ خیر کو پھیلایا جائے گا اور شرکو روکا جائے گا اچھائی کو فروغ دیا جائے گا اور برائی کو روکا جائے گا یہ اس لئے نہیں کہتے کہ اول تو اچھائی اور بُرائی کا کوئی اَبدی دائمی معیار ان کے پاس نہیں ہے کہ فلاں چیز اچھی اور فلاں چیز بُری ہے۔ بلکہ اب تازہ ترین فلسفہ یہ ہے کہ خیر اور شر کوئی چیز نہیں ہے دنیا میں ساری چیزی اضافی ہیں، ایک زمانے میں ایک چیز خیر ہے اور دوسرے زمانے میں وہ شر ہے ایک زمانے میں ایک چیز شر ہے اور دوسرے زمانے میں وہ خیر ہے، اور ایک ملک میں خیر ہے دوسرے ملک میں شر ہے ایک ماحول میں خیر ہے اور دوسرے ماحول میں شر ہے یہ اضافی چیزیں ہیں ان کا کوئی اپنا حقیقی وجود نہیں ہے بلکہ خیر و شر کے پیمانے ماحول کے زیر اثر متعین ہوتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ جب سیکولر جمہوریت کا رواج ہوا ہے اسی وقت سے مغرب میں اخلاقی بے راہ روی جنسی بے راہ روی کا طوفان اٹھا ہے کیونکہ جمہوریت نہ کسی اخلاقی قدر کی یا پابند ہے نہ کسی آسمانی ہدایت سے فیض یاب ہے، بلکہ عوام کی اپنی مرضی اور خواہش پرسارا دارومدار ہے ۔
جمہوریت میں خیر و شر کا تعین :
حال ہی میں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے جنس پرستی کو سندِ جواز دی، اور اس کے جواز کا قانون تالیوں کی گونج میں منظور کیا اور اس کے بعد یورپ کے بعض ممالک میں ہم جنس شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا جارہا ہے، جس وقت برطانیہ کی پارلیمنٹ میں یہ بل پیش ہوا تو سب لوگ تو اسکے حامی نہیں تھے اختلاف رائے موجود تھا، اس اختلاف رائے کو دور کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی اس کمیٹی کو “Wolfendern Committee” کہا جاتا ہے۔ وہ کمیٹی اس لئے بنائی گئی تھی کہ وہ اس معاملے میں رائے عامہ کااندازہ لگائے اور جو مفکرین اور دانشور ہیں، ان سے تبادلہ خیال کرے اور بالآخر یہ رپورٹ پیش کرے کہ ایوان رائے عامہ کا جائزہ لینے کے بعد اور تمام متعلقہ حلقوں سے گفتگو کرنے کے بعد کس نتیجے پر پہنچے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ بڑی عبرت ناک ہے۔ اس رپورٹ میں کمیٹی نے جو باتیں کہی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جنس پرستی ایک بُرائی ہے لیکن ہماری دشواری یہ ہے کہ ہم نے اپنے پروگرام کو اچھائی یا بُرائی پر تعمیر نہیں کیا ہے بلکہ اس بنیاد پر تعمیر کیا ہے کہ افراد اپنے لئے قانون طے کرنے کے لئے آزاد ہیں اور جب ہم نے یہ اصول تسلیم کرلیا تو قانون کا دائرہ کار اخلاق کے دائرہ کار سے بالکل الگ ہوگیا ہے قانون اور چیز ہے اور اخلاق اور چیز ہے اخلاق انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور قانون رائے عامہ کا مظہر ہے۔
لہٰذا جب تک معاشرے میں کوئی ایسی کوشش نہیں کی جو بد اخلاقی یا گناہ کو جرم کے مساوی قرار دے دے، تو اخلاق اور قانون کا دائرہ کار الگ رہے گا اور یہ قانو ن کاکام نہیں ہے کہ وہ خیر اور شر کا فیصلہ کرے کہ کون سی چیز اچھی ہے اور کون سی چیز بُری ہے لہٰذا ہم اس قانون کی حمایت میں رائے دینے پر مجور ہیں جب رائے عامہ اس کے جواز کی طرف جاری ہے تو ہم اس پر یہ رائے دیں گے کہ یہ قانون بنادیا جائے۔ چنانچہ اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر برطانیہ کے دارالعوام نے یہ فیصلہ کردیا کہ ہم جنس پرستی قانوناً جائز ہے اور جب برطانیہ پر یہ قانو ن بنایا تو امریکہ نے بھی بنایا اور اب یورپ ار امریکہ میں ان کی باقاعدہ جماعتیں قائم ہیں جن کو ہم جن پرست کہتے ہیں برسرعام یہ لوگ اپنے آپ کو Gay کہتے ہیں اس کے لفظی معنی ہیں مگن، یعنی خوشی میں مگن، ان کی جماعتیں ہیں اور ان کی تنظیمیں ہیں جن کے ذریعے وہ اس نقطہ نظر کا پرچار کرتے ہیں، نہ صرف پرچار کرتے ہیں مرد gay کہلاتے ہیں او رعورتیں Lesbian کہلاتی ہیں۔
ایک اور تنظیم چلی ہے جو Swap Union کہلاتی ہے، اس کے معینی تبادلہ ہے اور اس سے مراد بیویوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور اس کے کلب قائم ہیں، چونکہ ابھی تک یہ قانون نافذ ہے کہ غیر شادی شدہ عورت کو اجازت ہے کہ وہ جوچاہے کرے لیکن ایک شادی شدہ عورت کسی دوسرے مرد کے ساتھ زنا نہیں کرسکتی کیونکہ اس سے شوہر کا حق پامال ہوتا ہے لیکن Swap union کی تنظیم کی طرف سے اب یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ پابندی ختم ہونی چاہئے اب شادی شدہ عورت کو بھی اجازت ملنی چاہئے کہ وہ جو چاہے کرے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت یورپ اور امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں لوگوں کی اکثریت یا کم از کم بہت بڑی تعداد غیر ثابت النسب ہے، بعض ریاستوں کے اعداد وشمار شائع ہوچکے ہیں، اور بعض کے نہیں ہوئے ہیں، ابھی کچھ عرصے قبل “Time” رسالے میں ایک مضمون آیا تھا کہ امریکہ میں غیر ثابت النسب افراد کی تعدا بڑھتی جارہی ہے افسوس اس بات کا نہیں تھا کہ یہ کیسی قوم پیدا ہورہی ہے جو ثابت النسب نہیں ہے اس بات پر اخلاقی اعتبار سے کوئی تشویش نہیں تھی، تشویش صرف یہ تھی کہ جو بچے غیر ثابت النسب ہوئے ہیں، ان کا معاشی طور پر دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ارو اس سے معاشی مسائل پیدا ہورہے ہیں، معاشی مسائل کی وجہ سے وہ یہ مسئلہ قابل غور تھا، فی نفسہ غیر اخلاقی ہونے کی وجہ نہیں، اور اب عورتوں نے یہ مطالبہ شروع کردیا ہے اور بعض ریاستوں میں منظوری بھی ہوگئی ہے کہ اسقاط حمل کی قانونی اجازت ہونی چاہیے اور اس کے حق میں بہت بڑی قضا بن رہی ہے جس رفتار سے یہ بات چل رہی ہے اس سے اندازہ یہی ہے کہ اسقاط حمل کی اجازت ہوجائیگی،
ایک زمانہ تھا کہ عریانی قانوناً منع تھی۔ لیکن اب رفتہ رفتہ ساری قیدیں ختم ہوگئی ہیں، اب کوئی قید برقرار نہیں ہے اس وقت عریاں فلموں اور تصاویر کا جو سیلاب ہے وہ ہمارے ملک میں بھی آرہا ہے اٹھتا وہاں سے ہے اور پہنچتا یہاں بھی ہے اس کے اوپر کوئی روک عائد نہیں ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی بنیاد نہیں ہے جس کی بناء پر روکا جائے کیونکہ جب عوام کی حاکمیت ٹھہری اور وہ اس کو پسند کرتے ہیں تو اسے ناجائز کہنے کی کویء معقول دلیل نہیں ہے غرض کوئی بد سے بدتر کام ایسا نہیں ہے جو جمہوریت کے سائے میں جائز قرار نہ دیا جارہا ہو اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے یعنی خاندان کے جو رشتے ختم ہوچکے ہیں۔ حد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طور پر ایڈز کی بیماری مسلط کردی ہے یہ بیماری پیدا کیسے ہوئی؟ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ بیماری دو چیزوں سے پیدا ہوئی ہے ایک ہم جنس پرستی دوسرے ایک شخص کا کئی عورتوں سے یا ایک عورت کا کئی مردوں سے جنسی تعلق قائم کرنا۔ لیکن بیماری کے نتیجے میں بجائے اس کے کہ فحاشی میں اور اضافہ ہوگیا اس لئے کہ ایڈز کی بیماری کو روکنے کے لئے یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ناجائز جنسی تعلق قائم نہ کرو، لہٰذا یہ کہتے ہیں کہ ان حفاظتی تدابیر کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرو اور ان تدابیر کے لئے باقاعدہ تعلیمی کورس منعقد ہوتے ہیں، ٹیلی ویژن پر عملی تربیت دی جاتی ہے اور کوئی تعلیم گاہ ایسی نہیں ہے جس میں جنسی تعلیم کا انتظام نہ کیا گیا ہو، بات کہتے ہوئے بھی ایک حجاب معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت حال بتانے کے لئے عرض کردیتا ہوں کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جہاں غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیاں پڑھتے ہیں وہاں ایڈز کی روک تھام کے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے غسل خانے میں وہ خود کار مشینیں لگائی ہوئی ہیں جن کے اندر پیسے ڈال کر کنڈوم نکل آتا ہے تاکہ بوقت ضرورت ہر آدمی وہ کنڈوم استعمال کرسکے، اس طرح جو بیماری درحقیقت اس جنسی بے راہروی سے پیدا ہوئی تھی اس کی روک تھام کی جو تدابیر اختیار کی گئیں ان سے جنسی بے راہ روی کو اور فروغ ملا، غرض کوئی اخلاقی قدر سالم نہیں رہی اور کمال کی بات یہ ہے کہ جو انتہائی حیرت ناک اور عبرت ناک بھی ہے کہ جس معاشرے میں زنا ارو بدکاری اتنی سستی ارو آسان ہے ، کسی بھی عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، برسر عام طوائفوں کا سلسلہ بے روک ٹوک جاری ہے، بعض ملکوں میں قانوناً عصمت فروشی کی اجازت ہے، عصمت فروشی کی باقاعدہ کمپنیاں بنی ہوئی ہیں اس کے باوجود امریکہ میں زنا بالجبر کے جتنے واقعات ہوتے ہیں، دنیا میں کہیں نہیں ہوتے، جہاں رضا مندی کے ساتھ یہ عمل کرنا اتنا آسن ہے، وہاں زنا بالجبر کی شرح تمام دنیا سے زیادہ ہے، تعداد ازواج منع ہے، جسے ایک گالی بنادیا گیا ہے۔ ایک سے زیادہ شادی کرلیں تو قید ہوجائیں، اور دس فحاش عورتوں کے ساتھ تعلق قائم کرلیں تو اجازت ہے، اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ سارا نتیجہ عوام کی بے لگام حاکمیت کے اس تصور کا ہے جو سیکولر جمہوریت نے پیدا کیا ہے۔
عوام کی حاکمیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ درحقیقت یہ لفظ بھی ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ اس لفظ کے ذریعے عوام کو خوش کردیا گیا ہے کہ تم حاکم بن گئے لیکن حقیقت میں ہوتا یہ ہے کہ حکومت میں عوام کی شرکت محض ایک تخیلاتی اور تصوراتی حیثیت رکھتی ہے، عملاً اکثر جگہوں پر عوام کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ حکومت کیا کررہی ہے؟ اس لئے جو لوگ جمہوریت کے حامی ہیں، وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جمہوریت کی کامیابی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب عوام میں تعلیم کا معیار بلندہو، ان میں سیاسی شعور ہو، اور وہ اپنے لئے بہترحکمرانوں اور بہتر نظام کا انتخاب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، لیکن اگر تعلیم کا معیار گرا ہوا ہے تواس وقت عوام کی حکومت میں شرکت حقیقت میں نہیں ہوتی بلکہ لیڈران کو گمراہ کرتے ہیں جو نعرہ لیڈروں نے لگادیا اس پر چل پڑے، لہٰذا جن ملکوں میں تعلیم کا معیار بلند ہے، وہاں پر جمہوریت نسبتاً زیادہ مستحکم ہے اور جن ملکوں میں تعلیم کا معیار گرا ہوا ہے وہاں جمہوریت ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے مثلاً ہمارے ملک میں پارلیمانی نظام رائج ہے اور پارلیمانی نظام کا اصل تصور یہ ہے کہ پہلے منشور کی بنیاد پر پارٹیاں بنیں، ان پارٹیوں کے منشور کی بنیاد پر لوگ ان کو ووٹ دیں اور ووٹ دینے کے نتیجے میں جو پارٹی اکثریت میں آجائے وہ حکومت بنائے، اب ہمارے ہاں خواندگی کی شرح تو بمشکل 22 فیصد ہے اور آبادی کے اضافے کی وجہ سے بڑھنے کے بجائے گھٹ رہی ہے زیادہ تر آبادی دیہاتی اور ان پڑھ ہے، ان اُن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ پہلے وہ سیاسی جماعتوں کے منشوروں کا تقابلی مطالعہ کریں کہ پیپلز پارٹی کا منشور کیا اور مسلم لیگ کا منشور کیا ہے؟ اور ان منشوروں کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کریں کہ ہمارے ملک کے حالات میں کونسا منشور زیادہ بہتر ہے؟ اور اس فیصلے کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کو یا مسلم لیگ کو ووٹ دیں، ظاہر ہے کہ ناخواندہ عوام سے یہ مطالبہ کرنا حماقت ہی کہلا سکتا ہے۔ لہٰذا عملاً اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ لیڈ رایک نعرہ دے گا جس میں ہزار فریب ہونگے اور اس نعرے کی بنیاد پر عوام کے جذبات کو بھڑکا کر ان کا ووٹ اپنے حق میں استعمال کرے گا۔
پھر اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو صحیح معنی میں سیاسی ذوق رکھتے ہوں اور اس سیاسی ذوق کے مطابق دیکھ بھال کر سوچ سمجھ کر فیصلے کرتے ہوں۔ چنانچہ جہاں جہاں انتخابات ہوتے ہیں ان میں اگر اوسط نکالا جائے تو 45 فیصد سے زیادہ لوگ ووٹ نہیں ڈالتے۔
اب آپ دیکھئے کہ اس معاشرے میں جہاں تعلیم کا اوسط 100 فیصد کے قریب ہے، وہاں سیاسی دلچسپی کا یہ حال ہے لہٰذا حقیقی معنی میں عوام یا ان کی اکثریت کے حکومت میں شریک ہونے کا دعویٰ ایک تخیلاتی دعویٰ ہے جس کاعمل میں کوئی وجود نہیں ہے۔ پھر لٹریسی ریٹ کا ہائی ہونا بھی اس بات کی گارنٹی نہیں کہ ملک و قوم کے لیے ایک بہتر شخصیت کا انتخاب ہوگا امریکہ میں ٹرمپ کے صدر بننے کی مثال سب کے سامنے ہے . واللہ اعلم

منگل، 24 ستمبر، 2019

جنگِ خندق


اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی سِلامٌ عَلیٰٓ عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اسْطَفی

۵ھ؁ کی تمام لڑائیوں میں یہ جنگ سب سے زیادہ مشہور اور فیصلہ کن جنگ ہے چونکہ دشمنوں سے حفاظت کے لئے شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی اس لئے یہ لڑائی ”جنگ خندق” کہلاتی ہے اور چونکہ تمام کفار عرب نے متحد ہو کر اسلام کے خلاف یہ جنگ کی تھی اس لئے اس لڑائی کا دوسرا نام ”جنگ احزاب”(تمام جماعتوں کی متحدہ جنگ)ہے،قرآن مجید میں اس لڑائی کا تذکرہ اسی نام کے ساتھ آیا ہے۔
جنگ خندق کا سبب
میثاق مدینہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے”قبیلہ بنو نضیر” کے یہودی جب مدینہ سے نکال دئیے گئے تو ان میں سے یہودیوں کے چند رؤسا ”خیبر” میں جا کر آباد ہو گئے اور خیبر کے یہودیوں نے ان لوگوں کا اتنا اعزاز و اکرام کیا کہ سلام بن مشکم وابن ابی الحقیق وحیی بن اخطب و کنانہ بن الربیع کو اپنا سردار مان لیایہ لوگ چونکہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے اور انتقام کی آگ ان کے سینوں میں دہک رہی تھی اس لئے ان لوگوں نے مدینہ پر ایک زبردست حملہ کی اسکیم بنائی،چنانچہ یہ تینوں اس مقصد کے پیش نظر مکہ گئے اور کفار قریش سے مل کر یہ کہا کہ اگر تم لوگ ہمارا ساتھ دو تو ہم لوگ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر سکتے ہیں کفار قریش تو اس کے بھوکے ہی تھے فوراً ہی ان لوگوں نے یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی کفار قریش سے ساز باز کر لینے کے بعد ان تینوں یہودیوں نے ”قبیلہ بنو غطفان” کا رُخ کیااور خیبر کی آدھی آمدنی دینے کا لالچ دے کر ان لوگوں کو بھی مسلمانوں کےخلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر لیاپھر بنو غطفان نے اپنے حلیف ”بنو اسد” کو بھی جنگ کے لئے تیار کر لیاادھریہودیوں نے اپنے حلیف ”قبیلہ بنو اسعد” کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا اور کفار قریش نے اپنی رشتہ داریوں کی بنا پر ”قبیلہ بنو سلیم” کو بھی اپنے ساتھ ملا لیاغرض اس طرح تمام قبائل عرب کے کفار نے مل جل کر ایک لشکر جرار تیار کر لیا جس کی تعداد دس ہزار تھی اور ابوسفیان اس پورے لشکر کا سپہ سالار بن گیا۔(زُرقانی ج
۲ ص۱۰۴ تا ۱۰۵)
مسلمانوں کی تیاری
جب قبائل عرب کے تمام کافروں کے اس گٹھ جوڑ اور خوفناک حملہ کی خبریں مدینہ پہنچیں تو حضورِ اقدسﷺنے اپنے اصحاب کو جمع فرما کر مشورہ فرمایا کہ اس حملہ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے؟ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ رائے دی کہ جنگ ِ اُحد کی طرح شہر سے باہر نکل کر اتنی بڑی فوج کے حملہ کو میدانی لڑائی میں روکنا مصلحت کے خلاف ہے لہٰذا مناسب یہ ہے کہ شہر کے اندر رہ کر اس حملہ کا دفاع کیا جائے اور شہر کے گرد جس طرف سے کفار کی چڑھائی کا خطرہ ہے ایک خندق کھود لی جائے تاکہ کفار کی پوری فوج بیک وقت حملہ آور نہ ہو سکے،مدینہ کے تین طرف چونکہ مکانات کی تنگ گلیاں اور کھجوروں کے جھنڈ تھے اس لئے ان تینوں جانب سے حملہ کا امکان نہیں تھا مدینہ کا صرف ایک رُخ کھلا ہوا تھا اس لئے یہ طے کیا گیا کہ اسی طرف پانچ گز گہری خندق کھودی جائے،چنانچہ
۸ ذوقعدہ ۵ھ؁ کو حضور ﷺ تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے،حضور ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے خندق کی حد بندی فرمائی اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم فرما دی اور تقریباً بیس دن میں یہ خندق تیار ہوگئی۔ (مدارج النبوۃ ج۲ ص۱۶۸ تا ۱۷۰)
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ خندق کے پاس تشریف لائے اور جب یہ دیکھا کہ انصار ومہاجرین کڑکڑاتے ہوئے جاڑے کے موسم میں صبح کے وقت کئی کئی فاقوں کے باوجود جوش و خروش کے ساتھ خندق کھودنے میں مشغول ہیں تو انتہائی متأثرہو کر آپ نے یہ رجز پڑھنا شروع کر دیا کہ  ؎     اَ
للّٰھُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَۃ  *******    فَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃ
اے اﷲ!عزوجل بلا شبہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے لہٰذا تو انصار و مہاجرین کو بخش دے۔
اس کے جواب میں انصار و مہاجرین نے آواز ملا کر یہ پڑھنا شروع کر دیا کہ  ؎   
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد پر حضرت محمد ﷺ کی بیعت کر لی ہے جب تک ہم زندہ رہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ (بخاری غزوۂ خندق ج۲ ص۵۸۸)
حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ خودبھی خندق کھودتے اور مٹی اُٹھا اُٹھا کر پھینکتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے شکم مبارک پر غبار کی تہ جم گئی تھی اور مٹی اٹھاتے ہوئے صحابہ کو جوش دلانے کے لئے رجز کے یہ اشعار پڑھتے تھے کہ  ؎
وَاللہِ لَوْلَا اللہُ مَا اھْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا  ...
خدا کی قسم! اگر اﷲ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔
فَاَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِنْ لَاقَیْنَا
لہٰذا اے اﷲ!عزوجل تو ہم پر قلبی اطمینان اتار دے اور جنگ کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ۔
اِنَّ الْاُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا
یقینا ان (کافروں) نے ہم پر ظلم کیا ہے اور جب بھی ان لوگوں نے فتنہ کا ارادہ کیاتو ہم لوگوں نے انکار کر دیا۔
لفظ ”اَبَیْنَا” حضور ﷺ بار بار بہ تکرار بلند آواز سے دہراتے تھے۔
ایک عجیب چٹان
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ خندق کھودتے وقت ناگہاں ایک ایسی چٹان نمودار ہو گئی جو کسی سے بھی نہیں ٹوٹی جب ہم نے بارگاہ رسالت میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ ﷺ اٹھے تین دن کا فاقہ تھا اور شکم مبارک پر پتھر بندھاہوا تھاآپ نے اپنے دست مبارک سے پھاوڑا مارا تو وہ چٹان ریت کے بھربھرے ٹیلے کی طرح بکھر گئی۔ (بخاری جلد
۲ ص۵۸۸ خندق)
اور ایک روایت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس چٹان پر تین مرتبہ پھاوڑا ماراہر ضرب پر اس میں سے ایک روشنی نکلتی تھی اور اس روشنی میں آپ نے شام و ایران اور یمن کے شہروں کو دیکھ لیااور ان تینوں ملکوں کے فتح ہونے کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بشارت دی۔(زُرقانی جلد
۲ ص۱۰۹ و مدارج ج۲ ص۱۶۹)
اور نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مدائن کسریٰ و مدائن قیصر و مدائن حبشہ کی فتوحات کا اعلان فرمایا۔(نسائی ج
۲ ص۶۳)
حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ فاقوں سے شکم اقدس پر پتھر بندھا ہوا دیکھ کر میرا دل بھر آیاچنانچہ میں حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے گھر آیا اور بیوی سے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس قدر شدید بھوک کی حالت میں دیکھا ہے کہ مجھ کو صبر کی تاب نہیں رہی کیا گھر میں کچھ کھانا ہے؟ بیوی نے کہا کہ گھر میں ایک صاع جو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے،میں نے کہا کہ تم جلدی سے اس جو کو پیس کر گوندھ لواور اپنے گھر کا پلا ہوا ایک بکری کا بچہ میں نے ذبح کرکے اس کی بوٹیاں بنا دیں اور بیوی سے کہا کہ جلدی سے تم گوشت روٹی تیار کر لومیں حضور ﷺ کو بلا کرلاتا ہوں،چلتے وقت بیوی نے کہا کہ دیکھنا صرف حضور ﷺ اور چند ہی اصحاب کو ساتھ میں لاناکھانا کم ہی ہے کہیں مجھے رسوا مت کر دینا۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خندق پر آ کر چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!ﷺ ایک صاع آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچے کا گوشت میں نے گھر میں تیار کرایا ہے لہٰذا آپ ﷺصرف چند اشخاص کے ساتھ چل کر تناول فرما لیں،یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے خندق والو!جابر نے دعوت عام دی ہے لہٰذا سب لوگ ان کے گھر پر چل کر کھانا کھا لیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آجاؤں روٹی مت پکوانا،چنانچہ جب حضور ﷺ تشریف لائے تو گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعا فرمائی اور گوشت کی ہانڈی میں بھی اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ پھر روٹی پکانے کا حکم دیااور یہ فرمایا کہ ہانڈی چولھے سے نہ اتاری جائے پھر روٹی پکنی شروع ہوئی اور ہانڈی میں سے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے گوشت نکال نکال کر دینا شروع کیاایک ہزار آدمیوں نے آسودہ ہو کر کھانا کھا لیامگر گوندھا ہوا آٹا جتنا پہلے تھا اتنا ہی رہ گیا اور ہانڈی چولھے پر بدستور جوش مارتی رہی۔(بخاری ج
۲ ص۵۸۹ غزوہ خندق)
بابرکت کھجوریں
اسی طرح ایک لڑکی اپنے ہاتھ میں کچھ کھجوریں لے کر آئی،حضور ﷺ نے پوچھا کہ کیا ہے؟ لڑکی نے جواب دیا کہ کچھ کھجوریں ہیں جو میری ماں نے میرے باپ کے ناشتہ کے لئے بھیجی ہیں،آپ ﷺ نے ان کھجوروں کواپنے دست مبارک میں لے کر ایک کپڑے پر بکھیر دیا اور تمام اہل خندق کو بلا کر فرمایا کہ خوب سیر ہو کر کھاؤچنانچہ تمام خندق والوں نے شکم سیر ہو کر ان کھجوروں کو کھایا۔
(مدارج جلد
۲ ص۱۶۹)
یہ دونوں واقعات حضور سرور کائنات ﷺ کے معجزات میں سے ہیں۔
اسلامی افواج کی مورچہ بندی
حضورِ اقدس ﷺ نے خندق تیار ہو جانے کے بعد عورتوں اور بچوں کو مدینہ کے محفوظ قلعہ میں جمع فرما دیا اور مدینہ پر حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا کر تین ہزار انصار و مہاجرین کی فوج کے ساتھ مدینہ سے نکل کر سَلَع پہاڑ کے دامن میں ٹھہرے سلع آپ کی پشت پر تھااور آپ کے سامنے خندق تھی۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دیااور انصار کا علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بنایا۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۱)
کفار کا حملہ
کفار قریش اور ان کے اتحادیوں نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں پر ہلابول دیا اور تین طرف سے کافروں کا لشکر اس زور شورکے ساتھ مدینہ پر امنڈ پڑا کہ شہر کی فضاؤں میں گردو غبار کا طوفان اٹھ گیااس خوفناک چڑھائی اور لشکر کفار کے دل بادل کی معرکہ آرائی کا نقشہ قرآن کی زبان سے سنیے:
اِذْ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنۡکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوۡبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ زُلْزِلُوۡا زِلْزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱
جب کافر تم پر آ گئے تمہارے اوپر سے ا و ر تمہارے نیچے سے اور جب کہ ٹھٹھک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس(خوف سے)آ گئے اور تم اﷲ پر (امید و یاس سے) طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس جگہ مسلمان آزمائش اور امتحان میں ڈال دئیے گئے اور وہ بڑے زور کے زلزلے میں جھنجھوڑ کر رکھ دئیے گئے۔(احزاب)
منافقین جو مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑے تھے وہ کفار کے اس لشکر کو دیکھتے ہی بزدل ہو کر پھسل گئے اوراس وقت ان کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگنی شروع کر دی۔ جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوْرَۃٌ ؕۛ وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾ )
اور ایک گروہ(منافقین) ان میں سے نبی کی اجازت طلب کرتا تھا منافق کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے نہیں تھے ان کا مقصد بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔(احزاب)
لیکن اسلام کے سچے جاں نثار مہاجرین و انصار نے جب لشکر کفار کی طوفانی یلغار کو دیکھا تو اس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے کہ ”سلع” اور ”احد” کی پہاڑیاں سراٹھا اٹھا کر ان مجاہدین کی اولوالعزمی کو حیرت سے دیکھنے لگیں ان جاں نثاروں کی ایمانی شجاعت کی تصویر صفحات قرآن پر بصورت تحریر دیکھیے ارشاد ربانی ہے کہ
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَمَا زَادَہُمْ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسْلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲
اور جب مسلمانوں نے قبائل کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کا اﷲ اوراسکے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھااور خدا اور اسکا رسول دونوں سچے ہیں اور اس نے ان کے ایمان و اطاعت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔(احزاب)
بنو قریظہ کی غداری
قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی اب تک غیر جانبدار تھے لیکن بنو نضیر کے یہودیوں نے ان کو بھی اپنے ساتھ ملا کر لشکر کفار میں شامل کر لینے کی کوشش شروع کر دی چنانچہ حیی بن اخطب ابو سفیان کے مشورہ سے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا پہلے تو اسنے اپنا دروازہ نہیں کھولا اور کہا کہ ہم محمد (ﷺ) کے حلیف ہیں اور ہم نے ان کو ہمیشہ اپنے عہد کا پابند پایا ہے اس لئے ہم ان سے عہد شکنی کرنا خلاف مروت سمجھتے ہیں مگر بنو نضیر کے یہودیوں نے اس قدر شدید اصرار کیااور طرح طرح سے ورغلایا کہ بالآخر کعب بن اسد معاہدہ توڑنے کے لئے راضی ہو گیا،بنو قریظہ نے جب معاہدہ توڑ دیا اور کفار سے مل گئے تو کفار مکہ اور ابو سفیان خوشی سے باغ باغ ہو گئے۔
حضورِ اقدس ﷺ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے حضرت سعدبن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو تحقیق حال کے لئے بنو قریظہ کے پاس بھیجاوہاں جا کر معلوم ہوا کہ واقعی بنو قریظہ نے معاہدہ توڑ دیا ہے جب ان دونوں معزز صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے بنو قریظہ کو ان کا معاہدہ یاد دلایا تو ان یہودیوں نے انتہائی بے حیائی کے ساتھ یہاں تک کہہ دیا کہ ہم کچھ نہیں جانتے کہ محمد(ﷺ) کون ہیں؟ اور معاہدہ کس کو کہتے ہیں؟ ہمارا کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں تھایہ سن کر دونوں حضرات واپس آ گئے اور صورتحال سے حضور ﷺ کو مطلع کیاتو آپ نے بلند آواز سے ”اﷲ اکبر” کہا اور فرمایا کہ مسلمانو! تم اس سے نہ گھبراؤنہ اس کا غم کرو اس میں تمہارے لئے بشارت ہے۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۳)
کفار کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر ٹھہر گیااور شہر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور تقریباً ایک مہینے تک کفار شہر مدینہ کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے پڑے رہے اور یہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ قائم رہا کہ حضورﷺ اورصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر کئی کئی فاقے گزر گئے۔
کفار نے ایک طرف تو خندق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور دوسری طرف اس لئے حملہ کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی عورتیں اور بچے قلعوں میں پناہ گزیں تھے مگر حضور ﷺ نے جہاں خندق کے مختلف حصوں پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقرر فرما دیا تھا کہ وہ کفار کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہیں اسی طرح عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے بھی کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو متعین کر دیا تھا۔
انصار کی ایمانی شجاعت
محاصرہ کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی دیکھ کر حضورِ اکرم ﷺنے یہ خیال کیا کہ کہیں مہاجرین و انصار ہمت نہ ہار جائیں اس لئے آپ نے ارادہ فرمایا کہ قبیلہ غطفان کے سردار عیینہ بن حصن سے اس شرط پر معاہدہ کر لیں کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار لے لیا کرے اور کفار مکہ کا ساتھ چھوڑ دے مگر جب آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے اپنا یہ خیال ظاہر فرمایاتو ان دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(ﷺ) اگر اس بارے میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی اتر چکی ہے جب تو ہمیں اس سے انکار کی مجال ہی نہیں ہو سکتی اور اگر یہ ایک رائے ہے تو یا رسول اﷲ!(ﷺ) جب ہم کفر کی حالت میں تھے اس وقت تو قبیلہ غطفان کے سرکش کبھی ہماری ایک کھجور نہ لے سکے اور اب جب کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو اسلام اور آپ ﷺ کی غلامی کی عزت سے سرفراز فرما دیا ہے تو بھلا کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنا مال ان کافروں کو دے دیں گے؟ ہم ان کفار کو کھجوروں کا انبار نہیں بلکہ نیزوں اور تلواروں کی مار کا تحفہ دیتے رہیں گے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا،یہ سن کر حضورﷺ خوش ہوگئے اورآپ کوپوراپورااطمینان ہو گیا۔(زرقانی ج
۲ص۱۱۳)
خندق کی و جہ سے دست بدست لڑائی نہیں ہو سکتی تھی اور کفار حیران تھے کہ اس خندق کو کیونکر پار کریں مگر دونوں طرف سے روزانہ برابر تیر اور پتھر چلا کرتے تھے آخر ایک روز عمرو بن عبدودو عکرمہ بن ابو جہل وہبیرہ بن ابی وہب وضرار بن الخطاب وغیرہ کفار کے چند بہادروں نے بنو کنانہ سے کہا کہ اٹھوآج مسلمانوں سے جنگ کرکے بتا دو کہ شہسوار کون ہے؟ چنانچہ یہ سب خندق کے پاس آ گئے اور ایک ایسی جگہ سے جہاں خندق کی چوڑائی کچھ کم تھی گھوڑا کودا کر خندق کو پار کر لیا۔
سب سے آگے عمرو بن عبدود تھایہ اگرچہ نوے برس کا بوڑھا تھا مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھاجنگ ِ بدر میں زخمی ہو کر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہ لے لوں گا بالوں میں تیل نہ ڈالوں گا،یہ آگے بڑھا اور چلا چلا کر مقابلہ کی دعوت دینے لگاتین مرتبہ اس نے کہا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ کو آتا ہے؟ تینوں مرتبہ حضرت علی شیرخداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اُٹھ کر جواب دیا کہ ”میں” حضور ﷺ نے روکاکہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم یہ عمرو بن عبدود ہے۔حضرت علی شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عرض کیا کہ جی ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے لیکن میں اس سے لڑوں گا،یہ سن کر تاجدار نبوت ﷺ نے اپنی خاص تلوار ذوالفقار اپنے دست مبارک سے حیدر کرارکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مقدس ہاتھ میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر انور پر عمامہ باندھااوریہ دعا فرمائی کہ اےاللہ! تو علی کی مدد فرما ۔حضرت اسد اﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دونوں میں اس طرح مکالمہ شروع ہوا:
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اے عمرو بن عبدود! تو مسلمان ہو جا!
عمرو بن عبدود یہ مجھ سے کبھی ہر گز ہر گز نہیں ہو سکتا!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لڑائی سے واپس چلا جا!
عمرو بن عبدود یہ مجھے منظور نہیں!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تو پھر مجھ سے جنگ کر!
عمرو بن عبدود ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا
میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔
عمرو بن عبدود آخر تمہارا نام کیا ہے؟
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ علی بن ابی طالب
عمرو بن عبدود اے بھتیجے!تم ابھی بہت ہی کم عمر ہومیں تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تمہاراخون بہانے کوبے حدپسندکرتا ہوں۔
عمرو بن عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیاحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھااس پر جو غیرت سوار ہوئی توگھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اورحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پر تلوار کا بھرپور وار کیاحضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا،یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگامگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیاحضرت علی شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو! سنبھل جااب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد اﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ذوالفقار کا ایسا جچا تلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گرااور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیا.
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیااور منہ پھیر کر چل دئیے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم آپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا۔(زُرقانی ج
۲ ص۱۱۴و۱۱۵)
اس کے بعد نوفل غصہ میں بپھرا ہوا میدان میں نکلااور پکارنے لگا کہ میرے مقابلہ کے لئے کون آتا ہے؟ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس پر بجلی کی طرح جھپٹے اور ایسی تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور تلوار زین کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی کمر تک پہنچ گئی لوگوں نے کہا کہ اے زبیر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہاری تلوار کی تو مثال نہیں مل سکتی آپ نے فرمایاکہ تلوار کیا چیز ہے؟ کلائی میں دم خم اور ضرب میں کمال چاہیے۔ ہبیرہ اور ضرار بھی بڑے طنطنہ سے آگے بڑھے مگر جب ذوالفقار کا وار دیکھا تو لرزہ برانداہو کر فرار ہو گئے کفار کے باقی شہسوار بھی جو خندق کو پار کرکے آ گئے تھے وہ سب بھی بھاگ کھڑے ہوئے اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تو اس قدر بدحواس ہو گیا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جا کر اس کو قرار آیا۔(زرقانی جلد ۲ )
اس دن کاحملہ بہت ہی سخت تھادن بھرلڑائی جاری رہی اوردونوں طرف سے تیراندازی اورپتھربازی کاسلسلہ برابرجاری رہااورکسی مجاہدکااپنی جگہ سے ہٹنانا ممکن تھا، خالد بن ولید نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں حضور ﷺ کے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو گیامگر حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو ساتھ لے کر دوڑ پڑے اور خالد بن الولید کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے اس لئے کفار خیمہ رسول ﷺ تک نہ پہنچ سکے ۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۷)
ا س گھمسان کی لڑائی میں حضورﷺ کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ
یا رسول اﷲ!ﷺ میں نماز عصر نہیں پڑھ سکا ۔تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے پھر آپ نے وادی بطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی۔ اور کفار کے حق میں یہ دعا مانگی کہ
مَلَاَ اللہُ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا کَمَا شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ (بخاری ج2ص۵۹۰)
اﷲ ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطیٰ سے روک دیایہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔
جنگ خندق کے دن حضور ﷺ نے یہ دعا بھی فرمائی کہ :
اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ (بخاری ج۲ ص۵۹۰)
اے اﷲ!عزوجل اے کتاب نازل فرمانے والے!جلدحساب لینے والے!تو ان کفار کے لشکروں کو شکست دے دے،
اے اﷲ!عزوجل ان کو شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ دے۔
حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطاب ملا
حضور ﷺ نے جنگ خندق کے موقع پر جب کہ کفار مدینہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھاتین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے؟ تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزند ہیں یہ کہا کہ ”میں یا رسول اﷲ!( ﷺ)خبر لاؤں گا۔” حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس جان نثاری سے خوش ہو کر تاجدار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ  لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَّاِنَّ حَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ (بخاری ج۲ ص۵۹۰)
ہرنبی کے لئے حواری(مددگارخاص)ہوتے ہیں اور میرا ”حواری” زبیر ہے۔
اسی طرح حضرت زبیررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوبارگاہ رسالت سے ”حواری” کا خطاب ملاجو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔
حضرت سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید
اس جنگ میں مسلمانوں کا جانی نقصان بہت ہی کم ہوایعنی کل چھ مسلمان شہادت سے سرفرازہوئے مگر انصار کا سب سے بڑا بازو ٹوٹ گیایعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو قبیلہ اوس کے سردار اعظم تھے،اس جنگ میں ایک تیر سے زخمی ہو گئے اور پھر شفا یاب نہ ہو سکے۔
آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے جوش میں بھرے ہوئے نیزہ لے کر لڑنے کے لئے جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا کہ جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام اکحل ہے وہ کٹ گئی جنگ ختم ہونے کے بعد ان کے لئے حضور ﷺ نے مسجد نبوی میں ایک خیمہ گاڑااور ان کا علاج کرنا شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے ان کے زخم کو دو مرتبہ داغا، ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن انہوں نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ
یااﷲ!عزوجل تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے جنگ کرنے کی مجھے اتنی زیادہ تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا،اے اﷲ!عزوجل میرا تویہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہوجب تومجھے تو زندہ رکھ تا کہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جہاد کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو تو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے موت عطا فرما دے۔
آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیااور خون بہ کر مسجد نبوی کے اندر بنی غفار کے خیمہ میں پہنچ گیاان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو! یہ کیسا خون ہے جو تمہارے خیمہ سے بہ کر ہماری طرف آ رہا ہے؟ جب لوگوں نےدیکھا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہ رہا تھااسی زخم میں ان کی وفات ہو گئی۔
حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت سے عرش الٰہی ہل گیا اور ان کے جنازہ میں ستر ہزار ملائکہ حاضر ہوئے اور جب ان کی قبر کھودی گئی تو اس میں مشک کی خوشبو آنے لگی۔ (زرقانی ج
۲ ص۱۴۳)
عین وفات کے وقت حضور انور ﷺ ان کے سرہانے تشریف فرما تھے،انہوں نے آنکھ کھول کر آخری بار جمال نبوت کا نظارہ کیا اور کہا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ۔پھر بہ آواز بلند یہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اﷲ کے رسول ہیں اور آپ نے تبلیغ رسالت کا حق ادا کر دیا۔(مدارج النبوۃ ج
۲ ص۱۸۱)
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بہادری
جنگ خندق میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ جب یہودیوں نے یہ دیکھا کہ ساری مسلمان فوج خندق کی طرف مصروفِ جنگ ہے تو جس قلعہ میں مسلمانوں کی عورتیں اور بچے پناہ گزین تھے یہودیوں نے اچانک اس پر حملہ کر دیااور ایک یہودی دروازہ تک پہنچ گیا،حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس کو دیکھ لیا اور حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم اس یہودی کو قتل کردو،ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو یہاں کا حال و ماحول بتا دے گاحضرت حسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس وقت ہمت نہیں پڑی کہ اس یہودی پر حملہ کریں یہ دیکھ کر خود حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ کر اس یہودی کے سر پر اس زور سے مارا کہ اس کا سر پھٹ گیاپھرخود ہی اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے باہر پھینک دیایہ دیکھ کر حملہ آور یہودیوں کو یقین ہو گیا کہ قلعہ کے اندر بھی کچھ فوج موجود ہے اس ڈر سے انہوں نے پھر اس طرف حملہ کرنے کی جراء ت ہی نہیں کی۔(زرقانی ج
۲ ص۱۱۱)
کفار کیسے بھاگے؟
حضرت نعیم بن مسعود اشجعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قبیلہ غطفان کے بہت ہی معزز سردار تھے اور قریش و یہود دونوں کو ان کی ذات پر پورا پورا اعتماد تھایہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن کفار کو ان کے اسلام کا علم نہ تھاانہوں نے بارگاہ رسالت میں یہ درخواست کی کہ یارسول اﷲ! ﷺ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہود اور قریش دونوں سے ایسی گفتگو کروں کہ دونوں میں پھوٹ پڑ جائے،آپ نے اس کی اجازت دے دی چنانچہ انہوں نے یہود اور قریش سے الگ الگ کچھ اس قسم کی باتیں کیں جس سے واقعی دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔
ابو سفیان شدید سردی کے موسم، طویل محاصرہ،فوج کا راشن ختم ہو جانے سے حیران و پریشان تھاجب اس کو یہ پتا چلا کہ یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو اس کا حوصلہ پست ہو گیا اور وہ بالکل ہی بددل ہو گیاپھر ناگہاں کفار کے لشکر پر قہر قہار و غضب جبار کی ایسی مار پڑی کہ اچانک مشرق کی جانب سے ایسی طوفان خیز آندھی آئی کہ دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ ہو گئیں،خیمے اکھڑ اکھڑ کر اڑ گئے اور کافروں پر ایسی وحشت اور دہشت سوار ہو گئی کہ انہیں راہ فرار اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں رہا،یہی وہ آندھی ہے جس کا ذکر خداوند قدوس نے قرآن میں اس طرح بیان فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوۡدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا ؕ وَ کَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹
اے ایمان والو! خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم پر فوجیں آ پڑیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی۔ اور ایسی فوجیں بھیجیں جو تمہیں نظر نہیں آتی تھیں اور اﷲ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے۔ (احزاب)
ابو سفیان نے اپنی فوج میں اعلان کرا دیا کہ راشن ختم ہو چکا،موسم انتہائی خراب ہے،یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیالہٰذا اب محاصرہ بے کار ہے،یہ کہہ کر کوچ کا نقارہ بجا دینے کا حکم دے دیااور بھاگ نکلا قبیلہ غطفان کا لشکر بھی چل دیابنو قریظہ بھی محاصرہ چھوڑ کر اپنے قلعوں میں چلے گئے اور ان لوگوں کے بھاگ جانے سے مدینہ کا مطلع کفار کے گردو غبار سے صاف ہو گیا اور اس طرح غزوہ خندق میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
اللهم أعز الإسلام والمسلمين وأذل الشرك والمشركين ودمر أعداء الدين وانصر عبادك الموحدين  أمين يا رب العلمين