ہفتہ، 14 جنوری، 2017

صحابہ کرام(رضی اللہ عنھم)کی عظمت وشان

مسجدِحرام مکۃ المکرّمۃ کے خطبہ جمعہ کا مکمل ترجمہ،بعنوان:
صحابہ کرام(رضی اللہ عنھم)کی عظمت وشان قرآن و حدیث کی نظر میں
امامِ حرم ڈاکٹراسامہ بن عبد اللہ الخیاط حفظہ اللہ
ترجمہ: شعیب مدنی ، 
مراجعہ: حافظ حماد چاؤلہ
****************************************
پہلا خطبہ
ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ کے لئے ہےجس نے اپنے ولیوں کو عزتوں سے نوازا، اور مخلوقات کے دلوں میں ان کی محبت بٹھادی، میں اللہ سبحانہ وتعالی ہی کی تعریف کرتا ہوں جو اپنے بندوں پر غالب ہے اور اس کا لشکر بھی  بہت مضبوط ہے۔اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اس کی اولاد۔ اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور  نبی محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں جو سب سے  زیادہ متقی  و سخی ہیں، یااللہ! آپﷺ پر اور ان کی آل پر اور تمام صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین پرہمیشہ اور مسلسل رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔
حمد وثنا کے بعد:
اللہ کے بندو!  اللہ سے ڈرو، اور اسی کی عبادت کرو، اور اسی کا شکر ادا کرو،اور اسی کی طرف رجوع کرو۔اور یاد رہے کہ تمہیں اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے تو اس دن کی کامیابی کے لئے تیاری کرو۔
((فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ)) [لقمان: 33].
ترجمہ: (دیکھو) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز (شیطان) تمہیں دھوکے میں ڈال دے۔
سچے و حقیقی ایمان اور نیک اعمال کے فوائد
اے مسلمانو!
بیشک سچے ایمان  اور  اُس عمل صالح کے آثار کہ جس میں اللہ کی رضا مطلوب ہو اور نبی علیہ السلام کی سنت کی پیروی ہو بے حد بلند   اور عزت والے ہوتے ہیں  ۔ اور ایمان کا میٹھا پھل اور اچھا درخت وہ ہے جو اللہ تعالی اہلِ ایمان کے لئے لوگوں  کے دلوں میں بہت زیادہ اور سچی محبت  کی صورت میں بٹھادیتا ہے۔
((إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا)) [مريم: 96].
ترجمہ: بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ ونیک  اعمال کیے  اُن کے لئے اللہ رحمٰن محبت پیدا کر دے گا ۔
اللہ کے بندو!
اس  محبت کی سب سے  بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی محبت کی نشانی ہے، جیساکہ  صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے:
عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «إن اللهَ إذا أحبَّ عبدًا دعا جبريل فقال: إني أحبُّ فلانًا فأحِبَّه»، قال: «فيُحبُّه جبريل، ثم يُنادي في السماء فيقول: إن اللهَ يحبُّ فلانًا فأحِبُّوه، فيُحبُّه أهلُ السماء، ثم يُوضعُ له القبولُ في الأرض، وإذا أبغضَ عبدًا دعا جبريلَ فيقول: إني أُبغِضُ فلانًا فأبغِضه، فيُبغِضُه جبريلُ، ثم يُنادِي في أهل السماء: إن اللهَ يُبغِضُ فلانًا فأبغِضُوه»، قال: «فيُبغِضُونَه، ثم يُوضَع له البغضاءُ في الأرض».
ترجمہ: سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: یقینا جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے۔اور اس  سے یہ فرماتا  ہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں آپ بھی اس سے محبت کریں تو وہ بھی اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ (جبرائیل علیہ السلام ) آسمان میں ندا لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں شخص سے محبت کرتا ہے آپ سب بھی اس سے محبت کریں تو آسمان والےبھی  اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں بھی اس کی مقبولیت عام کردی جاتی ہے، اور جب اللہ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے۔اور اس  سے یہ فرماتا  ہے کہ میں فلاں شخص سےنفرت کرتا ہوں آپ بھی اس سے نفرت کریں تو وہ بھی اس سے نفرت  کرتے ہیں ، پھر وہ (جبرائیل علیہ السلام ) آسمان میں ندا لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے آپ سب بھی اس سے نفرت کریں تو آسمان والے بھی اس سےنفرت  کرتے ہیں، پھر زمین میں بھی اس کی نفرت  عام کردی جاتی ہے۔
جلیل القدر تابعی زید بن اسلم عدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"من اتَّقى اللهَ أحبَّه الناسُ ولوكرِهوا".کہ جوشخص اللہ سے ڈرتا ہےتو لوگ اس سے محبت کرتے ہیں اگرچہ انہیں (بعض لوگوں کو)ناپسند ہی کیوں نہ  ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے: تمام لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اس کی مدح کرتے ہیں، اگرچہ بعض لوگ اس سے نفرت بھی کرنا چاہیں تو نہیں کرسکیں گے۔اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، یہ تو ایمان  اور تقوی کا نتیجہ ہے جس کی بدولت اہلِ ایمان کواللہ تعالی نےاپنی ولایت کی خوشخبری دی،اور یہ بھی خبر دی کہ قیامت کے دن انہیں نہ تو کسی قسم کا کوئی خوف ہوگا، اور نہ ہی انہیں اس پر کوئی غم ہوگا جو وہ دنیا میں چھوڑ کر جانے والے ہیں۔
((أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ)) [يونس: 62، 63].
ترجمہ: یاد رکھو کے اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔
اسی طرح اللہ کے پاس ان کا اتنا باعزت مقام بن چکاہوتا ہےکہ جو اُن سے دشمنی کرے گا اللہ تعالی  نے اُس سے جنگ کا اعلان کیا ہے، جیساکہ بخاری میں ہے:
عن أبي هريرة - رضي الله عنه - أنه قال: قال رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم -: «إن الله تعالى قال: من عادَى لي وليًّا فقد آذنتُه بالحربِ ..» الحديث.
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی کا فرمان ہے: جس نے میرے ولی  سے دشمنی کی میں اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔
یعنی میں اس کے ساتھ وہ سلوک کروں گا جودورانِ جنگ  دشمن سے کیا جاتا ہے ۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بھی یہ دشمنی کرے گا وہ اللہ کی طرف سے ہلاکت کا مستحق ہوگا۔اور اہلِ علم کے قول کے مطابق اس میں  بہت سخت تنبیہ  وڈراواہے ؛ کیونکہ جس سے اللہ جنگ کرے وہ تو ہلاک ہوکر ہی رہے گا۔ اور جب دشمنی کے معاملے میں یہ بات ثابت ہوگئی تو دوستی (ولایت) کے بارے میں بھی یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو شخص اللہ کے ولی سے دوستی کرے گا اللہ اسے بھی عزت دے گا۔
صحابہ کرام کی  محبت اور احترام ہر شخص پر واجب ہے
اللہ کے بندو!
اور سب سے عظمت والے لوگ وہ ہیں  جن کی  محبت اور دوستی رکھنا  بھی واجب ہے اور اور ان کی دشمنی سے  پرہیز کرنا بھی ضروری ہے وہ اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کی صحبت کے لئے چُنا ہے، اور انہیں (لوگوں تک)  دین منتقل کرنے اور قرآنِ مجید کی ذمہ داری نبھانے یہ توفیق عطا فرمائی، اور ان سے راضی ہوگیا اور ان کی تعریفیں کیں اور پاکیزگی بیان کی۔

شانِ صحابہ کے بارے میں قرآنی آیات
اللہ رب العزت نے فرمایا:
((وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ)) [التوبة: 100].
ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے  یہ بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
((مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ... ))الآية [الفتح: 29]،
ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالٰی کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں۔
اور اللہ تعالی کا فرمان ہے:
((لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا)) [الفتح: 18]
ترجمہ: یقیناً اللہ تعالٰی مومنوں سے خوش ہوگیا جبکہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے  ان کے دلوں میں جو تھا اسے اس نے معلوم کرلیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔
اورفرمانِ الٰہی ہے:
((لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ)) [الحديد: 10].
ترجمہ: تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے) برابر نہیں  بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے،  ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالٰی کا ان سب سے ہے  جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔
عظمتِ صحابہ کے بارے میں آحادیثِ نبویۃ
نبی مکرّم علیہ السلام نےاپنے کسی بھی صحابی  کو گالی دینے، بُرا کہنے و سمجھنے  سے سخت منع فرمایا ہے،اور یہ بھی فرمایا کہ کوئی بھی مسلمان  اپنا سارا مال خرچ کرکے بھی میرے(رسول اکرمﷺکے)کسی بھی ادنیٰ سے صحابی کے رتبہ اور فضیلت کو نہیں پہنچ سکتا،  حدیث یہ ہے:
«لا تسبُّوا أصحابي؛ فلو أن أحدَكم أنفقَ مثلَ أُحدٍ ذهبًا ما بلغَ مُدَّ أحدهم ولا نصيفَه»؛ أخرجه الشيخان في "صحيحيهما".
ترجمہ: میرے صحابہ کو گالی یا بُرا نہ کہنا، (جان لو کہ )تم میں سے کوئی بھی اُحد پہاڑ کے برابر سونابھی(صدقہ و خیرات میں ) خرچ کرلے تووہ اُن(صحابہ)میں سے کسی بھی  ایک کے مکمل یا آدھے مُد (آدھا کلو یا ایک پاؤاناج کےخرچ  کرنے کی فضیلت ومقام) تک بھی نہیں پہنچ سکتا (بخاری و مسلم)۔
دوسری حدیث میں ہے:
وفي "الصحيحين" أيضًا من حديث عمران بن حُصين - رضي الله عنه - أن رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «خيرُ الناس قرني، ثم الذين يلُونَهم، ثم الذين يلُونَهم». قال عمران: فلا أدري أذَكَر بعد قرنِه قرنَيْن أم ثلاثة.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہیں۔
اور بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ان کی فضیلت اس طرح بیان ہوئی ہے:
وأخرج الشيخان عن أبي سعيد الخُدري - رضي الله عنه - أنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقولون: هل فيكم من صاحبَ رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتحُ لهم. ثم يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحبَ أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتَحُ لهم. ثم يأتي على الناس زمانٌ فيغزُو فِئامٌ من الناس، فيقال: هل فيكم من صاحبَ من صاحبَ أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ فيقولون: نعم، فيُفتَحُ لهم».
ترجمہ: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ  کچھ لوگ جنگ کریں گےاور پوچھیں گے: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی صحابی رسولﷺہے؟)وہ کہیں گے: جی، تو انہیں  فتح نصیب ہوگی۔  پھر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ  کچھ لوگ جنگ کریں گےاور یہ پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکے کسی صحابی کی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی تابعی ہے؟)وہ کہیں گے: جی، تواُنہیں بھی  فتح نصیب ہوگی۔  پھر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ  کچھ لوگ جنگ کریں گےاور پوچھیں گے: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جسے اللہ کے رسول ﷺکے صحابی کی صحبت پانے والے کی صحبت نصیب ہوئی ہو؟ (یعنی کوئی تبع تابعی ہے؟)وہ کہیں گے: جی، تو ان کے ہاتھ پر بھی فتح ہوگی۔
(یعنی جنگ میں صحاباء ، تانعین و اتباعِ تابعین میں سے کسی کی بھی  موجودگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کے نزول اور لوگوں  کی فتح کا سبب ہوگا، اور تاریخ شاہد ہے ایسا ہی ہوا اسلام کے شروع کے تین سو سال  کہ جوصحاباء ، تانعین و اتباعِ تابعین کے زمانے تھے اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا)
اور پیارے نبی علیہ السلام نے یہ بات بھی بیان فرمادی کہ انصار سے  محبت کرنا سچے ایمان کی نشانی ہے ، اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔اس بارے میں صحیح بخاری و مسلم میں نبی علیہ السلام کا فرمان ہے۔
«آية الإيمان حبُّ الأنصار، وآية النفاق بُغضُ الأنصار»؛ أخرجه الشيخان في "صحيحيهما".
ترجمہ: انصار سے محبت  کرنا ایمان کی نشانی ہے ، اور انصار سے بغض رکھنا منافق کی علامت ہے۔

سلف صالحین کاصحابہ کرام کےبارےمیں مؤقف
اور انہی صحیح اور صریح  (واضح) نصوص کی بنیاد پرہی اہلِ حق نے سب سے افضل ترین شخصیات صحابہ کرام کے بارے میں  اپنا موقف بیان کیا ہے۔
اسی ضمن میں امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ونحبُّ أصحابَ رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، ولا نُفرِطُ في حبِّ أحدٍ منهم، ولا نتبرَّأُ من أحدٍ منهم، ونُبغِضُ من يُبغِضُهم وبغير الحقِّ يذكُرهم، ولا نذكُرهم إلا بخيرٍ، وحبُّهم دينٌ وإيمانٌ وإحسانٌ، وبُغضُهم كفرٌ ونفاقٌ وطُغيان".
ترجمہ: اور ہم اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں، اور ان میں سے کسی کی محبت میں بھی غلو نہیں کرتے، اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک سے براءت کرتے (اور نہ ہی کسی پر تبرّاء کرتے )ہیں، اور ہر اس شخص سے بغض رکھتے ہیں  جو ان (صحابہ) سے بغض رکھتا ہےاور جوان کی برائی کرتا ہے۔اور ہم ہمیشہ اُن کا ذکرفقط  اچھائی ، خیر و بھلائی ہی کے ساتھ کرتے ہیں ،اُن (صحابہ )سے  محبت کرنا دین، ایمان اور احسان ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔
صحابہ کرام فخر واعزاز کے مستحق ہیں
اللہ کے بندو!
ان(صحابہ)  کی محبت دین، ایمان اور احسان کا مجموعہ ہے؛ کیونکہ اس میں اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کی تکمیل ہے، اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے اللہ کے دین کی مدد کی، اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد کیااور جان، مال اور خون سب کچھ قربان کردیا۔
اور زمانہ گزرنے کے باوجود بھی امت ان سے بھرپور محبت کرتی ہے، ان کی سیرت کا مستقل اہتمام کرتی ہے تاکہ اس کی خوبصورتی اور جلال کی بہترین صورت، بلندی، شرف ، عالی شان مقام اور عمدہ نمونہ نکھر کر  سامنے آسکے۔
صحابہ کے بارے میں ہمیشہ  اچھے نظریات رکھنا لازمی ہے
اور جو کچھ ان کے درمیان ہوا اس بارے میں گفتگو سے پرہیز کرنا، اوریہ عقیدہ رکھناکہ وہ سب مجتہد ہیں اور اس میں ان کے لئے اجر ہے، اللہ ان سے راضی ہوجائے اور انہیں بھی راضی کردے، اور اسلام اور اہلِ اسلام کی طرف سے اتنا بہترین بدلہ دے جو وہ اپنے نیک و کار اور متقی بندوں کو دیا کرتا ہے۔
اللہ مجھے اور آپ کو اپنی کتاب کے احکامات اور نبی علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، میں یہ بات کہہ رہا ہوں اور ہم سب سمیت تمام   مسلمانوں کے لئے  اللہ ذوالجلال والاکرام سے ہر گناہ کی مغفرت مانگتا ہوں۔
دوسرا خطبہ
بیشک ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں، اسی سے مدد  اور مغفرت مانگتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کی شرارتوں اوربرے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمدﷺ پر اور ان کی آل پر اور ان کے صحابہ پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما۔
صحابہ کی عظمت اور بُلندسیرت و کردارکے بارے میں  سلف صالحین کے اقوال
حمدو ثنا کے بعد:
اللہ کے بندو!
جلیل القدر  صحابی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
"من كان منكم مُستنًّا فليستنَّ بمن قد ماتَ؛ فإن الحيَّ لا تُؤمنُ عليه الفتنة، أولئك أصحابُ محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، كانوا أفضلَ هذه الأمة، وأبرَّها قلوبًا، وأعمقَها علمًا، وأقلَّها تكلُّفًا، قومٌ اختارَهم الله لصُحبة نبيِّه وإقامَة دينِه، فاعرِفوا لهم فضلَهم، واتَّبِعوهم في آثارهم، وتمسَّكوا بما استطعتُم من أخلاقِهم ودينهم؛ فإنهم كانوا على الهُدى المُستقيم".
ترجمہ: آپ لوگوں میں جو شخص بھی کسی طریقے کو اپنانا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ وہ اُن کے طریقے کو اپنائے جو فوت ہوچکا ہے،(یعنی جواُسوقت فوت شدہ صحابہ تھے ) کیونکہ  زندہ انسان کی فتنے سے بچنے کی کوئی گارنٹی نہیں، اور وہ لوگ محمدﷺکے صحابہ ہی ہیں ( جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور انہی کی پیروی میں بھلائی ہے)۔جواس امت کے افضل ترین لوگ تھے، انتہائی نیک دل، راسخ علم والے، کم سے کم تکلف کرنے والے، وہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے اپنے نبی کی صحبت اور اقامتِ دین کے لئے منتخب فرمایا، تو تم  سب  ان کی فضیلت کو پہچانو، اُن کے نقش قدم پر چلو،اور جتنا ممکن ہو ان کے اخلاق اور دین کو اپناؤ؛ کیونکہ وہ سیدھے راستے پر تھے۔
اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک یہ بھی قول ہے:
"إن اللهَ تعالى نظرَ في قلوبِ العباد، فوجدَ قلبَ محمدٍ - صلى الله عليه وسلم - خيرَ قلوبِ العباد، فاصطفاهُ لنفسِه، وابتعثَه برسالتِه، ثم نظرَ في قلوبِ العباد بعد قلب محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -، فوجدَ قلوبَ أصحابِه خيرَ قلوب العباد، فجعلَهم وُزراءَ نبيِّه، يُقاتِلون على دينِه".
ترجمہ: یقینا اللہ تعالی نے بندوں کے دلوں میں دیکھا، تو محمدﷺ کا دل سب سے بہتر پایا، اسی لئے انہیں اپنے لئے چُن لیا، اور اپنا پیغام دے کر بھیجا، پھر محمدﷺ کے دل کے بعد بندوں کے دلوں کو دیکھا تو ان کے صحابہ کے دلوں کو سب سے  بہترین پایا اس لئے انہیں اپنے نبی کے وزرا ءبنادیا، جو اس کے دین کی خاطر جہاد کرتے تھے۔
اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈریں اور صحابہ کرام کا حق،  فضیلت و مرتبہ پہچان لیں،  نبی علیہ السلام کے ساتھ ان کا کوئی بھی ایک لمحہ گزارنا بھی انتہائی فضیلت کا باعث ہے، جیسا کہ  امامِ مفسرین عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا ہے:
"لمُقامُ أحدهم ساعة مع النبي صلى الله عليه وسلم خيرٌ من عمل أحدِكم أربعين سنة".وفي رواية:"خيرٌ من عبادةِ أحدِكم عُمُره".
ترجمہ: کسی بھی  صحابی  کا نبی علیہ السلام کے ساتھ ایک لمحہ گزارنااتم میں سے کسی شخص کے چالیس دن کے عمل سے بہتر ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ  اُس کی ساری زندگی کی عبادت سے بہتر ہے۔
درود و سلام
ہمیشہ یاد رکھیں!
سب لوگوں کو اللہ تعالی نے خیرِ خلق پر درود و سلام بھیجنے  کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:
((إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)) [الأحزاب: 56].
ترجمہ: اللہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو ۔
یا اللہ! اپنے بندے اور رسول  محمد ﷺ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما، اور چاروں خلفاء ابو بکر و عمر و عثمان و علی  سے راضی ہوجا۔اور آل و اصحاب اور تابعین سے بھی راضی ہوجا، اور ان سے بھی راضی ہوجا جوقیامت تک ان کی پیروی کریں گے، اور اے سب سے زیادہ  عفو و درگزر کرنے والے! ان کے ساتھ ساتھ اپنی مہربانی، کرم اور بھلائی کے ذریعہ ہم سے بھی  راضی ہوجا۔
تمام مسلمانوں کے لئے دعائیں
اے اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ یا اللہ!اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔  دین کے احکامات کی حفاظت فرما۔  دین کے دشمنوں  اور تمام سرکش و فساد کرنے والوں کو نیست و نابود کردے۔  مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا فرما۔ انکی صفوں میں اتحاد پیدا فرما۔ انکے قائدین کی اصلاح فرمادے۔ اور انہیں  حق بات پر متفق فرمادے۔
یا اللہ! اپنے دین اورکتاب  کی حفاظت  فرما اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنت کی حفاظت فرما۔ اور اپنے سچے مومن مجاہدین بندوں کی مدد فرما۔
حکمرانوں کی اصلاح کے لئے دعائیں
یا اللہ ! ہمارے وطنوں میں ہماری حفاظت فرما، اور ہمارے ائمہ اور امیر المومنین کی اصلاح فرما اور حق کے ذریعہ ان کی مدد فرما۔انہیں نیک رفقاء کی صحبت عطا فرما۔ اے دعا کو بخوبی سننے والے! انہیں ہر اس قول و عمل کی توفیق دے جس سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔
یا اللہ! اے وہ ذات جس کی طرف قیامت کے دن لوٹ کر جانا ہے! ہمارے امیر اور ان کے وزیر اور ان کے بھائیوں (عہدے داران) کو ان کاموں کی توفیق دے جن میں اسلام اور مسلمانوں کے  لئے بھلائی  ہو، اور جن (کاموں ) میں تمام لوگوں اور شہروں کی بھلائی ہو۔
یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کا انجام بہتر فرما، اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔
یا اللہ ! ہم تیری نعمتوں کے ختم ہونے سے تیری پناہ مانگتے ہیں، اور تیری عافیت کے پلٹ جانے سے، اور اچانک تیری سزا سے، اور تیرے غصہ سے بھی (تیری پناہ مانگتے ہیں)۔
یا اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جو ہمارے معاملات میں  عصمت (گناہوں سے بچنے) کا باعث ہے۔اور ہماری دنیا کو بھی سنوار دے جو ہمارے لئے ذریعہء معاش ہے۔اور ہماری آخرت بھی بہتر فرما جس میں ہمارا انجام ہے۔ اور ہماری زندگی کو زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کا ذریعہ بنادے، اور موت کو ہر برائی سے راحت کا ذریعہ بنادے۔
یا اللہ ! ہم تجھ سے  بھلائی کے کام کرنے ،  برائیوں کو چھوڑنے  اور  مسکینوں  سے محبت کرنے کی توفیق مانگتے ہیں۔اور بخشش اور رحمت کی دعا کرتے ہیں۔اور اگر  کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ ہو تو ہمیں  آزمائش میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی اپنے پاس بلالینا ۔
دشمنانِ اسلام پر بددعائیں
یا اللہ! اے تمام جہانوں کے رب! جس طرح تو چاہے ہمارے لئے  اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں کافی ہوجا۔ یا اللہ! یا رب العالمین!   جس طرح تو چاہے ہمارے لئے  اپنے اور ہمارے دشمنوں کے مقابلے میں کافی ہوجا۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ یا  اللہ! ہم تجھے ہی ان (دشمنوں)  کے مقابلے میں کرتے ہیں  اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہاے تمام جہانوں کے رب! سوریا کے مسلمانوں کی  حفاظت فرما، برما میں انکی حفاظت فرما، فلسطین میں ان کی حفاظت فرما، یااللہ! ان کی تائید فرما، اے عزت و عظمت والی ذات! اپنے کرم  سے  تو ہی ان کا حامی ہوجا۔ یااللہ! اے تمام جہانوں کے رب!ان کی بگڑے ہوئےمعاملات کو سنوار دے، کمزوروں پر رحم فرما، ان کے شدتِ بھوک سے نڈھال لوگوں کو کھانا عطا فرما،  جو  کپڑوں کے محتاج ہیں انہیں کپڑے عطا فرما، انکے مقتولین کو شھادت کا درجہ عطا فرما، ان کے  زخمیوں کو شفا عطا فرما۔
یا اللہاے تمام جہانوں کے رب! ہر جگہ مسلمانوں کے گھروں اور وطنوں میں انکی  حفاظت فرما، انہیں فتنوں کے شر سے محفوظ فرما۔
یا اللہاے تمام جہانوں کے رب! ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ظاہری و باطنی فتنے سے محفوظ فرمالے۔
((رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ)) [آل عمران: 8]
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے۔
((رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ)) [الأعراف: 23]
ترجمہ: دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔
((رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)) [البقرة: 201].
ترجمہ: اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔
اور اللہ اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمدﷺ اور انکی آل اور تمام صحابہ پر رحمتیں اور سلامتی  بھیجے، اور ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

معرفتِ الہی اور اس کے تقاضے

خطبہ جمعہ کا اردو ترجمہ
خطیب : جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم
 ترجمہ  : شفقت الرحمن مغل
****************************************
پہلا خطبہ:
یقیناً تمام  تعریفیں اللہ  کیلئے ہیں، ہم اسکی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی مانگتے ہیں، نفسانی و بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسکا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، وہ تنہا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد   اللہ کے بندے اور اسکے رسول  ہیں، اللہ تعالی آپ پر ، آپکی آل ، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود  و سلامتی نازل فرمائے۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! تقوی الہی ایسے اختیار کرو جیسے تقوی اختیار کرنے کا حق ہے  ، اور اسلام کے کڑے کو مضبوطی سے تھام لو۔
مسلمانو!
جس ذات کے بارے میں علم ہوگا تو اس کے بارے میں علم کا رتبہ بھی اتنا ہی مقام و مرتبہ رکھے گا،  اور سب سے اشرف ترین علم  ذات باری تعالی سے متعلق علم ہے، جسے حاصل کرنا اور اس کی تعظیم کرنا تمام ضروریات سے بھی ضروری ہے، بلکہ یہی حقیقی ضرورت  ہے، نیز اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی فطرت میں اپنی محبت و معرفت  ڈالی ہے  اور دل کو صرف اللہ کی محبت کیلیے پیدا کیا، {فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ}یہی فطرت الٰہی  ہے جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی اس تخلیق میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا [الروم : 30] یہاں فطرت سے مراد دین حنیف  ہے جس پر ہر بچے کو پیدا کیا جاتا ہے، لیکن شیطانی جن و انس اسے تبدیل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، حدیث قدسی میں ہے کہ: (میں نے اپنے تمام بندوں کو دینِ حنیف پر پیدا کیا ہے، لیکن شیاطین ان کے پاس آ کر انہیں ان کے دین سے پھیر دیتے ہیں) مسلم
اس لیے تمام مسلمانوں کو  اپنی فطرت کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے؛ تاکہ منحرف لوگ بھی اپنی اصل پر واپس آ جائیں اور مؤمنوں کا ایمان مزید بڑھ جائے۔
اللہ تعالی نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کے دلائل پیش کیے ہیں، اگر اللہ کا کلام اور اس کی نشانیاں لکھنے کیلیے سمندر  کا پانی روشنائی بن جائے تو  کلامِ الہی مکمل ہونے سے پہلے سمندر کا پانی ختم ہو جائے گا۔
رسولوں کو فطرت کی تکمیل و پائیداری کیلیے بھیجا گیا ، توحید ربوبیت پر ایمان لانا پیغمبروں کا عظیم پیغام اور ایمانی بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے، نیز  توحید ربوبیت توحید کی ان تین اقسام میں شامل ہے جن کیلیے اللہ تعالی نے بندوں کو پیدا فرمایا ، بلکہ وحدانیتِ الہی کی دلیل توحید  ربوبیت ہے، اللہ تعالی نے عقیدہ توحید ثابت کرنے کیلیے ربوبیت کو ہی دلیل کے طور پر پیش کیا، توحید ربوبیت میں شرک عظیم اور قبیح ترین شرک ہے، نیز توحید الوہیت میں غلطی وہی کھاتا ہے جو اس کا حق ادا نہ کرے۔
اللہ تعالی کی تمام صفات اور افعال کامل ہیں، ربوبیت اللہ تعالی کی صفات میں شامل ہے، جس طرح الوہیت میں کوئی بھی اللہ تعالی کا شریک نہیں بالکل اسی طرح ربوبیت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ} آپ کہہ دیں: کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو پروردگار  مانوں؟ حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے۔[الأنعام : 164]
اللہ تعالی اکیلا پیدا کرتا ہے وہی سب کا مالک ہے، سب کا رزق  اور معاملات اکیلا ہی سنبھالتا ہے، وہی خالق ہے تخلیق کیلیے اس کا کوئی معاون نہیں، وہی بہت زیادہ پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، اللہ تعالی نے جس طرح عدم سے وجود بخشا اسی طرح قیامت کے دن دوبارہ پیدا کریگا اور یہ اللہ تعالی کیلیے بہت آسان ہے، {أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ}کیا پیدا کرنے والا نہ پیدا کرنے والے کی طرح ہو سکتا ہے؟ تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے؟ [النحل : 17]
وہی اللہ تعالی باد شاہ ہے اور ساری بادشاہی اسی کی ہے، {ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ} یہ ہے تمہارا پروردگار جس کی بادشاہی ہے، اور اللہ کو چھوڑ کر جن لوگوں کو تم پکارتے ہوئے وہ تو کھجور کی گٹھلی  پر موجود جھلی کے بھی مالک نہیں !![فاطر : 13] وہی تمام مخلوقات کا مالک ہے، آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ہے، ساری مخلوقات اسی کی سامنے سجدے میں جھکی ہوئیں اور اسی کی تسبیح بیان کرتی ہیں: وہی عالی شان آقا ہے اس کا کوئی شریک نہیں باقی سب اس کے بندے ہیں: {إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا} آسمان و زمین کا ہر ایک مکین رحمن کے پاس غلام بن کر آئے گا۔[مريم : 93]
وہ ابدی اور سرمدی  بادشاہ ہے، دنیا اور یومِ جزا کا مالک ہے، وہ روزِ آخرت فرمائے گا: {لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ} آج کس کی بادشاہی ہے؟ [غافر : 16]پھر اللہ تعالی خود ہی فرمائے گا:{ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} صرف اللہ کیلیے جو یکتا اور قاہر ہے۔[غافر : 16]
اللہ تعالی اپنی مخلوقات کے امور زندگی تنہا چلا رہا ہے، چنانچہ ہر چیز کا معاملہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے: {أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ} وہی پیدا کرتا ہے اور اسی کا حکم چلتا ہے۔[الأعراف : 54]
امر و نہی کے احکام جاری کرنا، پیدا  کرنا اور پھر رزق دینا ، نوازش یا  بندش فرمانا، اونچا یا نیچا کرنا، عزت و ذلت دینا ، موت و حیات سب اسی کے ہاتھ میں ہے: {يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ}وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر چڑھتا ہے سورج اور چاند اسی نے مسخّر کیے  [الزمر : 5] اسی طرح فرمایا: {يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا} وہ زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرتا ہے اور وہ زمین مردہ ہونے کے بعد اسے زندہ بھی کرتا ہے۔[الروم : 19]آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزیں وہی باہر نکالتا ہے۔
تمام مخلوقات اس کی مرضی اور قہر کے تابع ہیں، لوگوں کے دل و دماغ ، اور تمام معاملات کی باگ ڈور اسی کے فیصلوں اور احکامات سے منسلک ہیں، ابد سے لیکر انتہا تک اسی کا حکم چلے گا، وہ تمام انسانوں کے اعمال کا نگران ہے، آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، اس نے آسمانوں کو تھاما ہوا ہے کہ مبادا زمین پر  گر نہ جائیں، نیز اللہ تعالی نے آسمان و زمین کو تھاما ہوا ہے کہ کہیں اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں۔
آسمان و زمین کی ہر چیز اسی سے مانگتی ہے، {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} وہ ہر دن کسی کام میں ہوتا ہے۔[الرحمن : 29] اس کے مجموعی اعمال میں یہ بھی شامل ہے کہ  وہ گناہ معاف کرتا ہے، گمراہ کو راہ لگاتا ہے، پریشانی رفع فرماتا ہے، مشکل کشائی کرتا ہے، نقصان پورا کرتا ہے، فقیروں کو نوازتا ہے، اور دعائیں قبول کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِينَ} اور ہم مخلوق سے غافل نہیں ہیں[المؤمنون : 17]
اللہ تعالی کے احکامات مسلسل ہیں اور مرضی اسی کی چلتی ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جو چاہے کر دکھاتا ہے، اس کے فیصلے پہلے سے طے شدہ ہیں۔
جو دینے پر آئے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو روک دے اسے کوئی لے نہیں سکتا، اس کے فیصلوں کو کوئی چیلنج یا مسترد نہیں کر سکتا، کوئی اس کی چاہت کو رد نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی اس کے کلمات  تبدیل کر سکتا ہے۔
اللہ تعالی نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے بھی پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھیں، اس لیے اگر ساری مخلوقات مل کر ایسی چیز کرنا چاہیں جو اللہ تعالی نے نہیں لکھی تو یہ ان کی ناکام کوشش ہوگی، اور اگر کوئی ہونے والی چیز کے بارے میں کوشش کریں کہ نہ ہو تو اس میں بھی نا مراد ہوں گے، پورا معاشرہ کسی بندے کو نقصان پہنچانا چاہے لیکن اللہ تعالی اسے نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تو وہ اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے، اسی طرح اگر وہ کسی کو فائدہ پہنچانا چاہیں لیکن اللہ تعالی اس کی اجازت نہ دے تو وہ کبھی اس کا فائدہ نہیں کر سکتے، کوئی عذاب الہی کو ٹال نہیں سکتا،  وہ جسے چاہے ہدایت دے یہ اس کا فضل ہے، اور وہ جسے چاہے گمراہ کر دے یا اس کا عدل ہے،  وہ جس چیز کا ارادہ فرمائے تو اسے کہتا ہے: "ہو جا" تو وہ ہو جاتی ہے، {لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ} اس کے افعال سے متعلق پوچھا نہیں جاتا لیکن مخلوقات کے اعمال سے متعلق پوچھا جائے گا۔[الأنبياء : 23]
اللہ تعالی کی گفتگو سب سے بہترین گفتگو ہے، اس کی ابتدا و انتہا کا کوئی اندازہ نہیں ہے: {وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ } زمین پر تمام درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے پھر اس کے بعد سات مزید سمندر بھی روشنائی مہیا کریں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی [لقمان : 27]
ہر چیز اللہ تعالی کے علم میں ہے، اس لیے وہ جو کچھ ہوا یا نہیں ہوا نیز جو نہیں ہوگا ؛ وہ سب جانتا ہے، مخلوقات کے ماضی و حال سے اچھی طرح واقف ہے: { وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا} بر و بحر کی ہر چیز اور گرنے والے ہر پتے کو بھی وہی جانتا ہے[الأنعام : 59] آسمان و زمین کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں ہے، وہ ہمیں نظر آنے والی اور اوجھل تمام چیزوں سے واقف ہے، دلوں میں پیدا ہونے والے خیالات تک جانتا ہے، سینوں میں چھپے راز اس کے سامنے عیاں ہیں، وہ جانتا ہے کہ مادہ کے پیٹ میں کیا ہے ؟ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں،  ساری مخلوقات کا علم اللہ تعالی کے بحر بے کنار علم کے مقابلے میں  ایک قطرے کی طرح ہیں، بلکہ مخلوقات کے پاس جو بھی علم ہے وہ بھی اللہ تعالی کی مشیئت سے ہے۔
ایک چڑیا نے سمندر سے اپنی چونچ میں پانی لیا  تو خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام سے کہا: (میرے اور تمہارے علم نے اللہ تعالی کے علم سے اتنا ہی لیا ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر کا پانی لیا)مسلم
وہ کائنات کی تمام آوازیں سنتا ہے اللہ تعالی کے سامنے کسی بھی قسم کی بات ڈھکی اور چھپی نہیں وہ سب کی باتیں سمجھتا ہے، ایک عورت نے نبی ﷺ کے پاس آ کر اپنے خاوند کی شکایت لگائی اور اس وقت عائشہ رضی اللہ عنہا گھر کے ایک کونے میں تھیں، آپ کہتی ہیں کہ مجھے اس عورت کی آواز سنائی دے رہی تھی لیکن مکمل سمجھ نہیں پا رہی تھی، جبکہ اللہ تعالی نے ساتوں آسمانوں کے اوپر ہوتے ہوئے اس کی آواز سنی  اور یہ آیات نازل فرمائیں: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا} اللہ نے یقیناً اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے خاوند کے بارے میں  آپ سے جھگڑ رہی ہے اور اللہ کے حضور شکایت کر رہی ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ [المجادلہ : 1]
وہ تمام چیزوں کو وہ دیکھ رہا ہے، لوگوں کے رات کی تاریکیوں میں کیے ہوئے اعمال اس سے مخفی نہیں ، ہمارا پروردگار لوگوں کے تمام اعمال غور سے نوٹ کر رہا ہے۔
چونکہ ساری مخلوقات اسی کی ہیں اس لیے حکم بھی اسی کا چلتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} حکم صرف اللہ تعالی کیلیے ہے[الأنعام : 57]
نیز حدود الہی اور شرعی احکام سب سے بہترین احکامات ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس سے اچھا کوئی فیصلہ کرنے والا ہے ہی نہیں، اللہ فیصلہ فرما دے تو کوئی اس کے فیصلے کو چیلنج نہیں کر سکتا ، اور اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں فرماتا۔
اللہ تعالی سے بڑھ کر کوئی رحمت کرنے والا نہیں ، وہ سب سے بڑا اور سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے، اللہ تعالی کی رحمت اولاد کیساتھ والدہ کی رحمت سے بھی زیادہ ہے، اللہ تعالی نے رحمت کے سو حصے پیدا فرمائے اور ان میں سے صرف ایک حصہ زمین پر نازل فرمایا جس کی وجہ سے ساری مخلوقات باہمی پیار و محبت سے رہتی ہے، جبکہ ننانوے حصے اپنے پاس رکھے ، اللہ تعالی کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے ۔
اللہ تعالی نہایت سخی ہے اس سے بڑھ کر کوئی سخی نہیں، اللہ تعالی اپنی مخلوق کو دینا اور نوازنا پسند فرماتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی انہیں زمین و آسمان ہر دو جگہ سے عطا فرماتا ہے، اللہ تعالی کا فضل و کرم عظیم  ہے، اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہونگے: {قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} آپ کہہ دیں: تمہیں آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ [يونس : 31] اس کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں دن رات کی سخاوت سے بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوتی، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (تمہیں معلوم ہے کہ: جب سے اللہ تعالی نے آسمان و زمین پیدا کیے ہیں اس وقت سے خرچ کرنے کے باوجود اللہ تعالی کی بادشاہی میں کوئی کمی نہیں آئی) بخاری
وہ اپنے بندوں کی دعا رد نہیں کرتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ} اور جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو میں قریب ہی ہوں، جب بھی مجھے کوئی پکارتا ہے تو دعا کرنے والی کی دعا قبول کرتا ہوں [البقرة : 186] کسی بھی ضرورت کو پورا کرنا اس کیلیے کوئی مشکل نہیں ہے، چاہے شروع سے لیکر آخر تک جن و انس بیک وقت  یکجا ہو کر اللہ تعالی سے مانگنا شروع کریں اور اللہ تعالی انہیں ان کی مرادیں دیتا جائے  تو اس سے اللہ کے خزانوں میں اتنی کمی آئے گی جتنی سوئی سمندر میں ڈالنے سے آتی ہے۔
اللہ تعالی نے تمام مخلوقات کے رزق کی ذمہ داری لی ہوئی ہے، چاہے کوئی جن ہو یا انسان، کافر ہو یا مسلمان، تمام کے تمام جانداروں کی ذمہ داری اسی پر ہے: {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا} اس زمین میں کوئی بھی رینگنے والا جانور ہے اس کا رزق اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔[هود : 6] وہ دیتا ہے تو احسان نہیں جتلاتا، اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے عنایتوں کے دروازے چوپٹ کھولے ہوئے ہیں، اللہ تعالی نے سمندروں کو مسخّر کیا، دریا اور نہریں جاری کیں، رزق کے انبار لگائے، اپنے بندوں کو بغیر مانگے ڈھیروں نعمتیں عطا فرمائیں، نیز ان کی مرادیں بھی پوری فرمائیں، بلکہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو پیشکش کرتے ہوئے فرماتا ہے: (کون ہے جو مجھ سے مرادیں مانگے اور میں اسے دوں؟) ہر قسم کی خیر اللہ تعالی کی طرف سے ہے: {وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ}اور تمہیں جو بھی نعمت ملی تو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔[النحل : 53]
اللہ تعالی نے تمام مخلوقات  کا رزق ان تک پہنچایا، چنانچہ جنین کا رزق ماں کے پیٹ میں پہنچایا، چیونٹی کا اس کے بل میں، پرندوں کا آسمانوں  کی فضاؤں میں، مچھلیوں کا گہرے پانیوں میں : {وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ} اور کتنے ہی ایسے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ انہیں  رزق دیتا ہے اور تم کو بھی وہی دیتا ہے[العنكبوت : 60] وہ اتنا کریم ہے کہ: بندے اپنے مطالبے کسی اور کے سامنے رکھیں تو  وہ ناراض  اور جو اس سے نہ مانگے اس  پر غضبناک ہوتا ہے، حقیقی محروم تو وہی ہے جو اسے چھوڑ کر کسی اور سے امید لگائے۔
تکلیف دہ بات سن کر اللہ تعالی سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ، لوگ اللہ تعالی کے ساتھ غیروں کو شریک بناتے ہیں اور اسکی اولاد تک بنائے بیٹھے ہیں لیکن اللہ تعالی پھر بھی انہیں معاف فرماتا ہے اور انہیں رزق سے نوازتا ہے۔
اللہ تعالی نے فضل و کرم فرماتے ہوئے اطاعت گزاروں کو کامیاب فرمایا، اور انہیں ثواب سے نوازا، باری تعالی بہت ہی قدر دان ہے چنانچہ وہ تھوڑے عمل پر ڈھیروں ثواب  سے نوازتا ہے، ایک نیکی کا بدلہ دس گنا سے لیکر کئی گنا تک عطا فرماتا ہے، اللہ تعالی نے اپنے بندوں کیلیے جنت میں ایسی چیزیں تیار کی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں، بلکہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال تک نہیں آیا، جنت میں اللہ تعالی اپنے بندوں کی رضا مندی کے بارے میں پوچھے گا: (کیا اب راضی ہو؟ تو وہ کہیں گے: ہم کیوں نہ راضی ہوں؟!تو نے ہمیں وہ کچھ دے دیا ہے جو کسی اور کو  تو نے نہیں دیا، تو اللہ تعالی فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دیتا ہوں، تو وہ کہیں گے: اس سے بھی افضل چیز!!؟ اللہ تعالی فرمائے گا: میں تم سے راضی ہو گیا ہوں آج کے بعد تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا) بخاری
وہ بذاتہ خود غنی ہے، وہ بے نیاز ہے تمام مخلوقات اپنے ضروریات کیلیے اسی سے رجوع کرتی ہیں ، وہ بہت با کمال ذات ہے، اس کا پیٹ نہیں ہے، {اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌاللہ بے نیاز ہے[2] نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نےجنم دیا[3] اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ [الإخلاص : 2 - 4] اس کے ساتھ کوئی الہ نہیں، اور نہ ہی اس کے بیوی بچے ہیں، {وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ} اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی ناتوانی کی وجہ  سے اس کا کوئی مدد گار ہے[الإسراء : 111]
اللہ کی اطاعت اسی کے فضل سے ہے اور اگر اس کی نافرمانی کی جاتی ہے تو وہ بھی اس کے علم میں ہے، وہ اپنی مخلوق سے بالکل بے نیاز ہے، ہر چیز اسی کی وجہ سے قائم دائم اور اسی کی محتاج ہے: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ} لوگو! تم اللہ کے محتاج ہو ، اور اللہ تعالی غنی و حمید ہے۔[فاطر : 15]
کسی اطاعت گزار کی اطاعت اسے کوئی فائدہ اور نہ ہی کسی نافرمان کی نافرمانی اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے؛ لہذا اگر پوری کائنات کے لوگ ایک نیک پارسا آدمی کے دل کی طرح متقی بن جائیں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، اور سب مل کر کسی بد کار آدمی کے دل کی طرح بن جائیں تب بھی اللہ کی بادشاہی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی، انسانوں میں انتی سکت ہی نہیں ہے کہ جمع ہو کر اسے کوئی فائدہ پہنچا سکیں یا اسے کوئی نقصان دے سکیں۔
وہ زندہ اور قائم رہنے والا ہے، اسے اونگھ یا نیند نہیں آتی ، وہ سوتا نہیں ہے اور نہ سونا اس کے لائق ہے، ترازو کو تہ و بالا کرتا ہے، رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اسی کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔
 اللہ تعالی کا حجاب نور ہے اگر وہ اسے کھول دے تو اس کے چہرے کی تمازت  تا حد نگاہ  ہر چیز کو بھسم کر دے، وہ بہت ہی بڑی اور عظیم ذات ہے، جبار اور انتہائی مضبوط ہے، عزت و کبریائی اس کا دامن و تہہ بند ہیں، وہ بلا مددِ غیر تنہا بھی قوی ہے، وہ بلند و بالا ہے کوئی اس کا ہمسر نہیں، اس کی ذات کے علاوہ ہر چیز تباہ ہو نے والی ہے، ہر چیز اس کے گھیرے میں ہے لیکن کسی چیز نے اس کا گھیرا نہیں کیا ہوا: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، لیکن وہ آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے۔[الأنعام : 103]
قیامت کے دن زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ سے لپٹے ہونگے۔
کسی بھی مخلوق کے سامنے اسے سفارشی نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی بغیر اجازت اس کے پاس کسی کی سفارش کی جا سکتی ہے۔
اس کی کرسی یعنی: باری تعالی کے قدموں کی جگہ آسمان و زمین سے بھی وسیع ہے ، اور کرسی عرش کے مقابلے میں کھلے میدان میں پڑے ایک کڑے کی طرح ہے، عرش سب سے بڑی مخلوق ہے، اسے ایسے فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے جس کے کان کی لو سے لیکر کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کا ہے۔
 جیسے اللہ تعالی کی شان کے لائق ہے وہ عرش پر مستوی ہے ، اللہ تعالی کو عرش یا دیگر کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے: {تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ} قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ جائیں۔[الشورى : 5] یعنی: اللہ کی عظمت کے خوف سے پھٹ جائیں ، جس وقت اللہ تعالی وحی کیلیے کلام فرماتا ہے تو اس کی وجہ سے آسمان  کانپ اٹھتے ہیں، سخت کڑک پیدا ہوتی ہے، اور آسمان کے مکین مدہوش ہو کر اللہ تعالی کیلیے سجدے میں گر جاتے ہیں۔
وہی اول ہے لہذا اس سے پہلے کچھ نہیں  اور وہی آخر ہے لہذا اس کے بعد کچھ نہیں، وہی ظاہر ہے اس سے اعلی کچھ نہیں اور وہی باطن ہے اس سے مخفی کچھ نہیں ، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی اس سے زیادہ طاقتور نہیں ۔
آسمان و زمین کی کوئی چیز اس کو عاجز نہیں بنا سکتی، اس کا حکم پلک جھپکتے ہی بلکہ اس سے بھی پہلے پورا ہو جاتا ہے، اپنے لشکروں کی تعداد کے متعلق صرف وہی بہتر جانتا ہے۔
 جب دنیا ختم ہوگی تو اللہ تعالی پوری زمین کو جھنجھوڑے گا، اور پیس کر رکھ دے گا، اس وقت پہاڑ چلنے لگیں گے اور دھول بن کرے اڑیں گے، صور پھونکنے پر ساری مخلوق گھبرا جائے گی، اور دوسرے نفخہ پر سب مر جائیں گے اور تیسرے نفخہ پر سب جی اٹھیں گے۔
وہ انتہائی پاکیزہ اور مقدس ذات ہے، ہمہ قسم کے عیب اور نقص سے منزہ ہے، اعلی ترین کمال اسی کیلیے ہے، سب سے بہترین جمال  اسی کیلیے ہے، اس کا کوئی ہم سر، شریک، ہم نام، یا نظیر نہیں ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} اس جیسی کوئی چیز نہیں وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔[الشورى : 11]
اس تفصیل کے بعد: مسلمانو!
کیا ہم سب کی ذمہ داری اور فرض نہیں بنتا کہ ہم ان صفات کے حامل اپنے پروردگار سے محبت کریں، اسی کی حمد و ثنا بیان کریں اور خالص اسی کی عبادت کریں، جو شخص اللہ تعالی کو پہچان لے  تو وہ قربِ الہی پاتا ہے اور اسی کے سامنے عاجزی و انکساری اپناتا ہے، وہ اللہ تعالی سے مانوس اور اسی پر مطمئن رہتا ہے، اس سے ثواب کی امید  اور عذاب سے بچاؤ کی تمنا رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کی ضروریات پوری فرماتا ہے اور بندہ اللہ تعالی پر کامل توکل کرتا ہے۔
جو شخص اللہ تعالی کی کثرت سے حمد و ثنا بیان کرے تو وہ بلندیوں کو چھو لیتا ، اللہ تعالی سے بڑھ کر کسی کو اپنی مدح اور حمد پسند نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے خود بھی اپنی مدح بیان کی ہے، جو محبت کیساتھ اللہ تعالی کی عبادت کرے تو اللہ تعالی اس سے محبت فرماتا ہے، اور اس سے راضی ہو کر اسے جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔
 أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ} بیشک اللہ تعالی ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے، تم اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔[آل عمران : 51]
 اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونیکی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی  بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا ، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اسکی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے ، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد  اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی ان پر ، آل و صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں و سلامتی نازل فرمائے۔
مسلمانو!
اللہ تعالی کیساتھ کسی دوسرے کو شریک بنانے والا اور اللہ تعالی کو چھوڑ کسی مخلوق اور مردوں سے مانگنے والا رب العالمین کی تنقیص کرتا ہے، بلکہ اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانی کا شکار ہے نیز اس نے غیر اللہ کو اللہ کے برابر کر دیا، شرک میں تمام اعمال رائیگاں کرنے کی صلاحیت ہے، اللہ تعالی مشرک کو نہیں بخشے گا اور نہ ہی اسے جنت میں داخل کریگا، بلکہ وہ ہمیشہ جہنمی رہے گا۔
شرک فطرت میں پیدا ہونے والے تغیّرات میں سے سنگین ترین تبدیلی ہے،  زمین پر بپا ہونے والی سب سے بڑی خرابی ، ہر بلا کی بنیاد اور تمام بیماریوں کا مجموعہ ہے اور شرک کے نقصانات و خطرات بہت ہی المناک ہیں۔
گناہوں کے منفی اثرات بہت زیادہ ہیں، اگر کسی آدمی میں جمع ہو جائیں تو اسے تباہ کر کے رکھ دیں، انسانی دل اور جسم کے درمیان  رکاوٹ بھی بن جاتے ہیں، گناہ جس قدر آنکھوں میں چھوٹا ہو، اتنا ہی اللہ تعالی کے ہاں بڑا ہوتا ہے، اس لیے یہ نہ دیکھو کہ گناہ چھوٹا ہے، بلکہ یہ دیکھو کہ تم نا فرمانی کس کی کر رہے ہو!!
یہ بات جان لو کہ ، اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور  فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام  بھیجا  کرو۔ [الأحزاب: 56]
اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے  کرنے والے خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!
یا  اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما،  یا اللہ !اس ملک کو اور مسلمانوں کے تمام ممالک کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنا دے۔
یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات درست فرما،  یا اللہ! ان کے خطوں کو امن و امان  عطا فرما، یا رب العالمین! اور تمام مسلمانوں کی تیری طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!
یا اللہ! ہمارے حکمران کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، اور ان کے سارے اعمال اپنے رضا کیلیے مختص فرما، اور تمام مسلم حکمرانوں کو تیری کتاب کے نفاذ اور شریعت کو بالا دستی دینے کی توفیق عطا فرما، یا ذو الجلال و الاکرام!
یا اللہ! ہمارے سپاہیوں کو کامیاب فرما،  یا اللہ! ان کے قدموں کو ثابت بنا ، یا اللہ! ان کی نشانے درست فرما، یا اللہ! ان کے دلوں کو مضبوط بنا، یا قوی! یا عزیز!
یا اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو ہی غنی ہے ہم تیرے در کے فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما،  اور ہمیں مایوس مت فرما،  یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما۔
ہمارے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر خوب ظلم ڈھائے، اگر تو ہمیں نہ بخشے  اور ہم پر رحم نہ فرمائے  تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔
اللہ کے بندو!
{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو [امداد] دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے  منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے [قبول کرو]اور یاد رکھو۔ [النحل: 90]
تم عظمت و جلالت والے اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ  اور زیادہ دے گا ،یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔