بدھ، 17 اپریل، 2019

امانت اورخیانت



 ...................................................................

از:مفتی مولانا تنظیم عالم قاسمی

 ...........................................................................................
امانت داری ایمان کا حصہ ہے‘ جو شخص اللہ اورآخرت پر یقین رکھتا ہے وہ کسی کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔ اسے اس بات کا احساس ہو تا ہے کہ اگر میں نے کسی کا حق دبالیا یا اس کی ادائیگی میں کمی اورکو تاہی کی تو میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، وہ یقینا اس کا حساب لے گا اوراس دن جب کہ ہر شخص ایک ایک نیکی کا محتاج ہوگا حق تلفی کے عوض میری نیکیاں دوسروں کو تقسیم کردی جائیں گی، پھر میری مفلسی پر وہاں کو ن رحم کرے گا؟ اس طرح کے تصورات سے اہل ایمان کا دل کانپ اٹھتا ہے اورپھر خیانت یا حق تلفی کر نے سے باز آجاتا ہے؛ لیکن جس کے دل میں ایمان ہی نہ ہو یا ماحول اورحالات نے ایمان کی روشنی سلب کر لی ہو تو خیانت کر نے میں ایسے شخص کو کوئی تردد نہیں ہوتا؛ اسی لیے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت داری کو ایمان کی علامت اورپہچان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
”لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہ“(سنن بیہقی-۱۲۶۹۰)
ترجمہ: ” جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں “۔
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کے متعدد مقامات پر امانت داری کی تاکید فرمائی ہے، ارشاد باری ہے:
فَلْیُؤَدِّ الَّذِیْ اؤْتُمِنَ أَمَانَتَہُ وَلْیَتَّقِ اللّہَ رَبَّہ (بقرة: ۲۸۳)
ترجمہ: ”تو جو امین بنایا گیا ا س کو چاہیے کہ اپنی امانت ادا کرے اورچاہیے کہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرے “۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں امانت داری کو تقویٰ سے جوڑ دیا ہے یعنی جس کو موت کے بعد کی زندگی حساب وکتاب اورعدالت الٰہی پر یقین ہو جس کے دل میں خوف خدا اوراس کی گرفت کا احساس ہو ا سے چاہیے کہ امانت میں خیانت نہ کرے جس کا جو حق ہے پورا پورا ادا کردے؛ اس لیے کہ اس دنیا میں خیانت کر نے والا قیامت کے دن چین وسکون سے نہیں رہ سکتا، وہاں ایک ایک کا حق ادا کر نا ہوگا اوربڑی دشواریوں کا سامنا ہوگا؛ لیکن جس کو آخرت پر یقین نہیں وہ جوچاہے کرے دنیا میں چند روزہ زندگی کے بعد آخراپنے کیے ہوئے پر افسوس ہوگا اوربڑے خسارے میں ہوگا۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ زمانہ قیامت سے جیسے جیسے قریب ہوگا ایمانی قوت کم ہوتی چلی جائے گی اس کے نتیجے میں امانت داری بھی اٹھ جائے گی اورحال یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی بڑی بڑی آبادی ہوگی مگر امانت داری پوری آبادی میں ایک آدھ بڑی مشکل سے دستیاب ہوگا اوروہ بھی حقیقت میں امین نہ ہوگا۔ لو گ مثال کے طور پر کہیں گے کہ فلاں قوم میں ایک امانت دار شخص ہے ، آدمی کی تعریف ہوگی کہ کیسا عقلمند ، کیسا خوش مزاج اورکیسا بہادر ہے ؛ حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان داری نہ ہوگی ۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الفتن)
امانت داری کی اس قدر اہمیت کے باوجود آج کے معاشرہ میں اسے کوئی وزن نہیں دیا جاتا ، اچھے اچھے لوگ بھی جو عرف میں دین دار سمجھے جاتے ہیں وہ بھی امانت اور حق کی ادائیگی کا پاس ولحاظ نہیں رکھتے ، انھیں اس بات کا احساس نہیں ہوتاکہ امانت کی حفاظت اور اس کا مکمل طور پر اداکرنا دینی وشرعی فریضہ ہے، بعض لوگوں میں امانت داری کا جذبہ ہو تابھی ہے تو وہ صرف مال کی حدتک محدود رہتا ہے کہ اگرکسی شخص کے پاس کسی کا مال رکھا ہو تو وہ اسے ادا کردیتا ہے، عام طور پر لوگوں کا ذہن اسی مالی امانت کی طرف جاتا ہے ؛ حالانکہ امانت کی اوربھی مختلف قسمیں ہیں، جن کی اہمیت بعض صورتوں میں مالی امانت سے بھی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، ان کی حفاظت بھی ایک مسلمان کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مالی امانت کی ہوتی ہے ؛ اسی لیے فتح مکہ کے موقع پر خانہٴ کعبہ کی کنجی جب عثمان بن طلحہ بن عبد الدار شیبی کو دینے اوران کی امانت ان کو واپس کر نے کی تاکید کی گئی تو امانت کو جمع کے صیغے کے ساتھ استعمال کیاگیا، ارشاد باری ہے: إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا(النساء آیت ۵۸) ”اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچا دیا کرو“ قابل غور بات یہ ہے کہ کنجی کو ئی اہم مال نہیں ؛ بلکہ یہ خانہٴ کعبہ کی خدمت کی نشانی ہے جس کا تعلق مال سے نہیں عہد ے سے ہے، پھر بھی اس کو امانت سے تعبیر کیا گیا اورپھر جمع کا صیغہ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیاگیا کہ امانت کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں جن کی ادائیگی تمام مسلمانوں پرلازم ہے، ذیل میں امانت کی چند ایسی صورتیں بیان کی جارہی ہیں جن کی طرف عام طور پر لوگوں کا ذہن نہیں جاتا ؛ چنانچہ وہ ان امانتوں میں خیانت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اورانھیں کسی معصیت کا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا؛ حالانکہ شریعت کی نظر میں ان چیزوں میں بھی خیانت قبیح اورموجب گناہ عمل ہے جس سے ہر مسلمان کا بچنا نہایت ضروری ہے مثلاً:
نااہلوں کو عہدے اورمناصب سپرد کردنا
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جس عہدہ اورمنصب کا جواہل ہو اسی کو وہ عہدہ سپرد کیا جائے؛ اس کے لیے سب سے پہلے غور کر نا چاہیے کہ اس کے ماتحتوں میں کون ایسا شخص ہے، جس میں پیش نظر ملازمت یاعہدے کی مکمل شرطیں پائی جارہی ہیں، ایسا کوئی شخص مل جائے تو وہی اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے لہٰذا کسی پس وپیش کے بغیر وہ عہدہ اورملازمت اس کو سپرد کریا جائے اوراگر مطلوب صلاحیت کا حامل کوئی شخص دستیاب نہ ہو تو موجودہ لوگوں میں جو سب سے زیادہ لائق وفائق ہو اس کو منتخب کیا جائے، غرض یہ کہ حکومت کے ماتحت جتنے بھی عہد ے اورمناصب ہوتے ہیں وہ امانت ہیں اورارباب حکومت اس کے امین ہیں، اگر حکومت نے اپنے ماتحت کسی شخص کو اس کا مجاز بنایا ہے تو وہ بھی امین ہے ‘ان سب کو چاہیے کہ عہدے اورمنصب پوری دیانت داری سے تقسیم کریں‘ صلاحیت اورشرائط کو اس کے لیے معیار بنایا جائے نہ کہ قرابت اورتعلق کو۔ اگر کسی شخص کو ذاتی تعلق یا سفارش کی بنیاد پر یارشوت لے کر کوئی عہدہ اورمنصب سپرد کیا جاتا ہے تو یہ خیانت ہے اورتمام ذمہ دار اس خیانت کے مرتکب ہوں گے ، ایک موقع پر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپر د کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کے پیش نظر دے دیا ، اس پر اللہ کی لعنت ہے نہ اس کا فرض مقبول ہے نہ نفل یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جا ئے۔ (جمع الفوائد :ص: ۳۳۵)
نااہلوں کو عہدے سپر د کر نے سے گناہ تو ہو تا ہی ہے خود دنیوی اعتبار سے بھی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، اس سے مستحقین اورباصلاحیت افراد کے بجائے ناکارہ اورنااہل لوگ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں ان میں کام کی صلاحیت نہیں ہوتی ؛ اس لیے پورا شعبہ بگڑ جاتا ہے اورپھر عوام کے لیے یہ اذیت رسانی کا باعث ہوتا ہے ، آج کل ملکی حالات کا جائز ہ لیں تو معلوم ہو گا کہ نیچے سے لے کر اوپر تک تمام شعبوں میں کہیں رشوت اورسفارش اورکہیں تعلق اورقرابت کی بنیاد پر عہدے اورملازمت تقسیم کی جارہی ہیں؛ یہاں تک کہ عصری تعلیم گاہوں میں اساتذہ کی تقرری میں رشوت کالین دین عام ہوگیا ہے، اس کے نتیجے میں یہ تعلیم گاہیں باصلاحیت افراد سے محروم ہیں تقریباً تمام شعبوں کا یہی حال ہے، اس لیے حکومت کا نظام فساد کا شکار ہوگیا ہے اورآج ہر شخص اپنی جگہ بے چین ومضطر ب نظر آرہا ہے ۔
 رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: اِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ الٰی غَیْرِ أَہْلِہ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ (صحیح بخاری:۵۹) ”جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو سپرد کردی گئی جو ان کے اہل اورقابل نہیں تو قیامت کا انتظار کرو“
یعنی جب نااہل افراد کو کوئی ذمہ داری یا عہدہ اورمنصب سپرد کیا جائے تو فساد یقینی ہے اوراب دنیوی نظام کو فساد سے کوئی بچا نہیں سکتا ؛ اس لیے اب قیامت کا انتظار کرو، اس میں خلافت سے لے کر ایک ادنیٰ ملازمت بھی شامل ہے۔
اس خیانت کا تعلق صرف حکومت اورسرکاری عہدوں سے ہی نہیں؛ بلکہ نجی کمپنی ‘انجمن اورعوامی اداروں سے بھی ہے جو ان اداروں اورکمپنیوں کو مفید اوربافیض بنانا چاہتے ہیں انھیں چاہیے کہ جس کام کے جو لائق اوراہل ہے، اسے وہیں رکھا جائے ،کسی بھی وجہ سے اگر کم تر صلاحیت والے افراد کو فوقیت دی جائے تو ادارہ کبھی ترقی نہیں پاسکتا ، دینی مدارس میں بھی تقسیم اسباق اوردیگر امور میں اس اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے ورنہ اس سے تعلیمی نظام متاثر ہوگا اورذمہ داران خیانت کے مرتکب ہوں گے۔
مزدور اورملازمین کاکام چوری کرنا:
جو شخص کسی کا مزدور یاملازم ہو اسے چاہیے کہ مالک اورذمہ دار سامنے ہو یا نہ ہومکمل دیانت داری کے ساتھ کام کر ے، نہ تو وقت میں کمی کرے اورنہ کام میں سستی اورنہ ہی اپنی صلاحیت کو استعمال کر نے سے گریز کرے، ان تینوں میں سے کچھ پایاگیا توخیانت شمار ہوگی؛ اس لیے کہ ایک ملازم کی صلاحیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تنخواہ طے ہوتی ہے اگر اس نے کام کر نے میں پوری صلاحیت صرف نہ کی اورکسی بھی وجہ سے دلچسپی لیے بغیر محض ظاہری طور پر کام کر دیا تو کام میں وہ معنویت پیدا نہیں ہوگی جو ذمہ دار کو مطلوب تھی؛ اس لیے وہ تنخواہ بھی مشکوک ہو جا ئے گی اور خیانت کا بھی گناہ ہوگا ۔اسی طرح اگر مزدور وملازم سے پانچ چھ گھنٹے کام کرنے کا وقت طے ہوجائے اورپھر کام کر نے والا وقت میں چوری کرے ، وقت کے بعد آئے یا متعین وقت سے پہلے چلا جائے تو یہ بھی خیانت ہے، ایک مسلمان ملازم جو کائنات کے مالک کو سمیع وبصیر سمجھتا ہے اوراس پر پورا یقین رکھتا ہے اسے احساس ہو نا چاہیے کہ اگر چہ میرا مجازی مالک اورذمہ دار مجھے نہیں دیکھ رہا ہے ؛ لیکن رب تو مجھے دیکھ رہا ہے، اس کی گرفت سے جوبچ گیا وہی کامیاب اورفلاح پانے والا ہے ؛ اسی طرح کام میں سستی اورٹال مٹول کر نا بھی خیانت ہے، وہ کام جو پانچ گھنٹے میں ہوسکتا تھا اس کو دس گھنٹے میں تکمیل کر نا ؛ تاکہ مزید پیسے ملتے رہیں اوراس کے معاش کا مسئلہ حل ہو تا رہے ، یہ بری سوچ اورناپسندیدہ عمل ہے، امانت داری کا تقاضا ہے کہ مکمل تندہی سے کام کو انجام دیا جائے پورا وقت اورپوری طاقت اس کے لیے صرف کی جائے، ورنہ وہ مالک کے ساتھ خیانت کر نے کا مرتکب ہوگا اوراس کا بھی حساب روزمحشر میں دینا ہوگا۔
 حضرت موسیٰ  نے مدین کے سفر میں دولڑکیوں کی بکریوں کے پینے کے لیے پانی بھر دیا تو ان دونوں نے واپس جا کر اپنے بزرگ باپ سے ان کی تعریف کی اورکہا کہ یہ بڑے امانت دار اورطاقت ور ہیں ان کو اپنے گھر میں ملاز م رکھ لیجیے۔ قرآن نے اس کوان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
 یَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْہُ إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْأَمِیْنُ (قصص-۲۶)
”اے میرے ابا! ان کو مزدور رکھ لیجیے اچھا مزدور وہ ہے جوطاقت ور اورامانت دار ہو“
اس آیت میں جہاں ملازم اورمزدور کے اوصاف کی طرف رہنمائی کی گئی ہے وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ موجود ہے کہ مزدور امین ہو تا ہے اسے کام کر تے ہوئے اپنی امانت داری کا مکمل ثبوت دینا چاہیے، اس سے خود اس کی زندگی خوشگوار ہوگی اورغیب سے اس کے رزق کے لیے بہتر انتظام کیا جائے گا۔
خاص مجالس کی بات کو عام کر نا
چند لوگ کسی جگہ بیٹھ کر باتیں کریں اورپھر علیحدہ ہو جائیں تو اس مجلس کی تمام باتیں ہر ایک کے لیے امانت ہیں، کسی کے لیے جائز نہیں کہ اجازت اوررضا مندی کے بغیر ان باتوں کو دوسروں کے سامنے نقل کر ے اوراسے پھیلا نے کی کوشش کر ے؛ اس لیے کہ مجلس میں بہت سی راز کی باتیں ہوتی ہیں ،بولنے والا بسااوقات یہ چاہتا ہے کہ اس کے ان منصوبوں اورخیالات سے موجود افراد کے علاوہ دوسرے واقف نہ ہوں‘ اسے وہ راز میں رکھنا چاہتا ہے، ممکن ہے کہ اس کی باتوں کو پھیلا دیا جائے تو اس کو ذاتی نقصان ہو یاملامت اورشرمندگی کا سامنا کر نا پڑے، شریعت نے بھی اس کا لحاظ رکھاہے اورمسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی راز کو راز میں رکھیں اس کو پھیلا نے کی سعی نہ کریں ‘ہاں البتہ کوئی راز ایسا معلوم ہو جا ئے جس کا تعلق فتنہ اورفساد سے ہو جس سے دوسروں کا نقصان ہو سکتا ہے تو اس کو بتادینا چاہیے ، پھر ایسی مجلسوں کی باتوں کو محفوظ رکھنا جائز نہیں؛ بلکہ واجب اورضروری ہے کہ دوسرے شرکاء اس کو عام کردیں۔
 چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: المجالس بالأمانة الاثلٰثة مجالس سفک دم حرام اوفرج حرام اواقتطاع مال بغیرحق (سنن ابوداوٴد: ۴۸۶۹) یعنی مجلسیں امانت ہیں مگر تین موقعوں پر ،کسی کے ناحق قتل کی، یا آبرو ریزی کی یاکسی کامال ناجائز طور پر لے لینے کی ساز ش ہو تو متعلقہ لوگوں کو اس سے آگاہ کر دیا جائے، اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ مجلسی بات کا تعلق جب تک کسی کی ایذا رسانی حق تلفی یا نقصان پہنچا نے سے نہ ہو، اس کی حفاظت مجلس کے شرکاء پر ضروری ہے، اسے امانت سمجھ کر اپنے دل میں دفن کر دینا چاہیے بالخصوص وہ باتیں جن کے بارے میں محسوس ہو کہ متکلم اسے مجلس تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہے ؛ لیکن اگر مجلس میں ہو نے والی باتوں کا تعلق راز سے نہ ہو ؛ بلکہ عام باتیں ہوں جیسے دینی وشرعی مسائل ‘قرآن وحدیث کی باتیں‘ تاریخ وسیرت کی گفتگو وغیرہ تو ان باتوں کو عام کر نا اورلوگوں تک پہنچا نا مستحب ہے ؛ اس لیے کہ ان باتوں کو کوئی بھی چھپانا نہیں چاہتا اورنہ اس کے عام کر نے سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے۔
غلط مشورہ دینا
مشورہ جب کسی سے لیاجاتا ہے تو وہ ان کے حق میں امین ہوتا ہے اسے چاہیے کہ وہی مشورہ دے جس میں اس کے علم کے مطابق مشورہ لینے والے کا خیروفلاح مضمر ہو۔ دل میں جو بات آئے کسی ذہنی تحفظ کے بغیر صاف صاف کہہ دے ، رسول اکر م  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے مشورہ لینے پر ارشاد فرمایا: المستشار موٴتمن (ترمذی۔۲۸۲۳) ”جس سے مشورہ چاہا جائے وہ امانت دار کی ہے“
مشورہ لینے والا اپنا خیر خواہ سمجھ کر کسی سے مشورہ طلب کرتا ہے، اب اگر وہ ذاتی حسد اورعناد کی بنیاد پر ایسا مشورہ دے جس میں اس کے لیے نقصان ہو تو گو یا اس نے مشورہ طلب کر نے والے کو دھوکہ دیا اوراس کے ساتھ خیانت کا معاملہ کیا؛ کیونکہ اس نے اپنے علم ودانست کے خلاف مشورہ دیا ہے، کسی ایک شخص کو اگر کسی سے دشمنی وعداوت ہو یا کسی بنیاد پرآپس میں رنجش کا ماحول ہو اوراتفاق سے ایک نے دوسرے سے کسی بابت مشورہ طلب کر لیا، تو اسے اخلاص دل سے محبت کے ساتھ صحیح صحیح مشورہ دینا چاہیے اوراپنا دل صاف کر لینا چاہیے؛ اس لیے کہ مشورہ لینے کا مطلب اس نے اسے اپنا ہمدرد اورخیر خواہ تسلیم کر لیا ہے اورجب ایک شخص دوستی کا ہاتھ بڑھائے تو اخلاق وانسانیت کا تقاضا ہے کہ دوسرا بھی تواضع کی پلکیں بچھا دے اورمحبت کا بدلہ محبت سے دینے کا فیصلہ کرے اوراگر دل میں نفرت اس قدر ہو کہ بھلائی اس کے حق میں سوچ ہی نہیں سکتا تو پھر مشورہ دینے سے صاف انکار کردے ؛ لیکن اگر کدورت اورعداوت کے سبب غلط مشورہ دیا ؛تاکہ وہ ہلاک ہو جائے یا اسے پر یشانیوں کا سامنا کر نا پڑے تو یہ معصیت کاارتکاب ہوگا قیامت کے دن اس کا حساب دینا ہوگا۔
کسی کاراز ظاہر کرنا:
 حضرت جابر بن عبد اللہ  سے روایت ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اذاحدث الرجل الحدیث ثم التفت فہی امانة (ترمذی:۱۹۵۹)
”جب ایک شخص کوئی بات کہے اورچلا جائے تو یہ بھی امانت ہے“
 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے آپ سے کوئی ایسی بات کہی جس کو وہ دوسروں سے چھپا نا چاہتا ہے، آپ پر اعتمادکرتے ہوئے اس نے اپنے دل کے خیالات کا اظہار کیا ؛ تاکہ آپ کوئی مشورہ دے سکیں یا اس کے د کھ دردمیں کام آئیں، توآپ کے لیے اس کی یہ بات امانت کے درجے میں ہے، اپنی ذات تک اسے محدود رکھیں، دوسروں کو بتانا جائز نہیں اس سے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی اورتکلیف کا احساس ہوگا، بسا اوقات انسان دوستی اورتعلقات کی بنیاد پر کسی سے کچھ کہہ دیتا ہے اوراسے یقین ہوتا ہے کہ میرا یہ راز اس کے سینے میں محفوظ رہے گا مگر دوسرا شخص اس کا خیال نہیں کرتا بالخصوص جب دونوں میں کسی وجہ سے دوستی رنجش میں تبدیل ہو جاتی ہے، تو اس کے سارے راز دوسروں کے سامنے اگل دیتا ہے ؛ تاکہ اس کی تحقیر ہو اورلوگ اسے برا بھلا کہیں یہ نہایت براعمل اورنچلی حرکت ہے، اس سے خدا ناراض ہوتا ہے اورنہ معلوم خدا کی کون سی ناراضگی ہلاکت کا سبب بن جائے۔
اسی طرح میاں بیوی کے درمیان جو بات ہوتی ہے وہ بھی امانت ہے‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے لباس ہے، لباس بدن کے عیوب اورراز کی چیزوں کو چھپاتا ہے اسی طرح زوجین کو چاہیے کہ وہ باہمی گفتگو اورقابل اخفاء چیزوں کو پر دے میں رکھیں اورکسی بھی حال میں دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کریں؛ چنانچہ حضرت ابوسعید کی روایت ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان من اعظم الأمانة عند اللہ یوم القیامة الرجل یفضی الی امرأتہ وتفضی الیہ ثم ینشر سرھا (صحیح مسلم۱۲۴۔۱۴۳۷)
”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت قابل موٴا خذہ یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی کے پاس جائے اوربیوی اس سے لطف اندوز ہو اورپھر شوہر عورت کے راز کو دوسروں کے سامنے ظاہر کردے “
راز تو بہر حال راز ہوتا ہے وہ خواہ میاں بیوی کے درمیان ہو یا دودوست اوردوساتھیوں کے درمیان، اسے چھپانے کی شریعت نے تاکید کی ہے۔ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے لوگوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی جائے، کسی کی عزت سے کھلواڑ نہ کیا جائے اورنہ کسی کو ایذادی جائے اورراز کے اظہار میں ان میں سے کسی کا ارتکاب ضرور ہو تاہے؛ اس لیے یہ ممنوع اور ناپسندیدہ ہے۔
حق تلفی کر نا
ایک شخص کسی کو بطور امانت رکھنے کوئی چیز دے اوروہ بھول جائے یا اسے یاد تو ہومگر اس کے پاس کوئی شہادت نہیں ہے، یہ نازک گھڑی ہوتی ہے ‘اس میں امانت کامال لینے والے کے ایمان کا امتحان ہے، وہ اللہ کی گرفت پر یقین رکھتے ہوئے مال واپس کردیتا ہے یا اس کا حق دبا کر اپنی آخرت کو تباہ کر لیتا ہے، اگراس نے مال واپس نہ کیا تو یہ حق تلفی ہے اوراس پر سخت وعید آئی ہے، روز محشر اس کا حساب دیناہوگا ۔
جس طرح مادی حق کی ادائیگی سے پہلو تہی حق تلفی ہے‘ اسی طرح بعض حقوق ایسے ہوتے ہیں جو مادی تو نہیں ہیں؛ لیکن شریعت نے انہیں حق اورامانت سے تعبیر کیا ہے ان کی ادائیگی ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے جیسے میاں بیوی کے باہمی حقوق۔ ایک شخص جب کسی عورت کو اپنے نکاح میں لیتا ہے تو اس پر عورت کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں اسی طرح زوجیت میں آنے کے بعد عورت سے بھی شوہر کے کچھ حقوق وابستہ ہو جاتے ہیں‘ یہ حقوق امانت کے درجے میں ہیں، ان کی ادائیگی میں ٹال مٹول یاکمی وکوتاہی کر نا حق تلفی اورخیانت ہے جو ان کے لیے جائز نہیں، والدین اوراولاد کے باہمی حقوق بھی امانت ہے اس میں کمی وکوتاہی خیانت ہے اورموجب گناہ ہے ، اسی طرح استاذ اورشاگرد کے درمیان کے حقوق بھی امانت کے درجے میں ہیں، شاگرد کو چاہیے کہ اپنے استاذ کی خدمت‘ عزت واحترام اوران کا ادب کریں تو استاذ کو بھی چاہیے کہ وہ پوری امانت داری کے ساتھ اپنے شاگرد کو علمی غذا فراہم کریں، خود کتاب کا مطالعہ کریں اورپوری محنت سے علمی صلاحیت ان میں منتقل کرنے کی کوشش کریں، اس میں کچھ خامی خیانت کے دائرے میں داخل ہے
حاکموں اوررعایا کے درمیان باہمی حقوق کا بھی یہی حکم ہے جس طرح عوام پر حکومت کے اصول وقوانین کی پاسداری ضروری ہے اسی طرح حکمرانوں کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ممکن حدتک عوام کو سہولت فراہم کریں، ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھیں، اقتدار کے ذمہ دارنے وسعت کے باوجود اگر رعا یا کے حقوق ادا نہ کیے تو گویا اس نے خیانت کی جس کا اسے ضرور حساب دینا ہوگا ‘اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جن کا تعلق ایسے حقوق سے ہے جو مادی نہیں ہیں ؛ لیکن وہ بھی حق تلفی اورخیانت کے دائرے میں آتے ہیں اوراوراس کا بھی وہی حکم ہے جو مال میں خیانت کر نے کا ہے۔
ناانصافی کرنا
قاضی‘ حاکم اورتمام فیصلہ کر نے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ کے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کریں اورپوری دیانت داری کے ساتھ فریقین کے دلائل کی سماعت کریں پھر قوت دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کریں، اس میں قرابت‘خاندان‘ قوم، علاقہ اورمذہب ومسلک وغیرہ کو ہرگز دخل نہ دیں، اگر فیصلہ کر نے والوں نے کسی ذہنی تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا تو گویا اس نے خیانت کی اوربڑے گناہ کا ارتکاب کیا؛ اس لیے کہ قاضی حاکم وغیرہ اپنے ماتحتوں کے حق میں امین ہوتا ہے امانت داری کا انھیں پورا پورا پاس ولحاظ رکھنا چاہیے۔ گاوٴں دیہات وغیرہ کے سرپنچ کا بھی یہ حکم ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان بھی کسی بارے میں فیصل بنایا جائے تو وہ بھی امین ہوتا ہے ‘اللہ تعالی کو حاضر و ناظر رکھ کر اور اپنی گرفت کا احساس کرتے ہوے اسے صحیح صحیح فیصلہ کرنا چاہیے ‘کسی کی جانب داری اس کے لیے باعث ہلاکت ہے ۔
ان ساری تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت کا دائرہ صرف روپے پیسے‘ جائداد اورمال و منال تک محدود نہیں ؛ بلکہ ہر مالی، قانونی اوراخلاقی امانت تک وسیع ہے، عام طور پر امانت کالفظ بولنے سے لوگوں کا ذہن مالی امانت کی طرف جاتا ہے، اوراسی امانت کی ادائیگی کو کافی سمجھا جاتا ہے، جب کہ امانت داری کے مفہوم میں کافی وسعت ہے، اسی وسیع تر مفہوم میں مسلمانوں کا عمل ہو نا چاہیے ۔ آج بہت سے فسادات‘لڑائی جھگڑے اسی امانت داری کے نہ ہو نے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ اگر مالی‘ قانونی‘ اخلاقی اورتمام طرح کی دیانت کو ملحوظ رکھا جائے تو معاشرہ میں امن چین اورسکون ہوگا‘ بہتر سماج کی تشکیل عمل میں آئے گی اورلوگ خیانت کے گناہ اورآخرت کی گرفت سے بچ سکیں گے ۔
$ $ $

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ7-8، جلد:100 ‏، شوال-ذيقعده 1437 ہجری مطابق جولائی-اگست 2016ء



بدھ، 20 فروری، 2019

قبروں اور مزارات پر مشرکانہ عقائد اور مجاورت


الحمد لله وكفى والصلاة والسلام على النبي المصطفى وعلى آله وصحبه ومن سار على نهجه واقتفى . اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه 
أما بعد
قبروں کی تعظیم میں غلو نے بہت سے اعتقادی اور اخلاقی فتنوں کو جنم دیا ہے۔ قبروں اور مزارات پر مشرکانہ عقائد و اعمال اور کافرانہ رسوم و رواج اس قدر رواج پا رہی ہیں کہ بعض لوگوں نے یہود و نصاریٰ کی پیروی میں اولیاء و صالحین کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔ طلب حاجات کے لیے ان پر مراقبہ اور مجاہدہ کرتے نظر آتے ہیں، ہر مشکل میں ان کی پکار کرتے ہیں اور ان سے فریادیں کرتے ہیں، ان سے ڈرتے ہیں اور انہی سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، منت منوتی اور نذرانے پیش کرتے ہیں۔ لوگوں کا قیمتی مال ہڑپ کرنے کے لیے وہاں ٹھگ بیٹھے ہوتے ہیں جنہیں مجاور کہتے ہیں۔ وہ زائرین کو صاحب قبر کے متعلق جھوٹی حکایات اور کرامات سناتے ہیں۔ جہالت اور ضعف اعتقادی کے باعث لوگ ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اس طرح یہ جاہل لوگ عوام کا ایمان برباد کرتے ہیں۔ قبوریوں کی یہ انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوام الناس کو قبرپرستی اور اولیاء پرستی کے حوالے سے وہ سارے کے سارے و سائل و ذرائع مہیا کریں جن کی بنیاد پر وہ شرک و بدعت کی طرف چل دیں۔
انہی وسائل میں سے ایک قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے۔ قبروں پر مجاور اور خادم بن کر بیٹھنا منکر اور بدعت ہے۔ یہ بتوں کے پجاریوں کے ساتھ مشابہت اور یہودیانہ روش ہے۔ مشرکین اپنے بتوں کی دیکھ بھال اور نگرانی اسی طرح کرتے تھے :
جیسا کہ : اللہ تعالیٰٰ کا فرمان عالی شان ہے :
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ٭ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ [26-الشعراء: 71، 70]
’’
جب (ابراہیم علیہ السلام نے) اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیاچیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟ وہ کہنے لگے : ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انہیں کے مجاور بنے رہتے ہیں۔
نیز فرمایا :
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ [21-الأنبياء:52]
’’
جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو ؟
ایک مقام پر یوں ارشاد باری تعالیٰٰ ہے :
﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ [7-الأعراف:138
’’
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے : اے موسیٰ ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دیں جیسے ان کے کچھ معبود ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : یقینا تم بڑے جاہل لوگ ہو۔
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک حدیث بھی ملاحظہ فرما لیں :
سنان بن ابی سنان دؤلی بیان کرتے ہیں :
أنه سمع أبا واقد الليثي، يقول وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم : لما افتتح رسول الله مكة، خرج بنا معه قبل هوازن، حتى مررنا على سدرة الكفار، سدرة يعكفون حولها، ويدعونها ذات أنواط، قلنا : يا رسول الله، اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط، قال رسول الله صلى الله عليه وسلمالله أكبر، إنها السنن، هذا كما قالت بنو إسرائيل لموسى : اجعل لنا إلها كما لهم آلهة، قال إنكم قوم تجهلون ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنكم لتركبن سنن من قبلكم 
’’
میں نے صحابی رسول سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ ہمیں اپنے ساتھ ہوازن قبیلے کی طرف لے گئے۔ ہم کفار کی ایک بیری کے پاس سے گزرے جس کے پاس وہ مجاور ی کرتے تھے اور اسے ذات انواط کا نام دیتے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جس طرح کفار کی ذات انواط ہے، اسی طرح ہمارے لیے بھی ذات انواط مقرر کر دیجیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! یہ گزشتہ امتوں کے طریقے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی کچھ معبود بنا دیں جیسے کفار کے معبود ہیں اور اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا : تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ضروربالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر چلو گے۔ “ [صحيح ابن حبان: 6702، وسنده صحيح
علامہ شاطبی (م : 790 ھ) اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں
وصار حديث الفرق بهذا التفسير صادقا على أمثال البدع التي تقدمت لليهود والنصارى، وأن هذه الأمة تبتدع في دين الله مثل تلك البدع، وتزيد عليها بدعة لم تتقدمها واحدة من الطائفتين . . .
’’
اس تفسیر کے ساتھ (تہتر) فرقوں والی حدیث ان بدعتوں پر صادق آتی ہے جن کا ارتکاب یہود و نصاریٰ پہلے سے کرتے رہے ہیں، نیز معلوم ہوا کہ یہ امت بھی اللہ کے دین میں ایسی بدعتوں کا ارتکاب کرے گی بلکہ ایک زائد بدعت ایسی بھی کرے گی جس کا ارتکاب یہود و نصاریٰ نے نہیں کیا . . . [الاعتصام : 245/2]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ومن المحرمات: العكوف عند القبر، والمجاورة عنده، وسدانته، وتعليق الستور عليه، كانه بيت الله الكعبة .
’’
قبر پر اعتکاف، اس کی مجاور ی، اس کی خدمت، اس پر خانہ کعبہ بیت اللہ کی طرح چادریں چڑھانا، سب حرام کام ہیں۔ “ [اقتضاء الصراط المستقيم : 267]
نیز فرماتے ہیں :
فأما العكوف والمجاورة عند شجرة أو حجر، تمثال أو غير تمثال، أو العكوف والمجاورة عند قبر نبي، أو غير نبي، أو مقام نبي أو غير نبي، فليس هذا من دين المسلمين. بل هو من جنس دين المشركين .
’’
کسی شجر و حجر یا مورتی وغیرہ کے پاس اعتکاف کرنا اور کسی نبی یا غیر نبی کی قبر یا نبی یا غیر نبی کے مقام پر مجاور بن کر بیٹھنا، ان کاموں کا مسلمانوں کے دین سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ مشرکین کے دین سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ “ [اقتضاء الصراط المستقيم : ص 365]
شیخ الاسلام ثانی، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں :
فمنها: تعظيمها الموقع في الافتتان بها، ومنها اتخاذها عيدا، ومنها السفر إليها، ومنها مشابهة عباد الأصنام بما يفعل عندها من العكوف عليها، والمجاورة عندها، وتعليق الستور عليها وسدانتها. وعبادها يرجحون المجاورة عندها علي المجاورة عند المسجد الحرا، ويرون سدانتها افضل من خدمة المساجد
’’
قبر پرستی کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی ایسی تعظیم کی جاتی ہے جو انسان کو شرک و بدعت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے ہی ان کو میلہ گاہ بنانا، ان کی طرف سفر کرنا، انہی میں سے یہ بھی ہے کہ قبروں کے پاس وہ کام کیے جاتے ہیں جو بت پرستی سے مشابہ ہیں، مثلاً ان پر اعتکاف کرنا، ان کے پاس مجاور بن کر بیٹھنا، ان پر پردے لٹکانا، ان کی خدمت کے لیے وقف ہونا وغیرہ۔
قبر پرست لوگ قبروں کی مجاور ی کو بیت اللہ کی مجاور ی پر بھی ترجیح دیتے ہیں اور ان کا یہ نظریہ ہے کہ قبروں کی خدمت بیت اللہ کی خدمت سے بھی افضل ہے۔ “ [اغاثة اللهفان : 197/1

اس مجاور ی والی بدعت کو ثابت کرنے کی کوشش میں کچھ حضرات  کہتے ہیں کہ  :
’’
مجاور بننا تو جائز ہے۔ مجاور اسی کو تو کہتے ہیں جو قبر کا انتظام رکھے، کھولنے بند کرنے کی چابی اپنے پاس رکھے وغیرہ وغیرہ۔ یہ صحابہ کرام سے ثابت ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ مسلمانوں کی والدہ حضور علیہ السلام کی قبر انور کی منتظمہ اور چابی والی تھیں۔ جب صحابہ کرام کو زیارت کرنی ہوتی تو ان سے کھلوا کر زیارت کرتے۔ دیکھو مشکوٰ ۃ باب الدفن، آج تک روضۂ مصطفٰے علیہ الصلاۃ و السلام پر مجاور رہتے ہیں، کسی نے ان کو ناجائز نہ کہا:۔ “ [جاء الحق : 293/1
اگر احباب برا نہ مانیں تو ہم کہہ دیں کہ صاحب  جاء الحق نے ایک سانس میں کئی جھوٹ بول دیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مجاور بننا تو صحابہ کرام سے ثابت ہے۔ صحابہ کرام کو مجاور کہنا ان کی توہین اور گستاخی ہے۔ ان کے متعلق بدعقیدگی کا اظہار اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے ؟ رہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا صحابہ کرام کے لیے حجرہ کھول دینا تو اس کا مجاور ی سے کیا تعلق ہے ؟ آخر وہ ان کا اپنا حجرہ تھا، اسی میں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے بھی رہائش پذیر تھیں۔ اپنے حجرے کو وہی کھول سکتی تھیں۔ بمطاق وحی الٰہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اسی جگہ بنائی گئی۔ اس سے مجاور ی کا اثبات کیسے ہوا ؟
باقی صاحب جاء الحق  کا یہ کہناکہ روضۂ مصطفٰے علیہ الصلاۃ والسلام پر مجاور رہتے ہیں تو یہ صریح دروغ گوئی ہے۔ ہر صاحب عقل اس بات کو بے حقیقت خیال کرتا ہے۔ جس طرح آج مزاروں اور آستانوں پر ملنگ بیٹھے ہوتے ہیں، یہ کفار کی عادت ہے۔ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی تعلق و ناطہ نہیں۔ مشکوٰۃ کی جس روایت کی طرف صاحب جاء الحق نے اشارہ کیا ہے، وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ ان کی جہالت اور بددیانتی پر مہرثبت ہو جائے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
دخلت على عائشة فقلت : يا أمه اكشفي لي عن قبر النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبيه رضي الله عنهما، فكشفت عن ثلاثة قبور، لا مشرفة ولا طئة مبطوحة ببطحاء العرصة الحمراء .
’’
میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا : امی جان ! میرے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کی قبریں کھولیں (یعنی اپناحجرہ کھولیں) تو انہوں نے میرے لیے تینوں قبریں کھولیں۔ نہ وہ اونچی تھیں اور نہ بالکل زمین کے ساتھ برابر بچھی ہوئی تھیں۔ میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں۔ “ [سنن ابي داود : ح : 3220 وسنده صحيح]
امام حاکم رحمہ اللہ [1/963] نے اس اثر کو ’’ صحیح “ کہا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ اس کے راوی عمرو بن عثمان بن ہانی کو امام ابن حبان
نے ’’ الثقات “ [8/874] میں ذکر کیا ہے اور امام حاکم نے اس کی روایت کی تصحیح کر کے اس کی توثیق کر دی ہے، لہٰذا یہ ’’ حسن الحدیث “ ہے۔
قارئین اس حدیث کو باربار پڑھیں اور سوچیں کہ کیا اس سے وہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے جو جناب نعیمی صاحب نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبور مبارکہ تھیں، اس لیے ان کی اجازت سے ہی ان کی زیارت کی جا سکتی تھی۔
احباب اس بات کی طرف بھی غور فرمائیں کہ جناب نعیمی صاحب نے اس حدیث کی طرف اشارہ کرنے میں ہی اپنی عافیت کیوں جانی ؟ انہوں نے اسے ذکر کیوں نہ کر دیا ؟ اس لیے کہ یہ حدیث تو ان کے قبوری سسٹم کے لیے بہت نقصان دہ تھی۔ اس میں صاف مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں نہ بلند تھیں اور نہ پکی تھیں، بلکہ زمین سے تھوڑی سی اونچی اور کچی تھیں۔ ان پر کوئی چادر وغیرہ نہیں ڈالی گئی تھی۔ اگر نعیمی صاحب اس حدیث کو ذکر کر کے اس کا ترجمہ کر دیتے تو ان کے قبوری مذہب کی بنیادیں ہل جاتیں اور لوگ ان سے پوچھتے کہ جناب اگر صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کو نہ اونچا کیا، نہ پختہ کیا اور نہ ان پر چادریں چڑھائیں تو آپ اس بدعت کو جائز کیسے قرار دیتے ہیں ؟ یہ ہے دیانت داری اور علمیت جناب صاحب  جاء الحق کی ! ! !
مزید لکھتے ہیں :
’’
سیدنا حسن ابن حسن ابن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ ضربت امراته القبة علي قبره سنة .
تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا۔ “ [جاء الحق : 285/1]
صاحب جاء الحق  جب قبروں پر مجاور بننے کے ثبوت پر کوئی وضعی و من گھڑت روایت بھی پیش نہ کر سکے تو ایک چال چل دی۔ چونکہ اس روایت میں القبه کا لفظ آیا تھا، ترجمہ میں بھی قبه لکھ دیا کہ عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ حسن ابن حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان کی قبر پر قبه بنایا تھا، لہٰذا بزرگوں کی قبروں پر گنبد و قبہ بنانا اور ان میں مجاور بن کر بیٹھنا جائز ہوا، حالانکہ یہاں قبه سے خیمہ مراد ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت کے ماخذ و ثبوت کو لیجیے تو یہ روایت صحیح البخاری میں تعلقاً موجود ہے۔ [صحيح البخاري : ح 1330]
اس کی سند میں محمد بن حمید الرازی راوی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف “ ہے۔ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (773۔ 852ھ) لکھتے ہیں کہ یہ ’’ ضعیف “ راوی ہے۔ [تقريب التهذيب لابن حجر: 5834]
صاحب  جاء الحق نے اپنی روایتی ’’ دیانتداری “ سے کام لیتے ہوئے اس روایت کے اگلے الفاظ ذکر نہیں کیے، وہ بھی ملاحظہ فرمائیں :
ثم رفعت، فسمعوا صائحا يقول: الا هل وجدوا ما فقدوا فاجابه آخر: بل يئسوا، فانقلبوا
’’
پھر اس خیمے کو اٹھا لیا گیا۔ انہوں نے ایک چیخنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : کیا انہوں نے جو گم پایا تھا، اسے حاصل کر لیا ؟ دوسرے نے جواب دیا : بلکہ وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے ہیں۔
اس روایت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ قبر پر خیمہ ان پر رونے کے لیے لگایا گیا تھا، نیز قبروں پر قبے بنانے والے ناکام و مایوس ہی ہوتے ہیں۔ ان کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ بے فائدہ اور فضول کام ہے۔ اسی لیے یہ الفاظ جناب نعیمی صاحب نے ڈکار لیے تھے۔
تنبیہ :
یہی روایت کتاب الہواتف لابن ابی الدنیا [131] میں اس سند کے ساتھ مذکور ہےحدثني يوسف بن موسي : ثنا جرير عن ابن خالد ابن مسلمة القرشي، قال . . .
اس سند میں ابن خالد بن مسلمہ القرشی کا تعارف اور توثیق مطلوب ہے۔ نیز سند کا اتصال بھی ثابت کیا جائے۔
قارئین کرام نے قرآن و سنت کے دلائل اور ائمہ دین کی تصریحات سے قبروں کی مجاور ی کا بدعت اور یہود و نصاریٰ کی روش ہونا ملاحظہ فرمایا۔ ساتھ ہی اس ضمن میں صاحب جاء الحق  کے دلائل بھی دیکھے۔ ان سے اپیل ہے کہ خود فیصلہ فرمائیں کہ کیایہ لوگ دین کے لیے مخلص ہیں ؟ قرآن و سنت کو تروڑ مروڑ کر اپنے شرکی و بدعتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جن لوگوں کا وطیرہ ہو، وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیرخواہ کیسے ہو سکتے ہیں ؟  دعا ہے کہ اللہ تعالیٰٰ ہمیں راہ حق پر گامزن فرمائے۔ آمين
من تحریر : غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری بتغیر یسیر

پیر، 28 جنوری، 2019

نسوار كي تعارف اور اس كا شرعي حكم



نسوار تمباکو سے بنی ہوئی گہرے سبز رنگ کی ہلکی نشہ آور چیز ہے۔ نسوار کھانے والا ایک چٹکی کے برابر اپنے زیریں لب اور دانتوں کے درمیان دبا لیتا ہےاور تمباکو کے نشے کا سرور لیتا ہے۔ نسوار بنانے کے لیے تمباکو کے خشک پتوں میں حسب منشا چونا ، راکھ اور ایک خاص گوند ملا کر پتھر کی اوکھلی میں لکڑی کے موٹے موصل سے کوٹ کوٹ کر پانی کے ہلکے چھینٹےدے کر تیارکی جاتی ہے۔ بڑے پیمانے پر مشینوں سے بھی تیار کی جاتی ہے۔بنوں کی نسوار مشہور ہے جبکہ چار سدہ اور صوابی میں بہترین تمباکو کاشت ہوتی ہے۔
سبز نسوار تیار کرنے کے لیے تمباکو کے پتوں کو سائے میں خشک کیا جاتا ہے جبکہ کالی نسوار کے لیے تمباکو کے پتوں کو دھوپ میں سکھایا جاتا ہے۔ سونگھنے والی لال نسوار بھی ہوتی ہے۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے یعنی کہ کسی بھی طریقے سے نکوٹین کو خون اور ماغ تک پہنچانا۔
گندا  نشہ ہے کیونکہ اس کے استعمال سے منہ میں بدبو اور انگلیاں گندی رہتی ہیں۔ کینسر کا باعث بھی ہے۔ یورپ کے لوگ اس کے مضر اثرات اور گندی ہونے کے باعث اس کو ترک کرچکےہیں لیکن ہمارے لوگ اب تک اس کے عادی ہیں ۔
 نسوار چونکہ تمباکو سے بنتی ہے اس لیے اس کے نقصانات بھی لازماً ہیں لیکن یہ بہت کم نسوار خوروں کو پتہ ہوتا ہے۔ البتہ جو چیز اس میں تکلیف دہ ہے وہ نسوار خوروں کا جگہ جگہ تھوکنا ہے جس سے دوسرے لوگ تنگ ہوتے ہیں۔ یہی حال پان کی پیک تھوکنے والوں کا ہے۔ نسوار افغانستان، پاکستان، بھارت، ایران،تاجکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان میں ہوتی ہے۔
نسوار خور اسے ایک ڈبی میں یا پڑیا میں ڈال کر جیب میں رکھتا ہے اور حسب خواہش منہ میں ڈالتا رہتا ہے۔عام طور پر پٹھان اس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی اس کا استعمال کافی ہے۔ سائنس نے اس کے نقصانات بھی کافی بیان کیے ہیں۔ اکثر دوست سمجھتے ہوں گے کہ نسوار پشتونوں کی ثقافت ہے اور اس کو پختون قوم نےایجاد کیا۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ نسوار ابتدائی طور پر امریکہ سے شروع ہوئی جس کا تذکرہ پندرویں صدی کی کتب میں ملتا ہے، اور یورپ میں سترہویں صدی سے عام استعمال ہوا۔ یورپی ممالک میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے باعث حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر اس کا استعمال ناک، سانس یا انگلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کینیڈا میں ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کرنے سے ہوئی۔ہیٹی کے مقامی لوگوں کی جانب سے 1496-1493میں کولمبس کی جانب سے امریکہ دریافت کے سفر کے دوران ریمن پین نامی راہب نے ایسے ایجاد کیا۔ کولمبس کے ساتھیوں نے یہاں دیکھا کہ مقامی ریڈ انڈینز ایک پودے کے پتوں کا رول بنا کر اس کے اگلے سرےکو سلگا کر اس کا دھواں اندر کھینچتے ہیں اور یوں کولمبس نے باقی دنیا کو بھی ٹوبیکو یعنی تمباکوسے متعارف کروایا۔ جب سے یہ پودا باقی دنیا میں متعارف ہوا حضرت انسان ہر ہر طریقے سے اس کو اپنے جسم میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سگریٹ، نسوار، پان، قوام وغیرہ۔ 
اصل میں تمباکو میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کا نام ہے نکوٹین۔ اب آپ نکوٹین کسی بھی ذریعے سے لیں، خواہ سگریٹ، یا نسوار یا پان کا تمباکو وغیرہ۔ خون میں ملنے کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ کے اعصاب تک پہنچ جاتی ہے. نکوٹین کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن (dopamine) نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔ جب بھی دماغ ڈوپامائن چھوڑتا ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کام کا اجر ملا ہے۔ یعنی دماغ کو یہ اشارہ جاتا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پئیں یا نسوار لیں یا پان کھائیں گے تو آپ دماغ محسوس کرے گا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دماغ یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا وہ نکوٹین کے اثر کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ آپ بار بار اس کو لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ لت ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کسی منشیات کی لت، مثلاً ہیروئن۔ نکوٹین کا نشہ اس قدر طاری ہوتا ہے کہ وہ آپ کے رویّے کو کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ نہ لینے کی صورت میں جسم ٹوٹنا، چڑچڑا پن، کمزوری، بے چینی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دماغ کی ساری توجہ نکوٹین حاصل کرنے کی طرف لگ جاتی ہے اور پورا جسم بیکار اور بے جان محسوس ہونے لگتا ہے۔
17 ویں صدی میں اس کی مصنوعات کے خلاف کچھ حلقوں کی جانب سے تحریک اٹھی اور پوپ  اربن ہفتم کی جانب سے خریداری پر دھمکیاں دیں گئیں۔ روس میں اس کا استعمال 1643میں زار مائیکل کی جانب سے کیا گیا ۔ ناک سے استعمال کی وجہ سے اس پر سزا مقرر کی گئی۔ فرانس میں بادشاہ لوئیس XIIIنے اس پر حد مقرر کی جبکہ چین میں1638میں پوری طرح نسوار کی مصنوعات پھیل گئی۔
18ویں صدی تک نسوار کو پسند کرنے والوں میں نپولین بونا پاٹ ، کنگ جارجIII کی ملکہ شارلٹ اور پوپ بینیڈکٹ سمیت اشرافیہ اور ممتاز صارفین میں یہ رائج ہوچکا تھا۔
18 ویں صدی میں انگلش ڈاکٹر جان ہل نے نسوار کی کثرت استعمال سے کینسر کا خدشہ ظاہر کیا۔ امریکہ میں پہلا وفاقی ٹیکس 1794ء میں اس لیے لگا کیونکہ اسیے عیش و عشرت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔اٹھارویں صدی میں جینٹل ویمن نامی میگزین میں پرتگالی نسوار کی اقسام اور استعمال کے مشورے شائع ہوئے۔افریقہ کے کچھ علاقوں میں یورپی ممالک کے افراد کی وجہ سے پھیلی اور دیہاتیوں نے ناک کے ذریعے استعمال کیا ۔ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ مصنوعات بھی متعارف ہوئی اور اس کا استعمال پاک و ہند میں پھیل گیا۔
نسوار کی تاریخی پس منظر اور اس کی حقیقت آپ نے پڑھ لی ، اور اپ نے  یہ بھی معلوم کر لیا ہوگا کہ نسوار ایک گندی چیز ہے استعمال کنندہ کے منہ سے بدبو آتی ہے جہاں پھینکاجاتا ہے وہ جگہ بھی گندی ہو جاتی ہے ، اب ہم نے اسے شرعی طور پر دیکھنا ہے، وباللہ التوفیق 
تو جان لیجئے کہ  اسلام ایک صاف ستھرا  اور نفیس دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو بھی نظافت ونفاست کی تعلیم دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:   اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ. البقره، 2: 222
بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں توبہ کرنے والے اور پسند آتے ہیں گندگی سے بچنے والے ۔
ایک اور مقام پرارشاد باری تعالی ہے  :
مَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيَجْعَلَ عَلَيْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰـکِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَکُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَه عَلَيْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ.
اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔   المائدة، 5: 6
اسلام میں صفائی و ستھرائی کی اہمیت کا اندازہ  آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ  آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ...
عَنْ اَبِي مَالِکٍ الْاَشْعَرِيِّ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ.رواه مسلم 1/203  ، احمد بن حنبل 5/342  
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پاکیزگی نصف ایمان ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس کام سے روکا جو نظافت و نفاست کے خلاف ہو، لہسن اور پیاز حلال چیزوں میں سے ہیں لیکن اگر کسی کے منہ سے لہسن اور پیاز کے بو آرہی ہو تو آپ ﷺ نے ایسے شخص کو مسجد میں آنے سے  منع کر دیا ہے،
 چناچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
اَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي غَزْوَة خَيْبَرَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَة يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا. رواه البخاري
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے غزوہ خیبر کے دوران فرمایا کہ جو اس درخت یعنی لہسن سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے.
امام مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے :  حَتَّی يَذْهَبَ رِيحُهَا يَعْنِي الثُّومَ. مسلم
جب تک اس کے منہ سے بدبو  نہ  چلی جائے۔
عن عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اﷲِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ مَنْ اَکَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَة يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَانَا فِي مَسَاجِدِنَا. البخاری 1/292
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ ،نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس درخت میں سے کھایا، اس سے مراد لہسن ہے، وہ ہم سے ہماری مسجد میں نہ ملے۔
قُلْتُ مَا يَعْنِي بِهِ قَالَ مَا اُرَهُ يَعْنِي إِلَّا نِيئَهُ وَقَالَ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا نَتْنَهُ.
میں (عطاء) عرض گزار ہوا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا کہ میرے خیال میں کچا لہسن مراد ہے۔ مخلد بن یزید نے ابن جُریح سے روایت کی کہ اس کی بو مراد ہے۔   صحیح بخاري ، ، 1: 292
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کافی طویل ہے جس میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت سی باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
ايُهَا النَّاسُ تَاْکُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا اَرَهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلَ وَالثُّومَ لَقَدْ رَيْتُ رَسُولَ اﷲِ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ اَمَرَ بِهِ فَاُخْرِجَ إِلَی الْبَقِيعِ فَمَنْ اَکَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا. رواه مسلم  1/ 396
اے لوگو! تم لہسن اور پیاز کے درختوں سے کھاتے ہو، حالانکہ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جس شخص کے منہ سے ان کی بدبو آتی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے حکم دیتے کہ وہ مسجد سے نکل کر بقیع کے قبرستان کی طرف چلا جائے۔ لہٰذا جو شخص انہیں کھانا چاہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو ختم کر دے۔
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ سَاَلَ رَجُلٌ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ اﷲ يَقُولُ فِي الثُّومِ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ مَنْ اَکَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَة فَلَا يَقْرَبْنَا اَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا. رواه البخاري 1/ 293
حضرت عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لہسن کے متعلق نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے بتایا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس درخت سے کھائے وہ ہمارے نزدیک نہ آئے نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔
 عَنْ اَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُوْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ. رواه أحمد 1/394
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔
عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ اَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَة فَاَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة الْمُنْتِنَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَة تَاَذَّی مِمَّا يَتَاَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ. رواه مسلم 1/394 و احمد 3/374
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تو تکلیف دینےکے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے .
آپ نے مندرجہ بالا احادیث پڑھ لئے اور یہ اندازہ لگا لیا ہوگا کہ  اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندگی اور بو سے کس قدر نفرت کی ہے . اگر حلال چیز، جسے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو، اسے کھا کر اپنی عبادت گاہ کی طرف آنے سے منع فرما دیا جبکہ لہسن یا پیاز صحت کے لیے نقصان دہ بھی نہیں ہیں، ۔ اور جو حضرات نسوار لگاتے ہیں ان منہ سے جو بد بو آتی ہے  اللہ کی پناہ .
 آپ نے نسوار  کی تاریخ پڑھ لی اور اس کی استعمال سے پیش انے والے مضرات میں سے بدبو اور اس کا حکم احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں پڑھ لیا ہے ۔ اج اس اخری قسط میں نسوار سے مزید پیش انے والے مضرات نظر قارئین کرتا ہوں  وباللہ التوفیق  ۔
لیکن اس سے پہلے یہ یاد رہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف نسوار کو نقطہ ہدف کیوں بنایاگیا ہے،  ایسی کوئی بات نہیں سگریٹ اور پان وغیرہ سب کا یہی حکم ہے چونکہ موضوع نسوار تھا اس لیے مضمون اسی کے نام ہوا ۔
میں نسوار کی مضرات کی بات کر رہا تھا کہ استعمال کنندہ کی منہ سے جو بدبو آتی ہے شریعت میں اس کا حکم کیا ہوگا وہ اپ نے پڑھ لیا ہے ۔ اب مزید سنیں کہ کہ نسوار مضر صحت ہے اور اسراف  و تبذیر ہے ابھی ہم ان دو عنوان پر شرعی نقطہ نظر سے بات کریں گے ۔
(1) نسوار مضر صحت ہے ::
اس میں شک و شبہ نہیں کہ نسوار صحت كے ليے نقصاندہ ہے، اور پھر اس سے كئى قسم كى گندى بيمارياں بھى پيدا ہوتى ہيں۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ اس سے کنسر بھی لاحق ہوسکتی ہے؛ اور دیگر امراض بھی جو موت كا باعث بن سكتى ہيں يا موت كےمقدمات ميں شامل ہوتى ہيں۔ یوں سمجھ لیں کہ نسوار کا استعمال کنندہ اپنے اپ کو قتل کرنے اور اپنے اپ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور یہ شرعاً ممنوع ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۔ سورۃ النساء 29   (اپنی جانوں کو قتل نہ کرو)
اس کی تفسیر بعض مفسرین نے یوں فرمایا ہے کہ اس میں خود کشی کی ممانعت بھی شامل ہے (معالم التنزیل صفحہ ٤١٨) چونکہ الفاظ میں عموم ہے اس لیے آیت کا مفہوم سب کو شامل ہے۔   اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ  ۔ البقرۃ 195 (  اور تم اپنے آپ كو ہلاكت ميں مت ڈالو  ۔  )
پہلی آیت کریمہ میں ارشاد ہوا کہ اپنے آپ کو قتل مت کرو جبکہ دوسرے آیت کریمہ میں ارشاد ہوا کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ،  جب یہ واضح ہے کہ نسوار ( سگرٹ وغیرہ) سے انسان کو مہلک بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں تو گویا کہ ان کا استعمال کنندہ اپنے آپ کو جان بوجھ کر ہلاکت میں ڈالنا چاہتا ہے اور یہ جائز نہیں ۔
ایک واقعہ :  میرا ایک دوست جو ہمارے ساتھ(1990)  نائنٹیز   کے زمانے ایک جگہ کام کیا کرتا تھا پھر اس سے میری ملاقات تقریبا  پندرہ سال بعد ہوئی ہم بہت ہی گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملے دوران گفتگو میں نے ان سے اس کی جسمانی کمزوری کی سبب پوچھی تو کہنے لگا ، کہ جناب مجھے تو نسوار لے دوبا تھا اللہ نے بچایا میں نے کہا وہ کیسے اس نے بتا یا کہ مجھے منہ میں کنسر ہوا تھا یہا قطر میں علاج کیا پھر پاکستان گیا وہاں علاج کیا اور اپنہ منہ دیکھاتے ہوئے کہا کہ میرا ادھا دھاڑ کاٹ دیا گیا ہے  میں ا س کا منہ دیکھتا رہا  اوراسے تسلی دیتا رہا ، اللہ تعالی ہمیں ایسے حالات سے بچائے  .
اسی طرح بے شمار واقعات سامنے آتے ہیں اور آئے ہیں ۔ لہذا  نسوار سگریٹ  اور ایسی دیگر اشیاء منہ، گلے، پھیپھڑوں، سینے وغیرہ کا کینسراور ٹی بی جیسی مہلک بیماروں کا سبب بنتی ہیں۔ لہٰذا انہی وجوہات کی بنیاد پر نسوار ہو، سگریٹ وغیرہ  کو  علماء محققین ناجائز قرار دے رہے ہیں   کیونکہ ان کا استعمال خود کشی کے مترادف ہے۔
 (2) نسوار یا سگریٹ کی استعمال پر پیسے خرچ کرنا اسراف تبذیر ہے :::
جس طرح نسوار یا سگریٹ وغیرہ استعال انسان کے لیے مضر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر اپنا مال خرچ کرنا بے جا  خرچ کرنے کی مترادف ہے اور  اسراف اور تبذیر ہے اور یہ بھی شرعا ممنوع ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے .
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا  26؀ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا  27؀
ترجمہ : اور مال کو بےجامت اڑاؤ، بلاشبہ مالوں کو بےجا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے.
تبذیر کہتے ہیں، مال کے بےموقع یعنی محل معصیت میں خرچ کرنے کو. التبذیر انفاق فی غیر حقہ (جصاص۔ عن ابن عباس (رض) وعبداللہ بن مسعود (رض) وقتادۃ (رض)  التبذیر تفریق المال فی غیر الحل والمحل (مدارک) تفسیر الماجدی
(الْمُبَذِّرِيْنَ ) سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو معصیت کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کو استعمال نہیں کرتے ، عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا گیا ، تبذیر کسے کہتے ہیں ، اس نے جواب دیا ، ” انفاق المال فی غیر حقہ “۔ یعنی ناحق اور نامناسب طور پر دولت کو صرف کرنا ۔ تفسیر سراج البیان
خلاصہ کلام یہ ہے  کہ :
نسوار یا سگریٹ پر اپنا مال خرچ کرنا اسراف اور تبذیر کی حکم میں اتا ہے اور اسراف تبذیر سے قرآن کریم میں منع کیا گیا ہے ۔
لہذا نسوار اور سگریٹ وغیرہ کا استعمال بالکل جائز نہیں ہے کیونکہ ان سے گندگی پھلتی ہے اور خبیث اشیاء کی ضمن میں آتی ہیں اور اللہ تعالی نے ہمیں خبیث اشیاء سے منع فرمایا ہے   ارشاد باری تعالی ہے ۔ 
يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭقُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ . المائدہ   4
پوچھتے ہیں ان کے لیے کیا چیز حلال ٹھہرائی گئی ہے۔ کہو تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ٹھہرائی گئی ہیں.
آپ نے دیکھا ہوگا کہ خود نسوار سگریٹ پینے والے انہیں گندگی سمجھتے ہیں ،اور یاد رہے کہ  رسول اللہ ﷺ کی صفت قرآن میں ہوں بیان کہ گئی ہے  ،    وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ . الاعراف 157
اور(آپ ﷺ)   ان کے لیے پاکیزہ چیزیں جائز بتاتا ہے اور ان پر گندی چیزیں حرام کرتا ہے .
اس میں بھی  شک نہیں کہ نبی اکرم کے عہد میں نسوار  سگریٹ کا وجود گرچہ نہیں پایاجاتا تھا لیکن اشیاء کی حرمت وحلّت کے بارے میں اسلام نے جو عام اصول وضع فرمائے ہیں ان کی روسے ہروہ چیز حرام قرارپاتی ہے جو انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہو ،یا وہ چیز بجائے خود دولت کے تلف اور مال کی بربادی کا باعث بن سکتی ہو یا ا س کے استعمال سے دوسرے انسان کو کسی قسم کے نقصان پہنچنے کا احتمال ہو  ۔  آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے  ،  لا ضرر ولا ضرار   . رواه احمد 
یعنی اسلامی نقطۂ نگاہ سے ہر ایسا کام ناجائز ٹہرتا ہے جس کا نقصان اس کے کرنے والے کوخود اٹھانا پڑے یا اس کے مضر اثرات کسی دوسرے انسان پراثرانداز ہورہے ہوں۔ ( یہ حدیث مسند احمد میں ہے )
 نسوار ہو یا سگریٹ جہاں استعمال کرنے والے کی صحت کے لیے مضراور ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے لیے تکلیف وایذا کا باعث بنتا ہے، وہاں وہ مال ودولت کی تباہی وبربادی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے   (وَكَرِهَ (اللهُ ) لَكُمْ إِضَاعَةِ الْمَالَ)  (متّفق عليه) ’’یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے مال کے ضیاع کو ناپسند قراردیا ہے‘‘۔ بخاری و مسلم ۔
اور سگریٹ نوشی اور نسوار  یقیناً اس شخص کے مال کی بربادی کا باعث ہے جو اس کو استعمال کرتا ہے اور یہ ایک ایسا کا م ہے جسے اللہ رب العزّت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ نسوار اور سگریٹ  گندی چیزیں ہیں   ، اس لیے عرب علماء کے نزدیک یہ دونوں حرام ہیں ، ہمارے پاک و ہند کے علماء اسے سخت مکروہ قررا دے رہے ہیں مگر یاد رہے کہ فقہاء کی اصطلاح میں مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہی ہے ۔
اب میں  دارالعلوم دیوبند کا ایک فتوی نظر قارئین کرتا ہوں .
سوال : کیا سگریٹ، نسواراور چرس حرام ہیں؟ جب کہ چرس پینے والا ہوش وہواس میں رہتاہے۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ھ): 2254=1455-10/1431
سگریٹ پینا سخت مکروہ ہے، نسوار اور چرس میں نشہ ہوتا ہے، پس ان کا استعمال بھی ناجائز ہے اور بعض لوگوں کو جو نشہ نہیں ہوتا وہ عادی ہوجانے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، جس طرح شراب کے عادی لوگوں کو بھی بسا اوقات بہت زیادہ نشہ نہیں ہوتا، مگر اس کی وجہ سے حرام ہونے کا حکم ساقط نہیں ہوتا، نیز ان جیسی چیزوں (سگریٹ، نسوار، چرس، شراب) سے اعضائے رئیسہ دل ودماغ پھیپھڑوں وغیرہ میں خطرناک امراض پیدا ہوتے ہیں یا پیدا ہونے کا اندیشہ غالب ہوتا ہے، اس لیے بھی ان چیزوں کے استعمال کا ناجائز و گناہ ہونا ظاہر ہے۔   واللہ تعالیٰ اعلم
  ...      دارالافتاء،  دارالعلوم دیوبند
   قارئین محترم میں اسی پر اکتفاء کرتے ہوئے اللہ کی حضور دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں گندی چیزوں سے بچائے اور ہمیں اپنے حفظ و آمان میں رکھے .    آمین  ثم آمین یا رب العلمین ، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين  .
أخوكم في الله : اكبر حسين اوركزئي  حالا مقيم بدولة قطر
29 جنوری  2019