منگل، 24 ستمبر، 2019

جنگِ خندق


اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی سِلامٌ عَلیٰٓ عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اسْطَفی

۵ھ؁ کی تمام لڑائیوں میں یہ جنگ سب سے زیادہ مشہور اور فیصلہ کن جنگ ہے چونکہ دشمنوں سے حفاظت کے لئے شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تھی اس لئے یہ لڑائی ”جنگ خندق” کہلاتی ہے اور چونکہ تمام کفار عرب نے متحد ہو کر اسلام کے خلاف یہ جنگ کی تھی اس لئے اس لڑائی کا دوسرا نام ”جنگ احزاب”(تمام جماعتوں کی متحدہ جنگ)ہے،قرآن مجید میں اس لڑائی کا تذکرہ اسی نام کے ساتھ آیا ہے۔
جنگ خندق کا سبب
میثاق مدینہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے”قبیلہ بنو نضیر” کے یہودی جب مدینہ سے نکال دئیے گئے تو ان میں سے یہودیوں کے چند رؤسا ”خیبر” میں جا کر آباد ہو گئے اور خیبر کے یہودیوں نے ان لوگوں کا اتنا اعزاز و اکرام کیا کہ سلام بن مشکم وابن ابی الحقیق وحیی بن اخطب و کنانہ بن الربیع کو اپنا سردار مان لیایہ لوگ چونکہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے اور انتقام کی آگ ان کے سینوں میں دہک رہی تھی اس لئے ان لوگوں نے مدینہ پر ایک زبردست حملہ کی اسکیم بنائی،چنانچہ یہ تینوں اس مقصد کے پیش نظر مکہ گئے اور کفار قریش سے مل کر یہ کہا کہ اگر تم لوگ ہمارا ساتھ دو تو ہم لوگ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر سکتے ہیں کفار قریش تو اس کے بھوکے ہی تھے فوراً ہی ان لوگوں نے یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی کفار قریش سے ساز باز کر لینے کے بعد ان تینوں یہودیوں نے ”قبیلہ بنو غطفان” کا رُخ کیااور خیبر کی آدھی آمدنی دینے کا لالچ دے کر ان لوگوں کو بھی مسلمانوں کےخلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر لیاپھر بنو غطفان نے اپنے حلیف ”بنو اسد” کو بھی جنگ کے لئے تیار کر لیاادھریہودیوں نے اپنے حلیف ”قبیلہ بنو اسعد” کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا اور کفار قریش نے اپنی رشتہ داریوں کی بنا پر ”قبیلہ بنو سلیم” کو بھی اپنے ساتھ ملا لیاغرض اس طرح تمام قبائل عرب کے کفار نے مل جل کر ایک لشکر جرار تیار کر لیا جس کی تعداد دس ہزار تھی اور ابوسفیان اس پورے لشکر کا سپہ سالار بن گیا۔(زُرقانی ج
۲ ص۱۰۴ تا ۱۰۵)
مسلمانوں کی تیاری
جب قبائل عرب کے تمام کافروں کے اس گٹھ جوڑ اور خوفناک حملہ کی خبریں مدینہ پہنچیں تو حضورِ اقدسﷺنے اپنے اصحاب کو جمع فرما کر مشورہ فرمایا کہ اس حملہ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے؟ حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ رائے دی کہ جنگ ِ اُحد کی طرح شہر سے باہر نکل کر اتنی بڑی فوج کے حملہ کو میدانی لڑائی میں روکنا مصلحت کے خلاف ہے لہٰذا مناسب یہ ہے کہ شہر کے اندر رہ کر اس حملہ کا دفاع کیا جائے اور شہر کے گرد جس طرف سے کفار کی چڑھائی کا خطرہ ہے ایک خندق کھود لی جائے تاکہ کفار کی پوری فوج بیک وقت حملہ آور نہ ہو سکے،مدینہ کے تین طرف چونکہ مکانات کی تنگ گلیاں اور کھجوروں کے جھنڈ تھے اس لئے ان تینوں جانب سے حملہ کا امکان نہیں تھا مدینہ کا صرف ایک رُخ کھلا ہوا تھا اس لئے یہ طے کیا گیا کہ اسی طرف پانچ گز گہری خندق کھودی جائے،چنانچہ
۸ ذوقعدہ ۵ھ؁ کو حضور ﷺ تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر خندق کھودنے میں مصروف ہو گئے،حضور ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے خندق کی حد بندی فرمائی اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم فرما دی اور تقریباً بیس دن میں یہ خندق تیار ہوگئی۔ (مدارج النبوۃ ج۲ ص۱۶۸ تا ۱۷۰)
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ خندق کے پاس تشریف لائے اور جب یہ دیکھا کہ انصار ومہاجرین کڑکڑاتے ہوئے جاڑے کے موسم میں صبح کے وقت کئی کئی فاقوں کے باوجود جوش و خروش کے ساتھ خندق کھودنے میں مشغول ہیں تو انتہائی متأثرہو کر آپ نے یہ رجز پڑھنا شروع کر دیا کہ  ؎     اَ
للّٰھُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَۃ  *******    فَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃ
اے اﷲ!عزوجل بلا شبہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے لہٰذا تو انصار و مہاجرین کو بخش دے۔
اس کے جواب میں انصار و مہاجرین نے آواز ملا کر یہ پڑھنا شروع کر دیا کہ  ؎   
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد پر حضرت محمد ﷺ کی بیعت کر لی ہے جب تک ہم زندہ رہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ (بخاری غزوۂ خندق ج۲ ص۵۸۸)
حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ خودبھی خندق کھودتے اور مٹی اُٹھا اُٹھا کر پھینکتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے شکم مبارک پر غبار کی تہ جم گئی تھی اور مٹی اٹھاتے ہوئے صحابہ کو جوش دلانے کے لئے رجز کے یہ اشعار پڑھتے تھے کہ  ؎
وَاللہِ لَوْلَا اللہُ مَا اھْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا  ...
خدا کی قسم! اگر اﷲ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔
فَاَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِنْ لَاقَیْنَا
لہٰذا اے اﷲ!عزوجل تو ہم پر قلبی اطمینان اتار دے اور جنگ کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ۔
اِنَّ الْاُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا
یقینا ان (کافروں) نے ہم پر ظلم کیا ہے اور جب بھی ان لوگوں نے فتنہ کا ارادہ کیاتو ہم لوگوں نے انکار کر دیا۔
لفظ ”اَبَیْنَا” حضور ﷺ بار بار بہ تکرار بلند آواز سے دہراتے تھے۔
ایک عجیب چٹان
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ خندق کھودتے وقت ناگہاں ایک ایسی چٹان نمودار ہو گئی جو کسی سے بھی نہیں ٹوٹی جب ہم نے بارگاہ رسالت میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ ﷺ اٹھے تین دن کا فاقہ تھا اور شکم مبارک پر پتھر بندھاہوا تھاآپ نے اپنے دست مبارک سے پھاوڑا مارا تو وہ چٹان ریت کے بھربھرے ٹیلے کی طرح بکھر گئی۔ (بخاری جلد
۲ ص۵۸۸ خندق)
اور ایک روایت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس چٹان پر تین مرتبہ پھاوڑا ماراہر ضرب پر اس میں سے ایک روشنی نکلتی تھی اور اس روشنی میں آپ نے شام و ایران اور یمن کے شہروں کو دیکھ لیااور ان تینوں ملکوں کے فتح ہونے کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بشارت دی۔(زُرقانی جلد
۲ ص۱۰۹ و مدارج ج۲ ص۱۶۹)
اور نسائی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مدائن کسریٰ و مدائن قیصر و مدائن حبشہ کی فتوحات کا اعلان فرمایا۔(نسائی ج
۲ ص۶۳)
حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ فاقوں سے شکم اقدس پر پتھر بندھا ہوا دیکھ کر میرا دل بھر آیاچنانچہ میں حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے گھر آیا اور بیوی سے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس قدر شدید بھوک کی حالت میں دیکھا ہے کہ مجھ کو صبر کی تاب نہیں رہی کیا گھر میں کچھ کھانا ہے؟ بیوی نے کہا کہ گھر میں ایک صاع جو کے سوا کچھ بھی نہیں ہے،میں نے کہا کہ تم جلدی سے اس جو کو پیس کر گوندھ لواور اپنے گھر کا پلا ہوا ایک بکری کا بچہ میں نے ذبح کرکے اس کی بوٹیاں بنا دیں اور بیوی سے کہا کہ جلدی سے تم گوشت روٹی تیار کر لومیں حضور ﷺ کو بلا کرلاتا ہوں،چلتے وقت بیوی نے کہا کہ دیکھنا صرف حضور ﷺ اور چند ہی اصحاب کو ساتھ میں لاناکھانا کم ہی ہے کہیں مجھے رسوا مت کر دینا۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خندق پر آ کر چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!ﷺ ایک صاع آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچے کا گوشت میں نے گھر میں تیار کرایا ہے لہٰذا آپ ﷺصرف چند اشخاص کے ساتھ چل کر تناول فرما لیں،یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے خندق والو!جابر نے دعوت عام دی ہے لہٰذا سب لوگ ان کے گھر پر چل کر کھانا کھا لیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آجاؤں روٹی مت پکوانا،چنانچہ جب حضور ﷺ تشریف لائے تو گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعا فرمائی اور گوشت کی ہانڈی میں بھی اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ پھر روٹی پکانے کا حکم دیااور یہ فرمایا کہ ہانڈی چولھے سے نہ اتاری جائے پھر روٹی پکنی شروع ہوئی اور ہانڈی میں سے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے گوشت نکال نکال کر دینا شروع کیاایک ہزار آدمیوں نے آسودہ ہو کر کھانا کھا لیامگر گوندھا ہوا آٹا جتنا پہلے تھا اتنا ہی رہ گیا اور ہانڈی چولھے پر بدستور جوش مارتی رہی۔(بخاری ج
۲ ص۵۸۹ غزوہ خندق)
بابرکت کھجوریں
اسی طرح ایک لڑکی اپنے ہاتھ میں کچھ کھجوریں لے کر آئی،حضور ﷺ نے پوچھا کہ کیا ہے؟ لڑکی نے جواب دیا کہ کچھ کھجوریں ہیں جو میری ماں نے میرے باپ کے ناشتہ کے لئے بھیجی ہیں،آپ ﷺ نے ان کھجوروں کواپنے دست مبارک میں لے کر ایک کپڑے پر بکھیر دیا اور تمام اہل خندق کو بلا کر فرمایا کہ خوب سیر ہو کر کھاؤچنانچہ تمام خندق والوں نے شکم سیر ہو کر ان کھجوروں کو کھایا۔
(مدارج جلد
۲ ص۱۶۹)
یہ دونوں واقعات حضور سرور کائنات ﷺ کے معجزات میں سے ہیں۔
اسلامی افواج کی مورچہ بندی
حضورِ اقدس ﷺ نے خندق تیار ہو جانے کے بعد عورتوں اور بچوں کو مدینہ کے محفوظ قلعہ میں جمع فرما دیا اور مدینہ پر حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا کر تین ہزار انصار و مہاجرین کی فوج کے ساتھ مدینہ سے نکل کر سَلَع پہاڑ کے دامن میں ٹھہرے سلع آپ کی پشت پر تھااور آپ کے سامنے خندق تھی۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دیااور انصار کا علمبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بنایا۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۱)
کفار کا حملہ
کفار قریش اور ان کے اتحادیوں نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں پر ہلابول دیا اور تین طرف سے کافروں کا لشکر اس زور شورکے ساتھ مدینہ پر امنڈ پڑا کہ شہر کی فضاؤں میں گردو غبار کا طوفان اٹھ گیااس خوفناک چڑھائی اور لشکر کفار کے دل بادل کی معرکہ آرائی کا نقشہ قرآن کی زبان سے سنیے:
اِذْ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنۡکُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوۡبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ زُلْزِلُوۡا زِلْزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱
جب کافر تم پر آ گئے تمہارے اوپر سے ا و ر تمہارے نیچے سے اور جب کہ ٹھٹھک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس(خوف سے)آ گئے اور تم اﷲ پر (امید و یاس سے) طرح طرح کے گمان کرنے لگے اس جگہ مسلمان آزمائش اور امتحان میں ڈال دئیے گئے اور وہ بڑے زور کے زلزلے میں جھنجھوڑ کر رکھ دئیے گئے۔(احزاب)
منافقین جو مسلمانوں کے دوش بدوش کھڑے تھے وہ کفار کے اس لشکر کو دیکھتے ہی بزدل ہو کر پھسل گئے اوراس وقت ان کے نفاق کا پردہ چاک ہو گیا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگنی شروع کر دی۔ جیسا کہ قرآن میں اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
وَیَسْتَاْذِنُ فَرِیۡقٌ مِّنْہُمُ النَّبِیَّ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ بُیُوۡتَنَا عَوْرَۃٌ ؕۛ وَمَا ہِیَ بِعَوْرَۃٍ ۚۛ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡنَ اِلَّا فِرَارًا ﴿۱۳﴾ )
اور ایک گروہ(منافقین) ان میں سے نبی کی اجازت طلب کرتا تھا منافق کہتے ہیں کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے ہوئے نہیں تھے ان کا مقصد بھاگنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔(احزاب)
لیکن اسلام کے سچے جاں نثار مہاجرین و انصار نے جب لشکر کفار کی طوفانی یلغار کو دیکھا تو اس طرح سینہ سپر ہو کر ڈٹ گئے کہ ”سلع” اور ”احد” کی پہاڑیاں سراٹھا اٹھا کر ان مجاہدین کی اولوالعزمی کو حیرت سے دیکھنے لگیں ان جاں نثاروں کی ایمانی شجاعت کی تصویر صفحات قرآن پر بصورت تحریر دیکھیے ارشاد ربانی ہے کہ
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَمَا زَادَہُمْ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسْلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲
اور جب مسلمانوں نے قبائل کفار کے لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے کہ یہ تو وہی منظر ہے جس کا اﷲ اوراسکے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھااور خدا اور اسکا رسول دونوں سچے ہیں اور اس نے ان کے ایمان و اطاعت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔(احزاب)
بنو قریظہ کی غداری
قبیلہ بنو قریظہ کے یہودی اب تک غیر جانبدار تھے لیکن بنو نضیر کے یہودیوں نے ان کو بھی اپنے ساتھ ملا کر لشکر کفار میں شامل کر لینے کی کوشش شروع کر دی چنانچہ حیی بن اخطب ابو سفیان کے مشورہ سے بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا پہلے تو اسنے اپنا دروازہ نہیں کھولا اور کہا کہ ہم محمد (ﷺ) کے حلیف ہیں اور ہم نے ان کو ہمیشہ اپنے عہد کا پابند پایا ہے اس لئے ہم ان سے عہد شکنی کرنا خلاف مروت سمجھتے ہیں مگر بنو نضیر کے یہودیوں نے اس قدر شدید اصرار کیااور طرح طرح سے ورغلایا کہ بالآخر کعب بن اسد معاہدہ توڑنے کے لئے راضی ہو گیا،بنو قریظہ نے جب معاہدہ توڑ دیا اور کفار سے مل گئے تو کفار مکہ اور ابو سفیان خوشی سے باغ باغ ہو گئے۔
حضورِ اقدس ﷺ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے حضرت سعدبن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو تحقیق حال کے لئے بنو قریظہ کے پاس بھیجاوہاں جا کر معلوم ہوا کہ واقعی بنو قریظہ نے معاہدہ توڑ دیا ہے جب ان دونوں معزز صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے بنو قریظہ کو ان کا معاہدہ یاد دلایا تو ان یہودیوں نے انتہائی بے حیائی کے ساتھ یہاں تک کہہ دیا کہ ہم کچھ نہیں جانتے کہ محمد(ﷺ) کون ہیں؟ اور معاہدہ کس کو کہتے ہیں؟ ہمارا کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں تھایہ سن کر دونوں حضرات واپس آ گئے اور صورتحال سے حضور ﷺ کو مطلع کیاتو آپ نے بلند آواز سے ”اﷲ اکبر” کہا اور فرمایا کہ مسلمانو! تم اس سے نہ گھبراؤنہ اس کا غم کرو اس میں تمہارے لئے بشارت ہے۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۳)
کفار کا لشکر جب آگے بڑھا تو سامنے خندق دیکھ کر ٹھہر گیااور شہر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور تقریباً ایک مہینے تک کفار شہر مدینہ کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے پڑے رہے اور یہ محاصرہ اس سختی کے ساتھ قائم رہا کہ حضورﷺ اورصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر کئی کئی فاقے گزر گئے۔
کفار نے ایک طرف تو خندق کا محاصرہ کر رکھا تھا اور دوسری طرف اس لئے حملہ کرنا چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی عورتیں اور بچے قلعوں میں پناہ گزیں تھے مگر حضور ﷺ نے جہاں خندق کے مختلف حصوں پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو مقرر فرما دیا تھا کہ وہ کفار کے حملوں کا مقابلہ کرتے رہیں اسی طرح عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لئے بھی کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو متعین کر دیا تھا۔
انصار کی ایمانی شجاعت
محاصرہ کی وجہ سے مسلمانوں کی پریشانی دیکھ کر حضورِ اکرم ﷺنے یہ خیال کیا کہ کہیں مہاجرین و انصار ہمت نہ ہار جائیں اس لئے آپ نے ارادہ فرمایا کہ قبیلہ غطفان کے سردار عیینہ بن حصن سے اس شرط پر معاہدہ کر لیں کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار لے لیا کرے اور کفار مکہ کا ساتھ چھوڑ دے مگر جب آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے اپنا یہ خیال ظاہر فرمایاتو ان دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!(ﷺ) اگر اس بارے میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی اتر چکی ہے جب تو ہمیں اس سے انکار کی مجال ہی نہیں ہو سکتی اور اگر یہ ایک رائے ہے تو یا رسول اﷲ!(ﷺ) جب ہم کفر کی حالت میں تھے اس وقت تو قبیلہ غطفان کے سرکش کبھی ہماری ایک کھجور نہ لے سکے اور اب جب کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو اسلام اور آپ ﷺ کی غلامی کی عزت سے سرفراز فرما دیا ہے تو بھلا کیونکر ممکن ہے کہ ہم اپنا مال ان کافروں کو دے دیں گے؟ ہم ان کفار کو کھجوروں کا انبار نہیں بلکہ نیزوں اور تلواروں کی مار کا تحفہ دیتے رہیں گے یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا،یہ سن کر حضورﷺ خوش ہوگئے اورآپ کوپوراپورااطمینان ہو گیا۔(زرقانی ج
۲ص۱۱۳)
خندق کی و جہ سے دست بدست لڑائی نہیں ہو سکتی تھی اور کفار حیران تھے کہ اس خندق کو کیونکر پار کریں مگر دونوں طرف سے روزانہ برابر تیر اور پتھر چلا کرتے تھے آخر ایک روز عمرو بن عبدودو عکرمہ بن ابو جہل وہبیرہ بن ابی وہب وضرار بن الخطاب وغیرہ کفار کے چند بہادروں نے بنو کنانہ سے کہا کہ اٹھوآج مسلمانوں سے جنگ کرکے بتا دو کہ شہسوار کون ہے؟ چنانچہ یہ سب خندق کے پاس آ گئے اور ایک ایسی جگہ سے جہاں خندق کی چوڑائی کچھ کم تھی گھوڑا کودا کر خندق کو پار کر لیا۔
سب سے آگے عمرو بن عبدود تھایہ اگرچہ نوے برس کا بوڑھا تھا مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھاجنگ ِ بدر میں زخمی ہو کر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہ لے لوں گا بالوں میں تیل نہ ڈالوں گا،یہ آگے بڑھا اور چلا چلا کر مقابلہ کی دعوت دینے لگاتین مرتبہ اس نے کہا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ کو آتا ہے؟ تینوں مرتبہ حضرت علی شیرخداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اُٹھ کر جواب دیا کہ ”میں” حضور ﷺ نے روکاکہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم یہ عمرو بن عبدود ہے۔حضرت علی شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عرض کیا کہ جی ہاں میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے لیکن میں اس سے لڑوں گا،یہ سن کر تاجدار نبوت ﷺ نے اپنی خاص تلوار ذوالفقار اپنے دست مبارک سے حیدر کرارکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مقدس ہاتھ میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر انور پر عمامہ باندھااوریہ دعا فرمائی کہ اےاللہ! تو علی کی مدد فرما ۔حضرت اسد اﷲ الغالب علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور دونوں میں اس طرح مکالمہ شروع ہوا:
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اے عمرو بن عبدود! تو مسلمان ہو جا!
عمرو بن عبدود یہ مجھ سے کبھی ہر گز ہر گز نہیں ہو سکتا!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لڑائی سے واپس چلا جا!
عمرو بن عبدود یہ مجھے منظور نہیں!
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تو پھر مجھ سے جنگ کر!
عمرو بن عبدود ہنس کر کہا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا
میں کوئی مجھ کو جنگ کی دعوت دے گا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تجھ سے لڑنا چاہتا ہوں۔
عمرو بن عبدود آخر تمہارا نام کیا ہے؟
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ علی بن ابی طالب
عمرو بن عبدود اے بھتیجے!تم ابھی بہت ہی کم عمر ہومیں تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتا۔
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ لیکن میں تمہاراخون بہانے کوبے حدپسندکرتا ہوں۔
عمرو بن عبدود خون کھولا دینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیاحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پیدل تھے اور یہ سوار تھااس پر جو غیرت سوار ہوئی توگھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے اور ننگی تلوار لے کر آگے بڑھا اورحضرت شیر خداکرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم پر تلوار کا بھرپور وار کیاحضرت شیر خدا نے تلوار کے اس وار کو اپنی ڈھال پر روکا،یہ وار اتنا سخت تھا کہ تلوار ڈھال اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی گو بہت گہرا زخم نہیں لگامگر پھر بھی زندگی بھریہ طغریٰ آپ کی پیشانی پر یادگار بن کر رہ گیاحضرت علی شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر للکارا کہ اے عمرو! سنبھل جااب میری باری ہے یہ کہہ کر اسد اﷲ الغالب کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ذوالفقار کا ایسا جچا تلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹتی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گرااور دم زدن میں مر کر فی النار ہو گیا.
حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو قتل کیااور منہ پھیر کر چل دئیے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے علی!کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم آپ نے عمرو بن عبدود کی زرہ کیوں نہیں اتار لی ؟سارے عرب میں اس سے اچھی کوئی زرہ نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذوالفقار کی مار سے وہ اس طرح بے قرار ہو کر زمین پر گرا کہ اس کی شرمگاہ کھل گئی اس لئے حیاء کی وجہ سے میں نے منہ پھیر لیا۔(زُرقانی ج
۲ ص۱۱۴و۱۱۵)
اس کے بعد نوفل غصہ میں بپھرا ہوا میدان میں نکلااور پکارنے لگا کہ میرے مقابلہ کے لئے کون آتا ہے؟ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس پر بجلی کی طرح جھپٹے اور ایسی تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور تلوار زین کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی کمر تک پہنچ گئی لوگوں نے کہا کہ اے زبیر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہاری تلوار کی تو مثال نہیں مل سکتی آپ نے فرمایاکہ تلوار کیا چیز ہے؟ کلائی میں دم خم اور ضرب میں کمال چاہیے۔ ہبیرہ اور ضرار بھی بڑے طنطنہ سے آگے بڑھے مگر جب ذوالفقار کا وار دیکھا تو لرزہ برانداہو کر فرار ہو گئے کفار کے باقی شہسوار بھی جو خندق کو پار کرکے آ گئے تھے وہ سب بھی بھاگ کھڑے ہوئے اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تو اس قدر بدحواس ہو گیا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جا کر اس کو قرار آیا۔(زرقانی جلد ۲ )
اس دن کاحملہ بہت ہی سخت تھادن بھرلڑائی جاری رہی اوردونوں طرف سے تیراندازی اورپتھربازی کاسلسلہ برابرجاری رہااورکسی مجاہدکااپنی جگہ سے ہٹنانا ممکن تھا، خالد بن ولید نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں حضور ﷺ کے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو گیامگر حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو ساتھ لے کر دوڑ پڑے اور خالد بن الولید کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے اس لئے کفار خیمہ رسول ﷺ تک نہ پہنچ سکے ۔ (زرقانی جلد
۲ ص۱۱۷)
ا س گھمسان کی لڑائی میں حضورﷺ کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ
یا رسول اﷲ!ﷺ میں نماز عصر نہیں پڑھ سکا ۔تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے پھر آپ نے وادی بطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی۔ اور کفار کے حق میں یہ دعا مانگی کہ
مَلَاَ اللہُ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا کَمَا شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ (بخاری ج2ص۵۹۰)
اﷲ ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطیٰ سے روک دیایہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔
جنگ خندق کے دن حضور ﷺ نے یہ دعا بھی فرمائی کہ :
اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ (بخاری ج۲ ص۵۹۰)
اے اﷲ!عزوجل اے کتاب نازل فرمانے والے!جلدحساب لینے والے!تو ان کفار کے لشکروں کو شکست دے دے،
اے اﷲ!عزوجل ان کو شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ دے۔
حضرت زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطاب ملا
حضور ﷺ نے جنگ خندق کے موقع پر جب کہ کفار مدینہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھاتین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے؟ تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزند ہیں یہ کہا کہ ”میں یا رسول اﷲ!( ﷺ)خبر لاؤں گا۔” حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس جان نثاری سے خوش ہو کر تاجدار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ  لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَّاِنَّ حَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ (بخاری ج۲ ص۵۹۰)
ہرنبی کے لئے حواری(مددگارخاص)ہوتے ہیں اور میرا ”حواری” زبیر ہے۔
اسی طرح حضرت زبیررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوبارگاہ رسالت سے ”حواری” کا خطاب ملاجو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔
حضرت سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید
اس جنگ میں مسلمانوں کا جانی نقصان بہت ہی کم ہوایعنی کل چھ مسلمان شہادت سے سرفرازہوئے مگر انصار کا سب سے بڑا بازو ٹوٹ گیایعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو قبیلہ اوس کے سردار اعظم تھے،اس جنگ میں ایک تیر سے زخمی ہو گئے اور پھر شفا یاب نہ ہو سکے۔
آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے جوش میں بھرے ہوئے نیزہ لے کر لڑنے کے لئے جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا کہ جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام اکحل ہے وہ کٹ گئی جنگ ختم ہونے کے بعد ان کے لئے حضور ﷺ نے مسجد نبوی میں ایک خیمہ گاڑااور ان کا علاج کرنا شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے ان کے زخم کو دو مرتبہ داغا، ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن انہوں نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ
یااﷲ!عزوجل تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے جنگ کرنے کی مجھے اتنی زیادہ تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول ﷺ کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا،اے اﷲ!عزوجل میرا تویہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہوجب تومجھے تو زندہ رکھ تا کہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جہاد کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو تو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے موت عطا فرما دے۔
آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیااور خون بہ کر مسجد نبوی کے اندر بنی غفار کے خیمہ میں پہنچ گیاان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو! یہ کیسا خون ہے جو تمہارے خیمہ سے بہ کر ہماری طرف آ رہا ہے؟ جب لوگوں نےدیکھا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہ رہا تھااسی زخم میں ان کی وفات ہو گئی۔
حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت سے عرش الٰہی ہل گیا اور ان کے جنازہ میں ستر ہزار ملائکہ حاضر ہوئے اور جب ان کی قبر کھودی گئی تو اس میں مشک کی خوشبو آنے لگی۔ (زرقانی ج
۲ ص۱۴۳)
عین وفات کے وقت حضور انور ﷺ ان کے سرہانے تشریف فرما تھے،انہوں نے آنکھ کھول کر آخری بار جمال نبوت کا نظارہ کیا اور کہا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ۔پھر بہ آواز بلند یہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اﷲ کے رسول ہیں اور آپ نے تبلیغ رسالت کا حق ادا کر دیا۔(مدارج النبوۃ ج
۲ ص۱۸۱)
حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بہادری
جنگ خندق میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ جب یہودیوں نے یہ دیکھا کہ ساری مسلمان فوج خندق کی طرف مصروفِ جنگ ہے تو جس قلعہ میں مسلمانوں کی عورتیں اور بچے پناہ گزین تھے یہودیوں نے اچانک اس پر حملہ کر دیااور ایک یہودی دروازہ تک پہنچ گیا،حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس کو دیکھ لیا اور حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم اس یہودی کو قتل کردو،ورنہ یہ جا کر دشمنوں کو یہاں کا حال و ماحول بتا دے گاحضرت حسان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس وقت ہمت نہیں پڑی کہ اس یہودی پر حملہ کریں یہ دیکھ کر خود حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے خیمہ کی ایک چوب اکھاڑ کر اس یہودی کے سر پر اس زور سے مارا کہ اس کا سر پھٹ گیاپھرخود ہی اس کا سر کاٹ کر قلعہ کے باہر پھینک دیایہ دیکھ کر حملہ آور یہودیوں کو یقین ہو گیا کہ قلعہ کے اندر بھی کچھ فوج موجود ہے اس ڈر سے انہوں نے پھر اس طرف حملہ کرنے کی جراء ت ہی نہیں کی۔(زرقانی ج
۲ ص۱۱۱)
کفار کیسے بھاگے؟
حضرت نعیم بن مسعود اشجعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قبیلہ غطفان کے بہت ہی معزز سردار تھے اور قریش و یہود دونوں کو ان کی ذات پر پورا پورا اعتماد تھایہ مسلمان ہو چکے تھے لیکن کفار کو ان کے اسلام کا علم نہ تھاانہوں نے بارگاہ رسالت میں یہ درخواست کی کہ یارسول اﷲ! ﷺ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہود اور قریش دونوں سے ایسی گفتگو کروں کہ دونوں میں پھوٹ پڑ جائے،آپ نے اس کی اجازت دے دی چنانچہ انہوں نے یہود اور قریش سے الگ الگ کچھ اس قسم کی باتیں کیں جس سے واقعی دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔
ابو سفیان شدید سردی کے موسم، طویل محاصرہ،فوج کا راشن ختم ہو جانے سے حیران و پریشان تھاجب اس کو یہ پتا چلا کہ یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تو اس کا حوصلہ پست ہو گیا اور وہ بالکل ہی بددل ہو گیاپھر ناگہاں کفار کے لشکر پر قہر قہار و غضب جبار کی ایسی مار پڑی کہ اچانک مشرق کی جانب سے ایسی طوفان خیز آندھی آئی کہ دیگیں چولھوں پر سے الٹ پلٹ ہو گئیں،خیمے اکھڑ اکھڑ کر اڑ گئے اور کافروں پر ایسی وحشت اور دہشت سوار ہو گئی کہ انہیں راہ فرار اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں رہا،یہی وہ آندھی ہے جس کا ذکر خداوند قدوس نے قرآن میں اس طرح بیان فرمایا کہ
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوۡا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیۡکُمْ اِذْ جَآءَتْکُمْ جُنُوۡدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمْ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمْ تَرَوْہَا ؕ وَ کَانَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ۚ﴿۹
اے ایمان والو! خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم پر فوجیں آ پڑیں تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی۔ اور ایسی فوجیں بھیجیں جو تمہیں نظر نہیں آتی تھیں اور اﷲ تمہارے کاموں کو دیکھنے والا ہے۔ (احزاب)
ابو سفیان نے اپنی فوج میں اعلان کرا دیا کہ راشن ختم ہو چکا،موسم انتہائی خراب ہے،یہودیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیالہٰذا اب محاصرہ بے کار ہے،یہ کہہ کر کوچ کا نقارہ بجا دینے کا حکم دے دیااور بھاگ نکلا قبیلہ غطفان کا لشکر بھی چل دیابنو قریظہ بھی محاصرہ چھوڑ کر اپنے قلعوں میں چلے گئے اور ان لوگوں کے بھاگ جانے سے مدینہ کا مطلع کفار کے گردو غبار سے صاف ہو گیا اور اس طرح غزوہ خندق میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔
اللهم أعز الإسلام والمسلمين وأذل الشرك والمشركين ودمر أعداء الدين وانصر عبادك الموحدين  أمين يا رب العلمين

بدھ، 17 اپریل، 2019

امانت اورخیانت



 ...................................................................

از:مفتی مولانا تنظیم عالم قاسمی

 ...........................................................................................
امانت داری ایمان کا حصہ ہے‘ جو شخص اللہ اورآخرت پر یقین رکھتا ہے وہ کسی کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔ اسے اس بات کا احساس ہو تا ہے کہ اگر میں نے کسی کا حق دبالیا یا اس کی ادائیگی میں کمی اورکو تاہی کی تو میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، وہ یقینا اس کا حساب لے گا اوراس دن جب کہ ہر شخص ایک ایک نیکی کا محتاج ہوگا حق تلفی کے عوض میری نیکیاں دوسروں کو تقسیم کردی جائیں گی، پھر میری مفلسی پر وہاں کو ن رحم کرے گا؟ اس طرح کے تصورات سے اہل ایمان کا دل کانپ اٹھتا ہے اورپھر خیانت یا حق تلفی کر نے سے باز آجاتا ہے؛ لیکن جس کے دل میں ایمان ہی نہ ہو یا ماحول اورحالات نے ایمان کی روشنی سلب کر لی ہو تو خیانت کر نے میں ایسے شخص کو کوئی تردد نہیں ہوتا؛ اسی لیے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت داری کو ایمان کی علامت اورپہچان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
”لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَہْدَ لَہ“(سنن بیہقی-۱۲۶۹۰)
ترجمہ: ” جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں “۔
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کے متعدد مقامات پر امانت داری کی تاکید فرمائی ہے، ارشاد باری ہے:
فَلْیُؤَدِّ الَّذِیْ اؤْتُمِنَ أَمَانَتَہُ وَلْیَتَّقِ اللّہَ رَبَّہ (بقرة: ۲۸۳)
ترجمہ: ”تو جو امین بنایا گیا ا س کو چاہیے کہ اپنی امانت ادا کرے اورچاہیے کہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرے “۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں امانت داری کو تقویٰ سے جوڑ دیا ہے یعنی جس کو موت کے بعد کی زندگی حساب وکتاب اورعدالت الٰہی پر یقین ہو جس کے دل میں خوف خدا اوراس کی گرفت کا احساس ہو ا سے چاہیے کہ امانت میں خیانت نہ کرے جس کا جو حق ہے پورا پورا ادا کردے؛ اس لیے کہ اس دنیا میں خیانت کر نے والا قیامت کے دن چین وسکون سے نہیں رہ سکتا، وہاں ایک ایک کا حق ادا کر نا ہوگا اوربڑی دشواریوں کا سامنا ہوگا؛ لیکن جس کو آخرت پر یقین نہیں وہ جوچاہے کرے دنیا میں چند روزہ زندگی کے بعد آخراپنے کیے ہوئے پر افسوس ہوگا اوربڑے خسارے میں ہوگا۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ زمانہ قیامت سے جیسے جیسے قریب ہوگا ایمانی قوت کم ہوتی چلی جائے گی اس کے نتیجے میں امانت داری بھی اٹھ جائے گی اورحال یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی بڑی بڑی آبادی ہوگی مگر امانت داری پوری آبادی میں ایک آدھ بڑی مشکل سے دستیاب ہوگا اوروہ بھی حقیقت میں امین نہ ہوگا۔ لو گ مثال کے طور پر کہیں گے کہ فلاں قوم میں ایک امانت دار شخص ہے ، آدمی کی تعریف ہوگی کہ کیسا عقلمند ، کیسا خوش مزاج اورکیسا بہادر ہے ؛ حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان داری نہ ہوگی ۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الفتن)
امانت داری کی اس قدر اہمیت کے باوجود آج کے معاشرہ میں اسے کوئی وزن نہیں دیا جاتا ، اچھے اچھے لوگ بھی جو عرف میں دین دار سمجھے جاتے ہیں وہ بھی امانت اور حق کی ادائیگی کا پاس ولحاظ نہیں رکھتے ، انھیں اس بات کا احساس نہیں ہوتاکہ امانت کی حفاظت اور اس کا مکمل طور پر اداکرنا دینی وشرعی فریضہ ہے، بعض لوگوں میں امانت داری کا جذبہ ہو تابھی ہے تو وہ صرف مال کی حدتک محدود رہتا ہے کہ اگرکسی شخص کے پاس کسی کا مال رکھا ہو تو وہ اسے ادا کردیتا ہے، عام طور پر لوگوں کا ذہن اسی مالی امانت کی طرف جاتا ہے ؛ حالانکہ امانت کی اوربھی مختلف قسمیں ہیں، جن کی اہمیت بعض صورتوں میں مالی امانت سے بھی بڑھی ہوئی ہوتی ہے، ان کی حفاظت بھی ایک مسلمان کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مالی امانت کی ہوتی ہے ؛ اسی لیے فتح مکہ کے موقع پر خانہٴ کعبہ کی کنجی جب عثمان بن طلحہ بن عبد الدار شیبی کو دینے اوران کی امانت ان کو واپس کر نے کی تاکید کی گئی تو امانت کو جمع کے صیغے کے ساتھ استعمال کیاگیا، ارشاد باری ہے: إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا(النساء آیت ۵۸) ”اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچا دیا کرو“ قابل غور بات یہ ہے کہ کنجی کو ئی اہم مال نہیں ؛ بلکہ یہ خانہٴ کعبہ کی خدمت کی نشانی ہے جس کا تعلق مال سے نہیں عہد ے سے ہے، پھر بھی اس کو امانت سے تعبیر کیا گیا اورپھر جمع کا صیغہ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیاگیا کہ امانت کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں جن کی ادائیگی تمام مسلمانوں پرلازم ہے، ذیل میں امانت کی چند ایسی صورتیں بیان کی جارہی ہیں جن کی طرف عام طور پر لوگوں کا ذہن نہیں جاتا ؛ چنانچہ وہ ان امانتوں میں خیانت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اورانھیں کسی معصیت کا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا؛ حالانکہ شریعت کی نظر میں ان چیزوں میں بھی خیانت قبیح اورموجب گناہ عمل ہے جس سے ہر مسلمان کا بچنا نہایت ضروری ہے مثلاً:
نااہلوں کو عہدے اورمناصب سپرد کردنا
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جس عہدہ اورمنصب کا جواہل ہو اسی کو وہ عہدہ سپرد کیا جائے؛ اس کے لیے سب سے پہلے غور کر نا چاہیے کہ اس کے ماتحتوں میں کون ایسا شخص ہے، جس میں پیش نظر ملازمت یاعہدے کی مکمل شرطیں پائی جارہی ہیں، ایسا کوئی شخص مل جائے تو وہی اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے لہٰذا کسی پس وپیش کے بغیر وہ عہدہ اورملازمت اس کو سپرد کریا جائے اوراگر مطلوب صلاحیت کا حامل کوئی شخص دستیاب نہ ہو تو موجودہ لوگوں میں جو سب سے زیادہ لائق وفائق ہو اس کو منتخب کیا جائے، غرض یہ کہ حکومت کے ماتحت جتنے بھی عہد ے اورمناصب ہوتے ہیں وہ امانت ہیں اورارباب حکومت اس کے امین ہیں، اگر حکومت نے اپنے ماتحت کسی شخص کو اس کا مجاز بنایا ہے تو وہ بھی امین ہے ‘ان سب کو چاہیے کہ عہدے اورمنصب پوری دیانت داری سے تقسیم کریں‘ صلاحیت اورشرائط کو اس کے لیے معیار بنایا جائے نہ کہ قرابت اورتعلق کو۔ اگر کسی شخص کو ذاتی تعلق یا سفارش کی بنیاد پر یارشوت لے کر کوئی عہدہ اورمنصب سپرد کیا جاتا ہے تو یہ خیانت ہے اورتمام ذمہ دار اس خیانت کے مرتکب ہوں گے ، ایک موقع پر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپر د کی گئی ہو پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کے پیش نظر دے دیا ، اس پر اللہ کی لعنت ہے نہ اس کا فرض مقبول ہے نہ نفل یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جا ئے۔ (جمع الفوائد :ص: ۳۳۵)
نااہلوں کو عہدے سپر د کر نے سے گناہ تو ہو تا ہی ہے خود دنیوی اعتبار سے بھی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، اس سے مستحقین اورباصلاحیت افراد کے بجائے ناکارہ اورنااہل لوگ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں ان میں کام کی صلاحیت نہیں ہوتی ؛ اس لیے پورا شعبہ بگڑ جاتا ہے اورپھر عوام کے لیے یہ اذیت رسانی کا باعث ہوتا ہے ، آج کل ملکی حالات کا جائز ہ لیں تو معلوم ہو گا کہ نیچے سے لے کر اوپر تک تمام شعبوں میں کہیں رشوت اورسفارش اورکہیں تعلق اورقرابت کی بنیاد پر عہدے اورملازمت تقسیم کی جارہی ہیں؛ یہاں تک کہ عصری تعلیم گاہوں میں اساتذہ کی تقرری میں رشوت کالین دین عام ہوگیا ہے، اس کے نتیجے میں یہ تعلیم گاہیں باصلاحیت افراد سے محروم ہیں تقریباً تمام شعبوں کا یہی حال ہے، اس لیے حکومت کا نظام فساد کا شکار ہوگیا ہے اورآج ہر شخص اپنی جگہ بے چین ومضطر ب نظر آرہا ہے ۔
 رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: اِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ الٰی غَیْرِ أَہْلِہ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ (صحیح بخاری:۵۹) ”جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو سپرد کردی گئی جو ان کے اہل اورقابل نہیں تو قیامت کا انتظار کرو“
یعنی جب نااہل افراد کو کوئی ذمہ داری یا عہدہ اورمنصب سپرد کیا جائے تو فساد یقینی ہے اوراب دنیوی نظام کو فساد سے کوئی بچا نہیں سکتا ؛ اس لیے اب قیامت کا انتظار کرو، اس میں خلافت سے لے کر ایک ادنیٰ ملازمت بھی شامل ہے۔
اس خیانت کا تعلق صرف حکومت اورسرکاری عہدوں سے ہی نہیں؛ بلکہ نجی کمپنی ‘انجمن اورعوامی اداروں سے بھی ہے جو ان اداروں اورکمپنیوں کو مفید اوربافیض بنانا چاہتے ہیں انھیں چاہیے کہ جس کام کے جو لائق اوراہل ہے، اسے وہیں رکھا جائے ،کسی بھی وجہ سے اگر کم تر صلاحیت والے افراد کو فوقیت دی جائے تو ادارہ کبھی ترقی نہیں پاسکتا ، دینی مدارس میں بھی تقسیم اسباق اوردیگر امور میں اس اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے ورنہ اس سے تعلیمی نظام متاثر ہوگا اورذمہ داران خیانت کے مرتکب ہوں گے۔
مزدور اورملازمین کاکام چوری کرنا:
جو شخص کسی کا مزدور یاملازم ہو اسے چاہیے کہ مالک اورذمہ دار سامنے ہو یا نہ ہومکمل دیانت داری کے ساتھ کام کر ے، نہ تو وقت میں کمی کرے اورنہ کام میں سستی اورنہ ہی اپنی صلاحیت کو استعمال کر نے سے گریز کرے، ان تینوں میں سے کچھ پایاگیا توخیانت شمار ہوگی؛ اس لیے کہ ایک ملازم کی صلاحیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تنخواہ طے ہوتی ہے اگر اس نے کام کر نے میں پوری صلاحیت صرف نہ کی اورکسی بھی وجہ سے دلچسپی لیے بغیر محض ظاہری طور پر کام کر دیا تو کام میں وہ معنویت پیدا نہیں ہوگی جو ذمہ دار کو مطلوب تھی؛ اس لیے وہ تنخواہ بھی مشکوک ہو جا ئے گی اور خیانت کا بھی گناہ ہوگا ۔اسی طرح اگر مزدور وملازم سے پانچ چھ گھنٹے کام کرنے کا وقت طے ہوجائے اورپھر کام کر نے والا وقت میں چوری کرے ، وقت کے بعد آئے یا متعین وقت سے پہلے چلا جائے تو یہ بھی خیانت ہے، ایک مسلمان ملازم جو کائنات کے مالک کو سمیع وبصیر سمجھتا ہے اوراس پر پورا یقین رکھتا ہے اسے احساس ہو نا چاہیے کہ اگر چہ میرا مجازی مالک اورذمہ دار مجھے نہیں دیکھ رہا ہے ؛ لیکن رب تو مجھے دیکھ رہا ہے، اس کی گرفت سے جوبچ گیا وہی کامیاب اورفلاح پانے والا ہے ؛ اسی طرح کام میں سستی اورٹال مٹول کر نا بھی خیانت ہے، وہ کام جو پانچ گھنٹے میں ہوسکتا تھا اس کو دس گھنٹے میں تکمیل کر نا ؛ تاکہ مزید پیسے ملتے رہیں اوراس کے معاش کا مسئلہ حل ہو تا رہے ، یہ بری سوچ اورناپسندیدہ عمل ہے، امانت داری کا تقاضا ہے کہ مکمل تندہی سے کام کو انجام دیا جائے پورا وقت اورپوری طاقت اس کے لیے صرف کی جائے، ورنہ وہ مالک کے ساتھ خیانت کر نے کا مرتکب ہوگا اوراس کا بھی حساب روزمحشر میں دینا ہوگا۔
 حضرت موسیٰ  نے مدین کے سفر میں دولڑکیوں کی بکریوں کے پینے کے لیے پانی بھر دیا تو ان دونوں نے واپس جا کر اپنے بزرگ باپ سے ان کی تعریف کی اورکہا کہ یہ بڑے امانت دار اورطاقت ور ہیں ان کو اپنے گھر میں ملاز م رکھ لیجیے۔ قرآن نے اس کوان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
 یَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْہُ إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْأَمِیْنُ (قصص-۲۶)
”اے میرے ابا! ان کو مزدور رکھ لیجیے اچھا مزدور وہ ہے جوطاقت ور اورامانت دار ہو“
اس آیت میں جہاں ملازم اورمزدور کے اوصاف کی طرف رہنمائی کی گئی ہے وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ موجود ہے کہ مزدور امین ہو تا ہے اسے کام کر تے ہوئے اپنی امانت داری کا مکمل ثبوت دینا چاہیے، اس سے خود اس کی زندگی خوشگوار ہوگی اورغیب سے اس کے رزق کے لیے بہتر انتظام کیا جائے گا۔
خاص مجالس کی بات کو عام کر نا
چند لوگ کسی جگہ بیٹھ کر باتیں کریں اورپھر علیحدہ ہو جائیں تو اس مجلس کی تمام باتیں ہر ایک کے لیے امانت ہیں، کسی کے لیے جائز نہیں کہ اجازت اوررضا مندی کے بغیر ان باتوں کو دوسروں کے سامنے نقل کر ے اوراسے پھیلا نے کی کوشش کر ے؛ اس لیے کہ مجلس میں بہت سی راز کی باتیں ہوتی ہیں ،بولنے والا بسااوقات یہ چاہتا ہے کہ اس کے ان منصوبوں اورخیالات سے موجود افراد کے علاوہ دوسرے واقف نہ ہوں‘ اسے وہ راز میں رکھنا چاہتا ہے، ممکن ہے کہ اس کی باتوں کو پھیلا دیا جائے تو اس کو ذاتی نقصان ہو یاملامت اورشرمندگی کا سامنا کر نا پڑے، شریعت نے بھی اس کا لحاظ رکھاہے اورمسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی راز کو راز میں رکھیں اس کو پھیلا نے کی سعی نہ کریں ‘ہاں البتہ کوئی راز ایسا معلوم ہو جا ئے جس کا تعلق فتنہ اورفساد سے ہو جس سے دوسروں کا نقصان ہو سکتا ہے تو اس کو بتادینا چاہیے ، پھر ایسی مجلسوں کی باتوں کو محفوظ رکھنا جائز نہیں؛ بلکہ واجب اورضروری ہے کہ دوسرے شرکاء اس کو عام کردیں۔
 چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے: المجالس بالأمانة الاثلٰثة مجالس سفک دم حرام اوفرج حرام اواقتطاع مال بغیرحق (سنن ابوداوٴد: ۴۸۶۹) یعنی مجلسیں امانت ہیں مگر تین موقعوں پر ،کسی کے ناحق قتل کی، یا آبرو ریزی کی یاکسی کامال ناجائز طور پر لے لینے کی ساز ش ہو تو متعلقہ لوگوں کو اس سے آگاہ کر دیا جائے، اس حدیث سے معلوم ہو تا ہے کہ مجلسی بات کا تعلق جب تک کسی کی ایذا رسانی حق تلفی یا نقصان پہنچا نے سے نہ ہو، اس کی حفاظت مجلس کے شرکاء پر ضروری ہے، اسے امانت سمجھ کر اپنے دل میں دفن کر دینا چاہیے بالخصوص وہ باتیں جن کے بارے میں محسوس ہو کہ متکلم اسے مجلس تک ہی محدود رکھنا چاہتا ہے ؛ لیکن اگر مجلس میں ہو نے والی باتوں کا تعلق راز سے نہ ہو ؛ بلکہ عام باتیں ہوں جیسے دینی وشرعی مسائل ‘قرآن وحدیث کی باتیں‘ تاریخ وسیرت کی گفتگو وغیرہ تو ان باتوں کو عام کر نا اورلوگوں تک پہنچا نا مستحب ہے ؛ اس لیے کہ ان باتوں کو کوئی بھی چھپانا نہیں چاہتا اورنہ اس کے عام کر نے سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے۔
غلط مشورہ دینا
مشورہ جب کسی سے لیاجاتا ہے تو وہ ان کے حق میں امین ہوتا ہے اسے چاہیے کہ وہی مشورہ دے جس میں اس کے علم کے مطابق مشورہ لینے والے کا خیروفلاح مضمر ہو۔ دل میں جو بات آئے کسی ذہنی تحفظ کے بغیر صاف صاف کہہ دے ، رسول اکر م  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے مشورہ لینے پر ارشاد فرمایا: المستشار موٴتمن (ترمذی۔۲۸۲۳) ”جس سے مشورہ چاہا جائے وہ امانت دار کی ہے“
مشورہ لینے والا اپنا خیر خواہ سمجھ کر کسی سے مشورہ طلب کرتا ہے، اب اگر وہ ذاتی حسد اورعناد کی بنیاد پر ایسا مشورہ دے جس میں اس کے لیے نقصان ہو تو گو یا اس نے مشورہ طلب کر نے والے کو دھوکہ دیا اوراس کے ساتھ خیانت کا معاملہ کیا؛ کیونکہ اس نے اپنے علم ودانست کے خلاف مشورہ دیا ہے، کسی ایک شخص کو اگر کسی سے دشمنی وعداوت ہو یا کسی بنیاد پرآپس میں رنجش کا ماحول ہو اوراتفاق سے ایک نے دوسرے سے کسی بابت مشورہ طلب کر لیا، تو اسے اخلاص دل سے محبت کے ساتھ صحیح صحیح مشورہ دینا چاہیے اوراپنا دل صاف کر لینا چاہیے؛ اس لیے کہ مشورہ لینے کا مطلب اس نے اسے اپنا ہمدرد اورخیر خواہ تسلیم کر لیا ہے اورجب ایک شخص دوستی کا ہاتھ بڑھائے تو اخلاق وانسانیت کا تقاضا ہے کہ دوسرا بھی تواضع کی پلکیں بچھا دے اورمحبت کا بدلہ محبت سے دینے کا فیصلہ کرے اوراگر دل میں نفرت اس قدر ہو کہ بھلائی اس کے حق میں سوچ ہی نہیں سکتا تو پھر مشورہ دینے سے صاف انکار کردے ؛ لیکن اگر کدورت اورعداوت کے سبب غلط مشورہ دیا ؛تاکہ وہ ہلاک ہو جائے یا اسے پر یشانیوں کا سامنا کر نا پڑے تو یہ معصیت کاارتکاب ہوگا قیامت کے دن اس کا حساب دینا ہوگا۔
کسی کاراز ظاہر کرنا:
 حضرت جابر بن عبد اللہ  سے روایت ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اذاحدث الرجل الحدیث ثم التفت فہی امانة (ترمذی:۱۹۵۹)
”جب ایک شخص کوئی بات کہے اورچلا جائے تو یہ بھی امانت ہے“
 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص نے آپ سے کوئی ایسی بات کہی جس کو وہ دوسروں سے چھپا نا چاہتا ہے، آپ پر اعتمادکرتے ہوئے اس نے اپنے دل کے خیالات کا اظہار کیا ؛ تاکہ آپ کوئی مشورہ دے سکیں یا اس کے د کھ دردمیں کام آئیں، توآپ کے لیے اس کی یہ بات امانت کے درجے میں ہے، اپنی ذات تک اسے محدود رکھیں، دوسروں کو بتانا جائز نہیں اس سے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی اورتکلیف کا احساس ہوگا، بسا اوقات انسان دوستی اورتعلقات کی بنیاد پر کسی سے کچھ کہہ دیتا ہے اوراسے یقین ہوتا ہے کہ میرا یہ راز اس کے سینے میں محفوظ رہے گا مگر دوسرا شخص اس کا خیال نہیں کرتا بالخصوص جب دونوں میں کسی وجہ سے دوستی رنجش میں تبدیل ہو جاتی ہے، تو اس کے سارے راز دوسروں کے سامنے اگل دیتا ہے ؛ تاکہ اس کی تحقیر ہو اورلوگ اسے برا بھلا کہیں یہ نہایت براعمل اورنچلی حرکت ہے، اس سے خدا ناراض ہوتا ہے اورنہ معلوم خدا کی کون سی ناراضگی ہلاکت کا سبب بن جائے۔
اسی طرح میاں بیوی کے درمیان جو بات ہوتی ہے وہ بھی امانت ہے‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے لباس ہے، لباس بدن کے عیوب اورراز کی چیزوں کو چھپاتا ہے اسی طرح زوجین کو چاہیے کہ وہ باہمی گفتگو اورقابل اخفاء چیزوں کو پر دے میں رکھیں اورکسی بھی حال میں دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کریں؛ چنانچہ حضرت ابوسعید کی روایت ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان من اعظم الأمانة عند اللہ یوم القیامة الرجل یفضی الی امرأتہ وتفضی الیہ ثم ینشر سرھا (صحیح مسلم۱۲۴۔۱۴۳۷)
”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت قابل موٴا خذہ یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی کے پاس جائے اوربیوی اس سے لطف اندوز ہو اورپھر شوہر عورت کے راز کو دوسروں کے سامنے ظاہر کردے “
راز تو بہر حال راز ہوتا ہے وہ خواہ میاں بیوی کے درمیان ہو یا دودوست اوردوساتھیوں کے درمیان، اسے چھپانے کی شریعت نے تاکید کی ہے۔ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے لوگوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی جائے، کسی کی عزت سے کھلواڑ نہ کیا جائے اورنہ کسی کو ایذادی جائے اورراز کے اظہار میں ان میں سے کسی کا ارتکاب ضرور ہو تاہے؛ اس لیے یہ ممنوع اور ناپسندیدہ ہے۔
حق تلفی کر نا
ایک شخص کسی کو بطور امانت رکھنے کوئی چیز دے اوروہ بھول جائے یا اسے یاد تو ہومگر اس کے پاس کوئی شہادت نہیں ہے، یہ نازک گھڑی ہوتی ہے ‘اس میں امانت کامال لینے والے کے ایمان کا امتحان ہے، وہ اللہ کی گرفت پر یقین رکھتے ہوئے مال واپس کردیتا ہے یا اس کا حق دبا کر اپنی آخرت کو تباہ کر لیتا ہے، اگراس نے مال واپس نہ کیا تو یہ حق تلفی ہے اوراس پر سخت وعید آئی ہے، روز محشر اس کا حساب دیناہوگا ۔
جس طرح مادی حق کی ادائیگی سے پہلو تہی حق تلفی ہے‘ اسی طرح بعض حقوق ایسے ہوتے ہیں جو مادی تو نہیں ہیں؛ لیکن شریعت نے انہیں حق اورامانت سے تعبیر کیا ہے ان کی ادائیگی ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے جیسے میاں بیوی کے باہمی حقوق۔ ایک شخص جب کسی عورت کو اپنے نکاح میں لیتا ہے تو اس پر عورت کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں اسی طرح زوجیت میں آنے کے بعد عورت سے بھی شوہر کے کچھ حقوق وابستہ ہو جاتے ہیں‘ یہ حقوق امانت کے درجے میں ہیں، ان کی ادائیگی میں ٹال مٹول یاکمی وکوتاہی کر نا حق تلفی اورخیانت ہے جو ان کے لیے جائز نہیں، والدین اوراولاد کے باہمی حقوق بھی امانت ہے اس میں کمی وکوتاہی خیانت ہے اورموجب گناہ ہے ، اسی طرح استاذ اورشاگرد کے درمیان کے حقوق بھی امانت کے درجے میں ہیں، شاگرد کو چاہیے کہ اپنے استاذ کی خدمت‘ عزت واحترام اوران کا ادب کریں تو استاذ کو بھی چاہیے کہ وہ پوری امانت داری کے ساتھ اپنے شاگرد کو علمی غذا فراہم کریں، خود کتاب کا مطالعہ کریں اورپوری محنت سے علمی صلاحیت ان میں منتقل کرنے کی کوشش کریں، اس میں کچھ خامی خیانت کے دائرے میں داخل ہے
حاکموں اوررعایا کے درمیان باہمی حقوق کا بھی یہی حکم ہے جس طرح عوام پر حکومت کے اصول وقوانین کی پاسداری ضروری ہے اسی طرح حکمرانوں کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ممکن حدتک عوام کو سہولت فراہم کریں، ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھیں، اقتدار کے ذمہ دارنے وسعت کے باوجود اگر رعا یا کے حقوق ادا نہ کیے تو گویا اس نے خیانت کی جس کا اسے ضرور حساب دینا ہوگا ‘اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جن کا تعلق ایسے حقوق سے ہے جو مادی نہیں ہیں ؛ لیکن وہ بھی حق تلفی اورخیانت کے دائرے میں آتے ہیں اوراوراس کا بھی وہی حکم ہے جو مال میں خیانت کر نے کا ہے۔
ناانصافی کرنا
قاضی‘ حاکم اورتمام فیصلہ کر نے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ کے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کریں اورپوری دیانت داری کے ساتھ فریقین کے دلائل کی سماعت کریں پھر قوت دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کریں، اس میں قرابت‘خاندان‘ قوم، علاقہ اورمذہب ومسلک وغیرہ کو ہرگز دخل نہ دیں، اگر فیصلہ کر نے والوں نے کسی ذہنی تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا تو گویا اس نے خیانت کی اوربڑے گناہ کا ارتکاب کیا؛ اس لیے کہ قاضی حاکم وغیرہ اپنے ماتحتوں کے حق میں امین ہوتا ہے امانت داری کا انھیں پورا پورا پاس ولحاظ رکھنا چاہیے۔ گاوٴں دیہات وغیرہ کے سرپنچ کا بھی یہ حکم ہے یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان بھی کسی بارے میں فیصل بنایا جائے تو وہ بھی امین ہوتا ہے ‘اللہ تعالی کو حاضر و ناظر رکھ کر اور اپنی گرفت کا احساس کرتے ہوے اسے صحیح صحیح فیصلہ کرنا چاہیے ‘کسی کی جانب داری اس کے لیے باعث ہلاکت ہے ۔
ان ساری تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ امانت کا دائرہ صرف روپے پیسے‘ جائداد اورمال و منال تک محدود نہیں ؛ بلکہ ہر مالی، قانونی اوراخلاقی امانت تک وسیع ہے، عام طور پر امانت کالفظ بولنے سے لوگوں کا ذہن مالی امانت کی طرف جاتا ہے، اوراسی امانت کی ادائیگی کو کافی سمجھا جاتا ہے، جب کہ امانت داری کے مفہوم میں کافی وسعت ہے، اسی وسیع تر مفہوم میں مسلمانوں کا عمل ہو نا چاہیے ۔ آج بہت سے فسادات‘لڑائی جھگڑے اسی امانت داری کے نہ ہو نے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ اگر مالی‘ قانونی‘ اخلاقی اورتمام طرح کی دیانت کو ملحوظ رکھا جائے تو معاشرہ میں امن چین اورسکون ہوگا‘ بہتر سماج کی تشکیل عمل میں آئے گی اورلوگ خیانت کے گناہ اورآخرت کی گرفت سے بچ سکیں گے ۔
$ $ $

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ7-8، جلد:100 ‏، شوال-ذيقعده 1437 ہجری مطابق جولائی-اگست 2016ء



بدھ، 20 فروری، 2019

قبروں اور مزارات پر مشرکانہ عقائد اور مجاورت


الحمد لله وكفى والصلاة والسلام على النبي المصطفى وعلى آله وصحبه ومن سار على نهجه واقتفى . اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه 
أما بعد
قبروں کی تعظیم میں غلو نے بہت سے اعتقادی اور اخلاقی فتنوں کو جنم دیا ہے۔ قبروں اور مزارات پر مشرکانہ عقائد و اعمال اور کافرانہ رسوم و رواج اس قدر رواج پا رہی ہیں کہ بعض لوگوں نے یہود و نصاریٰ کی پیروی میں اولیاء و صالحین کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔ طلب حاجات کے لیے ان پر مراقبہ اور مجاہدہ کرتے نظر آتے ہیں، ہر مشکل میں ان کی پکار کرتے ہیں اور ان سے فریادیں کرتے ہیں، ان سے ڈرتے ہیں اور انہی سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ ان پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، منت منوتی اور نذرانے پیش کرتے ہیں۔ لوگوں کا قیمتی مال ہڑپ کرنے کے لیے وہاں ٹھگ بیٹھے ہوتے ہیں جنہیں مجاور کہتے ہیں۔ وہ زائرین کو صاحب قبر کے متعلق جھوٹی حکایات اور کرامات سناتے ہیں۔ جہالت اور ضعف اعتقادی کے باعث لوگ ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اس طرح یہ جاہل لوگ عوام کا ایمان برباد کرتے ہیں۔ قبوریوں کی یہ انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوام الناس کو قبرپرستی اور اولیاء پرستی کے حوالے سے وہ سارے کے سارے و سائل و ذرائع مہیا کریں جن کی بنیاد پر وہ شرک و بدعت کی طرف چل دیں۔
انہی وسائل میں سے ایک قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنا ہے۔ قبروں پر مجاور اور خادم بن کر بیٹھنا منکر اور بدعت ہے۔ یہ بتوں کے پجاریوں کے ساتھ مشابہت اور یہودیانہ روش ہے۔ مشرکین اپنے بتوں کی دیکھ بھال اور نگرانی اسی طرح کرتے تھے :
جیسا کہ : اللہ تعالیٰٰ کا فرمان عالی شان ہے :
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ٭ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ [26-الشعراء: 71، 70]
’’
جب (ابراہیم علیہ السلام نے) اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیاچیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟ وہ کہنے لگے : ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انہیں کے مجاور بنے رہتے ہیں۔
نیز فرمایا :
﴿إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَـذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ [21-الأنبياء:52]
’’
جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو ؟
ایک مقام پر یوں ارشاد باری تعالیٰٰ ہے :
﴿وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَى أَصْنَامٍ لَهُمْ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ [7-الأعراف:138
’’
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے : اے موسیٰ ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دیں جیسے ان کے کچھ معبود ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : یقینا تم بڑے جاہل لوگ ہو۔
اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک حدیث بھی ملاحظہ فرما لیں :
سنان بن ابی سنان دؤلی بیان کرتے ہیں :
أنه سمع أبا واقد الليثي، يقول وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم : لما افتتح رسول الله مكة، خرج بنا معه قبل هوازن، حتى مررنا على سدرة الكفار، سدرة يعكفون حولها، ويدعونها ذات أنواط، قلنا : يا رسول الله، اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط، قال رسول الله صلى الله عليه وسلمالله أكبر، إنها السنن، هذا كما قالت بنو إسرائيل لموسى : اجعل لنا إلها كما لهم آلهة، قال إنكم قوم تجهلون ، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنكم لتركبن سنن من قبلكم 
’’
میں نے صحابی رسول سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ ہمیں اپنے ساتھ ہوازن قبیلے کی طرف لے گئے۔ ہم کفار کی ایک بیری کے پاس سے گزرے جس کے پاس وہ مجاور ی کرتے تھے اور اسے ذات انواط کا نام دیتے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! جس طرح کفار کی ذات انواط ہے، اسی طرح ہمارے لیے بھی ذات انواط مقرر کر دیجیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! یہ گزشتہ امتوں کے طریقے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی کچھ معبود بنا دیں جیسے کفار کے معبود ہیں اور اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا : تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ضروربالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر چلو گے۔ “ [صحيح ابن حبان: 6702، وسنده صحيح
علامہ شاطبی (م : 790 ھ) اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں
وصار حديث الفرق بهذا التفسير صادقا على أمثال البدع التي تقدمت لليهود والنصارى، وأن هذه الأمة تبتدع في دين الله مثل تلك البدع، وتزيد عليها بدعة لم تتقدمها واحدة من الطائفتين . . .
’’
اس تفسیر کے ساتھ (تہتر) فرقوں والی حدیث ان بدعتوں پر صادق آتی ہے جن کا ارتکاب یہود و نصاریٰ پہلے سے کرتے رہے ہیں، نیز معلوم ہوا کہ یہ امت بھی اللہ کے دین میں ایسی بدعتوں کا ارتکاب کرے گی بلکہ ایک زائد بدعت ایسی بھی کرے گی جس کا ارتکاب یہود و نصاریٰ نے نہیں کیا . . . [الاعتصام : 245/2]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ومن المحرمات: العكوف عند القبر، والمجاورة عنده، وسدانته، وتعليق الستور عليه، كانه بيت الله الكعبة .
’’
قبر پر اعتکاف، اس کی مجاور ی، اس کی خدمت، اس پر خانہ کعبہ بیت اللہ کی طرح چادریں چڑھانا، سب حرام کام ہیں۔ “ [اقتضاء الصراط المستقيم : 267]
نیز فرماتے ہیں :
فأما العكوف والمجاورة عند شجرة أو حجر، تمثال أو غير تمثال، أو العكوف والمجاورة عند قبر نبي، أو غير نبي، أو مقام نبي أو غير نبي، فليس هذا من دين المسلمين. بل هو من جنس دين المشركين .
’’
کسی شجر و حجر یا مورتی وغیرہ کے پاس اعتکاف کرنا اور کسی نبی یا غیر نبی کی قبر یا نبی یا غیر نبی کے مقام پر مجاور بن کر بیٹھنا، ان کاموں کا مسلمانوں کے دین سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ مشرکین کے دین سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ “ [اقتضاء الصراط المستقيم : ص 365]
شیخ الاسلام ثانی، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں :
فمنها: تعظيمها الموقع في الافتتان بها، ومنها اتخاذها عيدا، ومنها السفر إليها، ومنها مشابهة عباد الأصنام بما يفعل عندها من العكوف عليها، والمجاورة عندها، وتعليق الستور عليها وسدانتها. وعبادها يرجحون المجاورة عندها علي المجاورة عند المسجد الحرا، ويرون سدانتها افضل من خدمة المساجد
’’
قبر پرستی کی خرابیوں میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی ایسی تعظیم کی جاتی ہے جو انسان کو شرک و بدعت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے ہی ان کو میلہ گاہ بنانا، ان کی طرف سفر کرنا، انہی میں سے یہ بھی ہے کہ قبروں کے پاس وہ کام کیے جاتے ہیں جو بت پرستی سے مشابہ ہیں، مثلاً ان پر اعتکاف کرنا، ان کے پاس مجاور بن کر بیٹھنا، ان پر پردے لٹکانا، ان کی خدمت کے لیے وقف ہونا وغیرہ۔
قبر پرست لوگ قبروں کی مجاور ی کو بیت اللہ کی مجاور ی پر بھی ترجیح دیتے ہیں اور ان کا یہ نظریہ ہے کہ قبروں کی خدمت بیت اللہ کی خدمت سے بھی افضل ہے۔ “ [اغاثة اللهفان : 197/1

اس مجاور ی والی بدعت کو ثابت کرنے کی کوشش میں کچھ حضرات  کہتے ہیں کہ  :
’’
مجاور بننا تو جائز ہے۔ مجاور اسی کو تو کہتے ہیں جو قبر کا انتظام رکھے، کھولنے بند کرنے کی چابی اپنے پاس رکھے وغیرہ وغیرہ۔ یہ صحابہ کرام سے ثابت ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ مسلمانوں کی والدہ حضور علیہ السلام کی قبر انور کی منتظمہ اور چابی والی تھیں۔ جب صحابہ کرام کو زیارت کرنی ہوتی تو ان سے کھلوا کر زیارت کرتے۔ دیکھو مشکوٰ ۃ باب الدفن، آج تک روضۂ مصطفٰے علیہ الصلاۃ و السلام پر مجاور رہتے ہیں، کسی نے ان کو ناجائز نہ کہا:۔ “ [جاء الحق : 293/1
اگر احباب برا نہ مانیں تو ہم کہہ دیں کہ صاحب  جاء الحق نے ایک سانس میں کئی جھوٹ بول دیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مجاور بننا تو صحابہ کرام سے ثابت ہے۔ صحابہ کرام کو مجاور کہنا ان کی توہین اور گستاخی ہے۔ ان کے متعلق بدعقیدگی کا اظہار اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے ؟ رہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا صحابہ کرام کے لیے حجرہ کھول دینا تو اس کا مجاور ی سے کیا تعلق ہے ؟ آخر وہ ان کا اپنا حجرہ تھا، اسی میں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے بھی رہائش پذیر تھیں۔ اپنے حجرے کو وہی کھول سکتی تھیں۔ بمطاق وحی الٰہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اسی جگہ بنائی گئی۔ اس سے مجاور ی کا اثبات کیسے ہوا ؟
باقی صاحب جاء الحق  کا یہ کہناکہ روضۂ مصطفٰے علیہ الصلاۃ والسلام پر مجاور رہتے ہیں تو یہ صریح دروغ گوئی ہے۔ ہر صاحب عقل اس بات کو بے حقیقت خیال کرتا ہے۔ جس طرح آج مزاروں اور آستانوں پر ملنگ بیٹھے ہوتے ہیں، یہ کفار کی عادت ہے۔ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی تعلق و ناطہ نہیں۔ مشکوٰۃ کی جس روایت کی طرف صاحب جاء الحق نے اشارہ کیا ہے، وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ ان کی جہالت اور بددیانتی پر مہرثبت ہو جائے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
دخلت على عائشة فقلت : يا أمه اكشفي لي عن قبر النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبيه رضي الله عنهما، فكشفت عن ثلاثة قبور، لا مشرفة ولا طئة مبطوحة ببطحاء العرصة الحمراء .
’’
میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور عرض کیا : امی جان ! میرے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں (سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کی قبریں کھولیں (یعنی اپناحجرہ کھولیں) تو انہوں نے میرے لیے تینوں قبریں کھولیں۔ نہ وہ اونچی تھیں اور نہ بالکل زمین کے ساتھ برابر بچھی ہوئی تھیں۔ میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں۔ “ [سنن ابي داود : ح : 3220 وسنده صحيح]
امام حاکم رحمہ اللہ [1/963] نے اس اثر کو ’’ صحیح “ کہا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ اس کے راوی عمرو بن عثمان بن ہانی کو امام ابن حبان
نے ’’ الثقات “ [8/874] میں ذکر کیا ہے اور امام حاکم نے اس کی روایت کی تصحیح کر کے اس کی توثیق کر دی ہے، لہٰذا یہ ’’ حسن الحدیث “ ہے۔
قارئین اس حدیث کو باربار پڑھیں اور سوچیں کہ کیا اس سے وہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے جو جناب نعیمی صاحب نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبور مبارکہ تھیں، اس لیے ان کی اجازت سے ہی ان کی زیارت کی جا سکتی تھی۔
احباب اس بات کی طرف بھی غور فرمائیں کہ جناب نعیمی صاحب نے اس حدیث کی طرف اشارہ کرنے میں ہی اپنی عافیت کیوں جانی ؟ انہوں نے اسے ذکر کیوں نہ کر دیا ؟ اس لیے کہ یہ حدیث تو ان کے قبوری سسٹم کے لیے بہت نقصان دہ تھی۔ اس میں صاف مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں نہ بلند تھیں اور نہ پکی تھیں، بلکہ زمین سے تھوڑی سی اونچی اور کچی تھیں۔ ان پر کوئی چادر وغیرہ نہیں ڈالی گئی تھی۔ اگر نعیمی صاحب اس حدیث کو ذکر کر کے اس کا ترجمہ کر دیتے تو ان کے قبوری مذہب کی بنیادیں ہل جاتیں اور لوگ ان سے پوچھتے کہ جناب اگر صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کو نہ اونچا کیا، نہ پختہ کیا اور نہ ان پر چادریں چڑھائیں تو آپ اس بدعت کو جائز کیسے قرار دیتے ہیں ؟ یہ ہے دیانت داری اور علمیت جناب صاحب  جاء الحق کی ! ! !
مزید لکھتے ہیں :
’’
سیدنا حسن ابن حسن ابن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ ضربت امراته القبة علي قبره سنة .
تو ان کی بیوی نے ان کی قبر پر ایک سال تک قبہ ڈالے رکھا۔ “ [جاء الحق : 285/1]
صاحب جاء الحق  جب قبروں پر مجاور بننے کے ثبوت پر کوئی وضعی و من گھڑت روایت بھی پیش نہ کر سکے تو ایک چال چل دی۔ چونکہ اس روایت میں القبه کا لفظ آیا تھا، ترجمہ میں بھی قبه لکھ دیا کہ عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ حسن ابن حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان کی قبر پر قبه بنایا تھا، لہٰذا بزرگوں کی قبروں پر گنبد و قبہ بنانا اور ان میں مجاور بن کر بیٹھنا جائز ہوا، حالانکہ یہاں قبه سے خیمہ مراد ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت کے ماخذ و ثبوت کو لیجیے تو یہ روایت صحیح البخاری میں تعلقاً موجود ہے۔ [صحيح البخاري : ح 1330]
اس کی سند میں محمد بن حمید الرازی راوی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف “ ہے۔ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (773۔ 852ھ) لکھتے ہیں کہ یہ ’’ ضعیف “ راوی ہے۔ [تقريب التهذيب لابن حجر: 5834]
صاحب  جاء الحق نے اپنی روایتی ’’ دیانتداری “ سے کام لیتے ہوئے اس روایت کے اگلے الفاظ ذکر نہیں کیے، وہ بھی ملاحظہ فرمائیں :
ثم رفعت، فسمعوا صائحا يقول: الا هل وجدوا ما فقدوا فاجابه آخر: بل يئسوا، فانقلبوا
’’
پھر اس خیمے کو اٹھا لیا گیا۔ انہوں نے ایک چیخنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا : کیا انہوں نے جو گم پایا تھا، اسے حاصل کر لیا ؟ دوسرے نے جواب دیا : بلکہ وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے ہیں۔
اس روایت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ قبر پر خیمہ ان پر رونے کے لیے لگایا گیا تھا، نیز قبروں پر قبے بنانے والے ناکام و مایوس ہی ہوتے ہیں۔ ان کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ بے فائدہ اور فضول کام ہے۔ اسی لیے یہ الفاظ جناب نعیمی صاحب نے ڈکار لیے تھے۔
تنبیہ :
یہی روایت کتاب الہواتف لابن ابی الدنیا [131] میں اس سند کے ساتھ مذکور ہےحدثني يوسف بن موسي : ثنا جرير عن ابن خالد ابن مسلمة القرشي، قال . . .
اس سند میں ابن خالد بن مسلمہ القرشی کا تعارف اور توثیق مطلوب ہے۔ نیز سند کا اتصال بھی ثابت کیا جائے۔
قارئین کرام نے قرآن و سنت کے دلائل اور ائمہ دین کی تصریحات سے قبروں کی مجاور ی کا بدعت اور یہود و نصاریٰ کی روش ہونا ملاحظہ فرمایا۔ ساتھ ہی اس ضمن میں صاحب جاء الحق  کے دلائل بھی دیکھے۔ ان سے اپیل ہے کہ خود فیصلہ فرمائیں کہ کیایہ لوگ دین کے لیے مخلص ہیں ؟ قرآن و سنت کو تروڑ مروڑ کر اپنے شرکی و بدعتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جن لوگوں کا وطیرہ ہو، وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیرخواہ کیسے ہو سکتے ہیں ؟  دعا ہے کہ اللہ تعالیٰٰ ہمیں راہ حق پر گامزن فرمائے۔ آمين
من تحریر : غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری بتغیر یسیر