تعلیم القران و السنہ ۔ ویب سائٹ
پیر، 17 جنوری، 2022
اتوار، 16 جنوری، 2022
مسلم شریف حدیث نمبر 7035 کی تشریح
الحمد لله وكفى والصلاة والسلام على النبي المصطفى وعلى آله وصحبه ومن اقتفى هديه ثم أمّا بعد
سوال : مسلم شریف میں حدیث ہے کہ (عن)حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ . مسلم 7035
اس حدیث میں اصحابی(یعنی میرے صحابہ میں ) کیا صحابہ کرام میں منافقین بھی تھے ؟ کچھ لوگ اس حدیث کو لے کر صحابہ کرام پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں ، حدیث کی تشریح فرماکر ممنون فرمائیں .
الجواب : حدیث کو سمجھنے کے لئے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ صحابی کسے کہتے ہیں اس کی تعریف کیا ہے ۔
تو جان لیں کہ صحابی کی ایک تعریف شرعی ہے اور دوسری عرفی ۔
صحابی کی تعریف شرعی : حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی مشہور کتاب “الإصابة في تمييز الصحابة” میں “صحابی” کی تعریف یوں کی ہے : الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا به ، ومات على الإسلام.
صحابی اسے کہتے ہیں جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی فوت ہوا۔
پھر درج بالا تعریف کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمة اللہ مزید کہتے ہیں :
فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ، | ومن روى عنه أو لم يرو ، ومن غزا معه أو لم يغز ، ومن رآه رؤية ولو لم يجالسه ، ومن لم يره لعارض كالعمى . ويخرج بقيد الإيمان من لقيه كافرا ولو أسلم بعد ذلك إذا لم يجتمع به مرة أخرى .
ترجمہ : اس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کو مانتا تھا پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ گئی خواہ وہ زیادہ عرصہ تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت میں رہا، یا کچھ عرصہ کے لیے خواہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہوخواہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو خواہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا (بصارت نہ ہونے کے سبب) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دیدار نہ کر سکا ہو ہر دو صورت میں وہ “صحابئ رسول” شمار ہوگا۔ اور ایسا شخص “صحابی” متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔
بحوالہ:الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8
فضائل اصحاب النبی (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے ضمن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
عن عبد الله بن عمر، قال: من كان مستناً فليسن. ممن قد مات، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوباً، وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم أختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه، فتشبهوا بأخلاقهم وطرائقهم فهم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا على الهدى المستقيم. حلية الأولياء لأبي نعيم ، ج:1 ، ص:164)
ترجمہ : اگر کوئی شخص اقتداء کرنا چاہتا ہو تو وہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ، وہ امت کے سب سے بہتر لوگ تھے ، وہ سب سے زیادہ پاکیزہ دل والے ، سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت کے لیے ، اور آنے والی نسلوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے چُن لیا تھا ، اس لیے تم انہی کے طور طریقوں کو اپناؤ ، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی تھے ، اور صراط مستقیم پر گامزن تھے۔
بحوالہ : حلية الأولياء لأبي نعيم ، ج:1 ، ص:164)
اس تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ : ایسا شخص “صحابی” متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔ بحوالہ : الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8
صحابی کی عرفی تعریف : اس سے مراد یہ ہے کہ عرف عام میں کسی کو صاحب یا صاحبی کے لقب سے یاد کیا جائے اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان اصحاب رسول ﷺ میں سے ہیں .
جیسا کہ بخاری ہی کی ایک روایت میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے “صحابی” کے الفاظ استعمال کیا ہے ۔ واقعہ یوں ہے …..
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ، ہم ایک غزوہ ( تبوک ) میں تھے ۔ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو لات ماردی ۔ انصاری نے کہا کہ یا للانصار یعنی اے انصاریو ! دوڑو اور مہاجر نے کہا یا للمھاجرین یعنی اے مہاجرین ! دوڑو ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنا اور فرمایا کیا قصہ ہے ؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو لات سے مار دیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی نے بھی یہ بات سنی تو کہا اچھا اب یہاں تک نوبت پہنچ گئی ۔ خدا کی قسم ! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ
جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال کر باہر کردے گا ۔ اس کی خبر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی ۔ (فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کو ختم کردوں ۔
فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ . البخاري . 4905
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے (صحابہ)ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں ۔ بخاری
اس روایت میں “أَصْحَابَهُ” سے مراد شرعی صحابی نہیں بلکہ عرفاً صحابی مراد ہے۔ ورنہ عبد اللہ بن ابی بن سالول کو کون نہیں جانتا کہ وہ صرف منافق ہی نہیں بلکہ رائیس المنافقین ہے .
قرآن کریم میں خود رسول اکرم ﷺ کو مکہ والوں کا صاحب (ساتھ رہنے) والا کہا گیا ہے :
قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ ‘‘
کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے [ضد چھوڑ کر] دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، سورۃ سبا ۴۶
تو صرف مکہ میں ایک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے سبب پیغمبر اکرم ﷺ کو ان کا ساتھی (صاحب ) کہا گیا ،
اور اسلئے بھی (صاحب ) کہا کہ اتنے طویل عرصہ جس کے ساتھ رہتے ہو اس کی صداقت و عدالت اور اخلاق کو تم خوب پہچانتے ہو، چالیس سال سے جو آدمی تمہارے ساتھ اتنے اعلی اخلاق کا نمونہ بن کر زندگی گزارتا رہا تم اسے (عقل وخرد سے عاری ) کیسے قرار دے سکتے ہو ،
اب کون اس آیت میں وارد لفظ (صاحب ) جس سے صحابی بنتا ہے اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ تو مکہ والوں کے صحابی ہیں ؟
ابھی ہم مسلم شریف کی حدیث کی طرف آتے ہیں ، جس میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے :
في أصحابي اثنا عشر منافقاً لا يدخلون الجنة، ولا يجدون ريحها. رواه مسلم
میرے ساتھیوں میں 12 منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے .صحيح مسلم ، كتاب صفات المنافقين وأحكامهم.
بھلا بتائیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی نبی سے ایسی بیشمار متواتر روایات منقول ہوں جن میں صحابہ کرام کے فضائل بیان کئے گئے حتیٰ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تک کہے کہ :
لا تسبوا أصحابي . میرے صحابہ کو برا نہ کہو. صحيح بخاری ، كتاب فضائل الصحابة
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو اپنے صحابہ کو برا نہ کہنے کی نصیحتیں کرتا ہے ، وہ خود اپنے صحابہ کو منافق کہے؟؟ اور یہ کہے کہ وہ جنت میں نہیں جائیں گے؟؟
یا تو ان روایات کو جھوٹ ماننا ہوگا یا پھر کوئی تطبیق دینی ہوگی۔
ان روایات کو اہل سنت والجماعت جھوٹ قطعاً نہیں کہتے بلکہ ان جیسے روایات کی تطبیق کرتے ہیں ،لہذا ہمارے علماء و ائمہ ومحدثین نے یہی تطبیق دی ہے کہ :
متذکرہ منافقین عرفاً نبی کے ساتھی تھے [یعنی کہ بالکل ویسے ہی جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کو نبی نے اپنے “أصحابي” میں شمار کیا]، اصطلاحی و شرعی معنوں میں وہ “صحابی” نہیں تھے ، کیونکہ صحابی کی اجماعی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ وفات “ایمان” پر ہوئی ہو!
اور جن منافقین کو اللہ تعالیٰ خود کہہ چکا ہے کہ وہ “مرتد” ہو چکے ، وہ بھلا کس طرح “صحابی” کی تعریف میں شمار ہو سکتے ہیں؟؟
اس حدیث میں وارد لفظ «في أصحابي اثنا عشر منافقا » سے مراد انصار و مہاجرین کے مخلصین نہیں ، جن کی تعریف و مدح میں قرآن کریم کی آیات وارد ہیں ‘‘
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورۃ التوبۃ 100)
علامہ النووی ؒ اس حدیث کے تحت شرح میں لکھتے ہیں :
(أما قوله صلى الله عليه وسلم في أصحابي فمعناه الذين ينسبون إلى صحبتي كما قال فى الرواية الثانية فى أمتى )
نبی مکرم ﷺ نے جو فرمایا کہ میرے صحابہ سے بارہ منافق ہیں ،تو اس کا مطلب صرف صحبت سے منسوب ہونا ہے (نہ کہ اصل صحابی ) جیسے دوسری سند سے یہاں لفظ ( میری امت سے ) ہے ‘‘
یعنی یہاں صحابی کے لفظ سے مراد سچے اور عادل صحابہ نہیں ، بلکہ اس دور میں اسلام سے منسوب ،اور ایمان کا دعوی رکھنے والے منافقین ہیں ،
نوٹ : اس کی وضاحت ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جو مسلم شریف میں ٹھیک اس کے بعد ہے .
حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ وَقَالَ غُنْدَرٌ أُرَاهُ قَالَ فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ . رواه مسلم
میری امت میں بارہ منافق ہیں، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے. صحیح مسلم حدیث نمبر: 7036 . کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام .
صحیح مسلم کی پہلی روایت کہ جس میں فِي أَصْحَابِي کے الفاظ ہیں، کو اسود بن عامر نے شعبہ سے بیان کیا ہے۔ اور صحیح مسلم کی دوسری روایت کہ جس میں فِي أُمَّتِي کے الفاظ ہیں، کو غندر محمد بن جعفر نے شعبہ سے نقل کیا ہے۔ شعبہ کے بعد سند ایک ہی ہے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ جب دو راویوں نے شعبہ سے روایت میں اختلاف کیا ہے تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کس راوی نے شعبہ کے بیان کو زیادہ محفوظ رکھا ہے۔ تو یہ واضح رہے کہ اسود بن عامر، شعبہ کے عام شاگردوں میں سے ایک ہیں جبکہ غندر محمد بن جعفر، شعبہ کے خاص ترین شاگرد ہیں۔ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ غندر نے بیس سال شعبہ سے علم حاصل کیا۔ امام عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ اگر شعبہ سے روایت میں اختلاف ہو جائے تو غندر کی روایت کو فیصلہ کن سمجھو۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ غندر، امام شعبہ کے ربیب ہیں یعنی ان کی بیوی کے بیٹے ہیں۔ دوسرا غندر کو یہ بھی ترجیح حاصل ہے کہ وہ احادیث لکھ لیتے ہیں بلکہ امام ذہبی کے بقول لکھنے میں أصح الناس كتابا تھے یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح لکھنے والے۔ اور شعبہ سے انہوں نے بہت احادیث لکھی ہیں۔
خلاصہ کلام:
مندرجہ بالا حدیث میں متذکرہ منافقین عرفاً نبی کے ساتھی تھے، شرعا نھیں [یعنی کہ بالکل ویسے ہی جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کو نبی نے اپنے “أصحابي” میں شمار کیا]، اصطلاحی و شرعی معنوں میں وہ “صحابی” نہیں تھے ، کیونکہ صحابی کی اجماعی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ وفات “ایمان” پر ہوئی ہو!
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ مسلم شریف روایت میں "اصحابی” سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی پاکیزہ جماعت ہرگز مراد نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی پاکیزہ جماعت کا کوئی فرد مرتد نہیں ہوا ، اور اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے ایمان کو "معیارحق "اوران کے ایمان کو امت مسلمہ کےایمان کی کسوٹی قراردیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی ساری جماعت کو بلااستثناء آسمان ہدایت کے ستارے فرمایا اور ان کے بارے میں زبان درازی سے منع فرمایا۔
اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی صحابہ کرام کی ایمان کو معیار بنا کر دعوت دیں کی اس طرح ایمان لے ائیں جیسا کہ سورۃ البقرۃ 137 میں ہے
فَإِنْ ءَامَنُواْ بِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهْتَدَواْ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا هُمْ فِى شِقَاقٍۢ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ.
اصل واقعہ کیا ہے ۔
یہ واقعہ معجم طبرانی میں اور مسند البزار ولید بن جمیع کی سند سے آیا ہے
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ فَلَا تَأْخُذُوهَا فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقَبَةِ، وَعَمَّارٌ يَسُوقُ، وَحُذَيْفَةُ يَقُودُ بِهِ فَإِذَا هُمْ بِرَوَاحِلَ عَلَيْهَا قَوْمٌ مُتَلَثِّمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُدْ قُدْ، وَيَا عَمَّارُ سُقْ سُقْ» ، فَأَقْبَلَ عَمَّارٌ عَلَى الْقَوْمِ فَضَرَبَ وُجُوهَ رَوَاحِلِهِمْ فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَقَبَةِ قَالَ: ” يَا عَمَّارُ، قَدْ عَرَفْتُ الْقَوْمَ، أَوْ قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الْقَوْمِ أَوِ الرَّوَاحِلِ أَتَدْرِي مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ “، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے کہا جب جنگ تبوک ہوئی اپ صلی الله علیہ وسلم نے منادی کا حکم دیا کہ وہ گھاٹی میں سے جائیں گے کوئی اور اس میں سے نہ گزرے پس اپ گھاٹی میں سے گزرے اور عمار اونٹنی ہانک رہے تھے اور اس کی نکیل پکڑے تھے کہ ایک قوم ڈھاٹے باندھے آئی پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمار کو حکم کیا پس عمار آگے بڑھے اور ان کے چہروں پر ضربیں لگائیں نکیل سے پس جب اس گھاٹی سے اترے اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے عمار کیا تم ان کو جانتے ہو؟ یہ کیا چاہتے تھے ؟ میں نے کہا الله اور اس کا رسول جانتے ہیں فرمایا یہ ہمیں (گھاٹی میں ) دھکیلنا چاہتے تھے.
صفی الرحمٰن مبارکپوری نے اپنی کتاب ” الرحیق المختوم ” میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے
اسلامی لشکر تبوک سے مظفر و منصور واپس آیا ۔ کوئی ٹکر نہ ہوئی ۔ اللہ جنگ کے معاملے میں مومنین کے لیے کافی ہوا ۔ البتہ راستے میں ایک جگہ ایک گھاٹی کے پاس بارہ منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے گزر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے جو اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے جو اونٹنی ہانک رہے تھے ۔ باقی صحابہ کرام دور وادی کے نشیب سے گزر رہے تھے اس لیے منافقین نے اس موقع کو اپنے ناپاک مقصد کے لیے غنیمت سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قدم بڑھایا ۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھی حسب معمول راستہ طے کررہے تھے کہ پیچھے سے ان منافقین کے قدموں کی چاپیں سنائی دیں ۔ یہ سب چہروں پہ ڈھاٹا باندھے ہوئے تھے اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تقریباً چڑھ ہی آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب بھیجا ۔ انہوں نے ان کی سواریوں کے چہروں پر اپنی ایک ڈھال سے ضرب لگانی شروع کی ، جس سے اللہ نے انہیں مرعوب کردیا اور وہ تیزی سے بھاگ کر لوگوں میں جا ملے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام بتائے اور ان کے ارادے سے باخبر کیا اسی لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’ رازدان ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
اسی واقعہ سے متعلق اللہ کا یہ ارشاد نازل ہوا کہ ’’ وَھَمُّوْا بِمَا لَم یَنَالُوْا. ( التوبۃ-74) انہوں نے اس کام کا قصد کیا جسے وہ نہ پا سکے .
(وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا) سے متعلقہ سبب نزول معلوم کیجیے اور وہ یہ ہے کہ منافقین میں سے بارہ آدمی تبوک کے راستہ میں ایک گھاٹی پر ٹھہر گئے۔ انہوں نے یہ مشورہ کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزریں گے تو اچانک رات کی اندھیری میں آپ پر حملہ کر کے آپ کو شہید کردیں گے۔ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے آپ کو ان کی نیتوں کا حال بتادیا اور عرض کیا کہ ان لوگوں کے پاس کسی شخص کو بھیج دیں جو ان کا رخ دوسری طرف کو موڑ دے۔ آپ نے حضرت حذیفہ ؓ کو اس کام کے لیے بھیج دیا۔ صاحب معالم التنزیل (ص 312 ج 2) نے بالا جمال یہ واقعہ اسی طرح نقل کیا ہے لیکن صاحب روح المعانی (ص 139 ج 10) نے بیہقی کی دلائل النبوۃ سے قدرے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور وہ یہ کہ حضرت حذیفہ ؓ نے بیان کیا کہ جب آنحضرت سرور عالم ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس ہو رہے تھے تو میں آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑے ہوئے آگے آگے چل رہا تھا اور عمار پیچھے پیچھے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب ایک گھاٹی آگئی تو وہاں بارہ آدمیوں کو پایا جو سواریوں پر سوار تھے اور انہوں نے راستہ روک رکھا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بتادی آپ نے جو زور سے آواز دی تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے پہچانا کہ یہ کون لوگ تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نہیں پہچان سکے۔ کیونکہ یہ لوگ چہروں پر کپڑے باندھے ہوئے تھے۔ البتہ ہم نے ان کی سواریوں کو پہچان لیا۔ آپ نے فرمایا یہ لوگ منافق تھے جو قیامت تک منافق ہی رہیں گے۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا کیا ارادہ تھا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ! فرمایا ان کا ارادہ یہ تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کو گھاٹی میں نیچے گرا دیں۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ان کے قبیلوں کے پاس یہ حکم نہیں بھیجتے کہ ان میں سے ہر ایک کا سر کاٹ کر بھیج دیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات گوارا نہیں ہے کہ اہل عرب یوں باتیں کریں کہ محمد ﷺ نے ایک قوم کو ساتھ لے کر قتال کیا یہاں تک کہ جب اللہ نے آپ کو غلبہ دے دیا تو ان لوگوں کو قتل کرنے لگے جو جہادوں میں ساتھ تھے۔ منافقین کی نیتوں اور حرکتوں کو ان الفاظ میں بیان فرمایا (وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا) (انہوں نے اس چیز کا ارادہ کیا جس میں کامیاب نہ ہوئے)
اور طبرانی میں ان کے نام بھی موجود ہیں ، وترجم الطبراني في مسند حذيفة 33017
تسمية أصحاب العقبة ثم روى عن علي بن عبد العزيز عن الزبير بن بكار أنه قال هم :
1 معتب بن قشير . 2 ديعة بن ثابت . 3 جد بن عبد الله بن نبتل بن الحارث من بني عمرو بن عوف. 4 الحارث بن يزيد الطائي . 5 أوس بن قيظي . 6 الحارث بن سويد . 7 سعد بن زرارة. 8 قيس بن فهد . 9 سويد بن داعس من بني الحبلي. 10 قيس بن عمرو بن سهل
11 زيد بن اللصيت . 12 سلالة بن الحمام وهما من بني قينقاع.
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین میں صحیح سمجھ عطا فرمائے .
واللہ اعلم بالصواب
شیخ اکبر حسین اورکزئی
بدھ، 30 جون، 2021
وضو تیمم غسل اور نماز کے ضروری مسائل
وضو کے فرائض: وضو میں چار فرض ہیں، جن میں سے اگر ایک بھی چھوٹ جائے تووضو نہیں ہوگا۔1) پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی کے نیچے تک ، اور دونوں کان کی لو تک چہرا دھونا۔2) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا۔3) چوتھائی سر کا مسح کرنا۔4) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔
وضو کی سنتیں: سنت چھوڑنے سے وضو تو ہوجاتا ہے مگر ثواب کم ملتا ہے۔ (1) نیت کرنا۔ (۲) شروع میں بِسْمِ اللّہِ پڑھنا۔ (۳) پہلے تین بار دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا۔ (۴) تین بار کلی کرنا۔ (۵) مسواک کرنا۔ (۶) تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔ (۷) تین بار چہرا دھونا۔ (۸) تین بار کہنیوں سمیت دونوں بانھیں دھونا۔ (۹) سارے سر کا اور کانوں کا مسح کرنا۔ (۱۰) ڈاڑھی اور انگلیاں کا خلال کرنا۔ (۱۱) لگاتار اس طرح دھونا کہ پہلا حصہ خشک نہ ہو نے پائے کہ دوسرا حصہ دھل جائے۔ (۱۲) ترتیب وار دھونا کہ پہلے چہرہ دھوئیں، پھر کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئیں، پھر سر کا مسح کریں، پھر پاؤں دھوئیں۔
وضو کے مستحبات: یعنی جن چیزوں کا کرنا باعث ثواب ہے۔ (1) قبلہ رخ ہوکر بیٹھنا۔ (۲) پاک اور اونچی جگہ پر بیٹھ کر وضو کرنا۔ (۳) داہنی طرف سے شروع کرنا۔ (۴) دوسرے سے حتی الامکان مدد نہ لینا۔ (۵) بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پینا۔
مکروہاتِ وضو: یعنی جن امور سے آپ کو حتی الامکان بچنا چاہئے۔ (1) ناپاک جگہ پر وضو کرنا۔ (۲) سیدھے ہاتھ سے ناک صا ف کرنا۔ (۳) پانی زیادہ بہانا۔ (۴) وضو کرتے وقت دنیا کی باتیں کرنا۔ (۵) خلافِ سنت وضو کرنا۔ (۶) زور سے چھپکے مارنا۔
نواقصِ وضو: یعنی جن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(1) پاخانہ یا پیشاب کرنا۔ (۲) ہوا خارج ہونا۔ (۳) بدن کے کسی حصہ سے خون یا پیپ نکل کر بہہ جانا۔ (۴) منہ بھر کے قے ہونا۔ (۵) ٹیک لگاکر یا لیٹ کر سوجا نا۔ (۶) نشہ میں مست یا بے ہوش ہوجانا۔ (۷) رکوع سجدہ والی نماز میں قہقہہ مارکر ہنسنا۔
غسل کے فرائض: غسل میں تین فرض ہیں، جن میں سے اگر ایک بھی چھوٹ جائے تو غسل نہیں ہوتا۔1) خوب حلق تک پانی سے منہ بھر کر کلّی کرنا۔2) ناک میں سانس کے ساتھ پانی چڑھانا جہاں تک نرم جگہ ہے۔3) تمام بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر بھی جگہ سوکھی نہ رہ جائے۔
غسل کی سنتیں: سنت چھوڑنے سے غسل تو ہوجاتا ہے مگر ثواب کم ملتا ہے۔(1) دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا۔ (۲) ظاہری ناپاکی دور کرنا اور استنجا کرنا۔ (۳) غسل کی نیت کرنا۔ (۴) وضو کرنا۔ (۵) بدن کو ملنا۔ (۶)سارےبدن پر تین بار پانی بہانا۔
غسل کے مکروہات: یعنی جن امور سے آپ کو حتی الامکان بچنا چاہئے۔ 1) پانی بہت زیادہ استعمال کرنا۔ (۲) اتنا کم پانی لینا کہ اچھی طرح غسل نہ کرسکیں۔3) ننگا ہونے کی حالت میں غسل کرتے وقت کسی سے بات چیت کرنا۔
تیمم کے فرائض اور طریقہ۔۔۔ تیمم میں تین فرض ہیں: 1) نیت کرنا۔2) دونوں ہاتھ مٹی پر مارکر پورے چہرے پر پھیرنا۔3) دونوں ہاتھ مٹی پر مارکر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کو ملنا۔بیماری اور پانی نہ ملنے کی صورت میں وضو کی جگہ تیمم کرلینے کا حکم ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ اوّل ناپاکی دور کرنے کی نیت کریں ۔ پھر پاک مٹی یا ایسی چیز پر جو مٹی کے حکم میں ہو دونوں ہاتھ مارکر ایک بار اپنے چہرے پر پھیر لیں، پھر دوسری مرتبہ پاک مٹی پر ہاتھ مارکر دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت ملیں۔
پانچوں نمازوں کے اوقات۔۔۔ نمازِ فجر:صبح صادق سے سورج کے طلوع ہونے تک۔۔۔ نمازِ ظہر: زوالِ آفتاب سے نمازِ عصر کا وقت شروع ہونے تک۔۔۔ نمازِ عصر: جب ہر چیز کا سایہ اصلی سایہ کے علاوہ دو مثل ہوجائے تو ظہر کا وقت ختم ہوکرعصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور غروبِ آفتاب تک رہتا ہے۔۔۔نمازِ مغرب: غروبِ آفتاب سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک۔مغرب کی نماز کی ادائیگی میں زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔۔۔نمازِ عشا: سورج چھپنے کے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد سے صبح صادق تک۔آدھی رات کے بعد عشا کی نماز کے لئے مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے۔
پانچوں نمازوں کی رکعات۔۔۔ نمازِ فجر کی چار رکعات: پہلے دو سنتیں ، پھر دو فرض۔۔۔ نمازِ ظہر کی بارہ رکعات: پہلے چار سنتیں، پھر چار فرض، پھر دو سنتیں، پھر دو نفل۔۔۔نمازِ عصر کی آٹھ رکعات: پہلے چار سنتیں غیر مؤکدہ ، پھر چار فرض ۔۔۔ نمازِ مغرب کی سات رکعات: پہلے تین فرض، پھر دو سنتیں، پھر دو نفل۔۔۔ نمازِ عشا کی سترہ رکعات: پہلے چار سنتیں غیر مؤکدہ ، پھر چار فرض، پھر دو سنتیں،پھر دو نفل، پھر تین وتر، اور دو نفل۔ دن رات میں کل ۱۷ رکعات فرض، ۳ وتر، ۱۲ رکعات سنن مؤکدہ، ۸ رکعات سنن غیر مؤکدہ ہیں۔
مسئلہ: جمعہ کے دن ظہر کے وقت ظہر کی نماز کے بجائے نمازِ جمعہ (دو فرض امام کے ساتھ) ادا کی جائے گی۔ نمازِ جمعہ عورتوں پر فرض نہیں ہے لہذا وہ اس کی جگہ نمازِ ظہر ادا کریں۔اگر کسی شخص نے جمعہ کی نماز امام کے ساتھ نہیں پڑھی تو اس کی جگہ نمازِ ظہر (چار رکعات) ادا کرے، ہاں اگر مسافر ہو تو دو رکعت ظہر کی ادا کرے۔نماز جمعہ کی ۱۴ رکعات اس طرح ہیں: پہلے ۴ سنتیں، پھر ۲ فرض، پھر ۴ سنتیں، پھر ۲ سنتیں، پھر ۲ نفل۔
مسئلہ: نفل اور غیر مؤکدہ سنتوں کا حکم یہ ہے کہ پڑھنے پر ثواب ملے گا، اور نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں، البتہ سنن مؤکدہ کو عذر کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ احادیث میں ان کی خاص تاکید اور اہمیت وارد ہوئی ہے۔
نماز کے شرائط وفرائض اور واجبات۔۔۔
شرائطِ نماز: 1) بدن کا پاک ہونا۔2) کپڑوں کا پاک ہونا۔3) ستر کا چھپانا۔ مردوں کو ناف سے گھٹنوں تک، اور عورتوں کو چہرہ ، ہاتھوں اورقدموں کے علاوہ تمام بدن کا ڈھانکنا فرض ہے۔4) نماز پڑھنے کی جگہ کا پاک ہونا۔ 5) نماز کا وقت ہونا۔6) قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ 7) نماز کی نیت کرنا۔
فرائض وارکانِ نماز:1) تکبیر تحریمہ۔ 2) قیام یعنی کھڑا ہوا۔3) قراء ت یعنی ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا۔4) رکوع کرنا۔ 5) سجدہ کرنا۔6) قعدہ اخیرہ کرنا۔ 7) اپنے ارادہ سے نماز ختم کرنا (یعنی سلام پھیرنا) ۔۔۔اگر ان شرائط اور فرائض میں سے کوئی ایک چیز بھی جان کر یا بھول کر رہ جائے تو نماز ادا نہیں ہوگی۔
واجباتِ نماز: 1) الحمد پڑھنا۔ 2) الحمد کے ساتھ کوئی سورت ملانا۔3) فرضوں کی پہلی دو رکعت میں قراء ت کرنا۔4) الحمد کو سورت سے پہلے پڑھنا۔5) رکوع کرکے سیدھا کھڑا ہونا۔ 6) دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا ۔7) پہلا قعدہ کرنا۔ 8) التحیات پڑھنا۔9) لفظ سلام سے نماز ختم کرنا۔ 10) ظہر اور عصر میں قراء ت آہستہ پڑھنا۔11) امام کے لئے مغرب وعشاء کی پہلی دو رکعتوں، اور فجر وجمعہ وعیدین اور تراویح کی سب رکعتوں میں قراء ت بلند آواز سے پڑھنا۔۔۔ان مذکورہ واجبات میں سے اگر کوئی واجب بھول کر چھوٹ جائے تو سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا۔ اور قصداً چھوڑدینے سے نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہوتا ہے۔
نماز کی سنتیں: یہ امور نماز میں سنت ہیں، جن کے ترک کرنے پر نماز تو ادا ہوجائے گی مگر ثواب میں کمی ہوگی۔۔۔1) تکبیر تحریمہ کے وقت مردوں کو دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا اور عورتوں کو سینے تک اٹھانا۔2) مردوں کو ناف کے نیچے اور عورتوں کو سینے پر ہاتھ باندھنا۔2) ثنا یعنی سُبْحَانَکَ اللّهُمَّ آخر تک پڑھنا۔4) اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّيْطَانِ الرّجِيْم پڑھنا۔5) بِسْم اللّہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيْم پڑھنا۔6) ایک رکن سے دوسرے رکن کو منتقل ہونے کے وقت اللہ اکبر کہنا۔7) رکوع میں سُبْحَانَ رَبّیَ الْعَظِيْم کم از کم تین مرتبہ کہنا۔8) رکوع سے اٹھتے ہوئے سَمِعَ اللّہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور رَبّنَا لَکَ الْحَمْدکہنا۔9) سجدہ میں کم از کم تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبّیَ الاعْلیٰ کہنا۔10) دونوں سجدوں کے درمیان اور التحیات کے لئے مردوں کو بائیں پاؤں پر بیٹھنا اور سیدھا پاؤں کھڑا کرنا، اور عورتوں کو دونوں پاؤں سیدھی طرف نکال کر کولھوں پر بیٹھنا۔11) درود شریف پڑھنا۔12) درود کے بعد دعا پڑھنا۔13) سلام کے وقت دائیں اور بائیں طرف منہ پھیرنا۔14) سلام میں فرشتوں ، مقتدیوں اور نیک جنات جو حاضر ہیں ان کی نیت کرنا۔
نماز کے مستحبات: 1) اگر چادر اوڑھے ہو تو کانوں تک ہاتھ اٹھانے کے لئے مردوں کو چادر سے ہاتھ نکالنا۔2) جہاں تک ممکن ہو کھانسی کو روکنا۔3) جمائی آئے تو منہ بند کرلینا۔4) کھڑے ہونے کی حالت میں سجدہ کی جگہ اور رکوع میں قدموں پر اور سجدہ میں ناک پر اورقعدہ میں گود میں اور سلام کے وقت کاندھوں پر نظر رکھنا۔
مکروہاتِ نماز:یہ چیزیں نماز میں مکروہ ہیں۔۔۔ 1) کپڑا سمیٹنا۔2) جسم یا کپڑے سے کھیلنا۔3) انگلیاں چٹخانا۔4) دائیں یا بائیں طرف گردن موڑنا۔5) انگڑائی لینا۔6) مرد کو سجدہ میں کہنیوں سمیت کلائیاں زمین پر بچھانا۔7) سجدے میں (مردوں کے لئے) پیٹ کو رانوں سے ملانا۔8) بغیر عذر کے چاروں زانو(پالتی مارکر) بیٹھنا۔9) امام کا محراب کے اندر کھڑے ہوکر نماز پڑھانا۔10) صف سے علیحدہ تنہا کھڑا ہونا۔11) سامنے یا سر پر تصویر ہونا۔12) تصویر والے کپڑوں میں نماز پڑھنا۔13) کندھوں پر چادر یا کوئی کپڑا لٹکانا۔14) پیشاب یا پاخانہ یا زیادہ بھوک کا تقاضی ہوتے ہوئے نماز پڑھنا۔15)سر کھول کر نماز پڑھنا ۔ یہ کراہت مردوں کے لئے ہے۔خواتین کا پورے سر کو ڈھانکنا ضروری ہے۔16) آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا۔
نماز پڑھنے کا طریقہ: نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پاک کپڑے پہن کر پاک جگہ پر باوضو قبلہ کی طرف منہ کرکے اس طرح کھڑے ہوں کہ دونوں قدموں کے درمیان چار انگل یا اس کے قریب قریب فاصلہ رہے، اور نماز کی نیت کرکے دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائیں اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھ لیں۔ داہنا ہاتھ اوپر اور بایاں ہاتھ اس کے نیچے رہے، اور نظر سجدہ کی جگہ پر رکھیں۔نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھیں۔ ادب سے کھڑے رہیں۔ صرف اللہ تعالی کی طرف دھیان رکھیں۔ ہاتھ باندھ کر ثنایعنی سُبْحَانَکَ اللّهمّ۔۔۔۔ آخر تک پڑھیں۔ پھر تعوذ یعنی اَعُوذُ بِالله مِنَ الشّيْطَانِ الرّجِيْم اور پھر تسمیہ یعنی بِسْمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحِيْم پڑھ کر الحمد شریف (سورۃ الفاتحہ) پڑھیں۔ الحمد شریف ختم کرکے آہستہ سے آمین کہیں۔ پھر کوئی سورت یا چند آیات پڑھیں۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع کے لئے جھکیں، رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لیں۔ رکوع کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ رَبّیَ الْعَظِيْم تین یا پانچ یا سات مرتبہ پڑھیں، پھر تسمیع یعنی سَمِعَ اللّه لِمَنْ حَمِدَہکہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوجائیں، اس کے بعد تحمید یعنی رَبّنَا لَکَ الْحَمْد پڑھیں، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں اس طرح جائیں کہ پہلے دونوں گھٹنے زمین پر رکھیں، پھر دونوں ہاتھ رکھیں پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پہلے ناک ، پھر پیشانی زمین پر رکھیں، پھر سجدے کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ رَبّیَ الاعْلیٰ تین یا پانچ یا سات مرتبہ پڑھیں۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے اٹھیں اور بیٹھ جائیں۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے دوسرے سجدہ میں جائیں اور اسی طرح سجدہ کریں جیسا ابھی بتایا، دونوں سجدوں تک ایک رکعت پوری ہوگئی۔
اب تکبیر یعنی اللہ اکبر کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوجائیں، صرف بسم اللہ پڑھ کر الحمد شریف پڑھیں، اس کے بعد کوئی سورت یا چند آیات پڑھیں۔ پھر رکوع ، قومہ اور دونوں سجدے کرکے بیٹھ جائیں، اور پہلے تشہد یعنی التحیات پھر درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیردیں، پہلے داہنی طرف پھر بائیں طرف۔ یہ دو رکعت نماز پوری ہوگئی۔
اگر تین یا چار رکعت والی نماز پڑھنی ہو تو دو رکعت پر بیٹھ کر صرف التحیات پڑھیں۔ اس کے بعد فوراً تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیں۔ بسم اللہ اور الحمد شریف پڑھ کر رکوع وسجدے کریں۔ اگر تین رکعت پڑھنا ہو تو بیٹھ کر التحیات درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ اور اگر چار رکعت پڑھنا ہو تو تیسری رکعت پڑھ کر نہ بیٹھیں بلکہ تیسری رکعت کے دونوں سجدے کرکے سیدھے کھڑے ہوجائیں اور چوتھی رکعت یعنی بسم اللہ اور الحمد شریف پڑھ کر رکوع اور سجدے کرکے بیٹھ جائیں اور التحیات پھر درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر دیں۔
مسئلہ: نفل نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی الحمد شریف کے بعد کوئی سورت یا چند آیات پڑھیں کیونکہ فرض نمازوں کے علاوہ ہر نماز کی ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد سورت یا چند آیات پڑھنا واجب ہے۔
مسئلہ: اگر امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا کے علاوہ کچھ نہ پڑھیں۔ تعوذ، تسمیہ، الحمد شریف اور سورت صرف امام پڑھے گا۔ اسی طرح دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی امام کے پیچھے خاموش کھڑے رہیں، ہاں رکوع سجدہ کی تسبیح اور التحیات ودرود شریف اور اس کے بعد والی دعا امام کے پیچھے بھی پڑھیں۔
مسئلہ: رکوع اس طرح کرنا چاہئے کہ کمر اور سر برابر رہیں یعنی سر نہ کمر سے اونچا رہے نہ نیچا ہوجائے اور دنوں ہاتھ پسلیوں سے علیحدہ رہیں اور گھٹنوں کو ہاتھوں کی انگلیاں سے پکڑ لیا جائے۔
مسئلہ: سجدہ اس طرح کرنا چاہئے کہ ہاتھوں کے پنجے زمین پر اس طرح رہیں کہ انگلیاں پھیلی ہوئی اور آپس میں ملی رہیں اور سب کا رخ قبلہ کی طرف ہو۔ اور کلائیاں زمین سے اونچی رہیں۔ پیٹ رانوں سے اور دونوں کہنیاں پسلیوں سے علیحدہ رہیں اور دونوں پاؤں کی انگلیاں اس طرح مڑی رہیں کہ ان کے سر قبلہ رخ ہوجائیں۔ عورتوں کے لئے پیٹ کو رانوں سے اور بازو کو بغل سے ملاکر رکھنا چاہئے۔
مسئلہ: رکوع سے اٹھتے وقت امام صرف سَمِعَ اللّہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے اور جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو وہ صرف رَبّنَا لَکَ الْحَمْد کہے، اور جو تنہا پڑھے وہ ان دونوں کو کہے۔
مسئلہ: دونوں سجدوں کے درمیان اور التحیات و درود شریف پڑھتے وقت مردوں کے لئے بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بایاں پاؤں بچھاکر اس پر بیٹھ جائیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں۔ دونوں گھٹنے قبلہ کی طرف رہیں۔ داہنے پاؤں کی انگلیاں اچھی طرح موڑ دیں کہ قبلہ رخ ہوجائیں اور دونوں ہاتھ رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں سیدھی رہیں۔ اور عورتوں کو دونوں پاؤں داہنی طرف نکال کر بیٹھنا چاہئے۔
وضاحت: نماز کی ادائیگی کے طریقہ سے متعلق مختلف فیہ مسائل میں ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور علماء احناف کی قرآن وحدیث کی روشنی پر مبنی رائے کو اختیار کیا گیا ہے۔ ان مسائل کے دلائل کے لئے علماء احناف کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔
مرتب: علامہ ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی
جمع بین الصلاتین یعنی دو نمازوں کو اکٹھے پڑھنے کا حکم
جمعرات، 24 جون، 2021
بعثت رسول کا مقصد
الحمد لله وكفى والصلاة والسلام على النبي المصطفى وعلى آله وصحبه ومن اقتفى هديه ثم أمّا بعد.
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنےبھی نبی یا رسول اس جہاں فانی میں مبعوث ہوئے ان سب کی بعثت کا مقصد ایک اللہ کی عبادت کی دعوت رہا،اور اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سنہری کڑی کو جناب محمد ﷺ پر ختم کیا ،اور آپ کی بعثت کا مقصد بھی دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح دعوت توحیدہی رہا،آپ ﷺنے انسانوں کو انسانوں کی عبادت و غلامی سے نجات دلا کر اللہ واحد و قہار کی واحدانیت اور کبریائی سے آشنا کرکے اُن کی جبینوں کو خالق و مالک حقیقی کے در پر جھکایا،لوگوں کے سامنے ان کے حقیقی رب کا تصور پیش کیا اور ان کو اس بات سے آگاہ کیا کہ ایک اللہ کے عبادت میں ہی ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے،دعوت دین کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کو ان کی جائے پیدائش سے نکالا گیا، اڑھائی برس تک شعب ابی طالب میں محصور رکھا گیا، اُن کی ایسی آزمائش کی گئی کہ چشمِ فلک کے بھی آنسو نکل آئے۔ رحمۃللعالمینﷺ کو نازیبا کلمات کہے گئے، آپﷺ کو گالیاں دی گئیں، طائف کے بازاروں میں آپﷺ کے ابریشم سے بھی نازک جسمِ اطہر کو پتھروں سے مضروب کیا گیا اور جب نبی رحمت ﷺ ایک لمحے کے لیے کسی درخت کے سائے تلے آرام کے لیے رکتے تو آوارگان طائف پھر جسمِ اطہر کو تختۂ مشق ستم بنانے لگتے۔ غیراللہ کی نفی اوربت پرستی کے خلاف اعلان ِ بغاوت کرنے اور دعوتِ الی الحق دینے کی وجہ سے آپﷺکے اعزہ اور رفقائے کار کو وحشت ناک مصائب کی بھٹی میں جھونکا گیا۔دعوت دین میں آپ ﷺ کو انتہائی اندوہ ناک اور صبر آزما اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی ایسی اذیتیں جن کے محض تصور سے ہی انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔
آپ ﷺ جس مقصد کے لئے کائنات میں نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے آپ نے اس فريضہ نبوت کو کما حقہ ادا کیا اور بالکلی عرب میں چراغ توحید کو روشن کیا،اور تمام عرب کے دل میں توحید جب رچ بس گیا تو اللہ کے حکم سے رفیق اعلیٰ سے جا ملے،دن و رات گردش کرتے رہیں،آبادیاں بڑھتی رہیں اور تدریج با تدریج لو گوں کے دلوں میں ایک اللہ کا تصور توباقی رہا مگر عمل کے میدان میں لوگ شرک ،بدعت اور ضلالت و گمراہی کے دلدل میں پھنستے چلے گئے یہاں تک کے آپ ﷺ کی بعثت کا جو اصل مقصد تھا لوگوں نے فراش کر کے آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو ہی الوہیت کے صف میں لا کر کھڑا کردیا،اور لبیک یا رسول اللہ،اغثنی یا رسول اللہ کے نارے بلند ہونے لگے اورمحبت رسول کے نام پر امت میں مختلف انواع و اقسام کے شرکیات نے رواج پا لیا اور کہیں لا علمی تو کہیں جان بوجھ کر لوگوں نے ان شرکیات و بدعات کو ہی اصل دین سمجھ لیا۔
ذیل میں ہم ان شاء اللہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کے بعض مقاصد کا تذکرہ کر رہیں ہیں ۔
پہلا مقصد : ایک اللہ کی عبادت کی دعوت : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ساری کائنات کے انسانوں اور جنوں کے لئے نبی اور رسول بنا کر مبعوث ،آپ کی بعثت جس زمانے میں ہوئی وہ زمانہ اور اس زمانے کے لوگ شرک اور ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں سرگرداں پھر رہے تھے،لہذا اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کو کلمہ لا الہ اللہ کی دعوت کا حکم دیا کہ لوگو کو اس بات سے آگاہ کر دیں کہ وہ جنکی بھی عبادتیں کر رہیں ہیں یہ سب کے سب باطل اور منگھڑت معبود ہیں ،ان کا حقیقی معبود ایک ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے،اللہ تعالیٰ نے بعثت کے اس مقصد کو قرآن مجید میں بیان کیا اور فرمایا کہ { وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنْ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ } ترجمہ : ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ( سورۃ النحل /36) اور طاغوت کا اطلاق شریعت کی اصطلاح میں ہر اس چیز پر ہے جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جائے یا ہو و چیز ہے جو اپنی عبادت کے طرف دعوت دے، اللہ تعالیٰ نے عقیدہ توحید کی دعوت کے لئے تمام انبیاء کے بعثت کا مقصد بتایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ {وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَانِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ}ترجمہ : اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو !جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے؟۔
دوسرا مقصد : تبشیر و انذار : نبی ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد یہ ہیکہ جو لوگ دعوت توحید کو قبول کر کے اللہ اور اس کے رسول کے بیان کر دہ ضوابط کے مطابق زندگی گزاریں تو ان کو آپ ﷺ اللہ کی نعمتوں والی جنت کی خوشخبری سنائیں،اور اس کے بر عکس جو لوگ آپ کی دعوت قبول نہ کریں اوراپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزارکرشرکیات و خرافات میں مبتلا رہیں ان کو آپ اللہ کے تیار کردہ عذاب سے ڈرائیں جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے {وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ }ترجمہ : ہم تو اپنے رسولوں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبریاں سنادیں اور ڈرادیں (سورۃ الکھف/56) مزید اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کو بیان کیا کہ {رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لأَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا}
ترجمہ : ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے اللہ تعالیٰ بڑٓ غالب اور بڑا با حکمت ہے۔( سورۃ النساء/165)۔
تیسرا مقصد : لوگوں کو زندگی کےبنیادی اختلاف سے نکالنے اور رضائے الہٰی کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی: اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی ہیکہ آپ نے لوگوں کے اصول زندگی میں پائے جانے والے تمام تر اختلافات کا حل وحی الہٰی کی روشنی میں پیش کیا، اور ان کو یہ بتایا کہ ان کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت ہو اور اس عبادت کے ذریعہ رضاالہیٰ مقصود ہونی چاہئے،جیساکہ جب ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں غور و فکر کریں تو اس بات کا علم ہو جائیگا کہ صحابہ کرام کی زندگی کے ہر لمحات جہاں توحید و سنت کی اتباع تھی وہیں وہ نفوس قدسیہ صرف اور صرف رضائے الہٰی کے متلاشی تھے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کی وضاحت اپنی کلام مزید میں یو ں بیان کیا کہ {وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلا لِتُبَيِّنَ لَهُمْ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ}
ترجمہ : اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ ان کے لئے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان داروں کے لئے راہنمائی اور رحمت ہے۔(سورۃ النحل/64)۔
چوتھا مقصد : لوگوں کی تعلیم اور ان کا تزکیہ نفس :آپ ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ ہیکہ اللہ رب العالمین نےجہاں آپ کو امام اعظم بنا کر مبعوث کیا وہیں آپ ﷺ کو معلم اعظم بنایا اور آپ نے لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی،ان تمام اعمال کی نشاندہی کی جو اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے والی ہیں،وہیں آپ ﷺ نے ان تمام اعمال سے امت کو آگاہ کی اجو اللہ تعالیٰ سے دور اور جہنم کے قریب کرنے والی ہے،آپ نے لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی ،اور آپ ﷺ نے کتاب و حکمت کی تعلیم کے ذریعہ لوگوں کے اندر پائے جانے والے میل کچیل سے ان کے نفس کا تزکیہ کیا اور تاریخ اس بات کی شاہد ہیکہ اس تزکیہ نفس کی وجہ سے جو قوم تاریخ کے اوراق میں سب سے پچھڑی ہوئی اور پسماندہ اور غیر مہذب تصور کی جاتی تھی وہی قوم تاریخ کے پارینہ اوراق میں دینی اور معاشرتی طور پر سب سے کامیاب لکھی گئی،اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کو قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا کہ {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيِّينَ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ}
ترجمہ : وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے،یقینا ی اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔(سورۃ الجمعۃ /2)۔
پانچواں مقصد : اقامت دین،اختلاف سے روکنے اور اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے: اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو اور بالخصوص ہمارے نبی ﷺ کو یہ ایک عظیم مشن دیکر بھیجا کہ آپ اللہ کی وحدانیت پر دین کا قیام کریں لوگوں کو اس دین کی دعوت دیں،اس دین پر مکمل عمل کرنے کی تلقین کریں،اور لوگوں کو ان کے دینی و معاشرتی تمام تر معاملات میں ہر طرح کے اختلافات سے دور رہنے کی تلقین کریں،اور جب آپسی اختلاف ہو جائے تو اللہ کی وحی کے ذریعہ فیصلہ کرکے ان اختلافات کا حل کریں کیونکہ اللہ کی وحی کے علاوہ کہیں اور سے فیصلہ کرنا طاغوت کی حاکمیت قبول کرنا ہے اور شریعت نے اسے شرک اکبر سے تعبیر کیا ہے،بعثت کی اس مقصد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان کیا کہ{شَرَعَ لَكُمْ مِنْ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ} ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دی تھا اور جو (بذریعہ وحی)ہم نے تیری طرف بھیج دی ،اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام ) کو دیا تھ اکہ اس دین کو قائک رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو(ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔(سورۃ الشوری/13)۔مزید آپ ﷺ کی بعثت کا یہ مقصد قرآن مجید ایک اور آیت کریمہ سے ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے{إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا}
ترجمہ : یقینا ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو۔(سورۃ النساء/105)۔
چھٹا مقصد : لوگ آپ کی سیرت طیبہ کو اپنے لئے اسوہ اور نمونہ سمجھیں : آپ ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہیکہ ہر مسلمان اپنی زندگی کے تمام تر مراحل میں آپ کو اپنے لئے اسوہ و نمونہ سمجھے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر آپ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں عمل پیرا ہو،کیونکہ آپ کی اتباع میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرا نی مضمر ہے،کیونکہ آپ کی اتباع و تابعداری در حقیقت اللہ کی اتباع و تابع داری ہے،لہذا ہر مسلمان کو اس بات کا عمل ہونا چاہئے کہ اس کائنات کے اندر اگر کوئی ذات ہمارے لئے اسوہ و نمونہ ہو سکتی ہے اور کسی کی اتباع و تابعداری کی جاسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ کے رسولﷺ کی ذات مبارکہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بعثت کی اس مقصد کو اپنی کتاب عزیز میں یوں بیان کیا کہ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا}
ترجمہ : یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے،ہر اس شخص کے لئےجو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ (سورۃ الأحزاب:21)۔
ساتواں مقصد : بندوں پر اقامت حجت کے لئے:اللہ رب العالمین نے نبی اکرم ﷺکو ساری کائنات کے لئے اپنا آخری نبی و رسول بنا کر مبعوث کیا ب آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول اس کائنات میں قیامت تک نہیں آنے والا اور اگر کسی نے اپنی نبوت و رسالت کا دعوہ بھی کیا تو وہ کائنات کا سب سے بڑا کذاب و دجال شمار کیا جائے گا،اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ ہیکہ آپ کو بھیج کراللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کر دیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ {لَوْلا أَرْسَلْتَ إلَيْنَا رَسُولاً فَنَتَّبِعَ آياتكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ ونَخْزَى}
ترجمہ : اے ہمارے پروردگار تونے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔(سورۃ طہ/134)،اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ایک دوسری آیت کریمہ میں بعثت کی اس مقصد کو یوں واضح کیا کہ {رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لأَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} ترجمہ : ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے اللہ تعالیٰ بڑٓ غالب اور بڑا با حکمت ہے۔( سورۃ النساء/165)۔
یہ وہ بعض مقاصد ہیں جن کےبر آوری کے لئے اللہ کے رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ ے نبوت و رسالت دیکر پوری کائنات کی طرف بھیجا ،اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھتا ہیکہ آج امت اسلامیہ کی اکثریت نبی ﷺ کی بعثت کےاہم مقاصد کو بھول چکی ہے،جس کا سب سے بڑا خسارہ آج ہم نبی کائنات کے نام پر ہونے والے بدعات و خرافات کو دیکھتے ہیں۔۔
اللہ تعالی ٰ ہم سب کو کتاب و سنت کی صحیح سمجھ دے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
شیخ اکبر حسین اورکزئی
جمعرات، 17 جون، 2021
سورۃ القمر آیت نمبر 17
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ۞
ترجمہ: اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟
تفسير :: ( ی س ر ) الیسر کے معنی آسانی ار سہولت کے ہیں یہ عسر کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے ۔ اور سختی نہیں چاہتا ۔ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق 7] خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا ۔ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف 88] بلکہ اس سے نرم بات کہیں گے ۔ فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات 3] پھر نر می سے چلتی ہیں ۔ تیسر کذا واستیسرکے معنی آسان ہو نیکے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة 196] اگر رستے میں روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو کردو ۔ فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل 20] تو جتنا آسانی سے ہو سکے پڑھ لیا کرو ۔ اسی سے الیسرت المرءۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی عورت کے سہولت سے بچہ جننے کے ہیں ۔ یسرت کذا کے معنی کسی کام آسان اور سہل کردینے کے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر 17] اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ۔ فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم 97] اے پیغمبر یہ قران تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ہے ۔ الیسری اسم بمعنی یسر قرآن پاک میں ہے : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل 7] اس کو ہم آسان طریقے کی توفیقی دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل 10] اسے سختی میں پہنچا ئنگے ۔ میں عسریٰ کے ساتھ تیسیر کا لفظ بطور تحکم لایا گیا ہے جس طرح کہ آیت : ۔ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران 21] میں عذاب کے متعلق بشارت کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن پاک میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً
اخوکم فی اللہ : اکبر حسین اورکزئی راونڈا افریقہ
18 جون 2021