اتوار، 16 جنوری، 2022

مسلم شریف حدیث نمبر 7035 کی تشریح

 

الحمد لله وكفى والصلاة والسلام على النبي المصطفى  وعلى آله وصحبه ومن اقتفى هديه ثم أمّا بعد

سوال : مسلم شریف میں حدیث ہے کہ   (عن)حُذَيْفَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا فِيهِمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ثَمَانِيَةٌ مِنْهُمْ تَكْفِيكَهُمُ الدُّبَيْلَةُ وَأَرْبَعَةٌ لَمْ أَحْفَظْ مَا قَالَ شُعْبَةُ فِيهِمْ . مسلم 7035

اس حدیث میں اصحابی(یعنی میرے صحابہ میں ) کیا صحابہ کرام میں منافقین بھی تھے ؟ کچھ لوگ اس حدیث کو لے کر صحابہ کرام پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں ، حدیث کی تشریح فرماکر ممنون فرمائیں .

الجواب : حدیث کو سمجھنے کے لئے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ صحابی کسے کہتے ہیں اس کی تعریف کیا ہے ۔

تو جان لیں کہ صحابی کی ایک تعریف شرعی ہے اور    دوسری عرفی ۔

صحابی کی تعریف شرعی : حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی مشہور کتاب “الإصابة في تمييز الصحابة” میں “صحابی” کی تعریف یوں کی ہے : الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم  مؤمنا به ، ومات على الإسلام.

صحابی اسے کہتے ہیں جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی فوت ہوا۔

پھر درج بالا تعریف کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمة اللہ مزید کہتے ہیں :

فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ، | ومن روى عنه أو لم يرو ، ومن غزا معه أو لم يغز ، ومن رآه رؤية ولو لم يجالسه ،  ومن لم يره لعارض كالعمى . ويخرج بقيد الإيمان من لقيه كافرا ولو أسلم بعد ذلك إذا لم يجتمع به مرة أخرى .

ترجمہ :  اس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کو مانتا تھا پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ گئی خواہ وہ زیادہ عرصہ تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت میں رہا، یا کچھ عرصہ کے لیے خواہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہوخواہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو خواہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا (بصارت نہ ہونے کے سبب) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دیدار نہ کر سکا ہو ہر دو صورت میں وہ “صحابئ رسول” شمار ہوگا۔ اور ایسا شخص “صحابی” متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔

بحوالہ:الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8

فضائل اصحاب النبی (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے ضمن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

عن عبد الله بن عمر، قال: من كان مستناً فليسن. ممن قد مات، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوباً، وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم أختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه، فتشبهوا بأخلاقهم وطرائقهم فهم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا على الهدى المستقيم. حلية الأولياء لأبي نعيم ، ج:1 ، ص:164)

ترجمہ :  اگر کوئی شخص اقتداء کرنا چاہتا ہو تو وہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ، وہ امت کے سب سے بہتر لوگ تھے ، وہ سب سے زیادہ پاکیزہ دل والے ، سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت کے لیے ، اور آنے والی نسلوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے چُن لیا تھا ، اس لیے تم انہی کے طور طریقوں کو اپناؤ ، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی تھے ، اور صراط مستقیم پر گامزن تھے۔

بحوالہ :  حلية الأولياء لأبي نعيم ، ج:1 ، ص:164)

اس تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ : ایسا شخص “صحابی” متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔ بحوالہ : الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8

صحابی کی عرفی تعریف : اس سے مراد یہ ہے کہ عرف عام میں کسی کو صاحب یا صاحبی کے لقب سے یاد کیا جائے  اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان اصحاب رسول ﷺ میں سے ہیں .

جیسا کہ بخاری ہی کی ایک روایت میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے “صحابی” کے الفاظ استعمال کیا ہے  ۔ واقعہ یوں ہے  …..

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ، ہم ایک غزوہ ( تبوک ) میں تھے ۔ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو لات ماردی ۔ انصاری نے کہا کہ یا للانصار یعنی اے انصاریو ! دوڑو اور مہاجر نے کہا یا للمھاجرین یعنی اے مہاجرین ! دوڑو ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنا اور فرمایا کیا قصہ ہے ؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو لات سے مار دیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی نے بھی یہ بات سنی تو کہا اچھا اب یہاں تک نوبت پہنچ گئی ۔ خدا کی قسم ! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ

جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال کر باہر کردے گا ۔ اس کی خبر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی ۔ (فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ   مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کو ختم کردوں ۔

فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ . البخاري . 4905

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا   اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے (صحابہ)ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں ۔  بخاری

اس روایت میں “أَصْحَابَهُ” سے مراد شرعی صحابی نہیں بلکہ عرفاً صحابی مراد ہے۔ ورنہ عبد اللہ بن ابی بن سالول کو کون نہیں جانتا کہ وہ صرف منافق ہی نہیں بلکہ رائیس المنافقین ہے  .

قرآن کریم میں خود رسول اکرم ﷺ کو مکہ والوں کا صاحب (ساتھ رہنے) والا کہا گیا ہے :

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ ‘‘

کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے [ضد چھوڑ کر] دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، سورۃ سبا ۴۶

تو صرف مکہ میں ایک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے سبب پیغمبر اکرم ﷺ کو ان کا ساتھی (صاحب ) کہا گیا ،

اور اسلئے بھی (صاحب ) کہا کہ اتنے طویل عرصہ جس کے ساتھ رہتے ہو اس کی صداقت و عدالت اور اخلاق کو تم خوب پہچانتے ہو، چالیس سال سے جو آدمی تمہارے ساتھ اتنے اعلی اخلاق کا نمونہ بن کر زندگی گزارتا رہا تم اسے (عقل وخرد سے عاری ) کیسے قرار دے سکتے ہو ،

اب کون اس آیت میں وارد لفظ (صاحب ) جس سے صحابی بنتا ہے اس کی بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ تو مکہ والوں کے صحابی ہیں ؟

ابھی ہم مسلم شریف کی حدیث کی طرف آتے ہیں ، جس میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے :

في أصحابي اثنا عشر منافقاً لا يدخلون الجنة، ولا يجدون ريحها. رواه مسلم

میرے ساتھیوں میں 12 منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے .صحيح مسلم ، كتاب صفات المنافقين وأحكامهم.

بھلا بتائیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی نبی سے ایسی بیشمار متواتر روایات منقول ہوں جن میں صحابہ کرام کے فضائل بیان کئے گئے حتیٰ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تک کہے کہ :

لا تسبوا أصحابي . میرے صحابہ کو برا نہ کہو. صحيح بخاری ، كتاب فضائل الصحابة

کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو اپنے صحابہ کو برا نہ کہنے کی نصیحتیں کرتا ہے ، وہ خود اپنے صحابہ کو منافق کہے؟؟ اور یہ کہے کہ وہ جنت میں نہیں جائیں گے؟؟

یا تو ان روایات کو جھوٹ ماننا ہوگا یا پھر کوئی تطبیق دینی ہوگی۔

ان روایات کو اہل سنت والجماعت جھوٹ قطعاً نہیں کہتے بلکہ ان جیسے روایات کی تطبیق کرتے ہیں ،لہذا ہمارے علماء و ائمہ ومحدثین نے یہی تطبیق دی ہے کہ :

متذکرہ منافقین عرفاً نبی کے ساتھی تھے [یعنی کہ بالکل ویسے ہی جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کو نبی نے اپنے “أصحابي” میں شمار کیا]، اصطلاحی و شرعی معنوں میں وہ “صحابی” نہیں تھے ، کیونکہ صحابی کی اجماعی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ وفات “ایمان” پر ہوئی ہو!

اور جن منافقین کو اللہ تعالیٰ خود کہہ چکا ہے کہ وہ “مرتد” ہو چکے ، وہ بھلا کس طرح “صحابی” کی تعریف میں شمار ہو سکتے ہیں؟؟

اس  حدیث میں وارد لفظ «في أصحابي اثنا عشر منافقا » سے مراد انصار و مہاجرین کے مخلصین نہیں ، جن کی تعریف و مدح میں قرآن کریم کی آیات وارد ہیں ‘‘

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورۃ التوبۃ 100)

علامہ النووی ؒ اس حدیث کے تحت شرح میں لکھتے ہیں :​

(أما قوله صلى الله عليه وسلم في أصحابي فمعناه الذين ينسبون إلى صحبتي كما قال فى الرواية الثانية فى أمتى )

نبی مکرم ﷺ نے جو فرمایا کہ میرے صحابہ سے بارہ منافق ہیں ،تو اس کا مطلب صرف صحبت سے منسوب ہونا ہے (نہ کہ اصل صحابی ) جیسے دوسری سند سے یہاں لفظ ( میری امت سے ) ہے ‘‘

یعنی یہاں صحابی کے لفظ سے مراد سچے اور عادل صحابہ نہیں ، بلکہ اس دور میں اسلام سے منسوب ،اور ایمان کا دعوی رکھنے والے منافقین ہیں ،

نوٹ : اس کی وضاحت ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جو مسلم شریف میں ٹھیک اس کے بعد ہے .

حَدَّثَنِي حُذَيْفَةُ وَقَالَ غُنْدَرٌ أُرَاهُ قَالَ فِي أُمَّتِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدُونَ رِيحَهَا حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ . رواه مسلم

میری امت میں بارہ منافق ہیں، وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے اور نہ اس کی خوشبو پائیں گے، جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے. صحیح مسلم حدیث نمبر: 7036 . کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام .

صحیح مسلم کی پہلی روایت کہ جس میں فِي أَصْحَابِي کے الفاظ ہیں، کو اسود بن عامر نے شعبہ سے بیان کیا ہے۔ اور صحیح مسلم کی دوسری روایت کہ جس میں فِي أُمَّتِي کے الفاظ ہیں، کو غندر محمد بن جعفر نے شعبہ سے نقل کیا ہے۔ شعبہ کے بعد سند ایک ہی ہے۔

تو اب سوال یہ ہے کہ جب دو راویوں نے شعبہ سے روایت میں اختلاف کیا ہے تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کس راوی نے شعبہ کے بیان کو زیادہ محفوظ رکھا ہے۔ تو یہ واضح رہے کہ اسود بن عامر، شعبہ کے عام شاگردوں میں سے ایک ہیں جبکہ غندر محمد بن جعفر، شعبہ کے خاص ترین شاگرد ہیں۔ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ غندر نے بیس سال شعبہ سے علم حاصل کیا۔ امام عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ اگر شعبہ سے روایت میں اختلاف ہو جائے تو غندر کی روایت کو فیصلہ کن سمجھو۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ غندر، امام شعبہ کے ربیب ہیں یعنی ان کی بیوی کے بیٹے ہیں۔ دوسرا غندر کو یہ بھی ترجیح حاصل ہے کہ وہ احادیث لکھ لیتے ہیں بلکہ امام ذہبی کے بقول لکھنے میں أصح الناس كتابا تھے یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح لکھنے والے۔ اور شعبہ سے انہوں نے بہت احادیث لکھی ہیں۔

خلاصہ کلام:

مندرجہ بالا  حدیث میں متذکرہ منافقین عرفاً نبی کے ساتھی تھے، شرعا نھیں [یعنی کہ بالکل ویسے ہی جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول کو نبی نے اپنے “أصحابي” میں شمار کیا]، اصطلاحی و شرعی معنوں میں وہ “صحابی” نہیں تھے ، کیونکہ صحابی کی اجماعی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ وفات “ایمان” پر ہوئی ہو!

اس تفصیل سے واضح ہوا کہ مسلم  شریف  روایت میں "اصحابی” سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی پاکیزہ جماعت ہرگز مراد نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی پاکیزہ جماعت کا کوئی فرد مرتد نہیں ہوا ، اور اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کے ایمان کو "معیارحق "اوران کے ایمان کو امت مسلمہ کےایمان کی کسوٹی قراردیا اور جناب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی ساری جماعت کو بلااستثناء آسمان ہدایت کے ستارے فرمایا اور ان کے بارے میں زبان درازی سے منع فرمایا۔

اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی صحابہ کرام کی ایمان کو معیار بنا کر دعوت دیں کی اس طرح ایمان لے ائیں  جیسا کہ سورۃ البقرۃ 137 میں ہے

فَإِنْ ءَامَنُواْ بِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهْتَدَواْ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا هُمْ فِى شِقَاقٍۢ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ.

اصل واقعہ کیا ہے ۔

یہ واقعہ معجم طبرانی میں اور مسند البزار ولید بن جمیع کی سند سے آیا ہے

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ فَلَا تَأْخُذُوهَا فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقَبَةِ، وَعَمَّارٌ يَسُوقُ، وَحُذَيْفَةُ يَقُودُ بِهِ فَإِذَا هُمْ بِرَوَاحِلَ عَلَيْهَا قَوْمٌ مُتَلَثِّمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُدْ قُدْ، وَيَا عَمَّارُ سُقْ سُقْ» ، فَأَقْبَلَ عَمَّارٌ عَلَى الْقَوْمِ فَضَرَبَ وُجُوهَ رَوَاحِلِهِمْ فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَقَبَةِ قَالَ: ” يَا عَمَّارُ، قَدْ عَرَفْتُ الْقَوْمَ، أَوْ قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الْقَوْمِ أَوِ الرَّوَاحِلِ أَتَدْرِي مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ “، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے کہا جب جنگ تبوک ہوئی اپ صلی الله علیہ وسلم نے منادی کا حکم دیا کہ وہ گھاٹی میں سے جائیں گے کوئی اور اس میں سے نہ گزرے پس اپ گھاٹی میں سے گزرے اور عمار اونٹنی ہانک رہے تھے اور اس کی نکیل پکڑے تھے کہ ایک قوم ڈھاٹے باندھے آئی پس رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمار کو حکم کیا پس عمار آگے بڑھے اور ان کے چہروں پر ضربیں لگائیں نکیل سے پس جب اس گھاٹی سے اترے اپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے عمار کیا تم ان کو جانتے ہو؟ یہ کیا چاہتے تھے ؟ میں نے کہا الله اور اس کا رسول جانتے ہیں فرمایا یہ ہمیں (گھاٹی میں ) دھکیلنا چاہتے تھے.

صفی الرحمٰن مبارکپوری نے اپنی کتاب ” الرحیق المختوم ” میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے

اسلامی لشکر تبوک سے مظفر و منصور واپس آیا ۔ کوئی ٹکر نہ ہوئی ۔ اللہ جنگ کے معاملے میں مومنین کے لیے کافی ہوا ۔ البتہ راستے میں ایک جگہ ایک گھاٹی کے پاس بارہ منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے گزر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے جو اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تھے جو اونٹنی ہانک رہے تھے ۔ باقی صحابہ کرام دور وادی کے نشیب سے گزر رہے تھے اس لیے منافقین نے اس موقع کو اپنے ناپاک مقصد کے لیے غنیمت سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قدم بڑھایا ۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھی حسب معمول راستہ طے کررہے تھے کہ پیچھے سے ان منافقین کے قدموں کی چاپیں سنائی دیں ۔ یہ سب چہروں پہ ڈھاٹا باندھے ہوئے تھے اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تقریباً چڑھ ہی آئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب بھیجا ۔ انہوں نے ان کی سواریوں کے چہروں پر اپنی ایک ڈھال سے ضرب لگانی شروع کی ، جس سے اللہ نے انہیں مرعوب کردیا اور وہ تیزی سے بھاگ کر لوگوں میں جا ملے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام بتائے اور ان کے ارادے سے باخبر کیا اسی لیے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’ رازدان ‘‘ کہا جاتا ہے ۔

اسی واقعہ سے متعلق اللہ کا یہ ارشاد نازل ہوا کہ ’’ وَھَمُّوْا بِمَا لَم یَنَالُوْا.  ( التوبۃ-74) انہوں نے اس کام کا قصد کیا جسے وہ نہ پا سکے .

(وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا)  سے متعلقہ سبب نزول معلوم کیجیے اور وہ یہ ہے کہ منافقین میں سے بارہ آدمی تبوک کے راستہ میں ایک گھاٹی پر ٹھہر گئے۔ انہوں نے یہ مشورہ کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزریں گے تو اچانک رات کی اندھیری میں آپ پر حملہ کر کے آپ کو شہید کردیں گے۔ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے آپ کو ان کی نیتوں کا حال بتادیا اور عرض کیا کہ ان لوگوں کے پاس کسی شخص کو بھیج دیں جو ان کا رخ دوسری طرف کو موڑ دے۔ آپ نے حضرت حذیفہ ؓ کو اس کام کے لیے بھیج دیا۔ صاحب معالم التنزیل (ص 312 ج 2) نے بالا جمال یہ واقعہ اسی طرح نقل کیا ہے لیکن صاحب روح المعانی (ص 139 ج 10) نے بیہقی کی دلائل النبوۃ سے قدرے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور وہ یہ کہ حضرت حذیفہ ؓ نے بیان کیا کہ جب آنحضرت سرور عالم ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس ہو رہے تھے تو میں آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑے ہوئے آگے آگے چل رہا تھا اور عمار پیچھے پیچھے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب ایک گھاٹی آگئی تو وہاں بارہ آدمیوں کو پایا جو سواریوں پر سوار تھے اور انہوں نے راستہ روک رکھا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بات بتادی آپ نے جو زور سے آواز دی تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے پہچانا کہ یہ کون لوگ تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نہیں پہچان سکے۔ کیونکہ یہ لوگ چہروں پر کپڑے باندھے ہوئے تھے۔ البتہ ہم نے ان کی سواریوں کو پہچان لیا۔ آپ نے فرمایا یہ لوگ منافق تھے جو قیامت تک منافق ہی رہیں گے۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ان کا کیا ارادہ تھا ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ! فرمایا ان کا ارادہ یہ تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کو گھاٹی میں نیچے گرا دیں۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ان کے قبیلوں کے پاس یہ حکم نہیں بھیجتے کہ ان میں سے ہر ایک کا سر کاٹ کر بھیج دیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات گوارا نہیں ہے کہ اہل عرب یوں باتیں کریں کہ محمد ﷺ نے ایک قوم کو ساتھ لے کر قتال کیا یہاں تک کہ جب اللہ نے آپ کو غلبہ دے دیا تو ان لوگوں کو قتل کرنے لگے جو جہادوں میں ساتھ تھے۔ منافقین کی نیتوں اور حرکتوں کو ان الفاظ میں بیان فرمایا (وَ ھَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا) (انہوں نے اس چیز کا ارادہ کیا جس میں کامیاب نہ ہوئے)

اور طبرانی میں ان کے نام بھی موجود ہیں ،  وترجم الطبراني في مسند حذيفة 33017 

تسمية أصحاب العقبة ثم روى عن علي بن عبد العزيز عن الزبير بن بكار أنه قال هم :

1 معتب بن قشير . 2 ديعة بن ثابت . 3 جد بن عبد الله بن نبتل بن الحارث من بني عمرو بن عوف. 4 الحارث بن يزيد الطائي . 5 أوس بن قيظي . 6 الحارث بن سويد . 7 سعد بن زرارة. 8 قيس بن فهد . 9 سويد بن داعس من بني الحبلي. 10 قيس بن عمرو بن سهل
11 زيد بن اللصيت . 12 سلالة بن الحمام وهما من بني قينقاع.

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین میں صحیح سمجھ عطا فرمائے .

واللہ اعلم بالصواب

شیخ اکبر حسین اورکزئی

بدھ، 30 جون، 2021

وضو تیمم غسل اور نماز کے ضروری مسائل

 وضو کے فرائض: وضو میں چار فرض ہیں، جن میں سے اگر ایک بھی چھوٹ جائے تووضو نہیں ہوگا۔1) پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی کے نیچے تک ، اور دونوں کان کی لو تک چہرا دھونا۔2) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا۔3) چوتھائی سر کا مسح کرنا۔4) دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔

وضو کی سنتیں: سنت چھوڑنے سے وضو تو ہوجاتا ہے مگر ثواب کم ملتا ہے۔ (1) نیت کرنا۔ (۲) شروع میں بِسْمِ اللّہِ پڑھنا۔ (۳) پہلے تین بار دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا۔ (۴) تین بار کلی کرنا۔ (۵) مسواک کرنا۔ (۶) تین بار ناک میں پانی ڈالنا۔ (۷) تین بار چہرا دھونا۔ (۸) تین بار کہنیوں سمیت دونوں بانھیں دھونا۔ (۹) سارے سر کا اور کانوں کا مسح کرنا۔ (۱۰) ڈاڑھی اور انگلیاں کا خلال کرنا۔ (۱۱) لگاتار اس طرح دھونا کہ پہلا حصہ خشک نہ ہو نے پائے کہ دوسرا حصہ دھل جائے۔ (۱۲) ترتیب وار دھونا کہ پہلے چہرہ دھوئیں، پھر کہنیوں سمیت ہاتھ دھوئیں، پھر سر کا مسح کریں، پھر پاؤں دھوئیں۔

وضو کے مستحبات: یعنی جن چیزوں کا کرنا باعث ثواب ہے۔ (1) قبلہ رخ ہوکر بیٹھنا۔ (۲) پاک اور اونچی جگہ پر بیٹھ کر وضو کرنا۔ (۳) داہنی طرف سے شروع کرنا۔ (۴) دوسرے سے حتی الامکان مدد نہ لینا۔ (۵) بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پینا۔

مکروہاتِ وضو: یعنی جن امور سے آپ کو حتی الامکان بچنا چاہئے۔ (1) ناپاک جگہ پر وضو کرنا۔ (۲) سیدھے ہاتھ سے ناک صا ف کرنا۔ (۳) پانی زیادہ بہانا۔ (۴) وضو کرتے وقت دنیا کی باتیں کرنا۔ (۵) خلافِ سنت وضو کرنا۔ (۶) زور سے چھپکے مارنا۔

نواقصِ وضو: یعنی جن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔(1) پاخانہ یا پیشاب کرنا۔ (۲) ہوا خارج ہونا۔ (۳) بدن کے کسی حصہ سے خون یا پیپ نکل کر بہہ جانا۔ (۴) منہ بھر کے قے ہونا۔ (۵) ٹیک لگاکر یا لیٹ کر سوجا نا۔ (۶) نشہ میں مست یا بے ہوش ہوجانا۔ (۷) رکوع سجدہ والی نماز میں قہقہہ مارکر ہنسنا۔

غسل کے فرائض: غسل میں تین فرض ہیں، جن میں سے اگر ایک بھی چھوٹ جائے تو غسل نہیں ہوتا۔1) خوب حلق تک پانی سے منہ بھر کر کلّی کرنا۔2) ناک میں سانس کے ساتھ پانی چڑھانا جہاں تک نرم جگہ ہے۔3) تمام بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر بھی جگہ سوکھی نہ رہ جائے۔

غسل کی سنتیں: سنت چھوڑنے سے غسل تو ہوجاتا ہے مگر ثواب کم ملتا ہے۔(1) دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا۔ (۲) ظاہری ناپاکی دور کرنا اور استنجا کرنا۔ (۳) غسل کی نیت کرنا۔ (۴) وضو کرنا۔ (۵) بدن کو ملنا۔ (۶)سارےبدن پر تین بار پانی بہانا۔

غسل کے مکروہات: یعنی جن امور سے آپ کو حتی الامکان بچنا چاہئے۔ 1) پانی بہت زیادہ استعمال کرنا۔ (۲) اتنا کم پانی لینا کہ اچھی طرح غسل نہ کرسکیں۔3) ننگا ہونے کی حالت میں غسل کرتے وقت کسی سے بات چیت کرنا۔ 

تیمم کے فرائض اور طریقہ۔۔۔ تیمم میں تین فرض ہیں: 1) نیت کرنا۔2) دونوں ہاتھ مٹی پر مارکر پورے چہرے پر پھیرنا۔3) دونوں ہاتھ مٹی پر مارکر  کہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کو ملنا۔بیماری اور پانی نہ ملنے کی صورت میں وضو کی جگہ تیمم کرلینے کا حکم ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ اوّل ناپاکی دور کرنے کی نیت کریں ۔ پھر پاک مٹی یا ایسی چیز پر جو مٹی کے حکم میں ہو  دونوں ہاتھ مارکر ایک بار اپنے چہرے پر پھیر لیں، پھر دوسری مرتبہ پاک مٹی پر ہاتھ مارکر دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت ملیں۔

پانچوں نمازوں کے اوقات۔۔۔ نمازِ فجر:صبح صادق سے  سورج کے طلوع ہونے تک۔۔۔ نمازِ ظہر: زوالِ آفتاب سے  نمازِ عصر کا وقت شروع ہونے تک۔۔۔ نمازِ عصر: جب ہر چیز کا سایہ اصلی سایہ کے علاوہ دو مثل ہوجائے تو ظہر کا وقت ختم ہوکرعصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے  اور غروبِ آفتاب تک رہتا ہے۔۔۔نمازِ مغرب: غروبِ آفتاب سے  تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک۔مغرب کی نماز کی ادائیگی میں زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔۔۔نمازِ عشا: سورج چھپنے کے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد سے صبح صادق تک۔آدھی رات کے بعد عشا کی نماز کے لئے مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے۔

پانچوں نمازوں کی رکعات۔۔۔ نمازِ فجر کی چار رکعات: پہلے دو سنتیں ، پھر دو فرض۔۔۔ نمازِ ظہر کی بارہ رکعات: پہلے چار سنتیں، پھر چار فرض، پھر دو سنتیں، پھر دو نفل۔۔۔نمازِ عصر کی آٹھ رکعات: پہلے چار سنتیں غیر مؤکدہ ، پھر چار فرض ۔۔۔ نمازِ مغرب کی سات رکعات: پہلے تین فرض، پھر دو سنتیں، پھر دو نفل۔۔۔ نمازِ عشا کی سترہ رکعات: پہلے چار سنتیں غیر مؤکدہ ، پھر چار فرض، پھر دو سنتیں،پھر دو نفل، پھر تین وتر، اور دو نفل۔ دن رات میں کل ۱۷ رکعات فرض، ۳ وتر، ۱۲ رکعات سنن مؤکدہ، ۸ رکعات سنن غیر مؤکدہ ہیں۔

مسئلہ: جمعہ کے دن ظہر کے وقت ظہر کی نماز کے بجائے نمازِ جمعہ (دو فرض امام کے ساتھ) ادا کی جائے گی۔ نمازِ جمعہ عورتوں پر فرض نہیں ہے لہذا وہ اس کی جگہ نمازِ ظہر ادا کریں۔اگر کسی شخص نے جمعہ کی نماز  امام کے ساتھ نہیں پڑھی تو اس کی جگہ نمازِ ظہر (چار رکعات) ادا کرے، ہاں اگر مسافر ہو تو دو رکعت ظہر کی ادا کرے۔نماز جمعہ کی ۱۴ رکعات اس طرح ہیں: پہلے ۴ سنتیں، پھر ۲ فرض، پھر ۴ سنتیں، پھر ۲ سنتیں، پھر ۲ نفل۔

مسئلہ: نفل اور غیر مؤکدہ سنتوں کا حکم یہ ہے کہ پڑھنے پر ثواب ملے گا، اور نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں، البتہ سنن مؤکدہ کو عذر کے بغیر نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ احادیث میں ان کی خاص تاکید اور اہمیت وارد ہوئی ہے۔

نماز کے شرائط وفرائض اور واجبات۔۔۔ 

شرائطِ نماز: 1) بدن کا پاک ہونا۔2) کپڑوں کا پاک ہونا۔3) ستر کا چھپانا۔ مردوں کو ناف سے گھٹنوں تک، اور عورتوں کو چہرہ ، ہاتھوں اورقدموں کے علاوہ تمام بدن کا ڈھانکنا فرض ہے۔4) نماز پڑھنے کی جگہ کا پاک ہونا۔ 5) نماز کا وقت ہونا۔6) قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ 7) نماز کی نیت کرنا۔

فرائض وارکانِ نماز:1) تکبیر تحریمہ۔ 2) قیام یعنی کھڑا ہوا۔3) قراء ت یعنی ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا۔4) رکوع کرنا۔ 5) سجدہ کرنا۔6) قعدہ اخیرہ کرنا۔ 7) اپنے ارادہ سے نماز ختم کرنا (یعنی سلام پھیرنا) ۔۔۔اگر ان شرائط اور فرائض میں سے کوئی ایک چیز بھی جان کر یا بھول کر رہ جائے تو نماز ادا نہیں ہوگی۔

واجباتِ نماز: 1) الحمد پڑھنا۔ 2) الحمد کے ساتھ کوئی سورت ملانا۔3) فرضوں کی پہلی دو رکعت میں قراء ت کرنا۔4) الحمد کو سورت سے پہلے پڑھنا۔5) رکوع کرکے سیدھا کھڑا ہونا۔ 6) دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا ۔7) پہلا قعدہ کرنا۔ 8) التحیات پڑھنا۔9) لفظ سلام سے نماز ختم کرنا۔ 10) ظہر اور عصر میں قراء ت آہستہ پڑھنا۔11) امام کے لئے مغرب وعشاء کی پہلی دو رکعتوں، اور فجر وجمعہ وعیدین اور تراویح کی سب رکعتوں میں قراء ت بلند آواز سے پڑھنا۔۔۔ان مذکورہ واجبات میں سے اگر کوئی واجب بھول کر چھوٹ جائے تو سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا۔ اور قصداً چھوڑدینے سے نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہوتا ہے۔

نماز کی سنتیں: یہ امور نماز میں سنت ہیں، جن کے ترک کرنے پر نماز تو ادا ہوجائے گی مگر ثواب میں کمی ہوگی۔۔۔1) تکبیر تحریمہ کے وقت مردوں کو دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھانا اور عورتوں کو سینے تک اٹھانا۔2) مردوں کو ناف کے نیچے اور عورتوں کو سینے پر ہاتھ باندھنا۔2) ثنا یعنی سُبْحَانَکَ اللّهُمَّ آخر تک پڑھنا۔4) اَعُوذُ بِالله مِنَ الشَّيْطَانِ الرّجِيْم پڑھنا۔5) بِسْم اللّہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيْم پڑھنا۔6) ایک رکن سے دوسرے رکن کو منتقل ہونے کے وقت اللہ اکبر کہنا۔7) رکوع میں سُبْحَانَ رَبّیَ الْعَظِيْم کم از کم تین مرتبہ کہنا۔8) رکوع سے اٹھتے ہوئے سَمِعَ اللّہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور رَبّنَا لَکَ الْحَمْدکہنا۔9) سجدہ میں کم از کم تین مرتبہ سُبْحَانَ رَبّیَ الاعْلیٰ کہنا۔10) دونوں سجدوں کے درمیان اور التحیات کے لئے مردوں کو بائیں پاؤں پر بیٹھنا اور سیدھا پاؤں کھڑا کرنا، اور عورتوں کو دونوں پاؤں سیدھی طرف نکال کر کولھوں پر بیٹھنا۔11) درود شریف پڑھنا۔12) درود کے بعد دعا پڑھنا۔13) سلام کے وقت دائیں اور بائیں طرف منہ پھیرنا۔14) سلام میں فرشتوں ، مقتدیوں اور نیک جنات جو حاضر ہیں ان کی نیت کرنا۔

نماز کے مستحبات: 1) اگر چادر اوڑھے ہو تو کانوں تک ہاتھ اٹھانے کے لئے مردوں کو چادر سے ہاتھ نکالنا۔2) جہاں تک ممکن ہو کھانسی کو روکنا۔3) جمائی آئے تو منہ بند کرلینا۔4) کھڑے ہونے کی حالت میں سجدہ کی جگہ اور رکوع میں قدموں پر اور سجدہ میں ناک پر اورقعدہ میں گود میں اور سلام کے وقت کاندھوں پر نظر رکھنا۔

مکروہاتِ نماز:یہ چیزیں نماز میں مکروہ ہیں۔۔۔ 1) کپڑا سمیٹنا۔2) جسم یا کپڑے سے کھیلنا۔3) انگلیاں چٹخانا۔4) دائیں یا بائیں طرف گردن موڑنا۔5) انگڑائی لینا۔6) مرد کو سجدہ میں کہنیوں سمیت کلائیاں زمین پر بچھانا۔7) سجدے میں (مردوں کے لئے) پیٹ کو رانوں سے ملانا۔8) بغیر عذر کے چاروں زانو(پالتی مارکر) بیٹھنا۔9) امام کا محراب کے اندر کھڑے ہوکر نماز پڑھانا۔10) صف سے علیحدہ تنہا کھڑا ہونا۔11) سامنے یا سر پر تصویر ہونا۔12) تصویر والے کپڑوں میں نماز پڑھنا۔13) کندھوں پر چادر یا کوئی کپڑا لٹکانا۔14) پیشاب یا پاخانہ یا زیادہ بھوک کا تقاضی ہوتے ہوئے نماز پڑھنا۔15)سر کھول کر نماز پڑھنا ۔ یہ کراہت مردوں کے لئے ہے۔خواتین کا پورے سر کو ڈھانکنا ضروری ہے۔16) آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا۔

نماز پڑھنے کا طریقہ:  نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پاک کپڑے پہن کر پاک جگہ پر باوضو قبلہ کی طرف منہ کرکے اس طرح کھڑے ہوں کہ دونوں قدموں کے درمیان چار انگل یا اس کے قریب قریب فاصلہ رہے، اور نماز کی نیت کرکے دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائیں اور اللہ اکبر کہہ کر ہاتھوں کو ناف کے نیچے باندھ لیں۔ داہنا ہاتھ اوپر اور بایاں ہاتھ اس کے نیچے رہے، اور نظر سجدہ کی جگہ پر رکھیں۔نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھیں۔ ادب سے کھڑے رہیں۔ صرف اللہ تعالی کی طرف دھیان رکھیں۔ ہاتھ باندھ کر ثنایعنی سُبْحَانَکَ اللّهمّ۔۔۔۔ آخر تک پڑھیں۔ پھر تعوذ یعنی اَعُوذُ بِالله مِنَ الشّيْطَانِ الرّجِيْم اور پھر تسمیہ یعنی بِسْمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحِيْم پڑھ کر الحمد شریف (سورۃ الفاتحہ) پڑھیں۔ الحمد شریف ختم کرکے آہستہ سے آمین کہیں۔ پھر کوئی سورت یا چند آیات پڑھیں۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع کے لئے جھکیں، رکوع میں دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لیں۔ رکوع کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ رَبّیَ الْعَظِيْم تین یا پانچ یا سات مرتبہ پڑھیں، پھر تسمیع یعنی سَمِعَ اللّه لِمَنْ حَمِدَہکہتے ہوئے سیدھے کھڑے ہوجائیں، اس کے بعد تحمید یعنی رَبّنَا لَکَ الْحَمْد پڑھیں، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں اس طرح جائیں کہ پہلے دونوں گھٹنے زمین پر رکھیں، پھر دونوں ہاتھ رکھیں پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں پہلے ناک ، پھر پیشانی زمین پر رکھیں، پھر سجدے کی تسبیح یعنی سُبْحَانَ رَبّیَ الاعْلیٰ تین یا پانچ یا سات مرتبہ پڑھیں۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے اٹھیں اور بیٹھ جائیں۔ پھر تکبیر کہتے ہوئے دوسرے سجدہ میں جائیں اور اسی طرح سجدہ کریں جیسا ابھی بتایا، دونوں سجدوں تک ایک رکعت پوری ہوگئی۔

اب تکبیر یعنی اللہ اکبر کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوجائیں، صرف بسم اللہ پڑھ کر الحمد شریف پڑھیں، اس کے بعد کوئی سورت یا چند آیات پڑھیں۔ پھر رکوع ، قومہ اور دونوں سجدے کرکے بیٹھ جائیں، اور پہلے تشہد یعنی التحیات پھر درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیردیں، پہلے داہنی طرف پھر بائیں طرف۔ یہ دو رکعت نماز پوری ہوگئی۔

اگر تین یا چار رکعت والی نماز پڑھنی ہو تو دو رکعت پر بیٹھ کر صرف التحیات پڑھیں۔ اس کے بعد فوراً تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیں۔ بسم اللہ اور الحمد شریف پڑھ کر رکوع وسجدے کریں۔ اگر تین رکعت پڑھنا ہو تو بیٹھ کر التحیات درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ اور اگر چار رکعت پڑھنا ہو تو تیسری رکعت پڑھ کر نہ بیٹھیں بلکہ تیسری رکعت کے دونوں سجدے کرکے سیدھے کھڑے ہوجائیں اور چوتھی رکعت یعنی بسم اللہ اور الحمد شریف پڑھ کر  رکوع اور سجدے کرکے بیٹھ جائیں اور التحیات پھر درود شریف اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیر دیں۔

مسئلہ: نفل نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی الحمد شریف کے بعد کوئی سورت یا چند آیات پڑھیں کیونکہ فرض نمازوں کے علاوہ ہر نماز کی ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد سورت یا چند آیات پڑھنا واجب ہے۔

مسئلہ: اگر امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں تو تکبیر تحریمہ کے بعد ثنا کے علاوہ کچھ نہ پڑھیں۔ تعوذ، تسمیہ، الحمد شریف اور سورت صرف امام پڑھے گا۔ اسی طرح دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی امام کے پیچھے خاموش کھڑے رہیں، ہاں رکوع سجدہ کی تسبیح اور التحیات ودرود شریف اور اس کے بعد والی دعا امام کے پیچھے بھی پڑھیں۔

مسئلہ: رکوع اس طرح کرنا چاہئے کہ کمر اور سر برابر رہیں یعنی سر نہ کمر سے اونچا رہے نہ نیچا ہوجائے اور دنوں ہاتھ پسلیوں سے علیحدہ رہیں اور گھٹنوں کو ہاتھوں کی انگلیاں سے پکڑ لیا جائے۔

مسئلہ: سجدہ اس طرح کرنا چاہئے کہ ہاتھوں کے پنجے زمین پر اس طرح رہیں کہ انگلیاں پھیلی ہوئی اور آپس میں ملی رہیں اور سب کا رخ قبلہ کی طرف ہو۔ اور کلائیاں زمین سے اونچی رہیں۔ پیٹ رانوں سے اور دونوں کہنیاں پسلیوں سے علیحدہ رہیں اور دونوں پاؤں کی انگلیاں اس طرح مڑی رہیں کہ ان کے سر قبلہ رخ ہوجائیں۔ عورتوں کے لئے پیٹ کو رانوں سے اور بازو کو بغل سے ملاکر رکھنا چاہئے۔

مسئلہ: رکوع سے اٹھتے وقت امام صرف سَمِعَ اللّہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے اور جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو وہ صرف رَبّنَا لَکَ الْحَمْد کہے، اور جو تنہا پڑھے وہ ان دونوں کو کہے۔

مسئلہ: دونوں سجدوں کے درمیان اور التحیات و درود شریف پڑھتے وقت مردوں کے لئے بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ بایاں پاؤں بچھاکر اس پر بیٹھ جائیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں۔ دونوں گھٹنے قبلہ کی طرف رہیں۔ داہنے پاؤں کی انگلیاں اچھی طرح موڑ دیں کہ قبلہ رخ ہوجائیں اور دونوں ہاتھ رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں سیدھی رہیں۔ اور عورتوں کو دونوں پاؤں داہنی طرف نکال کر بیٹھنا چاہئے۔

وضاحت: نماز کی ادائیگی کے طریقہ سے متعلق مختلف فیہ مسائل میں ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہؒ اور علماء احناف کی قرآن وحدیث کی روشنی پر مبنی رائے کو اختیار کیا گیا ہے۔ ان مسائل کے دلائل کے لئے علماء احناف کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔

مرتب: علامہ   ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی



جمع بین الصلاتین یعنی دو نمازوں کو اکٹھے پڑھنے کا حکم

بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
جمع بین الصلاتین یعنی دو نمازوں کو اکٹھے پڑھنے کا حکم
نماز کی وقت پر ادائیگی سے متعلق آیات قرآنیہ اور متواتر احادیث کی روشنی میں مفسرین، محدثین، فقہاء وعلماء کرام کا اتفاق ہے کہ فرض نماز کو اس کے متعین اور مقرر وقت پر پڑھنا فرض ہے اور بلا عذر شرعی مقرر وقت سے تقدیم وتاخیر کرنا گناہ کبیرہ ہے۔
نماز کو وقت پر پڑھنے سے متعلق چند آیات:
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا . سورة النساء  
بے شک نماز اہل ایمان پر فرض ہے جس کا وقت مقرر ہے۔(سورۃ النساء ۱۰۳)
حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ - نمازوں کی حفاظت کرو۔(سورۃ البقرۃ ۲۳۸)
 مفسر قرآن علامہ ابن کثیر ؒ اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وقت پر نمازوں کو ادا کرنے کی حفاظت کا حکم فرماتے ہیں۔
وَالَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ اور وہ لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں (سورۃالمعارج۳۴) 
مفسر قرآن ابن کثیر ؒ اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ وہ لوگ نماز کے اوقات، ارکان، واجبات اور مستحبات کی حفاظت کرتے ہیں۔
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَۙ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَۙ .
سو ان نمازیوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنی نماز میں کاہلی کرتے ہیں۔ (سورۃ الماعون۴ و ۵)
مفسرین نے تحریرکیا ہے کہ وقت پر نماز کی ادائیگی نہ کرنا اس آیت کی وعید میں داخل ہے۔
قرآن کریم (سورۃ النساء آیت ۱۰۲)میں نماز خوف کی کیفیت اور اس کے اصول وآداب بیان کئے گئے ہیں۔ متعدد احادیث میں نماز خوف کی کیفیت بیان کی گئی ہے جن سے واضح ہوتا ہے کہ میدان جنگ میں اور عین جنگ کے وقت صرف نماز کی کیفیت میں تخفیف کی گنجائش ہے لیکن وقت کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ امکانی حد تک وقت کی پابندی ضروری ہے۔ معلوم ہوا کہ اگر کفار سے جنگ ہورہی ہو اور اس وقت ذرا سی کاہلی بھی شکست کا سبب بن سکتی ہے تو اس موقع پر بھی دونمازوں کو جمع کرکے یعنی ایک کا وقت ختم ہونے کے بعد یا دوسرے کا وقت داخل ہونے سے قبل پڑھنا جائز نہیں ہے بلکہ نماز کو وقت پر ادا کیا جائے گا ، ورنہ وقت کے نکلنے کے بعد اسکی قضا کرنی ہوگی جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے غزوۂ احزاب کے موقع پر وقت پر ادائیگی نہ کرنے پر نماز کی قضا کی تھی۔
نماز کو وقت پر پڑھنے سے متعلق چند احادیث نبویہ :
نماز کے اوقات سے متعلق متعدد احادیث کتب حدیث میں موجود ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے دریافت کیا کہ کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: نماز کے وقت میں نماز پڑھنا۔ انہوں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ماں باپ کی خدمت کرنا۔ انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم)
اسی طرح حضرت جبرئیل علیہ السلام کی امامت والی حدیث متعدد صحابۂ کرام سے مروی ہے جس میں مذکور ہے کہ ۲ روز حضرت جبرئیل علیہ السلام نے امامت فرماکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو نماز پڑھائی۔ پہلے دن ہر نماز اول وقت میں پڑھائی اور دوسرے دن آخر وقت میں پڑھائی، پھر فرمایا کہ ہر نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔ (ابوداود، ترمذی)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیشہ نماز کو وقت پر ادا فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوۂ احزاب میں ایک روز شدت جنگ کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز عصر فوت ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے غروب آفتاب کے بعد اس کی قضا پڑھی اور کفار کے خلاف سخت الفاظ میں بددعا فرمائی کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز عصر سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ (صحیح بخاری باب غزوہ الخندق، صحیح مسلم)
غور فرمائیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے طائف کے سفر میں جب کہ آپ کو لہولہان کردیا گیا تھا، فرشتہ نے آپ کے سامنے حاضر ہوکر ان کو کچلنے کی پیش کش بھی کی مگر رحمۃ للعالمین نے ان کے لئے ہدایت کی ہی دعا فرمائی، مگر غزوۂ احزاب میں کفار کی مزاحمت کی وجہ سے نماز کے قضا ہوجانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس قدر صدمہ پہنچا کہ ان کے خلاف سخت سے سخت الفاظ میں بددعا فرمائی۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے بغیر کسی عذر کے دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھا اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا۔ (ترمذی باب ما جاء فی الجمع بین الصلاتین)
اس حدیث کے ایک راوی کو امام ترمذیؒ نے ضعیف کہا ہے، تاہم قرآن وحدیث کے دیگر نصوص سے اس حدیث کے مضمون کی تایید ہوتی ہے۔ نیز امام حاکم ؒ نے ان کو حسن وقوی تسلیم کیا ہے۔
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد مروی ہے کہ نماز میں کوتاہی یہ ہے کہ ایک نماز کو دوسرے نماز کے وقت تک مؤخر کردیا جائے۔ (صحیح مسلم باب قضاء الصلاۃ الفائتہ)
جمع بین الصلاتین:
قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ہی ادا کرناچاہیے۔ یہی شریعت اسلامیہ میں مطلوب ہے، پوری زندگی اسی پر عمل کرنا چاہئے اور اسی کی دعوت دوسروں کو دینی چاہئے۔ لیکن اگر کوئی شخص سفر یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے دو نمازوں کو اکٹھا کرنا چاہے تو اس سلسلہ میں فقہاء وعلماء کرام کا اختلاف ہے۔ فقہاء وعلماء کرام کی ایک جماعت نے سفر یا موسلادھار بارش کی وجہ سے ظہر وعصر میں جمع تقدیم وجمع تاخیر اسی طرح مغرب وعشاء میں جمع تقدیم وجمع تاخیر کی اجازت دی ہے۔ لیکن فقہاء وعلماء کرام کی دوسری جماعت نے احادیث نبویہ کی روشنی میں حقیقی جمع کی اجازت نہیں دی ہے۔ ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے مشہور تابعی وفقیہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بھی یہی رائے ہے۔ ہندوپاک کے علماء کا بھی یہی موقف ہے۔ فقہاء وعلماء کی یہ جماعت‘ اُن احادیث کو جن میں جمع بین الصلاتین کا ذکر آیا ہے، ظاہری جمع پر محمول کرتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ظہر کی نماز آخری وقت میں اور عصر کی نماز اوّل وقت میں ادا کی جائے، مثلاً ظہر کا وقت ایک بجے سے چار بجے تک ہے اور عصر کا وقت چار بجے سے غروب آفتاب تک تو ظہر کو چار بجے سے کچھ قبل اور عصر کو چار بجے پڑھا جائے۔ اس صورت میں ہر نماز اپنے اپنے وقت کے اندر ادا ہوگی، لیکن صورت وعمل کے لحاظ سے دونوں نمازیں اکٹھی ادا ہوں گی، اسی طرح مغرب کی نماز آخری وقت میں اور عشاء کی نماز اوّل وقت میں پڑھی جائے، اس کو جمع ظاہری یا جمع صوری یا جمع عملی کہا جاتا ہے۔ اس طرح تمام احادیث پر عمل بھی ہوجائے گا اور قرآن وحدیث کا اصل مطلوب ومقصود (یعنی نمازکی وقت پر ادائیگی) بھی ادا ہوجائے گا۔
مؤخر الذکر قول چند اسباب کی وجہ سے زیادہ راجح ہے۔
نماز کے اوقات کی تحدید قطعی فرض ہے جو قرآن کریم کی بعض آیات ومتعدد متواتر احادیث سے ثابت ہے اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے۔ جمع بین الصلاتین دو نمازوں کو اکٹھی پڑھنے سے متعلق احادیث اخبار آحاد ہیں۔ قرآنی آیات اور متواتر احادیث کا اگر بظاہر تعارض خبر آحاد سے ہو تو خبر آحاد میں تاویل کرنی چاہئے، لہذا ان اخبار آحاد کو جمع ظاہری (یعنی نماز ظہر کو آخر وقت میں اور نماز عصر کو اوّل وقت میں ادا کیا جائے) پر محمول کیا جانا چاہئے تاکہ کسی طرح کا تعارض بھی نہ رہے اور تمام احادیث پر عمل بھی ہوجائے۔بعض احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے زندگی میں حقیقی جمع بین الصلاتین صرف دو بار حج کے موقع پر کیا ہے:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو بے وقت نماز پڑھتے نہیں دیکھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے تھے) مگر (حجۃ الوداع میں) مغرب وعشاء کو مزدلفہ میں اکٹھے پڑھا (یعنی عشاء کے وقت میں مغرب وعشاء اکٹھی پڑھیں)۔ (صحیح بخاری، کتاب الحج، من یصلی الفجر بجمع۔۔۔۔ صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہمیشہ نماز وقت پر پڑھتے تھے لیکن (حجۃ الوداع میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عرفات میں ظہر وعصر کو ظہر کے وقت میں جمع کرکے پڑھا اور مزدلفہ میں مغرب وعشاء کو عشاء کے وقت میں جمع کرکے پڑھا۔ (نسائی)
حجاج کرام کے لئے عرفات (مسجد نمرہ) میں ظہروعصر کی حقیقی جمع اور مزدلفہ میں مغرب وعشاء کی حقیقی جمع متواتر احادیث سے ثابت ہے اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ کبھی بھی حقیقی جمع کی صورت میں دو نمازوں کا اکٹھا کرکے نہیں پڑھا جیساکہ احادیث بالا میں مذکور ہے۔
بعض احادیث کے الفاظ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھنے سے متعلق احادیث کا تعلق جمع ظاہری سے ہے، مثلاً:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   سفر میں ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کرتے تھے، مغرب کو مؤخر اور عشاء کو مقدم کرتے تھے۔ (مسند امام احمد، طحاوی، مستدرک حاکم)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (ایک سفر میں )غروبِ شفق سے قبل سواری سے اترے، مغرب کی نماز پڑھی پھر انتظار کیا، غروب شفق کے بعد عشاء کی نماز ادا کی پھر فرمایا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو جب (سفر میں) جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اسی طرح عمل فرماتے جیسے میں نے کیا ہے۔ (ابوداود، باب الجمع بین الصلاتین ۔ دار قطنی)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہمراہ غزوۂ تبوک کے سفر میں نکلے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ظہر وعصر کو اس طرح جمع کرتے، ظہر کو آخری وقت میں اور عصر کو اول وقت میں پڑھتے۔ (طبرانی اوسط)
حضرت ابو عثمان نہدی ؒ فرماتے ہیں کہ وہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کوفہ سے مکہ مکرمہ سفر حج پر جارہے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ظہر وعصر کو اس طرح جمع کرتے کہ ظہر کو مؤخر کرتے اور عصر کو مقدم کرتے پھر دونوں کو اکٹھا ادا کرتے، مغرب کو مؤخر کرتے اور عشاء کو مقدم کرتے، پھر دونوں کو اکٹھا ادا کرتے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ باب من قال یجمع المسافر بین الصلاتین)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ منورہ میں ظہر وعصر کو ملاکر پڑھا، حالانکہ یہ کسی خطرہ یا سفر کی حالت نہ تھی۔ حضرت ابو الزبیر ؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعیدؒ سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت سعید ؒ نے جواب دیا کہ میں نے بھی یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھی تھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا مقصد تھا کہ لوگ تنگی میں مبتلا نہ ہوں۔ (صحیح مسلم، الجمع بین الصلاتین فی الحضر)
اس حدیث میں جمع بین الصلاتین سے مراد ظاہری جمع ہے یعنی ظہر کو اس کے آخر وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں پڑھا۔ محدثین کرام حتی کہ علامہ شوکانی ؒ نے بھی اس حدیث سے جمع صوری ہی مراد لیا ہے۔ ان تمام احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوا ہے کہ ظاہری جمع جائز ہے، لیکن حقیقی جمع صرف دو جگہوں پر ہے۔ حدیث کے پورے ذخیرہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے عمل سے صرف اُنہی دو نمازوں کے جمع کرنے کا ثبوت ملتا ہے جن کے اوقات آپس میں ملتے ہیں اور درمیان میں مکروہ وقت بھی نہیں ہے، جن کی وجہ سے ظاہری جمع پر عمل ہوسکتا ہے اور وہ صرف ظہر وعصر یا مغرب وعشاء کی نمازیں ہیں۔ باقی جن نمازوں کے اوقات باہم متصل نہیں ہیں، جیسے فجر وظہر یا اوقات تو متصل ہیں لیکن درمیان میں مکروہ وقت ہے جیسے عصر ومغرب یا عشاء وفجر کہ نصف شب کے بعد عشاء کا مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے۔ اگر حقیقی جمع جائز ہوتی تو پھر ظہر و عصر یا مغرب وعشاء کے ساتھ ہی خاص نہ ہوتی بلکہ عشاء وفجر یا فجر وظہر میں حقیقی جمع جائز ہوتی، اور اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، معلوم ہوا کہ جن احادیث میں سفر وغیرہ کی وجہ سے دو نمازوں کے اکٹھے پڑھنے کا ذکر ہے اس سے مراد ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے اوّل وقت میں ادا کرنا ہے۔
بعض احادیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بعض دفعہ سفر یا خوف یا بارش کے عذر کے بغیر بھی دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھا۔ اگر دو نمازوں کی حقیقی جمع جائز ہوتی تو ان احادیث کی وجہ سے بغیر کسی عذر کے بھی دو نمازوں کو حقیقی جمع کرکے پڑھنا جائز ہوتا، حالانکہ اہل سنت والجماعت میں کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے ۔ معلوم ہوا کہ اس طرح کی احادیث سے مرادایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے اوّل وقت میں ادا کرنا ہے۔ غزوۂ تبوک کے طویل سفر میں یہی صورتِ عمل تھی کہ سفر بہت طویل تھا، موسم سخت گرم تھا، طہارت ووضو کے لئے پانی کی قلت تھی، اسلامی فوج کی تعداد تقریباً تیس ہزار تھی اتنے بڑے لشکر کا ان مذکورہ حالات میں باربار اترنا اور سوارہونا انتہائی مشکل تھا، اس لئے ظاہری جمع پر عمل کیا گیا یعنی ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے اوّل وقت میں ادا کیا گیا۔
غرضیکہ نماز کو وقت پر ہی ادا کرنا چاہئے سوائے ۹ ذی الحجہ کو مسجد نمرہ (عرفات) میں ظہر وعصر کی ادائیگی ظہر کے وقت میں اور مزدلفہ میں مغرب وعشاء کی ادائیگی عشاء کے وقت میں، لیکن اگر کوئی عذر شرعی ہے مثلاً سفر میں ہیں اور بار بار رکنا دشواری کا سبب ہے تو دو نمازیں ظاہری جمع کرکے ادا کرلی جائیں یعنی ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے اوّل وقت میں ادا کرلیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو وقت پر نماز کا اہتمام کرنے والا بنائے اور نماز میں کوتاہی کو تمام شکلوں سے حفاظت فرمائے، آمین۔
تحرير: علامہ محمد نجیب قاسمی سنبھلی ( بتغیر یسیر)

جمعرات، 24 جون، 2021

بعثت رسول کا مقصد

الحمد لله وكفى والصلاة والسلام على النبي المصطفى  وعلى آله وصحبه ومن اقتفى هديه ثم أمّا بعد.

ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنےبھی نبی یا رسول اس جہاں فانی میں مبعوث ہوئے ان سب کی بعثت کا مقصد ایک اللہ کی عبادت کی دعوت رہا،اور اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سنہری کڑی کو جناب محمد ﷺ پر ختم کیا ،اور آپ کی بعثت کا مقصد بھی دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح دعوت توحیدہی رہا،آپ ﷺنے انسانوں کو انسانوں کی عبادت و غلامی سے نجات دلا کر اللہ واحد و قہار کی واحدانیت اور کبریائی سے آشنا کرکے اُن کی جبینوں کو خالق و مالک حقیقی کے در پر جھکایا،لوگوں کے سامنے ان کے حقیقی رب کا تصور پیش کیا اور ان کو اس بات سے آگاہ کیا کہ ایک اللہ کے عبادت میں ہی ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے،دعوت دین کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کو ان کی جائے پیدائش سے نکالا گیا، اڑھائی برس تک شعب ابی طالب میں محصور رکھا گیا، اُن کی ایسی آزمائش کی گئی کہ چشمِ فلک کے بھی آنسو نکل آئے۔ رحمۃللعالمینﷺ کو نازیبا کلمات کہے گئے، آپﷺ کو گالیاں دی گئیں، طائف کے بازاروں میں آپﷺ کے ابریشم سے بھی نازک جسمِ اطہر کو پتھروں سے مضروب کیا گیا اور جب نبی رحمت ﷺ ایک لمحے کے لیے کسی درخت کے سائے تلے آرام کے لیے رکتے تو آوارگان طائف پھر جسمِ اطہر کو تختۂ مشق ستم بنانے لگتے۔ غیراللہ کی نفی اوربت پرستی کے خلاف اعلان ِ بغاوت کرنے اور دعوتِ الی الحق دینے کی وجہ سے آپﷺکے اعزہ اور رفقائے کار کو وحشت ناک مصائب کی بھٹی میں جھونکا گیا۔دعوت دین میں آپ ﷺ کو انتہائی اندوہ ناک اور صبر آزما اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی ایسی اذیتیں جن کے محض تصور سے ہی انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔

آپ ﷺ جس مقصد کے لئے کائنات میں نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے آپ نے اس فريضہ نبوت کو کما حقہ ادا کیا اور بالکلی عرب میں چراغ توحید کو روشن کیا،اور تمام عرب کے دل میں توحید جب رچ بس گیا تو اللہ کے حکم سے رفیق اعلیٰ سے جا ملے،دن و رات گردش کرتے رہیں،آبادیاں بڑھتی رہیں اور تدریج با تدریج لو گوں کے دلوں میں ایک اللہ کا تصور توباقی رہا مگر عمل کے میدان میں لوگ شرک ،بدعت اور ضلالت و گمراہی کے دلدل میں پھنستے چلے گئے یہاں تک کے آپ ﷺ کی بعثت کا جو اصل مقصد تھا لوگوں نے فراش کر کے آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو ہی الوہیت کے صف میں لا کر کھڑا کردیا،اور لبیک یا رسول اللہ،اغثنی یا رسول اللہ کے نارے بلند ہونے لگے اورمحبت رسول کے نام پر امت میں مختلف انواع و اقسام کے شرکیات نے رواج پا لیا اور کہیں لا علمی تو کہیں جان بوجھ کر لوگوں نے ان شرکیات و بدعات کو ہی اصل دین سمجھ لیا۔

ذیل میں ہم ان شاء اللہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کے بعض مقاصد کا تذکرہ کر رہیں ہیں ۔

پہلا مقصد : ایک اللہ کی عبادت کی دعوت : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ساری کائنات کے انسانوں اور جنوں کے لئے نبی اور رسول بنا کر مبعوث ،آپ کی بعثت جس زمانے میں ہوئی وہ زمانہ اور اس زمانے کے لوگ شرک اور ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں سرگرداں پھر رہے تھے،لہذا اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کو کلمہ لا الہ اللہ کی دعوت کا حکم دیا کہ لوگو کو اس بات سے آگاہ کر دیں کہ وہ جنکی بھی عبادتیں کر رہیں ہیں یہ سب کے سب باطل اور منگھڑت معبود ہیں ،ان کا حقیقی معبود ایک ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے،اللہ تعالیٰ نے بعثت کے اس مقصد کو قرآن مجید میں بیان کیا اور فرمایا کہ { وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنْ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ } ترجمہ : ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ( سورۃ النحل /36) اور طاغوت کا اطلاق شریعت کی اصطلاح میں ہر اس چیز پر ہے جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جائے یا ہو و چیز ہے جو اپنی عبادت کے طرف دعوت دے، اللہ تعالیٰ نے عقیدہ توحید کی دعوت کے لئے تمام انبیاء کے بعثت کا مقصد بتایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ {وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَانِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ}ترجمہ : اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو !جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے؟۔

دوسرا مقصد : تبشیر و انذار : نبی ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد یہ ہیکہ جو لوگ دعوت توحید کو قبول کر کے اللہ اور اس کے رسول کے بیان کر دہ ضوابط کے مطابق زندگی گزاریں تو ان کو آپ ﷺ اللہ کی نعمتوں والی جنت کی خوشخبری سنائیں،اور اس کے بر عکس جو لوگ آپ کی دعوت قبول نہ کریں اوراپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزارکرشرکیات و خرافات میں مبتلا رہیں ان کو آپ اللہ کے تیار کردہ عذاب سے ڈرائیں جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے {وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ }ترجمہ : ہم تو اپنے رسولوں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبریاں سنادیں اور ڈرادیں (سورۃ الکھف/56) مزید اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کو بیان کیا کہ {رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لأَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

ترجمہ : ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے اللہ تعالیٰ بڑٓ غالب اور بڑا با حکمت ہے۔( سورۃ النساء/165)۔

تیسرا مقصد : لوگوں کو زندگی کےبنیادی اختلاف سے نکالنے اور رضائے الہٰی کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی: اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی ہیکہ آپ نے لوگوں کے اصول زندگی میں پائے جانے والے تمام تر اختلافات کا حل وحی الہٰی کی روشنی میں پیش کیا، اور ان کو یہ بتایا کہ ان کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت ہو اور اس عبادت کے ذریعہ رضاالہیٰ مقصود ہونی چاہئے،جیساکہ جب ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں غور و فکر کریں تو اس بات کا علم ہو جائیگا کہ صحابہ کرام کی زندگی کے ہر لمحات جہاں توحید و سنت کی اتباع تھی وہیں وہ نفوس قدسیہ صرف اور صرف رضائے الہٰی کے متلاشی تھے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کی وضاحت اپنی کلام مزید میں یو ں بیان کیا کہ {وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلا لِتُبَيِّنَ لَهُمْ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ}

ترجمہ : اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ ان کے لئے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان داروں کے لئے راہنمائی اور رحمت ہے۔(سورۃ النحل/64)۔

چوتھا مقصد : لوگوں کی تعلیم اور ان کا تزکیہ نفس :آپ ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ ہیکہ اللہ رب العالمین نےجہاں آپ کو امام اعظم بنا کر مبعوث کیا وہیں آپ ﷺ کو معلم اعظم بنایا اور آپ نے لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی،ان تمام اعمال کی نشاندہی کی جو اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے والی ہیں،وہیں آپ ﷺ نے ان تمام اعمال سے امت کو آگاہ کی اجو اللہ تعالیٰ سے دور اور جہنم کے قریب کرنے والی ہے،آپ نے لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی ،اور آپ ﷺ نے کتاب و حکمت کی تعلیم کے ذریعہ لوگوں کے اندر پائے جانے والے میل کچیل سے ان کے نفس کا تزکیہ کیا اور تاریخ اس بات کی شاہد ہیکہ اس تزکیہ نفس کی وجہ سے جو قوم تاریخ کے اوراق میں سب سے پچھڑی ہوئی اور پسماندہ اور غیر مہذب تصور کی جاتی تھی وہی قوم تاریخ کے پارینہ اوراق میں دینی اور معاشرتی طور پر سب سے کامیاب لکھی گئی،اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کو قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا کہ {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيِّينَ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ

ترجمہ : وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے،یقینا ی اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔(سورۃ الجمعۃ /2)۔

پانچواں مقصد : اقامت دین،اختلاف سے روکنے اور اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے: اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو اور بالخصوص ہمارے نبی ﷺ کو یہ ایک عظیم مشن دیکر بھیجا کہ آپ اللہ کی وحدانیت پر دین کا قیام کریں لوگوں کو اس دین کی دعوت دیں،اس دین پر مکمل عمل کرنے کی تلقین کریں،اور لوگوں کو ان کے دینی و معاشرتی تمام تر معاملات میں ہر طرح کے اختلافات سے دور رہنے کی تلقین کریں،اور جب آپسی اختلاف ہو جائے تو اللہ کی وحی کے ذریعہ فیصلہ کرکے ان اختلافات کا حل کریں کیونکہ اللہ کی وحی کے علاوہ کہیں اور سے فیصلہ کرنا طاغوت کی حاکمیت قبول کرنا ہے اور شریعت نے اسے شرک اکبر سے تعبیر کیا ہے،بعثت کی اس مقصد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان کیا کہ{شَرَعَ لَكُمْ مِنْ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ} ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دی تھا اور جو (بذریعہ وحی)ہم نے تیری طرف بھیج دی ،اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام ) کو دیا تھ اکہ اس دین کو قائک رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو(ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔(سورۃ الشوری/13)۔مزید آپ ﷺ کی بعثت کا یہ مقصد قرآن مجید ایک اور آیت کریمہ سے ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے{إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا

ترجمہ : یقینا ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو۔(سورۃ النساء/105)۔

چھٹا مقصدلوگ آپ کی سیرت طیبہ کو اپنے لئے اسوہ اور نمونہ سمجھیں : آپ ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہیکہ ہر مسلمان اپنی زندگی کے تمام تر مراحل میں آپ کو اپنے لئے اسوہ و نمونہ سمجھے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر آپ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں عمل پیرا ہو،کیونکہ آپ کی اتباع میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرا نی مضمر ہے،کیونکہ آپ کی اتباع و تابعداری در حقیقت اللہ کی اتباع و تابع داری ہے،لہذا ہر مسلمان کو اس بات کا عمل ہونا چاہئے کہ اس کائنات کے اندر اگر کوئی ذات ہمارے لئے اسوہ و نمونہ ہو سکتی ہے اور کسی کی اتباع و تابعداری کی جاسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ کے رسولﷺ کی ذات مبارکہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بعثت کی اس مقصد کو اپنی کتاب عزیز میں یوں بیان کیا کہ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا}

ترجمہ : یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے،ہر اس شخص کے لئےجو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ (سورۃ الأحزاب:21)۔

ساتواں مقصد : بندوں پر اقامت حجت کے لئے:اللہ رب العالمین نے نبی اکرم ﷺکو ساری کائنات کے لئے اپنا آخری نبی و رسول بنا کر مبعوث کیا ب آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول اس کائنات میں قیامت تک نہیں آنے والا اور اگر کسی نے اپنی نبوت و رسالت کا دعوہ بھی کیا تو وہ کائنات کا سب سے بڑا کذاب و دجال شمار کیا جائے گا،اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ ہیکہ آپ کو بھیج کراللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کر دیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ {لَوْلا أَرْسَلْتَ إلَيْنَا رَسُولاً فَنَتَّبِعَ آياتكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ ونَخْزَى

ترجمہ : اے ہمارے پروردگار تونے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔(سورۃ طہ/134)،اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ایک دوسری آیت کریمہ میں بعثت کی اس مقصد کو یوں واضح کیا کہ {رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لأَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} ترجمہ : ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے اللہ تعالیٰ بڑٓ غالب اور بڑا با حکمت ہے۔( سورۃ النساء/165)۔

یہ وہ بعض مقاصد ہیں جن کےبر آوری کے لئے اللہ کے رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ ے نبوت و رسالت دیکر پوری کائنات کی طرف بھیجا ،اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھتا ہیکہ آج امت اسلامیہ کی اکثریت نبی ﷺ کی بعثت کےاہم مقاصد کو بھول چکی ہے،جس کا سب سے بڑا خسارہ آج ہم نبی کائنات کے نام پر ہونے والے بدعات و خرافات کو دیکھتے ہیں۔۔
اللہ تعالی ٰ ہم سب کو کتاب و سنت کی صحیح سمجھ دے  اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین

شیخ اکبر حسین اورکزئی 

جمعرات، 17 جون، 2021

سورۃ القمر آیت نمبر 17

 وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّكِرٍ ۞

ترجمہ:   اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ؟

تفسير :: ( ی س ر ) الیسر کے معنی آسانی ار سہولت کے ہیں یہ عسر کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے ۔ اور سختی نہیں چاہتا ۔ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق 7] خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا ۔ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف 88] بلکہ اس سے نرم بات کہیں گے ۔ فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات 3] پھر نر می سے چلتی ہیں ۔ تیسر کذا واستیسرکے معنی آسان ہو نیکے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة 196] اگر رستے میں روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو کردو ۔ فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل 20] تو جتنا آسانی سے ہو سکے پڑھ لیا کرو ۔ اسی سے الیسرت المرءۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی عورت کے سہولت سے بچہ جننے کے ہیں ۔ یسرت کذا کے معنی کسی کام آسان اور سہل کردینے کے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر 17] اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ۔ فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم 97] اے پیغمبر یہ قران تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ہے ۔ الیسری اسم بمعنی یسر قرآن پاک میں ہے : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل 7] اس کو ہم آسان طریقے کی توفیقی دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل 10] اسے سختی میں پہنچا ئنگے ۔ میں عسریٰ کے ساتھ تیسیر کا لفظ بطور تحکم لایا گیا ہے جس طرح کہ آیت : ۔ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران 21] میں عذاب کے متعلق بشارت کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن پاک میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً

اخوکم فی اللہ : اکبر حسین اورکزئی راونڈا افریقہ

18 جون 2021

پیر، 23 دسمبر، 2019

فجر کے بعد سونے کی ممانعت کی روایات پر بحث



سوال : فجر کے بعد سونے سے مفلسی آتی ہے ، کیا یہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے ؟
 اگر ہے تو کیا پوری رات ذکر تلاوت میں مشغول رہنےکے بعدتھوڑی دیرسونےوالے پربھی یہ حکم لا گو ہوگا؟
اورکیا صبح کے وقت سونا شرعا ناجائز ہے ؟ 
الجواب :
دن کےاوقات میں سونا کئی طرح کا ہوتا ہے  ، اوقات کی بناء پر اس کاحکم بھی مختلف ہوگا:
۱۔ طلوع فجر کے بعد نماز فجر سے پہلے سونا۔
۲۔ فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک سونا۔
۳۔ طلوع آفتاب کے بعد سے اشراق وچاشت کے اوقات میں قبیل ظہر تک سونا۔
۴۔ ظہر کے وقت قیلولہ کرنا۔
۵۔ ظہر وعصر کے درمیان سونا۔
۶۔ عصر سے مغرب کے درمیان سونا۔
سائل کے سوال کا تعلق پہلی تین اقسام سے ہے ،بقیہ اقسام من باب الاحاطہ بالشیءوتتمۃ القسمه ذکر کی گئی ہیں ،قصد یہ تھاکہ مذکورہ بالا تمام اقسام کی تفصیل عرض کروں ، مگرمضمون طویل ہوجائے گا ، اگرچہ فائدہ سے خالی نہیں ہوگا، لہذا مذکورہ سوال اور اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں پر صرف پہلی تین قسموں کے بارے میں وارد روایات ، ان کا حدیثی مرتبہ ،اور حکم ذکر کرنے پر اکتفا کرتاہوں،وباللہ العون ۔
۱۔ طلوع فجر کے بعد نماز فجر سے پہلے سونا :
روایت : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور روایت ہے : فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ وَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ لِلْإِقَامَةِ۔(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
ترجمہ : پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا اور فجر طلوع ہو جاتی یعنی صبح کی روشنی پھیلنے لگتی تو آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں ہلکی ( یعنی فجر کی سنتیں) پڑھتے اور اس کے بعد اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے تھے یہاں تک کہ مؤذن اقامت کہنے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ نماز کے لئے (مسجد) تشریف لے جاتے۔
روایت : حضرت عائشہ کی ایک دوسری روایت میں ہے : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ(زوائد عبد اللہ علی مسند احمد)
ترجمہ: حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب صبح ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔

روایت : حضرت ابوہریرہ سے قولی روایت بھی منقول ہے : إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَی يَمِينِهِ  (جامع ترمذی)
ترجمہ :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی فجر کی دوسنتیں پڑھ لے تو دائیں کروٹ پر لیٹ جائے ۔
حدیث کا مرتبہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی قولی حدیث کی ابن تیمیہ نے تضعیف کی ہے ، کیونکہ اس کا مدار عبد الواحد بن زیاد پر ہے ، جس کے حفظ میں کلام ہے ، ابن تیمیہ نے کہا کہ :فعلی حدیث ثابت ہے ، اور قولی غلط ہے ۔(زاد المعاد لابن القیم )۔
  اس وقت میں سونے کا حکم : مباح ہےبغرض استراحت
(شرح مشکوہ)میں ہے :فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے آپ ﷺ اس لئے لیٹ جاتے تھے تاکہ تمام رات عبادت الٰہی اور نماز میں مشغول رہنے کی وجہ سے جو تکان وغیرہ پیدا ہو جاتا تھا وہ تھوڑی دیر آرام کر لینے سے ختم ہو جائے اور فرض پوری چستی اور بشاشت کے ساتھ ادا ہوں ، لہٰذا مختار یہ ہے کہ جو آدمی رات کو عبادت الہٰی اور ذکر اللہ وغیرہ میں مشغول رہے اس کے لئے فجر کی سنتیں پڑھ کر تھوڑی دیر کے لئے بغرض استراحت لیٹ جانا مستحب ہے۔
درس ترمذی (2/185 ) : فجر کی سنتوں کے بعد تھوڑی دیر کے لئے لیٹ جانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ،لیکن حنفیہ اور جمہور کے نزدیک یہ لیٹنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنن عادیہ میں سے تھا ، نہ کہ سُنن تشریعیہ میں سے، یعنی صلوۃ اللیل سے تعب کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر آرام فرمالیتے تھے، لہذا اگر کوئی شخص اس سُنّتِ عادیہ پر عمل نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں ، اور اگر سُنّتِ عادیہ کی اتباع کے پیشِ نظر لیٹ جایا کرے تو موجبِ ثواب ہے ، بشرطیکہ وہ رات کے وقت تہجد میں مشغول رہا ہو ، لیکن اس کو سُنن تشریعیہ میں سے سمجھنا ، لوگوں کو اس کی دعوت دینا اور اس کے ترک پر نکیر کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں ۔
الدر المنضود (2/533) میں لکھا ہے : حنفیہ کہتے ہیں نہ مکروہ ہے نہ مستحب ۔ حضور سےیہ  ثابت ضرور ہے ، لیکن گھر میں نہ کہ مسجد میں ، برائے استراحت نہ برائے تشریع وترغیب ۔
تحفۃ الالمعی (2/265) میں ہے : بعض حضرات کے نزدیک گھر میں لیٹنا سنت ہے اور مسجد میں لیٹنا بدعت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر ہی میں لیٹتے تھے ، مسجد میں کبھی نہیں لیٹے ۔ مگر یہ قول صحیح نہیں ہے ، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں تہجد پڑھنے والوں سے فرمایا کہ : جب تم فجر کی سنت پڑھ چکو تو دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ۔ظاہر ہے یہ حضرات مسجد ہی میں لیٹیں گے ، لیٹنے کے لئے گھر نہیں جائیں گے  ـــــــ اورایک قول یہ ہے کہ : یہ لیٹنا تہجد گزاروں کے لئے سنت ہے ، سب مسلمانوں کے لئے سنت نہیں ، یہ فرق معقول ہے ، اور احناف نے جو مباح کہا ہے اس میں سب شامل ہیں تہجد گذار بھی اور عام مسلمان بھی ۔

۲۔ فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک سونا :
روایات :
اس باب میں روایات دو طرح کی ہیں : ایک وہ جن میں مذکورہ وقت کی صراحت ہے ، دوسری وہ ہیں جن میں (صُبحہ یا تصبُّح ) کالفظ وارد ہے ، جس کا اطلاق دن کے ابتدائی حصہ میں سونے پر ہوتا ہے ، اس معنی کے اعتبار سے مذکورہ بالا اقسام میں سے دوسری اور تیسری قسم کا سونا دونوں اقسام اس طرح کی روایات میں مراد ہوسکتیں ہیں ،لیکن چاشت کا وقت اظہر ہے ، جیساکہ ابن ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے ، اس لئے یہاں پر صرف صریح روایات ذکر کی جائیں گی ، اور (صُبحہ یا تصبُّح ) والی روایات اگلی قسم میں ملاحظہ فرمائیں ۔
فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک سونے کی صریح روایات :
۱۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت :
روایت : عن عثمان بن عفان قال: قال رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الثابت في مُصَلَّاهُ بعد صلاة الصُّبح يذكرُ اللَّه عز وجل حتى تطلُع الشمسُ أبلغُ في طَلَب الرزق من الضَّربِ في الآفاق"۔(مسند الفردوس رقم 6309
ترجمہ : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک ذکر خدامیں لگے رہنا رزق کے حصول میں زیادہ باعثِ نفع ہے اس بات سے کہ طلب رزق میں دنیا کے کونے کونے میں پھرتا  رہے۔
  حدیث کا مرتبہ :  موضوع ، سند میں ابوداود سلیمان بن عمرو نخعی ہے ، جو کذاب ہے ۔(میزان 2/216
۲۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی روایت:
روایت : عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَرَّ بِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ مُتَصبِّحَةٌ، فَحَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا بُنَيَّةُ قُومِي اشْهَدِي رِزْقَ رَبِّكِ، وَلَا تَكُونِي مِنَ الْغَافِلِينَ، فَإِنَّ اللهَ يَقْسِمُ أَرْزَاقَ النَّاسِ مَا بَيْنَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى طُلُوعِ الشَّمْسِ "
ترجمہ : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: 'میں صبح کے وقت سوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ نے مجھے پاؤں سے ہلایا پھر فرمایا: بیٹی! اٹھو! اپنے رب کی طرف سے رزق کی تقسیم میں شامل ہو جاؤ اور غفلت شعار لوگوں کی عادت اختیار نہ کرو، اللہ تعالٰی طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں۔ (شعب الایمان،حدیث نمبر4405
  حدیث کا مرتبہ : موضوع، حدیث کی سند میں عبدالملک بن ہارون بن عنترہ راوی کذاب اور جھوٹی احادیث بیان کرنے والا ہے، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کذاب کہا ہے۔ امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے متروک قراردیاہے۔ دیکھئے :(میزان الاعتدال،ص666،ج2)۔
۳۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت :
روایت : عن أنس قال: قال رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لا تَنَامُوا عن طَلَب أرزاقكم فيما بينَ صلاةِ الفجر إلى طُلوع الشمس" قال: فسُئل أنسٌ عن معنى هذا الحديثِ ؟ قال: يسبِّح ويكبّر ويستغفر سبعينَ مرةً فعند ذلك ينزلُ الرزق.( مسند الفردوس للدیلمی رقم 3868)۔
ترجمہ : تلاشِ رزق کی خاطر نماز فجر سے طلوع آفتاب تک مت سویا کرو۔ حضرت انس سے اس کی وضاحت طلب کی گئی تو فرمایا کہ : اس وقت ستر مرتبہ تسبیح تکبیر واستغفار کرنے سے روزی میں برکت ہوتی ہے ۔

  حدیث کا مرتبہ :  اسناد ضعيف جداً ؛ سند میں اصبغ بن نباتہ راوی کے بارے میں ذہبی نے (المغنی ) میں کہا  :"واهٍ غالٍ في تَشَيُّعه ، تركه النسائي، وقال ابن معين: ليس بثقة. وقال الحافظ: متروك، رُمي بالرفض.
۴۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت :
روایت : عن على مرفوعًا : "ما عَجَّت الأرضُ من شيءٍ كعَجِيجِها من ثلاثة: من دمٍ حرامٍ يُسفَك عليها، أو غُسْلٍ من زِنى، أو نوم قبلَ طلوع الشمس".(دیلمی)
ترجمہ : زمین کی سطح پر کئے جانے والے تین کاموں کی وجہ سےزمین اپنی تکلیف کا اظہار کرتی  ہے :ناحق خون بہنے سے، وہ غسل جو زنا کے ارتکاب کے بعد کیا جائے،اور طلوع آفتاب سے پہلے سونےسے۔
  حدیث کا مرتبہ :  سخاوی نے مقاصد حسنہ(1/418) میں ضعیف کہا ہے ۔ 
۵۔ وفي حديث "إن ما بين طلوع الفجر وطلوع الشمس ساعة تقسم فيها الأرزاق وليس مَن حَضَر القِسمةَ كمن غابَ". التنوير شرح الجامع الصغير (3/ 495)۔ولم یسندہ۔
ترجمہ : ایک حدیث میں ہے کہ طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے مابین ایک گھڑی ہے ، جس میں بندوں کی روزی تقسیم کی جاتی ہے ، اور جو تقسیم کے وقت حاضر رہا وہ غائب کی مانند نہیں ہوسکتا ۔
۶۔ اثر ابن مسعود رضی اللہ عنہ : عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ، فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ، فَأَذِنَ لَنَا، قَالَ: فَمَكَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً، قَالَ: فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَدْخُلُونَ، فَدَخَلْنَا، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ، قَالَ: ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّى ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ؟ ... الحديث!( صحیح مسلم)
ترجمہ : حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ ہم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف گئے اور دروازے سے سلام کیا تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی، مگر ہم تھوڑی دیر دروازے کے ساتھ ٹھہرے رہے تو ایک باندی آئی اور اس نے کہا کہ تم اندر کیوں نہیں داخل ہو رہے ہو؟ تو پھر ہم اندر داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ ؓ بیٹھے تسبیح پڑھ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ: تمہیں کس چیز نے اندر داخل ہونے سے روکا ہے جبکہ تمہیں اجازت دیدی گئی تھی؟ تو ہم نے کہا کہ: کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہم نے خیال کیا کہ گھر والوں میں سے کوئی سو رہا ہو۔ تو عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ :تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کیا؟ راوی نے کہا کہ :پھر حضرت عبداللہ نے تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل گیا ہے تو باندی سے فرمایا :دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے۔الحدیث
  اس وقت میں سونے کا حکم : 
احادیث مرفوعہ اس باب میں سب ضعیف ہیں ، اس لئے شرعا کوئی قباحت تو نہیں ہے ،لیکن بلا حاجت شدیدہ سونا سخت مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ، چونکہ رزق کی تقسیم کا وقت ہے ، متعدد روایات میں  ہے کہ: اللہ تبارک وتعالی صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک مخلوق کے لیے رزق تقسیم کرتے ہیں، یعنی جو لوگ اس پورے وقت میں غافل رہتے ہیں وہ رزق کی برکت سے محروم رہتے ہیں، اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ:یہ ممانعت صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک پورے درمیانی وقت میں سونے میں ہے ،اور اس وقت سوناغفلت شعار لوگوں کا رویہ ہے ، اسی طرح سلف کے تعامل کے بھی خلاف ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو سورج طلوع ہونے تک اپنی نماز کی جگہ ہی بیٹھے رہتے تھے، اور ذکر واذکار میں مشغول رہتے ،اس وقت میں ذکر خدامیں لگے رہنا رزق کے حصول میں زیادہ باعثِ نفع ہے ۔
قرآن کریم میں بھی دو جگہ طلوع آفتاب سے پہلے تسبیح وذکر میں مشغول رہنے کا امر ہے  :
﴿ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا، وَمِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ، وَاَطْرَافَ النَّھَارِ، لَعَلَّکَ تَرْضٰی ﴾(طہٰ ۲۰: ۱۳۰''اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج کے طلوع وغروب سے پہلے، اور (اسی طرح) رات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی تاکہ تم نہال ہو جاؤ۔''
﴿ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ، وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ، وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ (ق ۵۰: ۳۹۔۴۰''اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، سورج کے طلوع وغروب سے پہلے، اور رات کے کچھ حصے میں بھی اُس کی تسبیح کرو، اور سورج کی سجدہ ریزیوں کے بعد بھی''۔
بالخصوص ہمارے دیار میں فجر کی نماز اسفار کے وقت ہوتی ہے ، اس کے بعد طلوع آفتاب تک کا وقت بہت مختصر ہوتا ہے ، جس میں بیدار رہنا کوئی دشوار نہیں ۔
البتہ تہجد گزاروں ،معتکفین،مسافرین ، اور دیگر اصحاب اعذار کے لئے کوئی قباحت نہیں ۔(مزید تفصیل تیسری قسم کے حکم میں ملاحظہ فرمائیں ) ۔

۳۔ طلوع آفتاب کے بعد سے اشراق وچاشت(دن چڑھے)قبیل ظہر تک سونا :
اس باب میں دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں ، مانعہ ومجیزہ ، پہلے مانعہ ذکر کی جاتی ہے ، پھر جواز پر دلالت کرنے والی ۔
ممانعت کی روایات ِ مرفوعہ:
۱۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت:
روایت : عن عثمان بن عفان قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "الصُّبْحة تَمنعُ الرزق".(مسند احمد1/547
ترجمہ: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :صبح کے وقت سوتے رہنے سے انسان رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔

  حدیث کا مرتبہ :  ضعیف جدا ، شبہ موضوع، اس لئے کہ اس کی بعض اسانید میں اسحاق بن ابی فروہ راوی ہے جو متہم بالکذب متروک الروایت ہے ، اور بعض اسانید میں سلیمان بن ارقم ہے جو متروک ہے ایضا ۔
طحاوی نے کہا :أهل الإسناد يُضَعِّفُونَ هَذَا الْإِسْنَادَ۔ شرح مشكل الآثار (3/104) ۔
ابن الجوزی نے کہا : هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ الموضوعات (3/68
ذہبی نے کہا : هَذَا حديث منكر ۔(میزان الاعتدال 1/193
زرکشی نے کہا  : حَدِيث ضَعِيف لأنه من رِوَايَة إسماعيل بن عَيَّاش عَن إسحاق بن عبد الله بن أبي فَرْوَة ، وَابْن أبي فَرْوَة هَذَا مَتْرُوك ثمَّ هُوَ حجازي وَرِوَايَة إسماعيل بن عَيَّاش عَن الْحِجَازِيِّينَ لَا يُحْتَجّ بهَا ۔ التذكرة في الأحاديث المشتهرة (ص: 55

۲۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت:
روایت : عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُنْجِي حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ، وَإِنْ كَانَ شَيْءٌ يَقْطَعُ الرِّزْقَ فَإِنَّ التَّصَبُّحَ يَقْطَعُهُ، وَإِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِنَ الْبَلَاءِ»(مسند الشہاب 2/49
ترجمہ : تقدیر کے آگے تدبیر و احتیاط کچھ فائدہ نہیں دے سکتی ، اور کوئی چیز اگر رزق کو روکتی ہےتو وہ دن کے اول حصہ میں سوتے رہنا ہے، اور دعا بلاء کو دفع کرتی ہے ۔
  حدیث کا مرتبہ :   سند میں حکم بن مروان کا شیخ (محمد بن عبد اللہ ) مجہول ہے ۔
۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت :
روایت : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُرِهَ لَكُمْ ثَلَاثَةٌ: الصُّبْحَةُ، وَأَنْ يَبْرَأَ الرَّجُلُ مِنْ أَخِيهِ، وَفَخْرُهُ عَلَى أَخِيهِ " (أبو نعيم في تاريخ أصبهان 1/ 179(۔
ترجمہ : تین باتیں ناپسندیدہ ہیں : دن کے شروع میں سونا ، اپنے بھائی سے براءت ظاہر کرنا ، اس پر عجب وفخر کرنا ۔
حدیث کا مرتبہ :  ضعیف ہے ، سند میں يحيى بن عبيد الله بن موهب تيمی ہے ، جس پر ابن معین ، امام احمد ، یحیی القطان ، نسائی ، دارقطنی وغیرہم نے جرح کی ہے ، اور غیر معتبر روایات نقل کرنا ذکر کیا ہے ، اور اس کے والد کا حال بھی غیر معروف ہے ۔ ( تہذیب الکمال 31/451) ۔
ممانعت پر دلالت کرنے والے آثار ِصحابہ وتابعین :
۱۔ اثر حضرت خوات بن جبيررضی اللہ عنہ : عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصحَابَةِ، قَالَ: " النَّوْمُ أَوَّلَ النَّهَارِ خُرْقٌ، وَأَوْسَطَهُ خُلُقٌ، وَآخِرَهُ حُمْقٌ "۔( شرح مشکل الآثار 3/102) ۔
ترجمہ : حضرت جبیر بن خوات فرماتے ہیں:’’دن کے اول حصہ (نمازِ فجر کے بعد) کی نیند جہالت‘درمیانی حصہ (نمازِظہر کے وقت قیلولہ) کی نیند اچھی عادت، اور آخری حصہ(نمازِعصر کے بعد) کی نیند حماقت (بے وقوفی) کا باعث ہے۔‘‘۔
۲۔ اثر عبد اللہ بن عمرو  رضی اللہ عنہ : عن عبد الله بن عمرو بن العاص أنه كان يقول: النَّوْمُ ثَلَاثَةٌ: فَنَوْمٌ خُرْقٌ وَنَوْمٌ خُلُقٌ وَنَوْمٌ حُمْقٌ ، فَأَمَّا نَوْمَةُ الْخُرْقِ فَنَوْمَةُ الضُّحَى، يَقْضِي النَّاسُ حَوَائِجَهُمْ وَهُوَ نَائِمٌ ، وَأَمَّا نَوْمَةُ خُلُقٍ فَنَوْمَةُ الْقَائِلَةِ نِصْفَ النَّهَارِ، وَأَمَّا نَوْمَةُ حُمْقٍ فَنَوْمَةٌ حِينَ تَحْضُرُ الصَّلَوَاتُ۔( شرح مشکل الآثار 3/101)۔
۳۔ آل زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے آثار :
حضرت زبیر : عن عروة قال: كان الزبير يَنهى بنيهِ عن التصبُّح.
ترجمہ : زبیر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو صبح کے وقت سونے سے منع کیا کرتے تھے۔
ابن الزبیر: عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ: " يَا عُبَيْدُ بْنَ عُمَيْرٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْأَرْضَ عَجَّتْ إِلَى رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ نَوْمَةِ الْعُلَمَاءِ بِالضُّحَى مَخَافَةَ الْغَفْلَةِ عَلَيْهِمْ "۔۔( شرح مشکل الآثار 3/104)۔
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن زبیر نے عبید بن عمیر سے کہا : آپ کو معلوم نہیں کہ زمین خدا کی بارگاہ میں فریاد کرتی ہے علماء کے چاشت کے اوقات میں سوتےپڑے رہنے سے ، دینی ذمہ داریوں سے غفلت واقع ہونے کے اندیشہ کی وجہ سے ۔
عروۃ بن الزبیر : قال عروة: إنى لأسمع بالرجل يتصبَّح فأزهدُ فيه ۔
ترجمہ : عروہ کہتے ہیں کہ:"میں جس کسی کے بارے میں یہ سنتاہوں کہ وہ صبح کے وقت سوتا ہے تو میری اس میں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے"۔
۴۔ اثرعمر رضی اللہ عنہ اِيَّاكُمْ ونَوْمَةَ الْغَدَاةِ فَإِنَّهَا مَبْخَرَة مَجْفَرَة مَجْعَرَة۔ النهایہ فی غريب الحديث والأثر (1/ 101)۔
ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ عنہ صبح کی نیند سے منع فرماتے تھے کہ یہ نیند جسمانی بخار کو بڑھاتی ہے، انسان کو سست کرتی ہے اور طبیعت میں خشکی پیدا کرتی ہے.
۵۔ اثر ابن عباس رضی اللہ عنہ : مَرَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَبَّاسِ بِالْفَضْلِ ابْنِهِ وَهُوَ نَائِمٌ نَوْمَةَ الضُّحَى، فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ لَهُ: قُمْ؛ إِنَّكَ لَنَائِمُ السَّاعَةِ الَّتِي يُقَسِّمُ اللهُ فِيهَا الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ، أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَتِ الْعَرَبُ فِيهَا؟ قَالَ: وَمَا قَالَتِ الْعَرَبُ فِيهَا يَا أَبَتِ؟ قَالَ: زَعَمَتْ أَنَّهَا مُكْسِلَةٌ مُهْرِمَةٌ مُنْسِأَةٌ لِلْحَاجَةِ، ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ! نَوْمُ النَّهَارِ عَلَى ثَلَاثَةٍ؛ نَوْمُ حُمْقٍ؛ وَهِيَ نَوْمَةُ الضُّحَى، وَنَوْمَةُ الْخُلُقِ؛ وَهِيَ الَّتِي رُوِيَ: قِيلُوا فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَا تَقِيلُ، وَنَوْمَةُ الْخُرْقِ؛ وَهِيَ نَوْمَةٌ بَعْدَ الْعَصْرِ لَا يَنَامُهَا إِلَّا سَكْرَانُ أَوْ مَجْنُونٌ. (المجالسۃ وجواهر العلم 5/221
ترجمہ :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے فضل کو چاشت کے وقت سوتے ہوئے پایا ، تو پیر سے ان کو ہلاکر کہا : اٹھ جاؤ ، تم ایسے وقت سورہے ہو جس میں خدا اپنے بندوں پر روزی بانٹتا ہے ۔ تم نے  نہیں سنا عرب اس وقت سونے کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ فضل نے کہا : کیا کہتے ہیں بتائیے؟فرمایا : عرب کہتے ہیں کہ یہ وقت سونا سستی پیدا کرتا ہے ، بڑھاپے کو جلدی لاتا ہے ، اور ضروریات کے پورا ہونے میں تاخیر کا باعث ہے ۔پھر کہا : بیٹے دن میں نیند تین طرح کی ہے : ’’دن کے اول حصہ(چاشت ) کی نیند جہالت‘درمیانی حصہ کی نیند اچھی عادت،جس کے بارے میں وارد ہے : قیلولہ کرو چونکہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے۔ اور آخری حصہ(عصر کے بعد) کی نیند حماقت کا باعث ہے، اس وقت مجنون یا شرابی لوگ سوتے ہیں۔
۶۔ اثر ابن عباس :  الطبراني في "الكبير" عن ابن عباس بلفظ: " إذا صليتم الفجر؛ فلا تناموا عن طلب رزقكم ".( ولم نجده في الطبراني ).
ترجمہ : جب تم فجر کی نماز پڑھ لو ،تو روزی تلاش کرنے سے غافل ہوتے ہوئے سوتے مت رہو ۔
۷۔ اثر طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ: عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: " أَنَّهُ مَرَّ بِابْنٍ لَهُ تَصَبَّحَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَقَدَهُ، وَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ . مصنف ابن ابی شيبہ (5/ 222)۔
ترجمہ : حضرت طلحہ کا  گذر اپنے ایک بیٹے پر ہوا جبکہ وہ صبح کے وقت لیٹا ہواتھا ، تو اس کو کہا کہ :میں تمہاری خبر گیری کے لئے آیا ، پھر ان کو سونے سے منع فرمایا۔
۸۔ اثر عمر بن عبد العزيز تابعی : وكتب عمر بن عبد العزيز رحمه الله إلى مؤدّب وَلده: خُذهم بالجَفاء، فهو أمنع لاقدامهم، وترك الصُّبحة، فإن عادتَها تُكسِب الغفلة۔ حياة السلف بين القول والعمل (ص: 546
ترجمہ : حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے اولاد کی تربیت کرنے والے  استاذ کو لکھ کر تحریر فرمایا کہ : ان کے ساتھ سنجیدگی سے پیش آئیں تاکہ وہ جریء نہ ہوں ، اور صبح کے وقت سونے سے منع کریں ، کیونکہ اس کی عادت لا پرواہی کو جنم دیتی ہے ۔
۹۔ اثر علقمہ بن قیس تابعی : عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: بَلَغَنَا " أَنَّ الْأَرْضَ تَعُجُّ إِلَى اللهِ مِنْ نَوْمَةِ الْعَالِمِ بَعْدَ صلَاةِ الصُّبْحِ " شعب الإيمان (6/ 406)۔
اجازت پر دلالت کرنے والی روایات :
۱۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا : حدیث ام زرع میں بروایت حضرت عائشہ ہے: (فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ، وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُصحيح مسلم (4/ 1899)
أَيْ: أَنَام الصُّبْحَة، وَهِيَ بَعْدَ الصَّبَاح، أَيْ: أَنَّهَا مَكْفِيَّةٌ بِمَنْ يَخْدُمُهَا  فَتَنَامُ. شرح النووي ( 8 / ص 198).
وقولها: " وأرقد فأتصبح ": أى أنام الصُّبحة، وهى نوم أول النهار، تريد أنها مُرفَّهة، عندها من يخدُمها ويكفيها مؤونة بيتها، إذ لا ينام الصبحة إلا من هو بهذه الصفةإكمال المعلم بفوائد مسلم (7/ 465).
 (فعنده أقول فلا أقبَّح) أي: لا يقبح قولي ولا يرد عليّ لإكرامه لها.(وأرقد فأتصبح) أي: أنام الصبحة، وهي نوم أول النهار فلا أوقَظ إكرامًا لها أيضًا. التوشيح شرح الجامع الصحيح (7/ 3272).
ترجمہ :ان کے ہاں میں بولتی تو میری نکتہ چینی کوئی نہ کرتا ،میں دن چڑھے تک سوتی رہتی اور کوئی مجھے جگا نہیں سکتا تھا۔

تفہیم المسلم (3/708) : اور سوتی ہوں تو صبح کردیتی ہوں ، یا صبح کے بعد سوتی ہوں ، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گھر کے کام سب نوکر کرتے ہیں ، نیند پر کوئی پابندی نہیں ۔
خودحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اور دیگر صحابہ تابعین کاطلوع آفتاب کے بعد سونے کا معمول تھا ، جیساکہ (مصنف ابن ابی شیبہ) میں مستقل ایک باب بعنوان (من رخص فی التصبح )کے ماتحت منقول ہے ۔
مصنف ابن ابی شیبہ کی روایات ملاحظہ فرمائیں:
25449 - عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّهَا كَانَتْ تُصَبِّحُ» حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہصبح کے وقت سوتی تھیں ۔
25451 - عَنْ مُجَاهِدٍ: «أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَامَتْ نَوْمَةَ الضُّحَى» مجاہد نے کہا کہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا جب سورج طلوع ہوجاتا تو اس کے بعد آرام فرماتی تھیں.
25450 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشَّمَّاسِ، قَالَ: " أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ فَوَجَدْتُهَا نَائِمَةً - يَعْنِي: بَعْدَ الصُّبْحِ " حضرت عبد اللہ بن شماس فرماتے ہیں کہ : حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا توان کو سویا ہوا پایا صبح کی نماز کے بعد ۔
25452 - عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: «أَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَوَجَدْتُهُ نَائِمًا نَوْمَةَ الضُّحَى» عبد الاعلی فرماتے ہیں کہ : میں حضرت سعید بن جبیرکے پاس آیا تو میں نے ان کو صبح کی نیند کرتے ہوئے پایا۔
25453 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: «أَنَّهُ كَانَ يَتَصَبَّحُ» حضرت ابن سیرین صبح کے وقت سویا کرتے تھے ۔
25454 - غَدَا عُمَرُ عَلَى صُهَيْبٍ فَوَجَدَهُ مُتَصَبِّحًا، فَقَعَدَ حَتَّى اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ صُهَيْبٌ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَاعِدٌ عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَصُهَيْبٌ نَائِمٌ مُتَصَبِّحٌ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ تَدَعَ نَوْمَةً تُرْفِقُ بِكَ» حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس صبح کے وقت آئے تو انہیں سویا ہوا پایا، آپ رضی اللہ عنہ نے انتظار کیا جب تک کے وہ بیدار ہوگئے ، تو حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : امیر المؤمنین اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور صہیب ہے کہ وہ صبح کی نیند سویا ہوا ہے ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے فرمایا : میں نے یہ بات پسند نہیں کی کہ میں تمہیں بغرض استراحت کی نیند سے بیدار کروں۔
  اس وقت سونے کا حکم : 
جیساکہ شروع میں عرض کیا گیا ہے کہ روایتیں ممانعت اور اجازت دونوں طرح کی ہیں ، جس سے اجمالا حکم معلوم ہوتا ہے ، یعنی چند وجوہات کی بناء پر مکروہ ، اور دیگر وجوہات کی بناء پر مباح ،لیکن وجوہِ ممانعت واجازت کی نشاندہی کرنے سے بات واضح ہوگی ۔
وجوہ ممانعت وکراہت:
۱۔ رزق کی برکت سے محرومی ہوتی ہے (حضرت عثمان)۔
۲۔ دن کے اول حصہ کی نیند جہالت ہے ( حضرت خوات بن جبير)۔
۳۔ کسب معاش اور قضاء حوائج میں تاخیرہوتی ہے (حضرت عبد اللہ بن عمرو)۔
۴۔ دینی ذمہ داریوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے (حضرت ابن زبیر )
۵۔ زمین بھی نا پسند کرتی ہے ، اور تکلیف کا اظہار کرتی ہے (حضرت ابن زبیر ،علقمہ)۔
۶۔ جسمانی بخار کو بڑھاتی ہے، انسان کو سست کرتی ہے اور طبیعت میں خشکی پیدا کرتی ہے (حضرت عمر)۔
۷۔ بڑھاپے کو جلدی لاتی ہے (حضرت ابن عباس )۔
۸۔ اس کی عادت لا پرواہی کو جنم دیتی ہے (حضرت عمر بن عبد العزیز)۔
۹۔ فرشتوں کو صبح سویرے بندوں کی روزیوں کی تقسیم پر مامور کیا جاتا ہے ، تووہ  سوئے ہوئے کو مستغنی سمجھ کر طالبِ رزق کی طرف توجہ کرتے  ہیں ( التنویر شرح الجامع الصغیر)۔
۱۰۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے صبح سویرے طلب معاش میں برکت کی دعا سے محرومی ہوتی ہے ۔(ابو داود 2606شریعت کے اس حکم پر عمل کرنے سے کم وقت میں زیادہ رزق (یعنی جو آپ کی ضروریات کو کفایت کر سکتا ہے) کمایا جا سکتا ہے۔
ممانعت کی وجوہات کا خلاصہ یہ ہے کہ :رزق کی برکت سے محرومی ، ذمہ داریوں کا ضیاع، کسب معاش میں تنگی ، اور مضر صحت ہونے کی بناء پر نا پسندیدہ ہے،خصوصا اس کی عادت بنالینابہت سارے مفاسد کا سبب ہے۔

اقوال فقہاء المذاہب :
 الحنفية  

قال في الہندیة: ویکرہ في أول النہار وفیما بین المغرب والعشاء (۵/۳۷۶، دار الکتاب دیوبند)۔
وَأَمَّا التَّصَبُّحُ مِنْ غَيْرِ سَهَرٍ. يَعْنِي النَّوْمَ فِي أَوَّلَ النَّهَارِ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ سَاهِرًا بِاللَّيْلِ. فَإِنَّ ذَلِكَ نَوْعٌ مِنَ الْحُمْقِ. تنبیہالغافلين باحاديث سيد الانبياء والمرسلين للسمرقندي (ص: 195)۔
فتوی دار العلوم دیوبند : 
اگر کوئی شخص نماز فجر کے بعد تھوڑی دیر تسبیحات وغیرہ میں لگا رہے اور سورج طلوع ہونے کے بعدسوئے تو اس کے حق میں کوئی قباحت وکراہت نہیں رہے گی، بعض بزرگوں کا اس طرح کا معمول رہا ہے۔
 المالكية  
[مسألة: الرجل ينام بعد المغرب وبعد الصبح]
مسألة: وسئل مالك عن الرجل ينام بعد المغرب، قال: ذلك يكره، قيل له :فالنوم بعد الصبح؟ قال : ما أعلمه حراما . البيان والتحصيل (1/ 352)۔

وَقَالَ الْجُزُولِيُّ: وَيُكْرَهُ النَّوْمُ إذْ ذَاكَ؛ لِأَنَّهُ أَحْرَمَ نَفْسَهُ مِنْ الْفَضِيلَةِ؛ لِأَنَّهُ جَاءَ فِي الْحَدِيثِ :«الصُّبْحَةُ تَمْنَعُ الرِّزْقَ» وَاخْتُلِفَ فِي مَعْنَاهُ ، فَقِيلَ : الرِّزْقُ الْمُرَادُ هُنَا الْفَضْلُ، وَقِيلَ: مَعْنَاهُ كِتَابُ الرِّزْقِ۔ انْتَهَى. مواهب الجليل في شرح مختصر خليل (2/ 74)۔  وَفِي الِاسْتِغْنَاءِ: لَا يُكْرَهُ نَوْمُ مَنْ اتَّصَلَ سَهَرُهُ وَقِيَامُهُ مِنْ اللَّيْلِ بِهِ۔ انْتَهَى.
  الحنابلة  
ظَاهِرُ مَا ذَكَرَهُ الْأَصْحَابُ: أَنَّ نَوْمَ النَّهَارِ لَا يُكْرَهُ شَرْعًا لِعَدَمِ دَلِيلِ الْكَرَاهَةِ ،إلَّا بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَإِنَّهُ تُسْتَحَبُّ الْقَائِلَةُ. الآداب الشرعیہ والمنح المرعیہ (3/ 161)۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب "زاد المعاد" میں تحریر فرماتے ہیں کہ: صبح کے وقت سونا بہت گھٹیا عمل ہے ،اور یہ بہت ساری بیماریوں کا سبب ہے، مثلا سستی، رنگ کا پھیکا ہوجانا، جگر کی بیماریوں کا سبب وغیرہ...
وجوہ جوازواباحت :
 ۱۔ اپنے کام کاج میں بھرپور توجہ حاصل کرنے کیلئے کوئی آرام کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً اگر اسے دن میں سونے کا وقت ہی اسی وقت ملتا ہو(حضرت صہیب )۔
۲۔ شب بیداروں،تہجد گزاروں ، اور جن کی رات کی ڈیوٹی ہو،یاملازمت میں رات کی شفٹنگ ہو، اور استراحت کے لئے دوسرا وقت میسر نہ ہو۔
۳۔ طلب معاش ،ملازمت ، باقی ذمہ داریوں ،اور تکسب کے اوقات دن چڑھے  تاخیرسے ہونے کی وجہ سے کوئی خلل نہ ہو  تا ہو۔
۴۔ مسافرین کے لئے دوران سفر ، خصوصا جب سواری میں ہوں ، اور اس وقت کوئی مشغلہ ممکن نہ ہو ۔
۵۔ جن کے لئے ان کی ذمہ داریوں کی کفایت کرنے والے ہوں، جیسے خواتین کے لئے گھر کے کام کاج لئے نوکر چاکر ۔(حضرت عائشہ)۔
۶۔ دیگر اصحابِ اعذارکے لئے عموما ۔
۷۔ اتفاقاکبھی بغیر اعتیادکے سونا ، بغرض استراحت وازالۃ  تکان ۔

  خلاصہ کلام   

صبح  کی نیند کے ممنوع ہونے کے بارے میں صراحتا جو روایات وارد ہیں وہ اگرچہ سند کے اعتبار سے بہت ضعیف ہیں، لیکن عمومی روایات اور تعامل سلف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صبح کی نیند ناپسندیدہ عمل ہے، لہذا اس سے اجتناب کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیئے، البتہ خاص حالات ، اورعذر کی حالت اس سےمستثنی ہے، اور اس کے متعلق اباحت کی صحیح  روایات اور صحابہ کرام کا عمل موجود ہے۔  اشخاص اور حالات کے اعتبار سے بھی حکم مختلف ہوگا ۔
لیکن افسوس ہے کہامت کے بعض افراد نے صبح کے  بعد سونا زندگی کا لازمی حصہ بنایا ہوا ہے۔آج معاشرے کا ہر فرد رزق کے بارے میں پریشان ہے،کما کما کے تھک جانے کے بعد بھی دلی سکون کے نہ ہونے اور ضروریات کے پورا نہ ہونے نے دل دماغ کو بوجھل کر دیا ہے۔ معاشیات کی نظر سے اس کا ذمہ افراط وتفریط زر کو بھی بنایا جا سکتا ہے، لیکن سوچئے تو سہی اور کیا کمی ہے؟ وہ کمی نبی کی تعلیم پر عمل نہ کرنا ہے ۔ پھر ایسی غفلت پر اگر رزق کی پریشانی ہو تو اس کا کیا علاج ہے؟َ
یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارے ہاں مارکیٹوں کا مزاج ہی رات گئے تک کاروبار کرنا اور صبح دیر سے کھولنا بن گیا ہے، لیکن کیا اس کا حل صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنا ہے۔ یقیناً جواب نفی میں ہے تو اس دعوت کو عام کیجیے، مارکیٹ کلچر تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کیجیے۔ سو  مایوسی کی کوئی بات نہیں۔ بس ذرا ہمت کی ضرورت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ :فجر کے بعد کے چھ گھنٹے استعمال کرنیوالے شخص کے دن روشن، پرسکون ہوتے ہیں، جب کہ دیر سے اُٹھنے والے کے بوجھل اور ناکامیوں سے عبارت۔اللہ نے کائنات کو ایک فطرت، ایک قانون کے تحت خلق کیا ہے، سورج صبح طلوع ہوتا ہے، تاریکی کو روشنی میں بدل دیتا ہے، اس کی کرنوں سے پھول کھلتے، فضائیں مہکتی ہیں، سبزہ چرند پرند قوت و افزائش حاصل کرتے ہیں۔ جس طرح سورج دوپہر کو طلوع نہیں ہو سکتا، انسان بھی دوپہر کو جاگ کر کامیابی و سکون حاصل نہیں کر سکتا۔
فجر کے بعد کے چھ گھنٹوں کی مثال ہماری نوجوانی کی ہے، جس طرح نوجوانی کا دور ہماری زندگی کا بہترین صلاحیتوں سے بھرا خوابوں کو حقیقت بنانے کا دور ہوتا ہے، اسی طرح چوبیس گھنٹوں کی نوجوانی صبح کے یہ چھ سات گھنٹے ہیں، جن کے استعمال سے ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔
اس وقت انسان کو فطرت کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے، اس لیے وہ بہتر فیصلے کرتا ہے، جبکہ صبح کے گھنٹوں کو سو کر برباد کرنا ایسے ہی ہے جیسے انسان نوجوانی کو سو کر ضائع کر ڈالے۔طلوع ِ آفتاب کے وقت جاگنے میں ہی صحت، سکون، ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔

دنیا کی کامیاب قومیں فطرت کے اسی اصول ’’جلدی سونا، منہ اندھیرے جاگنا‘‘ کے تحت ہی ترقی و ایجادات کی منازل طے کر سکیں۔ چین، جاپان، امریکا، یورپ ہر جگہ لوگ صبح سویرے دن کا آغاز کرتے ہیں۔
جو قومیں خندہ پیشانی سے جاگتے ہوئے صبح کا استقبال کرتی ہیں، وہی اس سے بیش بہا فوائد حاصل کرتی ہیں۔ ہمارا دھیان ابھی تک اس باریک اور انتہائی  اہم نقطے کی جانب نہیں گیا کہ رات کے اندھیروں میں بلاوجہ جاگنا ہمیں سوائے اندھیروں کے کہیں نہیں پہنچائے گا۔ روشن مستقبل کے لیے ہمیں روشن صبح کا انتخاب کرنا ہو گا، جو کہ ترقی یافتہ اقوام کا طرزِ حیات ہے۔
مگرجو لوگ دن کا بہترین وقت سو کرگزار دیں وہ کبھی ترقی کرسکتے، نہ ہی نفسیاتی جسمانی الجھنوں سے آزاد خوشگوار زندگی گزارسکتے ہیں۔
 بحیثیت  والدین بھی ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنی اولاد کو صبح جلد اُٹھنے کے اس بہترین ہتھیار سے ابھی سے لیس کریں ،جو کہ انھیں اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے کل شدت سے درکار ہو گا۔
ہماری ذمہ داری ہے کہمعاشرے میں موجود غلط روایات کو مثبت طرز ِزندگی میں بدلنے کے لیے اقدامات کریں ،تا کہ ہم بھی فطرت سے ہم آہنگ ہو کر بھرپور، پُرسکون اور کامیاب زندگی بسر کرسکیں۔
والله اعلم بالصواب