پیر، 10 اکتوبر، 2016

مقدمہ تفسیر القرآن لدروس البرزان ( قسط اول )

تحریر:  اكبر حسين اوركزئي


الحمد لله الذی أوحی الی عبدہ ما اوحی کما اوحی الی الرسل من قبله قال الله تعالی
 اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ  ۚ   
 والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وأصحابه أجمعين.  اما بعد  .
جان لینا چاہئے کہ تفسیر القرآن اہم علوم میں سے ہیں ۔ جو چیز اہم ہوتی ہے تو اس کی اہمیت کو جاننے کی عرض سے اس کی شروع کرنے سے پہلے کچھ اصول بیان کی جاتی ہیں ۔ لہذا قرآن کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے ہمارے مشائخ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ کچھ اصول بیان کرتے ہیں تاکہ بعد میں درس کے دوران  فہم القرآن کیلئے کارآمد ہوں ۔ اور اسے ہم  
تعريف القرآن کریم​
لغوی تعریف:مصدر قرأ  يعني  قرات بمعنی تلا يعني  تلاوت یا پھر بمعنی جمع ۔ کہتے ہیں
قرأ قرءاً وقرآناً جیسا کہ کہتے ہیں: غفر غَفْراً وغفرانا پس پہلے معنی کے اعتبار سے "مصدر ہوگا بمعنی اسم مفعول کے یعنی "متلوّ" (جس کی تلاوت کی جاتی ہے)۔اور دوسرے معنی کے اعتبار سے جَمَعَ مصدر ہوگا بمعنی اسم فاعل یعنی جامع( جمع کرنے والا ) کیونکہ قرآن مجید اخبار واحکام کو جمع کرتا ہے:( اور جمع کے تعلق سے بمعنی اسم مفعول بھی ہوسکتا ہے یعنی مجموع کیونکہ اسے مصاحف وسینوں میں جمع وحفظ کیا جاتا ہے۔)
شرعی تعریف:
قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے جو اس نے اپنے رسول اور خاتم الانبیاء محمد ﷺ پر نازل فرمایا۔ جو سورۃ الفاتحہ سے شروع ہوتا ہے اور سورۃ الناس پر ختم ہوتا ہے۔                 اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَنْزِيلاً﴾ (الدھر: 23)  بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ   (یوسف: 2) یقیناً ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو .
اور اللہ تعالی نے اس قرآن عظیم کو کسی بھی قسم کے تغیرو تبدیلی، نقص یا زیادتی سے محفوظ رکھا ہے۔ کیونکہ خود اللہ عزوجل نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، فرمایا:    ﴿ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ     ﴾(الحجر: (
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں​.
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم جو ہمارے پاس ہے فعینہ و جنسیہ وہی ہے  جس کو حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ کی طرف سے آپ ﷺ  پر لائے تھے اس میں ایک حرف بھی کم زیادہ نہیں ہوا نہ آپ ﷺ کے عھد میں اور نہبعد میں . تفسیر حقانی 95/1

أسماء القرآن
لفظ القرآن کے لغوي و شرعي تعريف کے بعد اب اسکی اسمآء جا ن لیجئے کہ قرآن کریم کے کتنے نا م ہیں جو قرآن میں بیا ن ہوئے ہے تفسیرالنکت والعیون میں امام ابی الحسن علی بن محمد بن حبیب الما و ردی البصریؒ(المتوفی 450 ه)     فرماتے ہیں ۔
(
سمی اللہ القرآن فی کتابه بأربعة اسماء ۔ ۱/۲۳) اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں قرآن کو چا ر نا موں سے مسمی کیا ہے ۔ (۱)  القرآن :(جس کا ذکر قرآن میں 68 دفعہ ہوا ہے )  جيسا کہ
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ       Ǽ۝ يوسف
 (2)  الفرقان : (جس کا ذکر قرآن میں 4 دفعہ ہوا ہے )   جيسا کہ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَۨا Ǻ۝ۙ  الفرقآن
(3) 
الكتاب : (جس کا ذکر قرآن میں 149 دفعہ ہوا ہے )  جيسا کہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا   Ǻ۝ڸ الكهف
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ    89؀ۧ النحل
(4)  الذكر : (جس کا ذکر قرآن میں 14 دفعہ ہوا ہے )  جيسا کہ       اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ     Ḍ۝ الحجر
علامہ محمد بن احمد جزی الکلبی (المتوفی ۷۴۰ ؁ ھ)  تسھیل فی علوم القرآن ص۵ پر فرما تے ہیں کہ قرآن کے نام یہی چا ر (قرآن۔ فرقان۔کتاب۔ذکر ،) ہیں باقی اس کے صفات ہیں ۔ شیخ الاسلام ابن تمیہ ؒ نے بھی اسماء القرآن پر الدقائق التفاسیر میں تفصیل کی ہے ۔
نزول القرآن
قرآن کریم دراصل کلام الہی ہے اور لوح محفوظ میں موجود ہے قرآن کریم کا ارشاد ہے ۔
ﭽ بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ    21؀ۙ  فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ   22؀ۧ  ﭼ البروج:    (بلکہ یہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں )
پھر لوح محفوظ سے اس کا نزول دو مرتبہ ہوا ہے ایک مرتبہ پورے آسمان دنیا کے بیت عزت میں نازل کر دیا گیا تھا بیت عزت (جسے البیت المعمور بھی کہتے ہیں ) کعبة اللہ کے محاذات میں آسمانوں پر فرشتوں کی عبادت گاہ ہے یہ نزول لیلۃ القدر میں ہوا تھا .  پھر دوسری مرتبہ آنحضرت ﷺ پر تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت نازل کیا جاتا رہا یہاں تک کے تیئیس سال میں اس کی تکمیل ہوئی نزول قرآن کی یہ دو صورتیں خود قرآن کریم کے انداز بیان سے بھی واضح ہیں اس کے علاوہ نسائی ؒ بیہقی ؒ اور حاکم وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے متعدد روایتیں نقل کی ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے کہ قرآن کریم کا پہلا نزول یکبار گی آسمان دنیا پر ہوا اور دوسرا نزول بتدریج آنحضرت ﷺ پر (اتقان 1/ 41) ۔ 
وحي كا مفهوم
قرآن مجیدبذریعہ وحی آپﷺ پر نازل ہوا۔ عربی زبان میں وحی کا معنی لطیف اشارہ کرنایا مخفی طور پر انتہائی سرعت کے ساتھ کسی کو کوئی بات یا پیغام بھیجنا یا دل میں کوئی بات ڈال دینے کے ہیں۔(تاج العروس ۱۰؍۳۸۵)
 امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مخفی اور انتہائی سرعت کے ساتھ سونے جاگنے کی قید بھی لگائی ہے۔(مجموع فتاوی۱۲؍۳۹۸)
 امام راغب اصفہانی نے وحی کے چار معانی اورطریقے بیان کئے ہیں:۱۔ از راہ رمز وتعریض کوئی بات کرنا۔۲۔ محض آواز کا ہونا جس میں کوئی ترکیب نہ ہو۔۳۔ کسی انسانی عضو سے اشارہ کرنا۔۴۔ کتابت۔
تمهيد : وحي جاننے سے پہلے ایک تمہید
 انسان تین ذرائع میں سے کسی ایک ذریعہ سے علم حاصل کرتا ہے۔
(1) حواس خمسة  يعني . 
                                (أ )  قوت بصارت ,        يعني أنكهـ  کسی چیز کو دیکھنے سے
                                (ب) قوت ذائقة .            يعني منه کسی چیز چکنے سے
                                (جـ) قوت سماعت ،         یعنی کان  کسی خبر کو سننے سے
                                (د) قوت لامسہ ،         کسی چیز کو چونے سے ،جیسے ہاتھ پاوں
                                (ھ) قوت شامہ ،          کسی چیز کو سونگنے سے یعنی ناک
(2) عقل                                                 (3) وحی
تو ایک انسان کو حصول علم کے لیے  حواس خمسہ ( آنکھ، کان، منہ ، ہاتھ پاؤں، ناک)  دوسرا ذریعہ عقل اورتیسرا ذریعہ وحی ہے۔ انسان کو بہت سی باتیں اپنے حواس کے ذریعہ معلوم ہوجاتی ہیں، جبکہ بہت سی عقل کےذریعہ اور جو باتیں ان دونوں ذرائع سے معلوم نہیں ہوسکتیں ان کا علم وحی کے ذریعہ عطا کیا جاتا ہے۔
حواساور عقل کے ذریعہ حاصل شدہ علم میں غلطی کے امکان ہوتے ہیں لیکن وحی کے ذریعہ حاصل شدہ علم میںغلطی کے امکان بالکل نہیں ہوتے کیونکہ یہ علم خالق کائنات کی جانب سے انبیاء کے ذریعہ انسانوں کو پہنچتاہے۔ غرض وحی انسان کے لئے وہ اعلیٰ ترین ذریعہ علم ہے جو اسے اسکی زندگی سے متعلق ان سوالات کا جواب مہیاکرتا ہے جو عقل وحواس کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتے۔ یعنی صرف حواس اور عقل اور مشاہدہ انسان کی رہنمائیکے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اس کی ہدایت کے لئے وحئ الہی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ چونکہ وحی عقل اور مشاہدہسے بڑھ کر علم ہے لہذا ضروری ہے کہ وحی اور اس کے اقسام کو قرآن کی رو سے سمجھیں   .
اقسام وحي
وحی بمعنی   الهام :  { وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ }   النحل 68 اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر الہام کیا
وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ  ۚ القصص 7  ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف الہام  کیا کہ اس بچے (موسیٰ) کو دودھ پلاتی رہو .
یہ جبلت کی وحی ہے جو جانور اور انسان دونوں کو حاصل ہوتی ہے۔
وحی بمعنی اشارہ :
  کسی عضو سے اشارہ کرنا۔ جیسے:       فَخَرَجَ عَلٰي قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِم         ْ 11  ؀ مریم :۱۱)
محراب سے نکل کر انہوں (زکریا ؑ)نے اپنی قوم کو اشارہ کیا۔
کیونکہ بولنے سے منع کر دیے گئے تھے اس لئے أوحی إلیھم کا معنی ہے: ان کی طرف اشارہ کیا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ انہوں نے زمین پر لکھ کر بات کی تھی اس لئے وحی کا لفظ لکھنے کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔
وحی بمعنی کونی امر يعني حكم :
 اللہ تعالی کی طرف سے جامد چیزوں کو حکم ہونا جسے وحی کہا گیا ہے۔ جیسے:
{ يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا  Ć۝ۙ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا   }  (الزلزلۃ )
جس دن زمین اپنے اندر کی خبریں بیان کرے گی   کیونکہ اس کے رب نے اسے حکم دیا ہو گا‘‘ اسی طرح یہ فرمانا: 
{ وَاَوْحٰى فِيْ كُلِّ سَمَاۗءٍ اَمْرَهَا } (فصلت: ۱۲)  اور (تیرے رب نے) آسمان کی طرف وحی کی۔
وحی بمعنی وسوسہ:
شیطان، انسان کے ذہن میں ایسا وسوسہ اور برا خیال لے آئے جو رگوں میں خون کی طرح تیزی سے دوڑے ۔
{ وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا  ۭ
}(الأنعام :۱۱۲)
اور اسی طرح ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو ہر نبی کا دشمن بنا لیا ہے  جو فریب دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں خوشنما باتیں ڈالتے ہیں .
وحي كي ان چار اقسام( الھام ، اشارہ، کونی امر حکم، وسوسہ) ایک اور قسم جو وحی بمعنی پیغام الہی ہے .
وحی بمعنی پیغام الہی:
جیسا کہ نبي كريم صلى الله عليه وسلم كے بارے ميں یہ فرمانا: { فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى   10 }(النجم :۱۰)   پھر اپنے بندے کی طرف وحی کی جو کرنی تھی۔

اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّـبِيّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ  ۚ  وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ ۚ وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا     ١٦٣؀ۚ  النسائ   163
یہی علم کا حقیقی سرچشمہ ہے۔
شرعاً وحی کا معنی:
وہ وحی جو پیغام الٰہی کے زمرے میں آتی ہے اس کے لئے قرآن میں لفظ وحی دو انداز میں استعمال ہوا ہے۔۱۔ ایحاء :
مصدری معنی میں ۔ وحی کرنا جیسے: إنا أوحینا ’’ہم نے وحی کی‘‘ (مفردات القرآن)۔ اپنے نبی کو کسی حکم شرعی کے بارے میں آگاہ کرنا۔
۲۔ وحی :
اسم مفعول (المُوحٰی)کے معنی میں۔   وہ کلام جو وحی کیا گیا جیسے: وَوَحْیِنَا ’’ اور ہماری وحی کی مطابق‘‘ اپنے نبی پر اپنا کلام نازل فرما کر انہیں غیب کی خبروں اور شریعت کے بارے میں آگاہ کرنا۔  بظاہر اس شرعی معنی کے بھی وحی لغوی معنی سے الگ نہیں ہوتی۔ ان میں فرق صرف عام وخاص کا ہے یعنی وحی لغوی معنی میں عام ہے اور ہر مخفی چیز کی اطلاع کو شامل ہے۔ اور شرعی معنی میں وہ صرف اللہ تعالی کی انبیاء کرام کواطلاع دینے سے خاص ہے۔ ان دونوں حیثیتوں سے لفظ وحی کی متعدد صورتیں ہیں جو قرآنی آیات اور احادیث نبویہ میں درج ذیل ہیں:
 شرعی وحی کی اقسام:
اللہ تعالی اپنے رسول اور نبی پر چار صورتوں میں وحی نازل فرماتا ہے۔جس کی وضاحت قرآن مجید میں یوں کی گئی ہے:
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَاۗءُ ۭ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ    51؀   (الشوری : ۵۱ )
کسی بشر کے لئے مناسب نہیں کہ اس سے اللہ بات کرے سوائے 
وحی کے یا حجاب کے پیچھے سے یا کسی فرستادہ کو بھیجے پھر جو چاہے اسی کے حکم سے وہ وحی کرے۔بلاشبہ وہ بلند تر ہے اور حکمت والا ہے۔
اس آیت کریمہ میں وحی کی تین صورتیں بیان ہوئی ، تفصیل بعد میں .
لَـقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْيَا بِالْحَقِّ ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ  . (الفتح : ۲۷)
اللہ تعالی نے اپنے رسول کا خواب سچا کردکھایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم سب ضرور مسجد حرام میں داخل ہوگے۔
اس آیت کی رو سے وحی کی ایک زائد صورت واضح ہوتی ہیں وہ ہے (الرُّءْيَا)  خواب .
۱۔  عالم خواب میں:
یہ وحی کے ابتدائی مراحل تھے جیسا کا حدیث ام المؤمنین میں مذکور ہے:  أول ما بدئ بالوحی الرؤیا الصالحۃ۔ اولاً وحی کی ابتداء آپ ﷺ پر  رؤیائے صالحہ سے ہوئی۔ جو بھی آپﷺ خواب دیکھتے وہ صبح دن کی طرح روشن ہوتا۔ ان سچے خوابوں کو علماء رؤیائے صادقہ کا نام بھی دیتے ہیں۔یا بقول بعض انہیں ارہاص کہتے ہیں۔ جن کا ذکر ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یوں کرتی ہیں:
أَوَّلُ مَا بُدِ ئَ مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ ، َوعِنْدَ مُسْلِمٍ: الصَّادِقَۃُ فِی النَّوْمِ فَکَانَ لاَ یَرَی رُؤْیَا إِلاَّ جَأء تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ۔
وحی کی ابتداء اولاً نیند میں نیک یعنی سچے خوابوں(صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ) سے ہوئی ۔آپ کوئی خواب ایسا نہ دیکھتے جو صبح کی روشنی کی طرح آپ کے سامنے واضح نہ ہوتا۔
خواب میں وحی کی یہ صورت بعد میں بھی برقرار رہی جو وحی خفی کی حیثیت اختیار کرگئے۔اور اللہ تعالی نے بھی ان کی تائید فرمائی جیسا کہ اوپر مذکورسورہ فتح کی آیت نمبر ۲۷میں بیان ہوا ہے۔ابتداء میں یہ خواب اس لئے آتے تاکہ انبیاء کے دل مانوس ہوجائیں۔ ام المؤمنین کی حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے علقمہ بن قیس جو سیدنا ابنؓمسعود کے شاگرد ہیں۔ فرماتے ہیں: إنَّ أَوَّلَ مَا یُؤتٰی بِہِ الأنْبِیَاءُ فِی الْمَنَامِ حَتّٰی تَہْدَأَ قُلُوْبُہُمْ ، ثُمَّ یَنْزِلُ الْوَحْیُ بَعْدُ فِی الْیَقْظَۃِ۔ 
انبیاء کرام سب سے پہلے خواب میں وحی دئے جاتے تھے حتی کہ ان کے دل تسکین میں آجاتے۔ پھر جاگتی حالت میں ان پر وحی نازل ہونے لگتی۔
اللہ تعالی نبی کے دل میں اپنا پیغام القاء کرتا جو یقین اور پختہ خیال کی صورت میں اس کے دل میں بیٹھ جاتا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔
مثلاً: لیٹ کربھی اگر آپ اٹھتے تو فرماتے: میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کی ایک فوج, یہ وحی ہوتی اور صحابہ اسے تسلیم کرتے۔ اسی لئے نبی
ﷺ کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ایسی خوابی وحی ابراہیم علیہ السلام کو بھی آئی تھی۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
فَلَمَّا بَلَــغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يٰبُنَيَّ اِنِّىْٓ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّىْٓ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰى ۭ قَالَ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ ١٠٢؁ الصافات
جب وہ لڑکا(اسماعیل) اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا  تو اس نے کہا اے میرے بیٹھے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں  تو تمہاری کیا راۓ ہے . اس نے کہا ابا جان! کر گزریے جس کا حکم آپ کو دیا جا رہا ہے .
 ظاہر ہے خواب اگر وحی نہ ہوتا تو والد اپنے بیٹے کو اتنی بڑی بات نہ کہتے اور اگر بیٹے کے علم میں یہ ہوتا کہ والد صاحب کا خواب کوئی حیثیت نہیں رکھتا تو وہ فوراً یہی کہتے : اباجان! خواب کی بنیاد میں آپ مجھے ذبح کرنے چلے ہیں؟ مگر بیٹے کے علم میں تھا کہ میرے والد محترم اللہ کے رسول ہیں ۔ ان کا خواب اللہ تعالی کی طرف سے وحی ہے اس لئے جواب بھی فوراً دیا .
{ يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ }  اباجان آپ وہ کرڈالئے جس کا حکم آپ کو دیا گیا ہے۔      میں تیار ہوں۔
یہ تو تھی خواب میں وحی کی حقیقت .
2:  براہ  راست  وحی
خداکی طرف سے براہ راست ملنے والا علم .( وَحْيًا  ) جو الہام اور القاء کی صورت میں ہوسکتا ہے .
3: پس پردہ وحی :
یہ اللہ تعالی کا اپنے خاص بندوں سے مکالمہ ہوتا ہے۔ 
{ اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ }۔ جیسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے پس پردہ اللہ تعالی ہمکلام ہوئے۔ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا     ١٦٤؀ۚ النساء:

وَنَادَيْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ وَقَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا 52؀ مريم
اور ہم نے اسے طور کے دائیں جانب سے پکارا اور اسے سرگوشی میں قربت عطا کی۔
اس وحی میں براہ راست گفتگو ہوتی ہے جس کی صوتی لذت کا سرور رسول ہی جان سکتا ہے۔ اس لئے موسیٰ علیہ السلام جب اللہ تعالی سے ہم کلام ہوئے تو بے ساختہ پکار اٹھے
وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ  ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ   . الاعراف 143
اے میرے رب! مجھے دکھاکہ میں تجھے ایک نظر دیکھ سکوں۔
اسی طرح آپ 
ﷺ جب معراج پر تشریف لے گئے تو اللہ تعالی آپﷺ سے بھی ہم کلام ہوئے۔ پھرآپﷺ نے فرمایا: فأَوْحَی اللّٰہُ إِلَیَّ فَفَرَضَ عَلَیَّ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ۔‘‘(صحیح مسلم ۱؍۱۴۶کتاب الإیمان)
’’ اللہ تعالی نے میری طرف وحی کی اور پچاس نمازیں دن رات میں فرض کردیں .
اس وحی میں نبی، اللہ کا کلام سنتا ہے مگر اسے دیکھ نہیں پاتا۔یہ پس پردہ وحی ہوتی ہے۔ { اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ }(الشوری: ۵۱) یہ وحی کلام الٰہی کہلاتی ہے۔
4۔ وحی بذریعہ جبریل امین:
یہ وحی جلی کہلاتی ہے جو وحی کی دیگر صورتوں کے مقابلے میں آپ 
ﷺ پر زیادہ اتری ہے۔بالخصوص قرآن کریم وحی کی اسی صورت میں اور حالت بیداری میں نازل ہوا ہے ۔( اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا)
 نزول وحی کی اس صورت میں رسول یا نبی کو مکمل وجدان اوریقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ   ١٩٢؀ۭ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ    ١٩٣؀ۙ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ    ١٩٤؀ۙ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ    ١٩٥؀ۭ (الشعراء: ۱۹۲۔۱۹۵)
یہ قرآن یقیناً رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جسے روح الامین لے کر اترے ہیں۔ آپ کے دل پر تاکہ آپ خبردار کرنے والوں میں سے ہوں۔ واضح عربی زبان میں۔
( جاري )

ہفتہ، 8 اکتوبر، 2016

أمن عالم سيرت نبي صلى الله عليه وسلم كي روشني میں


امنِ عالم سیرتِ نبوی صلى الله علیہ وسلم کی روشنی میں
از: محمد اسلم قاسمی ، استاذِ حدیث وقف دارالعلوم دیوبند
امن وامان روئے زمین پر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ امن نہیں ہے تو نہ عالم انسانیت کے ارتقاء کا عمل جاری رہ سکتا ہے نہ معاشرتی زندگی کی بقاء۔ ہر انسانی تحقیق اور ترقی کا وجود امن وسلامتی اور سکون سے ہے، اگر سکون ہی میسر نہیں تو فکری اور عملی ترقی کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اسلام ایک متحرک دین ہے اس لیے امن کا سب سے بڑا علم بردار ہے، چنانچہ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ مغربی نظریہ کے مطابق ”آزادی“ Summum Bonum یعنی ”خیرکثیر“ ہے جبکہ اسلام نے ”امن“ کو خیرکثیر قرار دیا ہے۔
اسلام جو ایک آفاقی مذہب ہے اس پہلو پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے کہ معاشرے میں امن وسکون رہے تاکہ لوگوں کی سوچ متحرک ہو اور ترقی کے راستے سامنے آئیں۔ اسی لیے دین کی بنیاد اللہ سے جڑے رہنے اور تقویٰ یعنی ایک پاکیزہ زندگی پر قائم ہے جو اسلام کی پہلی سیڑھی ہے۔ اچھے اور بُرے لوگ ہر فرقہ میں ہوتے ہیں مگر یہ دنیا کا قدرتی نظام ہے کہ ہر سوسائٹی میں ہمیشہ اچھے افراد بہت زیادہ ہوتے ہیں اور بُرے افراد بہت تھوڑے اس لیے کسی پورے کے پورے فرقہ کو ظالم اور غلط کار کہنا ایک مُسلّمہ حقیقت کا انکار کرنے کی جاہلانہ جسارت کہلائے گا۔
ایمان،اسلام اور سلامِ مُلاقات کے الفاظ میں امن وسلامتی کا ہونا ہی سب سے پہلے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس مذہب کے خمیر میں ہی ”امن وسلامتی“ شامل ہے کیونکہ یہی تینوں چیزیں ایک دین کی ظاہری علامت ہوتی ہیں۔ چنانچہ آنحضرت کا ارشاد ایک ”مومن“ یعنی ایمان والے شخص کی مزاجی کیفیت اور عمومی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن وہی ہوسکتا ہے جس سے دوسرے لوگ اپنے جان ومال کو مامون و محفوظ جانیں“ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک سچا مسلمان ہمیشہ تقویٰ کے مقام پر رہتا ہے جس کے معنی ہیں خدا کا خوف، احتیاط اور برائیوں سے بچنا۔ قرآن کریم میں تقویٰ یعنی پرہیزگاری کا لفظ بطورِ نصیحت اتنا بارہا بار دہرایاگیا ہے کہ ایک عامی شخص بھی اس سے بیگانہ نہیں۔ دنیا میں جینے کا اصول ہی یہ ہے کہ آدمی انتہائی محتاط ہوکر ہر قسم کی برائی، گناہ اور نزاع وجھگڑے سے اپنا دامن بچائے رکھے۔ یہی مُتَّقی آدمی کی پہچان ہے اور یہی سب کے لیے امن وسلامتی کا راستہ ہے۔ تقویٰ کی تعلیم سے قرآنِ پاک بھرا ہوا ہے۔ جناب پیغمبر خدا کا فرمان ہے کہ ”سب سے اعلیٰ ایمان یہ ہے کہ تم یہ جانو کہ تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے“ اب جو شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ ہروقت اللہ کی نگرانی میں ہے تو وہ اپنے ہر عمل میں انتہائی محتاط ہوجائے گا اور پھونک پھونک کر ہرقدم اٹھائے گا۔
انسانی زندگی کا احترام قرآنِ کریم نے جس عجیب وموٴثر پیرائے میں بیان فرمایا ہے اُس تک دنیا کا بڑے سے بڑا مُصلح اور اَمن کا علمبردار بھی نہیں پہنچ سکا۔ ارشادِ قرآنی ہے کہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا  ۭوَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا 
 ”جو شخص کسی انسان کو بلاوجہ مارڈالے تو یہ ایسا ہے جیسے اُس نے ساری دنیا کے انسانوں کو قتل کرڈالا اور جو شخص کسی ایک انسان کی زندگی بچالے تو گویا اُس نے سارے انسانوں کو بچالیا۔“  المائدة   32   (مفہوم آیت)
اسلام میں جنگ کا تصور صرف دفاعی ہے نہ کہ جارحانہ اور حملہ آور کے طورپر پھر اس جنگ کے اصول بھی خالص انسانی اور رحم و ترحم کی بنیاد پر انتہائی سخت ہیں کہ جنگ میں بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور مذہبی لوگوں اور دینی پیشواؤں پر حملہ کرنے کی ممانعت ہے، پھر اسلام ایک تبلیغی مذہب ہے اور اِبلاغ و تبلیغ کا کام امن وسکون چاہتا ہے اس لیے اسلام سب سے پہلے اَمن وامان کا داعی اور مُدّعی ہے۔ حالتِ جنگ ایک افراتفری کی حالت ہے جس میں کوئی تعمیری کام اورآپسی میل جول یااتحاد و اتفاق اور دعوتی مشن ممکن نہیں۔ اسی لیے حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ ”دشمن سے ٹکراؤ اور آمنا سامنا ہونے کی تمنا مت کرو بلکہ اللہ سے امن وعافیت مانگو“۔ جنگ اسلام میں ایک غیرمطلوب عمل ہے، بلکہ اصل جہاد خود اپنے جی اور خواہشاتِ نفس سے لڑنا ہے کہ نفس آدمی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہی غلط خواہشات کا سرچشمہ ہے۔ اسی لیے ایک دفاعی مُہم سے واپسی پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد یعنی جنگ سے لوٹ کر بڑے جہاد کی طرف آئے ہیں، یعنی غلط خواہشات سے لڑنے کی طرف لوٹے ہیں۔
اسلام نفرت کا نہیں پیار کا مذہب ہے۔ آج کل اسلام دشمن جماعتیں اِس آیت کو سناکر اپنے بغض وجہالت کا پرچار کرتی ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ ”غیرمسلموں کو جہاں پاؤ قتل کردو“ حالانکہ یہ آیت صرف برسرِجنگ فریق کے متعلق اتری ہے کیونکہ جو لوگ کسی کے خلاف برسرِجنگ ہوں تو یہ اسلام ہی کا نہیں ساری دنیا کی قوموں کا اصول ہے کہ انھیں قتل نہیں کیاگیا تو مقابل اس کو قتل کردیں گے۔ پھر یہ مخالفین اسلام اس آیت کو تو سامنے رکھتے ہیں لیکن اِس دوسری آیت کو دانستہ نظر انداز کرتے ہیں جس میں ہے کہ : ” لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ     Ď۝ الممتحنة
اللہ تمہیں اُن لوگوں یعنی غیرمسلموں کے ساتھ احسان و انصاف کا برتاؤ کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے معاملے پر نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔ (سورئہ ممتحنہ، نمبرسورہ۶۰، آیت نمبر۸)
جنگ اسلام میں بدرجہٴ مجبوری اور صرف دفاع کے لیے ہے۔ ہاں دشمن خود ہی چڑھ دوڑے تو اس کا مقابلہ کرنا لازم ہے۔ جارحیت کا سامنا کرنے سے جی چُرانا بُزدلی ہے جسے دنیا کا کوئی نظام اور کوئی ہوشمند انسان درست نہیں کہہ سکتا۔ حضورِ اکرم صلى الله عليه وسلم کے دور میں جتنی بھی جنگیں سامنے آئی ہیں ان کی تاریخ صرف اور صرف دفاعی ہے۔ ان میں کوئی بھی جنگ اقدامی یا جنگ برائے خونریزی نہیں۔ جب دیگر پیشوایانِ مذاہب جنگ و خونریزی سے دور رہے تو وہ پیشوائے اسلام جس کو اللہ نے رحمتِ مجسم بنایا اور ”رحمة للعالمین“ کے جیسا مُنفرد لقب عطا فرمایا کیسے کسی کے لیے خلافِ رحم و مروّت بات کو سوچ سکتا ہے! اسلام نے تولڑائی کو جنگ کا نام تک نہیں دیا بلکہ اُس کو ”جہاد“ کے جیسا عنوان دیا جس کا مطلب ہے امن کی جدوجہد۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا میں اصل امن وامان ہے، جنگ و خونریزی نہیں۔ اسلام ایک مُثبَت عمل ہے اور جنگ ایک منفی عمل۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور دومتقابل چیزیں ایک جگہ جمع ہونے کا مطلب ہے کہ ایک ساتھ آگ اورپانی یا اندھیرا اُجالا اکٹھے ہوجائیں۔
اسلام ایک نظامِ خداوندی ہے جو سارے عالم کو اپنی تنویر سے منور کرنا چاہتا ہے۔ یہ اشاعت و تبلیغ و ابلاغ سے ہی ممکن ہے۔ لہٰذا اسلام سے زیادہ اَمنِ عالَم کا نقیب اور کون ہوسکتا ہے۔ حضور صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ ”تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا“ نیز آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ”جو شخص حلال روزی کھائے، میری سنت پر عمل کرے اور کسی بھی انسان کو اپنے عمل سے تکلیف نہ دے وہ جنتی ہے۔“ پھر آپ نے بطوراُصول فرمایا کہ ”شریف آدمی کی بدترین بات یہ ہے کہ وہ اپنی بھلائی سے آپ کو محروم کردے اور بُرے آدمی کی سب سے بڑی اچھائی یہ ہے کہ وہ اپنی ایذارسانیوں سے آپ کو محفوظ کردے“ پھر بھلائی اور احسان کرنے میں حضور صلى الله عليه وسلم نے مُسلم وغیرمسلم کا کوئی فرق نہیں کیا اور فرمایا ”اللہ اپنے بندے کا مددگار رہتا ہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔“ ایک اور حدیث میں ایک پُرامن مسلمان کے لیے یہ زبردست مژدہ سنایاگیا کہ ”جو شخص عالم انسانیت کو اپنی ایذارسانیوں سے بچائے رکھے گا تو اللہ پر اُس کا یہ حق ہوگا کہ اُس شخص کو قبر کے عذاب سے بچائے رکھے“
امن کے مقابلے میں بدامنی ہو تو ہر شخص دوسرے کو اپنا دشمن نظر آئے گا۔ ایسے میں حقیقتاً دنیا ظالم اور مظلوم کے خانوں میں بٹ جاتی ہے جس سے پورا معاشرہ فاسد ہوتا ہے، ارتقائی عمل رُک جاتا ہے اور بدامنی کا دور دورہ ہوجاتاہے۔ اسی لیے اسلام اپنے ماننے والوں کو امن واَخوَّت اور محبت کی تلقین کرتا ہے کہ پُرامن فضا میں اپنی فکری اور تحقیقی قوتوں کو بروئے کارلاکر سارے عالم کے لیے نفع بخش بنیں تاکہ خیر اُمت ہونے کی وجہ سے مسلمان امامِ اقوام کہلاسکیں اور دنیا میں ملَّتِ اسلام سے فیض حاصل کرے۔ چنانچہ کہیں پیغمبر صلى الله عليهوسلم نے فرمایاکہ ”بہترین انسان وہ ہے جس سے عالم انسانیت کو نفع پہنچے“اور کہیں یوں فرمایا کہ ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ آدمی وہ ہے جس سے لوگوں کو (یعنی بلاقیدِ مذہب وملت سارے عالمِ انسانیت کو) سب سے زیادہ نفع پہنچے۔“
اللہ کی اس کائنات میں اُس کی بنائی ہوئی بے جان مخلوقات اپنے کام سے کام رکھتی ہیں۔ کوئی چیز نہ دوسری چیز کا راستہ کاٹتی ہے نہ اُس کے آڑے آکر اُس سے تصادُم کی راہ اختیار کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ زمین وآسمان ہوں یا چاند سورج اور سیّارے سب بغیر تصادم اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور اس عالم کا نظام امن وسکون سے چل رہا ہے یہاں تک کہ ہر چیز اپنی پوری پوری نفع رسانی کے ساتھ عمل کررہی ہے۔ اب یہ کائنات اللہ نے انسان کے لیے بنائی ہے جیساکہ حدیث میں ہے کہ ”یہ دنیا تمہارے لیے بنائی گئی اور تم آخرت کے لیے“ پھر اس کو سمجھ اور شعور دیاگیا تاکہ آدمی محتاط ومتقی بن کر مومن کی طرح امن کی زندگی گذارے۔ مگر انسان جب اس نظامِ کائنات سے ہٹ کر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرتا ہے تو امنِ عالم میں رخنہ پڑتا ہے اور دنیا گرفتارِ بلا ہوجاتی ہے۔ آج کا انسان اگر آنحضرت کے اس ارشاد کو ہی مشعلِ راہ بنالے تو دنیا کی کایا پلٹ جائے۔ آپ سے اسلام و تقویٰ کی حقیقت پوچھی گئی تو بیساختہ ارشاد فرمایا کہ
”اللہ کے حکم کی تعظیم اوراُس کی مخلوق کے ساتھ شفقت۔“
---------------------------
ماهنامه دارالعلوم ، شماره 03 ، جلد: 93 ربيع الاول 1430 ھ مطابق مارچ 2009ء