ہفتہ، 15 اکتوبر، 2016

مقدمه تفسر القرآن لدروس البرزان ( قسط دوم )

تحریر : اكبر حسين اوركزئي 

كيفيت نزولِ قرآن
قرآن کریم کا نزول دو اقسام میں تقسیم ہوتاہے:   ابتدائي اور سببي
پہلی قسم ابتدائی:
وہ آیات کے جن کے نزول سے پہلے کوئی خاص سبب پیدا نہ ہوا ہو کہ جس کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئی ہوں۔اور قرآن مجید کی غالب آیات اسی قسم سے ہیں۔
دوسری قسم سببی:
جو آیات کسی خاص سبب کےباعث نازل ہوئی ہوں ۔ اور سبب بہت سے ہوں سکتے ہیں جیسے:  1   -   سوال کیا گیا  جس کا جواب اللہ تعالی نے دیا ہوگا جیسے:
﴿ يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ۭ قُلْ ھِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ﴾  البقرۃ:189
لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے .​
 2-    یا کوئی واقعہ رونما ہوا ہوگا جو محتاج بیان وتحذیر ہوگا جیسے: 
﴿ وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ  ۭ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ     65؀﴾ التوبۃ
اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں۔
یہ آیتیں منافقین میں سے ایک شخص کےبارے میں نازل ہوئی تهي جس نے غزوۂ تبوک کے موقع پر ایک مجلس میں کچھ نازیبا اور غیر مناسب الفاظ کہے تھے .
جب وہ باتیں نبی کریم ﷺ تک پہنچی اور قرآن کریم نازل ہوگیا اوروہ شخص نبی اکرمﷺ کے پاس معذرت کے لیے آیا کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنسی مزاق بول رہے تھے،  تو آپ ﷺ نے اس آیت کے ذریعے ہی اسے جواب ارشاد فرمایا کہ:
﴿قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ    ﴾ التوبۃ
کہہ دیجئے کہ اللہ اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں۔تم عذر نہ تراشو یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے .
3 -  یا کوئی ایسا فعل واقع ہو کہ جس کا حکم معلوم کرنے کی احتیاج ہو جیسے:
﴿ قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا وَتَشْـتَكِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ڰ وَاللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ     Ǻ۝﴾المجادلۃ: 1
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال جواب سن رہا تھا۔
اسباب نزو ل کی معرفت
اسباب نزول کی معرفت بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:1:   اس سے بیان ہوتا ہے کہ یہ قرآن واقعی اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ سے کسی چیز کی بابت پوچھا جاتا تو کبھی کبھار آپ ﷺ توقف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ پر وحی نازل نہ ہو یا پھر کوئی بات آپ ﷺ پر مخفی ہوا کرتی تھی تو وحی نازل ہوکر اسے آپ ﷺ پر بیان کردیتی تھی۔   مثلا: اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ  ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا  85؀  الاسراء
اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے​ .
صحیح البخاری میں عبداللہ بن مسعود  سے روایت ہے کہ یہود میں سے کسی شخص نے کہا:
يَا أَبَا الْقَاسِمِ، مَا الرُّوحُ ؟ فَسَكَتَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقُمْتُ، فَلَمَّا انْجَلَى عَنْهُ، قَالَ:
﴿ وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ  ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا  ﴾
 اے ابو القاسم (رسول اللہ ﷺ کی کنیت ہے) روح کیا ہے؟ پس آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ میں نے کہا کہ: آپ ﷺ پر وحی نازل ہورہی ہے ۔ میں اپنی جگہ کھڑا رہا۔ جب آپﷺ کو نزول وحی والی کیفیت سے افاقہ ہوا تو یہ آیت تلاوت فرمائی: اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے .
دوسری مثال: اللہ تعالی کا یہ فرمان:
يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَآ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ    ۭ Ď۝ۧ    المنافقون: 8
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینے جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا .
صحیح البخاری میں ہے کہ سیدنا زید بن ارقم  نے منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے ہوئے سناکہ وہ سب سے بڑا عزت دار ہوگا جبکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام  سب سے زیادہ ذلیل ترین ہوں گے۔چناچہ سیدنا زید  نے اپنے چچا کو اس کی خبر دی اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر دی۔ پس رسول اللہﷺ نے سیدنا زید ﷺ کو بلابھیجا اور آپ نے جو کچھ سنا تھا وہ بتادیا۔ پھر عبداللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں کی طرف کسی کو بھیجا تو انہوں نے قسم اٹھائی کہ ہم نے ایسا نہیں کہا اوررسول اللہ ﷺ نے ان کی قسم کے سبب ان کی تصدیق کی۔ پھر اللہ تعالی نے سیدنا زید کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی اور یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ  پر کھل گیا .
  2:  اللہ تعالی اپنے رسول ﷺ کے دفاع میں یا اثبات رسالت فرمانا ،  اس کی مثال اللہ تعالی کا یہ فرمان:
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً        ڔ 32؀ الفرقان
اور کافروں نے کہا اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا،
تو اللہ تعالی نے جواب فرمایا کہ﴿ كَذٰلِكَ  ڔ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا    ﴾.  اسی طرح ہم نے (تھوڑا تھوڑا) کرکے اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے .
3:   آیت کا صحیح فہم حاصل ہونا۔                    اس کی مثال اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا       ۭ ١٥٨؁  البقرة
صحیح البخاری میں سیدنا عاصم بن سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا:
سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ: كُنَّا نَرَى أَنَّهُمَا مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿ اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا       ﴾ میں نےسیدنا انس بن مالک  سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: دراصل ہم اسے جاہلیت کے کاموں میں سے سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا توہم اس سے رک گئے جس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: (صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اس لئے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں .
اس سےمعلوم ہوا کہ گناہ یا حرج ہونےکی نفی کرنے سے مراد سعی کا حکم بیان کرنا نہیں تھا بلکہ اس حرج کی نفی تھی جسے وہ اپنے اندر پاتے تھے اور اسے جاہلیت کا عمل سمجھ کر رک گئےتھے۔البتہ سعی کے حکم کی جو اصل ہے وہ اللہ تعالی کے اس فرمان سے ظاہر﴿ مِنْ شَعَاىِٕرِاللّٰهِ ﴾ (البقرۃ: 158) (شعائر اللہ میں سے ہیں)۔
ایک قاعدۃ :    عموم ِلفظ اور خصوصِ سبب​

اگر کوئی آیت کسی خاص سبب کی وجہ سے نازل ہوئی ہے لیکن اس کے الفاظ عام ہیں تو وہ اس سبب سمیت ان تمام باتوں کو شامل ہے جو اس لفظ کےتحت آسکتے ہیں۔ کیونکہ قرآن مجید پوری امت کےلیے ایک عام شریعت کے بطور نازل ہوا ہے ۔ لہذا اعتبار عموم لفظ کا کیا جاتا ہے ناکہ خصوص سبب کا۔
مکی یا مدنی سورتیں​
آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں 13 سال گزارے  اور مدینہ منورۃ میں 10 سال رہے ۔اور قرآن مجید نبی کریمﷺ پر تیئس برسوں میں وقتا فوقتا نازل ہوا ہے۔  اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿ وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا  ١٠٦؁﴾ الاسراء: 106
 قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے اس لئے اتارا ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل فرمایا ​
ف:   قرآن مجید ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو دھیرے دھیرے پڑھ کر سنائیں کیونکہ ہم نے اسے حسب مواقع تھوڑا تھوڑا کر کے اسی لیے نازل کیا ہے تاکہ لوگ بالتدریج آسانی سے اس کو اپنا سکیں اور اس پر عمل کرسکیں (کبیر ج 5 ص 668)۔
اسی لیے علماء کرام نے قرآن حکیم کو دو اقسام میں تقسیم فرمایا ہے مکی اور مدنی۔
 مکی:   جو سورتیں ہجرت سے قبل نازل ہوئیں مکی کہلاتی ہیں جن کی تعداد 86 ہے  ۔
مدنی:  جو سورتیں ہجرت کے بعد نازل ہوئیں مدنی کہلاتی ہیں جن کی تعداد 28 ہیں ۔
 (جاري)

بدھ، 12 اکتوبر، 2016

کیوں کرتے ہیں ہم صحابہ کرام سے محبت


کیوں کرتے ہیں ہم صحابہ کرام سے محبت


بسم اللہ والحمدللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لانبی بعدہ


 حضراتِ صحابہ کرام سے محبت اہلسنت والجماعت کے نزدیک اصول ایمان میں سے ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بنی نوع انسان کے برگزیدہ و منتخب افراد میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے پیارے رسولﷺ کی مصاحبت و نصرت اور دین کی دعوت و اشاعت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین اُمت کا وہ طبقہ ہے جس نے حفاظت دین اور اگلی نسلوں تک اس کی تبلیغ کی اہم اور سنگین ذمہ داری کو اچھی طرح پوری کر چکا ہے۔ اگر یہ منتخب گروہ نہ ہوتا تو اسلامی شریعت بھی یہودیت ومسیحیت کی طرح تحریف کا شکار ہو جاتی۔ اب اگر کوئی شخص صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین کی صلاحیت وراست گوئی اور امانتداری کے حوالے سے شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے تو دراصل وہ قرآن وسنت کی حقانیت پر طعن کرتا ہے اور ان مآخذ و منابع کو مشکوک بناتا ہے جو صحابہ کرام کے ذریعے ہم تک پہنچے ہوئے ہیں۔

 دوسری جانب صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین کی فضیلت میں موجود متعدد آیات و احادیث ان کی محبت کو ہم پر واجب بناتی ہیں، نیز جو افراد صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان سے دشمنی و بغض کا سبق بھی ہمیں انہی قرآنی آیات و احادیث نبوی سے ملتا ہے۔

ہم صحابہ کرام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں چونکہ:

 1۔ اللہ تعالی اُن سے راضی ہوا، ارشادربانی ہے:

 { لَقَدْ رَضِیَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِی قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِینَةَ عَلَیْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیبًا} (الفتح/ 18).

 (بیشک اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں ) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اﷲ نے معلوم کر لیا تو اﷲ نے ان (کے دلوں ) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیا)

 2۔ اس لیے کہ اللہ تعالی نے انہیں ایمان کی صفت سے متصف کرکے یاد کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 (وَإِن یُرِیدُواْ أَن یَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللّهُ هُوَ الَّذِی أَیَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ} (الانفال/ 62)

(اور اگر وہ چاہیں کہ آپ کو دھوکہ دیں تو بیشک آپ کے لئے اللہ کافی ہے، وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ذریعے اور اہلِ ایمان کے ذریعے طاقت بخشی)

 3۔ ہمیں صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین سے اس لئے محبت ہے چونکہ اللہ تعالی نے ان کی تصدیق کرکے انہیں کامیاب قرار دیا ہے اور انہیں جنت کا وعدہ بھی دیا ہے، ارشاد باری ہے:

{لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُواْ مَعَهُ جَاهَدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَأُوْلَئِكَ لَهُمُ الْخَیْرَاتُ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ* أَعَدَّ اللّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ} (التوبہ/89-88).

(لیکن رسول(ﷺ) اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور انہی لوگوں کے لئے سب بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں * اللہ نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے.)

 4۔ ہم صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یوں مخاطب کیا ہے:

 كُنتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران/110)؛

تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، ) ابن عباس فرماتے ہیں : یہی وہ لوگ تھے جنھوں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔

 5۔ ہم صحابہ سے محبت کرتے ہیں چونکہ اللہ تعالی بھی صحابہ کرام سے محبت کرتا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:

{فَسَوْفَ یَأْتِی اللّهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ } (المائدہ؛ 54)

(عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہو گا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے)

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم یہ آیت “حروراء” کے لوگوں کے بارے میں نازل نہیں ہوئی بلکہ حضرت ابوبکر و عمر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

 6۔ ہم صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں چونکہ اللہ تعالی نے انہیں سچے مومن قرار دیا ہے، ارشاد ربانی ہے:

 {وَالَّذِینَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِی سَبِیلِ اللّهِ وَالَّذِینَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِیمٌ} (الانفال/ 74)؛

(اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (راہِ خدا میں گھر بار اور وطن قربان کر دینے والوں کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی، وہی لوگ حقیقت میں سچے مسلمان ہیں، ان ہی کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے).

 7۔ نبی کریمﷺ نے ان سے محبت کرنے کو ایمان کی علامت اور بغض صحابہ کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے:

 «آیَةُ الایمان: حب الانصار، وآیَةُ النفاق بغض الانصار»؛متفق علیہ.

ترجمہ: “انصار سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے”۔

 8۔ ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کے تعلق سے بُرا کہنے سے منع کیا ہے، ارشاد نبوی ہے: -: «إذا ذُكِر أصحابی فأمسكوا، و إذا ذُكِرتِ النُّجوم فأمسكوا، و إذا ذُكِرَ القدر فأمسكوا ] صحَّحه الألبانی 545 فی صحیح الجامع[

 (جب بھی میرے صحابہ کے بارے میں بات ہو رہی ہو تو خاموش رہو، جب بھی ستاروں سے متعلق بات ہوہی ہو تو خاموش رہو، اور جب بھی قدر سے متعلق بات ہوہی ہو تو خاموش رہو)

 9۔ صحابہ کرام سے ہمیں محبت ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امت مسلمہ کے امن و قرار کا سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں :

النجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتی السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابی فإذا ذهبتُ أتی أصحابی ما یوعدون، وأصحابی أمنة لأمتی، فإذا ذهب أصحابی أتی أمتی ما یوعدون}؛ (مسلم:2531)۔

 ترجمہ: ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہو جائے گا تو پھر آسمان پر وہی آ جائے گا جس کا وعدہ کیا گیا میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آن پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے .

 10۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس امت کے بہترین افراد قرار دیا ہے اسی لیے ہمیں ان سے محبت ہے، چنانچہ فرماتے ہیں :

 خیر أمَّتی القرن الّذین یلونی ثمَّ الَّذین یلونهم ثمَّ الَّذین یلونهم (مسلم: 2532)۔

 ترجمہ: میری امت کے بہترین اشخاص وہ ہیں جن کے درمیان میری بعثت ہوئی (صحابہ کرام)، پھر (وہ نسل) جو ان کے بعد آئے (تابعین)، پھر (سب سے بہترین افراد وہ ہیں ) جو ان کے بعد آئیں (تبع تابعین)۔

 11۔ ہم صحابہ سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی علیہ السلام نے ہمیں صحابہ کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا ہے، فرمان نبوی ہے:

 {لا تسبوا أصحابی، فوالذی نفسی بیده لو أنَّ أحدكم أنفق مثل أحد ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصیفه}۔ (مسلم: 2540.)؛

 ترجمہ: میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو، اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد( مٹھی) غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر۔

 12۔ ہم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین سے محبت کرتے ہیں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ہر اس شخص پر جو صحابہ رضی الله تعالی عنهم أجمعین کو گالی دیتا ہے، فرماتے ہیں :

 “لعن الله من سبَّ أصحابی” [حسَّنه الألبانی 5111 فی صحیح الجامع[

 ترجمہ: اللہ تعالی کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو بُرا بھلا کہے۔

 13۔ ہمیں صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین سے محبت ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ان کے ذریعے دین پھیلے گا اور اسلام کی نصرت ہو گی۔ امر واقع بھی یہی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

 یأتی علی الناس زمان، یغزو فئام من الناس، فیقال: فیكم من صاحب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فیقولون: نعم، فیفتح لهم، ثم یأتی علی الناس زمان، فیغزو فئام من الناس، فیقال لهم: فیكم من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فیقولون: نعم، فیفتح لهم، ثم یأتی علی الناس زمان، فیغزو فئام من الناس، فیقال لهم: هل فیكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فیقولون: نعم، فیفتح لهم}۔ (بخاری ومسلم)؛

 ترجمہ: ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کریں گے، ان سے پوچھا جائے گا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو نبی کریمﷺ کا ہمرکاب رہا ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، اس طرح (مقابلے کے بعد) وہ لوگ فتح یاب ہوں گے۔ پھر کسی اور زمانے میں مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرنے جائے گا، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا بندہ ہے جو صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین کے ساتھ رہا ہو؟ جواب آئے گا کہ جی ہاں، پھر مجاہدین کا وہ گروہ فتح یاب ہو گا۔ ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ بعض لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے تو ان سے سوال ہو گا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو صحابہ کرام کے ساتھیوں کے ہمرکاب رہا ہو؟ وہ کہیں گے: جی، تو کامیاب ہوں گے۔

 14۔ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہے چونکہ وہ نبی کریمﷺ کے وزیر اور مدد گار ساتھی تھے، اس بارے میں آپﷺ نے فرمایا:

 ان الله تبارك وتعالی اختارنی، واختار لی أصحاباً، فجعل لی منهم وزراء وأنصاراً وأصهاراً، فمن سبهم فعلیه لعنة الله والملائكة والناس أجمعین، لا یقبل منه یوم القیامة صرف ولا عدل}۔ (رواہ حاکم وصحّحہ)۔

 ترجمہ: حضور اکرم نے فرمایا: اللہ نے مجھے منتخب فرمایا ہے اور میرے لئے میرے صحابہ کو منتخب کیا ان کو میرا وزیر‘ مددگار اور رشتہ دار بنایا جو ان کو برا کہے اس پر اللہ تعالیٰ کی‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض اور کوئی کفارہ قبول نہ کرے گا.

 15۔ ہم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ان سے محبت کرنا نبی کریمﷺ سے محبت کرنا ہے اور صحابہ سے نفرت آپﷺ سے نفرت کی دلیل و علامت ہے، اسی بارے میں فرمان نبوی ہے:

{الله الله فی أصحابی، لا تتخذوهم غرضاً بعدی، فمن أحبهم فبحبی أحبهم، ومن أبغضهم فببغضی أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذانی، ومن آذانی فقد آذی الله، ومن آذی الله أوشك أن یأخذه} (رواہ احمد وترمذی وجعلہ حسناً)؛

 ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا )نشانہ نہ بنانا (یاد رکھو) جس نے اِن سے محبت کی، پس میری محبت کی وجہ سے اِس نے اُن سے محبت کی۔ جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا اور جس نے اُن کو اذیت دی پس اس نے مجھے اَذیت دی جس نے مجھے اَذیت دی، اس نے اللہ کو اذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی، پس قریب ہے کہ وہ اس کو گرفت کر لے.

16۔ ہمیں صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین سے محبت ہے چونکہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے احترام و عزت کو اپنے ہی احترام کے مترادف قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں : {احفظونی فی أصحابی، ثم الذین یلونهم، ثم الذین یلونهم}۔ (ابن ماجہ: 1927، وصححہ الالبانی)؛

 ترجمہ: میری منزلت و عزت کی حفاظت کے لیے میرے صحابہ اور ان کے بعد آنے والے دو صدیوں کے لوگوں کی منزلت و عزت کا خیال رکھو۔

 18۔ ہم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ وہ اہل علم و فضیلت، اخلاق اور سچائی والے تھے، ارشاد نبویﷺ ہے:

 أرحم أمتی بأمتی أبوبكر، وأشدهم فی دین الله عمر، وأصدقهم حیاء عثمان، وأقضاهم علی، وأفرضهم زید بن ثابت، وأقرؤهم أبیّ، وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل، ألا وإن لكل أمة أمیناً، وأمین هذه الأمة أبوعبیدة بن الجراح}۔ (حاکم، صحَّحه الألبانی 868 فی صحیح الجامع.)

 ترجمہ: میری امت پرسب سے زیادہ رحیم ابوبکر ہے، دین پر سختی سے عمل کرنے والا عمر ہے، سب سے زیادہ سچے با حیا عثمان ہے، عدل میں سب سے آگے علی ہے، ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن الجراح ہے۔

 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے صفات عالیہ کے ذکر میں کہتے ہیں :

 جب اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو بہترین پایا۔ تو انہیں منتخب کر کے اپنا نبی بنایا۔ پھر اللہ تعالی نے سارے قلوب پر نظر ڈالی تو صحابہ کرام کے دلوں کو بہترین پایا سو انہیں اپنے برگزیدہ پیغمبر کی صحبت کے لیے منتخب کر کے آپﷺ کے وزیر بنا دیا تا کہ اس کے دین کی راہ میں لڑیں۔ اسی طرح ایک اور جگہ فرماتے ہیں : اگر کوئی شخص سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو ان کی پیروی کرے جن کا انتقال ہو چکا ہے، چونکہ جو زندہ ہیں معلوم نہیں فتنے کا شکار ہوں گے کہ نہیں۔ جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں وہ نبی کریمﷺ کے صحابہ ہیں جو امت میں عقائد کے اعتبار مضبوط ترین اور سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، دین میں وہ بہت کم تکلف کرنے والے تھے۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے نبی کے مصاحبت اور دین کے قیام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ان کی جاہ و مقام کو پہچانو اور ان کے طریقے پر چلو اس لیے کہ وہ ہدایت اور راہ راست پر تھے۔ [رواه ابن عبد البرّ[

 صحابہ کرام کے حوالے سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

 واضح اور آشکار مسائل میں سے ایک صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین کی تمام خوبیوں کو بیان کرنا، ان کی غلطیوں اور آپس کے اختلافات کو بیان کرنے سے گزیر کرنا ہے۔ لہٰذا جو شخص کسی بھی صحابی کی شاں میں گستاخی کرے، برا بھلا کہے اور طعنہ زنی کرے یا کسی صحابی کی عیب جوئی کرے تو وہ شخص بدعتی، ناپاک، رافضی او اہل سنت کا مخالف ہے۔ اللہ تعالی (قیامت کے دن) نہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا نہ کوئی فدیہ و کفارہ اس کی جان چھڑا سکے گا۔

اس کے برعکس صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین سے محبت سنت اور ضروری ہے، ان کے لیے نیک دعاء کرنا قرب الہی کا باعث ہے۔ ان کی پیروی باعث نجات ہے اور ان کی راہ پر چلنا فضیلت شمار ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سب سے اچھے لوگ تھے، کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ انہیں گالیاں دے یا عیب جوئی کر کے ان کی شان میں گستاخی کرے اور انہیں گندی زبان سے یاد کرے۔ [كتاب السُّنَّة ص78[

 امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

 اللہ تعالی کی توفیق سے میں نے اپنی کتاب (شریعہ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل تحریر کیا۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین کے فضائل کا تذکرہ ہو گا۔ جنہیں اللہ تعالی نے منتخب فرمایا اور اپنے برگزیدہ نبی کے لیے وزیر، رشتہ دار، ساتھی اور اس کی امت کے لیے خلیفہ مقرر فرمایا۔ مہاجرین و انصار وہ حضرات تھے جن کو اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بہترین اوصاف کے ساتھ یاد کیا ہے۔ قرآن میں آیا ہے اللہ تعالی نے توریت میں بھی صحابہ کرام کو اچھے الفاظ و اوصاف میں یاد کیا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالی کا فضل و کرم ہے۔ اللہ جلّ وعلیٰ کا فضل بہت بڑا ہے جسے چاہے وہ عطا فرماتا ہے۔

 مہاجرین: مہاجرین وہ جاں نثار صحابہ تھے جنہوں نے اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لایا اور اپنے عمل سے اُسے ثابت کر دکھایا، سختیوں اور برے دنوں میں آپﷺ کے ساتھ رہے، اللہ کی راہ میں ذلت اور بھوک کو غیر اللہ کے راستے میں عزت اور شکم سیری پر ترجیح دی۔ اللہ کی رضا کے لیے رشتہ دار اور اجنبی کی مخالفت کو بخوشی قبول کیا۔ مہاجرین اپنے والدین، خاندان، قبیلہ، جائیداد اور سب کچھ چھوڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم رکابی میں ہجرت کے لیے نکلے۔ ان سب چیزوں سے زیادہ اہم ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول تھے اس لیے کہ ان کا ایمان مضبوط، عقل سلیم، نفس پاک، رائے صائب اور صبر زیادہ تھا اور یہ اللہ تعالی کی توفیق تھی۔ ارشاد الہی ہے:

 رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ } (المجادلہ :۲۲)؛

 ترجمہ: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں ) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں ) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے.

 انصار: وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے دین کی نصرت اور نبیﷺ کی پیروی کے لیے منتخب فرمایا۔

 جب نبی کریم صلی الله علیه وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے انصاری صحابہ آپ کے پاس تشریف لا کر مومنوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ انصار اپنی بیعت میں مخلص تھے اور ہمہ تن آپﷺ کی نصرت و مدد کیلیے کمر بستہ تھے۔ انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی مکمل پیروی کرنے والے تھے اور نبی کریمﷺ سے محبت کی وجہ سے انہوں نے آپ کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ آپﷺ نے فرمایا ابھی تک ہجرت کا وقت نہیں آیا ہے۔ انصار کا وہ دستہ جو آپﷺ کے دست مبارک پر بیعت کر چکا تھا واپس مدینہ چلا گیا تو وہ دیگر اہل مدینہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذریعہ بن گئے۔

 تمام انصار اپنے ایمان میں ثابت قدم تھے چنانچہ جب مہاجرین مدینہ پہنچے تو انکا شاندار استقبال کیا گیا، انہوں نے نبی کریمﷺ و دیگر مہاجرین کا خوب اکرام کیا۔ انصار کو معلوم ہوا یہ مبارک ہجرت اللہ تعالی کی طرف سے ان کے لیے بڑی نعمت ہے۔ اس کے بعد دیگر مہاجرین جب مدینہ پہنچے تو انصار نے ان کی بھی عزت و خدمت کی۔ اپنے گھروں کو تقسیم کر کے انہیں جگہ دینے کے علاوہ ان کو اپنے بچوں اور بیویوں پر بھی ترجیح دی۔ اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈالی تھی جس کی برکت سے وہ بھائی بھائی بن کر رہ رہے تھے۔ اللہ تعالی صحابہ کرام کی تعریف میں فرماتے ہیں :

 وَإِن یُرِیدُواْ أَن یَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللّهُ هُوَ الَّذِی أَیَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ* وَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعاً مَّا أَلَّفَتْ بَیْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللّهَ أَلَّفَ بَیْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِیزٌ حَكِیمٌ }؛ (الأنفال۔ 63۔ 62)؛

 ترجمہ: اور اگر وہ چاہیں کہ آپ کو دھوکہ دیں تو بیشک آپ کے لئے اللہ کافی ہے، وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ذریعے اور اہلِ ایمان کے ذریعے طاقت بخشی اور (اسی نے) ان (مسلمانوں ) کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما دی۔ اگر آپ وہ سب کچھ جو زمین میں ہے خرچ کر ڈالتے تو (ان تمام مادی وسائل سے) بھی آپ ان کے دلوں میں (یہ) الفت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان (ایک روحانی رشتے سے) محبت پیدا فرما دی۔ بیشک وہ بڑے غلبہ والا حکمت والا ہے.

 ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِیعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَیْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ یُبَیِّنُ اللّهُ لَكُمْ آیَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ}  (آل عمران۔ 103)

 ترجمہ: اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہو گئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر(پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ.

 ان آیات قرآنی سے معلوم ہوا سارے صحابہ کرام بشمول مہاجرین و انصار اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کے خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی نصرت و مدد پر وہ متفق تھے، شریعت اور احکام کے نفاذ میں وہ متحد اور آپﷺ کے بہترین ساتھی تھے۔ اس راہ میں وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور ہر حال میں نبی کریمﷺ کی نصرت اور اسلام کے لیے جاں نثاری ان کا مقصد حیات بن چکا تھا۔ اسی لیے ایک سے زائد مرتبہ اللہ تعالی نے مہاجرین و انصار کی تعریف کی ہے، انہیں جنت کا وعدہ دیا ہے اور اپنی رضامندی کا اعلان بھی فرمایا ہے

 رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ }المجادلہ۔ 22)؛

 ترجمہ: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں ) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں ) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے.

 صحابہ کرام کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :صحابہ کرام کے فضائل سے وہ شخص واقف ہوسکتاہے جو عہد نبویﷺ میں ان کا تعامل اور اس کے بعد کی زندگی پر گہری نظر ڈالے۔ صحابہ کرام وہ عظیم شخصیات تھے جو ایمان، کفار سے جہاد و قتال، اشاعت دین، قیام دین، اعلائے شان احکامات الہی و نبوی، فرائض اور سنن نبوی کی تعلیم و تعلم میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر صحابہ کرام رضی الله تعالی عنهم أجمعین نہ ہوتے تو ہرگز دین کا کوئی اصل یا فرع ہم تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہرگز نبی کریمﷺ کی کوئی حدیث یا سنت سے ہم واقف نہیں ہوسکتے تھے۔

 اس لیے جو شخص صحابہ کے حوالے سے طعنہ زنی وگستاخی سے کام لے وہ پوری طرح دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے چونکہ جو شخص صحابہ کو گالیاں دے کر طعنہ زنی کرتا ہے وہ اس طرح اپنے عقیدے کا اظہار کرتا ہے کہ صحابہ کرام ہی غلط راستے پر تھے اور قرآن پاک اور احادیث میں ان کے جتنے اوصاف مذکور ہیں یہ لوگ ان تعریفوں کی تردید کرتے ہیں۔ یہ قرآن و حدیث کا انکار ہے۔ جو شخص صحابہ پر طعن کرتا ہے در اصل وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے۔ نصوص شریعت کے ناقلین کی توہین وگستاخی درحقیقت نصوص (قرآن وسنت) کی توہین ہے۔ یہ اہم بات ہر اس شخص کے لیے قابل فہم و درک ہے جو تدبر کا اہل ہو، نفاق و کفر اور الحاد سے دور ہو۔ (الکبائر ص۔ ۲۷۴)

 فُضیل بن عیاض رحمہ اللہ اس بارے میں فرماتے ہیں :صحابہ سے محبت ذخیرہ آخرت ہے۔ اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جو صحابہ رسولﷺ پر سلام و درود بھیجے۔

عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اگر کسی شخص میں یہ دو صفات ہوں مجھے امید ہے کہ وہ قیامت کے عذاب سے محفوظ رہے گا، ایک سچائی اور دوسرا اصحاب رسول سے محبت۔ [الشَّریعة4/1688[

 ابوبکر بن الطیب صحابہ رضی اللہ عنہم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں :

                                إنِّی رضیت علیًّا قدوةً علمًا          ***         كما رضیتُ عتیقًا صاحبَ الغارِ

                                 وقد رضیت أبا حفصٍ وشیعتَه    ***         وما رضیتُ بقتلِ الشَّیخ فی الدَّارِ

                                كلُّ الصَّحابة عندی قدوةٌ علم      ***        فهل علیَّ بهذا القولِ من عارٍ

                                إن كنت تعلم أنِّی لا أحبُّهم         ***        إلا لوجهك فاعتقنی من النَّارِ

 ترجمہ:علی کے مثالی ہونے میں مجھے اتنا یقین ہے جتنا ابوبکر کی جہنم سے نجات پر، میں عمر اور اس کے ساتھیوں سے خوش ہوں مگر عثمان کی اپنے ہی گھر میں شہادت پر افسوس ہے۔ سارے صحابہ کرام میرے نظر میں نمونہ اور عظیم المرتبت ہیں، کیا میں اس طرح عقیدہ رکھنے پر قابل ملامت ہوں ؟! اے پروردگار! آپ جانتے ہیں کہ میں صرف آپ کی خوشنودی و رضا حاصل کرنے کے لیے صحابہ سے محبت کرتا ہوں لہٰذا جہنم کے عذاب سے مجھے بچا دے!

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.  وصلى اللَّه وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه والتابعين لهم بإحسان إلى يوم الدين .

ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی


نظر ثانی: علاء الدین عین الحق مکی

طالب دعاء : اكبر حسين اوركزئي
٭٭٭

 

مقام صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین

صحابی کی تعریف


علماء متقدمین ومتاخرین نے صحابی کی تعریف میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر اس صاحب ایمان شخص کو صحابی کہا جائے گا جس نے ایمان کی حالت میں خاتم النّبیین محمد عربی صلى الله عليه وسلم سے شرف ملاقات حاصل کیا اور اسی ایمان کے ساتھ وفات پائی،اور ظاہر ہے کہ وہ نابینا حضرات یا صحابہ کے نومولود بچے جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی خدمت مبارکہ میں لائے گئے ان سب کو ملاقات حاصل ہے لہٰذا بلا تردد جماعت صحابہ میں ان کا شمار ہوگا۔

اس طرح کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کا پاکیزہ گروہ اس زمرہ میں شما رکیا جاتا ہے جس کے بارے میں علماء اہل سنت والجماعت اور ائمہ سلف کا بالاتفاق قول ہے کہ سب کے سب نجوم ہدایت ہیں کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: اَصْحَابی کالنُّجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم. (ترمذی) گروہ صحابہ کا وجود، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ومحبوب صلى الله عليه وسلم کے عالمگیر پیغام رسالت کو خطہٴ ارضی کے ہرگوشہ تک اس کی حقیقی روح کے ساتھ پھیلایا اور اس طرح آنحضور صلى الله عليه وسلم کا رحمة للعالمین ہونا بھی ثابت کردیا اور وما ارسلناک الا کافة للناس (سورہ فاطر:۲۴) کی تفسیر بھی دنیا کے سامنے پیش کردی گئی۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پاکیزہ برگزیدہ جماعت کے ذریعہ اسلام کا تعارف بھی کرادیاگیا اور رسول عربی صلى الله عليه وسلم کی سیرتِ طیبہ اور سنت کو عام کیاگیا اگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ رکھ کر ان کوعام انسانوں کی طرح خاطی و عاصی تصور کرکے غیر معتبر قرار دیا جائے گا تو اسلام کی پوری عمارت ہی منہدم ہوجائے گی نہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رسالت معتبر رہے گی نہ قرآن اور اس کی تفسیر اور حدیث کا اعتبار باقی رہے گا کیونکہ اللہ کے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جو کچھ من جانب اللہ ہم کو عطاء کیا ہے وہ ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کی معرفت پہنچا ہے خود معلم انسانیت محمد عربی نے اپنے جاں نثار اطاعت شعار صحابہ کی تربیت فرمائی تھی۔ صحابہ کرام نے اوّل اوّل، زبان رسالت سے آیات اللہ کو ادا ہوتے سنا تھااور کلام رسول کی سماعت کی تھی پھر دونوں کو دیانت وامانت کے ساتھ اسی لب ولہجہ اور مفہوم ومعانی کے ساتھ محفوظ رکھا اور بحکم رسول عربی صلى الله عليه وسلم اس کو دوسروں تک پہنچایا کیونکہ حجة الوداع کے موقع پر آنحضور صلى الله عليه وسلم نے ان کو تبلیغ کا مکلف بنایا تھا... بَلِّغُوْ عَنِّی وَلَوْ آیةً (بخاری ومسلم) میری جانب سے لوگوں کو پہنچادو اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درسگاہ نبوت میں حاضری کا مکلف ایک خاص حکم کے ذریعہ بنایا تھا کہ ہر وقت ایک متعدبہ جماعت اللہ کے رسول کی خدمت میں اسلام سیکھنے کیلئے حاضر رہے اس لئے کہ کب کوئی آسمانی حکم اور شریعت کا کوئی قانون عطا کیا جائے، لہٰذا ایک جماعت کی آپ کی خدمت میں حاضری لازمی تھی اور ان کو بھی حکم تھا کہ جو حضرات خدمت رسالت میں موجود نہیں ہیں ان تک ان نئے احکام اور آیات کو پہنچائیں۔

وَمَا کَانَ الْمُوٴْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَافَّةً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْہُم طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُم اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْہِمْ لَعَلََّہُمْ یَحْذَرُوْنَ (سورہ توبہ:۱۲۲)

ترجمہ: اور مسلمانوں کو نہیں چاہئے کہ سب کے سب چلے جائیں۔ تو کیوں نہ ہر فرقہ میں سے نکلی ایک جماعت جو مہارت ورسوخ حاصل کرتی دین میں اور تاکہ ڈرائیں اپنی قوم کو جب کہ وہ لوٹ کر آئیں ان کے پاس ہوسکتا ہے کہ وہ ڈریں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا تصور محال ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے وہ عین اسلام اور اتباع سنت ہے اور ان کے ایمان کے کمال وجمال، عقیدہ کی پختگی، اعمال کی صحت و اچھائی اور صلاح وتقویٰ کی عمدگی کی سند خود رب العالمین نے ان کو عطا کی ہے اور معلم انسانیت صلى الله عليه وسلم نے اپنے قولِ پاک سے اپنے جاں نثاروں کی تعریف وتوصیف اور ان کی پیروی کو ہدایت وسعادت قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی انسان تھے ان سے بھی بہت سے مواقع پر بشری تقاضوں کے تحت لغزشیں ہوئی ہیں لیکن لغزشوں، خطاؤں، گناہوں کو معاف کرنے والی ذات اللہ کی ہے اس نے صحابہ کرام کی اضطراری، اجتہادی خطاؤں کو صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس معافی نامہ کو قرآن کریم کی آیات میں نازل فرماکر قیامت تک کیلئے ان نفوس قدسیہ پر تنقید و تبصرہ اور جرح و تعدیل کا دروازہ بند کردیا اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے ایمان کی صداقت اور اپنی پسندیدگی کی سند بھی بخشی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی فرد یا جماعت صحابہ کرام پر نقد و تبصرہ کی مرتکب ہوتی ہے تواس کو علماء حق نے نفس پرست اور گمراہ قرار دیا ہے ایسے افراد اور جماعت سے قطع تعلق ہی میں خیر اورایمان کی حفاظت ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت (خواہ کبار صحابہ ہوں یا صغار صحابہ) عدول ہے اس پر ہمارے ائمہ سلف اور علماء خلف کا یقین و ایمان ہے۔ قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق آیات پر ایک نظر ڈالئے پھر ان کے مقام ومرتبہ کی بلندیوں کا اندازہ لگائیے اس کے بعد بھی اگرکسی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کی جرأت کی ہے تواس کی بدبختی پر کفِ افسوس ملئے۔

صحابہ سراپا ادب اور پیکر تقویٰ تھے

اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)

ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔

کفروفسق سے محفوظ تھے

وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ لَو یُطِیعُکم فِی کَثیرٍ مِنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُم الاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِی قُلُوْبِکُمْ وکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالعِصْیَانَ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ (سورة الحجرات:۷)

ترجمہ: اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں اگر بہت سے کاموں میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اوراس کی (تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر وفسق اور عصیان سے تم کو نفرت دیدی ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں۔

عبادت کے خوگر اور رحمدل تھے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)

ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب سورہ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے معارف القرآن جلد۸ میں تحریر کرتے ہیں:

قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں اس کی تصریحات ہیں جن میں چند آیات اسی سورة میں آچکی ہیں: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ مِنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ، اور، اَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَقْوٰی وَکَانُوا اَحَقَّ بِہا وَاَہْلَہا، انکے علاوہ بہت سی آیات میں یہ مضمون مذکور ہے، یَومَ لاَ یُخْزِ اللّٰہُ النَّبِیَ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ مَعَہ وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ المُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اِتَّبَعَہُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَّدَ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحتَہَا الْاَنْہٰرَ اور سورہ حدید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا ہے: وَکُلاَّ وَعَدَ اللّٰہُ الحُسْنٰی.

یعنی ان سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعدہ کیا ہے پھر سورہ انبیاء میں حسنیٰ کے متعلق فرمایا انَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنا الحُسْنٰی اولئک عَنہَا مُبْعَدُوْنَ یعنی جن لوگوں کیلئے ہماری طرف سے حسنیٰ کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے وہ جہنم کی آگ سے دور رکھے جائیں گے۔

صحابہ پر طعنہ زنی جائز نہیں

امام المفسرین علامہ قرطبی اپنی مشہور ومعروف تفسیر قرطبی جلد نمبر ۱۶، ص:۳۲۲ پر رقم طراز ہیں: یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لئے ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیاتھا اور ان سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے ان کے باہمی اختلافات میں کف لسان کریں اورہمیشہ ان کا ذکر بہتر طریقہ پر کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت (وعظمت) کی چیز ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کررکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔ بحوالہ معارف القرآن،ج:۸۔

ہرمشکل کا حل اتباع صحابہ

آج ہم مسلمانوں کو عالمگیر سطح پر مشکلات کا سامنا ہے ہر محاذ پر ناکامی اور پسپائی ہے دشمنان اسلام متحد اوراسلام کو مٹانے پرمتفق ہیں مسلمانوں پر طرح طرح سے الزامات اور بہتان تراشی ہورہی، پوری دنیا میں اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں میڈیا سرگرم ہے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر چل رہی ہے ہم ایک خطرناک اور نازک دور سے گذر رہے ہیں ان حالات میں صحابہ کرام کی مثالی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان پاکیزہ نفوس کو بھی ان حالات کا سامنا تھا بلکہ بعض اعتبار سے آج کے حالات سے زیادہ خطرناک صورتِ حال تھی مکہ میں ابتلاء و آزمائش کے شدید دور سے گذرتے تھے تعداد بھی کم تھی اور وسائل بھی نہیں، حدیبیہ میں یہودیوں اور منافقوں کی فتنہ انگیزیاں اور سازشیں تھیں، مشرکین مکہ کے حملے اور یہودی قبائل سے لڑائیاں تھیں پھر دائرہ وسیع ہوا تو قیصر روم اور کسریٰ کے خطرناک عزائم تھے ان سب حالات کا مقابلہ صحابہ کرام نے جس حکمت عملی اور صبر واستقامت سے کیا وہی تاریخ ہم کو دہرانی پڑے گی، اس لئے ضروری ہے کہ ہم سیرتِ صحابہ کا مطالعہ کریں ان کو اپنا رہنما و مقتدا جان کر اِس محبت وعقیدت سے ان کی پیروی کریں کہ ان کا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک پسندیدہ ہے صحابہ ہمارے لئے معیار حق اور مشعل راہ ہیں ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی گوارہ نہیں ان کی عظمت شان کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں عصر حاضر میں ان حضرات کی پیروی گذشتہ صدیوں کے مقابلہ میں زیادہ ضروری اور اہم ہے اور کامیابی کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں۔

میں نے چند آیات کے ذکر پر اکتفاء کیاہے ورنہ ان کے علاوہ اور بہت سی آیات میں ان کے فضائل ومناقب بیان کئے گئے ہیں جبکہ کتب احادیث میں مناقب صحابہ ایک مستقل باب ہوتا ہے جس میں انفرادی طور پر کبار صحابہ کے مناقب بھی ہیں اور مجموعی طورپر تمام اصحاب رسول کی عظمت و جلالت کا ذکر بھی ہے۔