پیر، 8 مئی، 2017

خطبه جمعة

پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ سب کے اعمال کی نگرانی کر رہا  ہے اور وہ سب کو اعمال کا پورا بدلہ دے گا وہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، {وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو وہ اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔[النساء: 40]، میں اپنے رب کے فضلِ عظیم پر اسی کی تعریف اور شکر بجا لاتا ہوں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہی جاننے اور خبر رکھنے والا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی  جناب محمد  ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ بشیر و نذیر اور سراج منیر ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول جناب محمد   - جنہیں روشن کتاب دے کر بھیجا گیا  ان - پر ، ان کی آل اور صحابہ کرام پر درود  و سلام اور برکتیں نازل فرما  جن کے ذریعے اللہ تعالی نے دین کو غالب فرمایا اور شرک کو ذلیل و رسوا کیا۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
تقوی الہی اپناؤ ؛ اس کیلیے بڑھ چڑھ کر نیکیاں کرو  اور حرام کاموں سے بچو، تو تم اعلی درجات پا لو گے نیز تباہ کن نتائج سے بچ جاؤ گے۔
مسلمانو!
بیشک اللہ تعالی نے تم سے سچا وعدہ کیا ہے، وہ اپنے وعدے  کی خلاف ورزی نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کر سکتا ہے،  اللہ تعالی نے اپنے فرمانبردار بندوں سے دنیا میں اچھی زندگی کا وعدہ فرمایا  اور آخرت میں اچھے نتائج کا وعدہ دیا،  اللہ تعالی ان پر راضی ہو گا اور انہیں سرمدی جنتوں میں دائمی نعمتوں سے نوازے گا، انہیں انبیائے کرام اور نیک لوگوں کی رفاقت بھی ملے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} اور اگر بستی والے ایمان لاتے اور تقوی اپناتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے ضرور کھول دیتے۔[الأعراف: 96]
ایسے ہی فرمایا: {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ (65) وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ}  اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور تقوی  اختیار کر لیتے تو ہم ان سے ان کے گناہ زائل کر کے انہیں نعمتوں والے باغات میں داخل کرتے [65] اور اگر یہ لوگ تورات ،انجیل اور جو دوسری کتابیں ان پر انکے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی تھیں، ان پر عمل پیرا رہتے تو انکے اوپر سے بھی کھانے کو رزق برستا، اور پاؤں کے نیچے سے بھی ابلتا۔ [المائدة: 65، 66]
یعنی اگر وہ قرآن پر ایمان لے آتے  اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ساتھ میں اپنی کتابوں پر بھی بغیر کسی تحریف کے ایمان رکھتے  تو اللہ تعالی انہیں دنیا میں خوشحال زندگی سے نوازتا اور آخرت  میں ا نہیں نعمتوں والی جنت میں داخل فرماتا۔
اسی طرح نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو ترغیب   دی تو اسے اللہ تعالی نے بیان کرتے ہوئے فرمایا: {فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11)وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا} تو میں[نوح] نے کہا: اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو؛ بیشک وہی بخشنے والا ہے [10] وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا [11] نیز تمہاری دولت اور نرینہ اولاد کے ذریعے مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات اور نہریں بہا دے گا۔[نوح: 11، 12]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بیشک اللہ تعالی فرماتا ہے: جو میرے کسی ولی سے دشمنی روا رکھے تو اس کے خلاف میں اعلانِ جنگ کرتا ہوں،  فرائض سے بڑھ کر میرا بندہ میرا قرب حاصل نہیں کر سکتا، میرا بندہ   تسلسل کے ساتھ نوافل کے ذریعے میرے قرب کی تلاش میں لگا رہتا ہے  یہاں تک میں ہی اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جب میں  اس سے محبت کرنے لگوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، میں اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر  وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دے دوں، مجھے اپنے کسی بھی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا  مجھے موت سے ڈرنے والے مؤمن کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے، مجھے مؤمن کی ناگواری پسند نہیں) بخاری، اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ : اللہ تعالی اپنے لطف و کرم اور رحمت و قدرت کے ساتھ اپنے فرمانبردار بندوں کے امور چلاتا ہے، اور دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہترین منصوبہ بندی فرماتا ہے۔
ہمارے پروردگار کا وعدہ سچا ہے، اس میں ذرہ برابر بھی خلاف ورزی نہیں ہو گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ} ہمارے پروردگار! بیشک تو ہی اس دن کیلیے لوگوں کو جمع کرنے والا جس میں کوئی شک نہیں ہے، بیشک اللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں فرماتا۔[آل عمران: 9]
اسی طرح فرمایا: {رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ}  ہمارے رب ! تو نے اپنے رسولوں (کی زبان) پر ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا، بیشک تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی  نہیں کرتا ۔[آل عمران: 194]
مومنوں سے آخرت کے متعلق بھی اللہ تعالی کے وعدے سچے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}  اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغات کا وعدہ کر رکھا ہے جن میں نہریں جاری ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے نیز سدا بہار باغات میں پاکیزہ قیام گاہوں کا بھی (وعدہ کر رکھا ہے) اور اللہ کی خوشنودی تو ان سب نعمتوں  سے بڑھ کر ہوگی۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے ۔[التوبہ: 72]
مومنین  اپنی دنیاوی زندگی میں بھی اللہ تعالی کے وعدوں کی تکمیل کا مشاہدہ کرتے ہیں اور انہیں اللہ تعالی کی جانب سے مسلسل نعمتیں اور رحمتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْآخِرَةِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ}  تو اللہ نے انہیں دنیا میں بدلہ بھی دیا اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی خوب ہے۔ اور ایسے ہی نیک عمل کرنے والوں کو اللہ محبوب رکھتا ہے [آل عمران: 148]
انہیں آخرت میں بھی وعدہ شدہ اجر و ثواب  اور ابدی نعمتیں ملیں گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَفَمَنْ وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَنْ مَتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ} بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو، اس شخص کی طرح  ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا  سامان دے رکھا ہو پھر وہ قیامت کے دن پیش کیا جانے والا ہو ؟ [القصص: 61]
جس طرح اللہ تعالی نے اپنے فرمانبردار بندوں سے نعمتوں کا وعدہ کیا ہے بالکل اسی طرح نافرمان کافروں اور سرکش گناہگاروں کو وعید بھی سنائی ، انہیں عذاب اور عقاب سے  ڈرایا، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ} اور جو کافر ہیں وہ چند روز فائدہ اٹھا لیں، وہ اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے  کھاتے ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ [محمد: 12]
اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا} اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے  جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے [الجن: 23]
ان کی دنیا کی زندگی بھی بد ترین زندگی ہے، اس کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى}  اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا تو اس کی زندگی تنگ  ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔ [طہ: 124] اور اگر انہیں دنیا مل بھی جائے تو بھی وہ بد ترین زندگی میں ہوتے ہیں۔
اسی طرح اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا: {فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ}  ان لوگوں کے مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ انہیں دنیا کی زندگی میں سزا  دے اور جب ان کی جان نکلے تو اس وقت یہ کافر ہی ہوں [التوبہ: 55]
اور یہ ممکن ہے کہ انسان کسی ایسی آزمائش میں پھنس جائے جو انسان کو مفید چیزوں سے موڑ کر  نقصان دہ چیزوں میں مبتلا کر دے، آزمائش اور امتحان کے طور پر اسے نیکیوں سے موڑے، گناہوں کو خوبصورت بنا کر دکھائے؛ تا کہ اللہ تعالی اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنے والوں اور نفس پرستی سے بچنے والوں  کو ان لوگوں سے الگ کر دے جو نفس پرستی میں پڑ جائیں اور شیطان کے پیچھے چل پڑیں؛ تا کہ  اللہ تعالی ہدایت یافتہ لوگوں کو درجات سے نوازے اور ہوس پرستوں  کو کھائیوں میں گرا دے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ}  ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ یہ معلوم  کر لیں کہ تم میں سے مجاہد کون ہیں اور صابر کون ؟ اور تمہارے احوال کی جانچ پڑتال کریں گے [محمد: 31]
اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:  {وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ}  اور جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم یقیناً انہیں اپنی راہیں دکھا دیتے  ہیں [العنكبوت: 69]
اس لیے انسان کا نفس ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور شیطان اسی کے ذریعے ہی  انسان پر حملہ آور ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي}  نفس تو اکثر برائی پر اکساتا رہتا ہے مگر جس پر میرے پروردگار کی رحمت ہو۔ [يوسف: 53]
اسی طرح فرمایا: {وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ} اور جو شخص اپنے نفس کی حرص  سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہیں۔ [الحشر: 9]
نفس جس قدر جہالت اور ظلم سے متصف ہو گا انسان اسی قدر اللہ تعالی کے وعدوں کی تصدیق سے دور ہو گا، انسان کو استقامت اور راہِ اعتدال سے منحرف کر دے گا۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:  "جو شخص اپنی حقیقت اور فطرت سے آشنا ہو جائے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ  اس کا نفس ہر قسم کی برائی اور بدی کا منبع ہے، جبکہ اس میں ہر قسم کی خیر محض فضلِ الہی اور احسان کی وجہ سے ہے، اس میں نفس کا اپنا کوئی کمال نہیں، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا} اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی پاک صاف  نہ رہ سکتا تھا۔ [النور: 21]"انتہی
شریعت کے لائے ہوئے علمِ نافع سے جہالت کا خاتمہ ہوتا ہے، مسلمان کیلیے ضروری ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالی کی جانب راغب رہے، اپنے نفس کی اصلاح کیلیے اللہ تعالی سے دعا مانگتا رہے، چنانچہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: "رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: (اَللَّهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اَللَّهُمَّ إني أَعُوْذُ بِكَ  مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا"[ یا اللہ! میرے نفس کو تقوی عطا فرما، اور اس کا تزکیہ فرما تو ہی اس کا بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی تزکیہ کر سکتا ہے اور میرے نفس کا مولی ہے، یا اللہ! میں غیر مفید علم، خشوع سے عاری دل، سیر نہ ہونے والے نفس، اور مسترد ہو جانے والی دعا سے تیری پناہ چاہتا ہوں]) مسلم
اسی طرح ترمذی میں روایت ہے کہ نبی ﷺ نے عمران بن حصین  رضی اللہ عنہ کے والد کو دو جملے دعا کیلیے سکھائے تھے: (اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِيْ وَأَعِذْنِيْ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ[یا اللہ! میری رہنمائی میرے دل میں ڈال دے اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما دے])
لہذا اگر نفس شرعی علم اور عمل صالح کے ذریعے پاکیزہ نہ بنے تو انسان پر جہالت اور ظلم کا راج ہوتا ہے، نفس ہوس کے ساتھ مل کر انسان سے اللہ تعالی کے وعدوں کی تکذیب کرواتا ہے، جس کی بنا پر نفس شہوت پرست بن جاتا ہے اور خسارہ، عذاب، ذلت اور رسوائی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے، اور دونوں جہانوں میں نامراد ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو۔ اور اللہ تعالی ایسے ظالموں  کو ہدایت نہیں دیتا۔ [القصص: 50]
اس کے بر عکس اگر نفس کا تزکیہ ہو ، علمِ نافع اور عملِ صالح کے ذریعے نفس پاکیزہ ہو جائے تو انسان اللہ تعالی کے وعدوں کو سچا مانتا ہے اور مطمئن ہو کر اپنے پروردگار  سے تعلق بناتا ہے، اسے موت کے وقت بھی عزت افزائی کی خوشخبری دی جاتی ہے، اسی کے متعلق فرمانِ باری تعالی ہے: {يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27)ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي جَنَّتِي} اے اطمینان پانے والی روح [27] اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی  [29] میرے بندوں میں داخل ہو جا [30] اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ [الفجر: 27 - 30]
بھلائی کے تمام راستے بند کرنے والا، برائیوں کی طرف دعوت دینے والا انسان کا ازلی دشمن - اللہ کی پناہ -شیطان مردود  اور پلید ہے اللہ تعالی نے شیطان کو مکلف لوگوں کیلیے آزمائش بنایا ؛ لہذا شیطان کے پیچھے چلنے والا شخص بد ترین مقام پر ہو گا اور شیطان کی نافرمانی کرنے والا بلند ترین مقام پر فائز ہو گا۔
شیطان انسان کو گمراہ کر کے لذت اور سرور محسوس کرتا ہے، اسے اللہ تعالی کے وعدوں اور وعیدوں کو جھٹلانے کی دعوت دیتا ہے، وہ اس کے سامنے حرام چیزوں کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، فرائض اور مستحبات سے روکنا شیطان کا مشغلہ ہے، وہ انسان کو سبز باغ دکھا کر دھوکا دیتا ہے اور وسوسے ڈال کر اسے گمراہ کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ} شیطان یقیناً تمہارا دشمن ہے۔ لہذا اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے پیرو کاروں کو صرف اس لئے بلاتا ہے تا کہ وہ  دوزخی بن جائیں [فاطر: 6]
اللہ تعالی نے جہنم میں شیطان کا اپنے چیلوں سے خطاب ذکر کرتے ہوئے فرمایا: {وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنْفُسَكُمْ مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} اور جب (تمام امور کا) فیصلہ  چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا : "اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے ایک وعدہ کیا تھا جس کی میں نے تم سے خلاف ورزی کی۔ اور میرا تم پر کچھ زور نہ تھا بجز اس کے کہ میں نے تمہیں (اپنی طرف) بلایا تو تم نے میری بات مان لی۔ لہذا (آج) مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ  ہی کو کرو۔ (آج) نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری کر سکتے ہو۔ اس سے پہلے جو تم مجھے اللہ کا شریک بناتے رہے ہو میں اس کا انکار کرتا ہوں۔ ایسے ظالموں کے لئے یقیناً درد ناک عذاب ہے " [ابراہیم: 22]
شیطان اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کیلیے سات انداز اپناتا ہے: [1]سب سے پہلے شیطان -اللہ کی پناہ-کفر کی دعوت دیتا ہے ، اگر انسان پہلے داؤ پر ہی اس کی دعوت قبول کر لے تو شیطان کا ہدف پورا ہو جاتا ہے اور شیطان اسے اپنی رذیل جماعت میں شامل کر لیتا ہے، [2]لیکن اگر انسان اس کی بات نہ مانے تو پھر اسے بدعت کی دعوت دیتا ہے ، اگر انسان سنت نبوی اور کتاب و سنت پر کار بند رہتے ہوئے بدعات سے بچ جائے [3]تو شیطان اسے کبیرہ گناہوں کی دعوت دیتا ہے اور اس کیلیے کبیرہ گناہ خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، پھر اسے توبہ نہیں کرنے دیتا ، اس پر انسان کبیرہ گناہوں کا دلدادہ بن جاتا ہے اور وہ مکمل طور پر گناہوں کی جکڑ میں آ  کر ہلاک ہو جاتا ہے،[4]اگر انسان کبیرہ گناہوں کی دعوت بھی قبول نہ کرے تو شیطان صغیرہ گناہوں کی دعوت دیتے ہوئے صغیرہ گناہوں کو معمولی بنا کر پیش کرتا ہے؛ چنانچہ انسان کے صغیرہ گناہوں پر اصرار  اور تکرار کے باعث صغیرہ بھی کبیرہ کے برابر ہو جاتے ہیں اور انسان ہلاک ہو جاتا ہے؛ کیونکہ انسان ان گناہوں سے توبہ نہیں کرتا۔ [5]انسان اگر صغیرہ گناہوں سے بھی بچ جائے تو شیطان مباح چیزوں میں مگن رکھ کر دیگر نیکیوں سے دور رکھتا ، اسے مباح چیزوں میں اتنا مشغول کر دیتا ہے کہ آخرت اور نیکیوں کیلیے جد و جہد کا وقت ہی نہیں ملتا،  [6]اگر اس داؤ سے بھی انسان بچ نکلے تو انسان سے افضل کام چھڑوا کر غیر افضل کام کرواتا ہے تا کہ انسان کے اخروی اجر و ثواب میں کمی واقع ہو؛ کیونکہ نیکیوں کا ثواب یکساں نہیں ہوتا ، اور [7]اگر انسان اس مکاری سے بھی بچنے میں کامیاب ہو جائے تو شیطان اپنا لاؤ لشکر تکلیف دینے کیلیے مومن کے پیچھے لگا دیتا ہے ، جو کہ مومن کو انواع و اقسام کی تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔
انسان ہمیشہ شیطان کے شر سے تحفظ اور نجات کیلیے اللہ تعالی کی پناہ مانگے، دائمی طور پر اللہ تعالی کا ذکر کرے، نماز با جماعت کا اہتمام کرے؛ یہ اعمال شیطان سے تحفظ کیلیے قلعہ، جائے پناہ اور حرزِ جان کا مقام رکھتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالی پر توکل اور شیطان  کے خلاف دائمی جد و جہد، اسی طرح ظلم  سے اجتناب بھی باعث نجات اعمال ہیں۔
فرمانِ باری تعالی ہے: { وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ}  پھر اگر کسی وقت تمہیں کوئی شیطانی وسوسہ  آنے لگے تو اللہ کی پناہ  مانگو۔ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ [فصلت: 36]
راہِ حق ،استقامت  اور نیکی کے راستے میں یہ عمل بھی رکاوٹ  بن سکتا ہے کہ دنیا سے محبت اور آخرت کے مقابلے میں دنیا پر راضی ہو جائیں، دنیا داری میں حلال و حرام کا فرق مٹا دیں، دنیا میں اتنے مگن ہو جائیں کہ آخرت بھول جائیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} جو لوگ ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی  پر ہی راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری قدرت کے نشانوں سے غافل ہیں [7] یہی لوگ ہیں ان  کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کا ٹھکانا آگ ہے۔[يونس: 7، 8]
اسی طرح فرمایا: {أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ} کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے ہو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں معمولی ترین ہے۔[التوبہ: 38]
حقیقت میں دنیا بھی انسان کی دشمن ہے، یہی وجہ ہے کہ جب انسان کے دل پر دنیا کی محبت غالب ہو جائے تو انسان دنیا داری میں مشغول ہو جاتا ہے اور آخرت کیلیے کوئی کام نہیں کرتا اور تباہ ہو جاتا ہے، اس دھرتی کے اکثر لوگ دنیا کو ہی ترجیح دیتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (16) وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى} بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو [16] حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔[الأعلى: 16، 17]
اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے: {وَوَيْلٌ لِلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ (2) الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا أُولَئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ} اور کافروں کے لئے سخت عذاب (کی وجہ) سے تباہی ہے [2] جو آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں (اپنی خواہشوں کے مطابق) ٹیڑھ پیدا  کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ گمراہی میں دور تک نکل گئے ہیں [ابراہیم: 2، 3]
دنیا کے شر  و ضرر سے نجات اور بچاؤ ایسے طریقے سے دنیا کمانے پر ملے گا جو کہ شرعی طور پر جائز ہو اور اللہ تعالی کی طرف سے حلال کردہ چیزوں کو بغیر اسراف اور فضول خرچی کے استعمال کریں، اللہ تعالی کی مخلوق پر تکبر اور گھمنڈ مت کریں، ان پر نخوت اور غرور نہ جمائیں، اپنی قوت  کے بل بوتے پر حقوق العباد پامال مت کریں۔
یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ  دنیا فانی اور دھوکے والی ہے، یہاں حالات تہ و بالا ہوتے رہتے ہیں، اگر یہ حقیقت ہمیشہ یاد رہے تو اس کی وجہ سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے۔
جیسے کہ مستورد فہری  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (آخرت کے مقابلے میں دنیا صرف اتنی سی ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور دیکھے کہ انگلی پر کتنا پانی ساتھ آتا ہے) احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے اسے روایت کیا ہے۔
انسان کو ہمیشہ دنیا کے شر اور انجام بد سے چوکنا رہنا چاہیے، اور یہ بات کبھی ذہن میں نہ آئے کہ تمہیں یہ دنیا تمہارے  علم یا کسی خوبی کی وجہ سے ملی ہے! جیسے قارون نے اسی طرح کا دھوکا کھایا  تو اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ وہ آپ کو معلوم ہے۔
دنیا کے بارے میں ایک اہم بات جسے پورا کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے ، وہ یہ ہے کہ دنیاوی مال و متاع میں سے حقوق اللہ اور حقوق العباد  پورے کریں  جیسے کہ :  زکاۃ کی ادائیگی، اہل خانہ اور اولاد کے اخراجات، مہمان نوازی، کمزوروں کی مدد، رفاہِ عامہ کے کاموں میں  تعاون، ان سب کیلیے اخلاص ہونا اور ریاکاری سے دوری لازمی امر ہے،  ان کاموں کے بدلے میں شہرت، ناموری، کلمات تشکر کچھ بھی مطلوب نہ ہو؛ کیونکہ ریا کاری سے عمل برباد ہو جاتا ہے۔
بڑے بڑے صحابہ کرام بھی دولت مند تھے، لیکن اس کے با وجود وہ دنیا سے انتہائی بے رغبت تھے، ابو سلیمان کے مطابق: عثمان اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کی اس دھرتی پر اللہ تعالی کے خزانچیوں میں سے خزانچی تھے، وہ اللہ کی اطاعت میں خرچ کرتے ، ان کا اللہ تعالی کے ساتھ گہرا دلی معاملہ تھا۔
ایک حدیث ہے کہ : (دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا، اور لوگوں کے پاس جو کچھ سے اس سے بے نیاز ہو جاؤ تو لوگ تم سے محبت کریں گے) ابن ماجہ نے اسے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ لوگوں کے مال سے بے نیاز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر لوٹ مار نہ کرے اور نہ ہی ان کے حقوق غصب کر کے ان پر ظلم ڈھائے، ان کو حاصل نعمتوں کے زائل ہونے کی تمنا نہ کرے، لوگوں کی دولت پر لالچ بھری آنکھوں سے مت دیکھے،  اور اس کیلیے دست درازی مت کرے۔
سب سے زیادہ قابل ستائش زُہد یہ ہے کہ دنیا میں تکبر نہ کرے، اس کے بارے میں اللہ تعالی کا فرمان ہے: {تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ}  یہ آخرت کا گھر تو ہم نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر دیا ہے جو زمین میں بڑائی  یا فساد  نہیں چاہتے اور (بہتر) انجام تو پرہیز گاروں کیلیے ہے۔ [القصص: 83]
اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین  ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے،  میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ تعالی سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔
دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں  اللہ کیلیے ہیں وہی میرا پروردگار ہے، دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں اسی کیلیے تعریفیں ہیں، اس کے اچھے اچھے نام ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ہم اس کی بلند و بالا صفات  کے ذریعے اسی کی ثنا خوانی کرتے ہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے  بندے  اور چنیدہ رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی  آل ، اور متقی صحابہ کرام پر رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔
حمد و صلاۃ کے بعد:
کما حقُّہ تقوی اختیار کرو ، اور مضبوط دین کو اچھی طرح تھام لو۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی کا فرمان ہے: {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ} لوگو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ ہی اللہ کے بارے میں وہ دھوکا باز  (شیطان) تمہیں دھوکا دینے پائے۔  [فاطر: 5]
اور ایک حدیث میں ہے کہ: (عقل مند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچان لے اور موت کے بعد کی تیاری کرے، عاجز وہ ہے  جو ہوس پرستی میں ڈوبا رہے اور اللہ تعالی سے امید لگائے رکھے)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا منقول ہے کہ : فرشتہ دل میں احساس پیدا کرتا ہے جو کہ اللہ کے وعدوں اور حق کی تصدیق پر مشتمل ہوتا ہے، اور بسا اوقات شیطان دل میں منفی احساس پیدا کرتا ہے جو کہ اللہ کے وعدوں اور حق کی تکذیب پر مشتمل ہوتا ہے۔
مسلمان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے نفس کا مسلسل محاسبہ کرے اور اسے صراطِ مستقیم پر گامزن رکھے، نفس کو شیطانی مکاریوں اور ہتھکنڈوں سے بچاتے ہوئے ہوس پرستی سے بھی دور رکھے، نیز دنیا کے دھوکے میں نہ آنے دے؛ کیونکہ دنیاوی فائدے سب عارضی ہیں۔
اللہ کے بندو!
 }إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا{ یقیناً اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]
اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)
اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود  و سلام پڑھو۔
اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔
یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،  یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا،  تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت و کرم اور جود و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا رب العالمین!
یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! بدعات کو رسوا فرما، یا اللہ! بدعات کو رسوا فرما، یا اللہ! رسول اللہ ﷺ کے دین سے متصادم بدعات کو قیامت تک کیلیے ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! بدعات کو رسوا فرما دے، کسی بھی اعتبار سے ان کا بول بالا نہ ہونے دے، یا رب العالمین! یا اللہ! تجھ سے اور تیرے نبی ﷺ سے عداوت رکھنے والے بدعتی لوگوں میں پھوٹ ڈال دے، یا اللہ! انہیں روزِ قیامت تک کیلیے ذلیل و رسوا فرما دے، یا ذو الجلال والاکرام! یا شدید العقاب! یا سریع الحساب!
یا اللہ! ہم تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور تونگری کا سوال کرتے ہیں۔
یا اللہ! تمام معاملات کا انجام ہمارے لیے بہتر فرما، اور ہمیں دنیاوی رسوائی اور اخروی عذاب سے محفوظ فرما۔
یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! ان کی قبروں کو منور اور کشادہ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! ان کی حسنات میں اضافہ فرما، ان کی خطاؤں کو معاف فرما۔
یا اللہ! تو ہمارے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جنہیں تو ہم سے بہتر جانتا ہے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی ترقی و تنزلی دینے والا ہے ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل  سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، لشکروں، اور شیطان کے ہمنواؤں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!  یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، لشکروں، اور شیطان کے ہمنواؤں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں اور بد اعمالیوں کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! تمام مسلمانوں کو ان کے نفسوں اور بد اعمالیوں کے شر سے محفوظ فرما۔
یا اللہ! یا ذو الجلال وا لاکرام! یا ارحم الراحمین! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل  سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
یا اللہ! خادم حرمین شریفین  کو تیری مرضی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری مرضی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کیلیے مختص فرما ، یا رب العالمین!  یا اللہ! ان کی ہر اچھے کام کیلیے مدد فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں صحت و عافیت سے نواز، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔یا اللہ! ان کے دونوں نائبوں کو تیری مرضی اور تیری رہنمائی کے مطابق ایسے کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو۔
یا اللہ! ہماری سرحدوں کو محفوظ بنا، ہماری سر زمین کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! انہیں صحیح سمت میں گامزن فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! مسلمانوں میں الفت ڈال دے، یا اللہ! فتنوں کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! مسلم خطوں میں بپا فتنوں کا خاتمہ فرما دے۔
یا اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی شام میں مدد فرما،  یا اللہ! ظالموں کے خلاف ان کی مدد فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ نازل فرما، یا اللہ! ظالموں پر اپنی پکڑ ، عذاب اور غضب نازل فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! شام میں مسلمانوں پر ظلم کرنے والے لوگوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، اسی طرح پوری دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر ان کے دین کی وجہ سے ظلم ڈھانے والوں پر اپنی پکڑ نازل فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تجھ سے اور تیرے نبی ﷺ سے عدوات رکھنے والے بدعتی لوگوں کی اجتماعیت توڑ دے، یا ذو الجلال و الاکرام! یا اللہ! یمن کے فتنے کا خاتمہ فرما دے، یا اللہ! یمن کے فتنے کا خاتمہ ایسے فرما  کہ جس میں اسلام کی بالا دستی ہو،  یا اللہ! یمن کے فتنے کا خاتمہ ایسے فرما دے جس میں مسلمانوں کیلیے عافیت ہو۔
یا اللہ! بے لباس مسلمانوں کو لباس مہیا فرما، دہشت زدہ مسلمانوں کو امن عطا فرما، بے گھر افراد کو رہنے کیلیے جگہ مہیا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! تمام مسلمانوں کی مدد فرما، یا اللہ! تمام مسلمان اور مومن مرد و خواتین کے معاملات سنوار دے۔
اللہ کے بندو!
}إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ { اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]
اور نماز قائم کرو، بیشک نماز مومنوں کے ذمہ وقت مقررہ پر فرض ہے۔
درود و سلام ہوں ہمارے نبی محمد -ﷺ- ، آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔

بدھ، 26 اپریل، 2017

ایصال ثواب اور مروّجہ قرآن خوانی کا حکم

مومن کے عمل کا اجر وثواب
موٴمن اس عارضی دنیوی زندگی میں اپنی موت سے پہلے پہلے جو بھی نیک کام کرے گا؛ چاہے اپنی زبان سے ہو کہ ہاتھ سے یا اپنے مال کے ذریعہ اس کا ثواب ضرور پائے گا یعنی عمل کا اجر اس کے نامہٴ اعمال میں لکھا جائے گا؛ لیکن مرنے کے بعد عمل کا دفتر بند ہوجاتا ہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی عمل کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے؛ اس لیے نیکیوں پر اجر و ثواب کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے؛ البتہ چند اعمال واسباب ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی اس کا اجر میت کو پہنچتا رہتا ہے (یہی حال اس کے برے عمل اور گناہ کا ہے) حضرت ابوہریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اذا مات ابن آدم انقطع عملہ الا من ثلاث صدقة جاریة أو علم ینتفع بہ أو ولد صالح یدعو لہ (رواہ مسلم) جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل بند ہوجاتا ہے؛ مگر تین چیزیں:
(۱) ایک صدقہٴ جاریہ یعنی ایسا صدقہ جس سے زندہ لوگ نفع حاصل کرتے رہیں (۲) دوسری ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں (۳) تیسری ایسی نیک اولاد جو اپنے والدین کے لیے دعا کرتی رہے، ان تین قسم کے اعمال کا ثواب میت کو پہنچتا ہے یعنی اس کے نامہٴ اعمال میں لکھا جاتا رہے گا۔
ایک دوسرے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا: ان مما یلحق الموٴمن عملہ وحسناتہ بعد موتہ علمًا علّمہ ونشرہ أو ولدًا صالحا ترکہ أو مصحفا ورّثہ أو مسجدًا بناہ أو بیتاً لابن السبیل بناہ أو نہرًا اجراہ أو صدقة أخرجہا من مالہ فی صحتہ وحیاتہ تلحقہ من بعد موتہ (الترغیب، ص۱۹۶/۱ عن ابن ماجہ) بے شک موٴمن کے عمل اور اس کی نیکیوں میں سے جس کا ثواب موٴمن کو اس کے مرنے کے بعد پہنچتا رہتا ہے: (۱) وہ علم ہے جو اس نے دوسرے کو سکھایا اور پھیلایا (۲) یا نیک اولاد جو اس نے چھوڑی ہے (۳) یاقرآن پاک کا کسی کو وارث بنایا یعنی تلاوت کے لیے وقف کردیا (۴) یا مسجد تعمیر کی (۵) یا مسافر کے لیے کوئی سرائے یعنی مسافر خانہ بنایا (۶) یا نہر جاری کی (۷) یا اپنے مال میں  سے نفلی صدقہ نکالا، تندرستی اور زندگی میں تو ان چیزوں کا اجر وثواب مرنے کے بعد بھی میت کو پہنچتا رہے گا۔
ایصال ثواب اور اس کے اغراض
جس طرح میت کو اپنے بعض اعمال کا اجر وثواب پہنچتے رہنا متعدد احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اور اہل ایمان کا ان احادیث پر عمل بھی پایاجاتا ہے، اسی طرح میت کو کسی نیک عمل کے ذریعہ نفع پہنچانا اور میت کا اس سے نفع اٹھانا احادیث اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ مثلاً حضرت انس بن مالک نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! ہم اپنے مُردوں کے لیے دعا کرتے ہیں، ان کے لیے صدقہ کرتے ہیں اور ان کی طرف سے حج کرتے ہیں، کیا ان اعمال کا ثواب ان مُردوں تک پہنچتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو ثواب پہنچتا ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی خوش ہوتا ہے، جب اسے کھجور کا طبق ہدیہ کیا جائے۔ ایک اور حدیث میں ہے جس شخص نے اپنے والدین یا دونوں میں سے ایک کی قبر  کی زیارت کی اور قبر کے پاس یٰسین شریف پڑھی تو اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
ایصال ثواب کا منشا عموماً یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے میت سے عذاب میں تخفیف کردیتے ہیں یا دور فرمادیتے ہیں، کبھی میت کے درجات کی بلندی یا میت پر شفقت وترحم ہوتا ہے، کبھی اس کا مقصد والدین کی طاعت ہوتا ہے اور کبھی میت کے حق کی ادائیگی یااس کے احسان کا بدلہ دینا ہوتا ہے۔ اور ایک غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ خود ایصال ثواب کرنے والا اجر وثواب کا مستحق ہو۔ یہ سب دینی مقاصد ہیں جو احادیث میں مذکور ہیں، جیسے حدیث شریف میں آیاہے کہ جو شخص قبرستان گیا اور یٰسین شریف پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس دن مردوں سے عذاب میں تخفیف کرتے ہیں اور مُردوں کی تعداد کے برابرپڑھنے والے کو اجر دیتاہے۔ بہرحال ایصال ثواب ایک شرعی مقصد ہے۔
تنبیہ : میت کو نفع پہنچانے اورپہنچنے کے ذرائع میں سے ولد صالح کااپنے والدین کے لیے دعا کرنا یا دوسرے اشخاص کا میت کے لیے دعائے مغفرت کرنا بھی ایصال ثواب کے حکم کلی شرعی میں داخل ہے، جیساکہ مذکورہ احادیث میں اس کا ذکر صراحتاً موجود ہے۔
ایصال ثواب کے مختلف طریقے
ایصال ثواب چاہے مالی عبادت کے ذریعہ ہو، جیسے صدقات و خیرات کرنا یا مسکین و حاجت مند کو کھلانا، پلانا (یا پہنانا یا ان کی کوئی اور ضرورت پوری کرنا) یا بدنی عبادت سے ہو، جیسے نفل نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن وذکر واعتکاف اور طواف یا نفل حج یا عمرہ ایسے عمل کے ذریعہ ہو جس سے مخلوق کو نفع پہنچے اور اللہ کا قرب حاصل ہو، جیسے کنواں یا نہر کھدوانا (آج کل بورنگ کردینا) یا پل یا مسافرخانہ بنوانا، پھلدار یا سایہ دار درخت لگانا، مسجد کی تعمیر کرنا یا مصحف شریف یعنی قرآن مجید کو تلاوت کے لیے وقف کرنا یا اولاد کو دینی تعلیم دلانا وغیرہ ان سب چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اوراس سے میت کو خوشی وراحت ملتی ہے۔
پس فرائض کے سوا ہر نیک عمل سے چاہے کرتے وقت مُردوں کی طرف سے نیت کی ہو یا کرکے اس کا ثواب بخشا جائے اور ثواب چاہے کسی خاص میت کو بخشے یاتمام مومنین کو اور چاہے عمل کرنے والا تنہا کرے یا چند افراد مل کر انجام دیں ہر طرح مُردوں کو نفع پہنچانا درست اور ثابت ہے؛ بلکہ زندوں کو بھی ثواب بخشنا درست اور جائز ہے۔ الاصل اَنَّ کلمَن اَتی بعبادةٍ مّا أی سواء کانت صلاةً أو صومًا أو صدقةً أو قراء ةً أو ذکرًا أو طوافًا أو حجًا أو عمرةً ․․․ جمیع أنواع البر (شامی وبحر) الافضل لمن یتصدق نفلاً اَن ینوی لجمیع المومنین والمومنات لانہا تصل الیہم ولا ینقص من أجرہ شیء ہو مذہب أہل السنة والجماعة (شامی) اصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی قسم کی عبادت کرے خواہ نماز ہو یاروزہ یا صدقہ یاقرأت  قرآن یا ذکر یا طواف یا حج یا عمرہ․․․․ ہر طرح کی نیکیوں کا ثواب پہنچانا درست ہے اور ایصال ثواب کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین اور مومنات کی نیت کرے؛ اس لیے کہ سب کو بھیجے ہوئے نیک عمل کا پورا ثواب پہنچتا ہے، بھیجنے والے کے اجر میں سے کچھ کم نہیں کیا جاتا، یہی اہل السنة والجماعة کا مذہب ہے۔ 
فہذہ الآثار وما قبلہا وما فی السنة أیضاً من نحوہا عن کثیر قد ترکناہ لحال الطول یبلغ القدر المشترک بین الکل وہو من جعل شیئًا من الصالحات لغیرہ نفعہ اللّٰہ بہ مبلغ التواتر(فتح القدیر صفحہ۱۴۲:۳) علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ احادیث و آثار بکثرت ہیں طوالت کی وجہ سے ہم نے ترک کردیا، ان سب سے قدر مشترک ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص کسی بھی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور نفع دے گا یہ بات یقینی ہے۔
ایصال ثواب کے لیے قرأتِ قرآن
قرآن پاک کی تلاوت چاہے انفرادی طور پر ہو یا کسی جگہ اکٹھے ہوکر دونوں طرح صحیح اور مستحسن ہے۔ تلاوتِ قرآن کی اصل غایت تو رضائے الٰہی ہے؛ لیکن دوسرے مقاصد خیر کے لیے بھی قرآن کریم کا پڑھنا احادیث وآثار سے ثابت ہے؛ چنانچہ ایصال ثواب کے لیے جو ایک شرعی مقصد ہے، قرآن کریم کا پڑھنا خیرالقرون کے زمانہ سے جاری اور صحابہٴ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ان لکل شیء قلب وقلب القرآن یسین فاقروٴہا علی موتاکم  ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے، قرآن پاک کا دل سورئہ یٰسین ہے، پس اسے مردوں پر پڑھا کرو؛ اس لیے میت کے لیے یٰسین شریف پڑھنا اور پڑھوانا دونوں درست ہے۔ (فتح القدیر) محی السنہ امام نووی اپنی کتاب ”التبیان فی آداب حملة القرآن“ میں انصار مدینہ کا ایک معمول نقل کرتے ہیں الأنصار اذا حضروا عند المیت قروٴا سورة البقرة․ انصار مدینہ جب میت کے پاس حاضر ہوتے تو سورئہ بقرہ پڑھا کرتے تھے۔ مشہور شارحِ مشکوٰة ملا علی قاری جلیل القدر تابعی امام شعبی کا قول نقل کرتے ہیں کانت الأنصار اذا مات لہم المیت اختلفوا الی قبرہ یقروٴن القرآن (مرقات صفحہ ۱۹۸:۴) علامہ ابن القیم  نے بھی اپنی کتاب ”الروح/۹۳“ میں امام شعبی کا قول ذکر کیا ہے، یعنی انصار میں جب کسی  کا انتقال ہوتا تو اس کی قبر پر جاتے اور قرآن پڑھتے تھے۔ اس سلسلہ میں مختلف احادیث وآثار ذکر کرکے ملا علی قاری لکھتے ہیں الأحادیث المذکورة وہی ان کانت ضعیفة فمجموعہا یدل علی أن لذلک اصلاً وان المسلمین ما زالوا فی کل عصر ومصر یجتمعون ویقروٴن لموتاہم مِن غیر نکیر فکان ذلک اجماعًا یعنی میت کے ایصال  ثواب کے لیے قرأتِ قرآن کی مذکورہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں؛ مگر مجموعہ دلالت کرتا ہے کہ اس کی اصل موجود ہے؛ چنانچہ مسلمان ہر زمانہ اور شہر میں جمع ہوتے ہیں اور اپنی میت کے لیے قرآن پڑھتے ہیں، پس عملاً یہ اجماع ہوگیا۔ (مرقات، ص:۱۹۹:۴) اور جب خیرالقرون؛ بلکہ ایک جماعت صحابہ سے اس کا ثبوت موجود ہے، تو پھر ایصال ثواب کے لیے اجتماعی  قرأتِ قرآن کو بدعت نہیں کہا جائے گا؛ البتہ اگر خلاف شرع کسی پابندی کے ساتھ کیا جائے تو پھر ممنوع کہلائے گا۔
مروّجہ قرآن خوانی کا حکم فتاویٰ کی روشنی میں
عوام میں پائی جانے والی قرآن خوانی کئی پابندیوں اور لازم کیے ہوئے امور کے ساتھ ہوا کرتی ہے، جن کی شریعت میں کوئی اصل خیرالقرون میں نہیں ملتی، ایسی خلاف شرع پابندی اور التزام والی قرآن خوانی قابل ترک ہے، اس میں شرکت بھی ممنوع ہے۔
(۱) امام ربّانی فقیہ عصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی تحریر فرماتے ہیں: ”ثواب میت کو پہنچانا بلا قید وتاریخ وغیرہ اگر ہوتو عین ثواب ہے اور جب تخصیصات اور التزامات مروّجہ ہوں تو نادرست اور باعث مواخذہ ہوجاتاہے“ (فتاویٰ رشیدیہ)
(۲) حضرت مفتی سید عبدالرحیم صاحب لاجپوری مفتی اعظم گجرات تحریر فرماتے ہیں: رسم ورواج کی پابندی اور برادری کی مروت اور دباؤ کے بغیر اور کوئی مخصوص تاریخ اور دین معین کیے بغیر اور دعوت کا اہتمام اور اجتماعی التزام کے بغیر میت کے متعلقین، خیرخواہ اور عزیز واقرباء ایصال ثواب کی غرض سے جمع ہوکر قرآن خوانی کریں تو یہ جائزہے ممنوع نہیں ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ۳۸۹/۱)
(۳) حضرت مولانا سیدزوّار حسین نقشبندی اپنی کتاب ”عمدة الفقہ“ میں لکھتے ہیں: قرأت قرآن کے لیے قبر کے پاس بیٹھنا نیز قرآن شریف پڑھنے کے لیے حافظوں اور قرآن خوانوں کو بٹھانا بھی بلاکراہت جائز ہے؛ جبکہ پڑھنے والے اجرت پرنہ پڑھتے ہوں اور پڑھوانے والے کو اجرت (دینے) کا خیال نہ ہو۔ (عمدة الفقہ،ص:۵۳۶/۲)
(۴) حضرت فقیہ الامت مفتی اعظم ہند مفتی محمودحسن گنگوہی تحریر فرماتے ہیں: الجواب حامدا ومصلیا ”افضل تو یہی ہے کہ جب ایک جگہ مجمع قرآن شریف پڑھے تو سب آہستہ پڑھیں؛ لیکن زور سے پڑھیں تب بھی گنجائش ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ، ص:۲۵/۱) ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ایصال ثواب میں نہ تاریخ کی قید ہے کہ شب برأت ۱۵/شعبان، ۱۰/محرم اور ۱۲/ربیع الاوّل ہو۔ نہ ہیئت کی قید ہے کہ چنوں پر کلمہ طیبہ پڑھا جائے یا کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ دی جائے۔ نہ سورتوں وآیتوں کی تخصیص ہے کہ قل اور پنج آیات ہو اورنہ کسی اور قسم کی قید ہے یہ سب قید ختم کردیا جائے کہ یہ شرعاً بے اصل ہے، صحابہ نے بغیر ان قیدوں کے ثواب پہنچایا ہے۔ (فتاویٰ محمودیہ، ص:۲۰۶/۱ قدیم)
(۵) حضرت مفتی احمد بیمات خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی تحریر فرماتے ہیں: الجواب حامداً ومصلیاً۔ جب کسی دن یا تاریخ کو لازم نہ کیاجائے کھانے پینے کا مستقل انتظام نہ کیا جائے نیز اسے ایسا ضروری اور لازم نہ سمجھا جائے کہ اس قرآن خوانی میں شریک نہ ہونے والے پر طعن و تشنیع کی جائے تو بغرض ایصال ثواب جائزہے؛ اس لیے کہ ایصال ثواب کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔ فقط: واللہ اعلم بالصواب (فتاویٰ فلاحیہ، ص:۴۰۸/۱)
قرآن خوانی میں خلاف شرع امور سے احتراز
حدیث و فقہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایصال ثواب کے لیے مالی عبادتوں کا طریقہ زیادہ نفع بخش ہے کہ اس سے عام انسان کو بھی نفع ہوتا ہے اور میت کو بھی اجر وثواب پہنچتا رہتا ہے؛ البتہ قرأت قرآن (قرآن خوانی) کے ذریعہ ایصال ثواب کیا جائے، تو پھر فقہ وفتاویٰ کی روشنی میں چند امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
(۱) قرآن پڑھنے یا پڑھوانے پراجرت مقرر نہ کی جائے اورنہ اجرت لی جائے۔ بہت سے علاقہ میں قرآن خوانی کرانے والے حافظ وغیرہ سے کم یا زیادہ پڑھنے پر معاوضہ کی پیش کش کرتے ہیں اور کبھی پڑھنے والے خود ہی معاوضہ طے کرتے ہیں اور بعض مرتبہ بغیر طے کیے ہدیہ کے نام پر دیا جاتا ہے؛ چونکہ قرآن خوانی کرانے والے کے دل میں ہوتا ہے کہ نذرانہ دینا ہوگا اور پڑھنے والے کے دل میں ہوتا ہے کہ نذرانہ ضرور ملے گا؛ اس لیے یہ نذرانہ (ہدیہ) بھی جسے مجلس کے بعد پیش کرنے کا رواج ہے اجرت کے مشابہ ہے؛ لہٰذا یہ سب صورت ناجائز ہے اور اس طرح پڑھنے پر اجر وثواب نہیں ملتا ہے، تو ایصال ثواب کیسے ہوگا؟
(۲) قرآن خوانی میں شرکت کرنا برادری مروت کے دباؤ یا بدنامی کے ڈر سے نہ ہو اسی طرح قرآن خوانی میں شریک نہ ہونے والے پر کوئی طعن وملامت نہ کیا جائے۔ قرآن خوانی میں شرکت کرنے والے عموماً برادری مروت کی وجہ سے بیٹھتے ہیں، کبھی قرآن خوانی کرانے والوں کے طعن وملامت سے بچنے کے لیے شریک ہوتے ہیں، ایسی قرآن خوانی سے تو بہتر یہ ہے کہ کسی غریب ومسکین اور مستحق کی حاجت ضروریہ پوری کرکے اس کا ثواب میت کو پہنچایا جائے۔
(۳) انتقال کے بعد قرأت قرآن کے لیے دنوں کی تخصیص نہ ہو جیسے تیسرے دن اور دسویں دن میں قرآن خوانی کرنا پھر چالیسویں دن میں کرنا پھر سال پورا ہونے پرکرنا۔ عوام کے نزدیک یہ تیجہ، چہلم اور برسی وغیرہ ایسے متعین ہیں کہ ذرا بھی اس میں خلاف نہیں کیاجاتا، اسی طرح قرآن خوانی کے لیے تاریخ متعین نہ ہو مثلاً ۲۷ویں رجب، ۱۵ویں شعبان، دسویں محرم، ۱۲ویں ربیع الاوّل وغیرہ۔ اگر دن یا تاریخ کے التزام کے ساتھ قرآن خوانی کی جاتی ہے تو پھر یہ شرع کے خلاف ہے، اس میں شرکت ممنوع ہے؛ بلکہ اسے بند کرنے کی سعی کی جائے۔
(۴) خاص ہیئت کے ساتھ، خاص سورتیں اور خاص آیتوں کے پڑھنے کو ضروری قرار نہ دیا جائے جیسے کھانا سامنے رکھ کر چاروں قل اور پنج آیات پڑھ کر ایصال ثواب کرنا؛ کیونکہ ثواب کا پہنچنا اس طریقہ پر موقوف نہیں ہے، اگر اس طرح کیا جائے گا تو یہ طریقہ صحیح نہ ہونے کی وجہ سے قابل ترک ہوگا۔
(۵) مجلس قرآن خوانی کے بعد شریک ہونے والوں کو کھلانا یا پلانا یا شیرینی تقسیم کرنے کا التزام نہ ہو۔ عام طور سے قرآن خوانی کے بعد کم از کم شیرینی (یعنی کوئی بھی میٹھی چیز پھل یا مٹھائی یا نان خطائی وغیرہ) تقسیم کرنے کو لازم سمجھتے ہیں اور بعض مرتبہ شریک ہونے والے اگر شیرینی تقسیم نہ کی جائے تو طنز کرتے ہیں، یہ دونوں صورتیں غلط ہیں اور قابل اصلاح ہیں۔
(۶) قرآن خوانی میں شرکت کرنے والے کا مقصد شہرت وتفاخر یا دنیوی جاہ ومنصب کاحصول ہے یا قرآن پڑھوانے والا خود ہی شہرت وتفاخر کے لیے کررہاہے تو یہ بھی جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں دونوں فریق قابل موٴاخذہ ہیں ثواب تو کہاں ملے گا؟
حاصل یہ کہ کسی کے انتقال پر ایصال ثواب کے لیے شریعت میں مختلف طریقے ہیں، کسی بھی طریقہ پر عمل کیا جاسکتا ہے؛ البتہ ایسا طریق اختیار کیا جائے تو بہتر ہے جس سے عام لوگوں کو تادیر فائدہ حاصل ہوتا رہے اورمیت کو بھی اس کا اجر وثواب پہنچتا رہے اور ختم قرآن کرنا یا کم از کم یٰسین شریف پڑھنا یا پڑھوانا بھی درست ہے، شرط یہ ہے کہ خلاف شرع قید وپابندی نہ ہو چاہے مسجد میں ہو یا گھر میں۔ زمانہٴ سلف سے اس کا معمول جاری ہے؛ چنانچہ مدارسِ دینیہ میں بھی کسی شخصیت کے انتقال پر اگر قرآن خوانی ہوتی ہے تو وہ مذکورہ قیود وپابندیوں سے خالی ہواکرتی ہے؛ اس لیے ایسی پاکیزہ قرآن خوانی کے جائز؛ بلکہ مستحسن ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اکابر علمائے دیوبند اور اسلاف کے واقعات میں اس کا ذکر موجود ہے۔ مثلاً حجة الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی کے صاحب زادے ریاست دکن کے قاضی مولانا حافظ محمد احمد نانوتوی کا جب انتقال ہوا، اس وقت برصغیر کے سیکڑوں مدارس میں؛ جبکہ ہزاروں کبار علماء موجود تھے، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔ (تفصیل کے لیے دارالعلوم دیوبند کی سالانہ روئداد ملاحظہ ہو) لہٰذا بعض اہل علم کا ایصال ثواب کے لیے مطلقاً اجتماعی قراء ت قرآن کو بدعت قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
البتہ خواہش پرستوں نے اِس عمل صالح میں مختلف پابندیاں لگادی ہیں، جو شرع کے خلاف ہیں اور عوام میں ایسی ہی قرآن خوانی کا رواج چل رہاہے اور لوگ ان پابندیوں کے نبھانے کو ضروری سمجھتے ہیں اس لیے احادیث وفتاویٰ کی روشنی میں ایسی مروّجہ قرآن خوانی قابلِ اصلاح ہے۔ دین کا صحیح فہم رکھنے والے سنجیدہ اور بااثر حضرات کو چاہیے کہ خلاف شرع امور سے اپنے علاقے کے لوگوں کو روکنے کی جدوجہد فرمائیں۔  

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ5، جلد:100 ‏، رجب1437 ہجری مطابق مئی 2016ء

از:مولانا مفتی رشید احمد فریدی
طالب دعاء : اكبر حسين اوركزائ
$ $ $


قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہنچنے کا حکم

بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہنچنے کا حکم
روز مرہ کے تقریباً ۸۰ فیصد پریکٹیکل مسائل میں امت مسلمہ متفق ہے، کیونکہ شریعت اسلامیہ کا واضح حکم موجود ہے۔ البتہ چند اسباب کی وجہ سے روز مرہ کے تقریباً ۲۰ فیصد پریکٹیکل مسائل میں زمانۂ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے اور ان میں سے بعض اسباب یہ ہیں:
* 
نص فہمی میں اختلاف : ( یعنی قرآن وحدیث کی عبارت سمجھنے میں اختلاف ہوجائے) مثلاً اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاءَ (سورہ النساء ۴۳)۔ علماء کی ایک جماعت نے اس آیت سے نواقض وضو مراد لیا ہے کہ عورت کو چھوتے ہی وضوٹوٹ جاتا ہے۔ جبکہ دیگر مفسرین وفقہاء مثلاً امام ابوحنیفہ ؒ نے اس آیت سے نواقض غسل مراد لیا ہے کہ صحبت کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے، عورت کو صرف چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔ غرضیکہ نص فہمی میں اختلاف ہوا جس کی وجہ سے بعض مسائل میں اختلاف ہوگیا۔
* 
ناسخ ومنسوخ کو طے کرنے میں اختلاف : (یعنی حضور اکرم ا کا آخری عمل کونسا ہے؟) مثلاًنبی اکرم اسے رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کا کرنا اور نہ کرنا دونوں احادیث سے ثابت ہے، البتہ نبی اکرم ا کا آخری عمل کیا ہے ، اس سلسلہ میں اختلاف ہے۔
* 
جدید استنباطی مسائل: نئے نئے مسائل میں اختلاف کا ہونا بدیہی ہے، کیونکہ ہر مجتہد وفقیہ کو اختیار ہے کہ وہ نئے مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں تلاش کرے۔ مثال کے طور پر اپنے جسم کے کسی عضو (مثلاً کڈنی) کو ہبہ کرنے کا مسئلہ۔
* 
کسی معین حدیث یا کسی خاص موضوع سے متعلق احادیث کو قابل قبول ماننے میں اختلاف ہوجائے (مثلاًموضوع بحث مسئلہ)۔
انہی ۲۰ فیصد مختلف فیہ مسائل میں قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہونچنے کا مسئلہ بھی ہے ۔ اس مسئلہ میں زمانۂ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ علماء وفقہاء کی ایک جماعت کی رائے ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا ، ان علماء وفقہاء میں سے حضرت امام شافعی ؒ اور حضرت امام مالک ؒ بھی ہیں، جبکہ دوسری جماعت کی رائے ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہنچتا ہے ، ان علماء وفقہاء میں سے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ ، حضرت امام احمد ابن حنبل ؒ نیز حضرت امام شافعی ؒ اور حضرت امام مالک ؒ کے متعدد شاگرد بھی ہیں۔
علامہ قرطبی ؒ نے اپنی کتاب تذکرۃ فی احوال الموتی میں تحریر کیا ہے کہ اس باب میں اصل صدقہ ہے جس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے تو جس طرح سے صدقہ کا ثواب میت کو پہونچتا ہے، قرآن کریم پڑھنے، دعا اور استغفار کا ثواب بھی میت کو پہونچے گا کیونکہ یہ بھی صدقات ہی ہیں، اور جن حضرات نے امام شافعی ؒ کے متعلق گمان کیا ہے کہ وہ میت پرقرآن کریم پڑھنے کو ناجائز قرار دیتے ہیں، وہ غلط ہے۔ کیونکہ صرف اختلاف اس میں ہے کہ اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔ امام شافعی ؒ اور دیگر جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہونچے گا اگر پڑھنے والا اللہ تعالیٰ سے پہنچنے کی دعا کرتا ہے۔ اور جن حضرات نے کہا ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کا ثواب نہیں پہونچتا، تو یہ اس وقت ہے جب کہ پڑھنے والا اللہ تعالیٰ سے پہونچنے کی دعا نہ کرے۔ (تذکرۃ فی احوال الموتی للقرطبی) غرضیکہ علامہ قرطبی ؒ کی تحقیق کے مطابق اکثر علماء کی رائے میں قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہونچتا ہے۔
اس موضوع سے متعلق چند احادیث شریفہ :
* 
حضرت عائشہؓ ، حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت جابرؓ، حضرت ابورافع ؓ ، حضرت ابو طلحہ ؓ انصاری اور حضرت حذیفہ ؓ کی متفقہ روایت ہے کہ رسول اللہ انے دو مینڈھے قربان کئے۔ ایک اپنی طرف سے اور دوسرا امت کی طرف سے۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد، ابن ماجہ، طبرانی، مستدرک اور ابن ابی شیبہ ) ۔ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قربانی کاثواب دوسروں حتی کہ زندوں کو بھی پہنچتا ہے ۔
* 
ایک شخص نے رسول اللہ اسے عرض کیا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ ضرور صدقہ کرنے کے لئے کہتیں۔ اب اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کے لئے اجر ہے؟ رسول اللہ انے فرمایا: ہاں۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد، ابو داؤد، نسائی)۔ امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ صدقہ کاثواب میت حتی کہ زندوں کو بھی پہنچتا ہے ۔

* 
حضرت سعدؓ بن عبادہ نے حضور اکرم اسے پوچھا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ انے فرمایا: ہاں۔ (مسند احمد، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ) ۔ اسی مضمون کی متعدد دوسری روایات حضرت عائشہؓ ، حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بخاری، مسلم ، مسند احمد، نسائی، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہیں، جن میں رسول اللہ ا نے میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے اور اسے میت کے لئے نافع بتایا ہے۔
* 
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کی روایت ہے کہ ان کے دادا عاص بن وائل نے زمانۂ جاہلیت میں سو اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی۔ ان کے چچا ہشام بن العاص نے اپنے حصہ کے پچاس اونٹ ذبح کردئے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے رسول اللہ اسے پوچھا کہ میں کیا کروں۔ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کرلیا تھا تو تم ان کی طرف سے روزہ رکھو یا صدقہ کرو وہ ان کے لئے نافع ہوگا۔ (مسند احمد)
* 
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کی تدفین میں جلدی کرو۔ اس کے سرہانے کی طرف سورۂ فاتحہ اور پیروں کی طرف سورۂ البقرہ کا آخر پڑھو۔ (علامہ حافظ ابن حجر ؒ نے بخاری شریف کی شرح میں تحریر کیا ہے کہ یہ حدیث طبرانی نے صحیح (حسن) سند کے ساتھ ذکر کی ہے) ۔
* 
صحابہ کرام سے بھی نبی اکرم اکے مذکورہ فرمان پر عمل کرنا ثابت ہے جیسا کہ امام بیہقی ؒ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے میت کے سرہانے کی طرف سورۂ فاتحہ اور پیروں کی طرف سورۂ البقرہ کا آخری رکوع پڑھنے کا عمل ذکرکیا ہے۔ مسلم کی مشہور شرح لکھنے والے امام نووی ؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ( الاذکار ) ۔
* 
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: سورۂ یس قرآن کریم کا دل ہے، جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کا قرب اور آخرت میں بھلائی حاصل کرنے کی غرض سے اسے پڑھے گا، وہ اس کو حاصل ہوگی۔ اور اس سورہ کو اپنے مُردوں پر پڑھا کرو۔ (مسند احمد، ابن ابی شیبہ، ابوداؤد، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، سنن بیہقی، نسائی) محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، علماء کرام کی ایک بڑی جماعت نے اسی اور دیگر احادیث کی بنیاد پر میت پر قرآن کریم پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے، جبکہ دیگر محدثین نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن محدثین کا اصول ہے کہ فضائل کے سلسلہ میں ضعیف حدیث معتبر ہوتی ہے جیسا کہ امام نووی ؒ نے جمہور علماء کے قول کو تحریر فرمایا ہے۔
* 
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: کوئی شخص حالت نزاع میں ہو اور اس کے پاس سورۂ یس پڑھی جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر نزاع کی حالت کو آسان فرمادیتا ہے۔ (مسند للدیلمی، نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار من احادیث سید الاخیار للقاضی الشوکانی)
* 
حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت ہے : اگر کوئی قبرستان میں سورۂ یس پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس قبرستان کے مُردوں سے عذاب قبر کو کم کردیتا ہے۔ شیخ عبد العزیزؒ (صاحب الخلال )نے اس کی تخریج کی ہے۔ اس حدیث کو امام محمد بن عبد الوہاب ؒ نے اپنی کتاب احکام تمنی الموت میں ، امام حافظ الزیلعیؒ نے کنز الدقائق کی شرح میں اور امام ابن قدامہ حنبلی ؒ نے اپنی کتاب المغنی ،کتاب الجنائز میں ذکر کیا ہے۔ امام ابن قدامہ حنبلی ؒ نے اپنی اس مشہور کتاب المغنی ،کتاب الجنائز میں ایک اور حدیث ذکر فرمائی ہے کہ نبی اکرم انے ارشاد فرمایا: جس کسی شخص نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر پر سورۂیس پڑھی تو میت کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
مشہور ومعروف محدث حضرت ابو مغیرہ ؒ کہتے ہیں کہ حضرت صفوان ؒ نے فرمایا کہ مشائخ کہا کرتے تھے کہ اگر میت پر سورۂ یس پڑھی جاتی ہے تواس کی برکت سے اس کے ساتھ تخفیف کامعاملہ کیا جاتا ہے۔ (مسند احمد) امام احمد بن حنبل ؒ نے حضرت ابو مغیرہ ؒ سے متعدد احادیث نقل کی ہیں۔ شیخ محب الدین الطبری ؒ اور علامہ الشوکانی ؒ نے فرمایا ہے کہ اس سے مرنے کے بعد کسی کی قبر پر سورۂ یس پڑھنا مراد ہے۔
* 
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: جس شخص کا قبرستان پر گزر ہو اور وہ گیارہ مرتبہ قل ھو اللہ احد پڑھ کر اس کا ثواب مرنے والوں کو بخش دے تو پڑھنے والے کو مردوں کی تعداد کے برابر ثواب ملے گا۔ (دار قطنی)
* 
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہوکر سورۂ فاتحہ، قل ہو اللہ احد اور الہاکم التکاثر پڑھے، پھر کہے کہ میں نے جو پڑھا ہے اس کا ثواب ان حضرات کو پہونچایا جو اس قبرستان میں مدفون ہیں تو وہ حضرات کل قیامت کے دن اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کریں گے۔ (دار قطنی)
* 
حضرت عبد الرحمن بن العلاء ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا کہ جب میں انتقال کرجاؤں تو بسمِ اللّہِ وعَلَی سُنَّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ کہہ کر لحد والی قبر میں دفن کردینا اور میرے سرہانے سورۂ فاتحہ پڑھنا، اس لئے کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ (اخرجہ الخلال فی الجامع "کتاب القراء ۃ عند القبور")
علامہ حافظ ابن قیم ؒ نے اس حدیث کو اپنی کتاب "الروح" میں ذکر کیا ہے، نیز انہوں نے تحریر فرمایا ہے کہ سلف صالحین کی ایک جماعت نے کتابوں میں تحریر کیا ہے کہ انہوں نے وصیت کی کہ دفن کے وقت ان کی قبر پر قرآن کریم پڑھا جائے۔
* 
ایک شخص نے رسول اللہ اسے عرض کیا کہ میں اپنے والدین کی خدمت ان کی زندگی میں تو کرتا رہا، ان کے انتقال کے بعد کیسے خدمت کروں؟ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا: ان کے ساتھ نیکی یہ ہے کہ اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھو اور اپنے روزہ کے ساتھ ان کے لئے بھی روزہ رکھو ۔ (دار قطنی)
علامہ حافظ الزیلعی ؒ نے اپنی کتاب "شرح کنز الدقائق" میں، امام ابن الہمامؒ نے "فتح القدیر" میں اور شیخمحمد العربی بن التبانی المالکی المغربی ؒ نے اپنی کتاب "اسعاف المسلمین والمسلمات بجواز ووصول ثوابہا الی الاموات" میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔
* 
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: والدین کے ساتھ نیکی یہ ہے کہ اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے نماز پڑھو ، اپنے روزہ کے ساتھ ان کے لئے بھی روزہ رکھو ، اپنے صدقہ کے ساتھ ان کے لئے بھی صدقہ کرو۔ (المصنف للشیخ ابن ابی شیبہ) اور امام محمد بن عبد الوہاب ؒ نے اس حدیث کو اپنی کتاب "احکام تمنی الموت" میں ذکر کیا ہے۔
* 
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے رسول اللہ اسے عرض کیا کہ میرے باپ کو فریضۂ حج کا حکم ایسی حالت میں پہنچا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ بھی نہیں سکتے ہیں۔ آپ انے ارشاد فرمایا: تم ان کی طرف سے حج ادا کرو۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد، ترمذی، نسائی)
* 
حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ قبیلہ خشعم ہی کے ایک مرد کا ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بوڑھے باپ کے متعلق یہی سوال کیا تھا۔ رسول اللہ انے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے باپ پر قرض ہو اور تم اس کو ادا کردو تو وہ ان کی طرف سے ادا ہوجائے گا؟ اس شخص نے کہا جی ہاں۔ تو آپ انے ارشاد فرمایا: بس اسی طرح تم ان کی طرف سے حج ادا کرو۔ (مسند احمد، نسائی)
* 
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ قبیلۂ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم اسے سوال کیا کہ میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی مگر وہ اس سے پہلے ہی مرگئیں۔ اب کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرسکتی ہوں؟ رسول اللہ انے فرمایا : تیری ماں پر اگر قرض ہوتا تو کیا تو اس کو ادا نہیں کرتی، اسی طرح تم لوگ اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ اور اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کے ساتھ کئے ہوئے عہد پورے کئے جائیں۔ (بخاری، نسائی)
* 
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے حضور اکرم اسے پوچھا : میری ماں نے روزہ کی نذر مانی تھی اور وہ پوری کئے بغیر مرگئیں، تو کیا میں ان کی طرف سے روزہ رکھ سکتی ہوں؟ حضور اکرم ا نے ارشاد فرمایا : ان کی طرف سے روزہ رکھ لو۔ (بخاری، مسلم ، مسند احمد، نسائی)
حضرت بریدہؓ کی ایک روایت ہے کہ ایک عورت نے حضور اکرم اسے اپنی ماں کے متعلق پوچھا کہ ان کے ذمہ ایک مہینے (یا دوسری روایت کے مطابق دو مہینے) کے روزے تھے، کیا میں یہ روزے ادا کردوں؟ آپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔ (مسلم، مسند احمد، ترمذی، ابو داؤد)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم انے ارشاد فرمایا : مَنْ مَاتَ وَعَلَےْہِ صِےَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہُ جوشخص انتقال کرجائے اور اس کے ذمہ کچھ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھ لے ۔ (بخاری، مسلم، مسند احمد)
(
وضاحت) : ان احادیث میں دوسروں کی طرف سے نماز اور روزہ رکھنے کا جو ذکر آیا ہے، ان سے نفلی یا نذر کی نماز اور روزہ مراد ہیں، کیونکہ دیگر احادیث میں فرض نماز یا رمضان کے روزہ کے متعلق واضح حکم موجود ہے کہ وہ دوسروں کی طرف سے ادا نہیں کئے جاسکتے ہیں بلکہ اس کے لئے فدیہ ہی ادا کرنا ہوگا۔
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا : گھر والوں کے میت پر (بلند آواز کے ساتھ) رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ (بخاری، مسلم)
جن علماء وفقہاء کی رائے میں قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا ہے، وہ عموماً مندرجہ ذیل ۲ دلائل پیش کرتے ہیں:
* 
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ وَاَنْ لَّےْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعَی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ آدمی کو وہی ملتا ہے جو اس نے کمایا۔ (سورہ النجم ۳۸ ۔ ۳۹)
اگر اس آیت کے عموم سے قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو نہیں پہنچ سکتا ہے تو پھر ایصال ثواب، قربانی اور حج بدل وغیرہ کرناسب ناجائز ہوجائیں گے،بلکہ دوسرے کے حق میں دعائے استغفار حتی کہ نمازِ جنازہ بھی بے معنی ہوجائے گی، کیونکہ یہ اعمال بھی اُس شخص کا اپنا عمل نہیں ہے جس کے حق میں دعا کی جارہی ہے۔ بلکہ اِس سے مراد یہ ہے کہ عمومی طور پر ہر شخص اپنے ہی عمل کی جزا یا سزا پائے گا۔ لیکن باپ یا بیوی یا کسی قریبی رشہ دار کے انتقال کے بعد اگر کوئی شخص ان کی جنازہ کی نماز پڑھتا ہے یا ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے یا ان کی طرف سے حج یا عمرہ کرتا ہے یا قربانی کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کی تلاوت کرکے اس کا ثواب میت کو پہونچاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اِس عمل کو قبول فرماکر میت کو اس کا ثواب عطا فرمائے گا ان شاء ا للہ ، خواہ میت گناہ گار ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے میت کو ثواب نہیں ملا تو ان شاء اللہ ان اعمال کو کرنے والے کی طرف اس کا اجر پلٹ کر آئے گا، جس طرح منی آرڈر اگرپانے والے کو نہیں ملتا ہے تو بھیجنے والے کو واپس مل جاتا ہے۔
* 
رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: انسان کے انتقال کے بعد اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل : صدقۂ جاریہ، ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور نیک لڑکے کی دعا جو وہ اپنے والد کے لئے کرے۔ (ابن ماجہ ، ابن خزیمہ)
آپ کا یہ ارشاد صرف ان مذکورہ تین اعمال کی خاص اہمیت کو بتلانے کے لئے ہے۔ اگر اس حدیث کو عام رکھا جائے توبیٹے کی ماں کے لئے یا بھائی کی بہن کے لئے یا کسی شخص کی اپنے متعلقین اور رشتہ داروں کے لئے دعا، استغفار اور جنازہ کی نماز سب بے معنی ہوجائیں گی۔ رسول اکرم اکے ارشادات میں اس طرح کی متعدد مثالیں ملتی ہیں، جیسے نبی اکرم انے ارشاد فرمایا کہ جس نے نماز فجر اور عصر کی پابندی کرلی تو ووہ جنت میں داخل ہوگیا۔(بخاری ،مسلم) اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم صرف ان دو وقت کی نماز کی پابندی کرلیں، باقی جو چاہیں کریں،ہمارا جنت میں داخلہ یقینی ہے۔ نہیں ، ہر گز ایسا نہیں ہے، بلکہ نبی اکرم ا کا یہ ارشاد ان دو نمازوں کی خاص اہمیت کو بتلانے کے لئے ہے کیونکہ جو ان دو نمازوں کی پابندی کرے گا وہ ضرور دیگر نمازوں کا اہتمام کرنے والا ہوگا، اور نمازوں کا واقعی اہتمام کرنے والا دیگر ارکان کی ادائیگی کرنے والا بھی ہوگا، ان شاء اللہ۔ اسی طرح اس حدیث میں ان تین اعمال کی صرف خاص اہمیت بتلائی گئی ہے۔
خلاصۂ کلام: جیسا کہ ابتداء میں تحریر کیا گیا ہے کہ شریعت اسلامیہ کا واضح حکم موجود ہونے کی وجہ سے روز مرہ کے ۸۰ فیصد پریکٹیکل مسائل میں امت مسلمہ متفق ہے، جس میں کسی طرح کا کوئی اشکال ہی نہیں ہے۔ البتہ بعض مندرجہ بالا اسباب کی وجہ سے روز مرہ کے۲۰ فیصد پریکٹیکل مسائل میں زمانۂ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے، جن کا نہ آج تک کوئی حل ہوا ہے اور نہ ہی حل کی بظاہر کوئی خاص امید ہے، اور نہ ہی ہمیں اِن مختلف فیہ مسائل کو حل کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔ اس کا حل کل قیامت کے روز ہی ہوگا جیسا کہ سعودی عرب کے مشہور عالم دین شیخ ڈاکٹر عائض القرنی نے ہندوستان کے حالیہ سفر کے دوران اپنی تقریر کے دوران فرمایا تھا۔
لہذا ہمیں اختیار ہے کہ ہم جن علماء کے ساتھ عقیدت رکھتے ہیں یا جن سے قرآن وحدیث کا علم حاصل کرتے ہیں، انہی علماء کی سرپرستی میں ان ۲۰ فیصد مسائل پر دوسری رائے کا احترام کرتے ہوئے عمل کریں، ا لّا یہ کہ دوسری رائے شریعتِ اسلامیہ کے واضح احکامات کے خلاف ہو۔
انہی مختلف فیہ مسائل میں قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہونچنے کا مسئلہ ہے ۔ علماء وفقہاء کی ایک جماعت کی رائے ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا ۔ جبکہ دوسری جماعت کی رائے ہے کہ حج، زکاۃ، قربانی اور صدقات کی طرح قرآن کریم پڑھنے کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے ، ان علماء وفقہاء میں سے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ اور حضرت امام احمد ابن حنبل ؒ ہیں۔ حضرت امام شافعی ؒ اور حضرت امام مالک ؒ کے بعض اصحاب کی رائے بھی یہی ہے کہ میت کو قرآن کریم پڑھنے کا ثواب پہنچتا ہے ، جیساکہ امام نوویؒ نے اپنی کتاب الاذکار اور امام سیوطی ؒ نے اپنی کتاب شرح الصدور میں تحریر فرمایا ہے ۔ امام حافظ قاضی القضاۃ تقی الدین السبکی الشافعیؒ نے اپنی کتاب "قضاء الارب فی اسئلۃ حلب" میں قرآن کریم پڑھنے کے ثواب کو میت کے لئے ہبہ کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔
علامہ ابن تیمیہ ؒ نے بھی قرآن کریم پڑھنے کے ثواب کو میت کے لئے ہبہ کرنے کو جائز قرار دیا ہے (مجموعہ فتاوی ابن تیمیہ ، جزء ۲۴)۔ امام احمد بن حنبل ؒ کے شاگرد امام ابو بکر المروزی ؒ نے کہا ہے کہ میں نے امام احمد بن حنبل ؒ سے سنا ہے کہ جب تم قبرستان میں داخل ہو تو آیت الکرسی، پھر تین مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھو ۔ اس کے بعد کہو کہ یا اللہ اس کا ثواب قبرستان والوں کو پہونچا۔ (المقصد الارشد فی ذکر اصحاب الامام احمد )۔ سعودی عرب کی مجلس قضاء اعلیٰ کے سابق صدر شیخ عبد اللہ بن محمد بن حمید ؒ نے اس موضوع پر ۱۶ صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ تحریر فرمایا ہے جس میں علماء کے اقوال دلائل کے ساتھ تحریر فرمائے ہیں کہ اکثر علماء کی رائے یہی ہے کہ قرآن کریم پڑھنے کا ثواب میت کو پہونچایا جاسکتا ہے۔
کیونکہ احادیث سے مالی اور مالی و بدنی مرکب عبادات میں نیابت کا واضح ثبوت ملتا ہے، جس پر ساری امت مسلمہ متفق ہے۔ رہی خالص بدنی عبادت تو متعدد احادیث سے اس میں بھی نیابت کاجواز ثابت ہوتاہے۔ نیکیوں کی بعض اقسام کو مستثنیٰ کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ نیز قرآن وحدیث میں کسی بھی جگہ قرآن کریم کی تلاوت کرکے میت کو اس کا ثواب پہونچانے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ نیز آدمی جس طرح مزدوری کرکے مالک سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی اجرت میرے بجائے فلاں شخص کو دے دو، اسی طرح وہ کوئی نیک عمل کرکے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کرسکتا ہے کہ اس کا اجر میری طرف سے فلاں شخص کو عطا کردیا جائے۔ لہذا ہمیں قرآن کریم کی تلاوت کرکے اپنے مُردوں کو اس کا ثواب پہنچانا چاہئے، لیکن اس کے لئے کسی وقت کی تعیین کرنا غلط ہے، بلکہ جب بھی موقع ملے اور جتنی توفیق ہو، قرآن کریم کی تلاوت فرمائیں اور میت کو اس کا ثواب پہونچائیں اور اس کے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔
واللہ اعلم بالصواب۔ مولانا محمد نجیب قاسمی سنبھلی
طالب دعاء : اكبر حسين اوركزائ