اتوار، 24 دسمبر، 2017

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تین انمول نصیحتیں


عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ الأَنْصَارِيؓ  قَالَ: ’’جَائَ رَجُلٌ إِلٰی النَّبِيِّ، فَقَالَ: ’’عِظْنِیْ، وَأَوْجِزْ‘‘  فَقَالَ :’’إِذَا قُمْتَ فِی صَلٰوتِکَ فَصَلِّ صَلٰوۃ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَکَلَّمْ بِکَلَامٍ تَعْذِرُ مِنه غَداً، وَأَجْمِعِ الإِیَاسَ مِمَّا فِیْ أَیْدِی النَّاسِ‘‘۔ (مشکوۃ المصابیح / ص: ۴۴۵/ کتاب الرقائق/ الفصل الثالث)
ترجمہ  :   حضرت ابوایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں ایک شخص نے آکر عرض کیا:’’مجھے نصیحت کیجیے اور مختصر نصیحت کیجیے‘‘  تو حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا: ’’جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اُس شخص کی طرح نماز پڑھ جو رخصت کرنے والا ہو، اور کوئی ایسا کلام نہ کر جس سے تجھے آئندہ کل عذر کرنا پڑے، اور اُس چیز سے نا امید ہوجا جولوگو ں کے ہاتھوں میں ہے‘‘۔ مشكاة مصابيح
نبی  صلی اللہ علیہ و سلم کا مختصر کلام بھی پر اثر اور مکمل و مدلل ہوتا ہے :         
مثل مشہور ہے کہ’’ بڑوں کا کلام بھی بڑا ہوتا ہے‘‘ ان کے کلام میں یہ کمال ہوتا ہے کہ بظاہرمختصر مگر نہایت جامع ہوتا ہے، حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے اونچے مرتبہ پر فائز ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو منجانب اﷲ جوامع الکلم کی خصوصیت بھی عطا فرمائی گئی ہے، اس لیے آپ   صلی اللہ علیہ و سلم کا مختصر کلام بھی مکمل ، مدلل اور جامع ہوتا ہے، آپ  صلی اللہ علیہ و سلم بڑے بڑے  حقائق مختصر لفظوں میں بیان فرمادیا کرتے ہیں، گویاآپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا کلام ’’دریابکوزہ‘‘کا مصداق ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کلام میں اختصار کے باوجود تفہیم کی پوری صلاحیت ہوتی تھی۔ حق یہ ہے کہ نوعِ انسانی نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے کلام سے زیادہ عمومی نفع کا حامل کلام نہ پہلے کبھی سنا،نہ بعد میں کبھی سنے گی،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا کلام تکلف سے پاک اور ہیبت و حلاوت کا گویاسنگم ہوتاہے۔    حدیث ِبالا اس کی بہترین مثال ہے، جس میں سائل نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم  سے مختصر نصیحت کرنے کو کہا، تو ہمارے آقا   صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی بے تکلف نصیحت فرمادی۔ ربِ کریم کا حکم بھی یہی تھا :{ فَذَکِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرْ}(الغاشیۃ :۲۱)  
پیارے نصیحت کرتے رہیے، اس لیے کہ آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں۔ ’’مُذَکِّر‘‘آپ کی صفت ہے۔
پہلی نصیحت اصلاحِ اعمال کے لیے  :    اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم  سے نصیحت کی درخواست کی گئی،  توفرمایا: ’’إِذَا قُمْتَ فِی صَلٰوتِکَ فَصَلِّ صَلٰوۃ مُوَدِّعٍ‘‘۔یہ پہلی نصیحت ہے، اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ نماز ایسی پڑھو گویا یہ آخری نماز ہے۔کیوں کہ یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ فجر پڑھنے والے کو معلوم نہیں کہ اسے ظہر پڑھنے کا موقع ملے گا یانہیں، اورظہر سے فارغ ہونے والے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ عصر و مغرب اورعشا کی نماز اداکرنے کی فرصت ملے گی یانہیں۔ اس حقیقت کی طرف قرآنِ کریم  نے یوں اشارہ فرمایا: { وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَداً } (لقمان:۳۴) کس کے ساتھ کل کیامعاملہ ہوگا؟یہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا،اس لیے آج جو بھی نماز پڑھی جائے وہ آخری سمجھ کر پڑھی جائے، اس سے یقیناً نماز میں خشوع پیداہوگا۔         
دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہو تو ماسوا اﷲ کو بالکل رخصت کرکے ساری توجہ اﷲتعالیٰ کی طرف کر لو، اس طرح نماز پڑھنے کا فائدہ یہ ہوگاکہ خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہوگی، جو مطلوب و مقصود ہے، اس سے نماز کی اصلاح ہوگی، مرشدی حضرت شیخ الزماں مولانا قمرالزماں مدظلہٗ فرماتے ہیں: ’’نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کا اس سے بہتر علاج اور کیا ہوسکتا ہے ؟‘‘بزرگوں کی تمام تدابیرایک طرف، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیم ایک طرف، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کتنا نافع علاج تجویز فرمایا،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت و نصیحت میں کس قدرنافعیت ہے، اندازہ لگائیے۔اس نصیحت پر عمل کرنے سے تمام اعمال کی اصلاح ہوگی،کیوں کہ  محدثین کی تشریح کے مطابق اس حدیث شریف کا مطلب بھی یہی ہے کہ صرف نماز ہی نہیں، بلکہ ہر عمل کو اِس تصور کے ساتھ کرو گویا یہ تمہارا آخری عمل ہے۔
ایک واقعہ   :     چنانچہ صحابہ کرامؓ اور بزرگوں کا طرزِ عمل یہی تھا، سلیمان بن عبدالملک ایک مرتبہ حضرت ابو حازم ؒ کی خدمت میں پہنچے، اور سوال کیا کہ حضرت ! کیا وجہ ہے کہ موت سے ہمیں خوف ہوتا ہے؟ حضرتؒ نے فرمایا: ’’اس لیے کہ تم نے دنیا کو آباد اور آخرت کو برباد کیا، ظاہربات ہے کہ ہر شخص آبادی سے ویرانی کی طرف جانے سے خوف ہی کرتا ہے‘‘ سلیمان نے کہا: ’’آپ نے بالکل سچ فرمایا‘‘ پھر کہا: ’’حضرت! ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ ربِ کریم کے یہاں ہمارا کیا حال ہوگا؟ یعنی مرنے کے بعد کیاہوگا؟‘‘ حضرتؒ نے فرمایا: ’’اپنی حالت قرآنِ کریم کے سامنے پیش کرو، تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاںکا اپنا حال معلوم ہو جائے گا، قرآن کہتا ہے : {إِنَّ الأَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ وَإِِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ} (الانفطار: ۱۳-۱۴) یقین رکھو کہ نیک لوگ یقیناً بڑی نعمتوںمیں ہوں گے، اور بدکار لوگ ضرور دوزخ میں ہوں گے۔‘‘ 
سلیمان نے کہا: ’’حضرت! پھر اللہ کی رحمت کہاں گئی؟‘‘ فرمایا: ’’وہ تو نیکوں اور محسنوں کے قریب ہے، قرآن پاک میں فرمایا:{إِنَّ رَحْمَۃَ اﷲِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ} (الأعراف :۵۶)  یقیناً اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے۔‘‘ سلیمان نے کہا: ’’حضرت! مرنے کے بعد باری تعالیٰ کے دربار میں ہم کیسے جائیں گے؟‘‘ فرمایا: ’’نیک لوگ تو اس طرح دربارِ الٰہی میں حاضر ہوں گے جیسے سالوں کے بعدسفر سے لوٹنے والا مسافر  جب گھر آتا ہے تو بہت خوش ہو کر آتا ہے، اور برے لوگ اس طرح پیش کیے جائیں گے جیسے مدتوں سے بھاگا ہوا مجرم اورغلام جب پکڑا جاتا ہے تو حسرت کناں اورخوفزدہ ہوتا ہے‘‘ یہ سن کر سلیمان بن عبدالملک رونے لگے، اس کے بعد کہا: ’’حضرت! آپ نماز کس طرح پڑھتے ہیں؟‘‘ فرمایا :’’جب نماز کا وقت ہوتا ہے تو اولاً جملہ فرائض وسنن اور آداب کی رعایت کے ساتھ کامل اور مکمل وضو کرتا ہوں، پھر قبلہ کی طرف منھ کر کے کعبۃ اﷲکو سامنے، جنت کو دائیں ، جہنم کو بائیں، پل صراط کو نیچے ،موت کو پیچھے اور حق تعالیٰ کو علیم وخبیر تصور کر کے اس خیال سے نماز پڑھتا ہوںکہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے‘‘۔  یہ حضرات ’’فَصَلِّ صَلٰوۃ مُوَدِّعٍ‘‘ پر حقیقی اور صحیح معنیٰ میں عمل کرنے والے تھے۔
سلیمان نے عرض کیا: ’’حضرت! کتنے عرصہ سے آپ اس طرح نماز پڑھتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’الحمد ﷲ، چالیس سال سے یہی معمول ہے‘‘ سلیمان نے کہا: ’’کاش!زندگی میں ایک نماز  بھی ایسی نصیب ہو جائے تو کامیاب ہوں‘‘۔  ( کراماتِ اولیاء/ ص:۲۲۱، از:ماہنامہ مظاھر العلوم/ ص: ۳۵ ،اپریل ۲۰۰۳ء) میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی میں  اسی  لیے  مسلماں،   میں اسی  لیے  نمازیدوسری نصیحت اصلاحِ اقوال کے لیے  : 
دوسری نصیحت:  یہ فرمائی کہ ’’وَلاَ تَکَلَّمْ بِکَلَامٍ تَعْذِرُ مِنه غَداً‘‘  کوئی ایسا کلام زبان سے نہ نکل جائے جس کی وجہ سے بعد میں شرمندگی ہو۔ اس سے اصلاحِ اقوال کی طرف رہبری فرمائی گئی ہے، کیوںکہ زبان سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں ہوتا، کیا تیر کو کمان سے چھوٹ کر کمان میں واپس آتے ہوئے کسی نے دیکھاہے؟ جیسے سوچ سمجھ کر تیر چلایاجاتاہے، ایسے ہی سوچ سمجھ کر زبان چلائی جائے۔منقول ہے کہ کسی موقع پر مختلف ممالک کے چار حکمران جمع ہوئے، اور ہر ایک نے ایک ایک ایسی بات کہی گویا ایک ہی کمان سے نکلے ہوئے تیر ہیں:     
۱-        شاہ کسرٰی نے کہا کہ جو بات میں نے کہی نہیں اس پر ندامت نہیں، البتہ کہی ہوئی بات پرکبھی ندامت بھی ہوتی ہے۔
۲-        شاہِ چین کہنے لگاکہ جو بات میں نے کہی نہیں وہ میرے قابو میں ہے، مگر جب میں نے کوئی بات کہہ دی تواب وہ میرے
              قابو میں نہیں رہی۔         
۳-       شاہِ روم کہتاہے کہ جو بات میں نے نہیںکہی مجھے اس کے کہنے کی طاقت ہے، مگر جو بات میں کہہ چکا مجھے اس کے ردکرنے  
              کی طاقت نہیں۔ 
۴-       شاہِ ہند کاکہناتھا کہ تعجب ہے اس شخص پر جو ایسی بات کرے کہ جب اس کا چرچا کیا جائے تو نقصان ہو، اور اُسے عام نہ کیاجائے تو نفع بھی نہ ہو۔ خلاصہ وہی ہے جس کا حدیث  بالا میں ذکر کیاگیا۔ 
اِس کا عام مفہوم تو یہی ہے کہ جب بھی کوئی بات کہے تو سوچ سمجھ کرکہے، تاکہ بعد میں دوست، احباب اور لوگوں کے سامنے غلط بیانی یا فضول گوئی پر عذر خواہی نہ کرنی پڑے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہے آج جو کچھ بولتے ہو صحیح بولو! کیوںکہ تمہاری زبان کا ہر قول ربِ کریم کے یہاں محفوظ ہوتا ہے ، قرآنِ پاک میں فرمایا:            {مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّالَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ} ( قٓ : ۱۸) انسان کوئی لفظ زبان سے نہیںنکال پاتامگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتاہے ہر وقت(لکھنے کے لیے) تیار۔            مطلب یہ ہے کہ جب تمہارا ہر قول محفوظ و مکتوب ہے تو غلط بولنے پر کل قیامت کے دن عنداﷲ پکڑ ہوگی، پھر وہاں شرمندگی ہوگی، اس لیے ضروری ہے اے انسان! کہ زبان کا بول پہلے شریعت کی میزان میں تول، پھر بول، یہ مومن کی علامت ہے کہ مومن سوچ کر بولتاہے، او رمنافق بول کر سوچتاہے۔تیسری نصیحت اصلاحِ اخلاق کے لیے  :        
تیسری نصیحت :  یہ فرمائی کہ ’’وَأَجْمِعِ الإِیَاسَ مِمَّا فِیْ أَیْدِی النَّاسِ‘‘  اس میں اخلاق کی اصلاح فرمائی کہ لوگوں کے مال و دولت پر نظر مت کرو ۔فرمایا : {فَذَرْہُمْ یَاکُلُوْا وَیَتَمَتَّعُْوْا} (الحجر:۳)  انہیں ان کی حالت پر چھوڑدو کہ یہ خوب کھالیں اور مزے اڑالیں۔بس اﷲ تعالیٰ نے تمہیں حلال طریقہ سے کمانے پر جو کچھ دے دیااس پر قانع و صابر ہی نہیں، بلکہ شاکر بھی رہو۔ اسی میں عزت اور عافیت ہے، عربی کا شاعر کہتا ہے:اِضْرَعْ إِلٰی اﷲِ، وَ لَا تَضْرَعْ إِلٰی النَّاسِوَاقْنَعْ بِیَأسٍ فَإِنَّ الْعِزَّ فِی الْیَأسِ اﷲ پاک کے سامنے عاجزی کرو، لوگوں کے سامنے خوشامدنہ کرو، اور قناعت اختیار کرو، لوگوں سے طمع نہ کرو، کیوں کہ عزت لوگوں سے نا امید ہونے میں ہے ۔    
صاحبو  ! یاد رکھو کہ جب آدمی کسی عزیزقریب وغیرہ سے امید وابستہ کر لیتا ہے، پھر اگر اس کی امید پوری نہیں ہوتی تو دل شکنی، مایوسی اور کبھی بدگمانی حتیٰ کہ جھگڑے تک کی نوبت آکر معاملہ دشمنی تک جا پہنچتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ کسی سے کوئی امید نہ رکھی جائے، تمام امیدیں اﷲ تعالیٰ ہی سے وابستہ کریں، دعا بھی کریں کہ الٰہ العالمین ! ہماری پیشانیوں کو جیسے تو نے اپنی عنایت سے اپنے غیر کے سامنے جھکانے سے محفوظ فرمایا، ایسے ہی ہمارے ہاتھوں کو بھی اپنے غیر کے سامنے پھیلانے سے محفوظ فرما۔ کہتے ہیں :کمالِ تشنگی میں بھی جگر کا خون پی جاناپر کسی کے سامنے دست ِطلب دراز نہ کرنا   پھر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ مالداری مال و متاع جمع کرنے ہی کا نام نہیں ،بلکہ اصل مالداری یہ ہے کہ انسان کا دل چین و سکون سے لبریز ہو۔تونگری بدل ست نہ بمالو بزرگی بعقل ست نہ بسال(گلستاں/ص:۲۶)    یعنی اصل مالداری دل کی وسعت سے ہے، نہ کہ مال کی کثرت سے،اور بزرگی عقل کی وجہ سے ہے، نہ کہ صرف سال گذارکر عمر رسیدہ ہو جانے سے۔      اور دل کا غناء قناعت کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے حدیث میںاس کی نصیحت فرمائی گئی، کیوںکہ حرص کے ساتھ اگر ساری کائنات بھی مل جائے توکیاحاصل؟ایک کے بعد دوسرے کی طلب ہوتی ہے، اس طرحبے چینی کے شکنجہ سے نجات کیوںکر مل سکتی ہے؟ البتہ اگر قناعت کی دولت حاصل ہوجائے تو قانع شخص فقیر رہ کر بھی شاہانہ زندگی بسر کر سکتا ہے۔ قناعت کلید ِدولت ہے،اس کے ہوتے ہوئے انسان ہر وقت، ہر جگہ اور ہر حال میں دولت مند رہتا ہے، او راس سے عاری ہونے کی صورت میں خزانۂ قارون اور دولت ِفرعون و نمرود کی فراوانی کے باوجود مفلس بے مایہ رہتاہے۔   
کاش !  ہم قناعت اختیار کرلیں تو پھر ہمیں زندگی کا وہ لطف حاصل ہوجائے جو بڑے بڑے دنیاداروں کو میسر نہیں۔ بہرحال! حدیث پاک میں جوتین انمول نصیحتیں فرمائیں، بظاہر مختصر ہیں، مگر حقیقت میںنہایت مفید اورجامع ہیں۔        

 اﷲ رب العزت ہمارے اعمال ، اقوال اور اخلاق کی اصلاح فرمادے، آمین۔ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِیْنَ یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلهم   ٭…٭…٭

منگل، 19 دسمبر، 2017

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت

عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين "
حضرت انس بن مالک ( حضرت انس بن مالک بن نضر انصاری ہیں اور مدینہ کے اصل باشندے تھے۔ آپ کی عمر جب دس سال کی تھی تو آپ کی والدہ ام سلیم بنت ملحان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ ٩٦ھ میں انتقال فرمایا۔) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
" محبت" ایک تو طبعی ہوتی ہے جیسے اولاد کو باپ کی یا باپ کو اولاد کی محبت۔ اس محبت کی بنیاد طبعی وابستگی و پسند اور فطری تقاضہ ہوتا ہے۔ اس میں عقلی یا خارجی ضرورت اور دباؤ کا دخل نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف ایک محبت عقلی ہوتی ہے جو کسی طبعی و فطری وابستگی اور تقاضے کے تحت نہیں ہوتی۔ بلکہ کسی عقلی ضرورت و مناسبت اور خارجی وابستگی کے تحت کی جاتی ہے۔ اس کی مثال مریض اور دوا ہے یعنی بیمار آدمی دوا کو اس لئے پسند نہیں کرتا کہ دوا لینا اس کا طبعی اور فطری تقاضہ ہے بلکہ یہ دراصل عقل کا تقاضا ہوتا ہے کہ اگر بیماری کو ختم کرنا ہے اور صحت عزیز ہے تو دوا استعمال کرنی ہوگی خواہ اس دوا کی تلخی اور کڑواہٹ کا طبیعت پر کتنا ہی بار کیوں نہ ہو، اسی طرح اگر کسی آدمی کے جسم کا کوئی حصہ پھوڑے پھنسی کے فاسد مادہ سے بھر گیا ہو تو وہ آپریشن کے لئے اپنے آپ کو کسی ماہر جراح اور سرجن کے حوالہ اس لئے نہیں کرتا کہ اس کی نظر میں آلات جراحی کی چمک دمک اچھی لگتی ہے یا اس کی طبیعت اپنے جسم کے اس حصہ پر نشتر زنی کو پسند کرتی ہے، بلکہ یہ عقل و دانائی کا تقاضا ہوتا ہے کہ اگر جسم کو فاسد مادہ سے صاف کرنا ہے تو خود کو اس جراح یا سرجن کے حوالے کردینا ضروری ہے۔ کسی چیز کو عقلی طور پر چاہنے اور پسند کرنے کی وہ کیفیت جس کو " عقلی محبت" سے تعبیر کرتے ہیں، بعض حالات میں اتنی شدید، اتنی گہری اور اتنی اہم بن جاتی ہے کہ بڑی سے بڑی طبعی محبت اور بڑے سے بڑے فطری تقاضے پر بھی غالب آجاتی ہے۔ پس یہ حدیث ذات رسالت سے جس محبت اور وا بستگی کا مطالبہ کر رہی ہے وہ علماء و محدثین کے نزدیک یہی " عقلی محبت" ہے لیکن کمال ایمان و یقین کی بنا پر یہ " عقلی محبت" اتنی پر اثر، اتنی بھر پور اور اس کی قدر جذباتی وابستگی کے ساتھ ہو کہ" طبعی محبت" پر غالب آجائے۔ اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی ہدایت اور کسی شرعی حکم کی تعمیل میں کوئی خونی رشتہ جیسے باپ کی محبت ، اولاد کا پیار یا کوئی بھی اور طبعی تعلق رکاوٹ ڈالے تو اس ہدایت رسول اور شرعی حکم کو پورا کرنے کے لئے اس خون کے رشتے اور طبعی تقاضا و محبت کو بالکل نظر انداز کر دینا چاہیے، ایمانیات اور شریعت کے نقطہ نظر سے بہت بڑا مقام ہے اور یہ مقام اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب ایمان و اسلام اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی کرنے والا اپنے نفس کو احکام شریعت اور ذات رسالت میں فنا کر دے، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی کے علاوہ اس کا اور کوئی مقصد حیات نہ ہو۔ مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جاری ہوتا ہے کہ اہل ایمان جہاد کے لئے نکلیں، اس حکم کی تعمیل میں اہل ایمان، دشمنان دین سے لڑنے کے لئے میدان جنگ میں پہنچتے ہیں۔ جب دونوں طرف سے صف آرائی ہوتی ہے اور حریف فوجیں آمنے سامنے آتی ہیں تو کسی مسلمان کو اپنا لڑکا دشمن کی صف میں نظر آتا ہے اور کسی کو اپنا باپ۔ اب ایک طرف تو وہ طبعی محبت ہے ، جو کیسے گوارا کرلے کہ اس کی تلوار اپنے باپ یا اپنی ہی اولاد کے خون سے رنگی جائے، دوسری طرف حکم رسول ہے کہ دشمن کا کوئی بھی فرد تلوار کی زد سے امان نہ پائے چاہے وہ اپنا باپ یا بیٹا کیوں نہ ہو، تاریخ کی ناقابل تردید صداقت گواہی دیتی ہے کہ ایسے نازک موقع پر اہل ایمان پل بھر کے لئے بھی ذہنی کشمکش میں مبتلا نہیں ہوتے، ان کو یہ فیصلہ کر لینے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں ہوتی کہ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ باپ کی محبت کوئی معنی رکھتی ہے نہ اولاد کی۔ اور پھر میدان جنگ میں باپ کی تلوار بے دریغ اپنی اولاد کا خون بہاتی نظر آتی ہے اور بیٹا اپنے باپ کو موقع نہیں دیتا کہ بچ کر نکل جائے۔
بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ تکمیل ایمان کا مدار حب رسول پر ہے جس آدمی میں ذات رسالت سے اس درجہ کی محبت نہ ہو کہ اس کے مقابلہ پر دنیا کے بڑے سے بڑے رشتے، بڑے سے بڑے تعلق اور بڑی سے بڑی چیز کی محبت و چاہت بھی بے معنی ہو، وہ کامل مسلمان نہیں ہو سکتا ، اگرچہ زبان اور قول سے وہ اپنے ایمان و اسلام کا کتنا ہی بڑا دعوی کرے۔
حضرت عمر فاروق کے بارہ میں منقول ہے کہ انہوں نے جب یہ حدیث سنی تو عرض کیا " یا رسول اللہ ! دنیا میں صرف اپنی جان کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ' ' یعنی دنیا کے اور تمام رشتوں اور چیزوں سے زیادہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رکھتا ہوں مگر اپنی جان سے زیادہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔" اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میری جان ہے تم اب بھی کامل مومن نہیں ہوئے اس لئے کہ یہ مرتبہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب کہ میں تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا ہو جاؤں" ۔ ان الفاظ نبوت نے جیسے آن واحد میں حضرت عمر فاروق کے دل و دماغ کی دنیا تبدیل کر دی ہو، وہ بے اختیار بولے۔" یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میری جان قربان آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان کو خوشخبری سنائی کہ اے عمر ! اب تمہارا ایمان کامل ہوا اور تم پکے مومن ہوگئے۔"
اور صرف عمر فاروق ہی نہیں، تمام صحابہ اسی کیفیت سے معمور اور حب رسول سے سرشار تھے، ان کی زندگیوں کا مقصد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارہ ابرو پر اپنی جانوں کو نچھاور کر دینا تھا، بلا شبہ دنیا کا کوئی مذہب اپنے راہنما اور پیروؤں کے باہمی تعلق اور محبت کی ایسی مثال پیش نہیں کر سکتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس بلا شک صحابہ کے لئے شمع کی سی تھی جس پر وہ پروانہ وار نچھاور ہونا ہی اپنی سعادت و خوش بختی تصور کیا کرتے تھے ۔ اسلام کے اس دور کی شاندار تاریخ اپنے دامن میں بے شمار ایسے واقعات چھپائے ہوئے ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام اجمعین کی جذباتی وابستگی اور والہانہ محبت و تعلق کی شاندار غمازی کرتے ہیں۔
غزوہ احد کا واقعہ ہے۔ میدان جنگ میں جب معرکہ کار زار گرم ہوا اور حق کی مٹھی بھر جماعت پر باطل کے لشکر جرار نے پوری قوت اور طاقت سے حملہ کیا تو دیکھا گیا ہے کہ ایک انصاری عورت کے شوہر، باپ اور بھائی تینوں نے جام شہادت پیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر دیوانہ وار فدا ہوگئے، یہ دل دہلا دینے والی خبر اس عورت کو بھی پہنچائی گئی مگر اللہ پر ایمان کی پختگی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اثر کہ بجائے اس کے کہ وہ عورت اپنے لواحقین کی شہادت پر نالہ و شیون اور ماتم و فریاد کرتی اس نے سب سے پہلے سوال کیا :" خدارا مجھے یہ بتاؤ کہ میرے آقا اور سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میری جان قربان) تو بخیر ہیں؟۔"  لوگوں نے کہا۔ ہاں" آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلامت ہیں " مگر اس سے اس کی تسکین نہ ہوئی اور بے تابانہ کہنے لگی :" اچھا چلو ! میں اپنی آنکھوں سے دیدار کر لوں تو یقین ہوگا " اور جب اس نے اپنی آنکھوں سے چہرہ انور کی زیارت کرلی تو بولی :کل مصیبۃ بعدک جلل۔ جب آپ زندہ سلامت ہیں تو ہر مصیبت آسان ہے۔"
ایک مرتبہ ایک آدمی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے اہل وعیال اور مال سب سے زیادہ محبوب ہیں، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد آتی ہے تو صبر نہیں آتا جب تک کہ یہاں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی نہیں کر لیتا۔ مگر اب تو یہی غم کھائے جاتا ہے کہ وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوں گے، وہاں میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیسے کر سکیں گی۔ جب ہی یہ آیت نازل ہوئی :
ومَنْ یُطِعِ ا وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلٰائکِ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ ا عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰائِکَ رَفِیْقًا۔ (النساء ٦٩)
" جو لوگ اللہ و رسول کا کہنا مانتے ہیں وہ (آخرت میں) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام ہیں یعنی نبی، صدیق، شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی صحبت بڑی غنیمت ہے۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کو یہ خوشخبری سنا دی۔
عبداللہ بن زید بن عبدربہ جو صاحب اذان کے لقب سے مشہور تھے اپنے باغ میں کام کر رہے تھے کہ اسی حالت میں ان کے صاحبزادہ نے آکر پریشانی والی خبر سنائی کہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرماگئے۔ عشق نبوی سے سر شار اور محبت رسول سے سر مست ، یہ صحابی اس جان گداز خبر کی تاب ضبط نہ لا سکے، بے تابانہ ہاتھ فضا میں بلند ہوئے اور زبان سے یہ حسرت ناک الفاظ نکلے : خداوندا اب مجھے بینائی کی دولت سے محروم کر دے تاکہ یہ آنکھیں جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے مشرف و منور ہوا کرتی تھیں اب کسی دوسرے کو نہ دیکھ سکیں (ترجمہ السنۃ)۔
ان واقعات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و تعلق کا وہی مقام حاصل تھا جو اس حدیث کا منشاء ہے اس لئے ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ ایمان کی سلامتی اور اپنے اسلام میں مضبوطی پیدا کرنا چاہتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت سے اپنے دل کو معمور کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے ہی کو مدار نجات جانے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا معیار اتباع شریعت اور اتباع رسول ہے جو آدمی شریعت پر عمل نہیں کرتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر نہیں چلتا، وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ نعوذ باللہ اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں ہے۔

بحواله  مشكاة المصابيح

ایمان کی شاخیں

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم " الإيمان بضع وسبعون شعبة فأفضلها : قول لا إله إلا الله وأدناها : إماطة الأذى عن الطريق والحياة شعبة من الإيمان " متفق عليه .
حضرت ابوہریرہ ( آپ کا اصل نام عبدالرحمن بن صخر ہے کنیت ابوہریرہ ہے۔ ٥٧ یا ٥٨ھ میں آپ نے مدینہ میں وصال فرمایا۔) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ایمان کی شاخیں ستر سے کچھ اوپر ہیں ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کی شاخ زبان و دل سے اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے کم درجہ کی شاخ کسی تکلیف دینے والی چیز کا راستہ سے ہٹا دینا ہے نیز شرم و حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث میں ایمان کے شعبوں اور شاخوں کی تعداد بتائی گئی ہے یعنی وہ چیزیں مل کر کسی کو ایمان و اسلام کامکمل پیکر اور خوشنما مظہر بناتی ہیں۔ یہاں تو صرف ان شعبوں اور شاخوں کی تعداد بتلائی گئی ہے لیکن بعض احادیث میں ان کی تفصیل بھی منقول ہے اور وہ اس طرح ہے :
پہلی چیز تو بنیادی ہے یعنی اس حقیقت کا دل و دماغ میں اعتقاد و یقین اور زبان سے اقرار و اظہار کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کی ذات وصفات برحق ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، بقاء اور دوام صرف اسی کی ذات کے لئے ہے جب کہ کائنات کی تمام چیزیں فنا ہو جانے والی ہیں، ایسے ہی اللہ کے رسولوں، اس کی کتابوں اور فرشتوں کے بارے میں اچھا اعتقاد اور حسن یقین رکھنا اور ان کو برحق جاننا، آخرت کا عقیدہ رکھنا کہ مرنے کے بعد قبر میں برے اور گنہگار لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اچھے نیک بندوں پر اس کا انعام و اکرام ہوتا ہے۔ قیامت آئے گی اور اس کے بعد حساب و کتاب کا مرحلہ ضرور آئے گا، اس وقت ہر ایک کے اعمال ترازو میں تولے جائیں گے جن کے زیادہ اعمال اچھے اور نیک ہوں گے ان کو پروانہ جنت دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، جن کے زیادہ اعمال برے ہوں گے، ان کی فردجرم ان کے بائیں ہاتھ میں تھمادی جائے گی۔ تمام لوگ پل صراط پر سے گزریں گے۔ مومنین صالحین ذات باری تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔ نیک اور اچھے لوگ بہشت میں پہنچائے جائیں گے اور گنہگاروں کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا۔ جس طرح جنتی (مومن) بندے جنت میں ہمیشہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام اور اس کی خوشنودی سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے اسی طرح دوزخی لوگ (کفار) ہمیشہ ہمیشہ اللہ کے مسلط کئے ہوئے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ایمان کے شعبوں اور شاخوں میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ سے ہر وقت لو لگائے رہے اور اس سے محبت رکھے اگر کسی غیر اللہ سے محبت کرے تو اللہ کے لئے کرے یا کسی سے دشمنی رکھے تو اللہ کے لئے رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و برتری، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو روان دینا اور پھیلانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنے کی دلیل ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامت اس طرح رچ بس جائے کہ اس محبت کے مقابلہ میں دنیا کی کسی بھی چیز اور کسی بھی رشتہ کی محبت کوئی اہمیت نہ رکھے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامت اتباع شریعت ہے۔ اگر کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کی تعمیل کرتا ہے اور شریعت کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے اللہ ، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے لیکن جو آدمی اللہ اور رسول کے احکام و فرمان کی تابعداری نہ کرتا ہو تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ نعوذ باللہ اس کا دل اللہ و رسول کی پاک محبت سے بالکل خالی ہے۔
یہ بھی ایمان کی ایک شاخ ہے کہ جو عمل کیا جائے خواہ وہ بدنی ہو یا مالی، قولی ہو یا فعلی اور یا اخلاقی وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو، نام و نمود یا کسی دنیاوی غرض سے نہ ہو پس جہاں تک ہو سکے اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ نفاق اور ریا کا اثر عمل کے حسن و کمال اور تاثیر کو ختم کر دے گا۔
مومن کا دل ہمہ وقت خوف اللہ اور خشیت الٰہی سے بھرا ہوا اور اس کے فضل و کرم اور رحمت کی امیدوں سے معمور رہنا چاہیے، اگر بتقاضائے بشریت کوئی بری بات یا گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر فوراً خلوص دل سے توبہ کے بعد آئندہ کے لئے گناہوں سے اجتناب کا عہد کرے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتا رہے اور اپنے اچھے عمل اور نیک کام میں اللہ کی رحمت اور اس کے انعام و اکرام کی آس لگائے رہے۔ درحقیقت یہ ایمان کا ایک بڑا تقاضہ ہے کہ جب کبھی کوئی گناہ جان بوجھ کر یا نادانستہ سرزد ہو جائے تو فوراً احساس ندامت و شرمندگی کے ساتھ اللہ کے حضور اپنے گناہ سے توبہ کرے اور معافی و بخشش کا طلبگار ہو، اس لئے کہ ارتکاب گناہ کے بعد توبہ کرنا شرعاً ضروری اور لازم ہے۔
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اگر اس نے اولاد عنایت فرمائی ہو تو فوراً عقیقہ کرے، اگر نکاح کیا ہو تو ولیمہ کرے، اگر قرآن مجید حفظ یا ناظرہ ختم کیا ہو تو خوشی و مسرت کا اظہار کرے، اللہ نے اگر مال دیا ہے تو زکوۃ ادا کرے۔ عیدالفطر کی تقریب میں صدقۃ الفطر دے اور بقر عید میں قربانی کرے۔ یہ بھی ایمان کا تقاضہ ہے کہ وعدہ کرے تو اسے پورا کرے، مصیبت پر صبر کرے، اطاعت و فرمانبرداری کے لئے ہر مشقت برداشت کرے، گناہوں سے بچتا رہے۔ تقدیر اور اللہ کی مرضی پر راضی رہے، اللہ پر توکل کرے، بڑوں اور بزرگوں کی تعظیم و احترام، چھوٹوں اور بچوں سے شفقت و محبت کا معاملہ کرے اور کبر و غرور، نخوت و تکبر کو چھوڑ کر کسر نفسی وتواضع اور حلم وبردباری اختیار کرے۔ " حسن اسلام" اور " تکمیل ایمان" کے مدارج میں سے یہ بھی ہے کہ برابر کلمہ تو حید و شہادت کا ورد رکھے۔ قرآن شریف پڑھے اگر جاہل ہو تو عالم سے علم کی دولت حاصل کرے اگر عالم ہو تو جاہلوں کو تعلیم دے اپنے مقاصد میں کامیابی کے لئے اللہ سے مدد کا طلب گار ہو اور دعا مانگے اور اس کا ذکر کرتا رہے اپنے گناہوں سے استغفار کرے اور فحش باتوں سے بچتارہے، ہر وقت ظاہری و باطنی گندگیوں سے پاک رہے۔نمازوں کا پڑھنا خواہ فرض ہوں یا نفل ، اور وقت پر ادا کرنا، روزہ رکھنا ، چاہے نفل ہو یا فرض، ستر کا چھپانا، صدقہ دینا خواہ نفلی ہو یا لازمی، غلاموں کو آزاد کرنا، سخاوت و ضیافت کرنا، اعتکاف میں بیٹھنا، شب قدر اور شب برأت میں عبادت کرنا، حج وعمرہ کرنا، طواف کرنا۔ دارالحرب یا ایسے ملک سے جہاں فسق و فجور، فحش و بے حیائی اور منکرات و بدعات کا زور ہو، دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جانا، بد عتوں سے بچنا اپنے دین کو بری باتوں سے محفوظ رکھنا، نذروں کا پورا کرنا ، کفاروں کا ادا کرنا، حرام کاری سے بچنے کے لئے نکاح کرنا۔ اہل و عیال کے حقوق پورے طور پر ادا کرنا، والدین کی خدمت کرنا، اور ہر طرح ان کی مدد کرنا اور خبر گیری رکھنا، اپنی اولاد کی شریعت کے مطابق تربیت کرنا اپنے ماتحتوں سے حسن سلوک کرنا اپنے حاکموں، افسروں اور مسلمان سرداروں کی تابعداری کرنا بشرطیکہ وہ خلاف شرع چیزوں کا حکم نہ دیں۔ غلام اور باندی سے نرمی اور بھلائی سے پیش آنا، اگر صاحب اقتدار اور حاکم و جج ہو تو انصاف کرنا، لوگوں میں باہم صلح صفائی کرانا، اسلام سے بغاوت کرنے والوں اور دین سے پھرنے والوں سے قتل و قتال کرنا، اچھی باتوں کی تبلیغ کرنا، بری باتوں سے لوگوں کو روکنا، اللہ کی جانب سے مقرر کی ہوئی سزاؤں کا جاری کرنا، دین و اسلام میں غلط باتیں پیدا کرنے والوں اور اللہ و رسول کا انکار کرنے والوں سے حسب قوت و استطاعت خواہ ہتھیار سے خواہ قلم و زبان سے جہاد کرنا، اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کرنا، امانت کا ادا کرنا، مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کرنا، وعدے کے مطابق فرض پورا کرنا، پڑوسی کی دیکھ بھال کرنا اور اس کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا، لوگوں کے ساتھ بہترین معاملہ کرنا، حلال طریقہ سے مال کمانا اور اس کی حفاظت کرنا، مال و دولت کو بہترین مصرف اور اچھی جگہ خرچ کرنا۔ فضول خرچی نہ کرنا، سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا، جب کسی کو چھینک آئے تو " یرحمک اللہ " کہنا، خلاف تہذیب کھیل کود اور برے تماشوں سے اجتناب کرنا، لوگوں کو تکلیف نہ پہنچانا اور راستوں سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹا دینا تاکہ راہ گیروں کو تکلیف و نقصان نہ پہنچے، یہ سب ایمان کے شعبے اور اس کی شاخیں ہیں۔راستہ سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹانے کا یہ مطلب ہے کہ اگر راستے میں پتھر یا کانٹے پڑے ہوں جس سے راہ گیر کو تکلیف پہنچ سکتی ہو یا نجاست و غلاظت پڑی ہو یا ایسی کوئی بھی چیز پڑی ہو جس سے راستے پر چلنے والوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو مومن کا یہ فرض ہے کہ انسانی و اخلاقی ہمدردی کے ناطے اس کو ہٹا دے اور راستہ صاف کر دے۔ اور اسی طرح خود بھی ایسی کوئی چیز راستے میں نہ ڈالے جو راستہ چلنے والوں کے لئے تکلیف کا باعث ہو اور عارفین کی رمز شناس نگاہوں نے تو اس سے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ انسان اپنے نفس کو ایسی تمام چیزوں سے صاف کر لے جو توجہ الی اللہ اور معرفت کے راستہ کی رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں اور اپنے قلب سے برائی و معصیت کے خیال تک کو کھرچ کر پھینک دے۔
بہر حال یہ تمام باتیں ایمان کے شعبے ہیں جن پر مومن کا عمل کرنا نہایت ضروری ہے اس لئے کہ ایمان کی تکمیل اور اسلام کا حسن ان ہی چیزوں سے پیدا ہوتا ہے اگر کوئی آدمی ان باتوں سے خالی ہے اور اس کی زندگی ان کی شعاعوں سے منور نہیں ہے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوئی اس کو چاہیے کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق چاہ کر ان اہم باتوں کو اختیار کرے۔

بحواله مشكاة المصايح 

پیر، 18 دسمبر، 2017

نبی ٔ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی تین پسندیدہ چیزیں

عَنْ أَنَسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلّٰی اللّٰه عَلَیه وَسَلَّمَ : ’’حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّیْبُ وَ النِّسَائُ، وَ جُعِلَتْ قُرَّۃ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ ۔‘‘ (رواہ أحمد والنسائی، مشکوۃ المصابیح/ص :۴۴۹، باب فضل الفقراء، الفصل الثالث)
ترجمہ  : حضرت انس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پسندیدہ بنائی گئیں میرے لیے خوشبو اور عورتیں اور بنائی گئی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں۔

تمہید  : یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی انسان کے طبعی وقلبی رحجان اور فطری ذوق کا اندازہ اس کی پسند اور چاہت (Choice)سے لگایا جا سکتا ہے، اگرا س کی طبیعت اور فطرت پر پاکیزگی کاغلبہ ہے تو اس کی پسند و چاہت بھی اعلیٰ اورپاکیزہ ہوگی، عربی کا مقولہ ہے: ’’کُلُّ إِنَائٍ یَنْضَحُ بِمَا فِیْہِ‘‘۔ (روضۃ الأدب/ص: ۴۷) یعنی برتن میں جو ہوگا وہی اس سے ٹپکے گا،لہٰذا اگر طبیعت پاکیزہ ہے تو چاہت بھی پاکیزہ ہوگی، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رحمت ِدو عالم صلی اللہ علیہ و سلم  کا ظرف کائنات کی ساری مخلوق میں سب سے اعلیٰ، مزکیٰ، مصفیٰ اور اﷲ تعالیٰ کی محبت سے لبریز تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کی چاہت اور پسند بھی نہایت اعلیٰ تھی، اور محبت کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ اس میں اپنی پسند پر نظر نہیں ہوتی۔مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر ہے:نظر اُن کی نظر اپنی، پسند اُن کی پسند اپنی نظر اپنی پسند اپنی، محبت میں نہیں ہوتی .
حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  کے دل میں تین چیزوں کی محبت ڈالی گئی :      
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنا فی اللہ کے اعلیٰ مقام پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کے دل میں اﷲ پاک کی اس قدر محبت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی تمام چاہتوں کو اس کی چاہت کے سامنے فنا کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چاہت اور پسند وہی تھی جس کا اﷲ پاک نے حکم فرمایا، چناںچہ حدیث ِمذکور میں لفظ: ’’حُبِّبَ‘‘ جو بصیغۂ مجہول لایا گیا اس میں یہی راز ہے، مطلب یہ ہے کہ(تین چیزیں)مجھے پسندکرائی گئیں، یا میرے دل میں ان کی محبت ڈالی گئی، گویا میں نے از خود کسی چیز کو پسند نہیں کیا، بلکہ میرے مولیٰ نے مجھے ان کی پسند اور محبت کا حکم فرمایا ۔      فافھم۔           
 لہٰذ ا اب خلاصہ یہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں منجانب اﷲتین چیزوں کی محبت ڈالی گئی۔آسمانِ ہدایت کے سراجِ منیر نے نجومِ ہدایت کے ہجوم میں جب یہ بات ارشاد فرمائی تو صحابۂ کرامؓ متوجہ ہوئے، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پسند ہے؟تاکہ ہم بھی ان چیزوں کو پسند کریں، یہ حقیقت ہے نا! کہ چاہنے والو ں کے لیے محبوب کی چاہت بھی محبوب ہواکرتی ہے، او ریہ بھی محبت کا تقاضا ہے۔
حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  اور خوشبو  :ارشاد ہوا : پہلی چیز جس کی محبت اور پسند میرے دل میں پیدا کی گئی وہ ہے ’’اَلطِّیْبُ‘‘یعنی عمدہ خوشبو ، جوانسان کے فطری، روحانی او رملکوتی تقاضوں میں سے ہے، اس سے جسم کے علاوہ روح و قلب کو بھی ایک خاص نشاط حاصل ہوتاہے، عبادت میں کیف و ذوق اور لذت حاصل ہوتی ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کو بھی اس سے راحت پہنچتی ہے۔ اس لیے ہر صحیح الفطرت اور سلیم الطبع انسان کوخوشبو سے محبت اور بدبو سے نفرت ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو سراپا سلیم الطبع و صحیح الفطرت ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوخوشبو سے محبت کیوں نہ ہوتی؟
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا تو جسم اطہر قدرتی طور پر معطر تھا،حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا پسینہ مبارک مشک و عنبر سے زیادہ معطر تھا۔  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ’’ ایک مرتبہ رحمت ِدو عالم صلی اللہ علیہ و سلم  ہمارے گھر تشریف لائے، اور دوپہر کے وقت وہیں محو ِ خواب ہوگئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم ِاطہر سے پسینہ بہت نکلا،حضرت ام سلیم (جو حضرت ابوطلحہ انصاریؓ کی بیوی ہیں، نہایت عاقلہ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے رضاعی یانسب مادری کی نسبت سے محرموں میں سے تھیں) (از: مظاہر حق جدید۵/۵۱۷)ام سُلیمؓ نے دیکھا تو ایک شیشی لاکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ اس میں جمع کرناشروع کردیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدارہوکر پوچھا :ام سُلیم! کیاکر رہی ہو؟ کہنے لگیں: حضور!یہ آپ کا مبارک پسینہ ہے، ہم اسے اپنی خوشبو میں ملائیں گے، کہ یہ ہر عطر سے زیادہ خوشبودار ہے۔(حلیۃ الاولیاء، لابی نعیم الاصفہانی/ص:۶۱،:۲ ، از :تراشے ص:۷۵،متفق علیہ، مشکوٰۃ /ص:۵۱۷) پسینہ پونچھ کر رکھتے صحابہؓ جسمِ اطہر کاجو خوشبو میں گلاب و مشک و عنبر سے بھی بہتر تھافضا ساری مہک جاتی وہ جس راہ سے جاتےنکلتے جستجو میں جو وہ خوشبوسے پتہ پاتے        آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس راہ سے گذر جاتے ساری فضا معطر ہو جاتی تھی، تلاش کرنے والا خوشبو سے معلوم کر لیتاکہ ابھی اللہ تعالیٰ کا محبوب یہاں سے گذراہے۔ (ترمذی، مشکوٰۃ/ ص:۱۵۷) .
ایک اور عاشق نے کہا کہ:جسمِ مطہر کتنا معطر، روئے مبارک ماہ منوردلکش باتیں، شیریں تبسم، صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ان سب کے باوجود آپ   صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو کو پسند فرماتے،اس لیے معمولِ مبارک تھاکہ تحفہ یاخوشبودار پھول وغیرہ واپس کرنے سے منع فرماتے، کیوں کہ خوشبو آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کی پسندیدہ چیز تھی، بلکہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم  کے مطالعہ کے بعد اس عاجز کا ناقص خیال تو یہ ہے کہ آپ   صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو سے کیا محبت فرماتے خود خوشبو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرتی تھی۔
عورت قابل نفرت نہیں، لائق محبت ہے : دوسری چیز جس کی محبت میرے دل میں ڈالی گئی وہ ہے نیک رفیقۂ حیات،فیشن پرست عورت نہیں، بلکہ فرمایا: ’’وَالنِّسَائُ‘‘ ، اور ایک روایت میں ’’المَرْأَۃ الصَّالِحَة‘‘ ہے، یعنی (وہ نیک)عورت جس کا دل ذوقِ وفا سے سرشار اور جبین اللہ تعالیٰ کے حضور سجدوں سے آباد ہو۔جو عبادت میں اللہ تعالیٰ سے وفاکرے او رعفت میں شوہر سے وفا کرے۔یہاں کسی اعتراض کا موقع اس لیے نہیں ہے کہ عورت سے محبت کرنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتی پسند نہیں، بلکہ منجانب اﷲ اس کی پسند آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کے د ل میں پیدا کی گئی۔ اور ا س میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں، عورت جو زندگی کی ایک بڑی اہم ضرورت ہے ،دورِ جاہلیت میں اس کے وجودہی سے نفرت کی جاتی تھی ،اس کی ولادت پر مذمت وندامت کی جاتی تھی، قرآنِ نے اسے یوں بیان فرمایا :       {وَإِذَابُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ} (النحل :۵۸) اور جب ان میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے، او ردل ہی دل میں کڑھتارہتاہے۔
بعد میں ساری زندگی اس کا استعمال محض تکمیل شہوت یا ضرورت کے لیے ہوتا تھا، اُس کے ساتھ عموماًوہ سلوک کیا جاتا کہ انسان تو کیا شیطان بھی شرما جائے ،زمانۂ جاہلیت میں عورت کی حیثیت کیا تھی؟عورت کنیز بن کر دنیا میں جی رہی تھی خونِ جگر کے قطرے خاموش پی رہی تھی ایسے سنگین حالات میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت سمجھائی کہ عورت بالخصوص جب کہ وہ نیک ہو، قابل نفرت نہیں، بلکہ لائق محبت ہے، اور محبت قائم ہونے کا ذریعہ بھی،یہی وجہ ہے کہ میرے د ل میں اس کی محبت من جانب اللہ ڈالی گئی۔
عورت سے محبت کرنے کا صحیح طریقہ  :          اور حضورِاکرم   صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں یہ بھی سمجھایا کہ عورت کی مختلف حیثیتیں ہیں، لہٰذاہر حیثیت سے اس کے ساتھ محبت کا انداز،تقاضا اور طریقہ بھی مختلف ہوگا، مثلا:         ۱-   عورت اگر ماں ہے، تو اس کی ہر ممکن خدمت اور جائز امور میں اس کی مکمل اطاعت کرنا یہ اس کی محبت کا تقاضا ہے۔
۲- عورت اگر بہن ہے، تو ایک مخلص بھائی کا پیار دے کر اس کے تمام حقوق کو پورا کرنا اس کی محبت کا تقاضا ہے ۔         ۳-   عورت اگر بیوی ہے، تو شوہر کے لیے ادائے حقوق اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا یہ اس کی محبت کا تقاضا ہے           
 ۴-   عورت اگر بیٹی ہے، تو اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا خیال رکھنا یہ اس کی محبت کا  تقاضا ہے ۔کسی بزرگ کا مقولہ ہے کہ ’’بیٹی رحمت ہے اور بیٹا نعمت ہے، نعمت زائل ہو سکتی ہے، لیکن رحمت تو رحمت ہی رہتی ہے۔‘‘
 الغرض! حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے محبت بھی فرمائی اور امت کو اس سے محبت کرنے کا صحیح انداز اور طریقہ بھی سکھلایا۔
نماز آپ   صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کا محور و مرکز ہے  :        تیسری چیز کے بارے میں فرمایا ’’وَجُعِلَتْ قُرَّۃ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ‘‘  کہ نماز تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، کیوں کہ نماز رب العزت کی ملاقات، یاداور محبت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، قرآنِ پاک میں فرمایا: {وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ} (طٰہٰ :۱۴) اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے لبریز تھا، اس لیے وہ چیز جوبطورِ خاص اس کی  یاد اورمحبت حاصل کرنے کا ذریعہ تھی یعنی نماز، اسے آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتلایا۔         صاحب مظاہر حق نے فرمایا: ’’لفظ ِ’’قُرَّۃُ‘‘یہ’’قَرَّ‘‘ سے مشتق ہے ، جس کے معنی قرار و ثبات کے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ جب نگاہ کو محبوب کا دیدار نصیب ہوتا ہے تو نہ صرف نظر کو قرار ملتا ہے، بلکہ دل کو بھی سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے، جس طرح محبوب کا دیدار نہ ہونے سے نظریں پریشان اور دل بے قرار رہتا ہے، لہٰذا نگاہ اور دل کے اسی قرار کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قُرَّۃٌ‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ( مظاہر حق جدید:۶/۹۵).
بہر حال! نماز،نیک عورت اور خوشبو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت اور محبت کا مرکز ومحور ہے، لہٰذا   آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جو چیزیں آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کو پسند ہیں وہ ہمیں بھی پسند ہوں۔
خلفائِ اربعہؓ  کی پسند  :    یہ تین چیزیں وہ تھیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند کرائی گئیں ،جن کا ذکر اس حدیث میں ہوا۔ دوسری روایت میں ابن حجرؒ نے اپنی تصنیف ’’المنبہات‘‘ میں مزید تفصیل بیان فرمائی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پسندیدہ اشیا ء کاذکر فرمایا، تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے اجازت لے کرعرض کیا: حضور!مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں :           عرض کیا:’’  اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهكَ،    وَإِنْفَاقُ مَالِیْ عَلٰی أَمْرِکَ ،   وَأَنْ تَکُوْنَ بِنْتِیْ فِیْ بَیْتِکَ۔  
۱-        آپ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھنادنیا وما فیہا سے زیادہ پسندیدہ ہے۔    
۲-        آپ کے منشا وحکم پر اپنا مال خرچ کرنا مجھے بڑا پسند ہے۔      
۳-       آپ کے نکاح میں اپنی بیٹی دینا بھی مجھے بہت پسندہے۔                                                                                               
صدیق اکبرؓ کے بعد سیدنا عمرؓ نے عرض کیا: حضور! مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں:    ’’اَلأَمْرُبِالْمَعْرُوْفِ، وَالنهىُ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَالثَّوْبُ الْخَلَقُ۔‘‘           
۱-        امر بالمعروف کرنا،حسنات و معروفات کی اشاعت کرنا مجھے بہت پسند ہے۔  
۲-                     نہی عن المنکر کرنا ،برائیوں کا خاتمہ کرنا مجھے بہت پسند ہے۔
 ۳ -                  پرانے (مگر پاک صاف) کپڑے پہننابھی مجھے بہت پسند ہے۔      
 پھر سیدنا عثمان غنی     ؓنے حضور صلی اللہ علیہ و سلم  کے سامنے اپنی تین پسندیدہ چیزیں پیش کیں:   ’’إِطْعَامُ الْجِیْعَانِ، وَکِسْوَۃ العُرْیَانِ، وَتِلَاوَۃ الْقُرْآنِ‘‘۔          
۱-        بھوکوں کو کھانا کھلانا پسند ہے۔           
۲-        ناداراورننگوں کو کپڑا پہناناپسند ہے ۔   
۳-       قرآن کریم کی تلاوت کرنابھی بہت پسند ہے۔    
یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ آخری وقت میں بھی حضرت عثمانؓ نے قرآن کو اور قرآنِ کریم نے حضرت عثمانؓ  کو  اپنے سینے سے لگا کریاری پکی کرلی اور آپؓ نے تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
اخیر میں سیدنا علی کرم اﷲ وجہہٗ نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنی تین پسندیدہ چیزیں عرض کیں:    ’’اَلْخِدْمة لِلضَّیْفِ، وَالضَّرْبُ بِالسَّیْفِ، وَالصَّوْمُ فِی الصَّیْفِ‘‘۔
۱-        مہمانوں کی خدمت کرنابہت پسند ہے ۔
۲-        جہاد بالسیف، یعنی راہِ حق میں تلوار سے جہاد کرنا بہت پسند ہے۔       
۳-       شدیدگرمیوں میں روزے رکھنابھی بہت پسند ہے ۔         
شمع رسالت کے ان بے لوث پروانوں کی یہ پسندیدہ اشیاء محض زبانی جمع خرچ نہیں تھیں، بقولِ شاہ صاحب علامہ سید عبدالمجید ندیمؒیہ پسند صرف زبان و بیان کی حد تک محدود نہیں،بلکہ اُنہوں نے عملی زندگی میں بھی اس کا بھر پور مظاہرہ فرمایا، جو تاریخ کا زرین باب ہے۔
جبرئیل امین علیہ السلام اور رب العالمین کی پسند  : ابھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور ان جلیل القدر صحابہؓ کی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ سیدالملائکہ حضرت روح الامین تشریف لائے اور عرض کیا : ’’رب العالمین نے آپ تمام کی گفتگو سن کر مجھے بھیجا ،تاکہ میں اپنی اور رب العالمین کی پسند بتلائوں، میری پسند تو یہ ہے  : إِرْشَادُالضَّالِّیْنَ، وَإِعَانةعِیَالِ الْمُعْسِرِیْنَ، وَمُؤَانَسة الْغُرَبَائِ الْقَانِتِیْنَ‘‘۔                                                                                           
۱- (دنیوی اور دینی اعتبار سے) بھٹکے ہوؤں کو راہِ راست بتلانامجھے بہت پسند ہے ۔         
۲-   عیال دار،تنگ دست کی نصرت کرنا،جس کی جیب تو خالی ہو، مگر ضمیر محفوظ ہو، مجھے بہت پسندہے۔
 ۳-  عبادت گزار غریبوں سے محبت کرنا،یعنی باضمیر غریبوں سے دوستی کرنابھی مجھے بہت پسند ہے۔           
پھر فرمایا ! اﷲ پاک کو اپنے بندوں سے تین چیزیں بڑی پسند ہیں:
 بَذْلُ الْاِسْتِطَاعة، وَ الصَّبْرُ عِنْدَ الْفَاقة،  وَالْبُکَائُ عِنْدَالنَّدَامة‘‘۔       
۱-     بندہ کا اپنی طاقت و استطاعت کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنااللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔         
۲-    فاقہ کے وقت شکوہ کے بجائے صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔    
۳-    گناہوں پر ندامت کے ساتھ رونابھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔
ائمہ اربعہ کی پسند  :’’نزھۃ المجالس‘‘ میں علامہ عبدالرحمن صفویؒ نے فرمایا :’’جب یہ حدیث ائمۂ اربعہ کو پہنچی تو ہر ایک نے اپنی اپنی پسند بیان فرمائی، سب سے پہلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒالنعمانؒ نے اپنی پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-  طویل رات میں جاگ کر علم حاصل کرنا  مجھے بہت پسندہے۔
۲- تکبر ترک کرنا اور تواضع اختیار کرنا مجھے بہت پسندہے۔
۳-  وہ دل جو دنیا کی محبت سے خالی ہو اور اللہ کی محبت سے لبریز ہومجھے بہت پسندہے۔     
پھر حضرت امام مالک ؒ نے اپنی تین پسندیدہ اشیا ء بیان فرمائیں:
۱- روضۂ اقدس کا قرب مجھے بہت پسندہے ۔
۲-        آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک (مدینہ) سے چمٹے رہنا بھی مجھے بہت پسندہے۔
۳-       اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔          
 اس کے بعدحضرت امام شافعی ؒ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-         مخلوق کے ساتھ اخلاق سے پیش  آنا  مجھے بہت پسندہے۔
۲-        ترکِ تکلفات  اور سادگی سے زندگی گذارنامجھے بہت پسندہے۔
۳-       راہِ تصوف اختیار کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔     
اخیر میں حضرت امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-        اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  میری پہلی پسندہے۔
۲-                آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کے انوارات  و ارشادات سے برکت حاصل کرنا بھی مجھے بہت پسند ہے۔
۳-       آپ   صلی اللہ علیہ و سلم  کے نقش قدم پر چلنا مجھے بہت پسندہے۔ ( نزہۃ المجالس/ ص: ۹۹/ ج : 1
  سچ ہے:{ أُولٰئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ  ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (المجادلۃ:۲۲) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی جماعت اورگروہ ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والاہے۔‘‘اوریہ ہے ان کا وہ گلدستۂ محبت وہدایت جس کی خوشبو سے گلشن انسانیت مہکتا رہے گا۔یہ عاجز دست بستہ اپنے مولیٰ کے حضور عرض کرتاہے کہ’’الٰہی ! مجھے
۱-توبۃً نصوحاً ۲-اپنی مکمل اصلاح ۳-اور دونوں جہان میں تیری رضا پسندہے، لہٰذا اپنی محبت نصیب فرماکر اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطافرما، آمین۔ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلِّھِمْ٭…٭…٭

بحوالہ گلدستہ حدیث:     ترتیب  اکبر حسین اورکزئی  

اتوار، 17 دسمبر، 2017

ذکر ِالٰہی و خوفِ خداوندی کی فضیلت


عَنْ أَنَسٍؓ عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: یَقُوْلُ اللّٰه جَلَّ ذِکْرُہٗ : ’’أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَکَرَنِیْ یَوْمًا، أَوْ خَافَنِیْ فِیْ مَقَامٍ۔‘‘(رواہ الترمذی ، مشکوۃ/ص: ۴۵۷/ باب البکاء و الخوف/ الفصل الثانی)       
ترجمہ  : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے، رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم  فرماتے ہیں کہ اﷲ جل ذکرہٗ فرمائے گا کہ ’’اس شخص کوبھی آگ سے نکالو جس نے ایک دن بھی میرا ذکر کیا ہو،  یا کسی مقام پر بھی مجھ سے خوف کیاہو۔
تشريح :
ذکر کا ناغہ، روح کا فاقہ : اﷲ جل جلالہٗ نے حضرت انسان کو دو چیزوں سے بنایا :(۱) جسم۔ (۲) روح۔ 
فرق اتنا ہے کہ جسم مکان کی حیثیت رکھتاہے تو روح مکین کی،اور جسم خاکی ہے تو روح افلاکی ، دونوں ہی امانت ِالٰہی ہیں۔ اس لیے دونوں کی صحت و حفاظت مطلوب ہے، جس کا تقاضہ یہ ہے کہ انہیں ان کی غذا فراہم کی جائے ورنہ صحت برقرار نہیںرہ سکتی۔پھرجس طرح غذانہ ملنے سے جسم کمزور اوربے کار ہوجاتا ہے، اسی طرح غذانہ ملنے پر روح بھی کمزور اوربے کار ہو جاتی ہے، اور جسم چوںکہ مٹی سے بنا ہے اس لیے اس کی غذا بھی مٹی سے نکلتی ہے، اور روح (عرشی ہے جو) آسمان سے آئی ہے یہ {مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ} (بنی اسرائیل : ۸۵)ہے۔ اس لیے اس کی غذا ذکر ِالٰہی ہے۔  
حکیم العصرشاہ حکیم اختر صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ’’ ذکر کا ناغہ روح کا فاقہ ‘‘ ہے، ہم جس طرح پیٹ کے فاقے سے ڈرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ روح کے فاقہ سے ڈرنا چاہیے، اس لیے کہ جب روح نہ رہے گی تو روٹی کیسے کھا سکیں گے؟اﷲ اﷲ ہے تو یارو! جان ہےورنہ یارو !جان بھی بے جان ہےجب ذکر قلیل کی اتنی عظیم فضیلت ہے تو کثیر کی کتنی ہوگی؟         اس لیے ذکر بکثرت کریں، اگر ذکر میں مزاآئے تو غذا سمجھ کرکر یں، اور مزا نہ آئے تو دوا سمجھ کر کریں،ترک نہ کریں۔ارشادِ ربانی ہے:            { یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اذْکُرُوْا اللّٰہَ ذِکْراً کَثِیْراً}  (الأحزاب:۴۱)’’
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کثرت سے کیاکرو‘‘۔ ورنہ میدانِ محشر میں حسرت ہوگی۔چنانچہ شیخ الاسلام حضرت مولانامدنیؒ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں قیامت کاایک نام ’’یوم الحسرۃ‘‘ ذکر کیاگیاہے۔  کما قال تعالٰی: {وَأَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ} (مریم : ۹) (اے پیارے نبی! آپ ان کو ڈرائیے حسرت کے دن یعنی قیامت سے )اب کافر، مشرک اورمنافق کے لیے تو قیامت کا  حسرت  والادِن ہوناسمجھ میں آتاہے، مومن کے لیے حسرت کیوں؟
تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حق تعالیٰ اپنے ذکروطاعت پر اجر عظیم عطا فرمائیں گے تب ذاکر وعامل حسرت کرے گا کہ کاش !میں ذکر قلیل و عمل قلیل پر اکتفا نہ کرتا ۔کیوںکہ روایت میںہے کہ ’’بالفرض ایک مومن ولادت سے وفات تک بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر و طاعت میںلگارہے تب بھی وہ قیامت کے دن اجر عظیم کو دیکھ کر اپنے عمل کو قلیل سمجھے گا، او رتمنا کرے گا کہ کاش !پھر ایک موقع مل جاتا تو مزید ذکرو طاعت کا اہتمام کرتا۔ (مشکوٰۃ/ ص:۴۵۲) .            
غرض ذکر ِالٰہی کی بڑی اہمیت ہے، چنانچہ حدیث پاک میں وارد  ہے کہ قیامت کے دن حضرت حق تعالیٰ جہنم پر متعین فرشتوں سے فرمائیں گے: فرشتو ! ’’اخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَکَرَنِیْ یَوْماً‘‘ جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیاہو، میرا ذکر کیا ہو،یا کسی بھی مقام پر مجھ سے خوف کیاہو(آج میں اسے اپنے عذاب سے نجات دینا چاہتا ہوں، لہٰذا) اسے دوزخ سے نکالو ! یہاں یاد رہے کہ اس جگہ وہ مومن مخلص مراد ہے جو مرتے وقت ایمان پر قائم ہو، لیکن گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں ڈال دیاگیا ہو۔ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں: ’’أَيْ بِشَرطِ کَوْنِہٖ مُؤْمِناً مُخْلِصاً‘‘ (مرقاۃ المفاتیح/ص : ۸۴/ جلد :۱۰)   
صاحبو ! جب ذکر ِقلیل کی اتنی عظیم فضیلت ہے تو ذکر ِکثیر کی کتنی فضیلت ہوگی؟
ایک واقعہ  :ذکر ِقلیل کی عظیم فضیلت پر حضرت حکیم العصر مولانا حکیم اختر صاحب ؒ نے ایک عجیب و غریب واقعہ بیان فرمایا کہ ’’حضرت سلیمان علیہ السلام کو قرآن کے بیان کے مطابق اﷲ پاک نے بے مثال حکومت و سلطنت عطا فرمائی تھی، آپ کے پاس ایک حیرت انگیز اور عظیم الشان معجزانہ تخت تھا، جس میں بعض روایات کے مطابق سونے چاندی کی کرسیاں سجی ہوئی تھیں، اس پر آپ مع اصحاب واحباب بیٹھا کرتے تھے، پھرچوںکہ اﷲ رب العزت نے آپ کو ہوا پر بھی حکومت عطا فرمائی تھی، اس لیے جب کہیں سفر میں جانا ہوتا تو آپ لشکر سمیت تخت پر جلوہ افروز ہو جاتے، پھر جہاں کا ارادہ ہوتا ہوا کو حکم فرماتے، تووہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ منزلِ مقصود تک پہنچا دیتی، اس کی تیز رفتاری کو قرآن نے اس طرح بیان کیا: {وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّھَا شَھْرٌوَّرَوَاحُھَا شَھْرٌ} (سبأ : ۱۲)   حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ،اس (ہوا) کا چلنا صبح میں مہینے بھر کی مسافت تھی ،اسی طرح شام کا چلنا مہینے بھر کی مسافت تھی۔
مطلب یہ ہے کہ دنیاکی تیز رفتار سواری مہینہ بھر کی مسافت میں جہاں پہنچتی ہے وہ تخت ِسلیمانی صبح سے شام تک میں طے کر لیتا تھا، مگر اس کے باوجود حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا ذکر اتنا محبوب تھاکہ آپ ہوائی (جہاز) تخت پر سفر کے دوران پورے راستے میں سر جھکائے ذکر ِالٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ذکر ِخدا میں ہر دم رہنا، سب کے بس کی بات نہیں خواہش نفس سے بچتے رہنا، سب کے بس کی بات نہیں .
 ہوائی جہاز میں سفر کے دوران ذکر ِالٰہی کا اہتمام  :            عاجز کا ناقص خیال یہ ہے کہ ہمیں بھی اگر اﷲ پاک ہوائی جہاز (Aeroplain) میں سفر کا موقع دے تو سنت ِسلیمانی کے مطابق ذکر ِالٰہی کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہوائی تخت تو نورانی و روحانی تھا، جب کہ اِس زمانہ کے ہوائی جہاز میں تو عیش و عیاشی کے سامان ہوتے ہیں، شراب ا س میں ہوتی ہے (الا ماشا ء اﷲ) ائیر ہوسٹس(Air Hostess)  کے فتنہ کا خطرہ اس میں ہوتا ہے، حادثہ پیش آنے کا امکان اس میں ہے، ایسی صورت میں ظاہری و باطنی خطرات سے بچنے کے لیے ذکر ِالٰہی کا اہتمام ہوائی جہاز میں سفر کے دوران نہایت ضروری ہے ،تاکہ فضا بھی ہمارے ذکر کی قیامت کے دن گواہی دے۔
رجوع الی القصہ  :الغرض !حضرت سلیمان علیہ السلام ہوائی تخت کے سفر میں ہمیشہ ذکر ِالٰہی میں منہمک رہتے تھے، اُس سے کبھی غفلت نہ ہوتی تھی، ایک مرتبہ آپ اپنے احباب و اصحاب  کے ساتھ ہوائی تخت پر کہیں تشریف لے جا رہے تھے، تو آپ کی جلالت ِشان کو دیکھ کر ایک امتی نے کہا: ’’سبحان اﷲ!کیا اٰلِ داودکی شان و شوکت اور حکومت ہے؟ ‘‘
ہوانے اُس امتی کی بات حضرت سلیمان علیہ السلام تک پہنچادی، گویا اس نے سی۔آئی۔ڈیD ).I.C.) کا کام کیا، فوراً حضرت نے اُس امتی کو طلب کیا اور ارشاد فرمایاکہ ’’لَتَسْبِیْحَۃٌ  وَّاحِدَۃٌ خَیْرٌمِمَّا أُوْتِيَ اٰلُ دَاؤدَ‘‘ اﷲ کے بندے !تیرا ایک مرتبہ ’’سبحان اﷲ‘‘ کہنا(اجر ِآخرت کے اعتبار سے)  اٰلِ داود کی تمام دولت و سلطنت سے کہیں بہتر ہے، اس لیے کہ سلیمان اور اس کی حکومت تو ختم ہو جائے گی ،مگر یہ تسبیح اور اس کا اجرو ثواب باقی رہے گا۔(باتیں ان کی یاد رہیں گی ۲۲۰)      اور خلوص کے ساتھ کیے جانے والا ایک مرتبہ کا ذکر بھی نجات کے لیے کافی ہوجائے گا۔ چنانچہ فرمایا :’’أَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِ مَنْ َذَکَرْنِیْ یَوْماً۔‘‘ 
حضرت امام خلیل بن احمد ؒ  کا واقعہ  :حضرت بصیر حمصی ؒ نے حضرت امام خلیل بن احمد ؒ  کو ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا تو کہا :’’اب علمی اشکالا ت کے حل میں ہم کو بڑی دقت پیش آئے گی، کیوںکہ اب آپ جیسا کوئی عالم نہیں ملتا جو علمی پیچیدگیاں آسانی سے حل کر دے‘‘، اس پر فرمایا: ’’بھئی! مشکلات کو تو تم ہی حل کروگے، پہلے ذرا یہ تو پوچھو کہ ہم جن تحقیقاتِ علمیہ کے حامل اور ان پر نازاں تھے اُن کا کیا حشر ہوا؟‘‘ پھر حضرت امام خلیل احمد ؒ نے فرمایا:’’ہمیں تو صرف یہ کلمہ کام آیا :’’سُبْحَانَ اﷲِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلاَ إِلٰہَ إِلاَّاللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاﷲِ الْعَلِيِّ الْعَظِیْمِ‘‘ باقی تحقیقات کی تو کچھ پوچھ ہی نہیں ہوئی۔‘‘( کشکول /ص :۲۲، مفتی محمد شفیع صاحب ؒ)
ذکر ِالٰہی کا التزام  :           ذکر ِالٰہی کے ان ہی فضائل کے پیش نظر اس کی کثرت کا حکم دیاگیا : { وَ اذْکُرُوْا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ} (الأنفال : ۴۵)   اس کی ترجمانی کرتے ہوئے مولاناجلال الدین رومی ؒ فرماتے ہیں :مومنا! ذکر خدا بسیار گو تابیابی در دو عالم آبرو اے مومن بندے ! جب ذکر ِالٰہی کی یہ فضیلت ہے تو تجھے چاہیے کہ بکثرت ذکر ِالٰہی میں مشغول ہو، تاکہ دارین میں تو عزت وراحت پا جائے۔         
ہمارے حضرت شیخ الزماں مدظلہٗ فرماتے ہیں کہ اہل اللہ ذ کر اللہ کااتنا اہتمام فرماتے تھے کہ بعض اولیاء اللہ بیت الخلاء جاتے وقت زبان کو دانتوں سے پکڑ لیتے کہ کہیں بیت الخلاء میں ذکر اللہ جاری نہ ہوجائے‘‘۔ مشہور تابعی حضرت عروہ بن زبیرؒ  ایک مرتبہ ولید بن یزید سے ملنے دمشق روانہ ہوئے، تو راستے میں چوٹ لگ کر پاؤںزخمی ہوگیا، درد کی شدت سے چلناپھرنادوبھر ہوگیا، سخت تکلیف کے باوجود ہمت نہیں ہاری اوردمشق پہنچ گئے، ولید نے فوراً طبیبوں کو جمع کیا، انہو ں نے زخم کا بغور جائزہ لینے کے بعد پاؤں کاٹنے کی رائے پر اتفاق کیا، حضرت عروہؒ  کو جب اطلاع کی گئی ،توانہوں نے منظو رکرلیا،مگر پاؤں کاٹنے سے پہلے بے ہوشی کے لیے نشہ آور دواکے استعمال سے یہ کہہ کر صاف انکار کردیاکہ میں کوئی لمحہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غفلت میں نہیں گذارسکتا۔(’’کتابوں کی درسگاہ میں‘‘ص:۳۷).
 حضرت حکیم العصر مولانا حکیم اختر صاحبؒ  فرماتے ہیں: ’’ میرا ذوق یہ ہے کہ جس نے اخلاص کے ساتھ ایک بار بھی اﷲ تعالیٰ کا نام لیا ،اسے یاد کیا ،اﷲ تعالیٰ اسے جہنم میں نہیں ڈالے گا، اور جس کی آنکھ سے ایک بار بھی اللہ تعالیٰ کی خشیت و محبت سے آنسو نکلا، اس کا خاتمہ برا نہ ہوگا۔  (مواہب ِربانیہ/ ص: ۹) .
 خوفِ الٰہی کی فضیلت  :   پھریہ اسی خوفِ الٰہی کانتیجہ ہے کہ اسے دوزخ سے ضرور نجات دی جائے گی۔ فرمایا:’’أَوْخَافَنِیْ فِیْ مَقَامٍ‘‘۔مطلب یہ ہے کہ اس کی دنیوی زندگی میں کوئی ایساموقع آیاہو کہ جب وہ کسی گناہ میں مبتلا ہونے سے محض میرے خوف کی وجہ سے باز رہا ہو، تووہ نجات دیاجائے گا۔ اِس سے خوفِ الٰہی کی زبردست فضیلت ثابت ہوئی۔
صاحبو! اللہ تعالیٰ کی جلالت و عظمت کاحق یہی ہے کہ اس کی ناراضگی سے انسان ڈرتارہے، او راللہ کاخوف و خشیت دل میں پیدا کرنے کے لیے اس کی قدرت وعظمت کاخیال دل میں جمایاجائے، اسی کے ساتھ بروں کے انجامِ بد کو سوچا جائے، نیز قرآن وحدیث میں نافرمانوں  کے لے جن عذابوں کی وعیدیں آئی ہیں اُن کا تصور کیاجائے۔ اہل اللہ کے دل میں کس قدر خوفِ خدا تھا؟ اس کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ شیخ سعدیؒ نے ’’گلستاں‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک سال حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ حج کے لیے گئے، تو لوگوں نے دیکھا کہ حرمِ کعبہ میں کنکریوں پر پیشانی رکھ کر دعامیںکہہ رہے تھے: ’’اے اللہ! مجھے بخش دے، اور اگر میں سزاکامستحق ہوں تو قیامت میں مجھے اندھا اٹھانا، تاکہ نیکوں کے روبرو شرمسار نہ ہونا پڑے۔‘‘(گلستاں/ ص:۶۷) .
جب اتنے بڑے ولی اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرتے تھے تو ہمیں کتنا ڈرناچاہیے،جب کہ ارشادِ ربانی بھی ہے:{وَاللّٰہُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشٰہُ} (الأحزاب : ۳۷)      اللہ تعالیٰ زیاد ہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ او رجو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کے متعلق قرآن پاک میں فرمایا: {وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِيَ الْمَأْوٰی} (النازعات :۴۰-۴۱)
یعنی جو شخص دنیا میں اپنے رب کے سامنے کھڑاہونے سے حقیقی معنی میں ڈرا ہوگا، اور نفس کو حرام خواہش سے روکاہوگا، تو جنت اس کا اصلی ٹھکانا ہوگا۔اور گناہ سے وہی بچے گاجس کے دل میںاللہ تعالیٰ کاخوف ہوگا، کہ خوفِ الٰہی اجتنابِ معاصی کاذریعہ ہے، اب جس میں جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا وہ اتنا ہی گناہ سے بچے گا۔ایک واقعہ  :  امام غزالیؒ نے ’’مکاشفۃ القلوب‘‘ میں ایک واقعہ نقل فرمایاہے کہ’’ ایک نوجوان کسی عورت کی محبت میں مبتلا ہوگیا، ایک مرتبہ وہ عورت کسی قافلہ کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی،  نوجوان کو جب معلوم ہوا تو وہ بھی اس عورت کی طلب میں ساتھ چل پڑا، رات کے وقت جب قافلہ کسی منزل پر پہنچا اور قافلہ والے فارغ ہو کر سو گئے، تب نوجوان چپکے سے عورت کے پاس گیا اور محبت کا اظہار کرنے لگا، عورت نے کہا: ’’جاکر دیکھو! قافلہ میںکوئی جاگ تو نہیں رہاہے‘‘  نوجوان نے فرطِ مسرت میں قافلہ کاچکر لگایا اور واپس آکر کہنے لگا: ’’سب غافل سوئے پڑے ہیں‘‘ تو عورت نے کہا:’’اللہ میاں بھی ؟‘‘ بولا :’’نہیں، وہ تو کبھی نہیں سوتا‘‘ عورت کہنے لگی: ’’لوگ سو گئے تو کیا ہوا،اللہ تعالیٰ تو جاگ رہاہے، لوگ نہیں دیکھتے ،اللہ تعالیٰ تو دیکھتاہے، لہٰذا اس سے ڈرنا ہمارافرض ہے‘‘ پس نوجوان خوفِ الٰہی سے لرزہ براندام ہوگیا اورگناہ سے باز آگیا، کہتے ہیں کہ اس کے کچھ وقت کے بعدنوجوان کا انتقال ہوگیا، بعد میں کسی نے خواب میں پوچھا کہ’’ کیامعاملہ ہوا؟‘‘ تو کہنے لگا: ’’اس دن خوفِ الٰہی کی وجہ سے گناہ سے باز رہا، تو اللہ تعالیٰ نے میرے سارے گناہ معاف کردیے۔
‘‘حضرت بابا نجم احسن ؒ فرماتے تھے:دولتیں مل گئی ہیں آہوں کی .ایسی تیسی میرے گناہوں کی      
عاجز کا ناقص خیال یہ ہے کہ جو بندہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر اپنے رب کے سامنے روتا ہے، اُسے مصیبتوں میں سب کے سامنے رونا نہیں پڑتا۔    شاہ صاحب علامہ سید عبدالمجید ندیمؒؔ فرماتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کو دنیامیں (اجتنابِ معاصی کے علاوہ)ایک صلہ یہ بھی ملتاہے کہ دنیا کی ہر چیز اُن سے ڈرتی ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرے اسے دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز اسے ڈراتی ہے۔ صحابہؓ  کی زندگیاں معیار ہیں، انہیں ان کے استاذِ کامل   صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا سلیقہ سکھادیا، تو دنیا نے دیکھا اور تاریخ نے نوٹ کیا کہ جنگل کے درندے ان سے ڈرتے تھے، روم کاقیصر اور ایران کاکسریٰ ان کے قدموں کی چاپ سے لرزہ براندام رہتا تھا۔
‘‘ذکر ِخدا و خوف ِخدا کا روح پر اثر  : صاحبو ! جب بات یہی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ذکر ِالٰہی  میں اپنی زندگی کھپا دیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اپنے بدن کو تھکا دیں، اور پھر جب اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت ہم پر پڑے تو ’’ھَلْ مِنْ مَّزِیْدْ‘‘ کہتے ہوئے اپنے قدم کو آگے بڑھادیں۔ 
بہر حال! حدیث ِبالا میں ذکر ِالٰہی اور خوفِ خداوندی پر یہ انعام بیان فرمایا کہ ہم یا تو ایسے شخص کو جہنم سے نجات عطا فرماکر اول مرحلہ میں ہی جنت میں داخل فرمادیں گے: {یَغْفِرُ ِلِمَنْ یَّشَائُ وَیُعَذِّبُ مَن یَّشَائُ} (المائدۃ : ۱۸)یا پھرگناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کر دیں گے، یہ صلہ ذکر ِقلیل اور خوفِ قلیل کا ہے، خوفِ الٰہی کی بنیاد پر بہنے والے آنسوؤں کی برسات سے روح مصفیٰ و منور ہوتی ہے، تو ذکر اللہ سے روح کوغذا اور تقویت ملتی ہے۔یہ دونوں ہی ضروری ہیں،شایداسی لیے ان دونو ںکو ساتھ ساتھ بیان کیا۔
 وَ لَنِعْمَ مَا قِیْلَ: جنت کا اگر شوق ہو تو یادِ خدا کن دوزخ کااگر خوف ہو تو خوفِ خدا کن اﷲ پاک ہم سب کو اپنے ذکر سے مناسبت اور اپنی خشیت نصیب فرمائے، آمین۔و اٰخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العٰلمینیَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلِّھِمْ .

بحوالہ گلدستہ حدیث : ترتیب اکبر حسین اورکزئی