اتوار، 25 مارچ، 2018

حضرت عمر کا قبولِ اسلام


...............................................................................................

حضرت عمر کا قبولِ اسلام

Islamichistory
ظلم وطغیان کے سیاہ بادلوں کی اسی گھمبیر فضا میں ایک اور برقِ تاباں کا جلوہ نمودار ہوا۔ جس کی چمک پہلے سے زیادہ حیرت کن تھی یعنی حضرت عمرؓ مسلمان ہوگئے۔ ان کے اسلام کا واقعہ ۶نبوی کا ہے۔وہ حضرت حمزہ ؓ کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے اور نبیﷺ نے ان کے اسلام لانے کے لیے دعا کی تھی۔ چنانچہ امام ترمذی ؒ نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعود اور حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :
(( اللهم أعز الاسلام بأحب الرجلین الیک ؛ بعمر بن الخطاب أو بأبی جهل بن هشام۔))
'' اے اللہ ! عمر بن خطاب اور ابو جہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے سے اسلام کو قوت پہنچا۔''
(اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر ؓ مسلمان ہوگئے ) اللہ کے نزدیک ان دونوں میں زیادہ محبوب حضرت عمرؓ تھے۔ (ترمذی ابواب المناقب ! مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب ۲/۲۰۹)
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے سے متعلق جملہ روایات پر مجموعی نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے دل میں اسلام رفتہ رفتہ جاگزیں ہوا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان روایات کا خلاصہ پیش کرنے پہلے حضرت عمرؓ کے مزاج اور جذبات واحساسات کی طرف بھی مختصرا ً اشارہ کر دیا جائے۔
حضرت عمرؓ اپنی تند مزاجی اور سخت خوئی کے لیے مشہور تھے۔ مسلمانوں نے طویل عرصے تک ان کے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیلی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں متضاد قسم کے جذبات باہم دست وگریباں تھے۔ چنانچہ ایک طرف تو وہ آباء واجداد کی ایجاد کردہ رسموں کا بڑا احترام کرتے تھے اور بلا نوشی اور لہو لعب کے دلدادہ تھے لیکن دوسری طرف وہ ایمان وعقیدے کی راہ میں مسلمانوں کی پختگی اور مصائب کے سلسلے میں ان کی قوتِ برداشت کو خوشگوار حیرت وپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ پھر ان کے اندر کسی بھی عقلمند آدمی کی طرح شکوک وشبہات کا ایک سلسلہ تھا جو رہ رہ کر ابھرا کرتا تھا کہ اسلام جس بات کی دعوت دے رہا ہے غالباً وہی زیادہ برتر اور پاکیزہ ہے۔ اسی لیے ان کی کیفیت (دم میں ماشہ دم میں تولہ کی سی ) تھی۔ کہ ابھی بھڑکے اور ابھی ڈھیلے پڑ گئے۔
حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے متعلق تمام روایات کا خلاصہ مع جمع وتطبیق یہ ہے کہ ایک رات انہیں گھر سے باہر رات گزارنی پڑی۔ وہ حرم تشریف لائے اور خانۂ کعبہ کے پردے میں گھس گئے۔ اس وقت نبیﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ الحاقہ کی تلاوت فرمارہے تھے۔ حضرت عمرؓ قرآن سننے لگے اور اس کی تالیف پر حیرت زدہ رہ گئے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے...اپنے جی میں... کہا : اللہ کی قسم! یہ تو شاعر ہے جیساکہ قریش کہتے ہیں ، لیکن اتنے میں آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ﴿٤٠﴾ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ ﴿٤١﴾ (۶۹: ۴۰، ۴۱)
''یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے۔ یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔ تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔''
حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے ...اپنے جی میں ...کہا : (اوہو ) یہ تو کاہن ہے لیکن اتنے میں آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٤٢﴾ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٤٣﴾ (۶۹: ۴۲ تا۴۳ )
''یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں۔ تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔'' ''اخیر سورۃ تک ''
حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ اس وقت میرے دل میں اسلام جاگزیں ہو گیا۔( تاریخ عمر بن خطاب لابن الجوزی ص ۶،9-10)
یہ پہلا موقع تھا کہ حضرت عمرؓ کے دل میں اسلام کا بیج پڑا ، لیکن ابھی ان کے اندر جاہلی جذبات ، تقلیدی عصبیت اور آباء واجداد کے دین کی عظمت کے احساس کا چھلکا اتنا مضبوط تھا کہ نہاں خانہ ٔ دل کے اندر مچلنے والی حقیقت کے مغز پر غالب رہا۔ اس لیے وہ اس چھلکے کی تہہ میں چھپے ہوئے شعور کی پرواہ کیے بغیر اپنے اسلام دشمن عمل میں سرگرداں رہے۔
ایک روز خود رسول اللہﷺ کا کام تمام کرنے کی نیت سے تلوار لے کر نکل پڑے لیکن ابھی راستے ہی میں تھے کہ نعیم بن عبد اللہ النحام عدوی سے یا بنی زہرہ یا بنی مخزوم کے کسی آدمی سے ملاقات ہوگئی۔
اس نے تیور دیکھ کر پوچھا : عمر ! کہا ں کا ارادہ ہے ؟
انہوں نے کہا : محمد کو قتل کرنے جارہا ہوں۔
اس نے کہا : محمد کو قتل کرکے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے ؟
حضرت عمرؓ نے کہا : معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو۔
اس نے کہا :عمر ! ایک عجیب بات نہ بتا دوں ؟ تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تمہارا دین چھوڑ کر بے دین ہوچکے ہیں۔
یہ سن کے عمر غصے سے بے قابو ہوگئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا۔ وہاں انہیں حضرت خباب بن ارتؓ سورۂ طہٰ پر مشتمل ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قرآن پڑھانے کے لیے وہاں آنا جانا حضرت خباب ؓکا معمول تھا۔جب حضرت خباب ؓنے حضرت عمرؓ کی آہٹ سنی تو گھر کے اندر چھپ گئے۔ ادھر حضرت عمر ؓ کی بہن فاطمہ ؓ نے صحیفہ چھپا دیا لیکن حضرت عمر ؓ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت خباب ؓ کی قراء ت سن چکے تھے۔ چنانچہ پوچھا کہ یہ کیسی دھیمی دھیمی آواز تھی جو تم لوگوں کے پاس میں نے سنی تھی ؟
انہوں نے کہا کچھ بھی نہیں۔ بس ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
حضرت عمرؓ نے کہا : غالباً تم دونوں بے دین ہوچکے ہو۔
بہنوئی نے کہا: اچھا عمر ! یہ بتاؤ اگر حق تمہارے دین کے بجائے کسی اوردین میں ہو تو ؟
حضرت عمر ؓ کا اتنا سننا تھا کہ اپنے بہنوئی پر چڑھ بیٹھے اور انہیں بری طرح کچل دیا۔ ان کی بہن نے لپک کر انہیں اپنے شوہر سے الگ کیا تو بہن کو ایسا چانٹا مارا کہ چہرہ خون آلودہوگیا۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ ان کے سر میں چوٹ آئی۔
بہن نے جوش غضب میں کہا : عمر ! اگر تیرے دین کے بجائے دوسرا ہی دین برحق ہو تو ؟ أشھد أن لا الٰہ الا اللّٰہ وأشھد أنَّ محمدًا رسول اللّٰہ میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق ِ عبادت نہیں اور میں شہادت دیتی ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
یہ سن کر حضرت عمر ؓ پر مایوسی کے بادل چھا گئے اور انہیں اپنی بہن کے چہرے پر خون دیکھ کر شرم و ندامت بھی محسوس ہوئی۔ کہنے لگے: اچھا یہ کتاب جو تمہارے پاس ہے ذرا مجھے بھی پڑھنے کو دو۔
بہن نے کہا: تم ناپاک ہو۔ اس کتا ب کو صرف پاک لوگ ہی چھوسکتے ہیں۔ اٹھو غسل کرو۔ حضرت عمر ؓ نے اٹھ کر غسل کیا۔ پھر کتاب لی اور پڑھی۔ کہنے لگے: یہ تو بڑے پاکیزہ نام ہیں۔ اس کے بعدسے (
۲۰: ۱۴) تک قراء ت کی۔ کہنے لگے: یہ تو بڑا عمدہ اور بڑا محترم کلام ہے۔ مجھے محمدﷺ کا پتہ بتاؤ !حضرت خباب ؓ حضرت عمر ؓ کے یہ فقرے سن کر اندر سے باہر آگئے۔ کہنے لگے : عمر خوش ہو جاؤ! مجھے امید ہے کہ رسول اللہﷺ نے جمعرات کی رات تمہارے متعلق جو دعا کی تھی ( کہ اے اللہ ! عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعے اسلام کو قوت پہنچا) یہ وہی ہے اور اس وقت رسول اللہﷺ کوہ صفا کے پاس والے مکان میں تشریف فرماہیں۔
یہ سن کر حضرت عمرؓ نے اپنی تلوار حمائل کی اور اس گھر کے پاس آکر دروازے پر دستک دی۔ ایک آدمی نے اٹھ کر دروازے کی دراز سے جھانکا تو دیکھا کہ عمر تلوار حمائل کیے موجود ہیں۔ لپک کر رسول اللہﷺ کو اطلاع دی اور سارے لوگ سمٹ کر یکجا ہوگئے۔ حضرت حمزہؓ نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا : عمر ہیں۔ حضرت حمزہ ؓ نے کہا : بس ! عمر ہے۔ دروازہ کھول دو، اگر وہ خیر کی نیت سے آیا ہے تو اسے ہم عطا کریں گے اور اگر کوئی برا ارادہ لے کر آیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اس کا کام تمام کردیں گے۔ ادھر رسول اللہﷺ اندر تشریف فرما تھے۔ آپ پر وحی نازل ہورہی تھی۔ وحی نازل ہوچکی تو حضرت عمر ؓ کے پاس تشریف لائے۔ بیٹھک میں ان سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے ان کے کپڑے اور تلوار کا پر تلا سمیٹ کر پکڑا اور سختی سے جھٹکتے ہوئے فرمایا : عمر ! کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تعالیٰ تم پر بھی ویسی ہی ذلت ورسوائی اور عبرتناک سزا نازل نہ فرمادے جیسی ولید بن مغیرہ پر نازل ہو چکی ہے ؟
حضرت عمر ؓ نے کہا: أشھد أن لا الہ الا اللّٰہ وأنک رسول اللّٰہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا اللہ کے سوا کوئی لائق ِ عبادت نہیں اور یقینا آپ اللہ کے رسول ہیں )یہ سن کر گھر کے اندر موجود صحابہ ؓ نے اس زور سے تکبیر کہی کہ مسجد الحرام والوں کو سنائی پڑی۔
(تاریخ عمر بن الخطاب ص ۷، ۱۰، ۱۱ ، سیرت ابن ہشام ۱/۳۴۳ تا۳۴۶)

پیر، 26 فروری، 2018

موت اور آخرت کی تیاری کرنے والے ہی ہوشیار اور دور اندیش ہیں



 عَنِ عَبْدُاللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ وَأَحْزَمُ النَّاسِ؟ قَالَ : « أَكْثَرَهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ , وَأَشَدُّهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ , أُولَئِكَ هُمُ الْأَكْيَاسُ ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا وَكَرَامَةِ الْآخِرَةِ » ( رواه الطبرانى فى معجم الصغير )

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ : اے اللہ کے پیغمبر ! بتلائیے کہ آدمیوں میں کون زیادہ ہوشیار اور دور اندیش ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : وہ جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہے ، اور موت کے لئے زیادہ سے زیادہ تیاری کرتا ہے جو لوگ ایسے ہیں وہی دانشمند اور ہوشیار ہیں ، انہوں نے دنیا کی عزت بھی حاصل کی ، اور آخرت کا اعزاز و اکرام بھی ۔ ( معجم صغیر للطبرانی ) 
تشریح :   جب یہ حقیقت ہے کہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے ، جس کے لیے کبھی فنا نہیں ، تو اس میں کیا شبہ کہ دانشمند اور دور اندیش اللہ کے وہی بندے ہیں جو ہمیشہ موت کو پیشِ نظر رکھ کر اس کی تیاری کرتے رہتے ہیں ، اور اس کے برعکس وہ لوگ بڑے ناعاقبت اندیش اور احمق ہیں جنہیں اپنے مرنے کا تو پورا یقین ہے لیکن وہ اس سے اور اس کی تیاریوں سے غافل رہ کر دنیا کی لذتوں میں مصروف اور منہمک رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے حدیث میں اتا ہے .
عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَالْعَاجِزُ ، مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا ، وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ » ( رواه الترمذى وابن ماجه)
ترجمہ : شداد بن اوس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہوشیار اور توانا وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے ، اور موت کے بعد کے لئے ( یعنی آخرت کی نجات و کامیابی کے لئے ) عمل کرے ، اور نادان و ناتواں وہ ہے جو انے کو اپنی خواہشاتِ نفس کا تابع کر دے ( اور بجائے احکامِ خداوندی کے اپنے نفس کے تقاضوں پر چلے ) اور اللہ سے امیدیں باندھے ۔( ترمذی ، ابن ماجہ )
 تشریح :  دنیا میں كَيِّس ( چالاک و ہوشیار اور کامیاب ) وہ سمجھا جاتا ہے ، جو دنیا کمانے میں چست و چالاک ہو ، خوب دونوں ہاتھوں سے دنیا سمیٹتا ہو ، اور جو کرنا چاہے کر سکتا ہو ، اور بے وقوف و ناتواں وہ سمجھا جاتا ہے جو دنیا کمانے میں تیز اور چالاک نہ ہو ۔ اور اہلِ دنیا جو اس دنیوی زندگی ہی کو سب کچھ سجھتے ہیں ، اُن کو ایسا ہی سمجھنا بھی چاہئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بتلایا کہ چونکہ اصل زندگی یہ چند روزہ زندگی نہیں ہے بلکہ آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی ہی اصل زندگی ہے ، اور اُس زندگی میں کامیابی اُن ہی کے لئے ہے جو اس دنیا میں اللہ کی اطاعت اور بندگی والی زندگی گزار دیں ، اس لئے درحقیقت دانشمند اور کامیاب اللہ کے وہ بندے ہیں جو آخرت کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں ، اور جنہوں نے اپنے نفس پر قابو پا کر اس کو اللہ کا مطیع و فرمانبردار بنا رکھا ہے ۔ اور اس کے برعکس جن احمقوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کو نفس کا بندہ بنا لیا ہے ، اور وہ اس دینوی زندگی میں اللہ کے احکام و اوامر کی پابندی کے بجائے اپنے نفس کے تقاضوں پر چلتے ہیں ، اور اس کے باوجود اللہ سے اچھے انجام کی امیدیں باندھتے ہیں ، وہ یقیناً بڑے نادان اور ہمیشہ ناکام رہنے والے ہیں ، خواہ دنیا کمانے میں وہ کتنے ہی چست و چالاک اور پھرتیلے نظر آتے ہوں ، لیکن فی الحقیقت وہ بڑے ناعاقبت اندیش ، کم عقلے اور ناکامیاب و نامراد ہیں ، کہ جو حقیقی اور واقعی زندگی آنے والی ہے اس کی تیاری سے غافل ہیں ، اور نفس پرستی کی زندگی گزارنے کے باوجود اللہ سے خداپرستی والے انجام کی امید رکھتے ہیں ، نادان اتنی موٹی بات نہیں سمجھتے کہ ....
                         گندم از گندم بروید جو ز جواز مکافاتِ عمل غافل مشو
اس حدیث میں ان لوگوں کو خاص آگاہی دی گئی ہے ، جو اپنی عملی زندگی میں اللہ کے احکام اور آخرت کے انجام سے بے پروا اور بے فکر ہو کر اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں ، اور اس کے باوجود اللہ کی رحمت اور اس کے کرم سے امیدیں رکھتے ہیں ، اور جب اللہ کا کوئی بندہ ٹوکتا ہے تو کہتے ہیں اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے ، اس حدیث نے بتلایا کہ ایسے لوگ دھوکے میں ہیں ، اور اُن کا انجام نامرادی ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ رجاء یعنی اللہ سے رحمت اور کرم کی امید وہی محمود ہے جو عمل کے ساتھ ہو ، اور جو امید بے عملی اور بد عملی اور آخرت کی طرف سے بے فکری کے ساتھ ہو ، وہ رجاءِ محمود نہیں ہے بلکہ نفس شیطان کا فریب ہے ۔ ( معارف الحدیث)
طالب دعاء : اکبر حسین اورکزئ

اتوار، 18 فروری، 2018

توحيد


توحيد كا معنى اور اس كى اقسام كيا ہيں
الحمد لله وكفى ، والصلاة والسلام على النبي المصطفى وعلى آله وصحبه وسلم تسليماً كثيراً ، أما بعد 
توحيد كا لغوى معنى:
توحيد لغت عرب ميں وَحَّدَ يُوَحِّدُ فعل كا مصدر ہے اور جب اس كى نسبت اللہ كى وحدانيت كى طرف كى جائے اور اسے ان صفات و ذات ميں شريك ہونے سے انفرادى وصف ديا جائے تو يہ وحدانيت كا وصف كہلاتا ہے، اور شد مبالغہ كے ليے ہے يعنى اللہ كى وحدانيت كا وصف مبالغہ ركھتا ہے.
اور عرب كا قول ہے: واحد و احد و وحيد يعنى وہ منفرد ہے چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى واحد ہے يعنى وہ سب حالات ميں شريكوں سے منفرد ہے.چنانچہ توحيد اس بات كا علم ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى ايك ہے اس كى كوئى نظير نہيں، تو جو كوئى بھى اللہ كا علم اس طرح نہيں ركھتا، يا پھر وہ اسے وحدہ لا شريك كا وصف نہيں ديتا تو وہ اللہ كو ايك نہيں مانتا.
توحيد كى اصطلاحى تعريف: اللہ تعالى كو الوہيت و ربوبيت اور اسماء صفات ميں يكتا و اكيلا ماننا. اور يہ تعريف بھى ممكن ہے: يہ اعتقاد ركھنا كہ اللہ اپنى ربوبيت و الوہيت اور اسماء صفات ميں وحدہ لا شريك ہے.
اس اصطلاح " توحيد " يا اس كے مشتقات كا اس معنى پر دلالت كرنے كے ليے استعمال كتاب و سنت سے ثابت ہے اور كتاب و سنت ميں استعمال كيا گيا ہے، ذيل ميں اس كى چند ايك مثاليں پيش كى جاتى ہيں:
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ. اللَّهُ الصَّمَدُ . لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ. وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ . سورة الاخلاص

آپ كہہ ديجئے كہ وہ اللہ ايك ( ہى ) ہے، اللہ تعالى بے نياز ہے، نہ اس سے كوئى پيدا ہوا نہ وہ كسى سے پيدا ہوا، اور نہ كوئى اس كا ہمسر ہے.
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:
وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ  ١٦٣؀ۧ
﴿ اور تم سب كا معبود ايك ہى ہے، اس كے سوا كوئى معبود برحق نہيں، وہ بہت رحم كرنے والا اور بڑا مہربان ہے ﴾ البقرۃ ( 163 ).
اور ايك مقام پر اللہ رب العزت نے فرمايا:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ  ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ      73؀
﴿ وہ لوگ بھى قطعا كافر ہو گئے جنہوں نے كہا اللہ تعالى تين ميں سے تيسرا ہے، در اصل اللہ كے سوا كوئى معبود نہيں، اگر يہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان ميں سے جو كفر پر رہيں گے انہيں المناك عذاب ضرور پہنچے گا ﴾المآئدۃ ( 73 ).
اس موضوع كے متعلق آيات بہت زيادہ ہيں.
اور صحيح بخارى و مسلم ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں:
"
جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے معاذ بن جبل رضى اللہ تعالى عنہ كو اہل يمن كى طرف بھيجا تو انہيں فرمايا:
"
آپ ايسى قوم كے پاس جا رہے ہيں جو اہل كتاب ہے تم انہيں سب سے پہلے اس كى دعوت دينا كہ وہ اللہ تعالى كى توحيد كا اقرار كريں، جب وہ اس كى پہچان كر ليں تو انہيں بتانا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ان پر دن اور رات ميں پانچ نمازيں فرض كي ہيں، جب وہ نماز ادا كرنے لگيں تو انہيں بتانا كہ اللہ تعالى نے ان پر ان كے اموال ميں زكاۃ فرض كى ہے جو ان كے اغنياء سے لے كر ان كے فقراء كو دى جائيگى، جب وہ اس كا اقرار كر ليں تو ان سے زكاۃ لے لينا، اور لوگوں كے بہترين اورافضل اموال سے اجتناب كرنا "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 7372 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 19 ).
اور صحيح مسلم ميں ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اسلام كى بنياد پانچ اشياء پر ہے: اس پر كہ اللہ كو ايك مانا جائے، اور نماز كى پابندى كى جائے، اور زكاۃ كى ادائيگى كى جائے، اور رمضان المبارك كے روزے ركھے جائيں، اور بيت اللہ كا حج كيا جائے "صحيح مسلم حديث نمبر ( 16 ).
چنانچہ ان سب نصوص ميں توحيد سے مقصود كلمہ طيبہ " لا الہ الا اللہ محمدا رسول اللہ " كے معنى كا اثبات ہے، جو كہ دين اسلام كى حقيقت ہے، جس كے ليے اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كو مبعوث كيا ہے، اس كى دليل يہ ہے كہ يہ اصطلاح اور كلمات مترادفہ كتاب ميں سنت ميں كئى ايك مقام پر وارد ہيں.
ان ميں سے بعض الفاظ تو سابقہ حديث معاذ رضى اللہ تعالى عنہ ميں بيان ہوئے ہيں:
"
كہ تم اہل كتاب كے لوگوں كے پاس جا رہے ہو جب ان كے پاس پہنچو تو انہيں اس كى دعوت دينا كہ وہ يہ گواہى ديں كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ كے رسول ہيں "صحيح بخارى حديث نمبر ( 1496 ).
اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كى روايت ميں ہے:
اسلام كى بنياد پانچ اشياء پر ہے: اس كى گواہى دينا كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم اس كے بندے اور رسول ہيں ".صحيح مسلم حديث نمبر ( 16 ).
تو يہ اس كى دليل ہے كہ كہ كلمہ طيبہ " لا الہ الا اللہ محمدا رسول اللہ " كى حقيقت توحيد ہے، اور يہى وہ اسلام ہے جسے ديكر اللہ تعالى نے اپنے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كو جن و انس كى طرف مبعوث فرمايا، اور يہى وہ دين ہے جس كے بغير اللہ تعالى كسى اور دين اختيار كرنے پر راضى نہيں ہو گا.
اللہ تعالى كا فرمان ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ . ﴿ يقينا اللہ كے ہاں دين صرف اسلام ہے ﴾آل عمران ( 19 ).
اور ايك دوسرے مقام اللہ جل شانہ كا فرمان ہے:وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ .
﴿ اور جو كوئى بھى اسلام كے علاوہ دين اپنائے گا اس كا وہ دين قبول نہيں كيا جائيگا، اور وہ آخرت ميں نقصان اٹھانے والوں ميں سے ہو گا ﴾آل عمران ( 85 ).
جب يہ معلوم ہو گيا تو يہ بھى علم ميں ہونا چاہيے كہ علماء كرام نے توحيد كو تين قسموں ميں تقسيم كيا ہے جو درج ذيل ہيں:
توحيد ربوبيت ، توحيد الوہيت ، توحيد اسماء و صفات
توحيد ربوبيت: اللہ تعالى كو اس كے افعال مثلا خلق اور تدبير اور زندہ كرنے اور مارنے روزى دينے وغيرہ افعال ميں يكتا ماننا.
اس توحيد كے كتاب و سنت ميں بہت دلائل پائے جاتے ہيں.

لہذا اگر كسى نے يہ اعتقاد ركھا كہ اللہ كے علاوہ اور بھى كوئى خالق ہے، يا مالك ہے يا روزى رساں ہے، يا اللہ كے علاوہ كوئى اور اس جہان ميں تصرف كرنے والا ہے تو اس نے توحيد كى اس قسم ميں خلل پيدا كيا اور اللہ كے ساتھ كفر كيا.
كيونكہ پہلے دور كے كفار اور مشركين مكہ بھى اس توحيد كا اجمالى طور پر اقرار كرتے تھے، اگرچہ وہ اس كى بعض تفصيل ميں مخالفت بھى كرتے تھے، اس كے اقرار كى دليل بہت سارى آيات ميں پائى جاتى ہے جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:
فرمان بارى تعالى ہے: وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ
﴿ اور اگر آپ ان سے يہ سوال كريں كہ آسمان و زمين كو كس نے پيدا كيا، اور سورج اور چاند كو كس نے مسخر كيا ؟ تو البتہ وہ ضرور يہ كہينگے اللہ نے، تو وہ كدھر الٹے جا رہے ہيں ﴾ العنكبوت ( 61 ).
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:
وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
﴿ اور اگر آپ ان سے دريافت كريں كہ آسمان نے پانى كس نے نازل كيا اور اس سے زمين كو بنجر ہونے كے بعد زندہ كس نے كيا ؟ تو وہ ضرور كہينگے اللہ نے، آپ كہہ ديں سب تعريفات اللہ ہى كى ہيں، بلكہ ان ميں اكثر عقل نہيں ركھتے ﴾العنكبوت ( 63 ).
اور ايك مقام پر رب العزت كا فرمان اس طرح ہے:   وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ
﴿ اور اگر آپ ان سے دريافت كريں كہ انہيں كس نے پيدا كيا ہے ؟ تو وہ ضرور كہينگے اللہ نے، پھر وہ كدھر الٹے جا رہے ہيں ﴾ الزخرف ( 87 ).
ان آيات ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے بيان فرمايا ہے كہ كفار بھى اس كا اقرار كرتے تھے كہ اللہ تعالى خالق و مالك اور مدبر ہے، ليكن اس كے باوجود انہوں نے عبادت ميں اللہ كى توحيد كا انكار كيا جو ان كے عظيم ظلم اور شديد بہتان اور ضعف عقل كى دليل تھى، كيونكہ ان صفات كا مالك اور ان افعال ميں انفراديت ركھنے والے كى ہى عبادت كرنى چاہيے، اور اس كے علاوہ كسى اور كى عبادت نہ ہو، اور صرف اس اللہ كو ہى يكتا و تنہا اور ايك مانا جائے، اللہ سبحانہ و تعالى پاك اور بلند و بالا ہے اس سے جو وہ شرك كرتے ہيں.
اس ليے جو كوئى بھى توحيد ربوبيت كا صحيح اقرار كرتا ہو اس كے ليے ضرورى ہے كہ وہ توحيد الوہيت كا بھى اقرار كرے.
توحيد الوہيت :  يہ ہے كہ اللہ تعالى كو ہر قسم كى ظاہرى اور باطنى قولى و عملى عبادت ميں يكتا و اكيلا مانا جائے، اور اللہ كے سوا باقى سب كى عبادت كى نفى كى جائے چاہے وہ كوئى بھى ہو، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ
﴿ اور تيرا پروردگار صاف صاف حكم دے چكا ہے كہ تم اس كے سوا كسى اور كى عبادت نہ كرنا ﴾الاسراء ( 23 ).
اور ايك مقام پر رب العزت كا فرمان ہے: وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا
﴿ اور اللہ تعالى كى عبادت كرو اور اس كے ساتھ كسى كو شريك نہ كرو ﴾النساء ( 36 ).
اور اسے توحيد اللہ افعال العباد كہنا بھى ممكن ہے، اور اسے توحيد الوہيت كا نام بھى ديا جاتا ہے،كيونكہ يہ اللہ كى عبادت اور اسے الہ معبود تسليم كرنے پر مبنى ہے، كہ اللہ كى عبادت محبت و تعظيم كے ساتھ كى جائے.
اور اسے توحيد عبادت بھى كہا جاتا ہے:كيونكہ بندہ اللہ تعالى كے احكام كى ادائيگى اور ممنوعات سے اجتناب كرتے ہوئے اللہ كى عبادت كرتا ہے. اور اسے توحيد طلب اور قصد و ارادہ كا نام بھى ديا جاتا ہے؛ كيونكہ بندہ كا مقصد و ارادہ اللہ كى رضامندى و خوشنودى ہے اور خالصتا اللہ كى رضا طلب كرتے ہوئے خالص اسى كى عبادت كرتا ہے. يہى وہ قسم اور نوع ہے جس ميں خلل پايا جاتا ہے، اور اسى توحيد الوہيت كى بنا پر اللہ سبحانہ و تعالى نے رسول مبعوث كيے اور كتابيں نازل فرمائيں، اور اسى كى وجہ سے مخلوقات پيدا كى گئيں، اور شريعت بنائى گئيں، اور يہى وہ توحيد الوہيت ہے جس ميں انبياء اور ان كى قوموں كے درميان جھگڑا ہو، اور مخالفت كرنے والے ہلاك كر ديے گئے اور مومنوں كو نجات حاصل ہوئى. اس ليے جس نے بھى اس توحيد الوہيت ميں خلل پيدا كيا اور كسى بھى قسم كى عبادت اللہ كے علاوہ كسى اور كے ليے جائز سمجھا تو وہ ملت اسلاميہ سے خارج ہو گيا اور فتنہ ميں پڑ گيا اور سيدھى راہ سے بھٹك گيا، اللہ تعالى ہميں سلامت و محفوظ ركھے.
توحيد اسماء و صفات : يہ ہے كہ،  اللہ كے اسماء و صفات ميں اللہ كو يكتا و تنہا مانا جائے، اس ليے بندے كو يہ اعتقاد ركھنا چاہيے كہ اللہ تعالى كے اسماء و صفات ميں اس كا كوئى مثل نہيں، يہ توحيد دو اساسى اشياء پر مبنى ہے:
پہلى اساس: اثبات،يعنى اسماء حسنى اور صفات على ميں سے جسے اللہ تعالى نے اپنے ليے ثابت كيا ہے، يا پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ كے ثابت كيا ہے اسے بغير كسى تشبيہ و مثال كے اسى طرح ثابت كيا جائے جس طرح اللہ كے شايان شان ہے، اور اس كے معانى ميں كسى بھى قسم كى تحريف و تاويل نہ كى جائے اور نہ ہى اس كے حقائق كو معطل كيا جائے اور نہ ہى اس كى كيفيت بيان كى جائے.
دوسرى اساس: تنزيہ، كہ اللہ سبحانہ و تعالى كو ہر قسم كے عيب سے منزہ و پاك مانا جائے، اور ان صفات نقص كى اللہ سے نفى كى جائے جن كى اللہ نے خود نفى كى ہے، اس كى دليل درج ذيل فرمان بارى تعالى ہے:لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ .  
اس كى مثل كوئى چيز نہيں، اور وہ سميع و بصير ہے  (سورۃ شوری     11) .
يہاں اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے آپ كو مخلوق كى مماثلت سے منزہ كيا ہے، اور اپنے ليے صفات كمال ثابت كى ہيں جس طرح اللہ كے شايان شان ہيں.      واللہ اعلم .

                                        خیر اندیش : اکبرحسین اورکزئی

جمعہ، 2 فروری، 2018

اصلاح معاشرہ کی ضرورت


اسلامي تعليمات كا بنيادي مقصد معاشرے كي اصلاح هے اور اصلاح بهي اس طرح كه تمام انسانوں کی مابین اخوت ھو ايك دوسري كا احترام هو اور امن و امان كي زندگي بسر كريں اور اس طرح بسر كريں كه اخلاق كا دامن هاتهـ سے نه چهوٹے اور آخرت كي لامتناهي زندگي كے لیے اخلاق و تقوى كے ساتهـ تياري كريں تا كه الله ان سے راضي هو اور یه بنيادي مقصد تب هي حاصل هوسكتا هے که هم الله تعالي كے حكم كے مطابق آپ صلى الله عليه وسل كے اسوه حسنه كي پيروي كريں اوريه معلوم كريں كه آپ صلى الله عليه وسلم نے معاشرے كی اصلاح كس طرح فرمائي تهي , اور يه عقيده ركهيں كه هميں اس دنيا ميں كسي دوسرے مفكر , مصلح اور فلسفي رهبر كي ضرورت نهيں هے كيونكه ايك مسلمان كے سامنے هر كام كي غايت الله تعالي كي رضا هے اور قرآن كريم ميں هميں واضح طورپر يه حكم هے كه الله كي رضا اور خوشنودي صرف رسول الله صلى الله عليه وسلم كي اطاعت اور پيروي هي سے حاصل هوسكتي هے , بلكه الله تبارك وتعالى نے هم سے يه وعده كيا هے كه اگر تم الله كے رسول كي پيروي كروگے تو الله تعالى تم سے محبت كرے گا , فكر كا مقام هے كه كسي مسلمان كے لیے اس بڑهكر اوركيا مرتبه هوسكتا هے كه خود الله تعالى اس سے محبت كرنے لگے, چنانچه ارشاد باری تعالي هے قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾ ال عمران

(اے پیغمبرلوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے . ال عمران
اس آیت نے تمام دعوے داران محبت کے لئے ایک کسوٹی اور معیار مہیا کر دیا ہے کہ محبت الہی کا طالب اگر اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر تو یقینا وہ کامیاب ہے اور اپنے دعوی میں سچا ہے ورنہ وہ جھوٹا بھی ہے اور اس مقصد کے حصول میں ناکام بھی رہے گا.
اس تمہید سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اصلاح معاشرہ کے لیے بھی ہمیں رسول صلى الله عليه وسلم کا ہی اتباع کرنا ہوگا اور آپ ہی کی بتائی ہوئی راہ پر چلنا ہوگا اور آپ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنا ہوگا، ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے آخری رسول کی پوری زندگی کا ریکارڈ ہمارے اسلاف نے ہمارے لیے جمع کردیا ہے , معاشره كے اصلاح كے لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي كاميابي دنيا كي تاريخ كا سب سے بڑا اور اهم واقعه هے, کیا اپ نھیں دیکھتے که عرب کے باشندے غير تعليم يافته اور مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے، جہالت و سرکشی نے انہیں ایسے اوصاف سے بھی محروم کردیا تھا کہ جو تمام انسانوں کے لیے تو کیا خود ان کے لیے ہی ایک پر امن معاشرہ مہیا کرتا , ايسے معاشرے ميں جهاں اندھيرے هي اندھيرے تھے الله ذوالجلال نے انهي ميں سے رسول بهيجا اور اس كي ذمه یہ کام لگایا کہ معاشرے کو برائیوں سے پاک کریں اور اس طرح اصلاح کریں کہ وہ دنیا کا مثالی معاشرہ بن جائے اور افراد معاشرہ دنیا کی بہترین افراد بن جائیں , جيسا كه ارشاد باري تعالي هے
ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾ الجمعة
وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے (محمد کو) پیغمبر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور انہیں (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے ۔
رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے
دو بنیادی اصولوں پر عمل کیا، ایک تو یہ کہ آپ نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی، جس پر آپ خود عمل نہ فرماتے ہوں،
دوم جو شريعت اور احكام آپ صلى الله علي وسلم پر الله كي طرف نازل هوۓ اس پر مكمل خود عمل كر ديكهايا اور بلا تفريق تمام معاشرے ميں پهلايا تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے قول و فعل میں کبھی تضاد نہ تھا، جو فرماتے تھے خود اس پر عمل فرماتے تھے۔
اب يه بات روز روشن كي طرح واضح هوگئ كه معاشرے كي اصلاح كے ليے جو بهي كوشش كي جائے وه اس وقت تك كامياب هي نهيں هوسكتا جب تك اصلاح كرنے والا خود اس پر عمل نه كرتا هو , كيا آپ يه نهیں ديكهتے كه آج هماره معاشره كيوں مشكلات كا شكار هے هر طرف ناانصافي اور ظلم كا بازار گرم هے يهي وجه هے كه همارے حكمران كهتے كچهـ اور كرتے كچهـ هيں آئين كي بات تو كرتے هيں مگر اس پر خود انكا عمل نهيں , غريب كيلۓ قانون اور خود حكمرانون كيلۓ قانون واجب العمل نهيں لوگوں كو نصيحتين كرتے هيں روشنياں دكهاتے هيں محبت كا سبق پڑهاتے هيں خود غريبوں پر رحم سے عاري هيں, عقل و دانائي كي بنياد پر شاندار عمارتيں كهڑي كرتے هيں ليكن معاشرے پر ان كا كوئي اثر نهيں پڑتا , يه هے هماره معاشره كيا اسلامي تعليمات يهي تهي ؟ آج هم کہاں کھڑے ہیں؟ كيا هم خود اس ناقص معاشرے كي ذمدار نهيں ؟ هم نے خود اپنے آپ كو اس هلاكت ميں ڈالا هے , ھمیں قرآن کریم نے اس بات سے منع كيا تھاكه هم خود اپنے آپ كو هلاكت ميں نه ڈاليں جيسا كه ارشاد باري تعالى هے .. ( وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚۖۛ ) البقرة 195 ترجمہ: اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو . البقرة .
احکام الہی کی رو سے انسان کو اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا منع ہے، مگر ہم نے اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن و سنت سے صرف نظر کرکے خود کو، اور پوری ملت پاکستانیہ کو اس راہ پر ڈالے رکھا جو صرف ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے، چنانچہ آج حال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر قسم کے رذائل سرایت کرچکے ہیں، حد یہ ہے کہ عزت اور جان بھی اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں خطرے میں رہتی ہے،
ايك شاعر كهتا هے
اب درندو سے نه حيوانوں سے ڈر لگتا هے
                          كيا زمانه هے كه انسانون سے ڈر لگتاهے
عزت نفس كسي شخص كي محفوظ نهيں
                        اب تو اپنے نهگبانوں سے ڈر لگتا هے
خونريزي كا يه عالم هے كه الله خير كرے
                        اب مسلمانوں كو مسلماں سے ڈر لگتا هے
اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اصلاح معاشرہ کی کوشش نہ ہورہی ہو، سیاست دان اصلاح کی تلقین کرتے رہتے هيں ، وعظ و تبلیغ کا ایک سلسلہ ہے جو قیام پاکستان کے بعد سے برابر جاري ہے، مسجدوں کے امام ہر جمعہ کو لوگوں کو اچھا بننے کی تلقین بھی کرتے رہتے ہیں، لیکن ان تمام کوششوں کا بظاہر کوئی مثبت نتیجہ نظر نہیں آتا, اورغالباً اس کی بہت بڑی وجہ اس كے علاوه اور کیاهوسكتا ہے كه هم جو كهتے هيں وه كرتے نهيں اور جس بات كا ترك كرنے كو كهتے هيں خود اسےچھوڑتے نهيں, اصلاح كا يه طريقه سنت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف ہے، اس لیے یه کبھی بر آور نہیں ہوسکتا۔ اسلام میں اصلاح معاشرہ اور پائیدار معاشرے کا ایک اھم بنیادی نکتہ یہ ہے كه آپ كے قول و فعل ميں تضاد نه هوں , ديكهئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اوائل زندگی ہی سے سچائی اور راست بازی پر سختی کے ساتھ عمل کیا اور مسلمانوں کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرتے رہے، خود آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور صحابه كرام کو بھی اس رذیل ترین فعل سے احتراز کرنے کی تاکید فرماتے رہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ وصف بعثت سے قبل بھی اس قدر نمایاں تھا کہ کفار و مشرکین بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو صادق اور امین مانتے تھے۔ اسي ليے قرآن كريم نے هميں دعوت دي كه { لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ } یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ( زندگي) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے . الاحزاب 21
قرآن كريم كي اس آيت كريمه نے واضح كرديا كه تمهاري لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي زندگي ایك بهترين نمونه هے , مطلب كيا
اگر آپ حكمران هيں : تو تمهارے لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي زندگي ایك بهترين نمونه هے .
اگر آپ سپاه سالار هيں : تو تمهارے لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي زندگي ایك بهترين نمونه هے .
اگر آپ خطيب اور امام مسجد هيں : تو تمهارے لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي زندگي ایك بهترين نمونه هے .
اگر باپ هيں : تو تمهارے لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي زندگي ایك بهترين نمونه هے .
اگر آپ خاوند هيں : تو تمهارے لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي زندگي ایك بهترين نمونه هے .
اگر آپ ايك عام انسان عام شهري هيں : تو تمهارے لیے آپ صلى الله عليه وسلم كي زندگي ایك بهترين نمونه هے .
ليكن افسوس كے ساتهـ كهنا پڑ رها هے كه آج هم دعوى اسلام كا كرتے هيں, تلاوت كلام پاك بهي كرتے هيں, قرآن كو الله كا كتاب بهي مانتے هيں, اور اسے مکمل الله کا قانون بھی مانتے ھیں اور یه بھی مانتے ھیں که ھماري اسلاف نے اسی کتاب الله پر فیصلے کیۓ ان کا ملکی نظام بهي يهي قرآن تها , اورآج هم اپني مشكلات كا حل كسي اور نظام كے ترو تلاش كرتے هيں تو همارے قول اور فعل مين تضاد هے لهذا هميں صحيح معاشره هاتهـ نهيں آرها كل سے آج برا اور آج سے كل برا هوگا , اسي لئے پاکستان کا معاشرہ کئی قسم کی برائیوں میں مبتلا ہے، ذخیرہ اندوزی، چیزوں میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، آپس ہی میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش، لوٹ مار، ڈاکا، انسانوں کا اغوا اور قتل و غارت، وعدہ خلافی، خیانت اور بددیانتی، چغل خوری، بہتان اور غیبت، رشوت اور جوا اور سود،اب سوال یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کیوں کر ہو؟
اس كا جواب اس كے علاوه اور كيا هوسكتا هے كه هم سب اور بالخصوص سربراہان معاشرہ اپنے کردار کو درست کریں , اور ان گناهوں سے اجتناب كريں جسے هميں الله اور اس كے رسول صلى الله عليه وسلم نے منع فرمايا هے اور برائی کو چھوڑنے کی کوشش کریں تو معاشرہ بتدریج انشاءاﷲ اصلاح کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔ آئیے اب رفعت خلق کی بلندی اخلاق کا تجربہ کرلیں اور اس حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ صرف اخلاق کی اچھائی سے ہم معاشرے کی اصلاح کرسکتے ہیں اور پاکستان کو صحیح معنی میں پاکستان بناسکتے ہیں۔
دعا ہے کہ ا ﷲ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اور اپنے ملک کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمين
طالب دعاء : اكبر حسين اوركزئي

پیر، 29 جنوری، 2018

اتفاق کی اہمیت اور اختلاف کی مذمت


عَنْ أَبِیْ مُوْسٰیؓ عَنِ النَّبِیِّ   قَالَ: اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کاَلْبُنْیاَنِ یَشُدُّ بَعْضه بَعْضاً، ثُمَّ شَبکَ بَیْنَ أَصاَبِعه ۔‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ/ص :۴۲۲/باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/ الفصل الأول)
ترجمہ  :   حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓنے رحمت عالم   صلی اللہ علیہ و سلم  سے روایت نقل فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے ارشاد فرمایا: ’’(ایک) مسلمان (دوسرے )مسلمان کے لیے ایک مکان (اور اس کی دیوار) کے مانند ہے، جس کا بعض (ایک حصہ) بعض (دوسرے حصہ)کو مضبوط رکھتا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمایا ۔
کائنات کا نظام انسانوں کے آپسی اتفاق سے چلتا ہے   : رب کریم کی سجائی ہوئی، بسائی ہوئی اور بنائی ہوئی اس کائنات کے نظام میں ذرا غور کیا جائے تو کسی بھی سمجھدارپر اتفاق کی اہمیت اور اختلاف کی مذمت واضح ہو سکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ یہ دنیا چوںکہ دار الاسباب ہے، اس لیے اسباب کے تحت کائنات کا تمام ہی نظم و نظام اور ضبط و انتظام انسانوں کے آپسی تعاون و تنا صر اور اتفاق و اشتراک سے چلتا ہے، اس دنیا میں ایک شخص خواہ وہ کتنا ہی دانش مند اور دولت مند کیوں نہ ہو ؟ مگر وہ اپنی ساری ضروریات ِ زندگی اکیلا اور تنِ تنہا پوری نہیں کر سکتا، کیا بڑا، کیا چھوٹا، کیا عامی، کیا نامی، کیا پڑھا لکھا، کیا ان پڑھ،کیا امیر، کیا غریب،کیا گورا ،کیا کالا ،کیا لال ،کیا پیلا ،کیا عربی، کیا عجمی، کیا شہری، کیا دیہاتی ،بلا تخصیص ہر ایک کو قدم قدم پر دوسرے کے سہارے اور ساتھ کی ضرورت پڑتی ہے،رعایا کو بادشاہ چاہیے تو بادشاہ سلامت کو رعایا،پبلک لیڈر کے بغیر اگرلا وارث ہے تو خود لیڈر صاحب بھی لوگوں کے بغیر،بغیر بارات کے دولہا ہیں،مزدوروں کو امیروں اور سیٹھوں کی حاجت و ضرورت ہے تو امیروں کے کام بھی ان کے ملازموں کے بغیر رکے ہوئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج اگر یہ بھنگی،دھوبی،باورچی،موچی،اور منشی یا دیگر ملازمین اپنے اپنے کام کاج چھوڑ کر ہڑتال پر اتر آئیں تب دیکھئے گا کہ منشی صاحب،ڈپٹی صاحب، کلیکٹر صاحب، پروفیسراور ڈاکٹر صاحب،انجینئر اور ایڈوکیٹ کی کیا گت بن کر رہتی ہے، مختصریہ ہے کہ اُن کے کام ان سے وابستہ ہیں، تو اِن کی ضرورتوں کی زنجیر اُن کے دامن سے بندھی ہوئی ہے،اس طرح ربِّ کریم کی جانب سے کائنات کا یہ سارا نظام ایک دوسرے کے تعاون اور اتفاق و اتحاد سے چلتا ہے۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                          
اتفاق کا اصل مرکز دین ہے  : اس لیے نظامِ کائنات کی بقا اور انسانوں کی صلاح و فلاح کے لیے آپسی اتفاق اور اتحاد نہایت اہم و ضروری ہے۔ پھر اس کائنات میں اگرکوئی نیک جذبہ یا صحیح واسطہ ایسا ہوسکتا ہے جو تمام ہی انسانوں کو رنگ و نسل کے امتیاز اور زبان و ذات کے اختلافات سے نجات دلا کر ہر ایک کو اتفاق اور اتحاد کی لڑی میں پرو سکتا ہے تو بلا شبہ وہ دین حق یعنی اسلام ہی ہے، قرآن کہتا ہے کہ تم سب کا دین تو ایک ہی ہے،فرمایا:           { وَ إِنَّ ھٰذِہٖ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَّاحِدَۃً } (المومنون : ۵۲ )  اور حقیقت یہ ہے کہ یہی تمہارادین ہے (سب کے لیے) ایک ہی دین۔اورجب سب کا دین ایک ہے تو صاف ہو گیا کہ سب کے اتفاق کا اصل مرکز بھی دین ہی ہے، اس لیے حکم یہ ہے کہ        { وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَتَفَرَّقُوْا} (آل عمران : ۱۰۳)اللہ کی رسی یعنی دین کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور اختلاف پیدا نہ کرو۔ آیتِ کریمہ میں ’’جَمِیْعًا‘‘ کی قید لگائی، اس کا مطلب یہ ہے کہ دین تو سب کا ایک ہی ہے، اس لیے دینی و اسلامی اصولوں پر سب مل کر جمع ہو جائو، اور انفرادی زندگی میں اپنے مفاد سے بڑھ کر دوسرے کے مفاد کا خیال کرو، اس کی برکت سے تم میں جمعیت اور اجتماعیت خود بخود پیدا ہو جائے گی، اس کے بغیر اتحاد مشکل ہے،شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے کہا ہے :     فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں *  موج ہے دریا میں، بیرونِ دریا کچھ نہیں
 حضراتِ صحابہؓ    کا اتفاقِ باہمی دین اسلام کے سبب تھا   :   حیاۃ الصحابہ سے دنیا و انسانیت کو یہی درس ہدایت ملتا ہے، جب صحابۂ کرامؓ کی زندگی میں دین نہیں تھا تو ہر طبقہ میں شدید اختلاف اور انتشار تھا،تاریخ اسلام کا ہر طالب علم اس سے بخوبی واقف ہے، لیکن جب ان کی زندگی میں دین آیا اور صحابہؓ  اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم  کی دعوت و تر بیت سے دین پرجمے، تو ان کے ما بین اتفاق و اتحاد اور اجتماعیت و اخوت کی ایسی عمومی فضا قائم ہوگئی کہ مختلف علاقوں میں رہنے والے،مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے،مختلف حیثیتوں اور زبانوں والے قرنِ اوّل کے تمام ہی مسلمان یک جسم وجان اور باہم شیر و شکر ہوگئے،خود قرآن نے اس کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:{ فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ إِخْواَناً } ( آل عمران : ۱۰۳)                                                                                            پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑدیا او رتم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ دربار رسالت میں سیدنا بلال حبشی ؓ تھے، سیدنا صہیب ؓ رومی تھے، سیدنا سلمان فارسی ؓ تھے، سیدنا عداس نینوائیؓ تھے، سیدنا ابو ذر غفاریؓ تھے، سیدنا طفیل دوسیؓ تھے، سیدنا حذیفہ سہمیؓ تھے، سیدنا ابو سفیان امویؓ تھے، سیدنا عدی طائیؓ تھے، انصار بھی تھے، مہاجر بھی،جو کچھ بھی تھے،مگر سب نیک اور ایک تھے، اور{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ } (الحجرات: ۱۰) (بلاشبہ تمام مومن بھائی بھائی ہیں)کی حقیقی،عملی اورسچی تفسیر تھے،اللہ کی قسم ! صحابہ کرامؓ کے پاکیزہ سماج میں جو اتفاق اور اخوت تھی پوری انسانی تاریخ میں کہیں اس کی مثال نہ ملتی ہے اور نہ ملے گی ۔
ایک  ہدایت آموز واقعہ   :   چنانچہ ہجرت کے بعد رحمت عالم  صلی اللہ علیہ و سلم نے اتفاق کی اہمیت کے پیش نظر مہاجرینؓ اور انصارؓ میں مواخات قائم فرمائی، تاریخ انسانی میںیہ ایسا عدیم النظیر واقعہ ہے جس میں تمام انسانوں کے لیے عموماً اور مسلمانوں کے لیے خصوصاًسامانِ عبرت ہے، اس سلسلہ کا ایک ہدایت آموز واقعہ یہ ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ  کا بھائی چارہ حضرت سعدؓ بن ربیع سے ہوا، اِن کے آپس میں اخوت قائم ہوجانے کے بعد حضرت سعدؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ سے فرمایا :  ’’ ایْ أَخِیْ! أَناَ أَکْثَرُ أَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ ماَلاً، فَانْظُرْ شَطْرَ ماَلِیْ، فَخُذْہٗ، وَتَحْتِیْ امْرَأَتاَنِ، فَانْظُرْ أَیَّتُھُماَ أَعْجَبُ إِلَیْکَ، حَتّٰی أُطَلِّقَھاَ۔‘‘       اے میرے بھائی! میں مدینہ منورہ میں الحمد للہ سب سے زیادہ مالدار ہوں، لہٰذا دیکھ لو اور اپنی پسند کا میرا آدھا مال لے لو، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری دو بیویاں ہیں، جن کے ساتھ زندگی خوشی خوشی بسر ہو رہی ہے،لیکن تم میرے ایمانی بھائی ہو اور اب تک بغیر بیوی کے زندگی بسر کر رہے ہو، اس لیے دیکھو،میری دو بیویوں میں سے جو پسند ہو میں اسے طلاق دے دوںگا،پھر عدت کے بعد تم اس سے شادی کر لینا،سبحان اللہ !کیا ایثار اور اخوت تھی؟ لیکن حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کی غیور طبیعت نے اس پیش کش کو قبول نہ کیا،فرمایا:’’ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْ أَھْلِکَ وَ ماَلِکَ، دُلُّوْنِیْ عَلیٰ السُّوْقِ۔‘‘ (حیاۃ الصحابۃ : ۱/۳۶۳) جزاکم اللّٰہ خیرا فی الدارین  . اللہ تعالیٰ تمہارے اہل و عیال اور مال و منال میں بہت ہی زیادہ برکتیں عطافرمائے، آمین۔
آپ مجھے صرف بازار کا راستہ بتلا دیجئے، آگے اللہ تعالیٰ مالک ہے، تو حضرت سعد ؓ نے بے تکلف ان کی رہبری فرمائی،اس کے بعد حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے بازار جا کر خریدو فروخت شروع کر دی،اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ انہیں تجارت میں اتنا نفع ہوا کہ کچھ ہی عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو مال بھی دیا اور شادی بھی کرا دی، ان کی تجارت میں برکت کا حال خود ہی فرماتے ہیں کہ اگر میں کوئی پتھر بھی اٹھاتا تو مجھے اس سے سونا چاندی حاصل ہونے کی امید ہوتی ۔امت مسلمہ ایک وجود بن جائے تو کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا   صاحبو ! یہی تو ایمان اور ایمانی زندگی کی خاصیت ہے،اس سے اجتماعیت بھی نصیب ہوگی اور برکت بھی، حضرات صحابہؓ نے ایمان کے بعد اپنی عملی زندگی سے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان جہاں اور جیسا بھی ہو،جس رنگ و نسل سے بھی تعلق رکھتا ہو، لیکن مومن ہونے کی حیثیت سے وہ دوسرے مومن کا بھائی ہے،اور ساری امت مسلمہ ملت اسلامیہ کے توسط سے مربوط او رمضبوط رشتہ میں بندھی ہوئی ہے،یہی وجہ ہے کہ حدیث پاک میں امت مسلمہ کو ایک مضبوط عمارت اور  دیوارسے تشبیہ دی گئی: ’’ اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کاَلْبُنْیاَنِ۔‘‘ علماء نے فرمایا کہ یہ حدیث آیت کریمہ { کَأَنَّھُمْ بُنْیَانٌ مَرْصُوْصٌ} (الصف:۴(ایمان والے سیسہ پلائی ہوئی دیوا رکی طرح ہیں) کی تفسیر ہے۔  مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے جو تعلق ہوتا ہے،اس کی مثال ایک مضبوط عمارت کے مانند ہے، جس کے مختلف حصے باہم مل کر مضبوط ہو جاتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھائیں،گویا مسلمان کے آپسی تعلق کو مضبوط مکان کے ساتھ تشبیہ دے کر اتفاق کی اہمیت اور اختلاف کی نحوست کو حدیث مذکور میں بہترین انداز سے سمجھایا گیا،کہ جس طرح مکان کے مختلف اجزاء اور حصے اینٹ،لوہا، لکڑی وغیرہ ایک دوسرے سے جڑ کر ایک مضبوط اورپختہ عمارت بن سکتی ہے، مسلمانوں کے بھی مختلف افراد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک مضبوط جماعت بن سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہواکہ ان کی قوت جمعیت میں ہے، انفرادیت میں نہیں،ورنہ جیسے تعمیر ِ مکان سے پہلے جب اس کے مختلف اجزا ء ایک دوسرے سے علاحدہ تھے،تو حال یہ تھا کہ اینٹوں کا ڈھیر پڑا ہے، الگ الگ انیٹیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں، لیکن اس کے باوجود گلی کا معمولی لڑکا بھی ایک اینٹ دوسری اینٹ سے ٹکرا دیتا ہے، لاتعداد اینٹیں بھی اس بے حیثیت لڑکے کے سامنے بے دست وپا ہوتی ہیں،ایسے ہی لوہا اپنی ذات سے کتنا ہی مضبوط سہی،لیکن یہ کسی جگہ الگ سے یونہی پڑا ہواہو تو ایک کمزور شخص بھی اسے چرا سکتا ہے، یہی حال لکڑی کا بھی ہے، مگر جب یہی اینٹیں، لوہا اور لکڑی باہم مل جل کر ایک مضبوط عمارت بن جائیں تو اب بڑی سے بڑی  جماعت مل کر بھی اسے دھکا دے تو ایک اینٹ بھی نہیں ہل سکتی، ٹھیک یہی حالت امت مسلمہ کی ہے، یہ امت مختلف افراد کے مجموعہ سے بنی ہے،اس حقیقت کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مثال دیتے ہوئے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھلایا، جس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر ان میں اتفاق اور جمعیت نہیں،تو پھر اس کے افراد اپنی اپنی جگہ کتنی ہی صلاحیت اور حیثیت کے مالک ہوں،مگر ایک بے حیثیت شخص بھی ان کو آپس میں ٹکرا سکتا ہے،کمزور سے کمزور شخص بھی ان کے ایمان، اعمال اور اخلاق کو برباد کر سکتا ہے،لیکن جب  ایک دوسرے سے مل کر حلال امور اور معاملات میں اتفاق کرکے امت مسلمہ ایک وجود بن جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اور حکومت اپنی اکثریت کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی ۔پستی اور ذلت کا سبب اختلافِ باہمی ہے  :         ہماری تاریخ شاہد ہے کہ جب ہمارے ایمان میں قوت اور آپس میں اخوت اورصبر و استقامت کا وصف تھاتو ہم دنیا پر چھائے ہوئے تھے، کامیابی ہمارے قدم چومتی تھی، ہم اقلیت میں تھے تب بھی دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی ہمیں شکست نہ دے سکی، بدر کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے، لیکن جب سے ہم میں اختلاف پیدا ہوااور ہم نے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا شروع کیا،تو ہماری جمعیت اور قوت ختم ہو کر ہوا اکھڑ گئی، قرآن نے سمجھایا تھا: {وَلاَتَناَزَعُوْا فَتَفْشَلُْوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ } (الأنفال : ۴۱) کہ اختلاف اور جھگڑا نہ کرنا، ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔(تمہارا رعب و دبدبہ جاتا رہے گا)  افسوس! قرآن کی اس ہدایت کو ہم سمجھ نہ سکے،یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج امت کے ہر طبقہ میں اختلاف اور انتشار کا بول بالا ہونے کی وجہ سے ہمیں قدم قدم پر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،آج جب کوئی قومی و ملی تحریک چلانے کا مسئلہ آتا ہے تو بد قسمتی سے باطل پرستوں سے پہلے ہی آپسی اختلاف اور مسلکی تفریق ہمیں کچل دیتی ہے اور ہماری صلاحیتیں کالعدم ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ہمیں  اپنوں ہی نے لوٹا، غیروں میں کیا دم تھا؟میری کشتی وہیںڈوبی جہاں پانی بہت کم تھا            اور اسی پر بس نہیں، مزید ستم یہ ہے کہ ہمارا جو سرمایہ کفر و شرک،الحاد ومنکرات اور خرافات وبدعات کے خلاف لگنا چاہیے تھا اب وہ ہمارے آپسی اختلاف کے سبب امت مسلمہ پر لگ رہا ہے، ہم نے اپنی توپ وٹینک کے دہانے اپنوں ہی پر کھول دیے ۔     افسوس! کہ کفار تو مسلمانوں کو ایک ہی گروہ سمجھتے ہیں، مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم  اپنے علاوہ دوسرے گروہ کو مسلمان سمجھنے کے لیے تیار نہیں، الا ما شاء اللہ۔اب دوستوں نے فریب دیا تو کیا ہوا؟
٭ یہ  حادثے ہم  پہ کئی  بار  ہو گئے . ٭   اب کیا گرائے گی ہمیں دنیا نگاہ سے ٭  اتنے ہوئے ذلیل کہ خود دار ہو گئے
عالم گیر دعوت اور عالم گیر پیغام و نظام رکھنے والی امت اس وقت عصبیت و اختلافات میں بٹ گئی، إِنَّا لِلّٰہِ وإِنَّا إِلیہ راجعون! ہماری پستی کا بنیادی سبب آپسی اختلاف ہی تو ہے، اس حقیقت کوکاش ہم سمجھ لیںکہمنفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک اسبابِ زوالِ امت   :           ہمارے بزرگوں نے اسبابِ زوالِ امت کی حقیقت ہمیں سمجھائی؛ تاکہ دیکھ سکیں وہ عروج و زوال، کیاتھا ماضی  اور کیاہے حال؟        چنانچہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب ؒ مالٹا کی چار سالہ قید سے رہائی کے بعد تشریف لائے تو ایک رات بعد عشاء دارالعلوم دیوبند میں علماء کے بڑے مجمع میں ارشاد فرمایا کہ ’’ہم نے تو مالٹا کی جیل میں دوسبق سیکھے ہیں‘‘ یہ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا کہ حضرت استاذ العلماء نے اَ سیّ سال علماء کو درس دینے کے بعد اس آخری عمر میں دو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں ؟ فرمایا کہ ’’میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی و دنیوی  حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں ؟ تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے: ایک اُن کا قرآن کو چھوڑ دینا،   دو: آپس کا اختلاف اور خانہ جنگی ،اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآنِ کریم کو لفطاً اور معنًی عام کیا جائے،بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کیے جائیں، اور بڑوں کو عوامی درس (قرآن ) کی صورت میں اس کے معانی سے رو شناس کرایا جائے، اور قرآنی تعلیم پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے،اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔       
آگے حضرت مفتیٔ اعظم مفتی محمدشفیع صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ حضرتؒ نے باقی ایامِ زندگی میں ضعف وعلالت اورہجومِ مشاغل کے باوجود اس کے لیے سعيِ پیہم فرمائی ۔(البلاغ مفتی ٔاعظم  نمبر/ ص : ۲۵۰).
آئیے !بے جا اختلاف ختم کرکے حدیث پاک کا مصداق بنیں   :      عاجز کا خیالِ ناقص یہ ہے کہ امت کا عروج ایمان کی قوت، اسلامی سیاست، حسن تدبیر، آپس کی محبت و اخوت اور صبر و استقامت میں ہے، اور زوال اختلاف میں ہے،امت کو زوال سے بچانے کے لیے ذاتی طور پر ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ اپنے افکار و خیالات کو قرآن وسنت اور مسلَّمہ اسلامی اصولوں سے متصادم ہونے(ٹکرانے) سے بچائے، اختلاف اگر شرعی حدود میں نیک نیتی کے ساتھ ہو تو وہ مذموم نہیں ہے، لیکن اس صورت میں بھی اختلاف رائے کے باوجود فریق ثانی کے احترام سے ہرگز گریز نہیں کرنا چاہیے،پھر ان شاء اللہ وہ اختلاف بھی رحمت ثابت ہوگا،کیوںکہ نہ مطلقاً اتفاق مستحسن ہے اور نہ مطلقاً اختلاف مذموم ہے،بلکہ مقاصد پر نظر کر کے ان کے حسن و قبح (اچھے برے ہونے) کافیصلہ کیاجائے گا، نیکی میں اعتدال کے ساتھ اتفاق اچھا اور اختلاف برا ہے،جب کہ بدی میں اس کے برعکس اختلاف اچھا اور اتفاق براہے۔قرآنِ کریم  نے اصحابِ کہف کے متعلق فرمایا  : { وَرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ إِذْ قَامُوْا} (الکہف : ۱۴)           جب وہ حق کی دعوت لے کر اٹھے تو ہم نے ان کے دلوں میں ربط و تعلق اور وحدت ویگا نگت پیدا کر کے انہیں کئی قالب ویک جان بنا کر متحد و متفق کر دیا، یہ اس لیے کہ انہیں دنیا کی باطل قوت سے ٹکر لینا تھی، جس کے لیے ایمان کی قوت کے ساتھ آپسی اخوت  اور حسنِ تدبیر یعنی اسلامی سیاست اور صبر و استقامت بہت ضروری ہے ۔   شاہ صاحب علامہ سید عبد المجید ندیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’احقاقِ حق و ابطالِ باطل کے علم برداروں کے لیے قرآن نے یہ واضح معیار پیش کر دیا کہ موقف کی سچائی کے بعد  اہلِ حق کی کامیابی کاجوگُر ہے وہ ان کا باہمی اتحاد ہے، اگر اُن میںاتفاق و اتحاد نہیں تو موقف کی سچائی کے باجود کا میابی کی حقیقی منزل سے وہ محروم رہیں گے ۔           صاحبو !یقینا ہم ایک دوسرے کے بغیر ناقص ہیں،نہ عزت سے جی سکتے ہیں نہ چین سے مر سکتے ہیں،اس لیے تہیہ وارادہ کیجئیکہ آپس میں بے جا اختلاف کو ختم کرکے بنیانِ مرصوص بن جائیں، اللہ تعالیٰ کی رسی کو حکم قرآنی کے مطابق مضبوطی سے تھام لیں،اور حدیث مذکورمیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشادکے مصداق بنیں، جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے مضبوط مکان (اور اس کی دیوار)کے مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے سے مل کر تقویت پاتا ہے، اگر معمولی ذرات مل کر بلند پہاڑ بن سکتے ہیں، پانی ایک ایک قطرہ مل کر سمندر بن سکتا ہے،ایک ایک ٹہنی اور شاخ مل کر درخت بن سکتا ہے، جسم کے اعضا مل کر بہترین انسان بن سکتا ہے،تو یقینا امت کے تمام افراد بھی ایک دوسرے سے مل کر بہترین امت بن سکتی ہے ۔ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے انسان کواُخو ّت کا بیاں ہوجا،    محبت کی زباں ہو جاحق تعالیٰ ساری امت کو صراطِ مستقیم پر جمع فرمادے۔ ( آمین )     جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّداً صَلّٰی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا ہُوَ أَہْلُہٗ ۔

٭…٭…٭
بحوالہ گلدستہ حدیث  بتغیر یسیر :   اکبر حسین اورکزئی