پیر، 28 جنوری، 2019

نسوار كي تعارف اور اس كا شرعي حكم



نسوار تمباکو سے بنی ہوئی گہرے سبز رنگ کی ہلکی نشہ آور چیز ہے۔ نسوار کھانے والا ایک چٹکی کے برابر اپنے زیریں لب اور دانتوں کے درمیان دبا لیتا ہےاور تمباکو کے نشے کا سرور لیتا ہے۔ نسوار بنانے کے لیے تمباکو کے خشک پتوں میں حسب منشا چونا ، راکھ اور ایک خاص گوند ملا کر پتھر کی اوکھلی میں لکڑی کے موٹے موصل سے کوٹ کوٹ کر پانی کے ہلکے چھینٹےدے کر تیارکی جاتی ہے۔ بڑے پیمانے پر مشینوں سے بھی تیار کی جاتی ہے۔بنوں کی نسوار مشہور ہے جبکہ چار سدہ اور صوابی میں بہترین تمباکو کاشت ہوتی ہے۔
سبز نسوار تیار کرنے کے لیے تمباکو کے پتوں کو سائے میں خشک کیا جاتا ہے جبکہ کالی نسوار کے لیے تمباکو کے پتوں کو دھوپ میں سکھایا جاتا ہے۔ سونگھنے والی لال نسوار بھی ہوتی ہے۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے یعنی کہ کسی بھی طریقے سے نکوٹین کو خون اور ماغ تک پہنچانا۔
گندا  نشہ ہے کیونکہ اس کے استعمال سے منہ میں بدبو اور انگلیاں گندی رہتی ہیں۔ کینسر کا باعث بھی ہے۔ یورپ کے لوگ اس کے مضر اثرات اور گندی ہونے کے باعث اس کو ترک کرچکےہیں لیکن ہمارے لوگ اب تک اس کے عادی ہیں ۔
 نسوار چونکہ تمباکو سے بنتی ہے اس لیے اس کے نقصانات بھی لازماً ہیں لیکن یہ بہت کم نسوار خوروں کو پتہ ہوتا ہے۔ البتہ جو چیز اس میں تکلیف دہ ہے وہ نسوار خوروں کا جگہ جگہ تھوکنا ہے جس سے دوسرے لوگ تنگ ہوتے ہیں۔ یہی حال پان کی پیک تھوکنے والوں کا ہے۔ نسوار افغانستان، پاکستان، بھارت، ایران،تاجکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان میں ہوتی ہے۔
نسوار خور اسے ایک ڈبی میں یا پڑیا میں ڈال کر جیب میں رکھتا ہے اور حسب خواہش منہ میں ڈالتا رہتا ہے۔عام طور پر پٹھان اس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی اس کا استعمال کافی ہے۔ سائنس نے اس کے نقصانات بھی کافی بیان کیے ہیں۔ اکثر دوست سمجھتے ہوں گے کہ نسوار پشتونوں کی ثقافت ہے اور اس کو پختون قوم نےایجاد کیا۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ نسوار ابتدائی طور پر امریکہ سے شروع ہوئی جس کا تذکرہ پندرویں صدی کی کتب میں ملتا ہے، اور یورپ میں سترہویں صدی سے عام استعمال ہوا۔ یورپی ممالک میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے باعث حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر اس کا استعمال ناک، سانس یا انگلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کینیڈا میں ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کرنے سے ہوئی۔ہیٹی کے مقامی لوگوں کی جانب سے 1496-1493میں کولمبس کی جانب سے امریکہ دریافت کے سفر کے دوران ریمن پین نامی راہب نے ایسے ایجاد کیا۔ کولمبس کے ساتھیوں نے یہاں دیکھا کہ مقامی ریڈ انڈینز ایک پودے کے پتوں کا رول بنا کر اس کے اگلے سرےکو سلگا کر اس کا دھواں اندر کھینچتے ہیں اور یوں کولمبس نے باقی دنیا کو بھی ٹوبیکو یعنی تمباکوسے متعارف کروایا۔ جب سے یہ پودا باقی دنیا میں متعارف ہوا حضرت انسان ہر ہر طریقے سے اس کو اپنے جسم میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سگریٹ، نسوار، پان، قوام وغیرہ۔ 
اصل میں تمباکو میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کا نام ہے نکوٹین۔ اب آپ نکوٹین کسی بھی ذریعے سے لیں، خواہ سگریٹ، یا نسوار یا پان کا تمباکو وغیرہ۔ خون میں ملنے کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ کے اعصاب تک پہنچ جاتی ہے. نکوٹین کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن (dopamine) نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔ جب بھی دماغ ڈوپامائن چھوڑتا ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کام کا اجر ملا ہے۔ یعنی دماغ کو یہ اشارہ جاتا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پئیں یا نسوار لیں یا پان کھائیں گے تو آپ دماغ محسوس کرے گا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دماغ یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا وہ نکوٹین کے اثر کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ آپ بار بار اس کو لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ لت ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کسی منشیات کی لت، مثلاً ہیروئن۔ نکوٹین کا نشہ اس قدر طاری ہوتا ہے کہ وہ آپ کے رویّے کو کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ نہ لینے کی صورت میں جسم ٹوٹنا، چڑچڑا پن، کمزوری، بے چینی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دماغ کی ساری توجہ نکوٹین حاصل کرنے کی طرف لگ جاتی ہے اور پورا جسم بیکار اور بے جان محسوس ہونے لگتا ہے۔
17 ویں صدی میں اس کی مصنوعات کے خلاف کچھ حلقوں کی جانب سے تحریک اٹھی اور پوپ  اربن ہفتم کی جانب سے خریداری پر دھمکیاں دیں گئیں۔ روس میں اس کا استعمال 1643میں زار مائیکل کی جانب سے کیا گیا ۔ ناک سے استعمال کی وجہ سے اس پر سزا مقرر کی گئی۔ فرانس میں بادشاہ لوئیس XIIIنے اس پر حد مقرر کی جبکہ چین میں1638میں پوری طرح نسوار کی مصنوعات پھیل گئی۔
18ویں صدی تک نسوار کو پسند کرنے والوں میں نپولین بونا پاٹ ، کنگ جارجIII کی ملکہ شارلٹ اور پوپ بینیڈکٹ سمیت اشرافیہ اور ممتاز صارفین میں یہ رائج ہوچکا تھا۔
18 ویں صدی میں انگلش ڈاکٹر جان ہل نے نسوار کی کثرت استعمال سے کینسر کا خدشہ ظاہر کیا۔ امریکہ میں پہلا وفاقی ٹیکس 1794ء میں اس لیے لگا کیونکہ اسیے عیش و عشرت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔اٹھارویں صدی میں جینٹل ویمن نامی میگزین میں پرتگالی نسوار کی اقسام اور استعمال کے مشورے شائع ہوئے۔افریقہ کے کچھ علاقوں میں یورپی ممالک کے افراد کی وجہ سے پھیلی اور دیہاتیوں نے ناک کے ذریعے استعمال کیا ۔ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ مصنوعات بھی متعارف ہوئی اور اس کا استعمال پاک و ہند میں پھیل گیا۔
نسوار کی تاریخی پس منظر اور اس کی حقیقت آپ نے پڑھ لی ، اور اپ نے  یہ بھی معلوم کر لیا ہوگا کہ نسوار ایک گندی چیز ہے استعمال کنندہ کے منہ سے بدبو آتی ہے جہاں پھینکاجاتا ہے وہ جگہ بھی گندی ہو جاتی ہے ، اب ہم نے اسے شرعی طور پر دیکھنا ہے، وباللہ التوفیق 
تو جان لیجئے کہ  اسلام ایک صاف ستھرا  اور نفیس دین ہے جو اپنے ماننے والوں کو بھی نظافت ونفاست کی تعلیم دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:   اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ. البقره، 2: 222
بیشک اللہ کو پسند آتے ہیں توبہ کرنے والے اور پسند آتے ہیں گندگی سے بچنے والے ۔
ایک اور مقام پرارشاد باری تعالی ہے  :
مَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيَجْعَلَ عَلَيْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰـکِنْ يُرِيْدُ لِيُطَهِّرَکُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَه عَلَيْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ.
اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔   المائدة، 5: 6
اسلام میں صفائی و ستھرائی کی اہمیت کا اندازہ  آپ اس سے بھی لگا سکتے ہیں کہ  آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ...
عَنْ اَبِي مَالِکٍ الْاَشْعَرِيِّ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ.رواه مسلم 1/203  ، احمد بن حنبل 5/342  
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پاکیزگی نصف ایمان ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس کام سے روکا جو نظافت و نفاست کے خلاف ہو، لہسن اور پیاز حلال چیزوں میں سے ہیں لیکن اگر کسی کے منہ سے لہسن اور پیاز کے بو آرہی ہو تو آپ ﷺ نے ایسے شخص کو مسجد میں آنے سے  منع کر دیا ہے،
 چناچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
اَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي غَزْوَة خَيْبَرَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَة يَعْنِي الثُّومَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا. رواه البخاري
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے غزوہ خیبر کے دوران فرمایا کہ جو اس درخت یعنی لہسن سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے.
امام مسلم کی روایت میں یہ اضافہ ہے :  حَتَّی يَذْهَبَ رِيحُهَا يَعْنِي الثُّومَ. مسلم
جب تک اس کے منہ سے بدبو  نہ  چلی جائے۔
عن عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اﷲِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ مَنْ اَکَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَة يُرِيدُ الثُّومَ فَلَا يَغْشَانَا فِي مَسَاجِدِنَا. البخاری 1/292
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ ،نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس درخت میں سے کھایا، اس سے مراد لہسن ہے، وہ ہم سے ہماری مسجد میں نہ ملے۔
قُلْتُ مَا يَعْنِي بِهِ قَالَ مَا اُرَهُ يَعْنِي إِلَّا نِيئَهُ وَقَالَ مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا نَتْنَهُ.
میں (عطاء) عرض گزار ہوا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا کہ میرے خیال میں کچا لہسن مراد ہے۔ مخلد بن یزید نے ابن جُریح سے روایت کی کہ اس کی بو مراد ہے۔   صحیح بخاري ، ، 1: 292
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کافی طویل ہے جس میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت سی باتیں بتائیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے:
ايُهَا النَّاسُ تَاْکُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا اَرَهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلَ وَالثُّومَ لَقَدْ رَيْتُ رَسُولَ اﷲِ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ فِي الْمَسْجِدِ اَمَرَ بِهِ فَاُخْرِجَ إِلَی الْبَقِيعِ فَمَنْ اَکَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا. رواه مسلم  1/ 396
اے لوگو! تم لہسن اور پیاز کے درختوں سے کھاتے ہو، حالانکہ میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں جس شخص کے منہ سے ان کی بدبو آتی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے حکم دیتے کہ وہ مسجد سے نکل کر بقیع کے قبرستان کی طرف چلا جائے۔ لہٰذا جو شخص انہیں کھانا چاہے وہ انہیں پکا کر ان کی بو ختم کر دے۔
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ سَاَلَ رَجُلٌ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ مَا سَمِعْتَ نَبِيَّ اﷲ يَقُولُ فِي الثُّومِ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ مَنْ اَکَلَ مِنْ هٰذِهِ الشَّجَرَة فَلَا يَقْرَبْنَا اَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا. رواه البخاري 1/ 293
حضرت عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے لہسن کے متعلق نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے بتایا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس درخت سے کھائے وہ ہمارے نزدیک نہ آئے نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔
 عَنْ اَبِي هُرَيْرَة قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا وَلَا يُوْذِيَنَّا بِرِيحِ الثُّومِ. رواه أحمد 1/394
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے۔
عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ اَکْلِ الْبَصَلِ وَالْکُرَّاثِ فَغَلَبَتْنَا الْحَاجَة فَاَکَلْنَا مِنْهَا فَقَالَ مَنْ اَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَة الْمُنْتِنَة فَـلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِکَة تَاَذَّی مِمَّا يَتَاَذَّی مِنْهُ الْإِنْسُ. رواه مسلم 1/394 و احمد 3/374
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ ہم نے ضرورت سے مغلوب ہو کر انہیں کھا لیا تو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان بدبودار درختوں سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتوں کو بھی ان چیزوں سے تکلیف ہوتی ہے جن سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے منہ اور باقی جسم کی صفائی کا خیال نہیں رکھتا وہ انسانوں کو تو تکلیف دینےکے ساتھ ساتھ فرشتوں کو بھی تکلیف دیتا ہے .
آپ نے مندرجہ بالا احادیث پڑھ لئے اور یہ اندازہ لگا لیا ہوگا کہ  اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندگی اور بو سے کس قدر نفرت کی ہے . اگر حلال چیز، جسے کھانے سے منہ میں بو پیدا ہو، اسے کھا کر اپنی عبادت گاہ کی طرف آنے سے منع فرما دیا جبکہ لہسن یا پیاز صحت کے لیے نقصان دہ بھی نہیں ہیں، ۔ اور جو حضرات نسوار لگاتے ہیں ان منہ سے جو بد بو آتی ہے  اللہ کی پناہ .
 آپ نے نسوار  کی تاریخ پڑھ لی اور اس کی استعمال سے پیش انے والے مضرات میں سے بدبو اور اس کا حکم احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں پڑھ لیا ہے ۔ اج اس اخری قسط میں نسوار سے مزید پیش انے والے مضرات نظر قارئین کرتا ہوں  وباللہ التوفیق  ۔
لیکن اس سے پہلے یہ یاد رہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف نسوار کو نقطہ ہدف کیوں بنایاگیا ہے،  ایسی کوئی بات نہیں سگریٹ اور پان وغیرہ سب کا یہی حکم ہے چونکہ موضوع نسوار تھا اس لیے مضمون اسی کے نام ہوا ۔
میں نسوار کی مضرات کی بات کر رہا تھا کہ استعمال کنندہ کی منہ سے جو بدبو آتی ہے شریعت میں اس کا حکم کیا ہوگا وہ اپ نے پڑھ لیا ہے ۔ اب مزید سنیں کہ کہ نسوار مضر صحت ہے اور اسراف  و تبذیر ہے ابھی ہم ان دو عنوان پر شرعی نقطہ نظر سے بات کریں گے ۔
(1) نسوار مضر صحت ہے ::
اس میں شک و شبہ نہیں کہ نسوار صحت كے ليے نقصاندہ ہے، اور پھر اس سے كئى قسم كى گندى بيمارياں بھى پيدا ہوتى ہيں۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ اس سے کنسر بھی لاحق ہوسکتی ہے؛ اور دیگر امراض بھی جو موت كا باعث بن سكتى ہيں يا موت كےمقدمات ميں شامل ہوتى ہيں۔ یوں سمجھ لیں کہ نسوار کا استعمال کنندہ اپنے اپ کو قتل کرنے اور اپنے اپ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور یہ شرعاً ممنوع ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۔ سورۃ النساء 29   (اپنی جانوں کو قتل نہ کرو)
اس کی تفسیر بعض مفسرین نے یوں فرمایا ہے کہ اس میں خود کشی کی ممانعت بھی شامل ہے (معالم التنزیل صفحہ ٤١٨) چونکہ الفاظ میں عموم ہے اس لیے آیت کا مفہوم سب کو شامل ہے۔   اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:
وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ  ۔ البقرۃ 195 (  اور تم اپنے آپ كو ہلاكت ميں مت ڈالو  ۔  )
پہلی آیت کریمہ میں ارشاد ہوا کہ اپنے آپ کو قتل مت کرو جبکہ دوسرے آیت کریمہ میں ارشاد ہوا کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ،  جب یہ واضح ہے کہ نسوار ( سگرٹ وغیرہ) سے انسان کو مہلک بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں تو گویا کہ ان کا استعمال کنندہ اپنے آپ کو جان بوجھ کر ہلاکت میں ڈالنا چاہتا ہے اور یہ جائز نہیں ۔
ایک واقعہ :  میرا ایک دوست جو ہمارے ساتھ(1990)  نائنٹیز   کے زمانے ایک جگہ کام کیا کرتا تھا پھر اس سے میری ملاقات تقریبا  پندرہ سال بعد ہوئی ہم بہت ہی گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملے دوران گفتگو میں نے ان سے اس کی جسمانی کمزوری کی سبب پوچھی تو کہنے لگا ، کہ جناب مجھے تو نسوار لے دوبا تھا اللہ نے بچایا میں نے کہا وہ کیسے اس نے بتا یا کہ مجھے منہ میں کنسر ہوا تھا یہا قطر میں علاج کیا پھر پاکستان گیا وہاں علاج کیا اور اپنہ منہ دیکھاتے ہوئے کہا کہ میرا ادھا دھاڑ کاٹ دیا گیا ہے  میں ا س کا منہ دیکھتا رہا  اوراسے تسلی دیتا رہا ، اللہ تعالی ہمیں ایسے حالات سے بچائے  .
اسی طرح بے شمار واقعات سامنے آتے ہیں اور آئے ہیں ۔ لہذا  نسوار سگریٹ  اور ایسی دیگر اشیاء منہ، گلے، پھیپھڑوں، سینے وغیرہ کا کینسراور ٹی بی جیسی مہلک بیماروں کا سبب بنتی ہیں۔ لہٰذا انہی وجوہات کی بنیاد پر نسوار ہو، سگریٹ وغیرہ  کو  علماء محققین ناجائز قرار دے رہے ہیں   کیونکہ ان کا استعمال خود کشی کے مترادف ہے۔
 (2) نسوار یا سگریٹ کی استعمال پر پیسے خرچ کرنا اسراف تبذیر ہے :::
جس طرح نسوار یا سگریٹ وغیرہ استعال انسان کے لیے مضر ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر اپنا مال خرچ کرنا بے جا  خرچ کرنے کی مترادف ہے اور  اسراف اور تبذیر ہے اور یہ بھی شرعا ممنوع ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے .
وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا  26؀ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا  27؀
ترجمہ : اور مال کو بےجامت اڑاؤ، بلاشبہ مالوں کو بےجا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے.
تبذیر کہتے ہیں، مال کے بےموقع یعنی محل معصیت میں خرچ کرنے کو. التبذیر انفاق فی غیر حقہ (جصاص۔ عن ابن عباس (رض) وعبداللہ بن مسعود (رض) وقتادۃ (رض)  التبذیر تفریق المال فی غیر الحل والمحل (مدارک) تفسیر الماجدی
(الْمُبَذِّرِيْنَ ) سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو اللہ کے دیئے ہوئے مال کو معصیت کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کو استعمال نہیں کرتے ، عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا گیا ، تبذیر کسے کہتے ہیں ، اس نے جواب دیا ، ” انفاق المال فی غیر حقہ “۔ یعنی ناحق اور نامناسب طور پر دولت کو صرف کرنا ۔ تفسیر سراج البیان
خلاصہ کلام یہ ہے  کہ :
نسوار یا سگریٹ پر اپنا مال خرچ کرنا اسراف اور تبذیر کی حکم میں اتا ہے اور اسراف تبذیر سے قرآن کریم میں منع کیا گیا ہے ۔
لہذا نسوار اور سگریٹ وغیرہ کا استعمال بالکل جائز نہیں ہے کیونکہ ان سے گندگی پھلتی ہے اور خبیث اشیاء کی ضمن میں آتی ہیں اور اللہ تعالی نے ہمیں خبیث اشیاء سے منع فرمایا ہے   ارشاد باری تعالی ہے ۔ 
يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭقُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ . المائدہ   4
پوچھتے ہیں ان کے لیے کیا چیز حلال ٹھہرائی گئی ہے۔ کہو تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ٹھہرائی گئی ہیں.
آپ نے دیکھا ہوگا کہ خود نسوار سگریٹ پینے والے انہیں گندگی سمجھتے ہیں ،اور یاد رہے کہ  رسول اللہ ﷺ کی صفت قرآن میں ہوں بیان کہ گئی ہے  ،    وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ . الاعراف 157
اور(آپ ﷺ)   ان کے لیے پاکیزہ چیزیں جائز بتاتا ہے اور ان پر گندی چیزیں حرام کرتا ہے .
اس میں بھی  شک نہیں کہ نبی اکرم کے عہد میں نسوار  سگریٹ کا وجود گرچہ نہیں پایاجاتا تھا لیکن اشیاء کی حرمت وحلّت کے بارے میں اسلام نے جو عام اصول وضع فرمائے ہیں ان کی روسے ہروہ چیز حرام قرارپاتی ہے جو انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہو ،یا وہ چیز بجائے خود دولت کے تلف اور مال کی بربادی کا باعث بن سکتی ہو یا ا س کے استعمال سے دوسرے انسان کو کسی قسم کے نقصان پہنچنے کا احتمال ہو  ۔  آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے  ،  لا ضرر ولا ضرار   . رواه احمد 
یعنی اسلامی نقطۂ نگاہ سے ہر ایسا کام ناجائز ٹہرتا ہے جس کا نقصان اس کے کرنے والے کوخود اٹھانا پڑے یا اس کے مضر اثرات کسی دوسرے انسان پراثرانداز ہورہے ہوں۔ ( یہ حدیث مسند احمد میں ہے )
 نسوار ہو یا سگریٹ جہاں استعمال کرنے والے کی صحت کے لیے مضراور ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے لیے تکلیف وایذا کا باعث بنتا ہے، وہاں وہ مال ودولت کی تباہی وبربادی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے   (وَكَرِهَ (اللهُ ) لَكُمْ إِضَاعَةِ الْمَالَ)  (متّفق عليه) ’’یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے مال کے ضیاع کو ناپسند قراردیا ہے‘‘۔ بخاری و مسلم ۔
اور سگریٹ نوشی اور نسوار  یقیناً اس شخص کے مال کی بربادی کا باعث ہے جو اس کو استعمال کرتا ہے اور یہ ایک ایسا کا م ہے جسے اللہ رب العزّت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ نسوار اور سگریٹ  گندی چیزیں ہیں   ، اس لیے عرب علماء کے نزدیک یہ دونوں حرام ہیں ، ہمارے پاک و ہند کے علماء اسے سخت مکروہ قررا دے رہے ہیں مگر یاد رہے کہ فقہاء کی اصطلاح میں مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہی ہے ۔
اب میں  دارالعلوم دیوبند کا ایک فتوی نظر قارئین کرتا ہوں .
سوال : کیا سگریٹ، نسواراور چرس حرام ہیں؟ جب کہ چرس پینے والا ہوش وہواس میں رہتاہے۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ھ): 2254=1455-10/1431
سگریٹ پینا سخت مکروہ ہے، نسوار اور چرس میں نشہ ہوتا ہے، پس ان کا استعمال بھی ناجائز ہے اور بعض لوگوں کو جو نشہ نہیں ہوتا وہ عادی ہوجانے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، جس طرح شراب کے عادی لوگوں کو بھی بسا اوقات بہت زیادہ نشہ نہیں ہوتا، مگر اس کی وجہ سے حرام ہونے کا حکم ساقط نہیں ہوتا، نیز ان جیسی چیزوں (سگریٹ، نسوار، چرس، شراب) سے اعضائے رئیسہ دل ودماغ پھیپھڑوں وغیرہ میں خطرناک امراض پیدا ہوتے ہیں یا پیدا ہونے کا اندیشہ غالب ہوتا ہے، اس لیے بھی ان چیزوں کے استعمال کا ناجائز و گناہ ہونا ظاہر ہے۔   واللہ تعالیٰ اعلم
  ...      دارالافتاء،  دارالعلوم دیوبند
   قارئین محترم میں اسی پر اکتفاء کرتے ہوئے اللہ کی حضور دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں گندی چیزوں سے بچائے اور ہمیں اپنے حفظ و آمان میں رکھے .    آمین  ثم آمین یا رب العلمین ، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين  .
أخوكم في الله : اكبر حسين اوركزئي  حالا مقيم بدولة قطر
29 جنوری  2019 

ہفتہ، 17 نومبر، 2018

اللہ تعالیٰ کے نزدیک تین ناپسندیدہ لوگ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَبْغَضُ النَّاسِ اِلَی اللّٰہِ ثَلٰثَۃٌ مُّلْحِدٌ فِی الْحَرَمِ وَمُبْتَغٍ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃَ الْجَاھِلِیة وَمُطَّلِبُ دَمِ امْْْرِءٍ مُّسْلِمٍ بِغَيرِ حَقِّ لِّيھْرِيقَ دَمَه ۔(بخاری) ترجمه: حضرت عبداللہ ابن عباس رضی الله عنه راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی الله علیه وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مغضوب (وہ لوگ هیں جن سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہے) تین ہیں۔ (١) حرم میں کجروی کرنے والا۔ (٢) اسلام میں ایام جاہلیت کے طریقوں کو ڈھونڈھنے والا۔ (٣) کسی مسلمان کے خون ناحق کا طلب گار تاکہ اس کے خون کو بہائے۔" (صحیح البخاری )

 تشریح: اس حدیث میں تین آدمیوں کو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مغضوب قرار دیا جاتا ہے، پہلا آدمی تو وہ ہے جسے اللہ نے اپنے گھر یعنی بیت اللہ میں حاضری کی سعادت بخشی مگر وہ بیت اللہ کی نہ تو عظمت کرتا ہے اور نہ حدود حرم میں ممنوع چیزوں سے پرہیز کرتا ہے بلکہ وہ حرم میں کجروی کرتا ہے یعنی ایسی چیزیں اختیار کرتا ہے جو ایک طرف تو اس مقدس جگہ کی شان عظمت کے منافی ہیں اور دوسری طرف احکام شریعت کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں مثلا وہاں لڑائی جھگڑا کرنا، شکار کرنا، یا کوئی بھی مطلق گناہ اور قانوں شریعت کی خلاف ورزی کرنا۔ دوسرا آدمی وہ ہے جس کو اللہ نے ایمان و اسلام کی دولت سے نوازا اور اس کے قلب کو یقین و اعتقاد کی روشنی سے منور کیا مگر وہ اسلام میں ان چیزوں کو اختیار کرتا ہے جو خالص زمانہ جاہلیت کا طریقہ اور غیر اسلامی رسمیں تھیں جیسے نوحہ کرنا، یا مصائب و تکالیف کے وقت چاک گربیان ہونا، برے شگون لینا، اور نو روز کرنا، یا ایسی رسمیں کرنا جو خالص کفر کی علامت ہوں (جیسے اولیاء اللہ کے مزار پر عرس کرنا، وہاں چراغاں کرنا، قبروں پر روشنی کا انتظام کرنا، غیر اللہ کے نام پر نذرو نیاز کرنا محرم و شب برأت میں غلط رسمیں ادا کرنا۔ وغیرہ وغیرہ)۔ تیسرا آدمی وہ ہے جو کسی مسلمان کا ناحق خون بہانے کا طلب گار ہو یعنی کسی مسلمان کو قتل کرنے کا مقصد محض خون ریزی ہو اور کوئی دوسرا مقصد نہ ہو، اگرچہ محض قتل ہی کوئی چھوٹا جرم نہیں ہے اس پر بھی بڑی وعید ہے مگر جب مقصد صرف خون ریزی ہو تو یہ جرم شریعت کی نظر میں اور زیادہ قابل نفرت ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب محض خون ریزی کی خواہش اور طلب ہی اتنا بڑا جرم ہے تو اس جرم کو کر گزرنا یعنی واقعۃ کسی کا ناحق خون بہا دینا کتنا بڑاجرم ہوگا اور اس کی کتنی سخت سزا ہوگئی؟ مشکوۃ شریف جلد اول حدیث 139

جمعرات، 25 اکتوبر، 2018

دنیا کی حقیقت کیا ہے



دنیا اور آخرت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک خطبہ

عَنْ عَمْروٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا عَرَضٌ حَاضِرٌ يَأْكُلُ مِنْهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، أَلَا وَإِنَّ الْآخِرَةَ أَجَلٌ صَادِقٌ يَقْضِي فِيهَا مَلِكٌ قَادِرٌ ، أَلَا وَإِنَّ الْخَيْرَ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي الْجَنَّةِ ، أَلَا وَإِنَّ الشَّرَّ كُلَّهُ بِحَذَافِيرِهِ فِي النَّارِ ، أَلَا فَاعْمَلُوا وَأَنْتُمْ مِنَ اللَّهِ عَلَى حَذَرٍ ، وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مَعْرُوضُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ ، {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} ( رواه الشافعى)
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا ، اور اپنے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ : سُن لو ، اور یاد رکھو کہ دنیا ایک عارضی اور وقتی سودا ہے ، جو فی الوقت حاضر اور نقد ہے ( اور اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ، اسی لئے ) اس میں ہر نیک و بد کا حصہ ہے ، اور سب اس سے کھاتے ہیں ، اور یقین کرو کہ آخرت مقرر وقت پر آنے والی ایک سچی اٹل حقیقت ہے ، اور سب کچھ قدرت رکھنے والا شہنشاہ اسی میں ( لوگوں کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا ) فیصلہ کرے گا ، یاد رکھو کہ ساری خیر اور خوشگواری اور اس کی تمام قسمیں جنت میں ہیں ، اور سارا شر اور دکھ اس کی تمام قسمیں دوزخ میں ہیں ۔ پس خبردار ، خبردار ( جو کچھ کرو ) اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو ( اور ہر عمل کے وقت آخرت کے انجام کو پیش نظر رکھو ) اور یقین کرو کہ تم اپنے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے حضور میں پیش کئے جاؤ گے ، پس جس شخص نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی ہوگی ، وہ اس کو بھی دیکھ لے گا ، اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی ، وہ اس کو بھی پا لے گا ۔ ( مسند امام شافعی)
 تشریح ۔ ۔ ۔ انسان کی سب سے بڑی بدبختی اور سیکڑوں قسم کی بدکاریوں کی جڑ بنیاد یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام اور آخرت کے انجام سے بے فکر اور بے پروا ہو کر زندگی گذارے ، اور اپنی نفسانی خواہشات اور اس دنیا کی فانی لذتوں کو اپنا مقصد اور مطمح نظر بنا لے اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ آنکھوں کے سامنے ہے ، اور خدا اور آخرت آنکھوں سے اوجھل ہیں ، اس لئے انسانوں کو اس بربادی سے بچانے کا راستہ یہی ہے کہ ان کے سامنے دنیا کی بے حقیقتی اور بے قیمتی کو اور آخرت کی اہمیت اور برتری کو قوت کے ساتھ پیش کیا جائے ، اور قیامت میں خدا کے سامنے پیشی اور اعمال کی جزا و سزا کا اور جنت و دوزخ کے ثواب و عذاب کا یقین اُن کے دلوں میں اتارنے کی کوشش کی جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خطبہ کا حاصل اور موضوع یہی ہے ، اور جیسا کہ عرض کیا گیا ، آپ کے اکثر خطبات اور مواعظ میں یہی بنیادی مضمون ہوتا تھا ۔ 
تنبیہ ۔ ۔ ۔ یہ بات بڑی خطرناک اور بہت تشویشناک ہے کہ دینی دعوت اور دینی وعظ و نصیحت میں دنیا کی بے ثباتی اور بے حقیقتی اور آخرت کی اہمیت کا بیان اور جنت و دوزخ کا تذکرہ جس طرح اور جس ایمان و یقین اور جس قوت کے ساتھ ہونا چاہئے ہمارے اس زمانہ میں اس کا رواج بہت کم ہوگیا ہے ، گویا نہیں رہا ہے ، اور دین کی تبلیغ و دعوت میں بھی اسی طرح کی باتیں کرنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے جس قسم کی باتیں مادی تحریکوں اور دنیوی نظاموں کی دعوت و تبلیغ میں کی جاتی ہیں ۔ 


دنیا سے نہ لپٹو ، آخرت کے طالب بنو
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْهَوَى ، وَطُولُ الْأَمَلِ ، فَأَمَّا الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ ، وَأَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ ، وَهَذِهِ الدُّنْيَا مُرْتَحِلَةٌ ذَاهِبَةٌ ، وَهَذِهِ الْآخِرَةُ مُرْتَحِلَةٌ قَادِمَةٌ ، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تَكُونُوا مِنْ بَنِي الدُّنْيَا فَافْعَلُوا ، فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ فِي دَارِ الْعَمَلِ وَلَا حِسَابَ ، وَأَنْتُمْ غَدًا فِي دَارِ الْحِسَابِ وَلَا عَمَلَ " . ( رواه البيهقى فى شعب الايمان ) 
ترجمہ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اپنی امت پر جن بلاؤں کے آنے سے ڈرتا ہوں ، ان میں سب سے زیادہ ڈر کی چیزیں هَوَى اور طُولُ الْأَمَلِ ہے ، ( هَوَى سے مراد یہاں یہ ہے کہ دین و مذہب کے بارے میں اپنے نفس کے رجحانات اور خیالات کی پیروی کی جائے اور طُولُ الْأَمَلِ یہ ہے کہ دنیوی زندگی کے بارہ میں لمبی لمبی آرزوئیں دل میں پرورش کی جائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو بیماریوں کو بہت زیادہ خوفناک بتلایا ، اور آگے اس کی وجہ یہ ارشاد فرمائی ) کہ هَوَى تو آدمی کو قبولِ حق سے مانع ہوتی ہے ( یعنی اپنے نفسانی رجحانات اور خیالات کی پیروی کرنے والا قبول حق اور اتباع ہدایت سے محروم رہتا ہے ) اور طُولُ الْأَمَلِ ( یعنی لمبی لمبی آرزؤں میں دل پھنس جانا ) آخرت کو بُھلا دیتا ہے اور اس کی فکر اور اس کے لیے تیاری سے غافل کر دیتا ہے ، ( اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ ) یہ دنیا دمبدم چلی جارہی ہے ، گزر رہی ہے ( کہیں اس کا ٹھہراؤ اور مقام نہیں ) اور آخرت ( اُدھر سے ) چل پڑی ہے ، چلی آ رہی ہے اور ان دونوں کے بچے ہیں ، ( یعنی انسانوں میں کچھ وہ ہیں جو دنیا سے ایسی وابستگی رکھتے ہیں جیسی وابستگی بچوں کو اپنی ماں سے ہوتی ہے ، اور کچھ وہ ہیں جن کی ایسی ہی وابستگی اور رغبت بجائے ددنیا کے آخرت سے ہے ) پس اے لوگو ! اگر تم کر سکت تو ایسا کرو کہ دنیا سے چمٹنے والے اس کے بچے نہ ہو ( بلکہ اس دنیا کو دارالعمل سمجھو ) تم اس وقت دارالعمل میں ہو ( یہاں تمہیں صرف محنت اور کمائی کرنی ہے ) اور یہاں حساب اور جزا سزا نہیں ہے ، اور کل تم ( یہاں سے کوچ کر کے ) دار آخرت میں پہنچ جانے والے ہو ، اور وہاں کوئی عمل نہ ہو گا ( بلکہ یہاں کے اعمال کا حساب ہو گا ، اور ہر شخص اپنے کئے کا بدلہ پائے گا ) ۔ 
تشریح ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں امت کے بارے میں دو بڑی بیماریوں کا خوف اور خطرہ ظاہر فرمایا ہے ، اور امت کو ان سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے ، ایک هَوَى اور دوسرے طُولُ الْأَمَلِ ۔ غور سے دیکھا جائے ، تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان ہی دو بیماریوں نے امت کے بہت بڑے حصے کو برباد کیا ہے ، جن لوگوں میں خیالات اور نظریات کی گمراہیاں ہیں ، وہ هَوَى کے مریض ہیں اور جن کے اعمال خراب ہیں وہ طولِ امل اور  حبِ دنیا کے مرض میں گرفتار اور آخرت کی فکر اور تیاری سے غافل ہیں ، اور علاج یہی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کے آخر میں بیان فرمایا ۔ یعنی ان کے دلوں میں یہ یقین پیدا ہو کہ یہ دنیوی زندگی فانی اور صرف چند روزہ ہے ، اور آخرت ہی کی زندگی اصلی زندگی ہے ، اور وہی ہمارا اصل مقام ہے ۔ جب یہ یقین دلوں میں پیدا ہو جائے گا تو خیالات اور اعمال دونوں کی اصلاح آسان ہو جائے گی ۔


دولت کی افراط کا خطرہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آگاہی
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَوَاللَّهِ مَا الفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا ، وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ » ( رواه البخارى ومسلم )
ترجمہ : عمر بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : میں تم پر فقر و ناداری آنے سے نہیں ڈرتا ، لیکن مجھے تمہارے بارہ میں یہ ڈر ضرور ہے ، کہ دنیا تم پر زیادہ وسیع کر دی جائے ، جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کی گئی تھی ، پھر تم اس کو بہت زیادہ چاہنے لگو ، جیسے کہ انہوں نے اس کو بہت زیادہ چاہا تھا ( اور اسی کے دیوانے اور متوالے ہو گئے تھے ) اور پھر وہ تم کو برباد کر دے ، جیسے کہ اس نے ان اگلوں کو برباد کیا ( صحیح بخاری و مسلم
تشریح ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض اگلی قوموں اور امتوں کا یہ تجربہ تھا ، کہ جب ان کے پاس دنیا کی دولت بہت زیادہ آئی ، تو ان میں دنیوی حرص اور دولت کی رغبت و چاہت اور زیادہ بڑھ گئی ، اور وہ دنیا ہی کے دیوانے اور متوالے ہو گئے ، اور اصل مقصد زندگی کو بھلا دیا ، پھر اس کی وجہ سے ان میں باہم حسد و بغض بھی پیدا ہوا ، اور بالآخر ان کی اس دنیا پرستی نے ان کو تباہ برباد کر دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں اسی کا زیادہ ڈر تھا ۔ اس حدیث میں آپ نے از راہِ شفقت امت کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے ، اور فرمایا ہے ، کہ تم پر فقر و ناداری کے حملے کا مجھے زیادہ ڈر نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس تم میں بہت زیادہ دولت مندی آ جانے سے دنیا پرستی میں مبتلا ہو کر تمہارے ہلاک و برباد ہو جانے کا مجھے زیادہ خوف اور ڈر ہے ۔ 
آپ کے اس ارشاد کا مقصد و مدعاو اس خوشنما فتنہ کی خطرناکی سے امت کو خبردار کرنا ہے ، تا کہ ایسا وقت آنے پر اس کے برے اثرات سے اپنا بچاؤ کرنے کی وہ فکر کرے ۔
 
اس اُمت کا خاص فتنہ دولت ہے
عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : « إِنَّ لكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً ، وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ » ( رواه الترمذى )
ترجمہ : کعب بن عیاض سے روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا ، آپ ارشاد فرماتے تھے ، کہ ہر امت کے لیے کوئی خاص آزمائش ہوتی ہے اور میری امت کی خاص آزمائش مال ہے ۔ ( ترمذی ) 
تشریح ۔ ۔ ۔ مطلب یہ ہے کہ میری پیغمبری کے دور میں ( جو اَب سے لے کر قیامت تک کا زمانہ ہے ) مال و دولت کو ایسی اہمیت حاصل ہوگی ، اور اس کی ہوس اتنی بڑھ جائے گی کہ وہی اس امت کے لیے سب سے بڑا فتنہ ہو گا ۔ ( قرآن مجید میں بھی مال کو فتنہ کہا گیا ہے ) اور واقعہ یہ ہے کہ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہمارے اس زمانے تک کی تاریخ پر جو شخص بھی نظر ڈالے گا ، اسے صاف محسوس ہو گا ، کہ مال کے مسئلہ کی اہمیت اور دولت کی ہوس برابر بڑھتی رہی ہے اور بڑھتی ہی جا رہی ہے ، اور بلا شبہ یہ ہی اس کا سب سے بڑا فتنہ ہے ، جس نے بے شمار بندوں کو خدا کی بغاوت و نافرمانی کے راستے پر ڈال کے اصل سعادت سے محروم کر دیا ہے ۔ بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خدا بیزاری اور خدا دشمنی کے علمبردار بھی دولت و معاش ہی کے مسئلہ کی پیٹھ پر سوار ہو کر اپنے دجالی خیالات دنیا میں پھیلاتے ہیں ۔ 
حب مال اور حب جاہ دین کے لیے قاتل ہیں
عَنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى المَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ » ( رواه الترمذى والدارمى ) 
ترجمہ : کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : وہ دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے گئے ہوں ، ان بکریوں کو اس سے زیادہ تباہ نہیں کر سکتے ، جتنا تباہ آدمی کے دین کو مال کی اور عزت و جاہ کی حرص کرتی ہے ۔ ( جامع ترمذی ، مسند دارمی
تشریح ۔ ۔ ۔ مطلب یہ ہے کہ حب مال اور حب جاہ آدمی کے دین کو اور اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو اس سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں ، جتنا کہ بکریوں کے کسی ریوڑ میں چھوڑے ہوئے بھوکے بھیڑیے ان بکریوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ 
مال کی اور دنیا کی محبت بڑھاپے میں بھی جوان رہتی ہے 
عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ " ( رواه البخارى ومسلم ) 
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے ( اور بڑھاپے کے اثر سے اس کی ساری قوتین مضمحل ہو کر کمزور پڑ جاتی ہیں ) مگر اس کے نفس کی دو خصلتیں اور زیادہ جوان اور طاقت ور ہوتی رہتی ہیں ۔ ایک دولت کی حرص ، اور دوسری زیادتی عمر کی حرص ۔ ( بخاری و مسلم ) 
تشریح ۔ ۔ ۔ تجربہ اور مشاہدہ شاہد ہے ، کہ انسانوں کا عام حال یہی ہے ، اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے ، بات یہ ہے کہ انسان کے نفس میں بہت سی ایسی غلط خواہشیں پیدا ہوتی ہیں جو اسی وقت پوری ہوتی ہیں جب کہ اس کے ہاتھ میں دولت ہو ، اور زندگی اور توانائی بی ہو ، اور ان خواہشوں کی مضرتوں اور بربادیوں سے انسان کو بچانا “ پاسبانِ عقل ” کا کام ہے ، مگر بڑھاپے کے اثر سے جب بے چاری یہ عقل بھی مضمحل اور کمزور پڑ جاتی ہے ، تو ان خواہشات پر اپنا قابو اور کنٹرول رکھنے سے مجبور ہو جاتی ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخر عمر میں بہت سی خواہشیں “ ہوس ” کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں ، اور اس کی وجہ سے عمر کی زیادتی کے ساتھ مال و دولت کی اور دنیا میں زیادہ سے زیادہ رہنے کی حرص اور چاہت اور زیادہ ترقی کرتی رہتی ہے ،

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لاَ يَزَالُ قَلْبُ الكَبِيرِ شَابًّا فِي اثْنَتَيْنِ : فِي حُبِّ الدُّنْيَا وَطُولِ الأَمَلِ " ( رواه البخارى ومسلم ) 
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کے بارے میں ہمیشہ جوان رہتا ہے ، ایک تو دنیا کی محبت ، اور دوسری لمبی لمبی تمنائیں ۔ 
تشریح ۔ ۔ ۔ جیسا کہ پہلی حدیث کی تشریح میں ذکر کیا گیا ، عام انسانوں کا حال یہی ہے لیکن جن بندگانِ خدا کو خود شناسی اور خدا شناسی اور دنیا و آخرت کے بارے میں صحیح علم و یقین نصیب ہو ، اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ بجائے حبِ دنیا کے ، اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس فانی دنیا کی آرزوؤں کی جگہ رضاء الہٰی اور نعمائے اُخروی کا اشتیاق اور اس کی تمنا بڑھاپے میں بھی ان کے دل میں مسلسل بڑھتی اور ترقی کرتی رہتی ہے ، اور ان کی عمر کا ہر اگلا دن پہلے دن کے مقابلے میں اس پہلو سے بھی ترقی کا دن ہوتا ہے ۔
 
دولت میں اضافے کی حرص کسی حد پر ختم نہیں ہوتی
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى ثَالِثًا ، وَلاَ يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ » ( رواه البخارى ومسلم )
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر آدمی کے پاس مال کے بھرے ہوئے دو میدان اور دو جنگل ہوں ، تو وہ تیسرا اور چاہے گا ، اور آدمی کا پیٹ تو بس مٹی سے بھرے گا ( یعنی مال و دولت کی اس نہ ختم ہونے والی ہوس اور بھوک کا خاتمہ بس قبر میں جا کر ہو گا ) اور اللہ اس بندے پر عنایت اور مہربانی کرتا ہے جو اپنا رخ اور اپنی توجہ اس کی طرف کر لے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم ) 
تشریح ۔ ۔ ۔ مطلب یہ ہے کہ مال و دولت کی زیادہ حرص عام انسانوں کی گویا فطرت ہے ، اگر دولت سے ان کا گھر بھی بھرا ہو ، اور جنگل کے جنگل اور میدان کے میدان بھی پڑے پڑے ہوں ، تب بھی ان کا دل قانع نہیں ہوتا ، اور وہ اس میں اور زیادتی اور اضافہ ہی چاہتے ہیں ، اور زندگی کی آخری سانس تک ان کی ہوس کا یہی حال رہتا ہے ، اور بس قبر ہی میں جا کر دولت کی اس بھوک اور ننانوے کے اس پھیر سے اُن کو چھٹکارا ملتا ہے ۔ البتہ جو بندے دنیا اور دنیا کی دولت کے بجائے اپنے دل کا رُخ اللہ کی طرف کر لیں ، اور اس سے تعلق جوڑ لیں ، ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتی ہے ، اور ان کو اللہ تعالیی اس دنیا ہی میں اطمینانِ قلب اور غنائے نفس نصیب فرما دیتا ہے ، اور پھر اس دنیا میں بھی ان کی زندگی بڑے مزے کی اور بڑے سکون سے گزرتی ہے ۔ 
                                  وأخر دعوانا أن الحمد لله رب العلمين

توحيد كا معنى اور اس كى اقسام


 

الحمد لله وكفى ، والصلاة والسلام على النبي المصطفى وعلى آله وصحبه وسلم تسليماً كثيراً ، أما بعد 
توحيد كا لغوى معنى:
توحيد لغت عرب ميں وَحَّدَ يُوَحِّدُ فعل كا مصدر ہے اور جب اس كى نسبت اللہ كى وحدانيت كى طرف كى جائے اور اسے ان صفات و ذات ميں شريك ہونے سے انفرادى وصف ديا جائے تو يہ وحدانيت كا وصف كہلاتا ہے، اور شد مبالغہ كے ليے ہے يعنى اللہ كى وحدانيت كا وصف مبالغہ ركھتا ہے.
اور عرب كا قول ہے: واحد و احد و وحيد يعنى وہ منفرد ہے چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالى واحد ہے يعنى وہ سب حالات ميں شريكوں سے منفرد ہے.چنانچہ توحيد اس بات كا علم ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى ايك ہے اس كى كوئى نظير نہيں، تو جو كوئى بھى اللہ كا علم اس طرح نہيں ركھتا، يا پھر وہ اسے وحدہ لا شريك كا وصف نہيں ديتا تو وہ اللہ كو ايك نہيں مانتا.
توحيد كى اصطلاحى تعريف: اللہ تعالى كو الوہيت و ربوبيت اور اسماء صفات ميں يكتا و اكيلا ماننا. اور يہ تعريف بھى ممكن ہے: يہ اعتقاد ركھنا كہ اللہ اپنى ربوبيت و الوہيت اور اسماء صفات ميں وحدہ لا شريك ہے.
اس اصطلاح " توحيد " يا اس كے مشتقات كا اس معنى پر دلالت كرنے كے ليے استعمال كتاب و سنت سے ثابت ہے اور كتاب و سنت ميں استعمال كيا گيا ہے، ذيل ميں اس كى چند ايك مثاليں پيش كى جاتى ہيں:
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
﴿ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ 0 اَللّٰهُ الصَّمَدُ  0  لَمْ يَلِدْ ڏ وَلَمْ يُوْلَدْ  0  وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ  0  .
آپ كہہ ديجئے كہ وہ اللہ ايك ( ہى ) ہے، اللہ تعالى بے نياز ہے، نہ اس سے كوئى پيدا ہوا نہ وہ كسى سے پيدا ہوا، اور نہ كوئى اس كا ہمسر ہے.
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:
وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ  ١٦٣؀ۧ
﴿ اور تم سب كا معبود ايك ہى ہے، اس كے سوا كوئى معبود برحق نہيں، وہ بہت رحم كرنے والا اور بڑا مہربان ہے ﴾ البقرۃ ( 163 ).
اور ايك مقام پر اللہ رب العزت نے فرمايا:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ  ۘوَمَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّآ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۭوَاِنْ لَّمْ يَنْتَھُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ      73؀
﴿ وہ لوگ بھى قطعا كافر ہو گئے جنہوں نے كہا اللہ تعالى تين ميں سے تيسرا ہے، در اصل اللہ كے سوا كوئى معبود نہيں، اگر يہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان ميں سے جو كفر پر رہيں گے انہيں المناك عذاب ضرور پہنچے گا ﴾المآئدۃ ( 73 ).
اس موضوع كے متعلق آيات بہت زيادہ ہيں.
اور صحيح بخارى و مسلم ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں:
"
جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے معاذ بن جبل رضى اللہ تعالى عنہ كو اہل يمن كى طرف بھيجا تو انہيں فرمايا:
"
آپ ايسى قوم كے پاس جا رہے ہيں جو اہل كتاب ہے تم انہيں سب سے پہلے اس كى دعوت دينا كہ وہ اللہ تعالى كى توحيد كا اقرار كريں، جب وہ اس كى پہچان كر ليں تو انہيں بتانا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے ان پر دن اور رات ميں پانچ نمازيں فرض كي ہيں، جب وہ نماز ادا كرنے لگيں تو انہيں بتانا كہ اللہ تعالى نے ان پر ان كے اموال ميں زكاۃ فرض كى ہے جو ان كے اغنياء سے لے كر ان كے فقراء كو دى جائيگى، جب وہ اس كا اقرار كر ليں تو ان سے زكاۃ لے لينا، اور لوگوں كے بہترين اورافضل اموال سے اجتناب كرنا "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 7372 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 19 ).
اور صحيح مسلم ميں ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اسلام كى بنياد پانچ اشياء پر ہے: اس پر كہ اللہ كو ايك مانا جائے، اور نماز كى پابندى كى جائے، اور زكاۃ كى ادائيگى كى جائے، اور رمضان المبارك كے روزے ركھے جائيں، اور بيت اللہ كا حج كيا جائے "صحيح مسلم حديث نمبر ( 16 ).
چنانچہ ان سب نصوص ميں توحيد سے مقصود كلمہ طيبہ " لا الہ الا اللہ محمدا رسول اللہ " كے معنى كا اثبات ہے، جو كہ دين اسلام كى حقيقت ہے، جس كے ليے اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كو مبعوث كيا ہے، اس كى دليل يہ ہے كہ يہ اصطلاح اور كلمات مترادفہ كتاب ميں سنت ميں كئى ايك مقام پر وارد ہيں.
ان ميں سے بعض الفاظ تو سابقہ حديث معاذ رضى اللہ تعالى عنہ ميں بيان ہوئے ہيں:
"
كہ تم اہل كتاب كے لوگوں كے پاس جا رہے ہو جب ان كے پاس پہنچو تو انہيں اس كى دعوت دينا كہ وہ يہ گواہى ديں كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ كے رسول ہيں "صحيح بخارى حديث نمبر ( 1496 ).
اور ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كى روايت ميں ہے:
اسلام كى بنياد پانچ اشياء پر ہے: اس كى گواہى دينا كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور محمد صلى اللہ عليہ وسلم اس كے بندے اور رسول ہيں ".صحيح مسلم حديث نمبر ( 16 ).
تو يہ اس كى دليل ہے كہ كہ كلمہ طيبہ " لا الہ الا اللہ محمدا رسول اللہ " كى حقيقت توحيد ہے، اور يہى وہ اسلام ہے جسے ديكر اللہ تعالى نے اپنے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم كو جن و انس كى طرف مبعوث فرمايا، اور يہى وہ دين ہے جس كے بغير اللہ تعالى كسى اور دين اختيار كرنے پر راضى نہيں ہو گا.
اللہ تعالى كا فرمان ہے: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ . ﴿ يقينا اللہ كے ہاں دين صرف اسلام ہے ﴾آل عمران ( 19 ).
اور ايك دوسرے مقام اللہ جل شانہ كا فرمان ہے:وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ .
﴿ اور جو كوئى بھى اسلام كے علاوہ دين اپنائے گا اس كا وہ دين قبول نہيں كيا جائيگا، اور وہ آخرت ميں نقصان اٹھانے والوں ميں سے ہو گا ﴾آل عمران ( 85 ).
جب يہ معلوم ہو گيا تو يہ بھى علم ميں ہونا چاہيے كہ علماء كرام نے توحيد كو تين قسموں ميں تقسيم كيا ہے جو درج ذيل ہيں:
توحيد ربوبيت ، توحيد الوہيت ، توحيد اسماء و صفات
توحيد ربوبيت: اللہ تعالى كو اس كے افعال مثلا خلق اور تدبير اور زندہ كرنے اور مارنے روزى دينے وغيرہ افعال ميں يكتا ماننا.
اس توحيد كے كتاب و سنت ميں بہت دلائل پائے جاتے ہيں.
لہذا اگر كسى نے يہ اعتقاد ركھا كہ اللہ كے علاوہ اور بھى كوئى خالق ہے، يا مالك ہے يا روزى رساں ہے، يا اللہ كے علاوہ كوئى اور اس جہان ميں تصرف كرنے والا ہے تو اس نے توحيد كى اس قسم ميں خلل پيدا كيا اور اللہ كے ساتھ كفر كيا.
كيونكہ پہلے دور كے كفار اور مشركين مكہ بھى اس توحيد كا اجمالى طور پر اقرار كرتے تھے، اگرچہ وہ اس كى بعض تفصيل ميں مخالفت بھى كرتے تھے، اس كے اقرار كى دليل بہت سارى آيات ميں پائى جاتى ہے جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:
فرمان بارى تعالى ہے:
(1) وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ
﴿ اور اگر آپ ان سے يہ سوال كريں كہ آسمان و زمين كو كس نے پيدا كيا، اور سورج اور چاند كو كس نے مسخر كيا ؟ تو البتہ وہ ضرور يہ كہينگے اللہ نے، تو وہ كدھر الٹے جا رہے ہيں ﴾ العنكبوت ( 61 ).
اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى اس طرح ہے:
(2) وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
﴿ اور اگر آپ ان سے دريافت كريں كہ آسمان نے پانى كس نے نازل كيا اور اس سے زمين كو بنجر ہونے كے بعد زندہ كس نے كيا ؟ تو وہ ضرور كہينگے اللہ نے، آپ كہہ ديں سب تعريفات اللہ ہى كى ہيں، بلكہ ان ميں اكثر عقل نہيں ركھتے ﴾العنكبوت ( 63 ).
اور ايك مقام پر رب العزت كا فرمان اس طرح ہے:  
(3) وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ
﴿ اور اگر آپ ان سے دريافت كريں كہ انہيں كس نے پيدا كيا ہے ؟ تو وہ ضرور كہينگے اللہ نے، پھر وہ كدھر الٹے جا رہے ہيں ﴾ الزخرف ( 87 ).
ان آيات ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے بيان فرمايا ہے كہ كفار بھى اس كا اقرار كرتے تھے كہ اللہ تعالى خالق و مالك اور مدبر ہے، ليكن اس كے باوجود انہوں نے عبادت ميں اللہ كى توحيد كا انكار كيا جو ان كے عظيم ظلم اور شديد بہتان اور ضعف عقل كى دليل تھى، كيونكہ ان صفات كا مالك اور ان افعال ميں انفراديت ركھنے والے كى ہى عبادت كرنى چاہيے، اور اس كے علاوہ كسى اور كى عبادت نہ ہو، اور صرف اس اللہ كو ہى يكتا و تنہا اور ايك مانا جائے، اللہ سبحانہ و تعالى پاك اور بلند و بالا ہے اس سے جو وہ شرك كرتے ہيں.
اس ليے جو كوئى بھى توحيد ربوبيت كا صحيح اقرار كرتا ہو اس كے ليے ضرورى ہے كہ وہ توحيد الوہيت كا بھى اقرار كرے.
توحيد الوہيت :  يہ ہے كہ اللہ تعالى كو ہر قسم كى ظاہرى اور باطنى قولى و عملى عبادت ميں يكتا و اكيلا مانا جائے، اور اللہ كے سوا باقى سب كى عبادت كى نفى كى جائے چاہے وہ كوئى بھى ہو، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ
﴿ اور تيرا پروردگار صاف صاف حكم دے چكا ہے كہ تم اس كے سوا كسى اور كى عبادت نہ كرنا ﴾الاسراء ( 23 ).
اور ايك مقام پر رب العزت كا فرمان ہے: وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا
﴿ اور اللہ تعالى كى عبادت كرو اور اس كے ساتھ كسى كو شريك نہ كرو ﴾النساء ( 36 ).
اور اسے توحيد اللہ افعال العباد كہنا بھى ممكن ہے، اور اسے توحيد الوہيت كا نام بھى ديا جاتا ہے،كيونكہ يہ اللہ كى عبادت اور اسے الہ معبود تسليم كرنے پر مبنى ہے، كہ اللہ كى عبادت محبت و تعظيم كے ساتھ كى جائے.
اور اسے توحيد عبادت بھى كہا جاتا ہے:كيونكہ بندہ اللہ تعالى كے احكام كى ادائيگى اور ممنوعات سے اجتناب كرتے ہوئے اللہ كى عبادت كرتا ہے. اور اسے توحيد طلب اور قصد و ارادہ كا نام بھى ديا جاتا ہے؛ كيونكہ بندہ كا مقصد و ارادہ اللہ كى رضامندى و خوشنودى ہے اور خالصتا اللہ كى رضا طلب كرتے ہوئے خالص اسى كى عبادت كرتا ہے. يہى وہ قسم اور نوع ہے جس ميں خلل پايا جاتا ہے، اور اسى توحيد الوہيت كى بنا پر اللہ سبحانہ و تعالى نے رسول مبعوث كيے اور كتابيں نازل فرمائيں، اور اسى كى وجہ سے مخلوقات پيدا كى گئيں، اور شريعت بنائى گئيں، اور يہى وہ توحيد الوہيت ہے جس ميں انبياء اور ان كى قوموں كے درميان جھگڑا ہو، اور مخالفت كرنے والے ہلاك كر ديے گئے اور مومنوں كو نجات حاصل ہوئى. اس ليے جس نے بھى اس توحيد الوہيت ميں خلل پيدا كيا اور كسى بھى قسم كى عبادت اللہ كے علاوہ كسى اور كے ليے جائز سمجھا تو وہ ملت اسلاميہ سے خارج ہو گيا اور فتنہ ميں پڑ گيا اور سيدھى راہ سے بھٹك گيا، اللہ تعالى ہميں سلامت و محفوظ ركھے.
توحيد اسماء و صفات : يہ ہے كہ،  اللہ كے اسماء و صفات ميں اللہ كو يكتا و تنہا مانا جائے، اس ليے بندے كو يہ اعتقاد ركھنا چاہيے كہ اللہ تعالى كے اسماء و صفات ميں اس كا كوئى مثل نہيں، يہ توحيد دو اساسى اشياء پر مبنى ہے:
پہلى اساس: اثبات،يعنى اسماء حسنى اور صفات على ميں سے جسے اللہ تعالى نے اپنے ليے ثابت كيا ہے، يا پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ كے ثابت كيا ہے اسے بغير كسى تشبيہ و مثال كے اسى طرح ثابت كيا جائے جس طرح اللہ كے شايان شان ہے، اور اس كے معانى ميں كسى بھى قسم كى تحريف و تاويل نہ كى جائے اور نہ ہى اس كے حقائق كو معطل كيا جائے اور نہ ہى اس كى كيفيت بيان كى جائے.
دوسرى اساس: تنزيہ، كہ اللہ سبحانہ و تعالى كو ہر قسم كے عيب سے منزہ و پاك مانا جائے، اور ان صفات نقص كى اللہ سے نفى كى جائے جن كى اللہ نے خود نفى كى ہے، اس كى دليل درج ذيل فرمان بارى تعالى ہے:لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ .  
اس كى مثل كوئى چيز نہيں، اور وہ سميع و بصير ہے  (سورۃ شوری     11) .
يہاں اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنے آپ كو مخلوق كى مماثلت سے منزہ كيا ہے، اور اپنے ليے صفات كمال ثابت كى ہيں جس طرح اللہ كے شايان شان ہيں.                      واللہ اعلم .
-------------------------------------------------------------------------------------------
      طالب دعاء : اکبرحسین اورکزئی