سُترہ
کے احکام نماز دین اسلا م کا اہم ترین رکن ہے اور اس کی بجاآوری کے لئے بہت سے
احکامات کی پابندی ضروری ہے۔ لیکن اکثر نمازی یا تو ان سے غافل ہیں یا سستی کا
شکار ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم مسئلہ ’’سترہ‘‘ کا بھی ہے کہ جس کے بارہ میں لوگ
افراط یاتفریط کا شکار ہیں یعنی کچھ تو سترہ کو فرض و واجب قرار دے کر بغیرسترہ
پڑھی جانے والی نماز کے بطلان کے قائلین ہیں جبکہ دیگر سترہ کی عدم فرضیت کا
اعتقاد رکھنے کی بناءپر سترہ کو اہمیت دینے سے قاصرہیں جس کے نتیجہ میں ان کی اکثر
نمازیں سترہ کے بغیر ادا ہوتی ہیں جو کہ خلاف سنت ہے۔ذیل میں ہم ان دلائل کو پیش
کر یں گے جن کے ذریعہ سے حق بات کا علم ہو سکے کہ سترہ رکھنا نمازی کے لئے انتہائی
ضروری ہے۔ مگر یہ فرض یا واجب بھی نہیں کہ بغیر سترہ کے نماز ہی نہ ہو۔ بلکہ اگر
کو ئی شخص کبھی سترہ کے بغیر نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر اس کو
معمول بنانا خلاف سنت ہے۔ سترہ کی اہمیت سیدنا عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا: «لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا
تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ؛ فَإِنَّ
مَعَهُ الْقَرِينَ». ’’سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے
نہ گزرنے دو۔ اگر وہ انکا ر کر دے تو اس سے لڑو کیونکہ اس کے ساتھ یقیناً شیطان ہے
۔‘‘ [صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلاۃ، باب النھي عن الصلاۃ إلی غیر سترۃ، (800)، صحیح
مسلم (506)] ابوسعیدخدری فر ماتے ہیں كہ رسول ﷺ نے فرمایا : «إِذَا
صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا». ’’جب
تم میں سے کو ئی ایک نماز پڑھے تو وہ ستر ے کی طرف نماز ادا کرے اور اس کے قریب ہو۔‘‘ [سنن
أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، تفریع أبواب السترۃ، باب ما
یؤمر المصلي أن یدرأ عن الممر بین یدیہ، (698)] قرہ
بن ایاس کہتے ہیں کہ عمر نے مجھے دو ستونوں کے درمیا ن نمازپڑھتے ہو ئے دیکھا تو
مجھے پکڑ کر سترہ کے قریب کر دیا اور فرمایا: «صَلِّ إِلَيْهَا» ’’اس
کی طرف نماز ادا کر ۔ ‘‘ [مصنف ابن أبي شیبۃ، کتاب صلاۃ التطوع
والإمامۃ وأبواب
متفرقۃ، باب من
کان یکرہ الصلاۃ بین
السواري، (7502)] انس بیان فرماتے ہیں: «لَقَدْ رَأَيْتُ
كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ
السَّوَارِيَ عِنْدَ المَغْرِبِ»، وَزَادَ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَنَسٍ،
حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» میں
نے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی
طرف جلدی کر تے تھے [یعنی مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے لئے ان کو اپنا سترہ
بناتے ۔(بخاری: 625)] [صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب
الصلوۃ إلی
الأسطوانۃ، (503)(481)] یحییٰ
بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ «رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فِي
الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَدْ نَصَبَ عَصًا يُصَلِّي إِلَيْهَا». میں
نے انس بن مالك كو مسجد حرام میں د یكها كہ وه لاٹهی گاڑ كر اس كی طرف نماز
اداكر رہے تھے ۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب الصلوات، باب قدر کم یستر المصلي؟ (2853)]
نافع فرماتے ہیں: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ إذَا لَمْ يَجِدْ سَبِيلاً إلَى
سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ لِي : وَلِّنِي ظَهْرَك». عبداللہ
بن عمر جب مسجد کے ستون میں سےکسی ستون کی جانب کوئی جگہ نہ پاتے تو مجھے کہتے
کہ میری طرف اپنی پشت کر دو ۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب
الصلوات، باب الرجل یستر الرجل إذاصلی إلیہ أم لا؟ (2878)]
مندرجہ
با لا ادلہ سے معلوم ہوا کہ 1 رسول ﷺ نے بغیر سترہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ 2
آپﷺ نے سترہ کا اہتمام کرنے کی تاکید فرمائی ہیں۔ 3 اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم
دیا ہے ۔ 4 صحابہ کرام سترہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ۔ 5 کسی کو بغیر ستر ہ
نماز پڑھتے دیکھ کر اس کو ستر ے کے قریب کر دیتے ۔ 6 مسجد میں بھی سترہ کا اہتما م
فرماتے ۔ 7 دیوار یا ستون کے پیچھے جگہ نہ ملتی تو لاٹھی وغیرہ کا ستر ہ اپنے آگے
رکھ لیتے۔ 8 اور اس کی عدم موجو دگی میں کسی شخص کو سترہ بنا کر نماز ادا کر تے ۔
سترہ مستحب ہے تو گویا سترہ کی اس قدر اہمیت ہے کہ بغیر سترہ نماز پڑھنے کا تصور
خیر القرون میں تقر یباً نا پید تھا۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ سترہ رکھنا فرض
ہے۔ بغیر سترہ بھی رسول ﷺ نے نماز ادا کی ہے ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس بیان
فرماتے ہیں: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ
يَدَيْهِ شَيْءٌ». رسول اللہ ﷺ نے کھلی جگہ میں نماز پڑھی اور آپﷺ کے سا منے کو ئی
چیز (بطور سترہ) نہ تھی۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب
الصلوات، باب من رخص فی الفضاء أن یصلی بھا، (2866)،
مسند أحمد، (1965)، مسند أبی یعلی، (2601)] سیدنا عبدالله بن عباس عنہ فرماتے ہیں: «أَقْبَلْتُ
رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ
وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى إِلَى
غَيْرِ جِدَارٍ» میں گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ ان دنو ں میں قریب
البلوغت تھا اور رسول اللہ ﷺ منی میں بغیر دیوار کے نماز پڑھ رہے تھے ۔ [صحیح
البخاري، كتاب العلم، باب متی یصح سماع الصغیر؟ (76)] اس باب میں حافظ ابن حجر نے
فتح الباری میں مسند بزار کے حو الے سے تائیداً یہ روایت ذکر کی ہے: «وَالنَّبِيُّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ لَيْسَ لِشَيْءٍ
يَسْتُرُهُ».
نبی ﷺ فرض نماز ادا کر رہے تھے۔ آپﷺ کے آگے کو ئی ایسی چیز نہ تھی جو آپﷺ کا سترہ
بنتی۔ [فتح
الباری: 1/171، طبع: دار المعرفۃ، بیروت، مسند البزار،
مسند ابن عباس رضی اللہ عنھما (4951)] ابن
بطال نے شرح بخاری 2/129 میں اس کی سند ذکر کی ہے جو کہ حسن ہے۔ سیدنا ابن عباس
فرماتے ہیں كہ: «جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ "
فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ
يُصَلِّي، فَنَزَلْنَا عَنْهُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ يَأْكُلُ مِنْ بَقْلِ
الْأَرْضِ أَوْ قَالَ: مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ
فَقَالَ رَجُلٌ: أَكَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ؟ قَالَ: لَا» میں
اور بنی ہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر آئے ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے
گزرے تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو ہم (گدھے سے) اترے اور اس کو زمین کی نباتا ت
کھانے کے لئے چھوڑدیا اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں داخل ہو گئے۔ ایک آدمی نے (ابن
عباس سے ) پو چھا کیا آپﷺ کے آگے لاٹھی یا نیزہ (بطور سترہ)تھا؟ تو فرمایا: نہیں
۔ [مسند أبي یعلی، أول مسند ابن عباس: 4/311 (2423)] اس حدیث کے تمام رجال صحیح کے
ہیں اور صحیح میں بھی یہ حدیث مختصراً آئی ہے۔ [صحیح البخاري، کتاب العلم، باب متی
یصح سماع الصغیر؟ (76)] مذکو رہ بالا دلائل سے یہ واضح ہوا کہ سترہ فرض یا واجب
نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ جس کا م کے کرنے کا رسول اللہﷺ حکم دیں،
وہ فرض و واجب ہو تا ہے۔ لیکن جب کوئی قرینہ صارفہ مو جود ہو تو آپ ﷺ کا امر وجوب
و فر ضیت کے لئے نہیں، بلکہ استحباب کے لئے ہو تا ہے۔ زیر بحث مسألہ میں رسول اکرم
ﷺ کا حکم موجود ہے کہ سترہ کا اہتمام کرو اور سترہ کے بغیر نماز ادا کی ہے۔ جس سے
معلوم ہو تا ہے کہ فرض و واجب نہیں ہے۔ بلکہ مستحب ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز
نہیں کہ چو نکہ ستر ہ مستحب ہے، لہٰذا اس کااس قدر اہتما م کرنا بھی ضروری نہیں،
جیسا کہ سمجھ لیا گیا ہے۔ بلکہ کسی فعل کا مستحب ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس کو
ضرور بالضرور کیا جائے۔ لیکن اگر کبھی زندگی میں ایسا مر حلہ آجائے کہ بندہ اس پر
عمل نہ کر ے تو وہ گناہگار نہ ہو گا ۔لیکن اگر وہ مستحب کو پس پشت ڈالناہی اپنا
اکثر کا معمو ل بنالے تو یہ جائز نہیں ۔اس کی مثال یو ں سمجھیے کہ رسول اللہ ﷺ نے
بغیر عذر کے زندگی میں ایک با ر دو نمازوں کو صورۃً جمع کر کے ادا کیا ہے، جس سے
جمع بین الصلوتین بغیر عذر کا جواز نکلتا ہے۔ لیکن اگر کو ئی اس کو معمول ہی بنا
لے اور اکثر دو نمازوں کو جمع کر تا رہے تو وہ مخالف سنت ہو گا۔ وھلم جراً لہٰذا
ستر ہ کا اہتمام کرنے کی ہر ممکن کو شش کی جائے۔ لیکن اس کے باوجود اگر کبھی سترہ
نہ مل سکے یا کو ئی شے سترہ بنانے کی نظرنہ آئے تو بغیر سترہ بھی نماز ادا کی جا
سکتی ہے۔ سترہ اور نمازی کے درمیان فاصلہ ابو سعید خدری بیان فر ماتے ہیں کہ
رسول اللہﷺ نے فرمایا: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى
سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا». جب تم میں سےکو ئی ایک نماز پڑھے تو وہ
سترہ کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے۔ [سنن أبي
داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یؤمر المصلي أن یدرأ عن الممر بین یدیہ، (698)] سہل
بن سعد فرماتے ہیں: «کَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ». رسول
اللہ ﷺ کی نماز والی جگہ اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ تھی۔ [صحیح
البخاري، کتاب الصلاۃ، باب قدر کم ینبغی أن یکون بین المصلی والسترۃ؟ (496)] درج
بالا ادلہ سے معلوم ہوا کہ 1 نمازی سترہ کا اہتمام کر ے اور اس کے قریب کھڑا ہو ۔ 2
سترہ اور نمازی کے سجدہ والی جگہ کے درمیا ن زیادہ سے زیادہ بکری کے گزر سکنے کی
جگہ ہو ۔ سترہ کی مقدار طلحہ بن عبید اللہ بیان فر ماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے
فرمایا: «إذَا
جَعَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ مِثْلَ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ فَلاَ يَضُرُّكَ مَنْ
مَرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ». جب تو اپنے آگے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصہ
کے برابر کو ئی چیز کر لے تو تیرے آگے سے گزرنے والا تجھے کو ئی نقصان نہ دیگا۔ [سنن
أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلي، (685)] عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں:
«آخِرَةُ
الرَّحْلِ ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ» اونٹ کے کجاوے کا پچھلا حصہ ذراع یا اس سے
زیادہ (اونچا)ہوتا ہے ۔ [سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما
یستر المصلي، (686)] ذراع : ہتھیلی کو کھول کر کہنی تک کا حصہ ذراع کہلاتا
ہے۔ اور یہ تقریباً ڈیڑھ فٹ بلند چیز رکھے تو وہ اس کا سترہ بن سکے گی۔ اس سے کم
اونچائی والی چیز سترہ کا کا م نہیں دیتی۔رہی وہ روایت جس میں خط کھینچنے کا ذکر
ہے کہ اگر سترہ میسر نہ آئے تو خط کھینچ لیا جائے۔ [سنن أبي داؤد، (689)] تو ا س
کی سند میں ابو عمر وبن محمد بن حرُیث اور اس کا دادا حُریث مجہول ہیں ۔ لہٰذا یہ
روایت ساقط الاعتبار ہے۔ اس لیے خط کھینچنا سترہ سے کفایت نہ کرے گا۔اور جو لو گ
بطور سترہ اینٹ یا کوئی اور چیز جو ڈیڑھ فٹ سے چھوٹی ہو، رکھ کر نماز پڑھتے ہیں،
ان کی نماز بغیر سترہ ہے کیو نکہ سترہ کی شرعی مقدار «الذراع فما فوقہ» بیان
کی گئی ہے ۔ نمازی کے آگے سے گزرنا: ابو جہیم عبداللہ بن حارث الأنصاری فر ماتے
ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَوْ يَعْلَمُ المَارُّ بَيْنَ يَدَيِ
المُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ
أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ».اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو علم ہو
جائے کہ اس پر کتنا گنا ہ ہے تو اس کے لئے چالیس ( دن ،مہینے ،یا سال ) تک کھڑا ر
ہنا گزرنے سے بہتر ہو گا۔ [صحیح البخاري، کتاب
الصلاۃ، باب إثم
المار بین یدي المصلي، (510)] دج بالا حدیث سے معلو م ہو تا ہے کہ نمازی
کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی حالت میں نمازی اور سترہ کے
درمیان سے یا اگر سترہ موجود نہ ہو تو نمازی کے آگے سے نہ گزرا جائے ۔ یا د رہے کہ
نمازی کے آگے سے گزرنے کی یہ ممانعت مطلقاً ہے۔ گزرنے والا خواہ کئی میلوں کے
فاصلے سے بھی گزرے، اسے اتنا گناہ ہے جتنا کہ قریب سے گزرنے والے کےلئے ہے ۔اس طرح
امام اور مقتدیوں کے درمیا ن گزرنا بھی سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرنا ہی ہے۔
کیو نکہ امام کا سترہ ہی مقتدیوں کیا سترہ ہے۔ لہٰذا اس سے بھی اجتناب کیا جائے . هذا ما عندي
والله أعلم بالصواب .
پیر، 3 جولائی، 2017
ہفتہ، 17 جون، 2017
شب قدر کی فضیلت قرآن کی روشنی میں
شب قدر کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی
میں
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا
لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ
الْمَلاَئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلاَمٌ
هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْر ﴿سورة
القدر﴾
ترجمہ: ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا،
تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ایک ہزار راتوں سے بہتر ہے، اس دن فرشتے
اور روح امین﴿جبرئیل علیہ السلام﴾اپنے رب کی اجازت سے ہر حکیمانہ حکم لے کر نازل ہوتے ہیں، یہ سلامتی والی
﴿رات﴾ فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا
مُنْذِرِينَ ۔ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيم﴿سورہ الدخان: ۳،۴﴾
بلاشبہ
ہم نے اس (کتاب حکیم) کو ایک بڑی ہی بابرکت رات ﴿شب قدر﴾ میں ہی اتارا ہے کہ ہمیں بہرحال خبردار کرنا ہے،جس میں فیصلہ کیا جاتا
ہے ہر حکمت والے کام کا.
شب قدر کی عبادت سے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے
ہیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " َمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ
إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ﴿صحیح بخاری، كتاب
فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ،باب فَضْلِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، صحیح مسلم کتاب صلاة المسافرین و قصرہا ، باب
الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح ﴾
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص شب قدر
میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام
کرے گا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
شب قدر کی تعیین:
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إِنِّي
أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا أَوْ نُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا
فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي الْوَتْر )صحیح بخاری، كتاب صلاة التراويح،باب إلتماس ليلة القدر في السبع الاواخر(
ترجمہ: ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے وہ رات دکھائی گئی تھی مگربھر بھلا دیا گیا،
لہذا اب تم اسے رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرو۔
شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش
کرنے کا حکم
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: "تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي
الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ" )صحیح بخاری، كتاب صلاة التراويح، 4 -
باب تحري ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر, مسلم
في الصيام باب استحباب صوم ستة أيام من شوال (
ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس طاق
راتوں میں تلاش کرو۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَيَقُولُ
تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ )صحیح بخاری، كتاب صلاة التراويح، باب
تحري ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر (
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ
شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔
شب قدر کو آخری سات راتوں میں تلاش کرنے کا حکم
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قال، قال رسول الله
صلى الله عليه وسلم: " مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي
السَّبْعِ الأَوَاخِر" )صحیح بخاری، كتاب صلاة التراويح،باب إلتماس ليلة القدر في السبع الاواخر(
ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کو ﴿شب قدر ﴾ کی تلاش کرنی ہو آخری سات راتوں
میں تلاش کرے۔
شب قدر کے ۲۷ ویں
رات میں تلاش کرنے کا بیان:
عن زر قال :
سمعت أبي بن كعب يقول والله إني لأعلم أي ليلة هي هي الليلة التي أمرنا بها رسول
الله صلى الله عليه و سلم بقيامها هي ليلة صبيحة سبع وعشرين وأمارتها أن تطلع
الشمس في صبيحة يومها بيضاء لا شعاع لها ﴿صحیح
مسلم کتاب صلاة المسافرین و قصرہا ، باب الترغيب في قيام رمضان وهو
التراويح ﴾
زر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابی بن کعب سے
سنا وہ کہ رہے رہے تھے کہ اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ کون سی رات ہےجس کے
بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کرنےکا حکم دیا ہے، یہ ستائیسویں رات ہے۔
اس کی نشانی یہ ہے اس دن صبح کو سورج سفید ہوتا ہے اور اس میں شعائیں نہیں ہوتی
ہیں۔
شب قدر کو ۲۹ ویں اور
۲۳ ویں رات
میں تلاش کرنے کا بیان:
عن ابن عباس
رضي الله عنهما : قال رسول
الله صلى الله عليه و سلم ( هي في العشر هي في تسع يمضين أو في سبع يبقين ) . يعني
ليلة القدر ﴿بخاری،كتاب صلاة التراويح باب تحري ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر﴾
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر آخری عشرے میں جب نو رات گذریں تب
یعنی ﴿۲۹﴾انتیسویں
رات میں یا جب سات راتیں باقی ہوں یعنی ﴿۲۳﴾ تیئسویں رات میں ہے۔
شب قدر کو ۲۱ ویں ۲۳ ویں اور
۲۵ ویں رات
میں تلاش کرنے کا بیان
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ
الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي
تَاسِعَةٍ تَبْقَى فِي سَابِعَةٍ تَبْقَى فِي خَامِسَةٍ تَبْقَى ﴿
بخاریكِتَاب الْجُمُعَةِ، بَاب
الطِّيبِ لِلْجُمُعَةِ﴾
ابن عباس سے رایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو، جب سات دن باقی
ہوں، سات دن باقی ہوں اور جب پانچ دن باقی ہوں۔یعنی ۲۱ ویں ۲۳ ویں اور
۲۵ ویں
رات۔
شب قدر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھلادی
گئی:
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى
رَجُلَانِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ
الْقَدْرِ فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ
خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ ﴿
بخاری كِتَاب الْجُمُعَةِ، بَاب
رَفْعِ مَعْرِفَةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ لِتَلَاحِي النَّاسِ﴾
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی
صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کے بارے میں بتانے کے لئے نکلے اسی دوران دو
مسلمان دو مسلمان ﴿کسی معاملے میں ﴾ آپس میں جھگڑ پڑے، آپ نے ارشاد فرمایا، میں
نکلا تھا کہ تم لوگوں کو شب قدر کے بارے میں بتاوں مگر فلاں فلاں جھگڑنے لگے اور
اس کا علم اٹھا لیا گیا ﴿بھلادیا گیا﴾ مجھے امید ہے کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہی
ہے لہٰذا تم لوگ اس رات کو۲۹ویں، ۲۷ ویں اور ۲۵ ویں رات
میں تلاش کرو۔
آخری عشرے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ
الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ" )صحیح بخاری، كتاب صلاة التراويح، باب العمل في العشر الاواخر من رمضان(
عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
جب آخری دس دنوں میں داخل ہوتے تو ﴿عبادت کے لئے﴾ کمر کس لیتے، خود بھی شب بیداری
کرتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔
شب قدر کی دعا
عن
عائشة أنها قالت يا رسول الله أرأيت إن وافقت ليلة القدر ما أدعو ؟ : قال ( تقولين اللهم إنك عفو تحب العفو
فاعف عني ﴿سنن ابن ماجہ كتاب الدعاء، باب الدعاء بالعفو والعافية
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے
نبی کریم صلی اللہ علی وسلم سے دریافت کیا کہ اگر مجھے شب قدر مل جائے تو میں کون
سی دعا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پڑھو: اللہم انک۔۔۔۔۔ ترجمہ
: اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے لہذا تو ہمیں معاف کردے۔
خلاصہ کلام:
شب قدر
کون سی رات ہے اس کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی، نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم سے ۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷ اور ۲۹ویں
رمضان کی سبھی راتوں کے بارے میں حدیثیں ملتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام کا کہنا ہے کہ یہ رات ہر سال تبدیل
ہوتی رہتی ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات کے بارے میں بھلادیا دیا
گیا، ایسے میں کسی ایک رات کو اپنی طرف سے شب قدر مان کر بقیہ طاق راتوں کو عبادت
سے غافل رہنا بہت بڑی محرومی کا سبب ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جس رات کو شب قدر مان
رہے ہوں وہ اس کے علاوہ کسی
اور رات میں ہو۔ جبکہ آخری عشرے کی سبھی راتوں میں تلاش کرنے میں یہ خطرہ نہیں ،
اس رات کو پوشیدہ رکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ بندہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت
کرسکے۔
اللہ
تعالی ٰ ہمیں شب قدر میں عبادت کا موقع نصیب فرمائے ۔ آمین
شب قدر کی فضیلت
بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ
لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام
عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ
آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
رمضان
کی راتوں میں ایک رات شبِ قدر کہلاتی ہے جو بہت ہی خیر وبرکت والی رات ہے اور جس
میں عبادت کرنے کو قرآن کریم (سورۂ القدر) میں ہزار مہینوں سے افضل بتلایا گیا ہے۔
ہزار مہینوں کے ۸۳ سال اور ۴ ماہ ہوتے ہیں۔ گویا اِس رات کی عبادت پوری زندگی کی عبادت سے زیادہ
بہتر ہے۔ اور ہزار مہینوں سے کتنا زیادہ ہے ؟ یہ صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ لہذا اِس آخری عشرہ کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔ پانچوں نمازوں کو جماعت سے پڑھنے کا اہتمام کریں،دن میں روزہ رکھیں، رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزاریں، تراویح اور تہجد کا اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ اپنے اور امت مسلمہ کے لئے دعائیں کریں۔ قرآن کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کریں۔
ے شک ہم نے قرآن پاک کو شبِ قدر میں اتارا ہے ،یعنی قرآن شریف کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اِس رات میں اتارا ہے۔ آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے ، یعنی اس رات کی بڑائی اور فضیلت کا آپ کو علم بھی ہے ، کتنی خوبیاں اور کس قدر فضائل اس میں ہیں۔ اس کے بعد چند فضائل کا ذکر فرماتے ہیں، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یعنی ہزار مہینوں تک عبادت کرنے کا جتنا ثواب ہے اس سے زیادہ شبِ قدر کی عبادت کا ہے، اور کتنا زیادہ ہے؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام اترتے ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں۔ اور یہ خیر وبرکت فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔
سورۂ العلق کی ابتدائی چند آیات (اِقْرَاْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق....) سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۂ القدر میں بیان کیا کہ یہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۂ الدخان کی آیت ۳ (اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَےْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ) اور سورۂ البقرہ کی آیت ۱۸۵ (شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن) میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
شب قدر کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مقصود ہیں۔ ایک یہ کہ یہ وہ رات ہے جس میں تقدیروں کے فیصلے کئے جاتے ہیں جیسا کہ سورۂ الدخان آیت ۴ میں ہے: اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ بڑی قدر ومنزلت اور عظمت وشرف رکھنے والی رات ہے۔
اس رات میں قرآن کریم کے نازل ہونے کا مطلب لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اترنا ہے یا اس رات میں پورا قرآن کریم حامل وحی فرشتوں کے حوالہ کیا جانا مراد ہے یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کے نزول کی ابتدا اس رات میں ہوئی اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً ۲۳ سال کے عرصہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔
اس رات کی فضیلت واہمیت کے متعلق متعدد احایث کتب احادیث میں موجود ہیں، یہاں اختصار کی وجہ سے چند احادیث ذکر کررہا ہوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے والا بنائے، آمین-
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) کھڑے ہونے کا مطلب: نماز پڑھنا، تلاوتِ قرآن اور ذکر وغیرہ میں مشغول ہونا ہے۔ ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہرت اور دکھاوے کے لئے نہیں بلکہ خالص اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے عمل کرنا ہے۔
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہنیوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا سارے ہی خیر سے محروم رہ گیا، اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقۃً محروم ہی ہے۔ (ابن ماجہ)
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شبِ قدر کو رمضان کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔ (بخاری)
مذکورہ حدیث کے مطابق ‘ شب قدر کی تلاش ۲۱ ویں ، ۲۳ ویں، ۲۵ ویں، ۲۷ ویں، ۲۹ ویں راتوں میں کرنی چاہئے۔
* حضرت عائشہؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ اگر مجھے شب قدر کا پتہ چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پڑھو: (اے اللہ تو بیشک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو ، پس مجھے بھی معاف فرمادے ۔ (مسند احمد ، ابن ماجہ، ترمذی)
شب قدر کی دو اہم علامتیں:
شب قدر کی دو اہم علامتیں کتب احادیث میں مذکور ہیں: ایک یہ کہ رات نہ بہت زیادہ گرم اور نہ بہت زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے اور دوسری علامت یہ ہے کہ شب قدر کے بعد صبح کو سورج کے طلوع ہونے کے وقت سورج کی شعاعیں یعنی کرنیں نہیں ہوتی ہیں۔
نوٹ: اختلافِ مطالع کے سبب مختلف ملکوں اور شہروں میں شبِ قدر مختلف دنوں میں ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں، کیونکہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شبِ قدر قرار پائے گی اُس جگہ اُسی رات میں شبِ قدر کی برکات حاصل ہوں گی ، انشاء اللہ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ لہذا اِس آخری عشرہ کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیں۔ پانچوں نمازوں کو جماعت سے پڑھنے کا اہتمام کریں،دن میں روزہ رکھیں، رات کا بڑا حصہ عبادت میں گزاریں، تراویح اور تہجد کا اہتمام کریں، اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ اپنے اور امت مسلمہ کے لئے دعائیں کریں۔ قرآن کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کریں۔
ے شک ہم نے قرآن پاک کو شبِ قدر میں اتارا ہے ،یعنی قرآن شریف کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اِس رات میں اتارا ہے۔ آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے ، یعنی اس رات کی بڑائی اور فضیلت کا آپ کو علم بھی ہے ، کتنی خوبیاں اور کس قدر فضائل اس میں ہیں۔ اس کے بعد چند فضائل کا ذکر فرماتے ہیں، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یعنی ہزار مہینوں تک عبادت کرنے کا جتنا ثواب ہے اس سے زیادہ شبِ قدر کی عبادت کا ہے، اور کتنا زیادہ ہے؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام اترتے ہیں۔ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں۔ اور یہ خیر وبرکت فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔
سورۂ العلق کی ابتدائی چند آیات (اِقْرَاْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق....) سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۂ القدر میں بیان کیا کہ یہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۂ الدخان کی آیت ۳ (اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَےْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ) اور سورۂ البقرہ کی آیت ۱۸۵ (شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن) میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
شب قدر کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مقصود ہیں۔ ایک یہ کہ یہ وہ رات ہے جس میں تقدیروں کے فیصلے کئے جاتے ہیں جیسا کہ سورۂ الدخان آیت ۴ میں ہے: اسی رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ بڑی قدر ومنزلت اور عظمت وشرف رکھنے والی رات ہے۔
اس رات میں قرآن کریم کے نازل ہونے کا مطلب لوح محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اترنا ہے یا اس رات میں پورا قرآن کریم حامل وحی فرشتوں کے حوالہ کیا جانا مراد ہے یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کے نزول کی ابتدا اس رات میں ہوئی اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً ۲۳ سال کے عرصہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔
اس رات کی فضیلت واہمیت کے متعلق متعدد احایث کتب احادیث میں موجود ہیں، یہاں اختصار کی وجہ سے چند احادیث ذکر کررہا ہوں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے والا بنائے، آمین-
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص شبِ قدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لئے) کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) کھڑے ہونے کا مطلب: نماز پڑھنا، تلاوتِ قرآن اور ذکر وغیرہ میں مشغول ہونا ہے۔ ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ شہرت اور دکھاوے کے لئے نہیں بلکہ خالص اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے عمل کرنا ہے۔
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہنیوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا گویا سارے ہی خیر سے محروم رہ گیا، اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقۃً محروم ہی ہے۔ (ابن ماجہ)
* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شبِ قدر کو رمضان کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔ (بخاری)
مذکورہ حدیث کے مطابق ‘ شب قدر کی تلاش ۲۱ ویں ، ۲۳ ویں، ۲۵ ویں، ۲۷ ویں، ۲۹ ویں راتوں میں کرنی چاہئے۔
* حضرت عائشہؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ اگر مجھے شب قدر کا پتہ چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پڑھو: (اے اللہ تو بیشک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو ، پس مجھے بھی معاف فرمادے ۔ (مسند احمد ، ابن ماجہ، ترمذی)
شب قدر کی دو اہم علامتیں:
شب قدر کی دو اہم علامتیں کتب احادیث میں مذکور ہیں: ایک یہ کہ رات نہ بہت زیادہ گرم اور نہ بہت زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے اور دوسری علامت یہ ہے کہ شب قدر کے بعد صبح کو سورج کے طلوع ہونے کے وقت سورج کی شعاعیں یعنی کرنیں نہیں ہوتی ہیں۔
نوٹ: اختلافِ مطالع کے سبب مختلف ملکوں اور شہروں میں شبِ قدر مختلف دنوں میں ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں، کیونکہ ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شبِ قدر قرار پائے گی اُس جگہ اُسی رات میں شبِ قدر کی برکات حاصل ہوں گی ، انشاء اللہ۔
شب قدر ،اور اعتکاف
رمضان
المبارک کے تین عشروں کو اللہ کے رسول ﷺ نے تین حصوں میں تقسیم
کرتے ہوئے ان کے فضائل بیان کیے ہیں کہ اس کا پہلا عشرہ ’رحمت‘دوسرا’مغفرت‘
اور تیسرا ’جہنم سے چھٹکارے ‘کا ہے۔اس لیے مطلوب یہ ہے کہ تیسرے عشرے میں
غفلت کی چادرہٹاکر اس میں زیادہ سے زیادہ عبادت وریاضت کرکے ذریعے ہم
خداکا قرب حاصل کریں اوراپنے گناہوں سے تائب ہوکر جہنم کی آگ سے چھٹکارہ
پائیں ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں
کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں (اللہ کی عبادت )میں جس
قدرسخت محنت کرتے تھے اتنی اور کسی زمانے میں نہیں کرتے
تھے۔(مسلم)حضرت عائشہ ؓ سے ہی ایک اورروایت ہے کہ جب رمضان کی آخری دس تاریخیں
آتی تھی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمربستہ ہوجاتے تھے ۔ رات بھرجاگتے
اوراپنے گھروالوں کوبھی جگاتے تھے۔(بخاری(
رمضان کے
آخری عشرے کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اللہ نے اسی کی ایک طاق رات میں شب
قدرجیسی عظیم ترین رات رکھی ہے۔ جس کے تعلق سے اللہ کا فرمان ہے ۔
’’بیشک ہم نے قرآن کو شب
قدرمیں اتارا ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ شب قدرکیسی چیز ہے؟شب قدر ہزار مہینوں سے
بہترہے۔اس رات میں فرشتے اورروح القدس (جبریل ؑ)اپنے پروردگارکے حکم سے
ہرامر خیر کولے
کراترتے ہیں ۔سراپاسلام ہے۔یہ شب قدر(اسی صفت وبرکت کے ساتھ)طلوع فجرتک رہتی ہے۔‘‘
(سوۂ قدر(
نبی
کریم ؐ نے بھی متعدداحادیث اس کی فضیلت بیان کی ہے ۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ
آپﷺ نے ارشا فرمایاکہ جوشب قدرمیں عبادت کے لیے کھڑاہوا(نمازیں پڑھیں
،ذکرواذکارمیں لگارہا) تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں
گے۔(متفق علیہ(
حضرت ابن
عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شب قدرمیں وہ تمام فرشتے جن کا
مقام سدرۃ المنتہی پر ہے ،جبرئیل امین کے ساتھ دنیا میں اترتے ہیں
اورکوئی مومون مردیا عورت ایسی نہیں جس کو وہ سلام نہ کرتے ہوں ،بجزاس
آدمی کے جوشراب یا خنزیرکا گوشت کھاتا ہو۔
اس رت کی
فضیلت کے حصول کے تعلق سے نبی کریمﷺ کا عمل دیکھاجائے تومعلوم ہوتا ہے کہ آپؐ اس
رات کی برکت حاصل کرنے کے لیے بے حد جدجہد کرتے ہیں ، جس چیز کی جتنی اہمیت ہوتی
ہے ،اس کے لیے اتنی ہی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں حضرت
ابوسعید خدری ؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپؐ نے ایک ترکی طرز کے خیمے کے
اندررمضان کے دس دن گزارے۔اعتکاف ختم ہونے پرآپؐ نے اپنا سر مبارک خیمے
سے باہر نکالا اورفرمایا: میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے دس دن کا اعتکاف
کیا، پھرمیں نے بیچ کے دس دن کا اعتکاف کیا۔تب میرے پاس آنے والا آیا اورا
سنے مجھ سے کہا:’’ لیلۃ القدررمضان کی آخری دس راتوں میں ہے۔پس جولوگ میرے
ساتھ اعتکاف میں بیٹھے تھے انھیں چاہیے کہ وہ اب آخری دس دن بھی
اعتکاف کریں ۔مجھے یہ رات (لیلۃ القدر)دکھائی گئی تھی مگرپھربھلادی گئی اورمیں
نے دیکھا کہ میں اس رات کی صبح کوپانی اورمٹی میں (برسات کی وجہ
سے) نماز پڑھ رہا ہوں ۔پس تم لوگ اسے آخری دس دنوں کی طاق تاریخوں میں تلاش
کرو۔‘‘( بخاری ومسلم )
جہاں
تک شب قدر کی تعیین تعلق ہے تو اس سلسلے میں بہت سی احادیث ہیں ۔ایک
حدیث میں ہے :
تحروا لیلۃ القدرفی العشرالاواخرمن رمضان
یعنی شب قدررمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔
بخاری شریف
کی ہی ایک اورروایت کے مطابق آپؐ کا ارشاد ہے :
تحروالیلۃ القدرفی الوترمن العشرالاواخر من
رمضان ۔ یعنی شب قدرکو رمضان کے آخری عشرے کی طاق
راتوں میں تلاش کرو۔
اگرآخری
عشرے کی طاق راتوں (۲۱۔ ۲۳۔ ۲۵۔ ۲۷۔ ۲۹) کومرادلیاجائے
اور شب قدرکوان راتوں میں دائراور ہر رمضان میں
منتقل ہونے والا قراردیاجائے توایسی صورت تمام احادیث صحیحہ میں جوتعیین شب
قدرکے متعلق آئی ہیں ،تطبیق جمع ہوجاتی ہے۔ اسی
لیے اکثرائمہ فقہانے اس کو عشرہ اخیرہ میں منتقل ہونے والی رات قرار دیاہے۔
آپؐ کا یہ طرز عمل اورشب قدرکی تلاش وجستجواور
اس کاہتمام اس کی اہمیت کا پتہ دیتا ہے۔ مذکورہ واقعہ سے یہ بات بالکل درست ثابت
ہوتی ہے کہ اعتکاف کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ معتکف کواس رات کی
خیروبرکت سے مالامال کردیتا ہے۔ اس لیے کہ معتکف کا ہرعمل خداکی رضاکے لیے اسی کے
دربارمیں حاضری کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو عبادت میں شمار کیاجاتاہے۔لہذا
آخری عشرے کی طاق راتیں بھی انھیں میسرہوتی ہیں جس میں
شب قدرکوتلاش کرنے کا حکم ہے۔
شب قدرکی دعا
حضرت عائشہ
صدیقہ ؓنے نبی کریم ؐ سے دریافت کیا کہ اگرمیں شب قدرکوپاؤں توکیا دعاکروں
۔آپ نے فرمایا:یہ دعاکرو’’اللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفْوٌ تُحِبُّ
الْعَفْوَفَاعْف عَنِّی‘‘(قرطبی)۔ اے اللہ آپ بہت معاف کرنے والے ہیں
اورعفوودرگزرکوپسند فرماتے ہیں میری خطائیں معاف فرمائیے۔
رمضان،سفراور جہاد فی سبیل اللہ
اللہ کے
رسول ﷺ نے ماہ رمضان المبارک میں سفر بھی کیا اوراعلائے کلمۃ اللہ کے لیے
عزوات بھی کیے ۔اس طرح آپ نے کئی بار حالت سفر میں روزہ بھی رکھا اور کئی
بار صحابہ کے درمیان پانی منگواکر روزہ توڑبھی دیا تاکہ صحابہ کو حالت سفر میں
اور جنگی ضرورت کے پیش نظر کم زوری کا احساس نہ ہو۔غور کریں تو محسوس
ہوگا کہ رمضان کا تعلق جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ گہرامعلوم ہوتا ہے۔ مسلمانوں
کی پہلی جنگ جسے یوم الفرقان سے تعبیر کیا جاتا ہے،یعنی جنگ بدرجسے قرآن نے
بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ 17رمضان المبارک کوہوئی ۔فتح مکہ کی سورت میں حج
اور عمرے کی سعات یہ بھی رمضان المبارک میں حاصل ہوئی ۔تاریخ کے مطالعہ سے
معلوم ہوتا اس کے علاوہ بہت سے معرکے رمضان المبارک میں ہوئے۔اس لیے
مسلمانوں کی بڑی ذمہ داری ہے کہ ایسے مشکل وقت میں جب کہ روزہ کی حالت
میں ہوتو اسے مزید مجاہدے کی ضرورت ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا قرب
حاصل ہوسکے۔
رمضان کی آخری رات
رمضان کی
آخری رات جسے سب عید کی ’چاند رات‘ کہتے ہیں ، اس میں بہت سے لوگ
عبادت میں مشغول ہوتےہیں لیکن بہت سے لوگ ہیں جوعید کی خریداری
میں مصروف ملتے ہیں ۔ جب کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اسے امت مسلمہ کی مغفرت کی
رات سے تعبیر کیا ہے:
قِيلَ:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّ
الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ
رمضان کی آخری رات کو میری امت کی مغفرت ہوجاتی
ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ کیاےہی وہ لیلۃ القدر ہے؟ حضورؐ نے ارشاد
فرمایا نہیں ، بلکہ مزدور کو اس کی مزدوری اس وقت دی جاتی ہے جب وہ اپناکام مکمل
کرلیتا ہے۔ (مسند احمد)