جمعرات، 4 جنوری، 2018

شرحِ صدر اور اس کی علامتیں


عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ  قَالَ:’’ تَلاَ رَسُوْلُ الله: { فَمَنْ یُّرِدِ الله أَنْ یهديه یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْإِسْلَامِ}  فَقَالَ رَسُوْلُ الله: ’’إِنَّ النُّوْرَ إِذَا دَخَلَ الصَّدْرَ اِنْفَسَحَ، فَقِیْلَ: ’’یَا رَسُوْلَ الله! هل لِتِلْکَ مِنْ عَلَمٍ یُعْرَفُ بِه ؟ قَالَ: ’’ نَعَمْ، التَّجَافِیْ عَنْ دَارِ الْغُرُوْرِ، وَالإِنَابةُ إِلٰی دَارِالْخُلُوْدِ، وَالْاِسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نَزُوْلهِ‘‘۔(رواہ البیهقی فی شعب الإیمان، مشکوۃ/ص: ۴۴۶/کتاب الرقائق/الفصل الثالث)
ترجمہ  :   حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ  فرماتے ہیں، رحمت عالم   صلی اللہ علیہ و سلم  نے آیت کریمہ ’’فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ…الخ‘‘ تلاوت فرمائی، (جس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ جب کسی کو خاص ہدایت دینے کا ارادہ  فرماتے ہیں تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں) پھر حضور   صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’بلا شبہ جب نور(ایمان) سینہ میں داخل ہوجاتا ہے توسینہ (فراخ اور) کشادہ ہو جاتا ہے، (صحابہؓ  میں سے) کسی نے عرض کیا: ’’یا رسول اﷲ! کیا اس کی کوئی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جا سکے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جی ہاں ،تین علامتیں حسب ذیل ہیں:
            ۱-          دار الغروریعنی دھوکہ کے گھر دنیا سے دور رہنا ۔        
            ۲-       دار الخلود یعنی ہمیشگی کے گھر مراد آخرت کی طرف رجوع کرنا ۔  
            ۳-       اور موت کے آنے سے قبل اس کی تیاری کرنا۔

شرحِ صدر کی اہمیت  : اس دنیا میں رائج تمام مذاہب وادیان میں دین اسلام کو یہ مقام حاصل ہے کہ وہ کائنات کے خالق و مالک کے نزدیک مقبول و پسندیدہ دین ہے، اسلام ہی انسان کا اصل رہبرہے، اور اسی پر اس کی نجات کا دارومداربھی ہے، مگر اس حقیقت کو وہی سمجھ سکتا ہے جسے شرحِ صدر نصیب ہو جائے، جس کے سینہ میں اسلام وایمان کا نور داخل ہو جائے، لیکن اﷲ پاک یہ انعام ہر ایک کو نہیں دیتے، بلکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے، جسے ہدایت سے مالامال کرنا چاہتے ہیں اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں، اور پھر جیسے ہر چیز کو پہچاننے کا ایک خاص معیار ہے،اسی طرح جس کے سینہ میں نورِ ایمانی داخل ہو گیا، جسے شرحِ صدر نصیب ہو گیا، اس کے پہچاننے کا بھی ایک خاص معیار ہے۔شرحِ صدر کی علامات  :    حدیث مذکور میں فرمایا: ’’إِنَّ النَّوُرَ إِذَا دَخَلَ الصَّدْرَ اِنْفَسَحَ‘‘جب نورِ ایمان کسی کے سینہ میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کا سینہ کھل جاتا ہے، فراخ اور کشادہ ہو جاتا ہے، پھر وہ اسلام کے تمام احکام کو قبول کرتاہے او ران کی ادائیگی میں پیش آنے والی دشواری و تلخی بھی اسے شیریں معلوم ہوتی ہے،کسی نے عرض کیا:’’ حضور ! اس کے پہچاننے کی کوئی خاص علامت بھی ہے؟‘‘ تو فرمایا: ہاں، تین علامتیں ہیں، وہ جس میں پائی جائیں تو سمجھ لو کہ نورِ ایمان اس کے سینہ میں داخل ہو گیا، اس کا دل نورانی ہو گیا، اور جس میں یہ تین علامتیں نہ پائی جائیں وہ دل نورانی نہیں ظلمانی ہے، اور دل نورانی ہوتا ہے ایمان اورنیکیو ں کے نور سے، جب کہ کفر ومعصیت کی ظلمت سے دل ظلمانی ہو جاتا ہے۔
دارالغرور سے دور رہنا   :  بہر حال شرح صدر کی پہلی علامت یہ ہے: ’’اَلتَّجَافِیْ عَنْ دَارِ الْغُرُوْرِ‘‘ دارِغرور (دھوکہ کے گھر ) سے دور رہنا، اس سے مراد دنیا کی حرام لذت او رزیب وزینت ہے، قرآنِ کریم نے حیاتِ دنیوی کو دھوکہ سے تعبیر فرماکراس پر آگاہ کیا ہے  :  {یٰٓأَیُّھَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اﷲِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃ الدُّنْیَا} (فاطر : ۵)
او لوگو ! کان کھول کر سن لو ! بلا شبہ اﷲجل شانہ کا وعدہ حق ہے، لہٰذاکہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت تمہیں دھوکہ میں ڈال دے۔ 
مطلب یہ ہے کہ تم کہیں دارلغرورکی حرام لذتوں میں مشغول ہو کر یوم الموعود سے غافل نہ ہوجانا۔مولانا  رومؒ  فرماتے ہیں  :
زاں لقب شد خاک را  دار الغرورکو کشد مارا سپس یوم العبور .
اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دارالغرور کالقب اس لیے دیاکہ آج جو دنیااوراس کی چمک دمک اس وقت ہمارے سامنے ہے،کل موت کے وقت یہ ساری چیزیں ہماراساتھ چھوڑ دیں گی۔ اسی لیے علماء نے دنیا کی زندگی اور اس کے مال و متاع کی مثال سراب(چمکتی ریت)  سے دی ہے،جس طرح سخت دھوپ میں ریگستانی ریت کو چمکتا ہوا دیکھ کر پیاسا اس کی طرف بڑھتا ہے، مگر جب قریب جاکر حقیقت معلوم کرتا ہے تو اُسے اپنے دھوکہ میں مبتلا ہونے کا احساس ہوتا ہے، بالکل اسی طرح دنیادار اس کی ظاہری چمک دمک کو دیکھ کر دھوکہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں، پھر جب اس کی حقیقت کھلتی ہے تو بعض اوقات اکثر زندگی گذر چکی ہوتی ہے، یا کبھی اتنا وقت گذر چکا ہوتاہے کہ جس میں سوائے حسرت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا، اس لیے قبل از وقت یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب دنیا دارالغرورہے تو اس سے محبت کرنا بھی فضول ہے، اور بے وقوف ہیں وہ لوگ جو اس کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی کوبھول گئے۔ العیاذباﷲ العظیم۔
ایک عبرت ناک واقعہ  : روایت میں ایک نہایت عبرت ناک واقعہ منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا، وراثت کے معاملہ میں اس کے دو بیٹوں کے مابین دیوار کی تقسیم میں جھگڑا ہو گیا، جب معاملہ آگے بڑھ رہا تھا تو اچانک انہوں نے اس دیوار سے جس کے بارے میں جھگڑا ہو رہاتھا ایک آواز سنی، اُس عجیب و غریب غیبی آواز میں انہوں نے سناکہ  ’’تم دونوں جھگڑا مت کرو،میری حقیقت جان لو! میں ایک مدت تک اس دنیا میں بادشاہ رہا، پھر میرا انتقال ہو گیا، تو میرے بدن کے اجزاء مٹی کے ساتھ گھل مل گئے، اُس مٹی سے کمہا رنے مجھے گھڑے کی ٹھیکری بنادیا، اور ایک طویل مدت تک ٹھیکری کی صورت میں رہنے کے بعد مجھے توڑ دیا گیا، اس کے بعد ایک لمبی مدت تک ٹھیکری کے ٹکڑوں کی صورت میں رہنے کے بعد میں دوبارہ مٹی اور ریت کی صورت میں تبدیل ہوگیا، بعد میں لوگوں نے میرے اجزائِ  بدن کی مٹی سے اینٹیں بنا ڈالیں، اور آج تم مجھے اینٹوں کی شکل میں دیکھ رہے ہو،لہٰذا ایسی مذموم دنیا پر مت جھگڑو‘‘ ۔(از گلستان قناعت ص ۴۹۲، و بکھرے موتی ص ۳۶ جلد۲ ) .
کسی نے سچ کہاہے   :غرور تھا، نمود تھی، ہٹو بچو کی تھی صداآج تم سے کیا کہوں؟  لحد کا بھی نہیں پتہ تخت آرا تھا جو کل، وہ آج زیر خاک ہےعالم فانی کا یہ منظر، کتنا عبرت ناک ہے      آہ!
صاحبو! یہ دنیا کتنی پر فریب ہے؟ مگر اس کے باوجود دنیادار اس سے کتنے قریب ہیں ؟خوش نصیب وہ ہے جو اس کے دھوکے سے دور  رہے، ’’اللّٰھم اجعلنا منھم‘‘ آمین۔آخرت کی طرف رغبت  :          شرحِ صدر کی دوسری علامت ہے: ’’وَالإِنَابَۃُ إِلٰی دَارِالْخُلُوْدِ‘‘ دارالخلود  یعنی آخرت اور اس کے اعمال کی طرف رغبت، جس کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے بس وہ ہر وقت آخرت کی تیاری اور اس کو سنوارنے کی فکر میں رہتا ہے، وہ ہر وقت آخرت کے نفع نقصان کو مد نظر رکھتا ہے، اپنا وقت اور اپنی دولت آخرت کی بہتری و بہبود ی کے لیے صرف کرتا ہے، وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتا ہے، نہ کہ آخرت کو دنیا پر۔
موت سے قبل اس کی تیاری  : شرحِ صدر کی  تیسری علامت حدیث میں یہ بیان فرمائی گئی: ’’وَ الْاِسْتِعْدَادُ لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُوْلِہٖ‘‘مرنے سے قبل موت کی تیاری کرنا، یہ انسان کی دانائی اور عقلمندی کی بہت بڑی علامت ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کا مطیع بنائے اور مرنے کے بعد کی تیاری کر لے۔ (ترمذی، مشکوۃ /ص:۴۵۱).
موت سے قبل اس کی تیاری کی تین علامتیں  :    ملا علی قاری ؒ نے موت سے قبل مرنے کی تیاری کے لیے تین علامتیں ذکر فرمائی ہیں:      
۱-         توبہ کرنا ،یعنی تمام گناہوں (خواہ وہ حقوق العباد سے متعلق ہو ں یا حقوق اﷲ ) سے سچی پکی توبہ کر لینا ۔         
۲-        عبادتِ خداوندی میں کوشش کرنا (اور ہر وقت اس کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا)۔     
۳-       اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت کو اس کی اطاعت میں خرچ کرنا۔
موت کی تیاری ہر وقت ضروری ہے  :  بہر حال موت سے قبل اس کی تیاری نہایت ضروری ہے، صوفیہ وصلحاء  نے اس کا خوب اہتمام کیا تھا، وہ اس سے ذرہ برابرغافل نہ رہے، علماء حضرات فرماتے ہیں کہ :’’موت کی تیاری ہر وقت ضروری ہے، کیوں کہ وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے۔‘‘  
بقولِ شاعر: آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں  سامان سو برس کا، پل کی خبر نہیں         
موت کے لیے نہ کوئی بیماری ضروری ہے نہ بڑھاپا، بغیر بیماری اور بڑھاپے کے بھی موت آسکتی ہے، اس کا کوئی زمانہ اور وقت متعین نہیں، وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے، اسی لیے عقلمندی یہی ہے کہ بندہ ہر وقت اس کی تیاری رکھے۔         حضرت لقمان علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’میں نے چار ہزار انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کی، توچار باتیں ان میں مشترک پائیں، دو یاد رکھنے کی، اوردو بھلانے کی۔       یاد رکھنے والی چیزوںمیں سے ایک اللہ کی یادہے اوردوسری موت کی یادہے۔ اوربھلا نے والی دوچیزوں میں سے ایک نیکی کر کے بھول جانا، اور دوسری چیز احسان کر کے بھول جانا۔‘‘          حضرت رابعہ بصریہ ؒ کے متعلق آتا ہے کہ وہ ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتی تھیں، سوتی بہت کم تھیں، کسی نے وجہ دریافت کی، تو فرمایا:’’ ڈر لگتا ہے کہ کہیں سونے کی حالت میں موت واقع ہو جائے اور کلمہ نصیب نہ ہو، میں چاہتی ہوں کہ موت اس طرح آئے کہ اُس کے لیے پہلے سے تیار اور بیدار رہوں۔‘‘         
حضرت سفیان ثوریؒ فرماتے تھے کہ’’اگر ملک الموت آجائیں تو فوراً چل دوں،تھوڑی دیر بھی مہلت نہ مانگوں اتنا تیار بیٹھاہوں۔‘‘  الغرض شرحِ صدر کی تیسری علامت یہ ہے کہ موت سے قبل مرنے کی تیاری کی جائے۔   
اگرکسی خوش نصیب میں یہ علامات پائی جائیں تو سمجھ لیجئے اسے شرحِ صدر کی نعمت میسر ہوگئی۔
 اﷲ پاک ہم سب کو شرحِ صدر کی دولت سے مالا مال فرمائیں، آمین۔ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلهم .
بحوالہ گلدستہ حدیث     بتغیر یسیر   :    اکبر حسین اورکزئی

٭…٭…٭

سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کا خلاصہ اور فضیلت

--------------------------
سورة بقرہ
نام ::  اس سورت کا مشہورنام بقرۃہے۔  بقرۃ کے معنی گائے کے ہیں چونکہ اس صورت کے آٹھویں رکوع میں گائے سے متعلق ایک قصہ بیان ہوا ہے اس لیے اسی مناسبت سے اس کا نام سورة البقرہ (یعنی وہ سورت جس میں گائے کا ذکر ہے) رکھا گیا۔
مقام نزول:: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکے فرمان کے مطابق مدینہ منورہ میں سب سے پہلے یہی ’’سورۂ بقرہ‘‘ نازل ہوئی ۔(اس سے مراد ہے کہ جس سورت کی آیات سب سے پہلے نازل ہوئیں۔)  (خازن، تفسیرسورۃ البقرۃ، ۱/۱۹)
آیات،کلمات اور حروف کی تعداد: اس سورت میں 40 رکوع،286آیتیں ،6121 کلمات اور25500 حروف ہیں۔ (خازن، تفسیرسورۃ البقرۃ، ۱/۱۹-۲۰)
فضیلت :: صحیح حدیثوں میں سورة بقرہ کی بہت کچھ فضیلت ثابت ہے۔ ایک حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے۔ ان لکل شیئ سناما  وان سنام القران سورة البقرۃ (مستدرک ص 259 ج 2 ۔ جامع ترمذی ص 111 ج 2 وانظر تفسیر ابن کثیر ص 32 ج 1) یعنی ہر چیز کا ایک اعلی حصہ ہوتا ہے اور قرآن مجید کا اعلی و برتر حصہ سورة بقرہ ہے۔
خلاصہ :: سورة بقرہ کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ اس کے دو حصے ہیں حصہ اول ابتداء سورت سے وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ (رکوع 23) تک ہے.  اور دوسرا حصہ وہاں سے سورت کے آخر تک۔
حصہ اول:   میں دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔ توحید اور رسالت۔ ابتدائے سورت سے وَلَاھُمْ یُنْصَرُوْنَ تک توحید اور وَاِذِ ابْتَلٰی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ سے حصہ اول کے آخر تک رسالت کا بیان ہے۔ گویا کہ پہلا حصہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی تشریح ہے۔
 دوسرے حصہ:  میں مسلمانوں کے ظاہر و باطن کی اصلاح کے طریقے اور اندرونی نظام کو درست کرنے کے لیے امور انتظامیہ بیان فرما کر مشرکین کے مقابلہ میں انہیں جہاد اور انفاق کا حکم دیا گیا ہے گویا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی خاطر مشرکین سے جہاد کا حکم فرمایا گیا ہے۔
مضامین ::  سورۃ بقرۃ  قرآن پاک کی سب سے بڑی سورت ہے اور اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں بنی اسرائیل پر کئے گئے انعامات،ان انعامات کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی ناشکری، بنی سرائیل کے جرائم جیسے بچھڑے کی پوجا کرنا، سرکشی اور عناد کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام    سے طرح طرح کے مطالبات کرنا،اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرنا،انبیاء کرام علیہم السلام کو ناحق شہید کرنا اور عہد توڑناوغیرہ،گائے ذبح کرنے کا واقعہ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود یہودیوں کے باطل عقائد و نظریات اور ان کی خباثتوں کو بیان کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو یہودیوں کی دھوکہ دہی سے آگاہ کیا گیا ہے۔
 سورت کی روح : دینی اور دنیوی لحاظ سے منظر ہو کر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی خاطر مشرکین سے جہاد کرو۔
 --------------------------------------
سورۃ ال عمران
نام :: اس سورت کے چوتھے رکوع میں آل عمران کا ذکر ہے۔ اس لیے اسی مناسبت سے اس کا نام سورة آل عمران رکھا گیا ہے۔
مقامِ نزول :: سورۂ آلِ عمران مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے۔     (خازن، ال عمران، ۱/۲۲۸)
آیات،کلمات اور حروف کی تعداد:اس میں 20رکوع، 200 آیتیں ،3480 کلمات اور14520حروف ہیں۔ (خازن، ال عمران، ۱/۲۲۸)
 شان نزول :: مفسرین نے لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد مدینہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جو ان کے ساٹھ چیدہ آدمیوں پر مشتمل تھا،  یہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑنے لگے، تو ان کی رد میں  سورة آل عمران کی ابتدائی اسی آیتیں نازل ہوئیں۔ (خازن۔ ج 1 ۔)
فضیلت ::  اس سورت کے مختلف فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے ۔
حضرت نواس بن سمعان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن قرآنِ مجید اور اس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا، ان کے آگے سورۂ بقرہ اور سورۂ آلِ عمران ہوں گی ، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کریں گی۔ (مسلم، باب فضل قراء ۃ القرآن )

خلاصئہ مضامین ::  اس سورت میں مشرکین نصاریٰ کے شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے۔ انہیں کچھ شبہات توحید کے بارے میں تھے اور کچھ رسالت کے بارے میں تو ان کا رد کیا گیا ہے . اور نصاری کو دعوت دی گئی ہے کہ  آخری پیغمبر آچکا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا لایا ہوا پیغام توحید مان لو اور حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم (علیہما السلام) کی عبادت اور پکار چھوڑ دو ۔ آخری پیغمبر کے ساتھ مل کر اشاعتِ توحید کی خاطر مشرکین سے جہاد کرو۔ اور سورة آل عمران میں چار مضامین بیان کیے گئے ہیں (1) توحید (2) رسالت (3) جہاد فی سبیل اللہ اور (4) انفاق فی سبیل اللہ .

منگل، 2 جنوری، 2018

وقت کی تیز رفتاری اور ہماری بے حسی


عَنْ أَنَسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله :’’ لَا تَقُوْمُ السَّاعة حَتیّٰ یَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، فَتَکُوْنُ السَّنة کَالشهرِ، وَالشهرُ کَالْجُمُعةِ، وَتَکُوْنُ الجُمُعةُ کَالْیَوْمِ، وَیَکُوْنُ الْیَوْمُ کَالسَّاعةِ، وَتَکُوْنُ السَّاعةُ کَالضَّرْمةِ بِالنَّارِ‘‘۔(رواہ الترمذي، مشکوۃ/ص : ۴۷۰/ باب أشراطِ الساعۃ/الفصل الثانی)  
ترجمہ  :   حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ قیامت قائم نہ ہوگی، یہاں تک کہ زمانہ قریب ہو جائے گا، پس سال مہینہ کی طرح ،اور مہینہ جمعہ(ہفتہ)کی طرح، اور جمعہ (ہفتہ) دن کی طرح ،اور دن ایک ساعت (گھنٹہ ) کی طرح ہوگا، اور گھنٹہ (بھی اتنا مختصرہوگا ) جیسا کہ آگ کا شعلہ (گھاس کے تنکے پر جلدی سے جل کر) سلگ جاتا ہے‘‘۔

وقت کا صحیح استعمال باعث برکت ہے  : وقت اﷲ پاک کی ایک گرانقدر نعمت ہے، اگر اسے غفلت میں ضائع نہ کیا جائے تو  وقت میں خوب برکت بھی ہے ۔اسی لیے حضرت عمرؓ  اپنی دعائوں میں فرماتے کہ ’’یا اﷲ! اوقاتِ زندگی میں برکت عطا فرما، اور اسے صحیح مصرف میں لگانے کی توفیق عطا فرما‘‘ ۔اسلام میں وقت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ حق تعالیٰ کی جانب  سے بہت سے اسلامی اعمال کو اوقات کے ساتھ خاص کیاگیا، حضور صلی اللہ علیہ و سلم  نے منجانب اللہ ہمارے لیے خصوصی احکام مقرر کرنے کے ساتھ ان کی ادائیگی کے اوقات بھی مقرر فرمائے۔ چنانچہ نمازکے بارے میں ارشاد ہے:
 { إِنَّ الصَّلوٰۃَ کَانَتْ عَلٰی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰاباً مَّوْقُوْتاً} (النساء : ۱۰۳)    
نماز مومنین پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ۔
اسی طرح روزہ، زکوٰۃ، صدقۂ فطر، قربانی، حج ، حیض و نفاس کے احکام ،رضاعت اورطلاق ووفات کی عدت وغیرہ اسلامی احکام کے اوقات مقرر ہیں۔ظاہر ہے کہ جب ایک مسلمان ان متعینہ اعمال کو مقررہ اوقات میں انجام دینے کا عادی ہوگاتو ہر کام بروقت انجام دینا اس کی طبیعت بن جائے گی، جس کے نتیجہ میںوقت کا صحیح استعمال ہوگا۔پھراگر وقت کو صحیح جگہ خرچ کیا جائے تو اس میں برکت ہوتی ہے، اور پھر آدمی تھوڑے وقت میں ایسے عظیم عظیم کارنامے انجام دیتا ہے کہ بعض اوقات اتنے وقت میں سینکڑوں  آدمی مل کر بھی نہیں دے پاتے، اسلاف کے کارنامے اس کی روشن مثالیں ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ اگر وقت کو غفلت میں برباد کر دیاجائے تو وقت سے برکت ہٹا لی جاتی ہے، اس کے بعد آدمی تنگی ٔوقت کا شکوہ کر کے بعض اوقات بہت سے کاموں سے محروم ہو جاتا ہے، بالخصوص جب کہ وقت کم اور کام زیادہ ہو، دورِ حاضر میں عموماً لوگو ںکی یہ شکایت ہے کہ ’’جی !کام بہت ہے، لیکن وقت کم ہے‘‘ یہ شکایت تنگی ٔوقت کے باعث کی جاتی ہے، جب کہ یہ وقت کو ضائع کرنے کے نتیجہ میں اس سے برکت ہٹالیے جانے کی نحوست ہے۔
قرب قیامت کی ایک علامت  :اورحدیث بالا میں تنگی ٔوقت کو علامت قیامت بتلایاگیا، فرمایا: ’’َلَا تَقُوْمُ السَّاعةُ حَتّٰی یَتَقَارَبَ الزَّمَانُ‘‘۔ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی یہاں تک کہ زمانہ جلد از جلد نہ گذرنے لگے، یعنی زمانہ اور وقت سمٹ کر قریب ہوجائے، محدثینؒ نے اس کے مختلف مطالب بیان فرمائے ہیں:        
(۱)       اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کا زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہوجائے گا۔
(۲)      دوسرا مطلب یہ ہے کہ شراور فساد کے لیے زمانہ والے ایک دوسرے سے قریب ہوجائیں گے۔  
             جیساکہ آج کل واٹس ایپ(Whatsaap) اور اس جیسی دوسری انٹرنیٹ کی سائٹوں نے لوگوں  
              کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے۔         
(۳)      بعضوں نے کہا کہ اس سے لوگوں کی عمروں میں کمی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اہل زمانہ کی
            عمریں قربِ قیامت سے قبل کم ہوجائیں گی ۔    
(۴)      اوربعضوں نے فرمایا کہ اس سے زمانہ کی قلت مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قربِ قیامت سے قبل زمانہ بھی قریب ہو جائے گا، جس کا اثر یہ ہوگا کہ لوگوں کو عموماً وقت کے گذرنے کا احساس بھی نہ ہوگا، کہ سال مہینہ کی طرح، مہینہ ہفتہ کی طرح ،ہفتہ دن کی طرح، اور دن گھنٹہ کی طرح گذر جائے گا، آج ایسا ہی ہے ،کہاں سال ختم ہو گیا؟ کب مہینہ گذر گیا؟ اور کیسے ہفتہ ہوگیا؟ کچھ پتہ نہیں۔  
؎غافل! تجھے گھڑیال یہ دیتی ہے منادی خالق نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی تنگی ٔوقت کے اسباب  : علامہ تورپشتی ؒ نے تنگی ٔوقت کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں:     
۱-        وقت میں قلت برکت نہ ہونے کے سبب ہوگی۔(اور بے برکتی ضیاعِ وقت یعنی وقت کا صحیح استعمال نہ کرنے سے ہوگی، جیسا کہ عرض کیاگیا)۔           
۲-        یا پھر اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اُس وقت لوگ عام طور پردنیوی حالات و تفکرات میں اس طرح گھرے ہوئے ہوں گے کہ ضیاعِ وقت کا ادراک واحساس تک ختم ہو جائے گاکہ کب صبح ہوئی اور کب شام؟ کس طرح ہوئی؟ جائز طریقہ سے یا ناجائز طریقہ سے؟ ایک عمومی مدہوشی و بے حسی طاری ہوگی،اسی کو فرمایا:
{اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَہُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُعْرِضُوْنَ} (الأنبیاء : ۱)    
 لوگوں کے حساب (قیامت) کا وقت قریب آگیا، او روہ پھر بھی غفلت میں ہیں اعراض کیے ہوئے۔        
 اگرچہ علامہ خطابی ؒ نے فرمایا کہ حدیث پاک میں وقت کی جس تیزرفتاری کا ذکر ہے اس کا حقیقی ظہور خروجِ دجال کے وقت حضرت امام مہدى    اور حضرت عیسٰی ؑ کے عہد میں ہوگا ۔ ( مرقاۃ شرحِ مشکوۃ /ص: ۱۶۹/جلد : ۱۰)           .
مگر اِس زمانہ میں وقت کی بے برکتی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا ہوچکی ہے، آج ہماری بے حسی اور وقت میں بے برکتی دونوں ہمارے سامنے ہیں۔
عمومی بے حسی  :بے حسی و مدہوشی کا تو یہ حال ہے کہ آئے دن بڑے بڑے حادثات و سانحات پیش آتے ہیں، کہیں زلزلہ، کہیں سیلاب، کہیں طوفان، کہیں ہوائی جہاز ٹوٹا، کہیں ریل حادثہ ہوا، کہیں بس ہوئی بے بس، کہیں قومی فساد میں سینکڑوں مارے گئے، غرض چاروں طرف تباہی اور جانی ومالی بربادی کی خبریں،یہ سب کچھ ہم لوگ روزانہ پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں، مگر اس سے ہمارے دلوں میں کوئی جنبش تک پیدا نہیں ہوتی، بس اخبارات پڑھے اور ڈال دیے ردی کی ٹوکری میں، گویا اتنے عظیم عظیم واقعات صرف پڑھنے اور سننے کے لیے ہیں! یہ کتنی بڑی بے حسی ہے؟ اگر یہی حال رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پکارنے والا پکار اٹھے :اے موجِ حوادث! ان کو بھی دو چار تھپیڑے ہلکے سے کچھ لوگ ابھی تک ساحل پر طوفان کا نظارہ کرتے ہیں اورچشمِ تاریخ کے ابرو کے اشارے دیکھو!کس روش پہ یہ ہیں؟ حالات کے دھارے دیکھو! بے برکتی وبے حسی لازم  ملزوم ہیں  : ساری اسلامی تعلیمات اور انسانی ہمدردی بے حسی کی نذر ہوگئی۔ ’’إِنَّاﷲِ وإنا إلیہ راجعون‘‘ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان حالات کو پڑھ سن کر، کم از کم دو جملے دعا کے کہہ لیتے کہ ’’یا اﷲ! آپ کی مخلوق تباہ ہو رہی ہے، آپ کے علاوہ کوئی بچانے والا نہیں، ہم سب پر رحم فرما، اور اپنے غضب وغصہ سے بچا‘‘۔            ’’اَللهم لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تهلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ‘‘۔ (مشکوٰۃ/ص:۳۳۱) اگر ہم سے اتنا بھی نہیں ہوتا تو کیا یہ بے حسی نہیں ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ آج جو وقت میں بے برکتی ہو رہی  ہے، یہ ہماری بے حسی کا ثمر ہ اور نتیجہ ہے، جو قیامت کی ایک نشانی ہے، اور یاد رکھیے کہ بے برکتی وبے حسی
 لاز وم  ملزوم ہیں۔ وقت کو تیز رفتاری کے ساتھ قیمتی کیسے بنا سکتے ہیں؟           
صاحبو! بس ذرا بے حسی دور ہو جائے تووقت کو تیز رفتاری کے ساتھ بھی قیمتی اور بابرکت بنایا جا سکتا ہے، اور دنیا سے آخرت کے لیے، تندرستی سے بیماری کے لیے، جوانی سے بڑھاپے کے لیے اور زندگی سے موت کے بعد کے لیے  بہت کچھ نفع حاصل کیا جا سکتا ہے، کیوںکہ وقت میں بڑی عجیب خاصیت یہ بھی ہے کہ   :وقت میںتنگی و فراخی دونوں ہیں، جیسے ربڑکھینچنے سے بڑھتی ہے، چھوڑنے سے جاتی ہے سکڑ             عاجز کے ناقص خیال میں وقت کو کارآمدو قیمتی بنانے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں:  پہلی چزنظام الاوقات اور دوسری چیز احتساب الاوقات۔    
۱-        نظام الاوقاتTime Table )) (بنانے کا مطلب یہ ہے کہ  زندگی کے تمام اوقات میں کاموں کی ترتیب بنانا، اور ہر کام کے لیے ایک وقت اور ہر وقت کے لیے ایک کام متعین کرنا،یہ سنت ہے، اور اس سے دو فائد ے حاصل ہوں گے:
(۱) کام کے وقت تردد سے وقت ضائع نہ ہوگا۔
 (۲) ہر کام اپنے وقت پر دل جمعی کے ساتھ کیا جاسکے گا۔
ایک واقعہ  : تاریخ میں جتنی عملی اور عظیم شخصیات گذری ہیں ان کی پابندیٔ نظام الاوقات ضرب المثل ہے۔ شیخ الاسلام علامہ مفتی محمدتقی عثمانیؔ مدظلہٗ نے اپنے مواعظ میں ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن زیاد بن ا نعم ؒایک بہت بڑے محدث گذرے ہیں،ان کے زمانہ میں ایک شخص کے دل میں یہ عجیب و غریب سوال پیدا ہوا کہ میں مختلف علماء و محدثین سے سوال کروں کہ اگر آپ کو یہ پتہ چل جائے کہ کل ہماری موت آنے والی ہے، تو آپ اپنی زندگی کے اُس آخری دن کو کس طرح اور کن کاموں میں گذاریں گے؟ سوال کا مقصد یہ تھا کہ سوال کے جواب میں علماء، فقہا اور محدثین بہترین کاموں کا ذکر فرمائیں گے، اور اس طرح مجھے بہترین کاموں کا پتہ چل جائے گا، اور میں اپنی بقیہ زندگی میں ان کا اہتمام کروں گا، اس خیال سے اس شخص نے بہت سے اکابر سے یہ سوال کیا، اب سوال کے جواب میں کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ، لیکن وہ جب حضرت عبدالرحمن ؒ کی خدمت میں گیا اور یہ سوال کیاتو جواب میں حضرت نے فرمایا: ’’میں تو وہی کام کروں گا جو روزانہ کرتا ہوں‘‘ اس لیے کہ میں نے شروع سے اپنا نظام الاوقات بنالیا ہے، اور اس خیا ل کو سامنے رکھ کر کہ شاید یہ دن میری زندگی کا آخری دن ہو، میرے بنائے ہوئے نظام الاوقات میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ کسی اور عمل کا اضافہ کر سکوں، لہٰذا جو عمل روزانہ کرتا ہوں آخر ی دن بھی وہی کروں گا۔‘‘( اصلاحی خطبات/ ص: ۲۵۲/جلد :۷،  مرنے سے پہلے موت کی تیاری).
 اکابر کی کامیابی کا راز  :
اکابر کی کامیابی کاراز یہ بھی ہے کہ انہوں نے نظام الاوقات بنائے، جو وقت کو تیزرفتاری کے ساتھ قیمتی بنانے کے لیے نہایت ہی ضروری ہے، لہٰذا ہم بھی اپنے آپ کو کسی نہ کسی جائز و مباح کام میں اتنا مشغول رکھیں کہ غلط اور گناہ کے کام کے لیے فرصت ہی نہ رہے۔         
۲- دوسری چیز ’’احتساب الاوقات‘‘۔  یعنی صبح بیدارہونے سے رات کو سونے تک کیا کھویا؟ کیا پایا ؟ کتنا فائدہ ہوا؟ کتنا نقصان ہوا؟ اس کے پرکھنے کی کسوٹی احتساب ہے ۔ ان تمام باتوں پر ہمیں اپنی ذاتی  عدالت میں غور کرنا چاہیے، جہاں ہم خود ہی جج ہیں، خود ہی وکیل ہیں او رخود ہی مجرم ہیں،اگر وقت کی کچھ اہمیت ہے تو انسان احتساب سے بھی نشانِ منزل پاکر مستقبل کے لیے اپنے اندر عملی جذبہ پیدا کر سکتا ہے۔ اور رہی یہ بات کہ ماضی پر حسرت اور مافات پر ندامت سے مزید وقت ضائع ہوتا ہے، تو خوب سمجھ لو! یہ اس وقت ہے جب کہ حسرت وندامت سے نیا حوصلہ و جذبہ اور عزم و ارادہ پیدانہ ہوتا ہو۔غرض وقت کو تیز رفتاری کے ساتھ قیمتی بنانے کے لیے نظام الاوقات اور احتساب  الاوقات دونوں باتیں ضروری ہیں۔گذرگیاجو عہد عشرت، نہ کر تو ناداں اس کی حسرتقدر اس کی سمجھ غنیمت، جو پیشِ نگاہ اب ہے وقت   اس نکتہ کو نہ بھولوکہ درحقیقت بڑا آدمی وہ ہے جو زندگی کے ہر دن کواپنا آخری دن سمجھ کر اپنے اوقات کو بڑے کارناموں میں خرچ کرے، او روقت کے ایک ایک لمحہ کی قدر کرے۔ اﷲ پاک ہمیں اپنا وقت صحیح جگہ لگانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
 وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلِّھِمْ
بحوالہ گلدستہ حدیث بتغیر یسیر  :   اکبر حسین اورکزئی

٭…٭…٭

فتنوں کے احوال اور احکام


عَنْ أَبِیْ هرَیْرَۃ رَضِيَالله عَنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله : ’’بَادِرُوْا بِالأَعْمَالِ فِتَناً کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَ یُمْسِیْ کَافِراً، وَّ یُمْسِیْ مُؤْمِناً وَیُصْبِحُ کَافِراً، یَبِیْعُ دِیْنه بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیاَ‘‘ ۔(رواہ مسلم و الترمذی، مشکوۃ/ص:۴۶۲، کتاب الفتن/الفصل الأول)    
ترجمہ  :   حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رحمت عالم  صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’نیک اعمال میں جلدی کر لو، فتنوں کے آنے سے پہلے پہلے (کیوںکہ آنے والے فتنے) اندھیری رات کے مانند ہوں گے، (اُس وقت آدمی) صبح مؤمن ہوگااور شام کو کافر،اور اگرشام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر، دنیا کے معمولی نفع کے عوض آدمی اپنے دین کو بیچ دے گا۔

فتنہ کے معنیٰ اور مفہوم  : اللہ رب العزت نے اس دنیا کو آزمائش کے لیے بنایاہے، اس لیے دنیاکو دارالفتن یعنی فتنوں اور آزمائشوںکا گھر کہاجاتاہے۔ لفظ’’فتنہ‘‘ کے کئی معانی آتے ہیں، مثلاً آزمائش، کسی پر فریفتہ ہونا، گمراہ ہونا، گناہ ، ذلت ، عذاب و غیرہ، اس کے ایک معنی ہیں: ’’سونے یا چاندی کو آگ میں پگھلا کر اس کا کھرا کھوٹا معلوم کرنا‘‘ (مصباح اللغات /ص:۶۱۸) تاکہ اس کے خالص ہونے نہ ہونے کی حقیقت سامنے آجائے،اِس فتنہ کے لفظ کو اِس معنی کے اعتبار سے آزمائش و امتحان کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، کیوںکہ ا س سے بھی انسان کی اندرونی کیفیت کا پتہ چلتا ہے، اسی کو قرآن میں یوں فرمایا:          {وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ} (العنکبوت : ۳)   
تحقیق کہ ہم نے ان سب کی آزمائش کی ہے جو ان سے پہلے گذرچکے ہیں، لہٰذا (اگرچہ اللہ تعالیٰ کو شروع ہی سے سب کچھ معلوم ہے، مگر اپنے اس ازلی علم کی بنیاد پر جزا وسزا کافیصلہ کرنے کے بجائے لوگوں پر حجت قائم کرنے کے لیے) ضرور معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ ہیں جنہو ں نے سچائی سے کام لیاہے، او روہ یہ بھی معلوم کر کے رہے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔ 
یوں تو دنیا کی ساری زندگی آزمائش کے لیے ہے، لیکن یہ آزمائش اور فتنے آخری زمانے میں بڑھ جائیں گے چنانچہ حدیث مذکور میں ’’فتنہ‘‘ کا لفظ جس مفہوم میں مستعمل ہوا اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ  دنیا کے آخری دور میں گمراہی و بے دینی عام ہو جائے گی اور ایسی خطرناک صورتِ حال پیدا ہوجائے گی جس میں ایمان و کفر کا امتیاز، حق و باطل کا فرق اور صحیح و غلط کی تمیز مشکل ہو جائے گی اور دین کے معاملہ میںآدمی شک اور تذبذب کا شکار ہوجائے گا، ایسے دور کو  دورِ فتن کہا جائے گا۔دورِ فتن کا حال او راس کی وجہ  :
 حدیث بالا میں دورِ فتن سے قبل عمل میں جلدی کرنے کی ترغیب دی ہے، فرمایا: ’’بَادِرُوْا بِالأَعْمَالِ فِتَناً‘‘ اندھیری رات کے مانند تاریک فتنوں کا زمانہ آنے سے پہلے آج اگر موقع ہے نیک اعمال کاتو اس سے فائدہ اٹھالو، اور زیادہ سے زیادہ نیک کام کر لو، کیوںکہ جب فتنوں کا دور شروع ہوگا تو معاملہ نہایت دشوار ہوجائے گا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے؟ اُس زمانہ میں طاعت خدا وندی کی طرف توجہ کم ہوگی، اور اعمالِ شرعیہ کو بکمالہٖ ادا کرنامشکل ہو جائے گا، کیوںکہ حالات پرسکون نہ ہونے کی وجہ سے دل میں ہر وقت فکر و بے اطمینانی کی کیفیت رہے گی، پھر دورِ فتن کی مذکورہ صورتِ حال کی بھی چندوجودہات بیان کی گئی ہیں، مثلاً:
(۱) مسلمانو ںکا آپسی عصبیت کی وجہ سے اختلاف۔
(۲) مسلمانوں کے امراء وحکام کا ظلم و زیادتی  والا معاملہ کرنا۔
(۳) مسلمانوں کا علم دین سے دور ہونا اور احکامِ شریعت کی خلاف ورزی کرنا۔
نیز اتباعِ شہوت و غفلت ، ان وجوہات کے سبب پرفتن حالات پیدا ہوں گے۔دورِ فتن میں ضعیف الایمان لوگوں کا حال   حضور  صلی اللہ علیہ و سلم نے دورِ فتن کی آگاہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ حالات ایسے خطرناک اور اتنے شدید و پر فتن ہوں گے کہ عام آدمی کا ایمان و اعمال پر یاکمالِ ایمان اور کمالِ اعمال پرباقی رہنا مشکل ہو جائے گا۔  ’’یُصْبِحُ الرَّجلُ مُؤْمِناً وَیُمْسِیْ کَافِراً‘‘  صبح تومو من ہوگا، مگر شام تک فتنوں میں ایسا مبتلا ہوجائے گا کہ ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھے گا ، اور شام کو تو مومن ہوگا، مگر فتنوں میں ملوث ہو کر صبح تک کافر ہو جائے گا۔ یاکفرانِ نعمت میںمبتلا ہوجائے گا۔ یاکافروں کے مشابہ ہوجائے گا۔ یاکافروں کے اعمال پر عمل پیراہوجائے گا۔ کیونکہ چاروں طرف سے ایمان و اعمال کو مٹانے کی کوشش ہوگی، پھربعض ضعیف الایمان لوگوں کی حالت یہ ہوگی کہ دنیا کے معمولی نفع کے عوض دین بیچ دیں گے، ان ہی جیسوں کے لیے قرآن کہتاہے:   
{ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَہٗ خَیْرُنِ اطْمَأَنَّ بِہٖ وَإِنْ أَصَابَتْہُ فِتْنَۃُنِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ} (الحج : ۱۱)     
اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتاہے، چناںچہ اگر اسے (دنیامیں) کوئی فائدہ پہنچ گیاتو وہ مطمئن ہوجاتاہے، اور اگراسے کوئی آزمائش پیش آگئی تو وہ منہ موڑکر(پھر کفر کی طرف) چل دیتاہے، ایسے شخص نے دنیا بھی کھوئی او رآخرت بھی، یہی تو کھلا ہوا گھاٹا ہے۔           
ایسامحسوس ہوتاہے کہ قرآن وحدیث میں دورِ فتن کے جو آثارو احوال بتلائے ہیں اب وہ نظر آ رہے ہیں، لوگوں میں آج حرص و ہوس اتنی عام ہے کہ دین و ایمان کا سودا کرنے کو تیارہیں۔
حرص وہوس کی منڈی میں٭ہرچیز کا سودا ہوتا ہےملائوں کے سجدے بکتے ہیں٭پنڈت کے بھجن بک جاتے ہیں .
ایک نہایت عبرت ناک واقعہ    : صاحبو! افسوس صرف اسی پر نہیں ہے کہ جو عمربھر کفر وشرک پر رہا اور مرا،بلکہ افسوس تو اس پرہے جو عمر بھر ایمان پر رہا، مگر اخیر میں حرص وہوس کی وجہ سے ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھا اور کفر پر مرا۔(العیاذ باللہ العظیم) ابھی پچھلے دنوں یونان میں ایک نہایت عبرت ناک واقعہ پیش آیا، وہاں کی ایک کمپنیCompany) (میں بنگلہ دیش کا ایک مسلم نوجوان کام کر رہا تھا، اس کی دوستی اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک عیسائی (christian) لڑکی سے ہوگئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ عشق تک جا پہنچا، نوجوان کا نام مظہر الاسلام تھا، اس نے اپنی معشوقہ سے شادی کا مطالبہ رکھا، تو اس نے صاف کہہ دیاکہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ تم اپنا مذہب تبدیل کر کے عیسائی بن جائو، چناںچہ مظہر الاسلام فورا ًراضی ہو گیا، یہ ہے ،
’’یَبِیْعُ دِیْنه بِعَرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا‘‘ کی ایک مثال ہے ،جب نوجوان کے والدین اور دوست واحباب کو پتہ چلا تو انہوں نے اس کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر؟  عشق آمد عقل او آوارہ شد٭صبح آمد شمع او بیچارہ شد .      
عشق کی وجہ سے عقل ختم ہوجاتی ہے، جیسے صبح سے اندھیرا ختم ہوجاتاہے۔
اس لیے کہتے ہیں نا!مریض عشق پر لعنت خدا کی٭مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی.نوجوان اپنے فیصلہ پر اٹل رہااور مرتد ہو کر کسی چرچChurch) (میں جا کر شادی کر لی، جب بنگلہ دیش اس کے والدین کو اطلاع ملی تو انہوں نے ہمیشہ کے لیے اس سے رشتہ منقطع کر لیا، دوسری طرف نوجوان کی شادی کے بعد کچھ دن تو بڑی خوشی کے ساتھ گذرے، تین ماہ کے بعد ایک دن دونوں میاں بیوی کار میں کہیں جا رہے تھے، اچانک بریک فیل ہونے کے سبب کار ہوگئی بے کار، کسی درخت سے ٹکرائی اور نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہوگیا، اس طرح وہ{خَسِرَ الدُّنْیاَ وَ الآخِرَۃَ} کا مصداق بنا۔
نہ خدا ہی ملا، نہ وصالِ صنم٭نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے صنم(مستفاد از: صوت القرآن ٹائٹل ص: ۱/ دسمبر/ء  ۲۰۰۵).
کیوں کہ قرآن نے کہا:  
{ إِنَّ الَّذِیْنْ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالإِیْمَانِ لَنْ یَّضُـرُّوْا اللّٰہَ شَیْئاً وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ} (آل عمران : ۱۷۷)       
کفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کوکوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، خود ان ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
یہ تو بطورِ مثال ایک واقعہ تھا، ایسے واقعات تو آئے دن نہ جانے کتنے پیش آتے ہوں گے؟ اللہ ہی بہتر جانے۔
دورِ  پُرفتن میں فتنۂ ارتداد کا استئصال اورایمان پر استقامت کی دعا
صاحبو! عجیب بات یہ ہے کہ پہلے غیرمسلم چاہتے تھے کہ ہم مسلمان ہوجائیں،اب بعض مسلمان چاہتے ہیں کہ ہم غیر وں جیسے ہوجائیں۔آج ظاہر میں تو ہم  میں سے بعض لوگ غیروں سے نفرت کرتے ہیں، مگر ان کی تہذیب سے محبت کرتے ہیں، جب کہ مسلمانوں سے بظاہر محبت کرتے ہیں، مگر اسلامی تہذیب سے نفرت کرتے ہیں، یہ عمومی حال اس فتنے کے دور کاہوگیا ہے۔ (الا ماشاء اللہ)           علماءٗ فرماتے ہیں كہ:’’یہ حقیقت ہے کہ کچھ مدت تک یہ بات ناقابل قیاس سمجھی جاتی تھی کہ مسلمان بھی دین حق سے منحرف ہو کر کوئی اور مذہب قبول کرلیں،لیکن جہالت، پسماندگی، غربت  یاغفلت و ناواقفی کی وجہ سے اب صورتِ حال خاصی بدل چکی ہے، بعض کم فہم،ناواقف اورغافل مسلمان ارتداد کے چنگل میں مبتلا نظر آنے لگے،اسباب جو بھی ہوں، لیکن بدقسمتی سے فتنۂ ارتداد کی کالی گھٹائیں مسلمانوں کی طرف بڑھ رہی ہیں، ان حالات میں دینی تحریکوں، جماعتوں، تنظیموں اور  اداروں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ اس کے سد ِباب کے لیے باہم سرجوڑ کر بیٹھیں اورمسلمانوں میںشعور پیداکریں، اس کے لیے باقاعدہ علماء کو تیار کیاجائے اور ائمہ کے تربیتی اجتماعات رکھے جائیں۔‘‘عاجز کا ناقص خیال ہے کہ اگرہم نے ایسے فتنوں سے آنکھیں بندکر لیں، اور خدانخواستہ ایک دفعہ مسلم معاشرے میں فتنۂ ارتداد کو گھسنے کا موقع مل گیا تو پھر یہ جڑ پکڑتا جائے گا، او ربعد میں اس کا تدارک دشوار ہوجائے گا۔ضرورت ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہوں، اوراللہ تعالیٰ نے ہمیں جس دین حق کا امین بنایاہے اس کی حفاظت و اشاعت کے لیے کمر بستہ ہوجائیں، اسی کے ساتھ اپنے لیے اور اپنی نسلوں کے لیے ایسے موقع پر ایمان و ہدایت پر استقامت کے لیے
 یہ دعا بکثرت مانگتے رہیں :   
{ رَبَّنَا لَاتُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ} (آل عمران : ۸)  
پروردگار! ہدایت دینے کے بعدہمارے دل ٹیڑھے نہ کردے، اور ہمیں خصوصی رحمت دے، یقینا تو بڑی عطا والا ہے۔
نیز یہ دعا بھی مانگیں:    ’’ اَللهم إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهرَ مِنها وَمَابَطَنَ۔‘‘ (کنز العمال:۲/۲۶۴)        
دورِ فتن میں اس دعاکا اہتمام کرلیا تو ایمان پر استقامت نصیب ہوگی۔ (ان شاء اللہ)
الٰہی! خیر ہو کہ فتنۂ آخر زماں آیارہے ایمان ودیں باقی کہ وقت امتحاں آیا .      علماء نے لکھا ہے کہ آدمی فتنہ میں مبتلا ہونے کے اندیشہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے سلامتی ٔ ایمان کے ساتھ دنیا سے اُٹھائے جانے کی دعا بھی کر سکتا ہے، چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنے اخیری دور میں یہ دعا فرمائی  :   ’’ اَللهم کَبِرَتْ سِنِّیْ، وَ ضَعُفَتْ قُوَّتِیْ، وَ انْتَشَرَتْ رَعِیَّتِیْ، فَاقْبِضْنِیْ إِلَیْکَ غَیْرَ مُضَیِّعٍ وَّ لاَ مُفَرِّطٍ۔‘‘ (المؤطا للإمام مالکؒ / باب ما جاء فی الرجم)     
ترجمہ  :    ’’اے اللہ! میری عمر بڑھ گئی ہے، میری قوت ختم ہو گئی ہے، اور میری رعیت پھیل گئی ہے، اس لیے مجھے کسی چیز کے ضائع کرنے سے اور کسی قسم کی زیادتی سرزد ہونے سے پہلے اُٹھا لیجیے۔
دورِ فتن کے لیے دو احکام  :بہر حال دورِفتن کی جو علامتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیںان کا ظہور تقریباً ہو چکا ہے، ایسی صورت میںدعائِ مذکور کے اہتمام کے علاوہ علامہ مفتی محمدتقی عثمانیؔ مدظلہٗ کے بقول ہمیں دو کام کرنے ہیں،جن کاایک حدیث پاک میں تذکرہ ملتاہے۔
 ۱- ’’تَلْزَمُ جَمَاعة الْمُسْلِمِیْنَ وَ إِمَامهم‘‘ پہلا اور ابتدائی کام(جو عزیمت  یعنی اصل او رمستقل حکم ہے ) مسلمانوں کی بڑی جماعت اور ان کے  امام کو لازم پکڑنا،اور لوگوں کی رشد و ہدایت کے لیے برابر فکر مند رہنا، ان سے کنارہ کشی اور خلوت نشینی اختیار نہ کرنا۔         لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت والی جماعت ہو، لیکن ان کا کوئی  امام نہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہیے؟        
۲-  ایسی صورت میں دوسرا حکم یہ ہے کہ کسی جماعت کے بارے میں یقینی طور پر حق و باطل کا پتہ نہ چلے، اور العیاذ باللہ العظیم حالات اس درجہ نزاکت اختیار کرلیں کہ مخلوق کے ساتھ تعلق رکھنے کی صورت میں جان و ایمان کا خطرہ ہو، اورنوبت یہاں تک پہنچ جائے کہ     { إِنَّہُمْ إِِنْ یَّظْہَرُوْا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوْکُمْ أَوْ یُعِیْدُوْکُمْ فِیْ مِلَّتِہِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْا إِذًا أَبَدًا}  (الکہف :۲۰) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ کافر اور اہل باطل تم پر غلبہ پا لیں گے، تو تمہیں سنگسار کر دیں گے (جانی نقصان پہنچائیں گے) یا پھر تمہیں اپنی ملت (ومذہب) میں لوٹالیں گے، (دینی نقصان پہنچائیں گے) اور پھر تم کبھی بھی کامیاب نہ ہو سکوگے۔  تو اس صورت میں اس کے سوا کوئی راستہ نہیں (بلکہ اُس وقت رخصت ہے، لیکن یاد رکھو کہ رخصت کی حیثیت مستقل حکم کی نہیں ہوتی، بلکہ کسی عارض کی بنا پر جو وقتی حکم دیاجاتاہے شرعی اصطلاح میں اسے رخصت کہتے ہیں، جیسے پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت وغیرہ) کہ ہر جماعت سے علیٰحدگی اختیار کرکے اپنے ایمان و اعمال کی حفاظت اور اپنی اصلاح کی فکر میں آدمی اپنے گھرکو لازم
 پکڑے ،اور بلا دینی و دنیوی ضرورت کے گھر سے باہر نہ نکلے، حدیث میں فرمایا:
’’اَلْقَاعِدُ فِیها خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَ الْقَائِمُ فِیها خَیْرٌ مِنْ الْمَاشِی، وَالْمَاشِیْ فِیهاخَیْرٌ مِّنَ السَّاعِیْ‘‘۔ (مشکوٰۃ/ص:۴۶۲)    اُس زمانہ میں (گھر میں) بیٹھنے والا کھڑے  سے اچھاہوگا، اور کھڑاچلنے والے سے بہتر ہوگا، ان میں چلنے والا دوڑنے والے سے افضل ہوگا۔
گویا وہ وقت اجتماعی کام کے بجائے انفرادی کام کا ہوگا، اس لیے  حق و باطل کے اشتباہ کے وقت  اپنی اصلاح اور اپنے  ایمان کو بچانے کی فکر کرناہی عافیت کا راستہ ہے، اسی لیے فرمایا:
{ یٰٓأَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اھْتَدَیْتُمْ}(المائدۃ : ۱۰۵)    
اے ایمان والو ! اپنی ذات کی خبر لو ! اپنی اصلاح کی فکر کرو ! اگر تم ہدایت پر آگئے اور تم نے دعوت الی الخیر کا فریضہ انجام دے دیاتو پھر جو لوگ گمراہی کی طرف جا رہے ہیں ان کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا ئے گی۔(مستفاد از:  ذکروفکر/ ص :  ۲۳۹)       
بہر حال دورِ فتن کے لیے دعا کے علاوہ یہ دواحکام کتاب و سنت میں ملتے ہیں ، دعا بھی کریں کہ حق تعالیٰ ہمیں تمام ظاہری و باطنی اوردینی ودنیوی فتنوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
 وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلهم .
من گلدستہ حدیث بتغیر یسیر :  اکبر حسین اورکزئی

٭…٭…٭