جمعہ، 15 جون، 2018

بائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنے کی تحقیق



قرآن و حدیث میں ذکر وتسبیح کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
"ذکر اللہ " کے لغوی مفہوم میں اگرچہ کافی عموم ہے۔ نمازوغیرہ کو بھی یہ شامل ہے۔ لیکن اس کا اصطلاحی اطلاق  تسبیح وتہلیل وغیرہ پر زیادہ ہے۔
اذکار وتسبیح   کے شمار کرنے میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک انگلیوں کے پوروں پہ گننا ثابت و مروی ہے۔

(۱) عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح - قال ابن قدامة - بیمینہ ․ (سنن ابی داود، ابواب الوتر، باب التسبیح بالحصی ۱/۲۱۰ وسکت عنہ ابوداود، ونقل المنذری تحسین الترمذی واقرہ واخرجہ الترمذی وفی روایتہ: بیدہ، واخرجہ ابن حبان ایضا بلفظ بیدہ)
”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا، کہ آپ تسبیح شمار فرمارہے تھے - اس سند کے امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے شیخ ثانی ابن قدامہ نے اس روایت میں ”بیمینہ“ (دائیں ہاتھ مبارک سے) کا اضافہ نقل کیا ہے۔جس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ اپنے دائیں دست مبارک سے تسبیح شمار فرمارہے تھے۔“

2۔۔عن یسیرة وکانت من المہاجرات قالت: قال لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: علیکن بالتسبیح والتہلیل والتقدیس واعقدن بالانامل فانہن مسئولات مستنطقات ولا تغفلن فتنسین الرحمة․ قال الترمذی: ہذا حدیث انما نعرفہ من حدیث ہانی بن عثمان ․ (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، احادیث شتّی ۲/۱۹۹ سنن ابی داود، کتاب الصلاة، ابواب الوتر، باب التسبیح بالحصی ۱/۲۱۰ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ۲/۱۰۳ حدیث: ۸۳۹، مسند احمد ۶/۴۰۲ حدیث: ۲۷۱۵۴، وحسّنہ النووی فی ”الاذکار“ ص:۲۲ وابن حجر فی ”نتائج الافکار“ ۱/۸۴)
”حضرت یسیرہ (بنت یاسر) رضی اللہ عنہا سے جو مہاجرات میں سے ہیں، روایت ہے، کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہم سے ارشاد فرمایا، کہ تم تسبیح (سبحان اللہ کہنا)، تہلیل (لا الہ الا اللہ کہنا)، اور تقدیس  کو لازم پکڑو، اور ان کو انگلیوں کے پوروں سے شمار کرو، اس لیے کہ (دیگر اعضاء کی طرح) پوروں سے بھی (قیامت کے دن ان سے کیے گئے اعمال کے بارے میں) سوال کیا جائے گا، اور ان میں گویائی پیدا کرکے ان کو بُلوایا جائے گا۔ اور ذکر سے غافل مت ہوؤ یعنی ذکر کو مت چھوڑو، ورنہ تم رحمت کو یعنی سبب رحمت کو چھوڑنے والی ہوں گی۔“

ان دونوں حدیثوں میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا *قول اور عمل* انگلیوں کے پوروں پہ تسبیحات شمار کرنے کا ہونا مصرح ہے۔وہیں اس سلسلے میں کسی مخصوص ہاتھ کے پوروں کی تعیین وتحدید بھی نہیں کی گئی ۔بلکہ اس کے طریقے وکیفیت کے سلسلے میں یک گونہ آزادی دی گئی ہے۔اور اس  جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ اس عمل خیر میں ہاتھ کے زیادہ سے زیادہ پوروے شریک ہوں تاکہ روز قیامت گواہی دے سکیں ۔
اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں متعدد صحابہ وامہات المومنین نے کنکریوں اور کھجور کی گٹھیوں پر بھی تسبیحات شمار کی ہیں۔جنہیں آپ نے دیکھا اور کچھ نکیر کئے بغیر اسے برقرار رکھا۔مثلا :

عن سعد بن ابي وقاص انہ دخل مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علٰی امرأة وبین یدیہا نوی اوحصی تُسبِّحُ بہا، فقال: (الا) اخبرک بما ہو ایسر علیک من ہذا او افضل، فقال: سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی السماء وسبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی الارض وسبحان اللّٰہ عدد ما خلق بین ذلک وسبحان اللّٰہ عدد ما ہو خالق، واللّٰہ اکبر مثل ذلک، والحمد للّٰہ مثل ذلک، ولا الہ الا اللّٰہ مثل ذلک، ولا حول ولاقوة الا باللّٰہ مثل ذلک․ (سنن ابی داود، ابواب الوتر، باب التسبیح بالحصی ۱/۲۱۰، جامع ترمذی، احادیث شتّی من ابواب الدعوات وقال الترمذی: حسن غریب ۲/۱۹۷، واخرجہ ابن حبان: الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ۲/۱۰۱ حدیث: ۸۳۵ والحاکم وقال الحاکم: صحیح الاسناد ووافقہ الذہبی: المستدرک للحاکم ج:۱، ص:۵۴۷، ۵۴۸، والطبرانی فی الدعاء ۳/۱۵۸۴ حدیث: ۱۷۳۸)

”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی معیت میں ایک خاتون کے پاس پہنچے ( ام المومنین )دراں حالیکہ اس خاتون کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں یا سنگریزے تھے، وہ ان گٹھلیوں یا کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میں تم کو وہ نہ بتادوں،جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا فرمایا کہ اس سے افضل ہے، پھر آپ نے فرمایا: (کہ تم اس طرح کہو:) سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی السماء و سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی الارض وسبحان اللّٰہ عدد ما بین ذلک و سبحان اللّٰہ عدد ما ہو خالق اللّٰہ أكبر عدد ما ہو خالق .  (اللہ اکبر عدد ما خلق فی السماء واللہ اکبر عدد ما خلق فی الارض ․․․) الحمد للہ اسی طرح، لا الہ الا اللہ اسی طرح اور لاحول و لاقوة الا باللہ اسی طرح۔“
(۲)   وعن حفصة قالت
دخل علیّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبین یدی اربعة آلاف نواة اسبح بہا (بہن) قال: لقد سبّحت بہذہ، الا اعلمک باکثر ممّا سبحت بہ فقلت: بلی علمنی فقال: قولی: سبحان اللّٰہ عدد خلقہ․ (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب بلا ترجمة قبیل احادیث شتّی من ابواب الدعوات، وقال الترمذی: ہذا حدیث غریب لانعرفہ من حدیث صفیة الا من ہذا الوجہ من حدیث ہاشم بن سعید الکوفی ولیس اسنادہ بمعروف ۲/۱۹۵ و اخرجہ الحاکم فی المستدرک ۱/۵۴۷ وقال: ہذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ، ووافقہ الذہبی)
”حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، دراں حالیکہ میرے سامنے کھجور کی چار ہزار گٹھلیاں تھیں، جن کے ذریعہ میں تسبیح پڑھ رہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ان کے ذریعہ جتنی تسبیح پڑھی، میں اس سے زیادہ تم کو نہ بتلاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! مجھے سکھائیے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: تم کہو: سبحان اللہ عدد خلقہ“۔
ان دونوں روایتوں سے ثابت ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کو کنکروں اور گٹھلیوں پر بھی تسبیح پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے۔اس سلسلے کی مزید روایات و آثار کے لئے  ”سنن ابی دائود“ ”باب التسبیح بالحصی“ (سنن ابی داود، ابواب الوتر ۱/۲۱۰)
اور  ”نیل الاوطار“  للشوکانی ”باب جواز عقد التسبیح بالید وعدّہ بالنوی ونحوہ“ (نیل الاوطار ۲/۳۱۶) کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔(ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ10-11، جلد: 91 ‏، رمضان-ذی قعد 1428 ہجری مطابق اکتوبر -نومبر2007ء)

دور جدید کے دھاگے دار تسبیح کے دانوں پر اذکار شمار کرنے کے جواز کی دلیل بھی یہی روایت ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ"مجموع فتاوی، جلد۔٢٢ص -٥٠٦- لکھتے ہیں :

وعد التسبيح بالأصابع سنة كما قال النبي صلى الله عليه وسلم للنساء‏:‏ ‏"‏سبحن واعقدن بالأصابع فإنهن مسؤولات مستنطقات‏"‏‏.‏ وأما عده بالنوى والحصى ونحو ذلك، فحسن‏.‏ وكان من الصحابة رضي الله عنهم من يفعل ذلك، وقد رأى النبي صلى الله عليه وسلم أم المؤمنين تسبح بالحصى، وأقرها على ذلك، وروي أن أبا هريرة كان يسبح به‏.‏
وأما التسبيح بما يجعل في نظام من الخرز، ونحوه، فمن الناس من كرهه، ومنهم من لم يكرهه، وإذا أحسنت فيه النية، فهو حسن غير مكروه، وأما اتخاذه من غير حاجة، أو إظهاره للناس مثل تعليقة في العنق، أو جعله كالسوار في اليد، أو نحو ذلك فهذا إما رياء للناس، أو مظنة المراءاة ومشابهة المرائين من غير حاجة‏.‏ الأول محرم، والثاني أقل أحواله الكراهة؛ فإن مراءاة الناس في العبادات المختصة كالصلاة والصيام والذكر وقراءة القرآن من أعظم الذنوب۔"

 انگلیوں پر تسبیح پڑھنا سنت ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے کہا تھا کہ اپنی انگلیوں پر تسبیح پڑھو کیونکہ ان انگلیوں سے بھی قیامت کے دن سوال ہو گا اور یہ کلام کریں گی۔ جہاں تک تسبیح کو گھٹلی یا کنکری وغیرہ پر پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ بھی بہتر ہے کیونکہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایسا کرنا مروی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین کو کنکریوں پر تسبیح پڑھتے دیکھا تو اس سے روکا نہیں۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بھی کنکریوں پر تسبیح پڑھتے تھے۔
جہاں تک اس تسبیح کا تعلق ہے جو ایک دھاگے میں پرو کر تیار ہوتی ہے تو بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں اور بعض مکروہ نہیں سمجھتے ہیں۔ پس اگر تیری نیت اچھی ہو ( مثلا ہر وقت اپنی زبان کو ذکر سے تر رکھنا وغیرہ کی عادت ڈالنا ) تو ایسا کرنا بہتر ہے اور اس میں کراہت نہیں ہے۔ اور اگر ایسا بغیر کسی وجہ کے کیا جائے یا لوگوں کو دکھلانے کے لیے ہو کہ اس تسبیح کو گردن میں لٹکا لے یا ہاتھ میں گنگن کی طرح لپیٹ لے وغیرہ تو یہ عمل یا تو ریاکاری کے سبب سے کیا جاتا ہے یا ریاکاری اور ریاکاروں سے مشابہت کی صورت ہے۔ پہلی صورت یعنی ریاکاری کے لیے تسبیح پکڑنا حرام ہے جبکہ دوسری صورت یعنی ریاکاری یا ریاکاروں کے عمل سے مشابہت کا کم تر درجہ بھی کراہت ہے۔ مخصوص عبادات مثلا نماز، روزہ، ذکر اور تلاوت قرآن وغیرہ میں دکھلاوا کرنا عظیم ترین گناہوں میں سے ہے۔

 علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
والحدیثان الاخران (حدیث سعد بن ابی وقاص الذی اخرجہ ابوداود والترمذی وغیرہما وحدیث صفیة الذی اخرجہ الترمذی والحاکم وصححہ السیوطی) یدلاّن علٰی جواز عدّ التسبیح بالنوی والحصی وکذا بالسبحة لعدم الفارق لتقریرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم للمرأتین علٰی ذلک وعدم انکارہ․ (نیل الاوطار ۲/۳۱۶)
تحفة الأحوذي   میں ہے :
ویدلّ علٰی جواز عدّ التسبیح بالنوی والحصی حدیث سعد بن ابی وقاص․․․ وحدیث صفیة ․․․ (تحفة الاحوذی بشرح جامع الترمذی ۹/۳۲۲)

وفیہ دلیل علٰی جواز عدّ التسبیح بالنوی والحصی وکذا بالسبحة لعدم الفارق لتقریرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم للمرأة علٰی ذلک وعدم انکارہ ․․․ (تحفة الاحوذی ۱۰/۱۲)
ہکذا فی بذل المجہود شرح سنن ابی داود“ ۶/۲۲۹ دارالبشائر الاسلامیہ)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الروایات فی التسبیح بالنوی والحصی کثیرة عن الصحابة وبعض امہات الموٴمنین؛ بل رآہا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم واقرہا․ (مجموعة رسائل اللکنوی ۱/۱۳۲۔بحوالہ مولانا مفتی عمر لوہاروی صاحب یو کے ۔ماہنامہ دارالعلوم دیوبند  )
یعنی باتفاق جمہور علماء کرام دھاگہ دار تسبیح پر اذکار شمار کرنا بھی اگرچہ جائز ہے لیکن جیساکہ حدیث سے واضح ہوا کہ انگلیوں کے پوروں پہ شمار کرنا زیادہ اولی وبہتر ہے ۔

پہر اوپر کی  جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ "اے خواتین ! انگلیوں کے پوروں سے تسبیحات کو شمار کرو کہ ان سے بھی پوچھ ہوگی اور ان کو بھی گویائی عطا کی جائےگی"۔
اس ارشاد میں آپ ﷺ نے دائیں اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں کوئی فرق نہیں فرمایا ہے، البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كان يُحِبُّ التَّيامُنَ ما استطاع: في طُهورِه وتنَعُّلِه وترَجُّلِه قال شُعبةُ: ثمَّ سمِعْتُ الأشعثَ بواسِطَ يقولُ: ( يُحِبُّ التَّيامُنَ - وذكَر شأنَه كلَّه ثمَّ قال: - شهِدْتُه بالكوفةِ يقولُ: يُحِبُّ التَّيامُنَ ما استطاع .
الراوي: عائشة المحدث: ابن حبان - المصدر: صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 1091
خلاصة حكم المحدث: أخرجه في صحيحه
"آپ ﷺ وضو، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ دائیں طرف سے ابتداء کی جائے"۔
اس لئے  دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح پڑھنا بہتر اور اولی ہے۔پہلے دائیں ہاتھ پہ پڑھے۔ضرورت پڑنے پر  پھر بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر بھی تسبیح پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔
کیونکہ بائیں ہاتھ کو عربی میں
"اليسرى " کہتے ہیں ۔
جس کے معنی ہی سہولت اور آسانی کے آتےہیں ۔اسی لئے مالداری کو "یسار " کہتے ہیں۔تو بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ میں تسبیح وغیرہ گننے میں مددگار اور سہولت کار ہونے کی وجہ سے "الیسری " کہا جاتا ہے۔
امام رازی لکھتے ہیں :
[اليسر في اللغة معناه: السهولة؛ ومنه يقال للغنى والسعة: اليسار؛ لأنه يسهل به الأمور، واليد اليسرى قيل: تلي الفعال باليسر، وقيل: إنه يتسهل الأمر بمعونتها اليمنى۔ اهـ."مفاتيح الغيب" (5/258، ط. دار إحياء التراث العربي)

امام قرطبی بھی اپنی تفسیر میں یہی لکھتے ہیں ۔
 [سميت اليد اليسرى تفاؤلا، أو لأنه يسهل له الأمر بمعاونتها لليمنى] اهـ. القرطبي في "تفسيره" (2/301، ط. دار الكتب المصرية)

افضل الذکر قرآن کریم کی تلاوت ہے ۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور تابعین نے اس افضل الذکر کو بائیں ہاتھ سے شمار فرمایا ہے ۔ملاحظہ ہو :
حافظ ابو عمرو دانی اپنی کتاب: البیان فی عد آي القرآن  میں روایت نقل کرتے ہیں :
: «أَن النَّبِي صلى الله عليه وآله وسلم كَانَ يعد ﴿بِسم الله الرَّحْمَن الرَّحِيم﴾ آيَةً فاصلة، ﴿الْحَمد لله رب الْعَالمين الرَّحْمَن الرَّحِيم مَالك يَوْم الدّين﴾ وَكَذَلِكَ كَانَ يَقْرؤها،
﴿إياك نعْبد وَإِيَّاك نستعين اهدنا الصِّرَاط الْمُسْتَقيم﴾ إِلَى آخرهَا سبع، وَعقد بِيَدِهِ الْيُسْرَى وَجمع بكفيه».وأخرج أيضًا عَن التابعيِّ الجليل ابْن سِيرِين:
"أَنه كَانَ يعد الْآي فِي الصَّلَاة بِشمَالِهِ".

وأخرج عَن التابِعيَّيْن الجليلين طَاوُوس وَمُحَمّد بن سِيرِين: "أَنَّهُمَا كَانَا لَا يريان بَأْسًا بِعقد الْآي فِي الصَّلَاة، وَكَانَ
ابْن سِيرِين يعْقد بِشمَالِهِ".

وأخرج عن إِبْرَاهِيم بن سعد عَن أَبِيه: "أنه رأى عُرْوَة بن الزبير رضي الله عنه يعْقد الآي بيساره فِي الصَّلَاة".۔۔۔۔
الحافظ أبو عمرو الداني في كتابه "البيان في عدّ آي القرآن" (ص: 66، ط. مركز المخطوطات والتراث۔ بَاب ذكر من رأى العقد باليسار،
(شیخ مصراوی کے پیج سے )

جب دوران نماز قرآنی آیات بائیں ہاتھ سے شمار کی جاسکتی ہیں تو خارج نماز تسبیحات بائیں ہاتھ سے شمار کرنے میں کون سی قباحت ہے ؟؟؟
آخر یہ بھی تو قابل غور ہے کہ رکوع میں ،سجدے میں جاتے اور اٹھتے ہوئے۔رفع یدین میں ۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے میں ، معوذتین پڑھ کر بدن پر پہونک مارنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دونوں ہاتھ کا استعمال فرمایا ہے تو تسبیحات شمار کرنے میں دونوں ہاتھ استعمال کیوں نہ ہوں؟ ؟
اگر تسبیح شمار کرنے کے لئےبائیں ہاتھ میں کوئی خرابی ہے تو ان مذکورہ جگہوں میں یہ خرابی کیوں نہیں ؟؟؟

 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا فَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ كَيْفَ يَنْفِثُ قَالَ كَانَ يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ
صحيح البخاري5403
بَاب الرُّقَى بِالْقُرْآنِ وَالْمُعَوِّذَاتِ

 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ أَطْرَافٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ
صحيح مسلم 491

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء: چہرہ ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں“۔
صحیح مسلم/الصلاة ۴۴ (۴۹۱)، سنن الترمذی/الصلاة ۹۱ (۲۷۲)، سنن النسائی/التطبیق ۴۱ (۱۰۹۵)، ۴۶ (۱۱۰۰)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۹ (۸۸۵)، (تحفة الأشراف: ۵۱۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۰۶) (صحیح)

دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے تسبیح واذکار شمار کی جاسکتی ہیں۔شرعا کوئی حرج نہیں ۔
والله أعلم بالصواب
شكيل منصور القاسمي
مركز البحوث الإسلامية العالمي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا مسنون ہے، ایک حدیث میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑتھے تھے، نیز حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے کاموں کے لیے داہنے ہاتھ کا استعمال فرماتے تھے ، لہذا دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا بہتر ہوگا،تاہم بائیں ہاتھ سے بھی تسبیح پڑھنا ناجائز نہیں ہے۔ قال النووي: روینا في سنن أبي داوٴد والترمذي وفي سنن النسائي باسناد حسن عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہماقال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح۔ وفي روایة: بیمینہ۔ ( الأذکار للنووي: ۱/۱۸، تحقیق: عبد القادر الأرنوٴوط، ط: دار الفکر، بیروت )وقال العیني: عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح۔ قال ابن قدامة: بیمینہ۔ ( شرح أبي داوٴد للعیني:۵/۴۱۳، کتاب الصلاة، باب التسبیح بالحصی، ط:مکتبة الرشد، الریاض ) و عن عائشة رضي اللّٰہ عنہا قالت: کانت ید رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الیمنی لطہورہ و طعامہ، وکانت ید الیسری لخلائہ وما کان من الأذی۔ ( أبو داوٴد، ص: ۵، ط: مکتبہ، بلال، دیوبند ) فتاوی دار العلوم (۱۷/۱۰۵، ذکر و دعا کا بیان ) میں ہے: سوال: بائیں ہاتھ سے تسبیح کا پڑھنا روا ہے یا نہیں؟ الجواب: بہتر داہنا ہاتھ ہے۔ 

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،د ارالعلوم دیوبند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
ذِکْرِ اِلٰھِی کے لئے تسبیح یا بائیں ہاتھ کا استعمال
متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں بعض اذکار گنتی کے ساتھ بھی مطلوب ہیں اور یہ تعداد مختلف طریقوں سے پوری کی جاسکتی ہے، مثلاً صرف دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے، دونوں ہاتھ کی انگلیوں سے، کنکریوں سے، کھجور یا کسی اور چیز کی گٹھلی سے یا اسی طرح تسبیح کے ذریعہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ذکر کے لئے گنتی کرنے کا کوئی خاص طریقہ معین نہیں فرمایا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   اپنے مبارک ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (ترمذی ۳۴۱۱ اور ۳۴۸۶، نسائی۸۱۹ اور ۱۲۷۸، ابن ماجہ، ابوداود۵۰۶۵، مسند احمد ۲/۲۰۴، بیہقی، صحیح ابن حبان، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، بزار، الادب المفرد للبخاری۱۲۱۶) اس حدیث میں دائیں یا بائیں ہاتھ کی تعیین کے بغیر بیان کیا گیا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم   اپنے ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ البتہ ابو داود کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے داہنے ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ یہ حدیث ایک سند کے علاوہ باقی تمام سندوں سے دائیں (یمین) لفظ کے بغیر وارد ہوئی ہے۔ اس لئے اکثر محدثین نے دائیں لفظ کے اضافہ کوشاذ تسلیم کیا ہے، یعنی دائیں (یمین) کا لفظ راوی (محمد بن قدامہؒ ) کی طرف سے بڑھایا ہوا ہے۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے صحابہ کرام کا مختلف چیزوں پر گنتی کرکے ذکر کرنااحادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی کسی صحابی کو انگلیوں کے علاوہ کسی اور چیز پر گنتی کرکے ذکر کرنے سے نہیں روکا ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   سے دائیں یا بائیں ہاتھ کی تحدید کے بغیر ہاتھ پر تسبیح پڑھنا ثابت ہے، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کو اپنے ہاتھ مبارک کی انگلیوں پر تسبیح شمار کرتے دیکھا۔ (ترمذی، باب ما جاء فی عقد التسبیح بالید(آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں کو دائیں یا بائیں ہاتھ کی تحدید کے بغیر انگلیوں پر تسبیح پڑھنے کا حکم دیا۔ (ترمذی، باب فی فضل التسبیح(ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حییؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   میرے پاس تشریف لائے ، میرے پاس چار ہزار کھجور کی گٹھلیاں رکھی ہوئی تھیں جن پر میں تسبیح پڑھا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا : حیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: ان گٹھلیوں پر میں تسبیح پڑھ رہی ہوں۔ (ترمذی ۴/۲۷۴ ۳۵۵۴، رواہ الحاکم فی المستدرک ۱/۷۳۲ وقال ہذا حدیث صحیح، ووافقہ الذھبی ۱/۵۴۷(حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ایک صحابیہ کے پاس گیا جن کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی ہوئی تھیں جن پر وہ تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔ (ترمذی ۵/۵۶۲ ۳۵۶۸، ابوداود ۔ باب التسبیح بالحصی ۱۵۰۰(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (ترمذی ۸/۷۱، مسند احمد ۲/۵۴۰، ابوداود ، مصنف ابن ابی شیبہ ۲/۱۶۰ ) * حضرت جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔ (مسند احمد، ابو داود(تسبیح کے متعلق علماء کرام کے اقوال:متعدد احادیث صحیحہ کی روشنی میں جمہور محدثین، فقہاء اور علماء کرام کی رائے یہی ہے کہ اذکار کی گنتی کے لئے انگلیوں کے علاوہ کھجور یا کسی اور چیز کی گٹھلی یا کنکری یا تسبیح کا استعمال کیا جاسکتا ہے، اگرچہ انگلیوں کا استعمال زیادہ بہتر ہے، کیونکہ یہ چیزیں مقصود عبادت نہیں ہیں بلکہ عبادت کا ذریعہ ہیں، مثلاً مساجد میں اسپیکر کا استعمال عبادت مقصودہ نہیں ہے بلکہ عبادت کے ایک جزء کے اداکرنے کا ذریعہ ہے، لہذا مساجد میں اسپیکر کے استعمال کی طرح تسبیح کا استعمال بھی بدعت نہیں ہے۔ ہند وپاک اور بنگلادیش کے جمہور علماء کرام بھی (جو قرآن وسنت کی روشنی میں امام ابو حنیفہ ؒ کی رائے کو اختیار کرتے ہیں) یہی فرماتے ہیں کہ تسبیح پر بھی ذکر کیا جاسکتا ہے۔ مشہور مفسر قرآن شیخ جلال الدین سیوطی مصری شافعی(متوفی ۹۱۱ھ)نے اپنی کتاب "المنحۃ فی السبحۃ" میں دلائل کے ساتھ تسبیح پر ذکر کرنے کے جواز پر جمہور علماء کاموقف تحریر فرمایا ہے۔
سعودی عرب کے مشہور ومعروف عالم دین وسابق مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز ؒ نے بھی یہی وضاحت کی ہے جو ان کی ویب سائٹ پر اس لنک کے ذریعہ پڑھی اور سنی جاسکتی ہے:

خلاصۂ کلام: مذکورہ احادیث صحیحہ وفقہاء وعلماء کرام کے اقوال کی روشنی میں ذکر الہی کے لئے صرف داہنا ہاتھ یا دونوں ہاتھ یا تسبیح وغیرہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اقوال وافعال کی روشنی میں برصغیر کے علماء کا بھی یہی موقف ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص دونوں ہاتھ یا تسبیح کے ذریعہ ذکر کرتا ہے تو کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِس عمل کو بدعت کہے یا اُس شخص کو اُس کے عمل سے روکنے کی کوشش کرے، کیونکہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم  نے کنکری یا گٹھلی وغیرہ پر صحابہ کرام یا صحابیات کو ذکر کرنے سے کبھی نہیں روکا، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  یا کسی صحابی یا تابعی یا تبع تابعی سے بائیں ہاتھ پر ذکر کرنے سے کوئی انکار حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ملتا، تو ہمیں کیا حق حاصل ہے کہ ہم کسی شخص کو بائیں ہاتھ پر یا تسبیح پر ذکر کرنے سے روکیں۔ اگر ذکر کرنے کے لئے صرف دائیں ہاتھ پر ہی اکتفاء ضروری ہے تو قرآن کریم کو چھونے، اس کی طباعت اور جلدسازی کے لئے، اسی طرح بیت اللہ کا غلاف تیار کرنے اور اس کو بیت اللہ پر چڑھانے ، نیز مسجد کی تعمیر اور جانماز وغیرہ کو تیار کرنے میں صرف داہنے ہاتھ کے استعمال پر ہی اکتفاء کرنا ہوگا، اور ظاہر ہے کہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، لہٰذا ہم دونوں ہاتھ، اسی طرح تسبیح پر بھی ذکر کرسکتے ہیں۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی

پیر، 21 مئی، 2018

ایک حدیث کی تحقیق :تحریر مولانا عزیز الرحمن



الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين نبينا محمد، وعلى آله وصحابته أجمعيناما بعد
اکثر علماء حضرات رمضان المبارک کے مہینے کے بارے میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں جو کہ [1] حضرت سلمان الفارسي(رضي الله عنه)سے روایت ہے ،کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو باعظمت مہینہ تمہارے آوپر سایہ فگن  ہورہا))) پھر آگے ارشاد ہے ماہ رمضان میں نفل اعمال کا ثواب رمضان کے علاوہ دوسری دنوں میں فرض آعمال کے ثواب کے برابر ہے)) رمضان میں کسی ایک فرض کی ادائیگی کا ثواب دوسرے دنوں میں ستر فرض کی ادائیگی کے ثواب کے برابر ہے)) پھر اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے (1)ابتدائی حصہ رحمت (2)درمیانی حصہ بخشش کا(3)اور آخری حصہ میں دوزخ کی آگ سے نجات ہے .
یہ حدیث منکر ہے اس حدیث کوالمحاملى نے (( الأمالى ))(1/286/293) اور ، ابن عدى نے (( الكامل ))(5/293).
اور امام البيهقى نے (( شعب الإيمان ))(3/305/3608) اور(( فضائل الأوقات ))(37،38) ، وابن عبد الغنى المقدسى نے (( التقييد ))(ص205) اور الحارث بن أبى أسامہ نے (321. زوائد الهيثمى ) ، اور العقيلی نے (( الضعفاء الكبير ))(1/35) نقل کیا ہے .
میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث سند اورمتن دونوں کے اعتبارسے صحیح نہیں ہے :
(1) سند کے اعتبار سے یہ حدیث صرف على بن زيد بن جدعان سے نقل ہوا ہے آور ابن جدعان سے جتنے نقل کرتے ہیں سب کمزور غیر ثقہ روای روایت کرتے ہیں ، ، اور ابن جدعان جو اس حدیث کا مرکزی راوی ہے امام ذھبی نے الکاشف 2/278 میں ان کو (أحد الحفاظ لیس بالثبت) حدیث میں مضبوط نہیں تھا /اور( حماد فرما تے ہیں کان یقلب الأحاديث) کے احادیث میں رد و بدل کر تے تھے .
امام العجلی فرما تے ہیں یکتب حدیثه ولیس بالقوی وکان یتشیع /2/248 الثقات للعجلی .
کہ اسکے حدیث لکھی جاسکتی ہے لیکن یہ حدیث میں پکھا نہیں ہے اور یہ شیعہ تھا .
اب فیصلہ خود کریں؟
امام النووی فرماتے ہیں(وهو ضعیف عند المحدیثن )
ابن خثیمۃ فرماتے ہیں کان لایحفظ الحدیث /اس کو حدیث یاد نہیں تھا /1/305 تاریخ ابن خثیمۃ
امام یزید بن زریع فرماتے ہیں (لقدلقیت علی بن زيد ولم احمل عنه فإنه کان رافضیا) /الكامل فی ضعفاء الرجال /6/130.
کہ میں نے علی بن زید کو دیکھا میں نے اسے حدیث نہیں لیااسلے کے یہ رافضی تھا یعنی شیعہ تھا /6/235 الكامل
امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں لیس بشئ/کے یہ حدیث میں کچھ بھی نہیں ہے .
اس طرح یحی ابن معیں فرماتے لیس بذاک القوی/حدیث میں مضبوط نہیں تھا /تاریخ ابن معیں/1/123
علامة الألبانى " الضعيفة" (ج2 ص 263
 
فرمایا کہ یہ حدیث اس سند کے ساتھ ضعیف ہے اس میں علی بن زيد بن جدعان ہے ، اور یہ ضعيف روای ہیں جیسے کہ امام أحمد وغيره نے کہا ہے ، اور امام بن خزيمة نے بھی کہا ہے : " لا أحتج به لسوء حفظه "کے میں اسے احتجاج نہیں کرتا ہوں اس کا حافظہ خراب تھا اسلے جب روایت کو اپنے کتاب میں ذکر کیا تو فرمایا " إن صح الخبر " . اگر یہ بات صحیح ہو؛ امام المنذري نے " الترغيب میں " (2/67 ) جب اس حدیث کو کو ذکر کیا تو اس نے غلطی سے؛ صح الخبر؛ لکھدیا کہ یہ حدیث صحیح ہے .
(2)اس میں انقطاع ہے سعيد بن المسيب نے سلمان الفارسي رضي الله عنه سے کچھ نہیں سنا ہے اور نہ ملاقات ہوئی ہے
تو سندکے اعتبارسے ضعیف ہیں اور اس کا جو متابع ہے وہ سب کمزور ہے اور محدثین نے اس کو منکر حدیث کرار دیا ہے. 
(3)اور یہ حدیث متن کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے ، اس میں ایسے الفاظ نقل ہوئے ہیں جس کے ثبوت میں شک ہے
، ، مثلاً اس مہینے کو تین حصوں میں تقسیم کرنا: پہلے دس کو رحمت پھرمغفرة پھر جہنم سے نجات کااور اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے ، بلکہ اللہ کی فضل تو  وسیع تر ہے ، اوررمضان سب رحمة اور مغفرة ،اور جہنم سے روزانہ افطاری کے وقت اللہ چٹکارہ عطاء فرماتے ہیں جیسے کہ  صحیح حدیث سے ثابت ہے .
اور اسطرح : جو اس حدیث میں ہے کہ ( جس نے اس میں کوئی نفل نماز ادا کیا اس نے فرض آدا کیا ) اس بات پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ نفل نماز نفل ہیں اور فرض نماز فرض ہے وہ رمضان میں ہو یاغیر رمضان میں .      واللہ اعلم


[1]  هذا جزء من حديث رواه سيدنا سلمان الفارسي، فهو حديث طويل قال فيه: (خطبنا رسول الله صلي الله عليه وسلم في آخر يوم من شعبان قال: يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك شهر، فيه ليلة خير من ألف شهر شهر جعل الله صيام نهاره فريضة وقيام ليله تطوعًا.. حتي يقول وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار)، والحديث رواه ابن خزيمة في صحيحه، ورواه البيهقي في شعب الإيمان . اكبر حسين اوركزئي

ہفتہ، 12 مئی، 2018

ماہِ رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ


از:  مولانا ۔ابوجندل قاسمی‏ بحوالہ ماہنامہ دیوبند


رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے، اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لیے ہے، اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔ آپ حضرات نے یہ حدیث شریف سنی ہوگی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وبَلِّغْنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان۳/۳۷۵، تخصیص شہر رجب بالذکر) ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادیجیے، یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیجیے کہ ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب ہوجائے۔
آپ غور فرمائیں کہ رمضان المبارک آنے سے دو ماہ پہلے ہی رمضان کا انتظار اوراشتیاق ہورہا ہے، اوراس کے حاصل ہونے کی دعا کی جارہی ہے، یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے جس کے دل میں رمضان کی صحیح قدروقیمت ہو۔
رمضان کے معنی
”رمضان“ عربی زبان کالفظ ہے، جس کے معنی ہیں ”جھُلسادینے والا“ اس مہینے کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اسلام میں جب سب سے پہلے یہ مہینہ آیا تو سخت اور جھلسادینے والی گرمی میں آیا تھا۔ لیکن بعض علماء کہتے ہیں کہ اس مہینے میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی خاص رحمت سے روزے دار بندوں کے گناہوں کو جھلسادیتے ہیں اورمعاف فرمادیتے ہیں، اس لیے اس مہینے کو ”رمضان“ کہتے ہیں۔ (شرح ابی داؤد للعینی ۵/۲۷۳)
رمضان رحمت کا خاص مہینہ
اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ اس لیے عطا فرمایا کہ گیارہ مہینے انسان دنیا کے دھندوں میں منہمک رہتا ہے جس کی وجہ سے دلوں میں غفلت پیدا ہوجاتی ہے، روحانیت اور اللہ تعالیٰ کے قرب میں کمی واقع ہوجاتی ہے، تو رمضان المبارک میںآ دمی اللہ کی عبادت کرکے اس کمی کو دور کرسکتا ہے، دلوں کی غفلت اور زنگ کو ختم کرسکتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرکے زندگی کا ایک نیادور شروع ہوجائے، جس طرح کسی مشین کو کچھ عرصہ استعمال کرنے کے بعداس کی سروس اور صفائی کرانی پڑتی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفائی اور سروس کے لیے یہ مبارک مہینہ مقرر فرمایا۔
روزے کا مقصد
روزے کی ریاضت کا بھی خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اورایمانی وروحانی تقاضوں کی تابعداری وفرماں برداری کا خوگر بنایاجائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے اور چوں کہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے، اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا، قرآنِ کریم میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورة البقرہ آیت ۱۸۳) ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے (روزوں کا یہ حکم تم کو اس لیے دیا گیا ہے) تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
کیوں کہ یہ بات یقینی ہے کہ نفس انسانی انسان کو گناہ، نافرمانی اور حیوانی تقاضوں میں اسی وقت مبتلاکرتا ہے جب کہ وہ سیراور چھکاہوا ہو، اس کے برخلاف اگر بھوکا ہوتو وہ مضمحل پڑا رہتا ہے اور پھر اس کو معصیت کی نہیں سوجھتی، روزے کا مقصد یہی ہے کہ نفس کو بھوکا رکھ کر مادّی وشہوانی تقاضوں کو بروئے کار لانے سے اس کو روکا جائے تاکہ گناہ پر اقدام کرنے کا داعیہ اور جذبہ سُسْت پڑجائے اور یہی ”تقویٰ“ ہے۔
اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ عالم بالا کی پاکیزہ مخلوق (فرشتے) نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں اورنہ بیوی رکھتے ہیں، جبکہ روزہ (صبح صادق سے غروب آفتاب تک) انہی تین چیزوں (کھانا، پینا اور جماع) سے رکنے کا نام ہے، تو گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو روزے کا حکم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ اے میرے بندو! اگر تم ان تینوں چیزوں سے پرہیز کرکے ہماری پاکیزہ مخلوق کی مشابہت اختیار کروگے تو ہماری اس پاکیزہ مخلوق کی پاکیزہ صفت بھی تمہارے اندر پیدا ہوجائے گی اور وہ صفت ہے: لاَیَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُوٴْمَرُوْنَ۔ (سورئہ تحریم) ترجمہ: وہ (فرشتے) خداکی نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ ان کو حکم دیاجاتا ہے اس کو فوراً بجالاتے ہیں۔ (بیان القرآن) اور اسی کاحاصل ”تقویٰ“ ہے۔
تقریباً اسی بات کو اس حدیث شریف میں بھی فرمایاگیاہے جو ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لِکُلِّ شَیْءٍ زَکوٰةٌ وَزَکوٰةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ۔ (ابن ماجہ ص۱۲۵) ہر چیز کے لیے کوئی نہ کوئی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ہے اور بدن کی صفائی ستھرائی کا ذریعہ ”روزہ“ ہے۔
بہرحال روزے کا مقصد تقویٰ ہے، اسی تقویٰ کے حصول کے لیے اس آخری امت پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے اور روزے کا وقت طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک رکھا گیا اور یہ زمانہ اِس دور کے عام انسانوں کے حالات کے لحاظ سے ریاضت وتربیت کے مقصد کے لیے بالکل مناسب اورنہایت معتدل مدت اور وقت ہے۔ پھر اس کے لیے مہینہ وہ مقرر کیاگیا جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور جس میں بے حساب برکتوں اور رحمتوں والی رات (شبِ قدر) ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ یہی مبارک مہینہ اس کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور موزوں زمانہ ہوسکتاتھا، اسی کے ساتھ ساتھ اس مہینے میں دن کے روزوں کے علاوہ رات میں بھی ایک خاص عبادت کا عمومی اور اجتماعی نظام قائم کیاگیا جس کو ”تراویح“ کہا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس مبارک مہینے کی نورانیت اور تاثیر میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور ان دونوں عبادتوں کے احادیث شریفہ میں بہت زیادہ فضائل ارشاد فرمائے گئے ہیں، چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہوَمَنْ قَامَ رَمضََانَ اِیْمَانًا وَّ احتِسَابًا غُفِرَ لَہ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ(صحیح بخاری ۱/۲۷۰، صحیح مسلم۱/۲۵۹) ترجمہ: جو شخص ماہِ رمضان کے روزے رکھے بحالت ایمان اور بامید ثواب تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے اور جو شخص ماہِ رمضان میں کھڑاہو یعنی نوافل (تراویح وتہجد وغیرہ) پڑھے بحالت ایمان اور بامید ثواب اس کے بھی گذشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
تقویٰ کے حصول میں معاون چیزیں
لیکن صرف روزہ رکھنے اور تراویح پڑھنے کی حد تک بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ماہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غفلت کے پردوں کو دل سے دور کیاجائے، اصل مقصدِ تخلیق کی طرف رجوع کیاجائے، گزشتہ گیارہ مہینوں میں جو گناہ ہوئے ان کو معاف کراکر آئندہ گیارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے استحضار اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ گناہ نہ کرنے کا داعیہ اور جذبہ دل میں پیدا کیا جائے، جس کو ”تقویٰ“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح رمضان المبارک کی صحیح روح اوراس کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ورنہ یہ ہوگا کہ رمضان المبارک آئے گا اور چلا جائے گا اور اس سے صحیح طور پر ہم فائدہ نہیں اٹھاپائیں گے، بلکہ جس طرح ہم پہلے خالی تھے ویسے ہی خالی رہ جائیں گے، اس لیے چند ایسی چیزوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن پر عمل کرکے ہمیں روزے کا مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کے انوار وبرکات حاصل ہوں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
(۱) عبادت کی مقدار میں اضافہ
رمضان المبارک کی برکتوں کو حاصل کرنے کے لیے اپنی عبادت کی مقدار میں اضافہ کرنا ہے، دوسرے ایام میں جن نوافل کو پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی ان کو اس مبارک ماہ میں پڑھنے کی کوشش کریں، مثلاً: مغرب کے بعد سنتوں سے الگ یا کم از کم سنتوں کے ساتھ چھ (۶) رکعت اوّابین پڑھیں۔ (جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ اوّابین افطار کی نذر ہوجاتی ہیں) عشاء کی نماز سے چند منٹ پہلے آکر چار رکعت یادو رکعت نفل پڑھیں۔ سحری کھانے کے لیے اٹھنا ہی ہے تو چند منٹ پہلے اٹھ کر کم از کم چار رکعت تہجد پڑھ لیں۔ اسی طرح اشراق کی نماز اور اگراشراق کے وقت نیند کا غلبہ ہوتو چاشت کی چند رکعتیں تو پڑھ ہی لیں۔ ظہر کے بعد دو سنتوں کے ساتھ دو رکعت نفل اور عصر سے پہلے چار رکعت نفل پڑھ لیں۔ کیوں کہ نماز کا خاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کا رشتہ جوڑتی ہے اوراس کے ساتھ تعلق قائم کراتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے، جیساکہ حضرت ابوہریرہ سے مروی حدیث شریف میں ہے: اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہ وَہُوَ سَاجِدٌ(مسلم شریف حدیث ۱۱۱۱، باب ما یقال فی الرکوع والسجود) یعنی بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتاہے، تو گویا نماز کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک عظیم تحفہ عطا کیاہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے، آمین!
(۲) تلاوتِ قرآنِ کریم کی کثرت
دوسرا کام یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کا خاص اہتمام کرنا ہے، کیوں کہ رمضان المبارک کے مہینے کو قرآن کریم کے ساتھ خاص مناسبت اور تعلق ہے، اسی مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا، ارشادِ مبارک ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ، (سورئہ بقرہ آیت ۱۸۵) خود نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان المبارک میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری شریف۱/۳، حدیث۶) تمام بزرگانِ دین کی زندگیوں میں یوں تو قرآنِ کریم میں اشتغال بہت زیادہ نظر آتاہے، لیکن رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی تلاوت کے معمول میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ، چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس مبارک مہینے میں ایک قرآنِ کریم دن میں، ایک رات میں اور ایک تراویح میں، اس طرح اکسٹھ (۶۱) قرآن کریم ختم فرماتے تھے۔ ماضی کے ہمارے تمام اکابر (حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی،مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا شاہ عبدالرحیم رائپوری، شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا یحییٰ کاندھلوی، مولانا محمد الیاس کاندھلوی، شاہ عبدالقادر رائپوری، شیخ الحدیث مولانا زکریا مہاجر مدنی، فقیہ الامت مولانا مفتی محمودحسن گنگوہی، مولانا قاری سید صدیق احمد باندوی، مولانا شاہ ابرارالحق ہردوئی، فدائے ملت مولانا سیداسعدمدنی وغیرہم) کا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کریم کا معمول دیدنی ہوتا تھا۔ لہٰذا ہم کو بھی اس مبارک ماہ میں عام دنوں کے مقابلے میں تلاوت کی مقدار زیادہ کرنی ہے، عام آدمی کو بھی روزانہ کم از کم تین پارے پڑھنے چاہئیں، تاکہ پورے مہینے میں کم از کم تین قرآنِ کریم ختم ہوجائیں۔
(۳) تراویح میں قرآنِ کریم صحیح پڑھنے اور سننے کا اہتمام
اس مبارک مہینے میں ہرموٴمن کو اس بات کی بھی فکر کرنی ضروری ہے کہ تراویح میں قرآنِ مجید صحیح اور صاف صاف پڑھا جائے، جلدی جلدی اور حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھنے سے پرہیز کیا جائے، کیوں کہ اس طرح قرآنِ کریم پڑھنا اللہ کے کلام کی عظمت کے خلاف ہے، نیز پڑھنے والے کو خود قرآنِ کریم بددعا دیتا ہے۔ (احیاء العلوم عن انس ۱/۲۷۴، فی ذمّ تلاوة الغافلین) اس طرح قرآن کریم پڑھنے والا اور سننے والے سب گنہگار ہوتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ حافظ صاحب نہایت تیزگامی کے ساتھ حروف کو کاٹ کاٹ کر پڑھتے چلے جارہے ہیں، ایک سانس میں سورئہ فاتحہ کو ختم کردیا جاتا ہے ، صحیح طریقے سے رکوع، سجدہ اور تشہد ادا نہیں ہورہا ہے، چالیس پینتالیس منٹ میں پوری نماز ختم، اب گھنٹوں مجلسوں میں بیٹھ کر گپ شپ ہورہا ہے اورحافظ صاحب وسامعین میں سے کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم نے قرآنِ کریم کی توہین میں کتنا حصہ لیا اور رمضان کی مبارک ساعتوں میں کتنی بے برکتی اور قرآن کریم کی کتنی بددعا لی؟ خدا را اس صورتِ حال سے بچئے اور اس مبارک مہینے میں برکتوں اور رحمتوں کے دروازے کو اپنے اوپر بند نہ کیجیے اور صاف صحیح قرآن کریم پڑھنے اور سننے کا اہتمام کرکے دارین کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔
(۴) استغفار کی کثرت
چوتھا کام یہ کرنا ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہے، حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کی پہلی، دوسری اور تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے ”آمین“ فرمایا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے پوچھنے پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل امین علیہ الصلاة والسلام میرے سامنے آئے تھے اورجب میں نے منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو انھوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا آمین، الیٰ آخر الحدیث (مستدرک حاکم ۴/۱۷۰، کتاب البر والصلة، الترغیب والترہیب ۲/۵۶)
ظاہر ہے کہ اس شخص کی ہلاکت میں کیا شبہ ہے جس کے لیے حضرت جبرئیل علیہ السلام بددعا کریں اورحضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم آمین کہیں، اس لیے اس مبارک مہینے میں نہایت کثرت کے ساتھ گڑگڑا کر اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔
(۵) دعا کا اہتمام
رمضان المبارک کی برکات کو حاصل کرنے کے لیے دعاؤں کا اہتمام بھی لازم ہے، بہت سی روایات میں روزے دار کی دعا کے قبول ہونے کی بشارت دی گئی ہے، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثَلٰثَةٌ لاَ تُرَدُّ دَعْوَتُہُمْ اَلصَّائِمُ حَتّٰی یُفْطِرَ، الحدیث۔ (ترمذی شریف ۲/۲۰۰، حدیث ۳۵۹۸، مسند احمد حدیث ۹۷۴۳) ترجمہ: تین آدمیوں کی دعا رد نہیں ہوتی (ضرور قبول ہوتی ہے) ایک روزے دار کی افظار کے وقت، دوسرے عادل بادشاہ کی، تیسرے مظلوم کی بددعاء، اس کو اللہ تعالیٰ بادلوں سے اوپر اٹھالیتے ہیں اورآسمان کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں اورارشاد ہوتا ہے کہ میں تیری ضرور مدد کروں گا گو(کسی مصلحت سے) کچھ دیر ہوجائے۔
بہرحال یہ مانگنے کا مہینہ ہے، اس لیے جتنا ہوسکے دعا کا اہتمام کیا جائے، اپنے لیے، اپنے اعزہ واحباب اور رشتے داروں کے لیے، اپنے متعلقین کے لیے، ملک وملت کے لیے اور عالم اسلام کے لیے خوب دعائیں مانگنی چاہئیں، اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرمائے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
(۶) صدقات کی کثرت
رمضان المبارک میں نفلی صدقات بھی زیادہ سے زیادہ دینے کی کوشش کرنی چاہیے، حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا دریا پورے سال ہی موجزن رہتا تھا، لیکن ماہِ رمضان المبارک میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت ایسی ہوتی تھی جیسے جھونکے مارتی ہوئی ہوائیں چلتی ہیں (بخاری شریف ۱/۳) جو شخص بھی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا اس کو ضرور نوازتے۔ لہٰذا ہم کو بھی اس بابرکت مہینے میں اس سنت پر عمل کرتے ہوئے صدقات کی کثرت کرنی چاہیے۔
(۷) کھانے کی مقدار میں کمی
ساتویں چیز جس کالحاظ رمضان المبارک کے مقصد کو حاصل کرنے میں معاون ہے ”کھانے کی مقدار میں کمی کرنا“ ہے، کیوں کہ روزے کا مقصد قوتِ شہوانیہ وبہیمیہ کا کم کرنا اور قوتِ ملکیہ ونورانیہ کا بڑھانا ہے، جب کہ زیادہ کھانے سے یہ غرض فوت ہوجاتی ہے، بقول شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ افظار کے وقت تلافیٴ مافات میں (کہ پورے دن بھوکا رہا)اور سحر کے وقت حفظ ماتقدم میں (کہ پورے دن بھوکا رہناہے) اتنی زیادہ مقدار میں کھالیتے ہیں کہ بغیر رمضان کے بھی اتنی مقدار کھانے کی نوبت نہیں آتی جس کی وجہ سے کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں، حقیقتاً ہم لوگ صرف کھانے کے اوقات بدلتے ہیں یعنی افظار میں، تراویح کے بعد اور پھر سحری میں، اس کے علاوہ کچھ بھی کمی نہیں کرتے، بلکہ مختلف قسم کی زیادتی ہی ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے قوتِ شہوانیہ و بہیمیہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی ہے اورمقصد کے خلاف ہوجاتاہے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا مَلَأ اٰدَمِیٌّ وِعَاءً شَرَّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ اٰدَمَ اُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہ فَاِنْ کَانَ لاَ مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہ وَثُلُثٌ لِنَفسِہ۔ (ترمذی شریف ۲/۶۰) یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی برتن کا بھرنا اتنا ناپسند نہیں جتنا پیٹ کا بھرنا ناپسند ہے،ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جن سے کمرسیدھی رہے، اگر زیادہ ہی کھانا ہے تو ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے رکھے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔ البتہ اتنا کم نہ کھائے کہ عبادات کے انجام دینے میں اور دوسرے دینی کاموں میں خلل واقع ہو۔
(۸) گناہوں سے پرہیز
رمضان المبارک میں خاص طور پر گناہوں سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے، ہر موٴمن کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ اس برکت ورحمت اورمغفرت کے مہینے میں آنکھ، کان اور زبان غلط استعمال نہیں ہوگی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور فضول باتوں سے مکمل پرہیز کرے، یہ کیا روزہ ہوا کہ روزہ رکھ کر ٹیلی ویژن کھول کر بیٹھ گئے اور فحش وگندی فلموں سے وقت گزاری ہورہی ہے، کھانا، پینا اورجماع جو حلال تھیں ان سے تو اجتناب کرلیا لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر کسی کی غیبت ہورہی ہے، چغل خوری ہورہی ہے، جھوٹے لطیفے بیان ہورہے ہیں، اس طرح روزے کی برکات جاتی رہتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ لَمْ یَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِہ فَلَیْسَ لِلّٰہِ حَاجَةٌ فِیْ اَن یَّدَعَ طَعَامَہ وَشَرَابَہ۔ (صحیح بخاری ۱/۲۵۵) ترجمہ: جو آدمی روزہ رکھتے ہوئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی روزے کے مقبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھانا پینا چھوڑنے کے علاوہ معصیات ومنکرات سے بھی زبان ودہن اور دوسرے اعضاء کی حفاظت کرے، اگر کوئی شخص روزہ رکھے اور گناہ کی باتیں اور گناہ والے اعمال کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے روزے کی کوئی پروا نہیں۔ (معارف الحدیث۴/۰۰۰۰)
ایک اور حدیث شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:رُبَّ صَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ صِیَامِہ اِلَّا الْجُوْعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَیْسَ لَہ مِنْ قِیَامِہ اِلَّا السَّہْرُ۔ (سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۹۰۔ سنن نسائی حدیث ۳۳۳۳) ترجمہ: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزے کے ثمرات میں سے بھوکا رہنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر گناہوں (غیبت وریا وغیرہ) سے نہ بچے تو روزہ، تراویح اور تہجد وغیرہ سب بیکار ہے۔
حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مَالَمْ یَخْرِقْہَا۔ (نسائی شریف حدیث ۲۲۳۳، مسند احمد حدیث ۱۶۹۰) ترجمہ: روزہ آدمی کے لیے ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔ یعنی روزہ آدمی کے لیے شیطان سے، جہنم سے اور اللہ کے عذاب سے حفاظت کا ذریعہ ہے، جب تک گناہوں (جھوٹ وغیبت وغیرہ) کا ارتکاب کرکے روزے کو خراب نہ کرے۔
حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ایک حدیث شریف میں ہے کہ اگر روزے دار سے کوئی شخص بدکلامی اور جھگڑا وغیرہ کرنے کی کوشش کرے تو روزے دار کہہ دے کہ میرا روزہ ہے۔ یعنی میں ایسی لغویات میں پڑکر روزے کی برکات سے محروم ہونا نہیں چاہتا۔ (صحیح بخاری ۱/۲۵۴، حدیث ۱۸۹۴، صحیح مسلم حدیث ۱۱۵۱)
ان تمام احادیث شریفہ کا مدعا یہ ہے کہ روزے کے مقصد (تقویٰ) اور رمضان المبارک کی برکتوں اور رحمتوں کے حصول کے لیے معصیات ومنکرات سے پرہیز نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر تقوے کی سعادت سے متمتع نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، رمضان المبارک کی قدردانی کی توفیق بخشے اور اس بابرکت مہینے کے اوقات کو صحیح طور پر خرچ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین!

ماہ رمضان اور قرآن کریم

بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

ماہِ رمضان اور قرآن کریم
ماہِ رمضان اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے، اس ماہ کے روزے رکھنا ہر مسلمان، بالغ، عاقل، صحت مند، مقیم، مردوعورت پر فرض ہے، جس کی ادائیگی کے ذریعہ خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے اور وہی تقویٰ کی بنیاد ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا : ( ےَا اَیُّھَا الَّذِےْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَےْکُمُ الصِّےَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِےْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن ) اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورۃ البقرۃ ۱۸۳) لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے کے لئے روزہ کا بڑا اثرہے۔
اسی ماہِ مبارک کی ایک بابرکت رات میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم سماء دنیا پر نازل ہوئی، جس سے استفادہ کی بنیادی شرط بھی تقویٰ ہے، اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد قرآن کریم میں ہے: (ذلِکَ الْکِتَابُ لَا رَےْبَ فِےْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِےْن) یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے متقیوں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر نے والوں کے لئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق قرآن کریم سے ہر شخص کو ہدایت نہیں ملتی بلکہ قرآن کریم سے استفادہ کی بنیادی شرط تقویٰ ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں روزوں کی فرضیت کا مقصد بتاتے ہوئے فرمایا: لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ یعنی تم پر روزے فرض کئے گئے تاکہ تم متقی بن جاؤ، غرض رمضان اور روزہ کے بنیادی مقاصد میں تقویٰ مشترک ہے۔
اس ماہ مبارک میں ایک رات ہے جس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ افضل ہے۔یہ ماہِ مبارک اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور جہنم سے چھٹکارے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کردئے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کرکے جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے،ہر نیکی کا اجروثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ غرضیکہ یہ مہینہ اللہ کی عبادت، اطاعت اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی وغمگساری اور قرآن کریم کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں روزہ رکھنا فرض ہے اور روزہ ایسا عظیم الشان عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کا دنیامیں ہی اجر بتا دیا کہ کس عمل پر کیاملے گا مگر روزہ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا یا فرمایا کہ میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔
ماہ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق:قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق اور گہری خصوصیت حاصل ہے۔ چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم ﷺکا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھنا، حضرت جبرئیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم ﷺکو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام اور بزرگان دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہئے۔
ماہ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کا ماہ رمضان میں نازل ہونا ہے۔ اس مبارک ماہ کی ایک بابرکت رات میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوح محفوظ سے سماء دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم ﷺ پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے جیساکہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مصحف ابراہیمی اور تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔ نزول قرآن اور دیگر مقدس کتب وصحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ دیگر کتابیں جس رسول ونبی پر نازل ہوئیں ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ میں، جبکہ قرآن کریم لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر رمضان کی مبارک رات یعنی لیلۃ القدر میں ایک بار نازل ہوا اور پھر تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نازل ہوتا رہا۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے: اِنَّآاَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْر ۔ وَمَآاَدْرٰ ئکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ۔ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ، خَیْر’‘ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ۔ تَنَزَّلُ الْمَلآءِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْر۔سَلٰمٌ، ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔بے شک ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں اتارا ہے ،یعنی قرآن شریف کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر اِس رات میں اتارا ہے۔ آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے ، یعنی اس رات کی بڑائی اور فضیلت کا آپ کو علم بھی ہے ، کتنی خوبیاں اور کس قدر فضائل اس میں ہیں۔ اس کے بعد چند فضائل کا ذکر فرماتے ہیں، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یعنی ہزار مہینوں تک عبادت کرنے کا جتنا ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر کی عبادت کا ہے اور کتنا زیادہ ہے؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں۔ اور یہ خیر وبرکت فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔
سورۂ العلق کی ابتدائی چند آیات (اِقْرَاْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق....) سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۂ القدر میں بیان کیا کہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۂ الدخان کی آیت۳ (اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَےْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے) اور سورۂ البقرہ کی آیت ۱۸۵ (شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا) میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے سماء دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔
رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق کا مظہر نماز تراویح بھی ہے۔ احادیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ ﷺ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ ﷺ کا انتقال ہوا اس سال آپ ﷺ نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔(بخاری ومسلم) نماز تراویح آپ ﷺ نے شروع فرمائی اور مسجد میں باجماعت اس کو ادا بھی فرمایا لیکن اس خیال سے اس کو ترک کردیا کہ کہیں امت پر واجب نہ ہوجائے اور پھر امت کے لئے اس کو ادا کرنے میں مشقت ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ انے (رمضان کی) ایک رات مسجد میں نماز تراویح پڑھی۔ لوگوں نے آپ اکے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر دوسری رات کی نماز میں شرکاء زیادہ ہوگئے، تیسری یا چوتھی رات آپ ا نماز تراویح کے لئے مسجد میں تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں نے تمہارا شوق دیکھ لیا اور میں اس ڈر سے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر رمضان میں فرض نہ کردی جائے۔ (مسلم ۔ الترغیب فی صلاۃ التراویح)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ا قیام رمضان کی ترغیب تو دیتے تھے لیکن وجوب کا حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ ا فرماتے کہ جوشخص رمضان کی راتوں میں نماز (تراویح) پڑھے اور وہ ایمان کے دوسرے تقاضوں کو بھی پورا کرے اور ثواب کی نیت سے یہ عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ معاف فرمادیں گے۔ رسول اللہ ا کی وفات تک یہی عمل رہا، دورِ صدیقی اور ابتداء عہد فاروقی میں بھی یہی عمل رہا۔ (مسلم ۔ الترغیب فی صلاۃ التراویح) صحیح مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ا کی حیات میں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں نماز تراویح جماعت سے پڑھنے کا کوئی اہتمام نہیں تھا، صرف ترغیب دی جاتی تھی اور انفرادی طور پر نماز تراویح پڑھی جاتی تھی۔ البتہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یقیناًتبدیلی ہوئی، اس تبدیلی کی وضاحت محدثین ،فقہاء اور علماء کرام نے فرمائی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عشاء کے فرائض کے بعد وتروں سے پہلے پورے رمضان باجماعت نماز تراویح شروع ہوئی، نیز قرآن کریم ختم کرنے اور رمضان میں وتر باجماعت پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سعودی عرب کے نامور عالم ، مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمد سالم ؒ (متوفی ۱۹۹۹) نے نماز تراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک کتاب (التراویح اکثر من الف عام فی المسجد النبوی) تحریر کی ہے جو اس موضوع کے لئے بے حد مفید ہے۔
قرآن اور رمضان کے درمیان چند مشترک خصوصیات:قرآن اور رمضان کی پہلی اہم مشترک خصوصیت تقویٰ ہے، جیساکہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔ دوسری مشترک خصوصیت شفاعت ہے۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روزہ اور قرآن کریم دونوں بندہ کے لئے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے کہ یا اللہ میں نے اس کو دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، اور قرآن کہتا ہے کہ یا اللہ میں نے رات کو اس کو سونے سے روکا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، پس دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔ (رواہ احمد والطبرانی فی الکبیر والحاکم وقال صحیح علی شرط مسلم)تیسری خصوصیت جو رمضان اور قرآن دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ قرب الہی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے وقت اللہ تعالیٰ سے خاص قرب حاصل ہوتا ہے، ایسے ہی روزہ دار کو بھی اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے کہ روزہ کے متعلق حدیث قدسی میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔ مضمون کی طوالت سے بچنے کیلئے قرآن ورمضان کی صرف تین مشترک خصوصیات کے ذکر پر اکتفاء کرتا ہوں۔
اسلاف کا ماہِ رمضان میں تلاوتِ قرآن کا خاص اہتمام:روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ وتابعین وتبع تابعین رمضان المبارک میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے تھے۔ بعض اسلاف واکابرین کے متعلق کتابوں میں تحریر ہے کہ وہ رمضان المبارک میں دیگر مصروفیات چھوڑ کر صرف اور صرف تلاوت قرآن میں دن ورات کا وافر حصہ صرف کرتے تھے۔ امام مالکؒ جنہوں نے حدیث کی مشہور کتاب موطا مالک تحریر فرمائی ہے، جو مشہور فقیہ ہونے کے ساتھ ایک بڑے محدث بھی ہیں لیکن رمضان شروع ہونے پر حدیث پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ کو بند کرکے دن ورات کا اکثر حصہ تلاوتِ قرآن میں لگاتے تھے۔ اسلاف سے منقول ہے کہ وہ ماہ رمضان اور خاص کر آخری عشرہ میں تین دن یا ایک دن میں قرآن کریم مکمل فرماتے تھے۔ صحیح مسلم کی سب سے زیادہ مشہور شرح لکھنے والے اور ریاض الصالحین کے مؤلف نے اپنی کتاب "الاذکار" ص ۱۰۲ میں ایسے شیوخ کا ذکر فرمایا ہے جو ایک رکعت میں قرآن کریم ختم فرماتے تھے۔ رمضان کے مبارک مہینہ میں ختم قرآن کریم کے اتنے واقعات کتابوں میں مذکور ہیں کہ ان کااحاطہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہذا اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ اپنا وقت قرآن کریم کی تلاوت میں لگائیں۔ نماز تراویح کے پڑھنے کا اہتمام کریں اور اگر تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کیا جائے تو بہت بہتر وافضل ہے کیونکہ حدیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہ رمضان میں آپ ﷺ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ ﷺ کا انتقال ہوا اس سال آپ ﷺ نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ ماہِ رمضان کے بعد بھی تلاوتِ قرآن کا روزانہ اہتمام کریں خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو، نیز علماءِ کرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام ومسائل کو سمجھ کر اُن پر عمل کریں اور دوسروں تک پہونچائیں۔ اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم نہیں سمجھ پا رہے ہیں تب بھی ہمیں تلاوت کرنا چاہئے کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک حرف قرآن کریم کا پڑھے اس کے لئے اس حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجردس نیکی کے برابر ملتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ اآآ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف،لام ایک حرف اور میم ایک حرف۔ (ترمذی)تلاوت قرآن کے کچھ آداب ہیں جن کا تلاوت کے وقت خاص خیال رکھا جائے تاکہ ہم عند اللہ اجر عظیم کے مستحق بنیں۔ تلاوت چونکہ ایک عبادت ہے لہذا ریا وشہرت کے بجائے اس سے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ومقصود ہو، نیز وضو وطہارت کی حالت میں ادب واحترام کے ساتھ اللہ کے کلام کی تلاوت کریں۔ تیسرا اہم ادب یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اور اچھی آواز میں تجوید کے قواعد کے مطابق تلاوت کریں۔ تلاوت قرآن کے وقت اگر آیتوں کے معانی پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ قرآن کریم کے احکام ومسائل پر خود بھی عمل کریں اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہونچانے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ اور تلاوت قرآن کی برکت سے تقویٰ والی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔ آمین۔
تحریر مولانا ۔ محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض