جمعرات، 22 دسمبر، 2016

ظالم قیامت کے دن اندھیروں میں بھٹکتا پھرے گا

" ظلم" کے لغوی معنی ہیں " کسی چیر کو بے موقع اور بے محل رکھنا " یعنی جس چیر کی جو جگہ اور جو محل ہو اس کو وہاں کی بجائے دوسری جگہ اور دوسرے محل میں رکھنا! اور یہ مفہوم ہر اس چیز کو شامل ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جائے اور اس کو جس طرح واقع ہونا چاہئے اس کے بجائے زیادتی یا نقصان کے ساتھ بے جا اور بے وقت واقع ہو چنانچہ جس چیر کو عام اصطلاح میں جور و تعدی یا زور، زبردستی اور ستم کرنا کہتے ہیں اس کے بھی یہ معنی ہیں اور شریعت میں بھی ظلم وغیرہ کے یہ معنی مراد لئے جاتے ہیں، البتہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ موقعہ محل سے شرعی موقع و محل مراد لیا جائے یعنی شرعی طور پر ظلم وغیرہ کے یہ معنی مراد لئے جاتے ہیں، البتہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ موقع و محل سے شرعی موقع و محل مراد لیا جائے یعنی شرعی طور پر ظلم وغیرہ کا اطلاق اس چیز پر ہوگا جو شرعی محل سے بلاوجہ شرعی تجاوز کر جائے۔
عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال الظلم ظلمات يوم القيامة . متفق عليه
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ظلم کرنا قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث ہوگا " ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ظلم کو قیامت کے دن میدان حشر میں تاریکیاں اس طرح گھیرے ہوئے ہوں گی کہ وہ اس نور سے محروم رہے گا جو مومن کو نصیب ہوگا اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یوں فرمایا ۔ آیت (يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ) 57۔ الحدیث : 12)۔ یعنی قیامت کے دن مومنین کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں طرف دوڑتا ہوگا جس کی روشنی میں وہ اپنی منزل پائیں گے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ ظلمات (تاریکیوں ) سے آخرت کے وہ شدائد (تکالیف و مشکلات) اور عذاب مراد ہیں جن سے قیامت کے دن واسطہ پڑے گا اور جن میں اہل دوزخ مبتلا ہوں گے) چنانچہ قرآن کریم میں بھی بعض جگہ ظلمات کے معنی شدائد مراد لئے گئے ہیں جیسا کہ ایک آیت میں فرمایا گیا ہے آیت (قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ) 6۔ الانعام : 63) (کہہ دیجئے کہ تمہیں جنگل اور دریا کی تکلیف و مشکلات سے کون نجات دیتا ہے)۔
*****
ظالم کی رسی دراز ہوتی ہے
وعن أبي موسى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله ليملي للظالم حتى إذا أخذه لم يفلته ثم يقرأ ( وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهي ظالمة )
الآية
حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " بلاشبہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے (یعنی دنیا میں اس کی عمر دراز کرتا ہے تاکہ وہ اپنے ظلم کا پیمانہ لبریز کرے اور آخرت میں سخت عذاب میں گرفتار ہو) یہاں تک کہ جب اس کو پکڑے گا تو چھوڑے گا نہیں (اور وہ ظالم اس کے عذاب سے بچ کر نکل نہیں پائے گا) اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھی۔ (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَه اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ ) 11۔ہود : 102)۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث میں گویا مظلوم لوگوں کو تسلی دی گئی ہے کہ وہ اپنے اوپر کئے جانے والے ظلم و ستم پر صبر و استقامت اختیار کریں اور اس دن کا انتظار کریں جب قانون قدرت کے مضبوط ہاتھ ظالم کی گردن پر ہوں گے اور اس کو اپنے ظلم کی سخت سزا بھگتنی پڑے گی، نیز اس ارشاد گرامی میں ظالموں کے لئے سخت وعید و تنبیہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے اس مہلت پر مغرور نہ ہو جائیں بلکہ یقین کہ آخر الامر ان کو اللہ کے سخت مواخذہ سے دوچار ہونا ہے اور اپنے ظلم کی سزا یقینا بھگتنی ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیت ( وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ) 14۔ ابراہیم : 42) ۔ (یعنی اور تم اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے غافل مت سمجھو جس کو ظالم اختیار کرتے ہیں۔ 
********
قوم ثمود کے علاقہ سے گزرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابہ کو تلقین
وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم لما مر بالحجر قال لا تدخلوا مساكن الذين ظلموا أنفسهم إلا أن تكونوا باكين أن يصيبكم ما أصابهم ثم قنع رأسه وأسرع السير حتى اجتاز الوادي . متفق عليه
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مقام حجر سے گزرے تو (صحابہ رضی اللہ عنہم سے) فرمایا کہ " تم ان لوگوں کے مکانات (کے کھنڈرات) میں نہ گھسنا جنہوں نے (کفر اختیار کر کے اور اپنی طرف بھیجے گئے اللہ کے پیغمبر علیہم السلام کو جھٹلا کر) خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے الاّ یہ کہ تم رونے والے ہو (یعنی اگر تم ان کھنڈرات کی صورت میں اس بد نصیب قوم کا المناک انجام دیکھ کر اور ان لوگوں کے سیاہ کارناموں کو یاد کر کے عبرت حاصل کرنا چاہو تو اس جگہ کو دیکھ سکتے ہو نیز تم اس جگہ سے غفلت و لاپرواہی کے ساتھ نہ گزرو) کہ مبادا تم پر بھی وہی مصیبت نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوئی تھی (کیونکہ ایسی جگہوں سے غفلت و بے پروائی کے ساتھ گزرنا اور عبرت نہ پکڑنا قساوت قلبی اور خوف اللہ کے فقدان کی علامت ہے اور یہ چیز عذاب الٰہی کے نازل ہونے کا باعث بن سکتی ہے ، یا یہ مراد ہے کہ تم یہاں اللہ کا خوف کھاؤ اور اور عبرت پکڑو کہ مبادا تم سے بھی وہی اعمال صادر ہونے لگیں جو اس قوم کے لوگوں کا شیوہ تھے اور پھر تمہیں بھی سزا بھگتنی پڑے) اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چادر سے اپنا سر ڈھانک لیا اور تیز تیز چل کر اس علاقہ سے گزر گئے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حجر اس جگہ کا نام ہے جو مشہور پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کا مسکن تھی! حجاز کے شمالی علاقہ میں، جس کا نام مدین ہے، ایک تاریخی وادی ہے جس کا نام وادی قری ہے اسی وادی میں تبوک سے تقریبا چار میل کے فاصلہ پر یہ جگہ واقع ہے یہاں قوم ثمود کی بستیاں تھیں، اس قوم نے جب طغیانی و سرکشی میں حد سے تجاوز کیا اور اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کے بنائے ہوئے راستہ پر چلنے کے بجائے ان کو جھٹلایا، ان کو سخت تکلیفیں پہنچائیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تو اس قوم پر عذاب الٰہی نازل ہوا، اور ان کی ساری بستیاں تباہ کر دی گئیں، ان بستیوں کے آثار و کھنڈرات اب بھی موجود ہیں اور زبان حال سے عبرت پذیر لوگوں کو قوموں کے عروج و زوال کی داستان سناتے ہیں ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ کے لئے تبوک جا رہے تھے یا غزوہ سے فارغ ہو کر وہاں سے واپس تشریف لا رہے تھے تو راستہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر اسی علاقہ سے ہوا ، چنانچہ اس حدیث کا تعلق اسی وقت سے ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے سر پر چادر ڈال کر اس جگہ سے جلدی گزرنا جیسا کہ کسی جگہ سے کوئی خوفزدہ شخص جلد سے جلد گزر جاتا ہے، اس وجہ سے تھا تاکہ آپ کی نظر مبارک اس تباہ شدہ قوم کے مکانات کھنڈرات پر نہ پڑے۔ اور حقیقت میں آپ کا یہ عمل مسلمانوں کی تعلیم کے واسطے تھا تاکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کریں ، چنانچہ آپ نے پہلے تو قول کے ذریعہ لوگوں کو اس امر کی طرف متوجہ کیا اور پھر از راہ تاکید اپنے فعل کے ذریعہ بھی توجہ دلائی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے اس طرح گزرنا اس بناء پر تھا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوف اللہ کا نہایت غلبہ رہتا تھا اور عذاب الٰہی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ لرزاں کر دیا کرتے تھے جیسا کہ ایک ارشاد میں فرمایا ۔ انا اعلمکم باللہ واخشاکم۔ میں تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں۔
ایک روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جگہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اس جگہ نہ تو کچھ کھائیں اور نہ وہاں کا پانی پئیں۔
بہرحال حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کے سرکش بندوں اور ظالموں کے مکانات اور ان کی جگہوں میں نہ تو رہائش اختیار کی جائے اور نہ ان کے علاقوں کو اپنا وطن بنایا جائے۔
**********
قیامت کے دن مظلوم کو ظلم سے کس طرح بدلہ ملے گا
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كانت له مظلمة لأخيه من عرضه أو شيء منه اليوم قبل أن لا يكون دينار ولا درهم إن كان له عمل صالح أخذ منه بقدر مظلمته وإن لم يكن له حسنات أخذ من سيئات صاحبه فحمل عليه . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کا کوئی حق رکھتا ہو، اور وہ حق خواہ (غیب و برائی کرنے اور روحانی و جسمانی ایذاء رسانی وغیرہ کی صورت میں) آبروریزی کا ہو یا کسی اور چیز سے متعلق ہو (جیسے کوئی مالی مطالبہ یا ناحق خون وغیرہ) تو اس کو چاہئے کہ وہ اس حق کو آج ہی کے دن (یعنی اسی دنیا میں ) معاف کرا لے اس سے پہلے کہ وہ دن آئے یعنی قیامت کا دن کہ جس میں وہ نہ تو درہم رکھتا ہوگا نہ دینار (کہ جو اس حق کے بدلہ کے طور پر دے سکے) اگر (اس نے اپنے حق کو معاف کر دیا تو بہتر ہے ورنہ پھر) ظالم کے اعمال نامہ میں جو کچھ نیکیاں ہوں گی تو ان میں سے اس کے ظلم کے برابر یا واجب حق کے بقدر نیکیاں لے لی جائیں گی (اور مظلوم یا حق دار کو دے دی جائیں گی) اور اگر وہ کچھ بھی نیکیاں نہیں رکھتا ہوگا تو اس صورت میں اس مظلوم یا حق دار کے گناہوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) گناہ لے کر ظالم پر لاد دئیے جائیں گے۔ (بخاری)
تشریح
آخرت میں ظالم سے اس کے ظلم کا بدلہ اس طرح لیا جائے گا کہ اگر اس کے اعمال نامہ میں کچھ نیکیاں ہوں گی تو وہ مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر وہ اپنے اعمال نامہ میں نیکیاں نہیں رکھتا ہوگا تو اس صورت میں مظلوم کے وہ گناہ جو اس نے دنیا میں کئے ہوں گے اس ظالم پر لاد دیئے جائیں گے چنانچہ وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگتے ہی گا مزید برآں مظلوم کے گناہوں کے عذاب میں بھی مبتلا ہوگا اور مظلوم کو اس عذاب سے نجات دے دی جائے گی جس کا وہ ان گناہوں کی وجہ سے مستوجب ہوتا۔
حدیث کے یہ الفاظ کہ " وہ نہ درہم رکھتا ہوگا نہ دینار" اس طرف اشارہ کرتے ہیں جس شخص نے کسی پر کوئی ظلم و زیادتی حق تلفی کی ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ ہر حالت میں مظلوم یا حق دار سے اس ظلم یا حق کو ضرور معاف کرا لے خواہ اس معافی کے عوض روپیہ پیسہ خرچ کرنا پڑے اور اس دنیا ہی میں معافی تلافی کا ہو جانا اس سے کہیں زیادہ بہتر اور آسان ہے کہ عدم معافی کی صورت میں اس کی نیکیاں لے لے یا اپنے گناہوں کا بوجھ اس پر ڈال دے۔
" اس کے ظلم یا واجب حق کے بقدر" کے بارے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے ان نیکیوں اور گناہوں کی مقدار کا تعین علم الٰہی کے سپرد ہے، یعنی وہی بہتر جانتا ہے کہ ان نیکیوں اور گناہوں کا لینا دینا کس طرح اور کس اعتبار سے ہوگا) تاہم ابن ملک رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جن نیکیوں اور برائیوں کا لینا دینا ہوگا، ہو سکتا ہے کہ وہ اس موقع پر نفس اعمال ہوں گے جن کو جواہر کی مانند مجسم کر کے پیش کیا جائے گا) اور یہ احتمال بھی ہے کہ ایک دوسرے کو وہ نعمتیں یا عذاب ملیں جو ان نیکیوں یا برائیوں کی جزا و سزا کے طور پر حق تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں۔

سارے مسلمان ایک دوسرے کی مدد واعانت کے ذریعہ ناقابل تسخیر طاقت بن سکتے ہیں ۔

عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا ثم شبك بين أصابعه . متفق عليه . ( متفق عليه )
" اور حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مسلمان، مسلمان کے لئے ایک مکان کے مانند ہے یعنی سارے مسلمان مضبوطی وطاقت حاصل کرنے کے اعتبار سے اس مکان کی طرح ہیں کہ جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط رکھتا ہے یہ کہہ کر آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
پہلے تو آپ نے مسلمانوں کو اس مکان کے ساتھ تشبیہ دی جس کے سارے اجزاء اور تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر پورے مکان کو مضبوط و پختہ بناتے ہیں اور پھر اس حقیقت کو آپ نے مثالی صورت میں اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا کر دکھلایا کہ اگر سارے مسلمان اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مربوط و متحد رہیں اور باہمی محبت و موانست اور امداد و تعاون کی زنجیر میں منسلک رہیں تو پوری ملت اسلامیہ مضبوط و توانا اور ایک ناقابل تسخیر طاقت بن جائے گی لیکن واضح رہے کہ مسلمانوں کا وہی اتحاد اور وہی یک جہتی مطلب و مستحسن ہے جس کی بنیاد حق و حلال کے معاملات پر ہو حرام و مکروہ اور گناہ کے موجب معاملات میں اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کے ساتھ مدد تعاون غیر مطلوب ہے۔

تمام مسلمانوں کو ایک تن ہونا چاہیے

عن النعمان بن بشير قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ترى المؤمنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد إذا اشتكى عضوا تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى . متفق عليه
" اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اے مخاطب تو مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے سے رحم کا معاملہ کرنے ایک دوسرے سے محبت و تعلق رکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی و معاونت کا سلوک کرنے میں ایسا پائے گا جیسا کہ بدن کا حال ہے کہ جب بدن کا کوئی عضو دکھتا ہے تو بدن کے باقی اعضاء اس ایک عضو کی وجہ سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں اور بیداری و بخار کے تعب و درد میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔ (بخاری مسلم)
تشریح
اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی صفت اتحاد و یگانگت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی جذبہ تعلق ایسا ہو سکتا ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو رنگ و نسل کے بھید بھاؤ زبان و کلچر کے اختلاف و تفاوت اور ذات قبائل علاقہ کی تفرقہ بازی سے نجات دلا کر ایک انسانی برداری اور اتحاد و یگانگت ایک لڑی میں پرو سکتا ہے تو وہ صرف ایمان و اسلام کا تعلق ہے چنانچہ اہل ایمان جہاں بھی ہوں جس رنگ و نسل سے بھی تعلق رکھتے ہوں ان کے درمیان کوئی انسانی اونچ نیچ نہیں ہے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے اور کسی برتری و کمتری کی نفرت و حقارت نہیں ہے وہ جس عقیدے کے حامل اور جس نظریہ حیات کو ماننے والے ہیں اس کی روشنی میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تمام انسان ایک باپ کی اولاد ہیں تمام مسلمان ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں اگر وہ کڑیاں الگ الگ ہو جائیں تو زنجیر ٹوٹ کر رہ جائے گی اسی طرح اگر مسلمان تفرقہ بازی کا شکار ہو جائیں اور رنگ و نسل زبان و کلچر اور ذات پات کے دائروں میں سمٹ جائیں تو ان کے ملی وجود اور ان کی اجتماعی طاقت کو انتشار و اضملال کا گھن لگ جائے گا اور جب ان کی اجتماعی حثییت مجروح ہو کر غیر موثر ہو گی تو ان کا شخصی و انفرادی وجود بھی نہ صرف بے معنی ہو جائے گا بلکہ ہر شخص مختلف آفات کا شکار ہوگا اور چونکہ ملی وجود اور اجتماعی طاقت کا سرچشمہ افراد کا آپس میں محبت و موانست اور اشخاص کا باہمی ربط و تعلق ہے اس لئے ہر مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے اس طرح ربط وتعلق رکھتا ہے کہ جس طرح دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں کہ آپس میں سلام و دعا کرتے ہیں باہمی میل جول اور ملاقات کرتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں باہمی معاملات و تعلقات کو محبت و موانست اور رحم دلی کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں ہدایا و تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں ایک دوسرے کی مدد و اعانت کرتے ہیں اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے حالات رعایت اور اس کے طور طریقوں کی پاس داری کرتا ہے چنانچہ جب شخصی اور انفرادی سطح پر یہ ربط و تعلق ایک دوسرے کو جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے تو سارے مسلمان ایک مضبوط اجتماعی حثییت اور عظیم طاقت بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو اس ارشاد گرامی میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اور تمام مسلمانوں کو ایک بدن کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس طرح جب بدن کا کوئی ایک عضو دکھتا ہے تو سارا بدن دکھتا ہے اور محض ایک عضو میں تکلیف ہونے سے پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ایک تن بن جائیں اور پوری ملت اسلامیہ ایک جسم کی مانند ہو جائے کہ اگر کسی ایک بھی مسلمان کو کوئی گزند پہنچے یا وہ کسی آفت میں گرفتار ہو تو سارے مسلمان اس کے دکھ و رنج میں شریک ہوں اور سب مل کر اس کی تکلیف و مصیبت کو دور کرنے کی تدبیر کریں اسی مفہوم کو شیخ سعدی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے!
بنی آدم اعضائے یکد یگرند کہ درآفرینش زیک گوہر اند
چوعضوے بدرد آور دروزگا دگرعضو ہا رانماند قرار

یتیم کی پرورش کرنے کی فضیلت

عن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وكافل اليتيم له ولغيره في الجنة هكذا وأشار بالسبابة والوسطى وفرج بينهما شيئا . رواه البخاري
" اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا کہ وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کیا اور دونوں کے درمیان تھوڑی سی کشادگی رکھی ۔ (بخاری)
تشریح
وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا " کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ مطلق یتیم کی کفالت و پرورش کرنے کی فضیلت ہے وہ یتیم خواہ اس کا اپنا قربتی ہو جیسے پوتا اور بھتیجا وغیرہ یا کوئی غیر قرابتی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کر کے واضح کیا کہ جنت میں میرے اور یتیم کی پرورش کرنے والے کے درمیان اتنا قریبی علاقہ ہوگا کہ جتنا کہ ان دونوں انگلیوں کے درمیان ہے نیز آپ نے ان دونوں انگلیوں کے ذریعہ اس طرح بھی اشارہ کیا کہ مرتبہ نبوت جو سب سے اعلی درجہ ہے اس کے اور سخاوت و مروت کے مرتبہ کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔

بیوہ اور مسکین کی خدمت کا ثواب


عن أبي هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الساعي على الأرملة والمسكين كالساعي في سبيل الله وأحسبه قال كالقائم لا يفتر وكالصائم لا يفطر . متفق عليه
" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اللہ کی راہ میں سعی کرے یعنی وہ شخص بیوہ عورت اور مسکین کی دیکھ بھال اور خبر گیری کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر کے ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو اس ثواب کے برابر ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد اور حج کرنے والے کو ملتا ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گری کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو نماز و عبادت کے شب بیداری کرتا ہے اور اپنی شب بیداری میں نہ کوئی سستی کرتا ہے اور نہ کسی فتور اور نقصان کو گوارا کرتا ہے اور اس شخص کے مانند ہے جو دن کو کبھی افطار نہیں کرتا کہ جس کو صائم الدھر کہا جاتا ہے۔ (بخاری مسلم)
تشریح
فقیر و محتاج بھی مسکین کے حکم میں داخل ہے بلکہ بعض حضرات کے نزدیک اس کو مسکین پر ترجیح حاصل ہے۔
" اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان" ان الفاظ کی نسبت حضرت عبداللہ ابن سلمہ کی طرف کی جاتی ہے جو بخاری ومسلم کے شیخ اور اس حدیث کے راوی ہیں جس کو انہوں نے حضرت امام مالک سے روایت کیا ہے اس بات کی صراحت امام بخاری نے کی ہے بہرحال ان الفاظ کے ذریعہ عبداللہ بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مطلب یہ ہے کہ میرا گمان ہے کہ اس حدیث کے روای حضرت امام مالک نے یہ الفاظ کالقائم لایفتر۔ نقل کئے ہیں لیکن اگر بخاری کی مذکورہ صراحت کے سامنے نہ ہو تو مصابیح اور مشکوہ کے ظاہری الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ اور میرا گمان ہے کہ ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جملہ کے ذریعہ یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کالقائم لا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے الفاظ بھی ارشاد فرمائے تھے یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شک کو ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یا تو کا الساعی فی سبیل اللہ کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا کالقائم کے الفاظ چنانچہ اس کی تائید جامع صغیر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس کو احمد، شیخین ، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ سے نقل کیا گیا ہے۔ اور جس کے الفاظ یوں ہیں کہ الساعی علی الارملۃ والمساکین کالمجاھدین فی سبیل اللہ والقائم اللیل الصائم النھار۔

جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ کی اس پر رحمت نازل نہیں ہوتی

عن جرير بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرحم الله من لا يرحم الناس . متفق عليه
" حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا (یعنی اس کو اپنی خاص و کامل رحمت کا مستحق نہیں گردانتا) جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (بخاری ومسلم)
********
بچوں کو پیار کرنے کی فضیلت
وعن عائشة قالت جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أتقبلون الصبيان ؟ فما نقبلهم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم أو أملك لك أن نزع الله من قلبك الرحمة . متفق عليه
" اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں ایک دیہاتی حاضر ہوا اور جب اس نے صحابہ کو دیکھا کہ وہ بچوں کو چومتے اور پیار کرتے ہیں تو کہنے لگا کہ کیا تم لوگ بچوں کو چومتے ہو؟ ہم تو بچوں کو نہیں چومتے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ کیا میں اس بات پر قادر ہو سکتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل میں سے جس رحم و شفقت کو نکال دیا ہے اس کو روک دوں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
رسول اللہ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جب اللہ نے تمہارے دل کو رحمت و شفقت اور پیار محبت سے خالی کر دیا ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کہ تمہارے دل میں رحم و شفقت اور محبت کا جذبہ پیدا کروں، یہ معنی اس صورت میں ہیں جب کہ لفظ ان الف کے ساتھ جیسا کہ اکثر راویوں نے نقل کیا ہے کہ اور اگر الف کے زیر کے ساتھ یعنی اِنْ ہو تو یہ معنی ہوں گے کہ میں کیا کر سکتا ہوں اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم کا جذبہ نکال دیا ہے تاہم دونوں صورتوں میں روایت کا مفہوم ایک ہی تفاوت فرق محض اعراب کی بنیاد پر ہے حدیث کا مقصد بے رحمی وبے مروتی اور سخت دلی کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا اور اس قسم کے لوگوں کو سختی کے ساتھ مشتبہ کرنا ہے نیز اس ارشاد گرامی میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ دلوں میں رحم و شفقت کے جذبات کا ہونا اللہ کا ایک بہترین عطیہ ہے اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اگر وہ کسی شخص کے دل سے رحم و شفقت اور محبت و مروت کے جذبات کو نکال دے تو یہ پھر کسی کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اس شخص کے دل کو ان جذبات کی دولت عطا کر دے۔
*******
لڑکی ماں باپ کے پیار ومحبت اور حسن سلوک کی زیادہ مستحق ہے
وعنها قالت جاءتني امرأة ومعها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فقسمتها بين ابنتيها ولم تأكل منها ثم قامت فخرجت . فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال من ابتلي من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له سترا من النار . متفق عليه
" اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں بھی تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا کہ (یعنی مجھ سے کچھ مانگا) لیکن اس کو میرے پاس سے ایک کھجور کے علاوہ اور کچھ بھی نہ مل سکا۔چنانچہ میں نے اس کو وہی ایک کھجور دے دی اس نے اس کھجور کو آدھی آدھی اپنی دونوں بچیوں کو بانٹ دیا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا اور پھر وہ اٹھ کر چلی گئی اتنے میں نبی گھر میں تشریف لائے میں نے آپ سے اس عورت کا یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا جو شخص ان بچیوں میں سے کچھ یعنی ایک یا دو وریا اس سے زیادہ لڑکیوں کی وجہ سے ابتلاء و آزمائش سے کیا جائے وہ ان بچیوں کے ساتھ احسان و سلوک کرے تو وہ بچیاں اور ان کے ساتھ کی گئی نیکی اس کے لئے دوزخ کی آگ سے پردہ بنیں گی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یعنی وہ بچیاں اور ان کے ساتھ کی گئی نیکی اس شخص اور دوزخ کی آگ کے درمیان حائل ہوں گی کہ وہ شخص اپنی ان بچیوں کی وجہ سے دوزخ کی آگے محفوظ رہے گا اور بچیوں کے ساتھ حسن سلوک کی یہ فضیلت اس بنا پر ہے کہ لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں یا وہ اپنے ماں باپ کے پیار محبت اور ان کے حسن سلوک کی مستحق ہوتی ہیں ۔ اس بارے میں علماء کا اختلافی قول ہے کہ ابتلاء و آزمائش کا محمول محض لڑکوں کا پیدا ہونا ہے یا کسی ایسی حالت میں مبتلا ہونا ہے جو لڑکیوں کی وجہ سے کسی محنت و تکلیف اور پریشانی و عسرت کے سامنے آنے اور اس پر صبر و تحمل کرنے کی صورت میں پیش آئے چنانچہ پہلی صورت یعنی ابتلاء آزمائش کا تعلق لڑکیوں کی پیدائش سے ہونا زیادہ صحیح ہے اور اس صورت میں کہا جائے گا کہ جو لوگ اپنے ہاں لڑکیاں پیدا ہونے پر دل گرفتگی اور ناگواری میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں کہ لڑکیاں اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی رحمت ہیں اور ان کی پرورش و دیکھ بھال اور ان کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک کرنا ایک بہت بڑی اخروی سعادت ہے اس بارے میں بھی علماء کے اختلافی قول ہیں کہ احسان و سلوک سے مراد نان نفقہ ہے جو باپ پر واجب ہوتا ہے یا اس واجب نان نفقہ کے علاوہ مزید حسن سلوک کرنا مراد ہے چنانچہ راجح قول یہ ہے کہ یہ دوسرے معنی زیادہ صحیح ہیں نیز واضح رہے کہ مذکورہ احسان و سلوک کی شرط یہ ہے کہ وہ شریعت کے موافق ہو۔علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ بچیوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا مذکورہ اجر اس صورت میں حاصل ہوتا ہے جبکہ اس احسان و سلوک کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بچیاں اپنی شادی بیاہ کی وجہ سے یا کسی اور صورت میں ماں باپ کی کفالت اور اس کے احسان و سلوک سے بے نیاز ہو جائیں۔

فتنوں کے ظہور کے وقت گوشہ عافیت میں چھپ جاؤ

عن ابی ھریرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ستكون فتن القاعد فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي فيه خير من الساعي من تشرف لها تستشرفه فمن وجد ملجأ أو معاذا فليعذ به . متفق عليه . وفي رواية لمسلم قال تكون فتنة النائم فيها خير من اليقظان واليقظان خير من القائم والقائم فيها خير من الساعي فمن وجد ملجأ أومعاذا فليستعذ به .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ عنقریب فتنے پیدا ہوں گے یعنی جلد ہی ایک بڑا فتنہ سامنے آنے والا ہے یا یہ کہ پے بہ پے یا تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بہت زیادہ فتنوں کا ظہور ہونے والا ہے ان فتنوں میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا سعی کرنے والے (یعنی کسی سواری کے ذریعہ یا پاپیادہ دوڑنے والے اور جلدی چلنے والے) بہتر ہوگا اور جو شخص فتنوں کی طرف جھانکے گا فتنہ اس کو اپنی طرف کھینچ لے گا پس جو شخص ان فتنوں سے نجات کی کوئی جگہ یا اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ یا پناہ گاہ پائے اور یا کوئی ایسا آدمی اس کو مل جائے جس کے دامن میں وہ ان ان فتنوں سے پناہ لے سکتا ہو تو اس شخص کو چاہئے کہ اس کے ذریعہ پناہ حاصل کر لے یعنی اگر ان فتنوں سے بھاگنے کا کوئی راستہ مل سکتا ہو تو فتنوں کی جگہ سے نکل بھاگے یا کوئی ایسی جگہ اس کو معلوم ہو کہ جہاں چھپ جانے کی وجہ سے ان فتنوں سے پناہ مل سکتی ہو تو وہاں جا کر چھپ جائے اور یا اگر کوئی آدمی اپنے سایہ عاطفت میں پناہ دینے والا مل سکتا ہو تو پاس جا کر پناہ گزین ہو جائے۔ (بخاری ومسلم)
اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جب کوئی فتنہ ظاہر ہوگا تو اس فتنہ میں سونے والا شخص(جو اس فتنہ سے غافل اور بے خبر ہو اور اس کے بارے میں اطلاعات نہ سنتا ہو) جاگنے والے (یعنی اس فتنہ کو جاننے اور اس کی خبر رکھنے والے سے بہتر ہوگا، جاگنے والا شخص کہ خواہ وہ لیٹا ہوا ہو یا بیٹھا ہوا ) کھڑا رہنے والے سے بہتر ہوگا اور اس فتنہ میں کھڑا ہونے والا شخص اس فتنہ میں سعی کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا (یہاں سعی کا لفظ مشی یعنی چلنے والے کے معنی میں ہے ، اور کسی چیز کی طرف چلنا گویا اس چیز کے حق میں سعی وکوشش کرنے کے مترادف ہوتا ہے ، صراح میں لکھا ہے کہ سعی کے معنی ہیں دوڑنا ، جلدی کرنا، اور کسی چیز کے حق میں محنت وعمل کرنا پس اس فتنہ میں سعی کرنے والے سے مراد اس فتنہ میں مدد و تعاون دینا اور اس کے حق میں سعی وکوشش کرنا ہے، لہٰذا جو شخص اس فتنہ سے بھاگنے کا راستہ یا اس سے پناہ کی جگہ پائے تو اس کو چاہئے کہ وہاں جا کر پناہ حاصل کر لے۔
تشریح
فتنہ میں بیٹھنے والا، کھڑے ہونے والے سے اس لئے بہتر ہوگا کہ کسی چیز کے پاس کھڑے رہنے والا شخص اس چیز سے زیادہ قربت اور مناسبت رکھتا ہے کہ وہ اس چیز کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے جب کہ ادھر ادھر بیٹھا رہنے والا شخص اس چیز کو نہ دیکھتا ہے نہ سنتا ہے لہٰذا فتنوں میں کھڑا رہنے والا شخص ان کو دیکھنے اور سننے کی وجہ سے کہ جن کو بیٹھا ہوا شخص نہیں دیکھے، سنے گا عذاب سے زیادہ قریب ہوگا، ہو سکتا ہے کہ اس جملہ میں بیٹھنے والے شخص سے مراد وہ شخص ہو جو اس زمانہ میں ظاہر ہونے والے فتنہ کا محرک نہ ہو بلکہ اس سے دور رہ کر اپنے مکان میں بیٹھا رہے اور باہر نہ نکلے اور کھڑے ہونے والے سے مراد وہ شخص ہو جس کے اندر اس فتنہ کے تعلق سے کوئی داعیہ اور تحریک تو ہو مگر فتنہ انگیزی میں متردد ہو۔
" جو شخص فتنوں کی طرف جھانکے گا الخ " کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان فتنوں کی طرف متوجہ ہوگا اور ان کے نزدیک جائے گا تو اس کی وہ توجہ اور نزدیکی اس کے ان فتنوں میں مبتلا ہو جانے کا باعث ہوگی، لہٰذا ان فتنوں کی برائیوں سے بچنے اور ان کے جال سے خلاصی پانے کی صورت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگی کہ ان فتنوں سے جتنا زیادہ دور رہنا ممکن ہو اتنا ہی زیادہ دور رہا جائے۔
****************
وعن أبي بكرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنها ستكون فتن ألا ثم تكون فتن ألا ثم تكون فتنة القاعد خير من الماشي فيها والماشي فيها خير من الساعي إليها ألا فإذا وقعت فمن كان له إبل فليلحق بإبله ومن كان له غنم فليلحق بغنمه ومن كانت له أرض فليلحق بأرضه فقال رجل يا رسول الله أرأيت من لم يكن له إبل ولا غنم ولا أرض ؟ قال يعمد إلى سيفه فيدق على حده بحجر ثم لينج إن استطاع النجاء اللهم هل بلغت ؟ ثلاثا فقال رجل يا رسول الله أرأيت إن أكرهت حتى ينطلق بي إلى أحدالصفين فضربني رجل بسيفه أو يجيء سهم فيقتلني ؟ قال يبوء بإثمه وإثمك ويكون من أصحاب النار رواه مسلم .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عنقریب فتنوں کا ظہور ہوگا ، یاد رکھو پھر فتنے پیدا ہوں گے اور یاد رکھو ان فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ (یعنی مسلمانوں کی باہمی محاذ آرائی اور خونریزی کا حادثہ پیش آئے گا، اس فتنہ میں بیٹھا ہوا شخص چلنے والے شخص سے بہتر ہوگا اور چلنے والا شخص اس فتنہ کی طرف دوڑنے والے شخص سے بہتر ہوگا۔ پس آگاہ رہو! جب وہ فتنہ پیش آئے تو جس شخص کے پاس جنگل میں اونٹ ہوں اوہ اپنے اونٹوں کے پاس جنگل میں چلا جائے جس شخص کے بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس شخص کے پاس اس فتنہ کی جگہ کہیں دور کوئی زمین ومکان وغیرہ ہو وہ اپنی اس زمین پر یا اس مکان میں چلا جائے ۔ (حاصل یہ کہ جس جگہ وہ فتنہ ظاہر ہو وہاں نہ ٹھہرے بلکہ اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جائے اور گوشہ عافیت پکڑ لے یا اس فتنہ سے غیر متوجہ ہو کر اپنے کاروبار میں مشغول ومنہمک ہو جائے ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ اگر کسی شخص کے پاس نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں اور نہ کسی دوسری جگہ کوئی زمین ومکان وغیرہ ہو جہاں وہ جا کر گوشہ عافیت اختیار کرے اور اس فتنہ کی جگہ سے دور رہ سکے تو اس کو کیا کرنا چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی تلوار کی طرف متوجہ ہو اور اس کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالے۔ (یعنی اس کے پاس جو بھی آلات حرب اور ہتھیار ہوں ان کو بے کار اور ناقابل استعمال بنا دے تاکہ اس کے دل میں جنگ وپیکار کا خیال ہی پیدا نہ ہو اور وہ مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدل کے اس فتنہ میں شریک ہی نہ ہو سکے۔ یہ حکم اس لئے ہے کہ جس لڑائی میں دونوں طرف سے مسلمان برسرپیکار ہوں اور ایک دوسرے کی خونریزی کر رہے ہوں ، اس میں شریک نہیں ہونا چاہئے ۔ اور پھر اس شخص کو چاہئے کہ اگر وہ فتنہ کی جگہ سے بھاگ سکے تو جلد نکل بھاگے۔ تاکہ وہ اس فتنہ کے اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے اللہ میں نے تیرے احکام تیرے بندوں کو پہنچا دیئے۔ یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمائے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھ یہ بتائیے کہ اگر مجھے مجبور کر کے یعنی زور وزبردستی سے لڑنے والے دونوں فریق میں سے کسی ایک فریق کی صف میں لے جایا جائے اور وہاں سے کسی شخص کی تلوار سے مارا جاؤں یا کسی کا تیر آ کر مجھ کو لگے جو مجھے موت کی آغوش میں پہنچا دے تو اس صورت میں قاتل اور مقتول کا کیا حکم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ تمہارا وہ قاتل اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخیوں میں شمار ہوگا۔ (مسلم)
تشریح
علماء اسلام کے ہاں یہ ایک طویل بحث ہے کہ اگر افتراق وانتشار کا کوئی فتنہ ابھر آئے اور کچھ مسلمان دو فریق میں تقسیم ہو کر آپس میں جنگ وجدال کرنے لگیں تو اس وقت باقی مسلمانوں کا طرز عمل کیا ہونا چاہئے؟ اہل علم کی ایک جماعت کا یہ کہنا ہے کہ افتراق وانتشار اور مسلمانوں کی باہمی محاذ آرائی کی صورت میں کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ قتل وقتال میں شریک ہو، بلکہ جب مسلمانوں کے دو فریق آپس میں جنگ وجدال کریں تو اس میں شامل ہونے سے احتراز کرنا اور دونوں فریق سے یکسوئی وغیرہ جانب داری اختیار کر کے گوشہ عافیت پکڑنا واجب ہے ۔ ان حضرات کی دلیل مذکورہ بالا ارشاد گرامی اور اس طرح کی دوسری احادیث ہیں۔ مشہور صحابی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا مسلک بھی یہی تھا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول یہ ہے کہ خونریزی کی ابتدا خود نہیں کرنی چاہئے لیکن اگر کوئی خونریزی کرے تو اس کا دفعیہ کرنا لازم ہے جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کا مسلک یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں باہمی پھوٹ پڑ جائے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہو کر قتل وقتال کرنے لگیں تو اس فریق کی حمایت کرنی چاہئے جو حق وانصاف پر ہو اور جو فریق ظلم وناانصافی کی راہ اختیار کئے ہوئے ہو یا مسلمانوں کے امام وسردار سے بغاوت کر کے ملی افتراق وانتشار کا سبب بن رہا ہو اس کے خلاف قتال کرنا چاہئے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا بازار گرم ہو جائے گا اور بغاوت وسرکشی کرنے والوں کی ہمت افزائی ہوگی۔ اس مسلک کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ۔ آیت (وَاِنْ طَا ى ِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا) 49۔ الحجرات : 9) چنانچہ آیت کریمہ اس امر کو واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ جب مسلمانوں کے دو دو فریق باہمی قتل وقتال اور خونریزی میں مبتلا ہوں تو ان کے درمیان صلح وصفائی کرانی چاہئے اور دونوں فریق کو اس فتنہ وانتشار سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہے ۔ لیکن اگر ان دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے فریق کے تئیں حد سے تجاوز کرے اور اس فتنہ کو جاری رکھنے اور بھڑکانے میں مصروف رہے تو پھر اس فریق کے خلاف کہ جو حد سے متجاوز اور فتنہ کو بھڑکانے کا باعث بن رہا ہو تلوار اٹھا لینی چاہئے اور اس کے ساتھ قتال کرنا چاہئے تاکہ وہ راہ حق پر آ جائے۔
" اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ لوٹے گا " کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اس شخص پر دو گناہ ہوں گے ایک گناہ تو اس کے اس عمل کا کہ اس نے حقیقت میں تمہیں مارا اور دوسرا تمہارا گناہ بایں اعتبار کہ اگر بالفرض تم اس کو مارتے اور اس کا گناہ تمہیں ہوتا تو گویا وہ گناہ بھی اس کے سر ڈال دیا جائے گا۔ پس از راہ زجر و توبیخ اس امر کو واضح کیا گیا ہے کہ اس فتنہ میں کسی ایسے مسلمان کو قتل کرنے کا گناہ کہ جو اس جنگ سے بیزار ہو مگر مجبورا اس میں شریک ہو گیا ہو الضاعف یعنی دو گناہ ہو کر سر پڑے گا۔ اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ اس شخص پر دو گناہ ہوں گے ، ایک گناہ تو اس بغض وعداوت کا جو وہ مسلمانوں سے رکھتا تھا اور جس کے سبب تمہارا قتل ہوا، اور دوسرا گناہ تمہارے قتل کا جو اس سے سرزد ہوا۔
" اور دوزخیوں میں شمار ہوگا " اس کے بعد دوسرا جملہ یہ ہونا چاہئے تھا۔ کہ اور تم جنتیوں میں سے ہوگے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا جملہ ارشاد نہیں فرمایا کیونکہ مذکورہ پہلے جملہ سے یہ مفہوم خود بخود واضح ہو جاتا ہے۔

اس سے پہلے کی فتنوں کا ظہور ھو ، اعمال صالحہ کے ذریعہ اپنی زندگی مستحکم کرلو ۔

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا . رواه مسلم . ( متفق عليه )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اعمال صالحہ میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہو جائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اور ان فتنوں کا اثر ہوگا کہ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا، نیز اپنے دین ومذہب کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ ڈالے گا۔ (مسلم)

تشریح
" اعمال صالحہ میں جلدی کرو" کی ہدایت کا حاصل یہ ہے کہ اس تغیر پذیر دنیا کو کسی ایک رخ پر قرار نہیں اور وقت حالت کا بہاؤ ایک ہی سمت نہیں رہتا، اگر اب ایسے حالات ہیں جو عقیدہ و عمل کا رخ صحیح سمت رکھنے میں معاون بنتے ہیں تو بعد میں ایسے حالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو فکر ونظریات اور عقیدہ وعمل کا سفر ٹھیک رخ پر جاری رکھنے میں زبر دست رکاوٹ پیدا کر دیں، اور ایسے میں کم ہی انسان ایسے ہوتے ہیں جن کے ذہن وفکر اور دل و دماغ ان حالات کی تاثیر سے محفوظ رہ پائیں اور جن کے اعمال صالحہ میں رکاوٹ نہ پیدا ہوتی ہو، پس جس شخص کو جو بھی موقع ملے اس میں اچھے کام اور نیک عمل کرنے میں جلدی کرنی چاہئے اور جس قدر بھی اعمال کئے جا سکتے ہوں کر لئے جائیں کیونکہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا وقت کیا فتنے لے کر آئے اور پھر اعمال صالحہ اختیار کرنے کا موقع بھی مل سکے یا نہیں۔
" فتنوں" کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے فتنوں کے بارے میں کسی کو یہ معلوم نہیں ہو سکے گا کہ وہ کب اور کیوں نمودار ہوں گے اور ان سے چھٹکارے کی راہ کیا ہوگی، لہٰذا ان آنے والے فتنوں سے پہلے ہی اعمال صالحہ کے ذریعے اپنی دینی زندگی کو مضبوط ومستحکم بنا لو، آنے والے وقت کا انتظار نہ کرو کیونکہ اس وقت دین وشریعت کے تعلق سے سخت ترین آفات ومصائب میں اس طرح گم ہو کر رہ جاؤ گے کہ نیک کام کرنے کا موقع ہی نہ پا سکو گے۔ وہ وقت لوگوں کے ذہن وفکر اور اعمال وکردار پر کتنا برا اثر ڈالے گا اور وہ فتنے کس قدر سریع الاثر ہوں گے اس کی طرف اشارہ فرمایا کہ مثلا آدمی جب صبح کو اٹھے گا تو ایمان یعنی اصل ایمان یا کمال ایمان کے ساتھ متصف ہوگا لیکن شام ہوتے ہوتے کفر کے اندھیروں میں پہنچ جائے گا۔ رہی یہ بات کہ کفر سے کیا مراد ہے ؟ تو ہو سکتا ہے کہ اصل کفر مراد ہو، یعنی وہ شخص واقعۃ کفر کے دائرہ میں داخل ہو جائے گا یا یہ مراد ہے کہ وہ کفران نعمت کرنے والا ہو جائے گا، یا وہ کافروں کی مشابہت اختیار کر لے گا اور یا یہ کہ وہ ایسے کام کرنے لگے گا جو صرف کافر ہی کرتے ہیں۔
اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مذکورہ جملہ کے معنی یہ ہیں کہ مثلا ایک شخص جب صبح کو اٹھے گا تو اس چیز کو حلال جانتا ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز کو حرام جانتا ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، لیکن شام ہوتے ہوتے اس کے ذہن وفکر اور اس کے عقیدے میں اس طرح انقلاب آ جائے گا کہ وہ اس چیز کو حرام سمجھنے لگے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز کو حلال سمجھنے لگے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ اس پر جملہ کے دوسرے جزء یعنی شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کفر کی حالت میں اتھے گا۔ کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔ اور حاصل یہ ہے کہ عام لوگ ان فتنوں کی وجہ سے دین وشریعت کے معاملات میں تذبذب وتردد کا شکار ہو جائیں اور نام نہاد دانشور و عالم اور دنیادار مقتداؤں کے پیچھے چلنے لگیں گے۔ مظہر نے کہا ہے کہ مذکورہ صورت حال کے کئی وجوہ واسباب اور مختلف مظاہر ہوں گے ایک تو یہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑ جائے گا اور وہ مخالف گروہوں میں بٹ جائیں گے ۔ پس ان کے درمیان محض عصبیت اور بغض وعناد کی وجہ سے خونریزی ہوگی اور دونوں گروہوں کے لوگ اپنے مخالفین کے جان و مال کو نقصان پہنچانے اور ایک دوسرے کی آبرو ریزی کرنے کو حلال وجائز جانیں گے ، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے حاکم و امراء ظلم وجور کا شیوہ اپنا لیں گے۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کا ناحق خون بہائیں گے، زور زبردستی ان کا مال لیں گے زنا کاری کریں گے ، شراب پئیں گے اور دوسرے حرام امور کا ارتکاب کریں گے ، لیکن ان کی صریح زیادتیوں اور بدکاریوں کے باوجود بعض لوگ یہ عقیدہ رکھیں گے اور دوسرے حرام امور کا ارتکاب کریں گے، لیکن ان کی بدعقیدگی کے اس فتنہ میں مبتلا کرنے والے وہ نام نہاد علماء ہوں گے جن کو علماء سو کہا جاتا ہے ۔ ان کی طرف سے بے محابا ان امراء وحکام کے ان کاموں کے جواز کا فتوی دیا جائے گا جو وہ مسلمانوں کی خونریزی اور حرام امور کے ارتکاب کی صورت میں کریں گے، اور تیسرے یہ کہ عام مسلمانوں میں جہالت اور دین کی ناواقفیت کی وجہ سے جو برائیاں پھیل جائیں گی اور ان سے جن غیر شرعی امور کا صدور ہو گا جیسے خرید وفروخت کے معاملات اور دوسرے سماجی امور وتعلقات میں دین وشریعت کے احکام کی خلاف ورزی ، ان کو حلال وجائز مانیں گے۔ اور حضرت شیخ عبدالحق نے یہ لکھا ہے کہ مذکورہ صورت حال اس وجہ سے پیدا ہوگی کہ لوگ اپنے اغراض ومنافع کی خاطر، دنیادار امراء وحکام اور اہل دولت و ثروت سے میل جول رکھیں گے ان سے حاجت روائی کی امید میں ان کے ہاں گھستے پھریں گے ان کی حاشیہ نشینی اور مصاحبت کو بڑا اعزاز سمجھیں گے، پس اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ان کے تابع محض اور جی حضوری بن جائیں گے اور ان کے خلاف شریعت امور ومعاملات میں ان کی موافقت تائید کرنے پر مجبور ہوں گے۔
" آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا الخ" کے ایک معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ آدمی صبح کو اٹھے گا تو اپنے مسلمان بھائی کے خون اور مال وعزت کے حرام ہونے کا عقیدہ رکھنے کے سبب ایمان کی حالت میں ہوگا مگر شام ہوتے ہوئے اس کے عقیدے میں تبدیلی آ جائے گی اور وہ اپنے مسلمان بھائی کے خون اور مال کو حلال سمجھنے لگے گا اور اس کے سبب وہ کافر قرار دیا جائے گا یہ معنی اختیار کرنے کی صورت میں فتنوں سے مراد جنگ وقتال ہوگا۔ لیکن اس جملہ کے جو معنی پہلے بیان کئے گئے ہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی کے زیادہ مناسب ہیں۔

جب فتنوں کا ظہور ھو تو گوشہ عافیت تلاش کرو

عن حذیفة قال كان الناس يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت أسأله عن الشر مخافة أن يدركني قال قلت يا رسول الله إنا كنا في جاهلية وشر فجاءنا الله بهذا الخير فهل بعد هذا الخير من شر ؟ قال نعم قلت وهل بعد ذلك الشر من خير ؟ قال نعم وفيه دخن . قلت وما دخنه ؟ قال قوم يستنون بغير سنتي ويهدون بغير هديي تعرف منهم وتنكر . قلت فهل بعد ذلك الخير من شر ؟ قال نعم دعاة على أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها . قلت يا رسول الله صفهم لنا . قال هم من جلدتنا ويتكلمون بألسنتنا . قلت فما تأمرني إن أدركني ذلك ؟ قال تلزم جماعة المسلمين وإمامهم . قلت فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام ؟ قال فاعتزل تلك الفرق كلها ولو أن تعض بأصل شجرة حتى يدركك الموت وأنت على ذلك . متفق عليه . وفي رواية لمسلم قال يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي ولا يستنون بسنتي وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس . قال حذيفة قلت كيف أصنع يا رسول الله إن أدركت ذلك ؟ قال تسمع وتطيع الأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك فاسمع وأطع .
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ تو اکثر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خیر ونیکی اور بھلائی کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر و برائی کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں میں کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہو جاؤ (یعنی دوسرے صحابہ تو عبادت وطاعت کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نیک عمل اور اچھے کام کر سکیں یا یہ کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے رزق میں وسعت وخوشحالی کی دعا کرتے تھے تاکہ انہیں اطمینان وفراغت حاصل ہو اور اپنی دنیا کو آخرت کی فلاح وکامیابی کا ذریعہ بنا سکیں لیکن ان کے برخلاف میرا معمول دوسرا تھا، میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گناہ اور برائیوں کے بارے میں پوچھا کرتا تھا کہ ان سے اجتناب کر سکوں یا یہ کہ ان فتنوں کے بارے میں پوچھتا تھا جو اس دنیا میں ظہور پذیر ہو سکتے ہیں اور جو نہ صرف اخروی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ ان کے برے اثرات دنیاوی خوشحالی اور رزق کی وسعت پر بھی پڑتے ہیں اور پوچھنے کی بناء یہ خوف ہوتا تھا کہ کہیں میں ان فتنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤں یا ان کے برے اثرات واسباب مجھ تک نہ پہنچ جائیں چنانچہ اہل علم سے برائیوں کی واقفیت حاصل کر کے ان سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنا ایک بہترین طریق ہے۔ اسی لئے حکماء اور اطبا بلکہ بعض فضلاء نے اس طریق کو بطور اصل اختیار کیا ہے کہ ازالہ مرض سلسلہ میں پرہیز کو ملحوظ رکھنا دوا استعمال کرنے سے زیادہ بہتر ہے نیز کلمہ تو حید بھی اسی اصول کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے ما سوی اللہ کی نفی کی گئی ہے اس کے بعد الوہیت کو ثابت کیا گیا) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ اپنی مذکورہ عادت کے مطابق ایک دن میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ اسلام سے قبل جاہلیت اور برائی میں مبتلا تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے صدقہ میں ہمیں یہ ہدایت بخشی یعنی اسلام کی روشنی عطا فرمائی جس کی وجہ سے کفر ضلالت کے اندھیرے دور ہو گئے اور ہم گمراہیوں اور برائیوں کے جال سے باہر آ گئے تو کیا اس ہدایت وبھلائی کے بعد کوئی اور برائی وبدی پیش آنے والی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں! (اس بھلائی کے بعد بھی برائی پیش آنے والی ہے)۔ میں نے عرض کیا تو کیا اس برائی کے بعد پھر بھلائی کا ظہور ہوگا کہ جس کی وجہ سے دین وشریعت کا پھر بول بالا ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس برائی کے بعد پھر بھلائی کا ظہور ہوگا لیکن اس برائی کے بعد پھر بھلائی کا ظہور ہوگا لیکن اس برائی کے بعد جو بھلائی آئے گی اس میں کدورت ہوگی۔ میں نے عرض کیا کہ اس بھلائی کی کدورت کیا ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے کدورت کی جو بات کہی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میرے طریقہ اور میری روش کے خلاف طریقہ و روش اختیار کریں گے۔ لوگوں کو میرے بتائے ہوئے راستہ کے خلاف راستہ پر چلائیں گے۔ اور میری سیرت اور میرے کردار کے خلاف سیرت وکردار اپنائیں گے تم ان میں دین دار بھی دیکھو گے اور بے دین بھی۔ میں نے عرض کیا ، کیا اس بھلائی کے بعد پھر کوئی برائی پیش آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر مخلوق کو اپنی طرف بلائی گے جو شخص ان کے بلاوے کو قبول کر کے دوزخ کی طرف جانا چاہے گا اس کو وہ دوزخ میں دھکیل دیں گے یعنی جو شخص ان کے بہکاوے میں آ کر ان گمراہیوں میں مبتلا ہوگا جو دوزخ کے عذاب کا مستوجب بناتی ہیں تو وہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ ان کے بارے میں وضاحت فرمائیے کہ وہ کون لوگ ہوں گے آیا وہ مسلمانوں ہی میں سے ہوں گے یا غیر مسلم ہوں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ وہ ہماری قوم ، ہمارے ابناء جنس اور ہماری ملت کے لوگوں میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے (یعنی وہ لوگ عربی زبان رکھنے والے ہونگے یا یہ مراد ہے کہ ان کی گفتگو قرآن وحدیث کے حوالوں سے مزین اور پند و نصائح سے آراستہ ہوگی اور بظاہر ان کی زبان پر دین ومذہب کی باتیں ہوں گی مگر ان کے دل نیکی وبھلائی سے خالی ہوں گے) میں نے عرض کیا کہ تو پھر میرے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے (یعنی اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو مجھے اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کتاب وسنت پر عمل کرنے والے مسلمانوں کی جماعت کو لازم جاننا اور ان کے امیر کی اطاعت کرنا یعنی اہل سنت کے راستہ کو اختیار کرنا اور اہل سنت کا جو امام و مقتدا ہو اس کی اطاعت و رعایت کو ملحوظ رکھنا میں نے عرض کیا کہ اور اگر مسلمانوں کی کوئی مسلمہ جماعت ہی نہ ہو؟ اور نہ ان کا کوئی متفقہ امیر ومقتدا ہو بلکہ مسلمان مختلف جماعتوں میں منقسم ہوں اور الگ الگ مقتداؤں کے پیچھے چلتے ہوں تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں تمہیں ان سب فرقوں اور جماعتوں سے صرف نظر کر کے یکسوئی اختیار کر لینی چاہئے اگرچہ اس یکسوئی کے لئے تمہیں کسی درخت کی جڑ میں پناہ کیوں نہ لینی پڑے جنگلوں میں چھپنا کیوں نہ پڑے اور اس کی وجہ سے سخت سے سخت مصائب وشدائد برداشت کیوں نہ کرنا پڑے اور ان جنگلوں میں گھاس پھوس کھانے پر قناعت تک کی نوبت کیوں نہ آ جائے یہاں تک اسی یکسوئی کی حالت میں موت تمہیں اپنی آغوش میں لے لے۔ (بخاری ومسلم)
اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد ایسے امام یعنی امیر بادشاہ اور قائد رہنما ہوں گے جو عقیدہ وفکر اور علم کے اعتبار سے میری سیدھی راہ پر نہیں چلیں گے اور کردار وعمل کے اعتبار سے میری روش اور میرا طریقہ نہیں اپنائیں گے یا یہ معنی ہیں کہ وہ کتاب وسنت پر عمل نہیں کریں گے اور اس زمانہ میں ایسے بھی پیدا ہوں گے جو روپ اور بدن تو آدمیوں جیسا رکھیں گے لیکن ان کے دل شیطانوں کے سے ہوں گے یعنی وہ لوگ فسق وگمراہی شقاوت سخت دلی، شکوک وشبہات پیدا کرنے، فریب دینے عقل کے نکمے ہونے اور فاسد خواہشات رکھنے میں انسانیت کی ساری حدوں کو پار کر جائیں گے اور اس اعتبار سے ان کی شکل کو صورت آدمیوں جیسی ہونے کے باوجود ان کی سیرت اور ان کی باطنیت شیطان کی سی ہوگی ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر میں اس زمانہ کو پاؤں تو کیا کرو؟ آپ نے فرمایا۔ مسلمانوں کا امیر ومقتدا جو کچھ کہے اس کو سننا اور امیر کی اطاعت کرنا (بشرطیکہ اس اطاعت کا تعلق کسی معصیت سے نہ ہو) اگرچہ تمہاری پشت پر مارا جائے اور تمہارا مال چھین لیا جائے تب بھی سننا اور طاعت کرنا۔
تشریح
لفظ " شر" سے مراد فتنہ، ارکان اسلام میں سستی و کوتاہی واقع ہو جانا، برائی کا غلبہ پا لینا اور بدعت کا پھیلنا ہے اور خیر سے مراد اس کے برعکس معنی ہیں۔
" ہم لوگ جاہلیت اور برائی میں مبتلا تھے " کے ذریعہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعثت نبوی سے قبل کے زمانہ کی طرف اشارہ کیا جب تو حید کا آفتاب جہالت کے بادلوں میں چھپا ہوا تھا، نبوت و رسالت کی روشنی نمودار نہیں ہوتی تھی۔ اور احکام الٰہی پر عمل آوری کا راستہ نظروں سے اوجھل تھا۔ فی جاہلیۃ و شر میں وشر کا لفظ عطف تفسیری ہے کہ اس لفظ کے ذریعہ جاہلیت کی وضاحت بیان کرنا مقصود ہے یا یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس جملہ میں وشر کے بعد تخصیص کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
" دخن" جس کا ترجمہ کدورت کیا گیا ہے ۔ دخان (دھواں ) کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح فضا میں پھیلا ہوا دھواں صاف وشفاف چیزوں کو مکدر اور دھندلا بنا دیتا ہے اسی طرح اس وقت جو بھلائی بھی سامنے آئے گی وہ بدی اور برائی کے گرد و غبار سے آلودہ ہوگی، بایں طور کہ لوگوں کے دلوں میں صفائی اور خلوص نہیں ہوگا جو اس اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھا۔ اور عقیدے صحیح اور اعمال صالح نہیں ہوں گے، امراء و سلاطین کا نظم مملکت اس عدل وانصاف پر مبنی نہیں ہوگا جو پہلے زمانہ میں پایا جاتا تھا مسلمانوں کے قائد و رہنما مخلص (بے غرض اور دین وملت کے سچے خادم نہیں ہوں گے، برائیوں کا ظہور ہوگا، بدعتیں پیدا ہوں گی بدکار لوگ نیکو کاروں کے ساتھ اہل بدعت، اہل سنت کے ساتھ خلط ملط رہیں گے۔
" تم ان میں دیندار بھی دیکھو گے اور بے دین بھی" کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور برائی دونوں کے ساتھ خلط ملط رکھنے کی وجہ سے متضاد اور مختلف اعمال و کردار اور طور طریقوں کے حامل ہوں گے؟ ان کی زندگی میں منکر یعنی بری باتوں کا چلن بھی ہوگا اور معروف یعنی اچھے کاموں کا عمل دخل بھی ہوگا۔ پس یہ جملہ بھی اسی مفہوم کو واضح کرتا ہے جو ماقبل کے جملوں نعم وفیہ دخن ویستنون بغیر سنتی سے مراد لیا گیا ہے۔
بعض حضرات نے وضاحت کی ہے کہ اس ارشاد گرامی میں اسلام و ہدایت کی روشنی کے بعد پیش آنے والی جس پہلی برائی یا فتنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے وہ فتنہ وفساد مراد ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سانحہ شہادت کے وقت رونما ہو اور پھر پیش آنے والی دوسری بھلائی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ خلافت ہے ، نیز منہم وتنکر یعنی تم ان میں دیندار بھی دیکھو گے اور بے دین بھی۔ میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان سے وہ امراء وسلاطین مراد ہیں جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بعد حکمراں ہوئے چنانچہ ان میں سے بعض ایسے حکمران گزرے جو اپنی ذاتی زندگی میں بھی اور اپنے نظام سلطنت میں بھی کتاب وسنت کی ہدایت کو رہنما بناتے تھے اور عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے تھے۔ یا یہ کہ بعض ان میں سے ایسے تھے جو کبھی تو اچھے کام کرتے تھے اور کبھی خواہشات نفسانی میں پڑ کر برے کام کرتے تھے، اس وقت ان کے سامنے آخرت کا مفاد اور دار آخرت کے لئے تیاری کا جذبہ نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کا اصل مفاد اپنی ذاتی اغراض کو پورا کرنا اور ہر صورت اپنے اقتدار اور اپنی حکمرانی کو باقی رکھنا ہوتا تھا ۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ پہلی برائی سے مراد وہ فتنہ وفساد ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کی صورت میں اور ان کے بعد رونما ہوا، اور دوسری بھلائی سے وہ صلح صفائی ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوئی اور دخن یعنی کدورت سے مراد وہ افسوسناک واقعات، حادثات ہیں جو حضرت امیر معایہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بعض امراء کے ذریعہ رونما ہوئے جیسے عراق میں زیاد کا فتنہ وفساد۔
" جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلائیں گے" یعنی ان مفاد پرست خود غرض اور گمراہ افراد کا ایک گروہ ہوگا جو لوگوں کو طرح طرح کے فریب اور مختلف لالچ اور بہلادوں کے ذریعہ گمراہی کی طرف بلائیں گے اور ان کو ہدایت و راستی سے دور رکھے گا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گمراہی کی دعوت دینے والوں کی دعوت کو اور جن کو دعوت دی جائے گی ان کی طرف سے اس دعوت کو قبول کئے جانے کو ایک ایسا سبب قرار دیا ہے جس کے ذریعہ دعوت دینے والے، دعوت قبول کرنے والوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے اس طرح وہ لوگ ان کی مکر و فریب دعوت کا شکار ہو کر جہنم میں پہلے جائیں گے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گویا مکر و فریب کی تمام اقسام اور تمام صورتوں کو جہنم کے دروازوں کا قائم مقام قرار دیا ہے۔
بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ یہاں جن افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہی کی طرف بلایئں گے ان سے وہ جاہ پسند اور حکومت واقتدار کے طلبگار مراد ہیں جو ملک وقوم پر اپنا تسلط قائم کرنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے گروہ بنائیں گے اور عام لوگوں کو طرح طرح کے فریب دے کر اپنے گرد جمع کریں گے تاکہ ان کی اجتماعی طاقت کے ذریعہ ملی سیادت اور ملک وحکومت پر قبضہ کر سکیں ، جیسا کہ خوارج اور روافض جیسے گمراہ فرقے اس ناپاک مقصد کے لئے پیدا ہوئے حالانکہ امارت وسیادت اور امانت و ولایت کی کوئی بھی شرط وخصوصیت ان میں موجود نہیں پائی جائے گی۔ ایک بات یہ بھی قابل وضاحت ہے کہ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ ودوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اپنی طرف بلائیں گے ۔ تو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہونا، مال کار کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے یعنی گمراہی کی طرف ان لوگوں کے بلانے کا مآل کار چونکہ یہ ہوگا کہ جو لوگ ان کے بلانے پر ان کی طرف چلے جائیں گے وہ دوزخ کے عذاب کے مستوجب بنیں گے۔ اس لئے گمراہی کی طرف ان کے بلانے کو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پس یہ ارشاد گرامی اسلوب کے اعتبار سے قرآن کریم اس آیت کی طرح ہے کہ (اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا )4۔ النساء : 10)
مسلم کی روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں مسلمانوں کا باقاعدہ نظم سلطنت قائم ہے اور مسلمانوں کا امیر و امام موجود ہے تو وہاں کے سیاسی حالات میں تمہارے لئے کتنی ہی تنگی وسختی کیوں نہ ہو اور اس امیر و امام کی طرف سے تمہارے مال اور تمہاری جان کے تئیں ظلم ہی کیوں نہ ہوتا ہو یا تمہیں مارا پیٹا اور تمہارا مال واسباب چھینا کیوں نہ جاتا ہو، تم اس امیر و امام کے خلاف علم بغاوت ہرگز بلند نہ کرنا اور فتنہ وفساد کے دروازے نہ کھولنا بلکہ صبر و تحمل کی راہ اختیار کئے رہنا، اور سخت سے سخت حالات میں بھی امام وقت سے بغاوت کر کے دین وملت کے شیرازہ کو منتشر کرنے کا سبب نہ بننا رہی بات یہ کہ اگر وہ امیر و امام مشروع امور کے ارتکاب کا حکم دے ؟ تو اس صورت میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ہاں اگر ان مشروع امور کے ارتکاب کے لئے کہا جائے کہ حکم عدولی کی صورت میں بھی اولیٰ کو اختیار کرنے کا جواز باقی رہتا ہے یعنی حکم عدولی کی صورت میں جان جانے کا خوف ہو تو غیر مشروع امر کا ارتکاب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص جان کی بازی لگا کر بھی غیر مشروع امر کے ارتکاب سے انکار کرے تو یہ سب سے اچھی بات ہوگی۔ اور اس سب سے اعلی درجہ کو اختیار کرنے کا جواز ہے۔
آخر میں فاسمع واطع کے الفاظ جو دوبارہ ارشاد فرمائے گئے ہیں ان سے اس حکم کو مؤ کد کرنا مقصود ہے کہ اپنے کو امام وقت کی اطاعت سے علیحدہ نہ کیا جائے اور سرکشی وبغاوت کے ذریعہ ملک وملت میں انتشار وتفریق کا فتنہ نہ اٹھایا جائے۔

فتنوں کا بیان

" فتن" اصل میں فتنۃ کی جمع ہے جیسا کہ محن محنۃ کی جمع آتی ہے فتنہ کے مختلف معنی ہیں مثلاً آزمائش وامتحان، ابتلا، گناہ، فضیحت، عذاب، مال و دولت، اولاد، بیماری، جنون ، محنت، عبرت، گمراہ کرنا وگمراہ ہونا، اور کسی چیز کو پسند کرنا اور اس پر فریفتہ ہونا نیز لوگوں کی رائے میں اختلاف پر بھی فتنہ کا اطلاق ہوتا ہے۔
********************
عن حذيفة قال قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقاما ما ترك شيئا يكون في مقامه إلى قيام الساعة إلا حدث به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه أصحابي هؤلاء وإنه ليكون منه الشيء قد نسيته فأراه فأذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل إذا غاب عنه ثم إذا رآه عرفه . متفق عليه .
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے جیسا کہ وعظ وخطبہ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور وعظ کہا جس کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان فتنوں سے آگاہ فرمایا جو ظاہر ہونے والے تھے پس از قسم فتنہ جو چیزیں اس وقت یعنی زمانہ نبوی سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والی تھیں ان سب کو ذکر فرمایا اور ان میں سے کوئی چیز بیان کرنے سے نہیں چھوڑی ان باتوں کو یاد رکھنے والوں نے یاد رکھا اور جو بھولنے والے تھے وہ بھول گئے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن فتنوں کا ذکر فرمایا ان کو بعض لوگوں نے تو یاد رکھا اور بعض لوگوں نے فراموش کر دیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے یہ دوست (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم جو اس وقت بقید حیات ہیں) اس واقعہ سے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن اپنے خطبہ میں قیامت تک ظاہر ہونے والے فتنوں کا ذکر فرمایا تھا) واقف ہیں (لیکن ان میں سے بعض حضرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان فرمودہ ان باتوں کو جانتے ہیں اور بعض حضرات کو وہ باتیں تفصیل کے ساتھ یاد نہیں رہی ہیں کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ نسیان کا طاری ہو جانا انسانی خواص میں سے ہے اور جیسا کہ بیان کیا گیا میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں جو ان باتوں کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن باتوں کی خبر دی تھی اور جن باتوں کو میں بھول گیا ہوں اگر ان میں سے کوئی بات پیش آ جاتی ہے تو میں اس کو دیکھ کر اپنا حافظہ تازہ کر لیتا ہوں جس طرح کہ جب کسی غائب شخص کا چہرہ نظر آجاتا ہے تو وہ چہرہ دیکھ کر اس شخص کو پہچان لیا جاتا ہے (یعنی عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص بہت عرصہ تک غائب رہتا ہے تو اس کی شخصیت ذہن سے اوجھل ہو جاتی ہے اور لوگ اسے بھول جاتے ہیں لیکن جب کبھی وہ ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کا چہرہ نظروں کے سامنے آ جاتا ہے تو اس کی بھولی ہوئی شخصیت فوراً یاد آ جاتی ہے اور وہ تشخص کے ساتھ پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح میرا معاملہ بھی یہ ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو باتیں پیش گوئی فرمائی تھیں وہ تفصیلی طور پر میرے ذہن میں نہیں رہی ہیں لیکن جب ان باتوں میں سے کوئی بات پیش آ جاتی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چیزوں کی خبر دی تھی ان میں سے کوئی چیز وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کو دیکھ کر میں فوراً پہچان لیتا ہوں کہ یہ وہی بات ہے جس کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی تھی۔ (بخاری ومسلم)

قلب انسانی پر فتنوں کی یلغار
وعنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول تعرض الفتن على القلوب كالحصير عودا عودا فأي قلب أشربها نكتت فيه نكتة سوداء وأي قلب أنكرها نكتت فيه نكتة بيضاء حتى يصير على قلبين أبيض بمثل الصفا فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والأرض والآخر أسود مربادا كالكوز مجخيا لا يعرف معروفا ولا ينكر منكرا إلا ما أشرب من هواه رواه مسلم . ( متفق عليه )
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ " لوگوں کے دلوں پر فتنے اس طرح ڈالے جائیں گے جس طرح چٹائی کے تنکے ہوتے ہیں یعنی جس طرح چٹائی میں تنکے ایک کے پیچھے ایک لگائے جاتے ہیں اسی طرح سے دلوں پر ایک کے بعد ایک فتنے ڈالے جائیں گے پس جو دل ان فتنوں کو قبول کرے گا اس میں سیاہ نکتہ ڈال دیا جائے گا اور جو دل ان فتنوں کو قبول کرنے سے انکار کرے گا اس میں سفید نکتہ پیدا کر دیا جائے گا پس انسان ان فتنوں کے پیش آنے اور ان کے دلوں پر ان فتنوں کی تاثیر وعدم تاثیر کے اعتبار سے دو قسموں میں بٹ جائیں گے (یا یہ کہ انسان کے دل مذکورہ اعتبار کے مطابق دو قسم کے ہو جائیں گے) ایک تو سفید مثل سنگ مرمر کے کہ جس پر کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوتی واضح رہے کہ اس تشبیہ میں محض سفیدی مراد نہیں ہے بلکہ سختی اور قوت کا اعتبار بھی ملحوظ رکھا گیا ہے چنانچہ اس طرح کے دل پر کوئی بھی فتنہ اثر انداز اور مسرت رساں نہیں ہوگا جب تک کہ زمین وآسمان قائم وباقی ہیں (یعنی اس دل کی یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے گی) اور دوسرا راکھ کے رنگ جیسا سیال دل، اوندھے برتن کی مانند (کہ اس میں جو کچھ بھی ہو گر پڑے، مطلب یہ کہ اس طرح کا دل راکھ کی مانند سیاہ اور اوندھے برتن کی طرح ایمان ومعرفت کے نور سے خالی ہوگا چنانچہ اس طرح کا دل نہ تو نیک واچھے اور مشروع کاموں کو پہچانے گا اور نہ برے کاموں کو برا جانے گا، وہ تو بس اس چیز سے مطلب رکھے گا جو از قسم خواہشات اس میں رچ بس گئی ہے اور جس کی محبت کا وہ اسیر بن چکا ہے۔ (یعنی وہ طبعی طور پر نفسانی خواہشات کا غلام ہوگا اور اچھی وبری کا امتیاز کئے بغیر ہر اس چیز کے پیچھے بھاگے گا جو اس کے نفس کو مرغوب ہوگی۔ (مسلم)
تشریح
" فتنوں " سے مراد بلا وآفات اور وہ چیزیں ہیں جو انسان کے ذہن وفکر اور قلب وجسم کو تعب وتکلیف اور رنج ونقصان میں مبتلا کر لیتی ہیں لیکن بعض حضرات نے " فتنوں" کی مراد، فاسد و گمراہ نظریات، باطل افکار اور نفسانی شہوت وخواہشات کو قرار دیا ہے۔
لفظ " عودا " تین طرح سے نقل کیا گیا ہے، ایک روایت میں عین کے پیش اور دال مہملہ کے ساتھ ہے اور جیسا کہ دوسری روایت سے بھی ثابت ہوتا ہے، یہی زیادہ مشہور ہے۔ اس صورت میں حدیث کے اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ دلوں میں فتنے اس طرح ایک کے بعد ایک دو آئیں گے جیسا کہ چٹائی بنتے وقت تنکے ایک کے بعد ایک داخل کئے جاتے ہیں، اس تشبیہ سے مراد دلوں پر فتنوں کا اس طرح پیش آنا ہے جس طرح چٹائی بننے والے کے سامنے تنکے یکے بعد دیگرے پیش ہوتے رہتے ہیں۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ وہ فتنے دل پر اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ دوسری روایات میں یہ لفظ عین کے زیر اور ذال کے ساتھ یعنی عوذا ہے اس صورت میں یہ لفظ ان فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ گفتگو وکلام کے دوران کفر ومعصیت کے ذکر کے بعد نعوذ باللہ یا معاذ اللہ کہا جاتا ہے۔ تیسری روایت میں یہ لفظ عین کے زیر اور دال کے مہملہ کے ساتھ (یعنی عودا) ہے اور اس سے مراد عود وتکرار ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ فتنے دل پر باربار واقع ہوں گے۔ واضح رہے کہ پہلی روایت میں تو یہ لفظ منصوب اور مرفوع دونوں طرح نقل کیا گیا ہے اور دوسری وتیسری روایت میں صرف منصوب منقول ہے۔
" اشربہا " میں لفظ مشرب صیغہ مجہول کے ساتھ ہے۔ کہا جاتا ہے اشرب فلاں حب فلاں یعنی فلاں شخص کے دل میں فلاں شخص کی محبت رچ گئی ہے۔ یا فلاں شخص کے دل میں فلاں شخص کی محبت کا فتنہ بیٹھ گیا ہے، یا فلاں شخص کے دل پر فلاں شخص کی محبت کا رنگ چڑھ گیا ہے جیسا کہ کسی کپڑے پر کوئی رنگ چڑھ جاتا ہے۔ چونکہ شرب کے اصل معنی پینے کے ہیں اس لئے کڑے پر رنگ چڑھنے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ گویا وہ کپڑا اس رنگ کو پیتا ہے اور اس میں رنگ جاتا ہے پس " جو دل ان فتنوں کو قبول کر لے گا " کا مطلب یہ ہے کہ جس میں کجی ہوگی اور جس کا میلان و رجحان برائی کی طرف ہوگا اس میں وہ فتنے رچ بس جائیں گے اور گویا وہ دل ان فتنوں کو اس طرح قبول کر لے گا جس طرح کوئی سفید کپڑا کسی بھی رنگ کو فورا قبول کر لیتا ہے۔
" نکتہ" اصل میں داغ کو کہتے ہیں اور اس نشان کے معنی میں آتا ہے جو لکڑی وغیرہ کے کریدنے اور چھونے سے زمین پر پیدا ہو جاتا ہے۔ نیز " نکتہ" کا لفظ " نقطہ کے معنی میں بھی آ جاتا ہے اور خاص طور پر اس نقطہ (دھبہ) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جو مخالف رنگ کی چیز میں ہو جیسے سفید چیز میں سیاہ نقطہ اور سیاہ چیز میں سفید نقطہ۔
حتی تصیر علی قلبین میں لفظ تصیر حرف ت کے ساتھ بھی ہے اور حرف ی کے ساتھ بھی۔ اگر یہ لفظ ی کے ساتھ یعنی یصیر پڑھا جائے تو اس صورت میں اس کی ضمیر انسان کی طرف راجع ہوگی جیسا کہ سیاق کلام سے مفہوم ہوتا ہے اور اگر اس لفظ کو ت کے ساتھ تصیر پڑھا جائے تو اس کی ضمیر قلوب کی طرف راجع ہوگی جو صریحا مذکورہ بھی ہے۔
" مرباد" م کے پیش اور ر کے جزم اور دال کی تشدید کے ساتھ، کے معنی خاکستر اور سیاہ رنگ کے ہیں۔ " رمد " کا لفظ بھی خاکستر رنگ کے معنی میں آتا ہے اور " ارمداد" کے معنی ہیں خاکستری رنگ کا ہونا۔
******************
امانت دلوں سے نکل جائے گی
وعنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين رأيت أحدهما وأنا أنتظر الآخر حدثنا إن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال ثم علموا من القرآن ثم علموا من السنة . وحدثنا عن رفعها قال ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه أثرها مثل أثر الوكت ثم ينام النومة قتقبض فيبقى أثرها مثل أثر المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفط فتراه منتبرا وليس فيه شيء ويصبح الناس يتبايعون ولا يكاد أحد يؤدي الأمانة فيقال إن في بني فلان رجلا أمينا ويقال للرجل ما أعقله وما أظرفه وما أجلده وما في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان . متفق عليه . ( متفق عليه )
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے امانت کے بارے میں اور فتنے کے زمانہ کے حوادث کے سلسلہ میں دو حدیثیں یعنی دو باتیں بیان فرمائیں ان میں سے ایک کو تو دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں (یعنی حضور نے پہلی بات جو یہ فرمائی کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتاری گئی ہے اس کو تو میں نے دیکھ لیا اور دوسری بات یعنی امانت کے اٹھ جانے کا منتظر ہوں) چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا کہ ۔ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتاری گئی پھر انہوں نے اس امانت کو نور سے قرآن کو جانا اور پھر انہوں نے سنت کو جانا۔ اس کے بعد آپ نے امانت کے اٹھ جانے (یعنی ایمان کے اثرات وبرکات کے اٹھ جانے اور اس میں نقص آ جانے کی حدیث بیان کی چنانچہ فرمایا آدمی حسب معمول سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی (یعنی اس کے ایمان کے بعض ثمرات وانوار ناقص وکم ہو جائیں گے) پس امانت کا اثر یعنی نشان جو ایمان کا ثمرہ ہے وکت کے نشان کی طرح ہو جائے گا (حاصل یہ کہ ایمان کا نور دھندلا اور اس کا اثر وثمرہ ناقص ہو جائے گا) پھر جب وہ دوبارہ سوئے گا اور زیادہ غفلت طاری ہوگی تو اس کی امانت کا وہ حصہ بھی ناقص کر دیا جائے گا اور نکال لیا جائے گا جو باقی رہ گیا تھا پس اس کے دل میں ایک مجل یعنی آبلہ جیسا نشان رہ جائے گا جیسا کہ تم آگ کی چنگاری کو اپنے پاؤں پر ڈال دو اور اس سے آبلہ پڑ جائے جو بظاہر پھولا اور اٹھا ہوا ہوگا لیکن اس کے اندر خراب اور گندے پانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ پھر اس صورت حال کے بعد لوگ صبح کو اٹھیں گے تو حسب معمول آپس میں خرید و فروخت کریں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جو امانت کو ادا کرے (یعنی شریعت کے حقوق ادا کرنے والا فرائض و واجبات کی تکمیل کرنے والا اور لوگوں کے حق میں کوئی خیانت و بد دیانتی نہ کرنے والا کہیں دور دور بھی نظر نہیں آئے گا) یہاں تک کہ امانت و دیانت میں کمی آ جانے کے سبب یہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلہ یا فلاں شہر و آبادی میں لوگوں کی کثرت کے باوجود بس ایک شخص ہے جو امانت دار یعنی کامل الایمان ہے۔ اور زبردست سیاسی مہارت و چالاکی اور دنیاوی شان وشوکت کا حامل ہوگا یا کہا جائے گا کہ اپنے دنیاوی کاروبار اور معاملات میں کس قدر عقلمند و ہوشیار، کس قدر خوبصورت ودانا، خوشگوار اور زبان آور ہے اور کس قدر چست وچالاک ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
" امانت" سے مراد یا تو اس کے مشہور معنی ہیں یعنی کسی کے حق میں یا کسی کی ملکیت میں خیانت نہ کرنا یا وہ تمام شرعی ذمہ داریاں مراد ہیں جو ہر شخص پر عائد کی گئی ہیں یعنی تمام اسلامی احکام وتعلیمات کو ماننا اور ان پر عمل کرنا اور امانت کے یہ وہ معنی ہیں جو قرآن کریم کی اس آیت (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ) 33۔ الاحزاب : 72) میں مذکور ہیںَ تاہم ان دونوں معنی کی اصل اور بنیاد ایمان ہے اس لئے زیادہ وضاحت کے لئے یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہاں امانت سے مراد ایمان ہے جیسا کہ خود حدیث کے آخری الفاظ وما فی قلبہ مثقال حبۃ من خر دل من ایمان سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حدیث کے اس جملہ ولا یکاد احد یودی الامانۃ میں امانت کا جو لفظ ہے وہ بھی مذکورہ وضاحت پر مبنی ہے۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو دو حدیثیں بیان فرمائیں ان میں سے پہلی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت وفلاح کے لئے ایمان وامانت کو نازل فرمایا اور اس کا مورود کل قلب انسانی کو قرار دیا کہ پہلے ایمان کا نور اور جوہر انسان کے دل میں اترا اور راسخ ومستحکم ہوا جس نے کتاب ہدایت قرآن مجید اور سنت نبوی پر عمل آوری کے راستہ کو منور کیا، چنانچہ انسان نے اسی طور ایمان کے سبب ان لافانی تعلیمات اور احکام ومسائل کو جانا اور سمجھا جو کتاب اللہ سے اخذ کئے گئے ہیں اور وہ احکام ومسائل خواہ فرض و واجب اور مسنون ومباح ہوں یا حرام ومکروہ، اور پھر اسی نور نے سنت نبی کی حقیقت وصداقت کو واشگاف کیا کہ زبان رسالت اور معمولات نبوی نے کتاب اللہ کی تعلیمات منشا حق کی جو وضاحت وتفسیر بیان فرمائی اس کو بلا چون وچرا قبول کر کے عمل کی راہ کو استوار کیا گیا ۔ یہاں یہ بات واضح ہوئی کہ حق تعالیٰ کی طرف سے نور ہدایت کا پیدا کیا جانا اور اس کے ذریعہ انسانیت عامہ کو نوازنے اور فلاح پہنچانے کا ارادہ فرمانا کتاب اللہ کو نازل کرنے اور رسولوں کو مبعوث کرنے سے پہلے تھا، یعنی پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو پیدا کیا اور یہ ارادہ فرمایا کہ اپنے بندوں کو اس نور ہدایت کے ذریعہ سعادت وبھلائی کے بلند مقام پر پہنچانا ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنی کتاب کو دنیا میں نازل فرمایا اور اپنے پیغمبر اور رسول مبعوث فرمائے پس نسل انسانی سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عنایت و ہدایت کا مورد ومحل بننا نصیب ہوا اور جن میں اس نور ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق واستعداد و دیعت ہوئی وہی خوش بخت کتاب وسنت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ایک نکتہ اور بھی بیان کیا جاتا ہے، وہ یہ کہ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ۔ پھر انہوں نے قرآن کو جانا اور پھر انہوں نے سنت کو جانا۔ اس کے ذریعہ ایمان وامانت کے مرتبہ کی شان وحیثیت اور اس کی عظمت کو بیان کرنا بھی مقصود ہے کہ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت یعنی ایمان کو نازل فرمایا اور قلوب انسانی میں اس کو ودیعت و راسخ فرما دیا تھا مگر پھر کتاب اللہ کے نازل کرنے اور اپنے پیغمبر و رسول کے مبعوث کرنے کے ذریعہ بھی اس کو مؤ کد ومؤید کیا۔ بہرحال یہ وہ پہلی حدیث جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمائی اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا مصداق اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا ہے بایں طور کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اور رفاقت حضوری میں صحابہ کرام اس ارشاد گرامی کے عین مصداق تھے اور دوسری حدیث کہ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امانت کے کم ہو جانے اور اٹھ جانے کا ذکر فرمایا وہ حضور کے مبارک زمانہ کے بعد کے لوگوں پر صادق آئی۔
" آدمی حسب معمول سوئے گا الخ" سے مراد یا تو حقیقۃ سونا ہے یا یہ جملہ اس کی غفلت و کوتاہی میں پڑ جانے سے کنایہ ہے یعنی یاد الٰہی سے غافل آیت الٰہی سے بے خبر، قرآن مجید میں تدبر و تفکر سے بے پرواہ اور تباع سنت میں کو تاہ ہو جانا۔ یہ دوسری مراد زیادہ واضح ہے کیونکہ ماقبل جملہ ثم السنۃ (اور پھر انہوں نے سنت کو جانا ) کا مخالف مفہوم اسی مراد کا متقاضی ہے۔
" فیظل اثرہ مثل اثرالوکت" امانت کا اثر یعنی نشان و کت کے نشان کی طرح ہو جائے گا۔ پہلے یہ جاننا چاہئے کہ کسی چیز کا اثر وہ نشان کہلاتا ہے جو اس چیز کی علامت کے طور پر نمودار ہے اور اس چیز کا کچھ نہ کچھ حصہ اس کی صورت میں باقی رہے اور " وکت" عکسی چیز کے اس دھبہ کو کہتے ہیں جو اس چیز کے مخالف رنگ کی صورت میں نمودار ہو جائے جیسے کسی سفید چیز میں سیاہ نقطہ کا نمودار ہونا اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ وکت اصل میں اس سفید نقطہ نما نشان کو کہتے ہیں جو آنکھ کی سیاہی میں پیدا ہو جائے۔ حدیث کے اس جملہ کا حاصل یہ ہے کہ دین وشریعت کی طرف سے غافل ہو جانے اور گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے دل میں ایمان کا نور کم ہو جائے گا اور وہ غافل ہونے والا جب اس صورت حال سے آگاہ ہوگا اور اپنے دل کی حالت وکیفیت میں غور و فکر کرے گا تو یہ محسوس کرے گا کہ اس میں ایک نقطہ کی مقدار کے علاوہ نور امانت میں سے اور کچھ باقی نہیں رہا ہے۔ " جب وہ دوبارہ سو جائے گا " کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب دین وشریعت سے غفلت کی نیند اور زیادہ طاری ہو جائے گی اور گناہوں کا ارتکاب زیادہ بڑھ جائے گا دل میں سے نور ایمان کا بقیہ حصہ بھی نکل جائے گا اور وہاں صرف مجل کے نشان کی طرح کی صورت میں رہ جائے گا واضح رہے کہ مجل کے معنی ہیں آبلہ پڑ جانا اور کام کرتے کرتے ہاتھ کی جو کھال سخت ہو جاتی ہے اور جس کو گھٹا بھی کہتے ہیں اس پر بھی مجل کا اطلاق ہوتا ہے۔ لہٰذا جس طرح انسان کے جسم کے کسی حصہ پر جو آبلہ پڑ جاتا ہے وہ اگرچہ اوپر سے ابھرا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں اس کے اندر خراب اور گندے پانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح جس شخص کے دل میں امانت کا وہ باقی اثر و نشان بھی نکال لیا جائے گا تو اگرچہ وہ بظاہر بالکل صالح و کار آمد نظر آئے گا لیکن حقیقت میں اس کے اندر سعادت وبھلائی اور اخروی زندگی کو فائدہ پہنچانے والی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ مذکورہ وضاحت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وکت اور مجل نور امانت کے اس حصہ کی تمثیل ہے جو دل میں باقی رہ جاتا ہے گویا ان دونوں چیزوں کی مثال کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس دور میں اسلام کے نام لیواؤں میں ایمان و دین کی اس کمزوری کے باوجود ان کے دل میں ایمان وامانت کا نور کسی نہ کسی حد تک ضرور باقی رہے گا خواہ وہ وکت اور مجل کے نشان ہی کی طرح کیوں نہ ہو لیکن اس وضاحت پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے وہ یہ کہ مجل کا نشان وکت کے نشان سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ لہٰذا کلام کے اسلوب کا تقاضا تو یہ تھا کہ پہلے مجل کے نشان کا ذکر کیا جاتا اور اس کے بعد وکت کے نشان کا ذکر ہوتا کیونکہ بعد کے درجہ کا نشان پہلے درجہ کے نشان سے کمتر اور ہلکا ہونا چاہئے
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ وکت اگرچہ بہت قلیل نشان ہوتا ہے مگر وہ مجل سے کمتر حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ مجل ایک خالی اور بالکل بیکار ہونے کی وجہ سے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا ۔ لیکن یہ جواب زیادہ مضبوط نہیں ہے۔
ایک شارح نے اس بحث پر ایک دوسرے انداز سے روشنی ڈالی ہے ان کے منقولات کے مطابق اس دوسری حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جن اہل ایمان کے قوائے فکر و عمل پر غفلت وبے حسی طاری ہو جائے گی اور گناہوں کے ارتکاب کی صورت میں دین شریعت کے ساتھ ان کا تعلق نہایت کمزور پڑ جائے گا ان کے دلوں سے " امانت' ' جاتی رہے گی چنانچہ جب اس کا ایک حصہ زائل ہو جائے گا تو ان کے دلوں میں سے اس کا نور بھی زائل ہو جائے گا اور اس کی جگہ وکت کی طرح ظلمت وتاریکی پیدا ہو جائے گی اور اس کی مثال ایسی جیسے کسی چیز میں اس کا مخالف رنگ نمودار ہو جائے مثلا سفید چیز میں سیاہ رنگ کا نمودار ہو جانا اور جب دین وشریعت کے تئیں غفلت و کوتاہی اور بڑھ جائے گی اور گناہوں کا ارتکاب پہلے سے بھی زیادہ ہو جائے تو نور امانت کا جو حصہ باقی رہ گیا تھا اس میں سے کچھ اور زائل ہو جائے گا اور اس کی مثال؛ ایسی ہے جیسے جسم کے کسی حصہ پر مجل (یعنی آبلہ یا گٹھے کا نشان) اتنا گہرا اور اس قدر سخت ہوتا ہے کہ جلد زائل نہیں ہوتا ، پس دوسری مرتبہ دل میں جو تاریکی پیدا ہوگی وہ پہلی مرتبہ پیدا ہونے والی تاریکی سے زیادہ پھیلی ہوئی اور گہری ہوگی۔ مذکورہ صورت حال کو اس مثال کے ذریعہ بیان فرمانے کے بعد پھر یہ فرمایا کہ قلب انسانی میں ایمان وامانت کے نور کا پیدا ہونا اور پھر نکل جانا یا دلوں میں اس نور کا جگہ پکڑنا اور پھر اس کے زائل ہو جانے کے بعد تاریکی کا آ جانا ایسی تشبیہ رکھتا ہے جیسا کہ کوئی آگ کا انگارہ لے کر اس کو اپنے پیر پر ڈال لے اور انگارہ پیر کو جلا کر زائل ہو جائے اور پھر جلی ہوئی جگہ پر آبلہ پڑ جائے۔
ایک اور شارح نے یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں امانت کا نور پیدا کیا تاکہ وہ اس کی روشنی میں فلاح کے راستہ پر چلیں اور دین وشریعت کے پیروکار بنیں لیکن جب وہ لوگ اس نعمت سے بے پرواہ ہو جائیں گے، دین وشریعت کے تئیں غفلت و کوتاہی میں پڑ جائیں گے اور گناہوں کا ارتکاب کرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان لوگوں سے یہ نعمت واپس لے لے گا۔ بایں طور کہ ان کے دل سے امانت نکل جائے گی، یہاں تک کہ جب وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں گے تو محسوس کریں گے کہ ان کے قلب کی وہ حالت نہیں ہے جو امانت کی موجودگی میں پہلے تھی۔ البتہ ان کے دلوں میں اس امانت کا نشان باقی رہے جو کبھی وکت کی طرح ہوگا اور کبھی مجل کی طرح ہوگا۔، پس مجل اگرچہ مصدر ہے لیکن یہاں اس سے مراد نفس آبلہ ہے اور یہ یعنی مجل پہلے مرتبہ یعنی وکت سے کمتر درجہ ہے۔ کیونکہ وکت کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگرچہ امانت دل سے نکل جائے گی مگر نشان کی صورت میں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ باقی رہے گا۔
حدیث کے آخری الفاظ " حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا " دونوں احتمال رکھتے ہیں یا تو اصل ایمان کی نفی مراد ہے، یعنی اس شخص کے سرے سے ایمان کا وجود ہی نہیں ہوگا، یا کمال ایمان کی نفی مراد ہے کہ ارشاد گرامی کے اس جزو کا حاصل یہ ہے کہ لوگ اس شخص کی عقل و دانائی کی زیادتی اور چالاکی اور مہارت وغیرہ کی تعریف کریں گے اور اس کے تئیں تعجب تحسین کا اظہار کریں گے لیکن کسی ایسے شخص کی تعریف وتوصیف نہیں کریں گے جس میں بہت زیادہ علم وفضل ہوگا اور جو عمل صالح کی دولت سے مالا مال ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز ایمان اور پاکیزگی فکر و عمل ہے۔ اگر کسی شخص میں ایمان وپاکیزگی کی دولت نہ ہو تو خواہ وہ دنیا بھر کی تمام نعمتوں، کامرانیوں اور خوبیوں کا حامل ہو اس کی کوئی حقیقت نہ ہوگی اگرچہ دنیا والے اس کی کتنی ہی تعریف وتحسین کریں اور اس کی ان خوبیوں و کامرانیوں کی وجہ سے اس کو کتنا ہی بہتر وبرتر جانیں لہٰذا تعریف وتحسین اس شخص کے حق میں معتبر ہوگی جو ایمان وتقویٰ کا حامل ہو۔

بدھ، 21 دسمبر، 2016

اهل خانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فقر کی مثال

عن عائشة قالت ما شبع آل محمد من خبز الشعير يومين متتابعين حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم . متفق عليه
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت (یعنی ازواج مطہرات اور متعلقین) نے دو روز مسلسل جو کی روٹی سے پیٹ بھرا ہو (چہ جائیکہ گیہوں کی روٹی سے) یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے" (بخاری ومسلم)
تشریح
دو روز مسلسل سے یہ واضح ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کا معمول یہی تھا کہ اگر ایک دن پیٹ بھر کر کھایا تو دوسرے دن بھوکے رہے، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوشحالی و ترفہ کی زندگی پر فقر و افلاس کی زندگی کو ترجیح دی تھی، اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا بھر کے خزانوں کی پیش کش ہوئی اور حکم ہوا اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں تو مکہ کے پہاڑوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے سونے میں تبدیل کر دیا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا بھر کے خزانوں اور سونے کے پہاڑوں کو تبدیل کرنے کے بجائے فقر اور تنگدستی ہی کو اختیار کیا اور فرمایا کہ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھروں اور ایک دن بھوکا رہوں، تاکہ جس دن پیٹ بھروں اس دن اللہ کا شکر ادا کروں اور جس دن بھوکا رہوں اس دن صبر کروں۔
مذکورہ بالا حدیث سے بعض لوگوں کے اس قول کی تردید ہو جاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری حصہ میں غنی و مالدار ہو گئے تھے، کیونکہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آخری عمر میں واقعتا غنی ہو گئے تھے تو پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس کہنے کے کیا معنی ہوں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات تک یہی معمول رہا کہ انہوں نے کبھی مسلسل دو دن تک جو کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا؟ ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ جب آخری زمانہ نبوی میں اسلام کو طاقت اور غلبہ ملا اور مجاہدین اسلام نے مختلف علاقوں کو فتح کیا تو اس صورت میں مال غنیمت کا مقررہ حصہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ملا، اور تھوڑا بہت مال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتارہا مگر روایات صحیحہ شاہد ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مال کو بھی اپنے پاس کبھی نہیں رکھا، بلکہ جس طرح آتا اسی طرح اس کو اپنے پوردگار کی خوشنودی کی راہ میں خرچ کر دیتے اور خود ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ رہ جاتے ، البتہ دل کا غنا اور بڑھ جاتا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت یہ تھی کہ مسلسل کئی کئی راتیں بھوک میں گزار دیتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا تھا اور وقتا فوقتا کھانا میسر ہونے کی صورت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دسترخوان پر عام طور سے جس چیز کی روٹی ہوتی تھی وہ جو تھا۔
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہمارے زمانہ کے غریب و نادار لوگوں اور فقراء میں سے کوئی بھی شخص اتنی سخت زندگی نہ تو گزاتا ہے اور نہ گزار سکتا ہے جتنی سخت زندگی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزارتے تھے، اور یہ شان اس ذات گرامی کی تھی جو نہ صرف افضل البشر بلکہ افضل الانبیاء ہے جس کے چشم و ابرو کے اشارے پر دنیا بھر کی نعمتیں اس کے قدموں میں آ سکتی تھیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس طرز زندگی میں غریب و نادار مسلمانوں کے لئے بڑی تسلی و اطمینان کا سامان پوشیدہ ہے۔
واضح رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس قدر فقر و افلاس کی زندگی گزارنا اور بھوک کی صعوبت کو برداشت کرنا کوئی اضطرار و مجبوری کے درجہ کی چیز نہیں تھی بلکہ یہ اپنے قصد و اختیار کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ دنیا کی لذات اور نعمتوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے، قوت لایموت پر قناعت کرتے اور اپنی اور اپنے اہل بیت کی ضروریات پر فقراء و مساکین اور دیگر ضرورت مندوں کی ضروریات کو ترجیح دے کر ایثار نفس پر عمل پیرا تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی سخت زندگی گزارتے تھے۔
مشکوة شريف 

غريب ونادار مسلمانوں کو جنت کی بشارت

عن أسامة بن زيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قمت على باب الجنة فكان عامة من دخلها المساكين وأصحاب الجد محبوسون غير أن أصحاب النار قد أمر بهم إلى النار وقمت على باب النار فإذا عامة من دخلها النساء . متفق عليه
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے کہ میں (معراج کی رات، یا خواب میں، یا حالت کشف میں) جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تھا (میں نے دیکھا کہ جو لوگ جنت میں داخل ہوئے ہیں ان میں زیادہ تعداد غریبوں کی ہے، اور مالداروں کو قیامت کے میدان میں روک رکھا گیا ہے۔ البتہ اصحاب نار یعنی کافروں کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دے دیا گیا ہے اور جب میں دوزخ کے دروزاے پر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ جو لوگ دوزخ میں ڈالے گئے ہیں ان میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہے" ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
" محبوسون" کے معنی ہیں وہ لوگ جن کو جنت میں جانے سے روک دیا گیا ہے حاصل یہ کہ مومنین میں سے جو لوگ اس فانی دنیا میں مالداری و تمول، اور جاہ و منصب کی وجہ سے عیش و عشرت کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں ان کو جنت میں جانے سے اس وقت تک کے لئے روکا رکھا جائے گا، جب تک ان سے اچھی طرح حساب نہیں لیا جائے گا، چنانچہ اس وقت وہ لوگ اس بات سے سخت رنج و غم محسوس کریں گے کہ انہیں دنیا میں مال و زر کی کثرت اور جاہ و منصب کی وسعت کیوں حاصل ہوئی ، اور وہ اپنی خواہشات نفس کے مطابق دنیاوی لذات و عشرت سے کیوں بہرہ مند ہوئے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر ان سے ان دنیاوی امور کا ارتکاب ہوا ہوگا جن کو حرام قرار دیا گیا ہے تو وہ عذاب کے مستوجب ہوں گے اور اگر انہوں نے محض ان چیزوں کو اختیار کیا ہوگا جن کو حلال قرار دیا گیا ہے تب بھی انہیں حساب و کتاب کے مرحلہ سے بہرحال گزرنا پڑے گا، جب کہ فقراء و مفلس لوگ اس سے بری ہوں گے کہ نہ تو ان سے حساب لیا جائے گا اور نہ انہیں جنت میں جانے سے روکا جائے گا بلکہ وہ مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں چلے جائیں گے اور ان کا مالداروں سے پہلے جنت میں جانا گویا ان نعمتوں کے عوض میں ہوگا جن سے وہ دنیا سے محروم رہے ہوں گے۔
مشکوة شريف