منگل، 12 دسمبر، 2017

اسلام میں سلام کی اہمیت اور احکام

------------------
عَنْ أَبِیْ هرَیْرَۃؓ قاَلَ : قاَلَ رَسُوْلُ اللّهﷺ :’’لاَتَدْخُلُوْنَ الْجَنّة حَتّٰی تُؤْمِنُوْا، وَلاَ تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحاَبُّوْا، أَوَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلیٰ شَيْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوْہٗ تَحاَبَبْتُمْ؟ أَفْشُوْا السَّلاَمَ بَیْنَکُمْ۔‘‘ ( مسلم،مشکوٰۃ/ص: ۳۹۷/کتاب الآداب/ بابُ السّلام/الفصل الأول)
ترجمہ  :    حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم  صلی اللہ علیہ و سلم  کا ارشاد ہے: ’’تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک (کامل ) ایمان نہ لے آؤ،اور تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم (اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے) آپس میں محبت نہ کرنے لگو،  اور کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کو اختیار کرکے تم باہم محبت کرنے لگو؟ تو وہ یہ ہے کہ تم آپس میں سلام کو خوب پھیلاؤ۔

تشريح :   سلام سے سلامتی وجود میں آتی ہے    :           
قرآن وسنت کی رو سے اسلام ایک مذہب ہی نہیں بلکہ دین ہے ۔مذہب اور دین میں فرق یہ ہے کہ مذہب تو اسے کہتے ہیں جو چند عقیدوں، عبادتوں اور اخلاقیات کے مجموعہ پر مشتمل ہو، جب کہ دین ایک مکمل نظامِ حیات، ضابطۂ زندگی اور زندگی کے تمام شعبوں کو شامل ہوتا ہے ۔اور جہاں کہیں بھی اسلام کو مذہب کہا گیا ہے وہ مجازاً ہے،ورنہ حقیقتہً اسلام ایک مکمل دین ہے، کیوں کہ اسلام  زندگی کے ہر ہر شعبہ کے لیے ایک مکمل دستور العمل رکھتا ہے، اس نے انسانی زندگی کے ہر ہر شعبہ میں بھر پور رہبری کی ہے،گھریلو زندگی سے لے کر خاندانی زندگی تک،اور ملکی زندگی سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک کونساایسا شعبہ ہے جو اسلام کی روشن تعلیمات وہدایات سے مربوط اور وابستہ نہیں ہے؟زندگی کا ہر شعبہ اور ہر پہلو ہر سمت اور ہر جہت اس کی گراں قدر رہنمائیوں سے لبریز ہے۔    اگر اسلامی تعلیمات و ہدایات پر بنظرِ عمیق (گہرائی سے) غور کیا جائے تو ظاہر ہوگا کہ اس کی تعلیمات و ہدایات انسانوں کی سلامتی،خیر خواہی اور بھلائی پر مبنی ہیں،جس کی ایک چھوٹی سی مثال ’’سلام ‘‘ہے، جو مسنون ہے، اور اسلامی تہذیب اور معاشرت کا ایک رکن ہے،سلام اسلام میں کوئی رسمی اور رواجی چیز نہیں،بلکہ امن و امان کا ایک عظیم الشان پیغام ہے، اس میں پیار و محبت کا رس بھرا ہوا ہے،اس سے سلامتی،خیر خواہی اور بھلائی وجود میں آتی ہے،اس لیے آپس کی ملاقات کے وقت پیار و محبت،خیر خواہی و خیررسانی کے اظہار کے لیے سلام سے بہتر کوئی کلمہ نہیں ہے، نہ کسی مذہب نے اس سلسلہ میں اتنی بہتر تعلیم دی ہے ۔
اسلامی سلام سے بہتر کوئی سلام نہیں   :یوں تو دنیا میں ہر مہذب سمجھی جانے والی قوم کا تقریباً یہ روا ج ہے کہ آپسی میل ملاپ اور ملاقات کے وقت موانست و محبت کا کوئی نہ کوئی جملہ اپنے مخاطب کو مانوس و مسرور کرنے کے لیے کہا جاتا ہے،مثلا ہمارے ہندوستان میں برادران وطن ملاقات کے وقت ’’نمستے‘‘ یا ’’نمسکار ‘‘کہتے ہیں،اس میں کچھ پرانے قسم کے لوگ ’’رام رام‘‘کہا کرتے ہیں، اور تہذیب نو کے علم بردار و دعوے دار صبح کی ملاقات کے وقت کہتے ہیں گڈمارننگ، یعنی اچھی صبح، شام کی ملاقات کے وقت گڈ اوننگ یعنی اچھی شام، اور رات کی ملاقات کے وقت گڈ نائٹ یعنی شب بخیر، عجیب بات یہ ہے کہ یہ رواج کوئی نیا نہیں، بلکہ زمانۂ جاہلیت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل خود عربوں میں بھی اس طرح کے کلمات کہنے کا رواج تھا، چناںچہ ابو داود شریف میں حدیث ہے: سیدنا عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ ’’زمانۂ جاہلیت میں ہم جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو کہتے:’’حَیَّاکَ اللّٰه‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں زندہ رکھے،’’أَنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا‘‘، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈا کرے، یا ’’أَنْعِمْ صَبَاحاً‘‘یعنی تمہاری صبح اچھی اور خوش گوار ہو،پھر جب اسلام کاآفتاب طلوع ہوا اور ہم دورِ جاہلیت کی تاریکی سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آئے تو ہمیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرما دیا ۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف/ ص : ۳۹۹)  آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرزِتحیہ کو بدل کر ’’السلام علیکم ‘‘ کہنے کا طریقہ جاری فرمایا، اس کے معنیٰ ہیں کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سلامتی ہو،اللہ اکبر کبیرا  !اسلامی سلام کس قدر جامع دعا بھی ہے،یعنی عرب کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی دعا نہیں،بلکہ حیاتِ طیبہ کی دعا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو تمام بری چیزوں ،بلاؤں، آفتوں،مصیبتوں اور تکلیفوں سے محفوظ اور سلامت رکھے،پھراسی کے ساتھ سلام کرنے والا سلامتی کی اس دعا کے ضمن میں گویایہ وعدہ بھی کر رہا ہے کہ تم خود بھی مجھ سے سلامت ہو،میرے ہاتھ اور زبان کی تکلیف سے محفوظ اور مامون ہو،اور میں تمہاری جان مال اورآبروکا محافظ ہوں،چنانچہ اسی کو ابن عربی ؒ نے احکام القرآن میں امام ابن عیینہ ؒ سے نقل کیا کہ’’ أَتَدْرِیْ مَا السَّلامُ؟ یَقُوْلُ: أَنْتَ آمِنٌ مِنِّیْ‘‘  یعنی تم جانتے ہو سلام کیا چیز ہے ؟ سلام کرنے والا یہ کہتا ہے کہ تم مجھ سے مامون ہو،اسلامی سلام کا ان حقائق کے پیش نظردوسری اقوام کے سلام سے موازنہ کیا جائے تو واضح ہوگا کہ اس سے بہتر کوئی دوسرا سلام نہیں۔نیز اس کے بہتر ہونے کی ایک او روجہ بھی ہے،جیساکہ ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں :      ’’اَلسَّلاَمُ اِسْمٌ مِنْ أَسْماَئِ اللّٰہِ، وَضَعَہُ اللّٰہُ فِیْ الأَرْضِ۔‘‘(مرقاۃ/ ص:۴۱۲/ ۸) سلام تو در حقیقت اللہ تعالیٰ کا وہ پیارانام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زمین پر اتارا ہے،لہٰذا اس سے بہتر کوئی سلام کیسے ہو سکتا ہے ؟اسی لیے حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ کسی صحابی ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کو سلام کیا، حضرت شیخ الاسلام علامہ مفتی محمدتقی عثمانیؔ مدظلہٗ فرماتے ہیںکہ یہ ابتدائِ اسلام کا زمانہ تھا، اور اس وقت اللہ تعالیٰ کا نام وضو کیے بغیر لینا مکروہ تھا۔   (اصلاحی خطبات ج:۱۱/ص:۱۵۶) (اور اتفاقاًآپ صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت وضو سے نہ تھے اور نہ وضو کا موقعہ تھا تو ) آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  نے پہلے تیمم کیا، پھر جواب دیا،ارشاد فرمایا: ’’مجھے اچھا نہ معلوم ہوا کہ بغیر تیمم (اور طہارت) کے اللہ تعالیٰ کا نام لوں‘‘۔ (سلام کروں) (از:’’اللہ اپنے بندوں سے کتنی محبت کرتے ہیں‘‘ /ص:۳۸)سلام کی مشروعیت و جامعیت  :        سلام کی مشروعیت و جامعیت کے متعلق اس نکتہ پر بھی غور کیجئے کہ رحمتِ عالم   صلی اللہ علیہ و سلم  نے سلام کی تعلیم وتاکید بالکل ابتدائی زمانے میں فرمائی، جس کا اصل مقصد بھی اپنے مخاطب کو سلامتی وخیر خواہی کا پیغام اور دعا دے کر مانوس اور مطمئن کرنا ہے،اس لیے کہ سلام کی مشروعیت جن حالات میں ہوئی ان میں بقول علامہ محمد نعیم صاحب ؒ سابق شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند (وقف) اسلام اور مسلمان نہایت کمزور تھے،مخالفین اور دشمنانِ دین ہر وقت ایذا رسانی اور شرارت پر کمر بستہ رہتے تھے، مسلمانوں کو جہاں راستہ میں چاہتے مارتے اور تکلیف دیتے، اس زمانے میں مسلمان ہونا اپنی جان کو ہتھیلی میں رکھنے کے برابر تھا،ان سخت حالات میں یہ ہدایت ملی کہ جب تم باہم ملو تو سلام کرو،تاکہ سننے والا پہلے ہی مرحلہ میں یہ معلوم کرکے مطمئن ہو جائے کہ میرا مخاطب مسلمان ہے، اور اس طرح اس کی وحشت انسیت ومحبت سے بدل جائے ۔        
پھر جو کلمہ سلام کے لیے تعلیم وتلقین فرمایااس کے الفاظ کسی بھی وقت تبدیل نہیں ہوتے، دن ہو یا رات، صبح ہویاشام،خوشی ہو یا غم،کوئی بھی وقت ہو،اسلامی سلام کے الفاظ ایک ہی طرح ادا کیے جائیں گے،خواہ سلام کرنے والاچھوٹا ہویا بڑا، امیر ہو یا فقیر، عامی ہویانامی، شہری ہویادیہاتی، عربی بولنے والا ہویاانگریزی، غرض دنیا بھرکے تمام ہی مسلمان سلام کے لیے ایک ہی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، اس میںگویا اس طرف اشارہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی امت ہے: { إِنَّ ہٰذِہٖٓ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃًّ وَّاحِدَۃً} (المؤمنون : ۵۲) اور ان کے درمیان ایسا دینی رشتہ قائم ہے جسے مٹایا نہیں جاسکتا، بلکہ سلام اس کو اور بھی مضبوط کرتا ہے۔
سلام کی برکت سے محبت وجنت نصیب ہوگی   :  ان حقائق سے ثابت ہوا کہ سلام اسلام کے پیغامِ امن کا نہایت ہی دل کش عنوان اور ایک سچے مسلمان کا ترجمان اور اس کی پہچان ہے، اس میں صرف اظہارِ محبت ہی نہیں، ادائے حق ِمحبت بھی ہے، اس لیے محبت و الفت کی عمومی ہوا اس سے پھیلے گی، بلکہ میں تو کہتاہوں کہ صاحبو ! اسلامی سلام اگر سمجھ کر سنت کے مطابق کیا اور سناجائے تو صاف معلوم ہوگا کہ اس میں انسانوں کی سلامتی، خیر خواہی اور اتفاقِ باہمی کا درس ہے، اس لیے اسے اتنا عام کرنا چاہیے کہ پوری کائنات کی فضا سلام کی خوش گوار ہوا اور لہروں سے معمور ہوجائے،اور انسانی معاشرہ امن و سلامتی کا گہوارہ بن کر دنیا ہی جنت کا نمونہ ہوجائے۔        اسی کی طرف رحمتِ عالم   صلی اللہ علیہ و سلم  نے حدیثِ مذکور میں اپنی امت کو مخصوص انداز میں متوجہ فرمایا: ’’لا تَدْخُلُوْنَ الْجَنّةَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا‘‘…الخ یعنی تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے یا جنت کا داخلہ اول مرحلہ میں ا س وقت تک تمہیں نصیب نہیں ہو سکتاجب تک تم مومن کامل نہ ہوجاؤ، اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا یا تمہیں ایمان کی برکتیں اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتیں جب تک تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، کیا میں تم کو ایسی چیزنہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تمہارے آپس میں محبت قائم ہو جائے ؟ وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرو۔            مطلب یہ کہ ہر مسلمان کو سلام کر و، خواہ اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو، وہ امیر ہو یا فقیر ہو، اس حدیث شریف سے صراحۃً معلوم ہو گیا کہ مومن کو سلام کی برکت سے دنیامیں آپسی محبت اور آخرت میں جنت نصیب ہوگی، اسی لیے حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  نے بڑے اہتمام سے اس طرف توجہ دلائی، جس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اپنی پہلی تقریر میں جن باتوں کی تاکید فرمائی ان میں سب سے پہلی چیز یہی تھی کہ سلام کو عام کرو،چناںچہ فرمایا :         ’’ أَیُّھَا النَّاسُ ! أَفْشُوْا السَّلَامَ، وأَطْعِمُوْا الطَّعَامَ، وَصِلُوْا الأَرْحَامَ،  وَ صَلُّوْا بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، تَدْخُلُوْا الجَنّةَ بِسَلاَمٍ۔‘‘ (ریاض الصالحین/ص:۳۶۶، (ترمذی/ص:۷۵/۲، مشکوٰۃ/ص:۱۶۸)   لوگو! سلام کو پھیلاؤ،بھوکوں کو کھلاؤ، رشتہ جوڑو اور رات میں جب لوگ سو ئے ہوئے ہوں تب تم یادِ الٰہی میں کھڑے ہوجائو، ان اعمال کی بدولت تم سلامتی سے جنت میں داخل ہوجائوگے۔ اور جنت ہمارا اصلی ٹھکانہ اور وطن ہے۔       علامہ شبیر احمد عثمانیؔ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ’’ہر شخص کے تین وطن ہیں: (۱)جسمانی (۲)ایمانی  (۳) روحانی۔ وطنِ جسمانی تو وہ جگہ ہے جہاں وہ پیدا ہو ا،اور وطنِ ایمانی ہر مومن کا مدینۃ الرسول ہے، جہاں سے اسے ایمان نصیب ہوا،اور ہمارا وطن روحانی واصلی جنت ہے ۔ان شاء اللہ۔   (مفتی اعظم نمبر/ ص  : ۱۳۵)            الغرض! حدیث سے معلوم ہواکہ سلام محبت و امن کا پیغام ہونے کے علاوہ دخولِ دار السلام کا سبب بھی ہے ۔            ایک شعر ہے  :
                          سلام ہے اسلام کا شعار اور امن کا پیغام ......           سلام سے  ہوگا سہل دخولِ  دارالسلام
اسلامی سلام واقعات کی روشنی میں  :    اسلامی سلام کے متعلق رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ و سلم  کے اس قسم کے ارشادات کا جو اثر حضراتِ صحابہؓ پر ہوا اس کا اندازہ ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرتِ ابی بن کعب ؓ کے صاحب زادے حضرت طفیل کا بیان ہے کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا،ان کا طریقہ تھا کہ وہ ہمیں لے کر بازار جاتے اور جس دکان دار اور جس فقیر مسکین کے پاس سے گذرتے اس کو سلام کرتے، اور کچھ خرید و فروخت کے بغیر ہی واپس آجاتے، ایک وقت جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو حسبِ معمول مجھے ساتھ لے کر بازار جانے لگے، تو میں نے عرض کیا کہ ’’حضرت! بازار جا کر کیا کریں گے ؟نہ تو آپ کسی دکان پر کھڑے ہوتے ہیں، نہ کسی چیز کا سودا کرتے ہیں،نہ بھاؤ تال کی کوئی بات کرتے ہیں،اور نہ بازار کی کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں،اس سے تو بہتریہ ہے کہ یہیں بیٹھئے، کچھ باتیں کریں گے، ہمیں فائدہ ہوجائے گا‘‘اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ ’’بھائی! ہم تو صرف اس غرض اور نیت سے بازار جاتے ہیں کہ جو سامنے آئے اسے سلام کریں،اور ہر ہر سلام پر نیکیاں، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں کما کر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے جوابی سلام کے ذریعہ دعائیں حاصل کریں۔‘‘     (مشکوٰۃ/ ص:۴۰۰رواہ مالک والبیہقی فی شعب الإیمان)       اسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ حضرت معروف کرخی  ؒ کے متعلق منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ کہیں تشریف لے جا رہے تھے، راستے میں ایک سقہ کو دیکھا جو لوگوں کو پانی پلاتا ہوا آواز دے رہا تھا کہ’’ اللہ اس بندہ پر رحم کرے جو مجھ سے پانی پئے ‘‘ سن کر آپ اس سقہ کے پاس گئے اور اس سے پانی لے کر پی لیا،خدام میں سے کسی نے کہا: ’’حضرت ! آپ تو روزے سے تھے، پھر پانی کیسے پی لیا ؟‘‘ فرمایا:’’ بھائی ! بات اصل میں یہ ہے کہ پانی پلانے والا یہ دعا دے رہا تھا کہ’’ اللہ تعالیٰ اس بندہ پر رحم کرے جو مجھ سے پانی پئے ‘‘ تو مجھے خیال ہوا کہ معلوم نہیں، اس سقہ کی دعا میرے حق میں قبول ہو جائے، میں نے اس دعا کوحاصل کرنے کے لیے روزہ جو نفل تھا توڑ دیا، کہ اس کی قضا تو بعد میں بھی ہو سکتی ہے، دعا بعد میں نہیں مل سکتی ‘‘۔ ( اصلاحی خطبات /ص : ۱۶۹/ ۶)            مسنداحمد میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہٗ کا واقعہ اس سے بھی زیادہ عجیب ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں ایک مرتبہ رحمتِ دو عالم  صلی اللہ علیہ و سلم  حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے مکان پر تشریف لے گئے، اور اپنے معمول کے مطابق اجازت چاہنے کے لیے سلام کیا،حضرت سعد  ؓ نے جواب دیا،مگر اتنا آہستہ کہ حضور   صلی اللہ علیہ و سلم نہ سن سکے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو بارہ سلام کیا، پھر سہ بارہ سلام کیا، ہر بار حضرت سعدؓ  سن کر آہستہ سے جواب دیتے رہے،تین مرتبہ ایسا کرنے کے بعد حضور  صلی اللہ علیہ و سلم لوٹنے لگے، جب حضرت سعدؓنے دیکھا تو گھر سے نکل کرپیچھے دوڑے اور عذر پیش کیا کہ ’’یا رسول اللہ! ہر مرتبہ آپ کی آواز سنی اور سلام کا جواب دیا، مگر آہستہ دیا، تا کہ آپ کی زبانِ مبارک سے سلامتی کی دعا میرے لیے زیادہ سے زیادہ نکلے، جو موجبِ برکت ورحمت ہے ۔‘‘ علماء نے لکھا ہے کہ حضرت سعدؓ  کا یہ عمل تو حضور  صلی اللہ علیہ و سلم  سے محبت اور غلبۂ عشق کی وجہ سے تھا،اسی لیے ذہن اس طرف نہ گیا کہ غریب خانہ پر سرکارِ دو عالم   صلی اللہ علیہ و سلم  تشریف فرما ہیں، لہٰذا فوراً مجھے قدم بوسی کر لینی چاہیے،بلکہ ذہن اس طرف گیا کہ آپ کی زبانِ مبارک سے ’’السلام علیکم ‘‘  جتنی مرتبہ زیادہ سے زیادہ نکلے گا، سلامتی کی یہی دعا میرے لیے صلاح و فلاح اور نجات کا ذریعہ ہوگی۔ پھر رحمتِ عالم   صلی اللہ علیہ و سلم  کی مزاج شناسی کی وجہ سے حضرت سعدؓ  کو معلوم تھا کہ آپ  صلی اللہ علیہ و سلم میرے اس طرزِ عمل سے ناراض نہیں ہوں گے، چناںچہ ایسا ہی ہوا،حضور  صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی ناگواری کا اظہار نہیں کیا،بلکہ اس نیک جذبہ کی قدر فرمائی،اور حضرت سعدؓ کے گھر تشریف لے جاکر میزبانی قبول فرمائی اور دعا دی : ’’اَللّٰهمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ عَلٰی اٰلِ سَعَدٍ‘‘  ’’اله العالمین ! سعد کے گھر والوں پر اپنی خاص نوازشیں اور رحمتیں نازل فرما ۔‘‘ (معارف حدیث /ص:۱۶۹/۶) اور شرح السنۃ کی روایت میں ہے کہ حضرت سعدؓ نے میزبانی میں خشک انگور پیش کیے،آپ   صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو تناول فرمایا، جب فارغ ہوئے توان کے لیے یہ دعا فرمائی:’’اکَلَ طَعَامَکُمُ الأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْملَائِکَة، وَأَفْطَرَ عِنْدَکُمْ الصَّائِمُوْنَ۔‘‘کہ تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں، اور فرشتے تمہارے لیے دعا کریں، اور روزے دار تمہارے ہاں افطار کریں۔ (مشکوٰۃ:۳۶۹/ باب الضیافۃ)سلام کے احکام    .
الغرض! سلام ایک بہترین عمل و دعاہے ،او راسلام میں اس کی خاص اہمیت و فضیلت ہے،لیکن یہ اس وقت ہے کہ جب کہ اس کے احکام و آداب کی رعایت کے ساتھ ہو، اسلام نے جہاںہر چیز کے احکام و آداب بتلائے وہیں سلام کے بھی احکام بیان فرمائے، مثلاً :      
(۱)سلام کرنا سنت ہے، مگر اس کا جواب دینا واجب ہے، البتہ فقہی نقطۂ نظر سے پیشہ ور سائل کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں، کیوںکہ بقول فقیہ النفس علامہ سعید احمد پالنپوری مدظلہٗ’’ اس کا سلام سلا م نہیںہے، بلکہ سوال ہے۔‘‘(تحفۃا لالمعی/ ج:۴/ص:۵۸۵)
 (۲) سلام اور اس کا جواب خلوصِ نیت کے ساتھ سنت کے مطابق سمجھ کر جمع کے صیغہ کے ساتھ دیا جائے،اگر چہ مخاطب فردِ واحد ہو، تاکہ فرشتے (کراماً کاتبین ) جو ہر ایک کے ساتھ ہیں سلام میں مخاطب کے ساتھ شامل ہو کر ان کو سلام کرنے کا بھی ثواب مل جائے، اور پھر جب وہ سلام کا جواب دیں تو ان کی دعا ہمیں مل جائے۔          
(۳)سوارشخصپیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں، یہ حکم در اصل تواضع و انکساری کی طرف راغب کرنے کے لیے ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذکورہ لوگ سلام نہ کریں تو ہم پہل بھی نہ کریں، بلکہ اس وقت ہم سلام میں پہل کرکے ابتداء بالسلام کی فضیلت کے حقدار بن جائیں ۔           حدیث میں ہے  :      عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ عَنِ النَّبِيِّﷺ قَالَ: اَلْبَادِیُٔ بِالسَّلامِ بَرِیْیٌٔ مِّنَ الْکِبْرِ۔‘‘(مشکوٰۃ/ص :۴۰۰ )        سلام میں پہل کرنے والا (اس عمل کی وجہ سے)تکبر سے پاک ہے۔ تکبر کابہترین علاج یہ بھی ہے کہ ہر ملنے والے مسلمان کو سلام کرنے میںسبقت کرے۔        
(۴)  آپس میں ملاقات کے وقت بات چیت اور گفتگو سے قبل سلام کریں، اس لیے کہ حدیث شریف میں یہ ہدایت ہے:    عَنْ جَابر ؓ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهﷺ :  ’’اَلسَّلاَمُ قَبْلَ الْکَلاَمِ۔‘‘ (مشکوٰۃ/ص : ۳۹۹)   آج کل ٹیلیفون اور موبائل آمنے سامنے کی ملاقات کا بدل ہے اور ملاقات کا ذریعہ ہے، اس لیے سلام کا جو حکم آپسی ملاقات کا ہے وہی فون کرتے اور اٹھاتے وقت کا ہوگا، لہٰذا ’’ہیلو ‘‘ کے بجائے ’’السلام علیکم‘‘ کہنا مسنون ہوگا، اور جہاں تک انجانے میں غیر مسلم کو فون پر سلام کرنے کی بات ہے تو بقول مفتی شبیر احمد قاسمی مرادآبادی مدظلہٗ اس میں کوئی گناہ نہیں، اور نہ یہ خلافِ احتیاط ہے، بلکہ اس میں بھی ہمیں سلام کرنے کا ثواب مل جائے گا، البتہ پہلے سے معلوم ہو کہ غیر مسلم کا فون ہے، یا خود آپ فون کر رہے ہیں، تو سلام سے ابتدا نہ کریں ۔( از: ’’ انوارِ نبوت‘‘  /ص : ۳۱۶)    
(۵)بعض مواقع اور حالتیں سلام سے مستثنیٰ ہیں، اس سلسلہ میں فقہائِ کرام کی تشریحات کا خلاصہ یہ ہے کہ تین صورتوں اور حالتوں میں سلام کرنا منع ہے:           
            (۱)  جب کوئی طاعت میں مشغول ہو، مثلاً نماز،ذکر،دعا، تلاوت،اذان و اقامت،خطبہ یا کسی دینی مجلس کے وقت 
             (۲)      جب کوئی بشری حاجت میں مشغول ہو، مثلاً کھانے پینے،سونے اور پیشاب پاخانہ وغیرہ کے وقت ۔       
            (۳)      جب کوئی معصیت میں مشغول ہو، تو اس موقع پر بھی سلام کی ممانعت ہے۔سلام کے یہ اجمالی احکام ہیں ۔
سلام کی فضیلت  : بہر کیف! حقیقت یہ ہے کہ سلام کے آداب واحکام کی رعایت کرتے ہو ئے اسے عام کیا جائے تویہ خیر،رحمت،برکت اور آپسی محبت کا بہترین وسیلہ اور ذریعہ  ہونے کے ساتھ اسبابِ مغفرت میں سے بھی ہے،کاش! ہم اس پاکیزہ کلمۂ سلام کو عام لوگوں کی طرح رسمی طور پر ادا نہ کریں، بلکہ حقیقت کے ساتھ سنت اور خلوصِ نیت سے ادا کریں تو یہی سلام اتحادِ ملت کے لیے جہاں معین ہوسکتا ہے وہیں مغفرت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔       حدیث میں ہے:   إِنَّماَ مُوْجِبَاتُ الْمَغْفِرَۃ بَذْلُ السَّلاَمِ وَ حُسْنُ الْکَلَامِ۔‘‘ (کنز العمال: ۱۱۶/ ۹، از گلدستہ  ٔ مغفرت/ ص : ۲۳۶)            مغفرت واجب کرنے والے اعمال میں سلام کو پھیلانا اور کلام کو نرمی و خوبی سے پیش کرنا بھی داخل ہے۔        دوسری روایت میں ہے کہ:   ’’ مَنْ سَلَّمَ عَلیٰ عِشْرِیْنَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ یَوْمٍ جَمَاعَة أَوْ فُرَادیٰ، ثُمَّ مَاتَ مِنْ یَوْمِه ذَالِکَ، وَجَبَتْ لَہٗ الْجَنَّۃُ، وَفِیْ لَیْلَة مِّثْلُ ذَالِکَ۔‘‘ ( رواہ الطبرانی، مجمع الزوائد/ص: ۳۰۰/۸،از فیضانِ حلیم).
ترجمہ :    جو شخص اپنے مسلمان بھائیوں میں سے بیس لوگوں کو خواہ وہ مجمع میں ہوںیا فردا ً فرداً ہوں، کسی دن یا رات میں سلام کر ے،پھر اس دن یا رات میں اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے لیے جنت واجب ہے ۔      غور کیجئے !اسلام میں سلام کی کس قدر عظمت و فضیلت ہے ۔حق تعالیٰ ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے ۔آمین ۔جَزَی اللّٰه عَنَّا مُحَمَّداً صَلّٰی اللّهٰ عَلَیْه وَسَلَّمَ بِمَا هو أهله ۔


پیر، 11 دسمبر، 2017

آنحضرت ﷺ کی دس وصیتیں

----------------------------------------------- 
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے دس باتوں کی وصیت فرمائی، چنانچہ فرمایا: 
(١) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اگرچہ تمہیں جان سے مار ڈالا جائے اور جلا دیا جائے ۔
(٢) اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو اگرچہ وہ تمہیں اپنے اہل اور مال چھوڑ دینے کا حکم دیں۔
 (٣) جان بوجھ کر کوئی فرض نماز نہ چھوڑو کیونکہ جو آدمی عمداً نماز چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
 (٤) شراب مت پیو کیونکہ شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
 (٥) اللہ کی نافرمانی اور گناہ سے بچو کیونکہ نافرمانی کرنے سے اللہ کا غصہ اتر آتا ہے۔
(٦) جہاد میں دشمنوں کو ہرگز پیٹھ نہ دکھلاؤ اگرچہ تمہارے ساتھ کے تمام لوگ ہلاک ہو جائیں۔
(٧) جب لوگوں میں موت (وباء کی صورت میں) پھیل جائے اور تم ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہو یعنی ان کے درمیان سے بھاگو مت ۔
 (٨) اپنے اہل و عیال پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرتے رہو۔
(٩) تادیباً اپنا ڈنڈا ان سے نہ ہٹاؤ ۔
(١٠) اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں انہیں ڈراتے رہو یعنی اہل و عیال میں سے کسی کو سزاء یا تا دیبا کچھ مارنا پیٹنا ضروری ہو تو اس سے پہلو تہی نہ کرو اور ان کو اچھی اچھی باتوں کی نصیحت و تلقین کرتے رہا کرو اور دین کے احکام و مسائل کی تعلیم دیا کرو اور ان کو بری باتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔ (مسند احمد بن حنبل)
------------------------------------------------------------------------------------- 
تشریح
شرک اپنی برائی کے اعتبار سے کس قدر خطرناک ہے اور اخروی حیثیت سے کتنی ہلاکت خیزی رکھتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت معاذ کو وصیت فرمائی کہ اگر تمہیں جان سے مار ڈالے جانے کا بھی خطرہ ہو یا تمہیں آگ میں ڈالا جا رہا ہو تو بھی تم توحید کے معاملہ میں اپنے عقیدہ سے ایک انچ نیچے مت اترنا بلکہ موت کی پروا کئے بغیر اپنے اعتقاد پر پختگی کے ساتھ قائم رہنا، تاہم جہاں تک نفس مسئلہ کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ چونکہ اپنی فطرت کے اعتبار سے شریعت کی پیروی میں انتہائی سخت تھے اور کسی بھی مسئلہ کے اسی پہلو کو اختیار کرتے تھے جو اولیٰ ہوتا تھا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے مزاج اور ذوق کے مطابق اس قدر اہمیت کے ساتھ انکو حکم دیا، ورنہ ایسے موقع پر جب کہ اپنے ایمان واسلام کا اظہار اپنی موت کو دعوت دینے والا اور کفر و شرک کا کلمہ زبان سے ادا کئے بغیر جان نہ بچتی ہو تو اس کی اجازت ہے کہ کفر و شرک کا کوئی کلمہ زبان سے ادا کرے بشرطیکہ دل میں ایمان پوری طرح موجود رہے۔ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کی بھی اہمیت و تاکید ہی کو ظاہر کرنے کے لیے بطور مبالغہ فرمایا گیا کہ اگر ماں باپ تمہیں تمہارے اہل و عیال سے الگ ہو جانے یا تمہیں تمہارے مال و اسباب اور املاک و جائیداد سے دستبردار ہو جانے کا بھی حکم دیں تو اس حکم کی اطاعت کرو، اس بارے میں بھی اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ کا یہ حکم ماننا واجب نہیں ہے تاکہ حرج و نقصان میں مبتلا ہونا لازم نہ آئے۔  فرض نماز کی اہمیت جتلانے کے لیے فرمایا گیا کہ اگر تم جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑ دو گے تو پھر اپنے آپ کو دنیا اور آخرت میں اللہ کی ذمہ داری سے باہر سمجھو، دنیا میں تم اس اعتبار سے کہ اسلامی نظام اور اسلامی حکومت کے قانون کے تحت جس تعزیر کے مستوجب قرار پاؤ گے اس میں اللہ کی طرف سے کوئی امن و عافیت تمہیں نہیں ملے گی اور آخرت میں اس اعتبار سے کہ وہاں ترک نماز کے سبب خود اللہ تمہیں عذاب میں گرفتار کرے گا۔  دشمن کو پیٹھ دکھانے کے بارے میں  جیسا کہ پہلے بھی گزرا۔ یہ مسئلہ ہے کہ اگر دشمن دو تہائی تک بھی زائد ہوں یعنی ایک مسلمان کے مقابلہ پر دو دشمن دین ہوں تو اس صورت میں مقابلہ سے ہٹ جانا اور راہ فرار اختیار کرنا کسی مسلمان کو ہرگز جائز نہیں ہے ہاں اگر ایک کے مقابلہ میں دو سے زائد ہوں تو پھر تباہی کا خطرہ دیکھ کر مقابلہ سے ہٹ جانا اور جان بچانے کے لیے راہ فرار اختیار کر لینا جائز ہو گا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم مبالغہ کے طور پر دیا کہ تم کسی بھی صورت میں اپنے دشمن کو پیٹھ مت دکھانا خواہ تمہارے تمام ساتھی شہید ہو جائیں اور دشمن کے مقابلہ پر تم تنہا ہی کیوں نہ رہ جاؤ اس حدیث میں ایک اعتقادی کمزوری کی بھی نشان دہی کی گئی ہے اور اس کے خلاف حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو متنبہ کیا گیا ہے۔ یعنی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی آبادی میں کوئی وبا پھیل جاتی ہے اور موتیں کثرت سے واقع ہونے لگتی ہیں تو عوام دہشت زدہ ہو کر اپنے گھر بار چھوڑ دیتے ہیں اور اس آبادی سے نکل بھاگتے ہیں۔ اس بارے میں بھی اصل مسئلہ یوں ہے کہ جو لوگ اس آبادی میں پہلے سے مقیم نہ ہوں بلکہ دوسری جگہوں پر ہوں تو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ اس آبادی سے دور رہیں اور وہاں نہ آئیں لیکن جو لوگ پہلے ہی سے آبادی میں مقیم ہوں ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ موت کے خوف سے اس آبادی کو چھوڑ دیں اور وہاں سے نکل بھاگیں، کیونکہ وباء زدہ آبادی سے نکل بھاگنا ایسا ہی گناہ ہے جیسا دشمن کے مقابلہ سے بھاگ کھڑا ہونے کا بلکہ جو آدمی اس اعتقاد سے بھاگے گا کہ اگر یہاں رہا تو مر جاؤں گا اور یہاں سے نکل بھاگنے پر موت سے بچ جاؤں گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔

جذبہ محبت

------------------------------------------------
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہوئے)کہتے ہیں کہ انصار کا ایک (مخلص محب اور جاں نثار)آدمی بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو (آقا علیہ السلام کی رنگت دیکھ کر)اس نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے کہ میں جناب کے رنگ میں تبدیلی محسوس کررہا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(رنگت میں تبدیلی کی بڑی وجہ ہے) بھوک۔یہ معلوم کرکے وہ انصاری اپنی قیام گاہ (گھر)پر آیا، مگر اپنے گھرمیں بھی اس نے کوئی چیز نہ پائی(جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک کا سامان کرکے دلی مسرت وسکون حاصل کرتا) چنانچہ وہ کھانے پینے کی کسی چیز کی تلاش میں گھر سے نکل کھڑا ہوا ، تو اس دوران اس نے دیکھا کہ ایک یہودی اپنے باغ کو (کنویں سے ڈول نکال نکال کر)پانی دے رہا ہے۔مذکور صحابی نے پوچھا کیا میں تمہارے باغ کو سینچ (پانی لگا)دوں ؟اس نے کہا ہاں۔انصاری نے کہا تو سن لو ایک ڈول کے بدلے ایک کھجور ہوگی۔علاوہ ازیں اس نے یہ شرط بھی لگائی کہ وہ معاوضے میں نہ اندرسے سیاہ (خراب) کھجورلے گا نہ خشک کھجوراورنہ گری پڑی کھجور بلکہ وہ اس سینچائی کے بدلے میں موٹی تازی کھجور وصول کرے گا۔ اس معاہدہ کے مطابق اس نے تقریباً وہ ساع کھجور کے برابر۔ یہودی کے باغ کی سینچائی کی (پانی لگایا)اورمزدوری سے حاصل شدہ کھجور وں کایہ نذرانہ بارگاہِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کردیا۔ (ابن ماجہ) بعض روایات میں ا س پر یہ اضافہ ہے کہ جب اس نے کھجوریں لاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھیں اور عرض کیا کہ تناول فرمائیے ۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:تم یہ کھجوریں کہاں سے لائے ہو؟اس نے سارا واقعہ بتایاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرا خیال ہے کہ تم اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہو۔اس نے عرض کیا:ہاں!بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میرے نزدیک میری جان،میری اولاد، میرے اہل وعیال اورمیرے مال سے بھی زیادہ محبوب ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قیمت بتاتے ہوئے ) فرمایا:اگر یہ بات ہے تو پھر فقروفاقہ پر صبر کرنا اورآزمائشوں کے لیے اپنی کمر کس لینا ۔اس ذات کی قسم !جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایاہے، جو شخص میرے ساتھ (سچی محبت رکھتا ہے تو یہ دونوں مذکور ہ چیزیں (فقروفاقہ اورآزمائشیں )اس کی طرف اس پانی سے بھی زیادہ تیز دوڑ کر آتی ہیں جو پہاڑکی چوٹی سے نیچے کی طرف گرتا ہے۔
(الاصابہ، مجمع الزوائد: بحوالہ ،حب رسول اورصحابہ کرام) ۔
 طالب دعاء: اکبر حسین اورکزئی

****************************

پڑوسی کے حقوق

------------------------------------------------------------------------------
انسان کا اپنے والدین، اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ سب سے زیادہ واسطہ و تعلق بلکہ ہر وقت بھینٹ ملاقات، لین دین کا سابقہ ہمسایوں اور پڑوسیوں سے بھی ہوتا ہے اور اس کی خوشگواری و ناخوشگواری کا زندگی کے چین وسکون اور اخلاق کے اصلاح و فساد اور بناؤ بگاڑ پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔
انسان اوراس کے تمدن کی بنیاد باہمی اشتراک آپسی تعاون پرقائم ہے اس دنیا کا ہر انسان ایک دوسرے کی مدد کا محتاج اور ایک دوسرے کی نصرت وحمایت پر اس کی زندگی کا انحصار ہے اگر اک بھوکا ہے تو دوسرے کا حق ہے کہ اپنے کھانے میں اسے بھی شریک کرے اگر ایک بیمار ہے تو دوسرا اس کی عیادت و تیمارداری کرے اگر ایک کسی آفت ومصیبت کا شکار ہو اور کسی رنج و غم میں مبتلاء ہوتو دوسرا اس کا شریک و سہیم بنے اور اس کے رنج وغم کا مداوا کرے اوراس اخلاقی نظام کے ساتھ حضرت انسان کی ساری آبادی باہمی اخوت ومحبت اور حقوق کی ذمہ داریوں کے اٹوٹ بندھن میں بندھ کر اتحاد ویکجہتی کا مظہر اور ”یُوٴثِرُونَ علی اَنْفُسِہم وَلَو کَاْنَ بِہِمْ خَصَاصَہ“   کا حقیقی مصداق بن جائیں۔
ہر انسان بظاہر جسمانی روحانی حیثیت سے ایک دوسرے سے جتنا علاحدہ ہے اخلاقی و روحانی حیثیت سے ضروری ہے کہ وہ اتنا ہی زیادہ ایک دوسرے سے گھلاملا ہو، ایک کا وجود دوسرے کے وجود سے اتنا ہی پیوستہ ہو۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی تعلیمات و ہدایات میں ہمسائیگی اور پڑوس کے اس تعلق کو بڑی عظمت بخشی ہے اور اس کے احترام و رعایت کی بڑی تاکید فرمائی ہے کہ اس کو جزو ایمان اور داخلہٴ جنت کی شرط اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا معیار قرار دیا ہے۔
حبیب کبریا صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَازَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِی بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہ سَیُوَرِّثُہ “ (بخاری ومسلم) کہ جبریل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کی رعایت و امداد کی اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسیوں کو بھی رشتہ داروں کی طرح وراثت میں شریک کردیا جائے گا پڑوسیوں کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا اور اچھا رویہ پیش کرنا اللہ اوراس کے رسول کی محبت کی شرط اور اس کا معیار قرار دیاگیا ۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے وضوء فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین نے آپ کے وضوء کا پانی لے کر اپنے بدن اور چہرے وغیرہ پر ملنے لگے جب سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس عمل پر تمھیں کون سی چیز آمادہ و برانگیختہ کررہی ہے تو ایسا کیوں کررہے ہو تو صحابہ کرام کا جواب تھا کہ بس اللہ اور اس کے رسول کی محبت تب آپ نے ارشاد فرمایا سنو جو شخص یہ پسند کرتا ہو اور جس کی یہ خواہش ہو کہ اس سے اللہ اور اس کے رسول کی محبت نصیب ہوجائے یا یہ کہ اللہ و رسول کو اس سے محبت ہوتو اسے تین باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے: جب بات کرے تو سچ بولے جب کوئی امانت اس کے پاس رکھی جائے توامانت داری کے ساتھ اس کو ادا کرے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
ایک موقع پر سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اکرام کا معاملہ کرے۔
ترمذی اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کسی محلے کے لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے جو اپنے پڑوسیوں کے حق میں بہتر ہو۔
مسند احمد کی ایک روایت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ ایک پڑوسی کو پیٹ بھر کر کھانا جائز نہیں جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
کسی شخص کا نیکوکار یا بدکار ہونا اس کے پڑوسی کی گواہی کے ذریعہ معلوم ہوگا۔ ایک شخص نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنی نیکوکاری و بدکاری کو کس طرح معلوم کرسکتاہوں؟ حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جب تم کسی کام کے بارے میں اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو تم نے اچھا کام کیا تو تمہارا کام اچھا ہے، اور جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برا کیا ہے تو تمہارا وہ کام برا ہے۔ (ابن ماجہ)
برا کہے جسے عالَم اسے برا سمجھو -----    زبان خلق کو نقارئہ خدا سمجھو
ظاہر ہے کہ ان ارشادات وواقعات کا مقصد صرف واقعہ کا بیان نہیں بلکہ پڑوسیوں کے حقوق کی اہمیت کے اظہار کے لیے یہ نہایت موٴثر اور بلیغ ترین عنوانات ہیں جن کا مدعا اور پیغام یہی ہے کہ اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ ان کا برتاؤ اور رویہ شریفانہ رہے کہ ان کی طرف سے بالکل مطمئن اور بے خوف و خطر رہیں، دل ودماغ کے کسی گوشے میں بھی ان کے بارے میں کوئی اندیشہ کسی طرح کی کوئی فکر دامن گیر نہ رہے۔
اگر کسی مسلمان کا یہ حال نہیں ہے اس کے پڑوسی اس سے بے خوف اور مطمئن نہیں ہیں تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے ایمان کا مقام نصیب نہیں ہے ”لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ یَأمَنُ جَارُہ بَوَائقَہ “ جنت میں اس شخص کا داخلہ ممنوع ہے جس کی شرارتوں اور ایذاء رسانیوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں۔ (مسلم شریف)
ایک حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے تین مرتبہ قسم کھاکر فرمایا خدا کی قسم وہ موٴمن نہیں خدا کی قسم وہ مومن نہیں خدا کی قسم وہ موٴمن نہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا کون یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا کہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں۔ (مسلم)
پڑوسیوں سے محبت و تعلقات کی استواری کا بہترین ذریعہ باہم ہدیوں و تحفوں کا لین دین ہے ، سرکارِ دوعالم صلى الله عليه وسلم خود اپنی بیوی کو اس کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔ اسی بناء پر ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے دو پڑوسی ہیں میں ان میں سے کس کو پہلے یا زیادہ ہدیہ بھیجوں آپ نے فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازے سے زیادہ قریب ہو۔ (مشکوٰة)
ایک ”توکل“ پیشہ صحابی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا جب تم سالن بناؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے ہمسایوں کی خبر گیری کرو، یعنی صرف اپنی لذت کے پیش نظر سالن نہ بناؤ بلکہ ضرورت مند ہمسایوں کا بھی خیال رکھو اور ان کے گھر بھی سالن بھیجو۔
ہمسائیگی ۔ ہمسائیگی کے تعلق کو مستحکم و خوشگوار رکھنے کے لیے پڑوسیوں کے درمیان کچھ نہ کچھ صدقہ و تحفہ دینے لینے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور اس کے لیے بڑی اور اعلیٰ چیزوں کو مد نظر نہ رکھنا چاہیے بلکہ کوئی تھوڑی وقلیل چیز ہوتو اس کو دینے لینے میں حقارت محسوس نہ کرے حضور صلى الله عليه وسلم نے عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے مسلمان عورتوں کوئی ہمسائی اپنے ہمسائی کے لیے ہدیہ و صدقہ حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا ایک کھڑہی ہو (بخاری ومسلم)
ایک مسلمان کی مروت و شرافت کا یہ تقاضہ نہیں کہ خود راحت اور عیش و آرام سے زندگی بسر کرے اور اپنے ہمسائے کے رنج و تکلیف اور گھریلو ضروریات کی پرواہ نہ کرے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ارشاد کے مطابق موٴمن وہ نہیں جو خودشکم سیرہو اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے اور وہ اس کے بھوکے ہونے سے باخبر بھی ہو ۔ (رواہ البزار والطبرانی فی الکبیر)
پیغمبر اسلام کی زبان حکمت کی ان تعلیم و ہدایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا کیا مقام و مرتبہ ہے مگرافسوس کہ محبت رسول کا دم بھرنے والے ہم مسلمانوں کی زندگی و طرز عمل اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ارشادات میں اتنا بعد ہوگیا کہ کسی نا آشنا کو اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ تعلیم و ہدایت مسلمانوں کے پیغمبر کی ہوسکتی ہے۔
غور کیجیے کہ سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم کے ان مبارک ارشادات میں اپنے ہمسایوں کے بھوک و پیاس کے مسئلوں سے بے پرواہ اور ان کی دیگر ضروریات سے بے فکر ہوکر زندگی گزارنے والوں کے لیے کتنی سخت وعید سنائی ہے لیکن افسوس کہ اس طرح کی حدیثیں ہمارے علمی و درسی حلقوں میں اب کلامی بحثوں اور علمی موشگافیوں کے اندرہوکر رہ جاتی ہیں۔ اگر ان حدیثوں کو پڑھ یا سن کر حیات انسانی کے ان تشنہ شعبوں کو درست کرنے کی فکر دامن گیر ہوجائے تو انشاء اللہ ضرور وہ خوش گوار و پرسکون معاشرہ تشکیل پائے گا دنیا کو جس معاشرے کی تلاش ہے ورنہ۔
لطف تو جب ہے کہ کردار بھی کروٹ بدلے
                                  ورنہ جذبے تو لیا کرتے ہیں انگڑائی بہت
طبرانی کی معجم کبیر میں حضرت معاویہ رضى الله تعالى عنه بن حیدہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے جس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پڑوسیوں کے حقوق کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ پڑوسی کا تم پر یہ حق ہے کہ اگر پڑوسی کسی بیماری میں مبتلاء ہوجائے تو اس کی عیادت و خبر گیری کرو، اگر اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو اوراگر کسی ضرورت وغیرہ سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو اور اگر کوئی برا کام کربیٹھے تو پردہ پوشی کرو اور اگر اس کو کوئی نعمت ملے تو مبارک باد دو اور اگر کسی مصیبت کا شکار ہوجائے تو تعزیت کرو اور اپنی عمارت کو اس کی عمارت سے اس قدر بلند نہ کرو کہ اس کے گھر کی ہوا بند ہوجائے اور تمہارے ہانڈی کی مہک اس کے لیے تکلیف کا باعث ہو اوراس میں سے تھوڑا سا کچھ سالن اس کے گھر بھی بھیج دو یعنی اگر گھر میں کوئی لزیز وخوش ذائقہ چیز بنے اس صورت میں یا تو اس کے گھر بھی کچھ سالن پہنچاؤ یا پھر اس کی خوشبو پڑوس کے گھر تک نہ جائے۔
غور وفکر کا دائرہ وسیع کیجیے اور دل و دماغ کے دریچے وا کیجیے کہ کتنے لطیف پیرائے میں پڑوس میں بسنے والے انسانوں کو متنبہ کیا ہے، کہ گھر کی دیوار اتنا بلند کرنا جو ہمسائے کی ہوا کو روکنے کا سبب بن جائے، اور گھرمیں پکنے والی مرغوب چیز کی مہک نہ جانے پائے کہ اس وجہ سے پھول جیسے ناسمجھ بچوں کے دل میں اس کی طمع ولالچ پیداہوگی جو ان کے لیے باعث تکلیف ہے یا پھر ان کے گھر بھی پہنچانے کا اہتمام کیاجائے۔
مذہب اسلام کے اس اصولی نقطئہ نظر سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اسلام نے پڑوسیوں کے بارے میں کتنے نازک و باریک پہلوؤں کی رعایت کو بھی ملحوظ رکھ کر اس کو ضروری قرار دیا۔
امام غزالی علیہ الرحمة نے احیاء العلوم کے اندر ایک عجیب و غریب واقعہ ذکر کیا ہے کہ کسی کے گھر میں چوہوں کی کثرت ہوگئی تو کسی نے بلی پالنے کا مشورہ دیا کہ اس طرح چوہے تمہارے گھر سے فرار ہوجائیں گے توگھر والے نے کہا کہ ”مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ بلی کی آواز سن کر چوہے میرے گھر سے نکل کر میرے پڑوس کے گھر میں چلے جائیں گے اور میں جو چیز اپنے لیے پسند نہیں کرتا وہی چیز اپنے پڑوسی کے لیے پسند کرنے لگوں؟ یہ موٴمن کی شان کے خلاف ہے۔
کہنے کو تو یہ مختصر سی بات ہے لیکن اس پر عمل کی توفیق اس وقت تک میسر نہیں آسکتی جب تک کہ انسان کا ایمان کامل نہ ہوجائے یہ صفت انسانی کمال کی ایک معراج ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا نفس پورے طور پر مدارجِ تہذیب طے کرچکا۔
* * *

جمعرات، 7 دسمبر، 2017

پانچ احکام

-----------------------------------------------------------------------------
مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو پانچ چیزوں کا حکم دیا کہ ان پر عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دو ، قریب تھا کہ وہ اس میں غفلت کریں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں یاد دلایا کہ آپ کو پروردگار عالم کا حکم تھا کہ ان پانچ چیزوں پر خود کاربند ہو کر دوسروں کو بھی حکم دو ۔ لہذا یا تو آپ کہہ دیجئے یا میں پہنچا دوں۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ سبقت لے گئے تو کہیں مجھے عذاب نہ دیا جائے یا زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں پس یحییٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس کی مسجد میں جمع کیا، جب مسجد بھر گئی تو آپ اونچی جگہ پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر کے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم کیا ہے کہ خود بھی عمل کریں تم سے بھی ان پر عمل کراؤں۔
(1) ایک یہ کہ اللہ ایک کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص خاص اپنے مال سے کسی غلام کو خریدے اور غلام کام کاج کرے لیکن جو کچھ حاصل ہوا ہے اسے کسی اور کو دے دے کیا۔ تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا غلام ایسا ہو ؟ ٹھیک اسی طرح تمہارا پیدا کرنے والا، تمہیں روزی دینے والا، تمہارا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔ پس تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
(2)  دوسری :  یہ کہ نماز کو ادا کرو اللہ تعالیٰ کی نگاہ بندے کی طرف ہوتی ہے۔ جب تک کہ وہ نماز میں ادھر ادھر منہ پھیرے جب تم نماز میں ہو تو خبردار ادھر ادھر الفتات نہ کرنا۔
(3) تیسرا :  حکم یہ ہے کہ روزے رکھا کرو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کے پاس مشک کی تھیلی بھری ہوئی ہو جس سے اس کے تمام ساتھیوں کے دماغ معطر رہیں۔ یاد رکھو روزے دار کے منہ کی خوشبو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند ہے۔
(4) چوتھا : حکم یہ ہے کہ صدقہ دیتے رہا کرو، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کو دشمنوں نے قید کرلیا اور گردن کے ساتھ اس کے ساتھ باندھ دئیے گردن مارنے کے لئے لے جانے لگے تو وہ کہنے لگا کہ تم مجھ سے فدیہ لے اور مجھے چھوڑ دو چناچہ جو کچھ تھا کم زیادہ دے کر اپنی جان چھڑا لی۔
(5) پانچواں :  اس کا حکم یہ ہے کہ بہ کثرت اس کے نام کا ذکر کیا کرو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کے پیچھے تیزی کے ساتھ دشمن دوڑتا آتا ہے اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں گھس جاتا ہے اور وہاں امن وامان پا لیتا ہے اسی طرح بندہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے وقت شیطان سے بچا ہوا ہوتا ہے یہ فرما کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اب میں بھی تمہیں پانچ باتوں کا حکم کرتا ہوں جن کا حکم جناب باری نے مجھے دیا ہے مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑے رہنا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان حاکم وقت کے احکام سننا۔ اور جاننا ہجرت کرنا اور جہاد کرنا جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر نکل جائے گویا وہ اسلام کے پٹے کو اپنے گلے سے اتار پھینکے گا ہاں یہ اور بات ہے کہ رجوع کرلے جو شخص جاہلیت کی پکار پکارے وہ جہنم کا کوڑا کرکٹ ہے لوگوں نے کہا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگرچہ وہ روزے دار اور نمازی ہو فرمایا اگرچہ نماز پڑھتا ہو اور روزے بھی رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ مسلمانوں کو ان کے ان ناموں کے ساتھ پکارتے رہو جو خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے رکھے ہیں مسلمین مومنین اور عباد اللہ .

 ( یہ حدیث حسن ہے  قاله ابن كثير ) 

پیر، 4 دسمبر، 2017

ایک اٹل حقیقت


----------------------------------------------------
جب ہم تاریخ عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا کے اندر جتنے بھی مشاہیر آئے، کوئی فاتح آئے، کوئی سائنس دان بنا، کسی نے چیزوں کو ایجاد کیا، زندگی میں بڑے بڑے کام کیے لیکن ان تمام کی زندگیوں میں ایک بات کامن (Common) ملتی ہے کہ انہوں نے خود اقرار کیا یا بعد والوں نے کہا کہ اگر اس کو اور زندگی مل جاتی تو یہ اور کام کر لیتا یعنی ادھوری زندگیاں اور حسرتیں لے کے قبر میں چلے گئے۔ مثال کے طور پر نیوٹن (Newton) نے لاز آف نیوٹن (Laws Of  Newton) پر اس قدر ٹھوس کام کیا کہ سائنس کی دنیا میں اس کی بہت عرصے  تک اس کی وجہ سے عزت ہوتی  رہی لیکن پھر بھی لوگوں نے کہا کہ نیوٹن کو کچھ اور مہلت مل جاتی تو مزید چیزیں دریافت ہوتیں۔ اور آئن سٹائن (Einstein )کی تو یورپ میں بے پنا ہ عزت ہے اور اس نے بھی ایسی تھیوری پیش کی جس کی وجہ سے آج انسان چاند پہ قدم رکھ رہا ہے۔ اس کے بارے میں بھی یہی کہاگیا کہ اس کو اگر اور وقت ملتا تو مزید بھی راز کھولتا ۔تیمور لنگ ایک بادشاہ کا نام ہے جس کا مزار سمر قند میں ہے ، چونکہ اس نے بہت سی جگہوں اور ملکوں کو فتح کیا اس لیے اسے فاتح عالم بھی کہا جاتا ہے اور یہی لفظ اس کے مزار پر بھی لکھا ہوا ہے ، لیکن اس کے مرنے کے بعد بھی یہی کہا گیاکہ اگر اس کو اور موقع مل جاتاتو اور بھی دنیا کے علاقے فتح کر لیتا۔ شیکسپئر (Shakespeare) نے اپنی زبان میں کتابیں لکھیں اور اپنی زبان کے حساب سے بہت کچھ لکھا ،لیکن اس کے مرنے کے بعد بھی یہ کہا گیاکہ دیکھو! اس کو اور زندگی مل جاتی تو یہ اور کام کرتا۔ مطلب یہ کہ تمام مشاہیرِ عالم کی زندگیاں نامکمل ہیں ادھوری ہیں مشن پورا نہیں کر سکے ۔
صرف ایک ہستی: تاریخِ عالم میں ایک ہی ہستی آپ کو ملے گی جس نے اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کیا، وہ صرف رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہستی ہے کہ جنہوں نے اپنی آمد کے مقصد کو پورا کیا اور رات کے اندھیرے میں نہیں ،دن کے اُجالے میں، جنگل کے ویرانے میں نہیں ،سوا لاکھ صحابہ کرامj کی موجودگی میں۔ اور پھر نبی ﷺ  نے سب سے پوچھا کہ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا؟ تو صحابہj نے یک زبان ہو کر عرض کیا: اللہ کے نبیﷺ! پہنچا ہی نہیں دیا بلکہ پہنچانے کا حق ادا کر دیا۔ پھر اللہ کے نبی حضورِ پاک ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے عرض کی: اے اللہ! تو گواہ رہنا ۔اللہ! تو گواہ رہنا۔ توہمیں اگر کسی کو آئیڈیل بنانا ہے تو ادھوری زندگی والے کو کیوں آئیڈیل بنائیں، ایسی زندگی والے کو آئیڈیل کیوں نہ بنائیں کہ جس کی زندگی ہر لحاظ اور ہر زاویے سے مکمل ہے تا کہ ہمارا مقصد بھی زندگی کا پورا ہو جائے ۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت اور سائنس:
اب امّت کے علماء نے بہت سے انداز سے سیرت کو کھولا۔ حضرت جی دامت برکاتہم(محبوب العلما ء والصلحاء حضرت مولانا پیر ذو الفقار احمد نقشبندی صاحب دامت برکاتہم) نے بھی سیرت کو ایک الگ انداز سے کھولا ہے۔ آج کل سائنس کا زمانہ ہے، گھر گھر میں کمپیوٹرموجود ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے بھی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ تو سُپر کمپیوٹر کے اس دور میں تو لوگوں کی سوچ ہی سائنسی ہو گئی ہے اوروہ ہر بات کو سائنسی نکتہ نظر سے سوچتے اور جانچتے ہیں۔ ایمان والوں کے دلوں میں اب وہ محبت نہیں رہی کہ وہ اس لیے عمل کریںکہ یہ میرے محبوبﷺ کا عمل ہے۔ آج کوئی سائنسی بات آجائے تو بس اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ حضرت جی دامت برکاتہم نے اس سلسلے میں ایک بیان فرمایاتھا توآج وہی آپ کو سنایا جائے گا۔ نبی پاک ﷺ کی مبارک زندگی اور آپ کی مبارک سنتیں سائنسی نکتہ نظر سے ہمیں کیسے معلوم ہوتی ہیں اس کے بارے میں حضرت جی کا ایک نقطہ نظر ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر دل کے کانوں سے ان باتوں کو سنیں گے تو ان شا اللہ دل پر ضرور اثر ہو گا ۔اور اگر سینوں میں سِل ہو اور دل نہ ہو تو پھر اس کا آپ کو فائدہ نہیں ہو گا۔طلب لے کے بیٹھیں گے تو ان شا اللہ العزیز فائدہ ہو گا۔ حضرت فرماتے ہیں کہ یہ باتیں ہم لوگوں کے لیے فکر انگیز (Food Of Thought )ہوں گی۔ یہ باتیں سائنس کے طلبا کو اور پڑھے لکھے لوگوں کو فائدہدیں گی۔ بلکہ حضرت کے لحاظ سے یہ ایک ایسا عنوان اور مضمون ہے اگر اس پہ اسٹوڈنٹس کام کریں تو اسلامک اسٹڈیز کے اندر پی ایچ ڈی(PHD) بھی کر سکتے ہیں۔
 دو درخشاں باب:حضرت جی نے لکھا کہ نبی پاک ﷺ کی سنتوں کے بارے میں دوفیز (Phase)ہیں ۔فیزOne 1 تو یہ کہ جو انسان نبی ﷺ  کی مبارک سنتوں پر عمل کرے گا، اللہ رب العزت کی طرف سے اس کی زندگی میں برکتیں آئیں گی۔وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو گا اورآخرت میں بھی کامیاب ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گابے شک وہ بہت بڑی کامیابی پانے والا بن جائے گا: ﴿وَ مَنْ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْفَازَفَوْزًا عَظِیْمًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 71)’’جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا تحقیق وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا‘‘۔ تو نبی ﷺ  کے طریقوں پر عمل کرنا ،آپﷺ کے اخلاق اور عادات کو اپنانا اس کو سنت کی پیروی کہتے ہیں۔ اب سنت کی پیروی عبادات میں ہو،معاشرت میں ہو، معیشت میں ہو، انفرادی یا اجتماعی سطح پر ہو، تمام حالات میں یہ انسان کے لیے نفع بخش ہے اور اس میں انسان کے لیے کامیابی ہے۔ تو پہلا فیز کیا ہے کہ اگر ہم سنت پر عمل کریں گے تو دنیا میں بھی سکون اور آخرت میں بھی سکون اور انسان قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں میں شامل ہو جائے گا۔ اور یہ با ت سو فیصد پکی اور سچی ہے اس موضوع پر تو ہم لوگ باتیں سنتے ہی رہتے ہیں۔آج کی بات سنت کے سیکنڈ فیز کے متعلق ہوگی۔  اس کو ذرا دل کے کانوں سے سنیں۔ وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ جس کام کونبی کریمﷺ نے جس طریقے سے کیا اس کا م کو اس سے بہتر کرنے کا انداز ہو ہی نہیں سکتا۔ جس کام کورسول اللہﷺ نے جس طریقے سے، جس انداز سے کیا وہ کام اس سے بہتر طریقے سے قیامت تک کوئی کر ہی نہیں سکتا، ہو ہی نہیں سکتا، یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اب اس کے بارے میں ہمارا دعویٰ سمجھ لیجئے یا نتیجہ سمجھ لیجئے لیکن یہ اتنا ٹھوس ہے کہ اس بات کو کرتے ہوئے ہمارے پاؤں کے نیچے چٹان ہے۔ جس طرح کسی انجینئر کے سامنے کہا جائے کہ دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں کہے گا چار ہوتے ہیں۔ اس کو یقین ہے کہ اِس کے علاوہ کوئی (Answer) ہے ہی نہیں تو ہمیں بھی یقین ہے کہ جس کام کو نبی کریم ﷺ نے جس انداز سے کر لیا اس سے بہتر اس کام کو کرنے کا کوئی دوسرا انداز ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر ہوتا تو نبی ﷺ  کو اللہ تعالیٰ عطا فرما دیتے۔ سب انبیا سے افضل نبیﷺ ہیں اور افضل نبی ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے وہ نعمتیں عطا فرمائیں جو کسی کو نہیں دی گئیں ۔
سونے کا مسنون طریقہ اور میڈیکل سائنس: اب رات کو سونے کی چارممکن صورتیں ہو سکتی ہیں اس کے بارے میں ذرا تفصیل سے سنیں۔ انسان روزانہ سوتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیکلی (Medically) سونے کا انداز کو نسا زیادہ بہتر ہے۔
پہلا انداز:ایک انداز یہ ہے کہ انسان لیٹ جائے کمر نیچے ہو اورسینہ اوپر ہویعنی یہ سیدھا لیٹنا ہو گیا۔
دوسرا انداز:یہ ہو سکتا ہے کہ انسان اوندھا لیٹ جائے کہ چہرہ اور پیٹ بستر کی طرف ہو کمر آسمان کی طرف ہو۔
تیسرا انداز :یہ ہے کہ انسان بائیں طرف لیٹ جائے کہ دل نیچے ہو اور باقی جسم کا حصہ اوپر ہو۔
چوتھا انداز :یہ ہے کہ انسان دائیں کروٹ، سیدھے ہاتھ پر لیٹ جائے۔ تو یہ چار صورتیں ہوسکتی ہیں۔
 سونے کی پہلی صورت:اگر ہم سب سے پہلی صورت پر آئیں یعنی سیدھا سونا کہ انسان کا سینہ اور چہرہ آسمان کی طرف ہو اور کمر بستر کی طرف، تو میڈیکلی یہ صورت انسان کے لیے نقصان دہ ہے ۔ وہ کیسے ؟ اگر آپ انسان کی ریڑھ کی ہڈی کی بناوٹ کے بارے میں سوچیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ بالکل سیدھی نہیں بلکہ خم دار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معدہ کے اندر وزن ہوتا ہے اور اس وزن نے بالآخر کسی جگہ اپنا زورڈالنا ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے کسی نہ کسی ہڈی نے تو اس وزن کو برداشت کرنا تھا، تو اس کے لیے اللہ رب العزت نے اسپائنل کوڈ (Spinal Cord) ریڑھ کی ہڈی بنا دی اور معدہ کا وزن اس کے اوپر ڈالا گیا، اس کو سنبھا لنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے اندر تھوڑا سا خم بنا دیا گیا۔ چنانچہ کندھے سے پیچھے سیدھی آتی ہے اور جہاں ہمارا پیٹ ہے وہا ں تھوڑا آگے کو خم کھا کے واپس پیچھے سیدھی ہونے لگتی ہے اور ہم کمر کو ہاتھ لگا کر اس کو محسوس بھی کر سکتے ہیں۔ توجب آدمی سیدھا سویا ہوتا ہے تو ریڑھ کی ہڈی کا خم اوپر کی طرف ہوتا ہے اور اس خم کے اوپر معدہ کا سارا بوجھ آ جاتا ہے۔ اور ماشا ء اللہ کسی کے معدہ پیٹ کا وزن دس کلو کسی کا پچاس کلو تو اب اتنے وزن نے اس کے اوپر اثر توکرنا ہے، تو سائنس کا اصول ہے کہ جب بھی کسی خم دار چیز کے اوپر وزن ڈال دیا جائے تو وہ سیدھا ہونے کی کوشش کرے گی۔اور وہ بوجھ اس کے دونوں سروں کے اوپر پڑے گا۔ تو جب ریڑھ کی ہڈی کے اوپر پچاس کلوکا وزن پڑے گا تو تو ایسی صورت میں نتیجہ کیا ہو گا؟ یہی ہو گا کہ گردن کے مہرے درمیان سے دباؤ میں آجاتے ہیں اور گردن کے پیچھے انجائینا کا پین ہونا شروع ہو جاتا ہے،یا کمر کے نچلے مہرے درمیان میں سے دباؤ میں آجاتے ہیں اور لو ربیک پین (Lower Back Pain) شروع ہو جاتی ہے۔لہذا جو لوگ سیدھا سوتے ہیں انکو گردن کے پیچھے انجائینا کا درد بھی ہوتا ہے یا پھر لور بیک پین بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔اس سے پتا چلا کہ سیدھا سونا انسان کے لیے فائدہ مند نہیں نقصان دہ ہے۔
سونے کی دوسری صورت :یہ ہے کہ انسان الٹا سوئے کہ پیٹ نیچے ہو جائے کمر آسمان کی طرف ہو جائے، اس کو اوندھے منہ سونا بھی کہتے ہیں۔ یہ بھی انسان کے لیے میڈیکلی (Medically) نقصان دہ ہے کیونکہ انسان کے معدہ کیساتھ آنتیں ہوتی ہیں جہاں سے اس کی غذا گزر رہی ہوتی ہے. وہا ں اس کو جسم سے مختلف وائیٹامنز (Vitamins) اور کیمیکلز (chemicals) ملتے ہیں۔ وہ آنتیں دائیں اور بائیں سائیڈ پر ہوتی ہیں اور ان آنتوں میں خوراک بھری ہوتی ہے اور ہر آنت ایک دوسرے کیساتھ چربی کی باریک سی جھلی کے ذریعہ جڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی بکری کو ذبح کریں اور آپ اس کی آنتوں کو دیکھیں تو آپ کو اس کی آنتیں ایک دوسرے کیساتھ باریک سی جھلی سے جڑی ہوئی نظرآئیں گی۔ تو جب انسان الٹا سوتا ہے یعنی پیٹ کے بل تو اس کی آنتیں اوپر ہو جاتی ہیں اور وہ دونوں طرف معلق پوزیشن میں لٹک رہی ہوتی ہیں۔ اس کے اندر وزن بھی ہوتا ہے، اس کا اپنا وزن بھی ہوتا ہے آنت کا اور دوسرا ماشا ء اللہ ہم نے بھی مرغے اور چرغے کھائے ہوتے ہیں، تو ان کا بھی اچھا خاصا وزن ہو جاتا ہے۔ اب ایسی صورت میں یہ امکان ہوتا ہے اگر کسی جگہ سے آنتوں کی چربی کمزور ہو اور وہ آنت اوپر سے نیچے گرے گی اور اس میں بل آجائے گا گرہ لگ جائے گی، اور یہ بات چودہ سو سال پہلے نبی کریمﷺ نے بتا دی تھی۔ فرمایا: الٹا مت سویا کرو، اس طرح الٹا سونے سے ممکن ہے آنتوں میں کوئی گانٹھ پڑ جائے۔ جب یہ گرہ لگ جاتی ہے تو ہسپتالوں میں پہنچ کر لمبے لمبے آپریشن کروانے پڑتے ہیں ۔آج ڈاکٹر اس بات کو مانتے ہیں کہ الٹا سونے سے گرہ لگ جاتی ہے اور انسان کو پھر آپریشن کروانا پڑتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الٹا سونا بھی میڈیکلی (Medically) ٹھیک نہیں ۔
سونے کی تیسری صورت: یہ ہے کہ انسان بائیں کروٹ پر سو جائے۔ جب انسان بائیں کروٹ پر سوتا ہے تو اسکا دل اس وقت نیچے کی طرف ہو جاتا ہے باقی سارا سسٹم اوپر ہوتا ہے۔ اب دیکھیں بھئی! گھروں میں جو پانی کی مشین لگی ہوتی ہے، اگر اس نے دوسری منزل پر پانی پہنچانا ہو اور موٹر نیچے ہے تو اس کو زیادہ پریشر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر مشین اوپر ہو اور پانی نیچے پہنچانا ہو تو پھر مسئلہ ہی کوئی نہیں، جیسے دو منزلہ عمارت ہے اور پمپ نیچے لگا ہوا ہے جب سپلائی کرنے کا سسٹم اوپر ہوتا ہے تو پمپ انڈر پریشر ہوجاتا ہے اور اگر نیچے سپلائی کرنا ہو تو اس کا کوئی ہیڈ ہی نہیں ہوتا۔ اس کے پاس جتنا بھی پانی ہوتا ہے وہ سارا کا ساراخود بخود نیچے چلا جاتا ہے اور جب اس کو کشش ثقل گریوٹی (Gravity)  کے مخالف پمپ کرنا ہوتا ہے تو اسکے او پر لوڈ پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر انسان الٹی طرف بائیں کروٹ پہ سو گیا تو اب ساری رات اس کا سسٹم اوپر ہوتا ہے اور پمپ جو دل ہے وہ نیچے ہوتا ہے تواس طرح دل انڈر پریشر دباؤ میں کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس طریقے میں دو خرابیاں بتائی گئیں ہیں۔
پہلا نقصان:انسان کا دل دباؤ میں ہو تا ہے اس کی وجہ سے اس کی نیند بہت زیادہ گہری ہوتی ہے اس کو الارم بھی نہیں اٹھاتے ۔اس کو گھر میں اگراماں اٹھائے کہ بیٹا! فجر کا وقت ہو گیا ہے تو اس کو پتا ہی نہیں چلے گا، اور صبح نو بجے کہے گا کہ مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔ بھئی! تمھیں اٹھایا تو تھا، اچھا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔ تو اس کی نیند بہت زیادہ گہری ہوتی ہے۔ اور بعض دفع ایسا بھی ہوتا ہے جب یہ سو کے اٹھتا ہے تو ایک دومنٹ تین منٹ تک کہتا ہے: نہیں ابھی ذرا میں پہلے سیٹ ہو جاؤں پھر کھڑا ہوؤں گااور واش روم جاؤں گا۔ تو فوری طور پر فریش (Fresh) ہو کر نہیں اٹھ پاتا بلکہ اسے ویٹ (Wait)کرنا پڑتا ہے۔
 دوسرا نقصان:ایسے لوگ جو الٹی طرف بائیں کروٹ پر سوتے ہیں ،یہ لوگ ڈراؤنے خواب بہت دیکھتے ہیں ،کیونکہ دل پہ دباؤ ہوتا ہے، اس لیے خواب میں دیکھتے ہیں کہ بھینس پیچھے چلی آرہی ہے، سانپ آ کے ان کو کھا رہا ہے، ڈس رہا ہے یا کبھی کوئی کتا آرہا ہے یا کوئی اور چیز۔ تو یہ بائیں کروٹ پر لیٹنے والے ڈراؤنے برے خواب بہت دیکھتے ہیں اور ہڑبڑا کر اٹھتے ہیں۔ حضرت جی کا یہ مضمون پڑھا اور ذہن میں بٹھا لیا ۔ چند دن پہلے ایک عالمہ کا فون آیا انہوں نے دو باتیں مجھے کہیں: پہلی یہ کہ بارہ(12)گھنٹے سے پہلے تو میری  آنکھ ہی نہیں کھلتی ۔ اور دوسر ی یہ کہ فجر کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ الحمد للہ! حضرت جی کی بات پڑھی ہوئی تھی تو ان کو یہ عمل بتایا کہ آپ پوری ہمت کوشش کریں کہ دائیں کروٹ پر سوئیں اور کسی طریقہ پر نہیں سونا۔ الحمد للہ! چند ہی دنوں کے بعد بمشکل چھٹا ساتواں دن ہو گا فون آیا کہ اب میری نیند بھی کم ہو گئی ہے اور نماز کے لیے بھی اللہ نے اٹھانا شروع کر دیا۔
 سونے کی چوتھی صورت :یہی مسنون ہے کہ انسان اپنی دائیں کروٹ پہ سوئے۔ اس صورت میں اس کا پورا سسٹم نیچے ہوتا ہے اور دل اوپر ہوتا ہے گویا اس صورت میں مین پمپ اوپر ہے اور پمپ کو نیچے سپلائی کرنے کے لیے کسی پریشر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اچھا یہ بھی ایک مزے کی بات ہے کہ جب آدمی جاگ رہا ہوتو اس وقت دل کی جو نبض کی رفتار ہوتی ہے، جس کا براہِ راست دل سے تعلق ہوتا ہے، یہ ستّر سے پچھتر ہوتی ہے لیکن سونے کی حالت میں نبض کی رفتار کم سے کم ہونی شروع ہو جاتی ہے گویاگاڑی کی سپیڈ کم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر اس کے اوپر لوڈ ڈال دیا جائے تو وہ بند ہی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر بائیں کروٹ سوئے گا تو یہی حال ہو گا کہ گاڑی کی سپیڈ کمتر ہو گئی اور اوپر لوڈ پڑ گیا اور یوں انڈر پریشر رہ کر خون کی سپلائی اوپر کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اگر ہم دائیں کروٹ پر سوئیں گے تو ایسے میں انسان کی جیسے ہی نبض کی رفتار کم ہوئی اسی حساب سے اس کے اوپر لوڈ بھی کم ہو گیا۔ یوں سمجھیے کہ نیند کی حالت میں انسان کا دل تقریباً آف لوڈ کنڈیشن میں چل رہا ہوتا ہے اور پورے جسم کو خون کی مطلوبہ مقدار پہنچا رہا ہوتا ہے۔
 دائیں طرف سونے کے تین فائد ے:اب دائیں طرف سونے سے تین فائدے حاصل ہوتے ہیں:
 پہلی بات :ایسے بندے کی نیند بہت گہری نہیں ہوتی، الارم ہو یا کوئی بندہ اس کو فجر کے لیے اٹھا دے تو اس کے لیے اٹھنا آسان ہوجا تا ہے۔
دوسری بات : ایسے بندے کو ڈراؤنے خواب بھی نہیں آتے۔ 
تیسری بات :یہ بندہ جب دائیں کروٹ پر سونا شروع کرتا ہے، تھوڑی دیر کے لیے بھی سوتا ہے تو اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ اگر یہ دس منٹ بھی دائیں کروٹ پر سو جائے تو محسوس ہو گا کہ ایک گھنٹا سو گیا ۔تو وقت میں بھی اللہ رب العزت برکت عطا فرما دیتے ہیں۔ لہذا میڈیکلی (Medically) بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کے لیے سونے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہ دائیں کروٹ پر سوئے اور یہی ہمارے محبو ب حضرت محمدﷺ کی مبارک سنت ہے۔ آج سائنس بڑی گھوم پھر کے اس بات کو ثابت کر چکی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ سائنس بھی منزل کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے اور جب کبھی اس کو منزل ملتی ہے تو وہ جگہ وہی ہوتی ہے جہاں ہمارے محبوب ﷺ کے قدموں کے نشان ہوتے ہیں۔ سائنس بالآخر وہیں پہنچتی ہے تو اس سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس کام کو نبی ﷺ  نے جس طریقے سے کیا، اس کام کو اس سے بہتر کرنے کا کوئی طریقہ ہوہی نہیں سکتا۔ یہ ہر چیز کے اند ایک رول (Rule) ہے ۔

سورج کی شعاؤں سے متعلق آپﷺ کا ارشاد اور سائنس:اور دیکھئے! کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ یورپین لوگ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ تم کیسے دقیانوسی لوگ ہو تم سن باتھ (Sun Bath) لینے کیوں نہیں جاتے۔ جب وہ لوگ چھٹیوں میں سن باتھ لینے جاتے تو مسلمانوں سے کہتے کہ تم بھی چلو!  تو مسلمان کہتے کہ ہم کیوں جائیں ۔ وہ کہتے کہ بھئی! سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سن باتھ لینے سے جسم کے مسام کھل جاتے ہیں اور انسان کو بے حد فائدے ہوتے ہیں، تو مسلمان نہیں جاتے تھے تو انکا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد پوری دنیا میں تحقیق کی گئی کہ مختلف بیماریاں دنیا کے کن کن ممالک میں کہاں کہاں کیا کیا ہیں۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ جلد کا جو کینسر ہے(Skin Cancer) یہ یورپ کے اندر سب سے زیادہ ہے۔ تو جب یہ تحقیق سامنے آئی تو ان کو پریشانی لاحق ہوئی کہ آخر یورپ میں جلد کا کینسر کیوں زیادہ ہے۔ اس پر ریسرچ شروع کی، ریسرچ کر کے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سن باتھ کی وجہ سے یہ بیماری ہو رہی ہے۔ سورج کے اندر جو الٹرا وائلٹ ریز ( Ultraviolet Rays) ہوتی ہیں وہ جسم کے اوپر ڈائریکٹ پڑتی ہیں اور اسکین کے اندر کینسر کے اثرات کو چھوڑ جاتی ہیں۔ کہرام مچ گیا کہ بھئی! یہ طریقہ تو غلط ہے۔ تو بہت سی کمپنیا ں میدان میں آئیں کہنے لگیں کہ ہم ایسی چھتریاں بنائیں گے جو انسان سن باتھ لینا چاہے،ان چھتریوں کے نیچے آجائے تو اس کو وہ الٹرا وائلٹ ریز نقصان نہیں پہنچائیں گی ۔لہذا اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جس بندے نے سن باتھ لینا ہو وہ چھتری استعمال کرے۔اب ذرا یہ تو دیکھیں کون کون آدمی ہو گا، کس کس کے ہاتھ میں چھتری پکڑا سکتے ہیں۔  تو اس تحقیق کے بعد ان لوگوں کا ساحل پر جانا مہنگا بھی ہو گیا اور مشکل بھی ہو گیا کہ اپنی جان تو بچانی ہے۔ تو اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو ایک پوائنٹ دے دیا۔ ہم ان سے بات کرتے ہیں کہ دیکھو بھئی! جب تم کہتے تھے کہ تم ساحل پرجاتے ہو اور ہم نہیں جاتے تھے تو تم ہمارا مذاق اڑاتے تھے۔ اب جب سائنس نے تمہیں بتا دیا کہ اس سے تمھیں بیماریاں لاحق ہو تی ہیں تو اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے بجائے سن باتھ لینے کے اب تم کہیں اور جانے کے پروگرام کیوں بناتے ہو؟ تونتیجہ کیا ہو ا کہ بات پھر وہیں گھوم پھر کر آگئی کہ نبی ﷺ  کے طریقوں کے اندر ہی برکت ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو پانی سورج کی دھوپ سے گرم ہو تم اس سے وضو مت کرو، جو پانی سورج کی شعائوں سے دھوپ کی وجہ سے گرم ہو جائے تم اس سے وضو مت کرو ۔انسان حیران ہوتا ہے کہ آگ کے اوپر پانی گرم کیا جائے تو وضو کرنا منع نہیں۔ نبی ﷺ  نے گرم پانی سے وضوکرنا منع نہیں کیا ، تو سورج کی شعاؤں سے جو پانی گرم ہو اس سے کیوںمنع کیا؟ سائنس نے تو آج بتایاہے کہ الٹرا وائلٹ ریز  ( Ultraviolet Rays) آتی ہیں جو نقصان پہنچاتی ہیں۔ نبی ﷺ  چودہ سو سال پہلے بتا گئے کہ تم ایسے پانی سے وضو نہ کیا کرو یہ جسم کے لیے نقصان دہ ہو گا ۔تو پھر وہی بات آگئی کہ بالآخر سائنس اسی درخت کے نیچے پہنچتی ہے جس درخت پر محبوب ﷺ کی سنتوں کا سایہ ہوتا ہے ۔

جمعہ، 1 دسمبر، 2017

مختصر سیرتِ رسولﷺ

-------------------------------------

نام و نسب

     نام محمد عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف اور کنیت ابو القاسم تھی بخاری و مسلم میں جبیرن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    میرے بہت سے نام ہیں ، میں محمد احمد ہوں ، ماحی (کفر کو مٹانے والا) حاشر (لوگوں کو اکٹھا کرنے والا) اور عاقب یعنی آخری نبی ہوں۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب سب سے پاکیزہ ، اعلی و ارفع ہے ، واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اللہ عز  و جل نے ابراہیم(علیہ السلام) کی نسل سے اسماعیل(علیہ السلام) ، بنی اسماعیل سے کنانہ ، بنی کنانہ سے قریش ، قریش سے بنو ہاشم ، اور بنو ہاشم سے مجھے منتخب کیا (مسلم)
    اور جب ہرقل (روم کا بادشاہ) نے ابو سفیان سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کے بارے میں سوال کیا تو جواب دیا کہ:
    وہ ہم میں سب سے اعلیٰ نسب والے ہیں ، ہرقل نے کہا:
    انبیاء و رسل ایسے ہی ہوتے ہیں۔
٭٭

ولادت باسعادت

    ماہ ربیع الاول میں بروز سوموار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی اور جہاں تک تاریخ کی بات ہے تو اس مسئلہ میں مورخین کے یہاں اختلاف ہے راجح قول یہ ہے کہ ربیع الاول کی 9 تاریخ کو آپ کی پیدائش ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد کا انتقال ہوچکا تھا ، پیدائش کے بعد ابولہب کی لونڈی ثوبیہ نے آپ کو چند دنوں تک دودھ پلایا پھر حلیمہ سعدیہ نے تقریباً 4 سال تک آپ کو دودھ پلانے کا شرف حاصل کیا اور جب شق صدر کا واقعہ پیش آیا تو حلیمہ سعدیہ نے خوف کے مارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی والدہ کے حوالے کر دیا۔
    جب آپ کی عمر 6 سال کی ہوئی تو اپنی والدہ آمنہ بنت وہب کے ساتھ اپنے ننہیال مدینہ گئے واپسی میں مقام ابواء پر والدہ انتقال کر جاتی ہیں اس کے بعد موروثہ لونڈی ام ایمن نے آپ کی پرورش کی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدا لمطلب نے کفالت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 8 سال کی ہوتی ہے آپ کے دادا کی وفات ہو جاتی ہے جنہوں نے وفات کے وقت آپ کے چچا ابو طالب کو کفالت و تربیت کی وصیت کی ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو! ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب مدد کی لیکن ایمان نہیں لائے ان کی اس تائید و نصرت کی وجہ سے قیامت کے دن انہیں ہلکا عذاب دیا جائے گا۔
٭٭
معصوم عن الخطاء
    اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھا اور اعلی اخلاق پر فائز کیا آپ بچپن ہی سے صادق و امین کے لقب سے مشہور تھے اسی لئے جب قریش کے مابین تعمیر کعبہ کے وقت حجر اسود کو نصب کرنے میں تنازعہ ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ جو سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو گا وہی اس کا حقدار ہو گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عمر اس وقت 35 سال تھی سب سے پہلے داخل ہوئے جس پر سب نے بیک زبان کہا:
    یہ امین ہیں ہم ان سے راضی ہیں پھر آپ نے حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھ کر سرداران قبائل کو کپڑے کا ایک ایک کنارہ پکڑنے کا حکم دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا (مسند احمد ، حاکم)
٭٭

ازواج مطہرات

    1۔ آپ کے اخلاق عالیہ سے متاثر ہو کر خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام دیا اس وقت آپ کی عمر 25 سال کی تھی جب تک خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی۔
    2۔ سودۃ بنت زمعہ
    3 عائشہ بنت ابی بکر الصدیق
    4۔ حفصہ بنت عمر
    5۔ زینب بنت خزیمہ بن حارث
    6۔ اُم سلمہ جن کا نام ہند بنت امیۃ تھا
    7۔ زینب بنت حجش
    8۔ جویریہ بنت الحارث
    9۔ ام حبیبہ جن کا نام رملہ بنت ابی سفیان تھا
    10 ۔صفیہ بنت حی بن اخطب
    11۔ اور سب سے آخر میں میمونہ بنت الحارث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا
    خدیجہ و زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما یہ دونوں آپ کی زندگی میں وفات پا گئی تھیں باقی بیویاں آپ کی وفات کے بعد زندہ رہیں رضی اللہ عنھن جمیعاً۔
٭٭

اولاد

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 3 نرینہ اولاد تھیں۔
    1۔ قاسم انہیں کے نام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم پڑی۔
    2۔ عبد اللہ جن کا لقب طیب و طاہر تھا۔
    3۔ ابراہیم جو مدینہ میں پیدا ہوئے تینوں بچے بچپن میں ہی وفات پا چکے تھے واضح رہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا جو ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے آپ کی تمام اولاد لڑکے اور لڑکیاں سب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوئیں۔
    بچیوں میں:
    1۔ زینب سب سے بڑی تھیں ان کی شادی ابوالعاص بن ربیع سے ہوئی۔
    2۔ رقیۃ جن کی شادی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔
    3۔ فاطمہ حسن و حسین کی والدہ محترمہ جو علی رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔
    4۔ اُم کلثوم جو رقیہ کی وفات کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں آئیں۔
    تمام بچیوں نے اسلام کا زمانہ پایا سب مسلمان ہوئیں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوا سب کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہو گیا تھا۔
٭٭

نبوت و رسالت

    17 رمضان المبارک بروز پیر یعنی دو شنبہ کو غارحراء میں 40 سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا گیا ، جب آپ پر وحی آتی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا اور آپ سخت سردی میں بھی پسینہ سے شرابور ہو جاتے ، سب سے پہلے سورت علق کی 5 آیتیں نازل ہوئیں ، نزول وحی کے بعد اپنے گھر تشریف لے گئے مارے خوف کے آپ کا سینہ اچھل رہا تھا امّاں خدیجہ کو ساری داستان سنائی جس پر انہوں نے تسلی دی اور کہا:
    اللہ کی قسم وہ کبھی آپ کو رسوا نہیں کرے گا آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ، سچ بولتے ہیں ، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور مصائب پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
٭٭

انقطاع وحی

کچھ مدت وحی بند رہی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غم سے نڈھال تھے ، ایک دن جبریل امین علیہ والسلام کو آسمان و زمین کے مابین کرسی پر جلوہ افروز دیکھا مرعوب ہو کر گھر تشریف لائے خدیجہ سے فرمایا: زملونی زملونی: یعنی مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو پھر سورت مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں ، ان آیتوں کے بعد آپ نے لوگوں کو توحید کی دعوت دینا شروع کر دیا جس پر مکہ والے آپ کے دشمن ہو گئے اور ایذاء اور تکلیف پہنچانا شروع کر دیا ، جس پر چچا ابو طالب نے ڈھال کے مانند آپ کی مدد کی ، ابتدائی 3 سالوں تک خفیہ طور پر دعوت کا کام کرتے رہے اور جب (فاصدع بنا تومر) یعنی (اعلانیہ دعوت دینا شروع کر  دیجئے) نازل ہوئی تو آپ نے علی الاعلان دعوت دینا شروع کر دیا ، اللہ تعالی نے جب یہ آیت نازل فرمائی (وانزرعشیرتک الاقربین) یعنی (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر آواز لگائی اور جب آپ کے خاندان والے اکٹھا ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے کیا تم لوگ میری بات مانو گے؟ سب نے بیک زبان کہا    کہ ہم نے کبھی آپ کو جھوٹ بولتے نہیں پایا تو آپ نے فرمایا :
میں تم لوگوں کو سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، ابو لہب نے کہا تیری بربادی ہو کیا تو نے اسی لئے جمع کیا تھا اس پر پوری سورت المسد نازل ہوئی۔
٭٭

ہجرت حبشہ

    جب مکہ والوں نے زیادہ تکلیف دینا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حبشہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ، چچا ابو طالب کی وفات کے بعد لوگوں نے ایذا رسانی میں شدت پیدا کر دی ، صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے پاس ہی میں اونٹ کی اوجھڑی پڑی ہوئی تھی عقبہ بن ابی معیط نے اسے اٹھایا اور آپ سجدہ میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر ڈال دیا ، آپ کی بیٹی فاطمہ آئیں پھر انہوں نے اسے ہٹایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کرتے ہوئے فرمایا:
    اے اللہ! سرداران قریش کو ہلاک کردے ، اور صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دن عقبۃ بن ابی معیط ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں کپڑا لپیٹ کر زور سے کھینچا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور چھڑاتے ہوئے کہا:
    کیا تم ایسے آدمی کو مارنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب و خدیجہ کی وفات کے بعد زیادہ تکلیف دینا شروع کیا تو آپ دعوت توحید لے کر طائف پہنچے جہاں انہیں عناد ، ایذا و مذاق کے سوا کچھ نہ ملا اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ پتھروں سے مار مار کر لہو لہان کر دیا طائف سے مکہ واپس آرہے تھے کہ پہاڑوں کا فرشتہ حاضر خدمت ہو کر گویا ہوا اگر آپ کا حکم ہوتو دونوں پہاڑوں کے بیچ میں اہل طائف کو پیس دیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اس کے ساتھ کچھ بھی شریک نہیں کریں گے۔
٭٭

مدینہ منورہ میں اسلام

        آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام حج میں مدینہ کے 6 آدمیوں کو دعوت دی وہ مسلمان ہو گئے جن کی دعوت سے مدینہ میں کافی لوگ مسلمان ہوئے، جس کے بعد خفیہ طور پر بیعت عقبی اولی و ثانیہ پیش آئی ، اور جب مدینہ میں اسلام کا بول بالا ہو گیا تو آپ نے اپنے صحابہ اکرام کو مدینہ ہجرت کا حکم دے دیا۔ (بخاری و مسلم)
٭٭

ہجرت مدینہ

        بحکم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کا رخ کیا آپ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے دونوں غار ثور میں 3 دن تک چھپے رہے مدینہ پہنچنے پر آپ کا زبردست استقبال کیا گیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد اور گھر تعمیر کیا۔
٭٭

غزوات

        آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 27 غزوات (جنگیں) کیں چند کے نام یہ ہیں:
        غزوہ بدر : 17 رمضان سن 2 ہجری میں ہیش آیا جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔
        غزوہ احد : شوال سن 3 ہجری کا واقعہ ہے جس میں مسلمانوں کو شروع میں فتح ہوئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
        غزوہ بنی نضیر : سنہ 4 ہجری کا واقعہ ہے جس میں یہودیوں کو بد عہدی کے جرم میں مدینہ سے جلا وطن کیا گیا۔
        غزوہ مریسیع (بنی مصطلق) : ماہ شعبان سن 5 ہجری میں پیش آیا جس میں دشمن کو شکست ہوئی۔
        غزوہ خندق : سنہ 5 ہجری میں ہوا جس میں کفار مکہ ناکام ہو کر واپس گئے۔
        غزوہ بنی قریظہ : یہودیوں کے ساتھ پیش آیا وہ مسلمانوں کے حلیف تھے لیکن انہوں نے غداری و بغاوت کی جس کے پاداش میں مردوں کو قتل کر دیا گیا۔
  صلح حدیبیہ : سنہ 6 ہجری میں اس وقت پیش آیا جب آپ اپنے جان نثار صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے مقام حدیبیہ پر مکہ والوں نے آپ کے ساتھ 10 سال کے لئے صلح کی اور اس سال عمرہ کرنے سے روک دیا۔
        فتح خیبر : یہ محرم سنہ 7 ہجری کا واقعہ ہے یہ جنگ ، خیبر کے یہودیوں کے ساتھ پیش آئی جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔
        فتح مکہ : رمضان سنہ 8 ہجری میں پیش آیا 12 کافر قتل ہوئے اور صرف 2 مسلمان شہید ہوئے۔
        غزوہ حنین : شوال سنہ 8 ہجری میں مسلمانوں اور رومیوں کے مابین پیش آیا۔
        غزوہ موتہ : سنہ 8 ہجری میں مسلمانوں اور رومیوں کے مابین پیش آیا۔
        غزوہ تبوک : جو سنہ 9 ہجری میں پیش آیا یہ آپ کا آخری غزوہ تھا رومیوں پر اتنا رعب پڑا کہ وہ مقابلہ ہی پر نہ آئے ، اس سال یعنی سنہ 9 ہجری کو عام وفود کہا جاتا ہے کیونکہ اس سال مختلف وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہوئے ، اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 56 سریہ بھی بھیجا۔
٭٭

حج و عمرہ

        آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا اور 4 عمرے کئے جو سب کے سب ذوالقعدہ کے مہینے میں ادا کئے گئے تھے۔
٭٭

حلیہ مبارک

        آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک درمیانی ، سرخی مائل روشن چہرہ ، گھنے بال ، آنکھیں سخت سیاہ ، سینے اور پیٹ پر معمولی بال ، سینے سے ناف تک بالوں کی باریک دھاری ، سینہ مبارک چوڑا۔
٭٭

اخلاق

        آپ سب سے زیادہ سخی و فیاض ، راست باز ، نرم مزاج ، متواضع ، پابند عہد ، حیا دار ، بردبار اور سب سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے۔ غیظ و غضب سے دور تھے کبھی اپنےنفس کے لئے انتقام نہ لیتے انس بن مالک رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 10 سال تک خدمت کی اگر میں نے کوئی کام کیا تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا اور اگر کوئی کام نہیں کیا تو یہ نہیں پوچھا کہ کیوں نہیں کیا ، البتہ اگر اللہ کی حرمت پامال ہوتی تو اللہ کے لئے انتقام لیتے ، جو ملتا کھا لیتے کھانوں میں کبھی عیب نہ نکالتے مہینوں آپ کے گھر میں آگ نہیں جلتی ، مریضوں کی عیادت کرتے جنازوں میں حاضر ہوتے فقراء و مساکین کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ، ہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے ، لوگوں سے ہمیشہ نرمی کے ساتھ پیش آتے غرض یہ کہ آپ تمام اخلاق عالیہ کے حسین پیکر تھے۔
٭٭

مناقب

        جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے 5 چیزیں ایسی دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ایک ماہ کی مسافت سے لوگوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیا گیا ، پوری زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک بنا دیا گیا جہاں بھی نماز کا وقت ہو نماز پڑھ لیں ، میرے لئے مال غنیمت کا حلال کیا گیا ، مجھے شفاعت سے نوازا گیا اور ہر نبی اپنی قوم کے لئے خاص بھیجا جاتا جبکہ مجھے پوری دنیا والوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (بخاری و مسلم)
        صحیح مسلم میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
        بروز قیامت سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی ، اور میری امت سب سے زیادہ ہو گی اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
٭٭

عبادت و معیشت

  عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں قیام اللیل میں ورم ہو جاتا تھا آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
 کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (بخاری و مسلم)
        نیز فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے تنے کی چھال بھری ہوتی تھی۔
٭٭

حجۃ الوداع

        جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 1 لاکھ مسلمانوں نے حج کیا۔
٭٭

وفات

        سنہ 11 ہجری میں ربیع الاول کی 12 تاریخ سوموار کے دن بوقت چاشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی (انا للہ وانا الیہ راجعون) وفات کے وقت آپ کا سر مبارک عائشہ رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ، غسل و تکفین کے بعد آپ پر لوگوں نے باری باری نماز جنازہ ادا کی ، آپ کو 63 سال کی عمر ملی جس میں سے 23 سال رسالت کے تھے ، 13 سال مکہ اور 10 سال مدینہ میں رہے۔ اس ذات مبارکہ و مقدسہ پر انگنت درودوسلام نازل ہوں۔


اتوار، 26 نومبر، 2017

خدمت خلق

--------------------------------------------------------------------------
تحریر : اکبر حسین اورکزئی
تمام الوہیت کی تعریفیں اس ذات کے لیے جو خالق کائنات ہے، وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے، وہی مشکل کشا حاجت روا ہے سب اللہ تعالی کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں ، اور جان لیں کہساری کائنات میں کوئی نہیں ہے، نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہوسکتا ہے، جو اللہ کے مانند، یا اس کا ہم مرتبہ ہو، یا جو اپنی صفات ، افعال اور اختیارات میں اس سے کسی درجہ میں بھی مشابہت رکھتا ہو ۔
 اور درود و سلام ہو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر، جو  خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں اور اس کے آل اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین پر  ..  اما بعد
جان لیجیے کہ فرض عبادت کے بعد خالق کائنات کو انسان کا سب سے اچھا عمل اس کی مخلوق کی خدمت پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں مصائب اور آلام سے تنگ آتے ہوئے لوگوں کی اشک شوئی کیلئے اللہ تعالیٰ کا کوئی نہ کوئی بندہ موجود ہوتا ہے۔ دینِ اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب نے بھی انسانیت کی خدمت کی تعلیم دی ہے، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد ہماے نبی محمد مصطفی ﷺ نے بھی بہت اجر و ثواب کا کام بتایا اور ایسا کرنے کی تلقین بھی کی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف سماجی تنظیمیں ہمیشہ سرگرم عمل رہتی ہیں۔
تھام گرتے کو اپنا ہاتھ بڑھا  :::  یوں خدا سے تعلقات بڑھا
کہہ رہا ہے تجھ سے جو قرآن کر  :::   دوسروں کی مشکلیں آسان کر
 اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی بھی انسان کا پسندیدہ کام اس کی مخلوق کی خدمت ہے اور اس حقیقت سے سب ہی لوگ واقف ہیں ، کہ جس معاشرے میں خدمت خلق کا جذبہ رکھنے والوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوتی ہے وہ معاشرہ انتہائی خوشحال ہوتا ہے۔ اس وقت اگر بغور دیکھا جائے تو تمام لوگوں کا مشترکہ مسئلہ وطن عزیز میں  مہنگائی ہے جس کے باعث تمام لوگ پریشان ہیں جبکہ محدود اور کم آمدنی والا شخص تو بھوکا رہنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ ایسے میں معاشرے کے خوشحال اور متمول لوگوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہے ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد پر نظر رکھیں اور غریبوں اور مستحقین کی مدد کریں کیونکہ یہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم بھی ہے کہ اگر کسی کے پڑوس میں کوئی بھوکا سوگیا اور پڑوسی اپنا پیٹ بھر کر سویا تو ایسے شخص کی فرض عبادات بھی قبول نہیں ہوگی، جبکہ ایسے مسائل کے حل کیلئے اللہ تعالیٰ نے زکوٰة، صدقات اور خیرات کا حکم دیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خدمت خلق کرنے کا عملی حکم دیا ہے جس پر کار بند ہوکر ہم اپنے معاشرے کو خوشحال اور پر امن بناسکتے ہیں جس میں تمام لوگوں کی فلاح ہو۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ادارے ہمہ وقت مستحقین کی خدمات کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور بلاشبہ یہ لوگ قابل تحسین ہیں۔ آج کے اس معاشرے میں جہاں مہنگائی، غربت، افلاس کے ہاتھوں مجبور لوگ خود کشی پر مجبور ہیں، اور خصوصا ہمارے قبائلی غریب عوام جو اپنا ملک ہوتے ہوئے اپنے گھر ہوتے ہوئے پناہ گزین کی طرح ٹاٹ تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کوئی پرسان حال نہیں ان کا . اگر ھم اور آپ آگے بڑھ کر ان کی نا امیدیوں اور غموں کو خوشیوں میں تبدیل کرنے کیلئے خدمت خلق کے ذریعے اپنا حصہ ڈالیں  اور اللہ کی خوشنودی حاصل کریں۔
ہم آپ اور اصحاب خیر سے اپیل کرتی ہے کہ ان غریب لاچار سے مدد کرنےمیں پہل کریں تاکہ  ان غریبوں اور ضرورتمندوں کی مدد کرنے کے جذبے کو ہر سطح پر پروان چڑھایا جاسکے جس کے باعث ایک خوشحال معاشرہ کے خواب کو تعبیر ملے، ان کے بچے بھی تعلیم یافتہ بنیں ، انہیں بھی روزگار مہیا ہو، عزت کی زندگی گزاریں .
وما علینا الا البلاغ