پیر، 17 ستمبر، 2018

نبی ٔ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی تین پسندیدہ چیزیں



عَنْ أَنَسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلّٰی اللّٰه عَلَیه وَسَلَّمَ : ’’حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّیْبُ وَ النِّسَائُ، وَ جُعِلَتْ قُرَّۃ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ ۔‘‘ (رواہ أحمد والنسائی، مشکوۃ المصابیح/ص :۴۴۹، باب فضل الفقراء، الفصل الثالث)
ترجمہ  : حضرت انس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پسندیدہ بنائی گئیں میرے لیے خوشبو اور عورتیں اور بنائی گئی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں۔

تمہید  : یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی انسان کے طبعی وقلبی رحجان اور فطری ذوق کا اندازہ اس کی پسند اور چاہت (Choice)سے لگایا جا سکتا ہے، اگرا س کی طبیعت اور فطرت پر پاکیزگی کاغلبہ ہے تو اس کی پسند و چاہت بھی اعلیٰ اورپاکیزہ ہوگی، عربی کا مقولہ ہے: ’’کُلُّ إِنَائٍ یَنْضَحُ بِمَا فِیْہِ‘‘۔ (روضۃ الأدب/ص: ۴۷) یعنی برتن میں جو ہوگا وہی اس سے ٹپکے گا،لہٰذا اگر طبیعت پاکیزہ ہے تو چاہت بھی پاکیزہ ہوگی، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رحمت ِدو عالم صلی اللہ علیہ و سلم  کا ظرف کائنات کی ساری مخلوق میں سب سے اعلیٰ، مزکیٰ، مصفیٰ اور اﷲ تعالیٰ کی محبت سے لبریز تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کی چاہت اور پسند بھی نہایت اعلیٰ تھی، اور محبت کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ اس میں اپنی پسند پر نظر نہیں ہوتی۔مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر ہے:نظر اُن کی نظر اپنی، پسند اُن کی پسند اپنی نظر اپنی پسند اپنی، محبت میں نہیں ہوتی .
حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  کے دل میں تین چیزوں کی محبت ڈالی گئی :      
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنا فی اللہ کے اعلیٰ مقام پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کے دل میں اﷲ پاک کی اس قدر محبت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی تمام چاہتوں کو اس کی چاہت کے سامنے فنا کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چاہت اور پسند وہی تھی جس کا اﷲ پاک نے حکم فرمایا، چناںچہ حدیث ِمذکور میں لفظ: ’’حُبِّبَ‘‘ جو بصیغۂ مجہول لایا گیا اس میں یہی راز ہے، مطلب یہ ہے کہ(تین چیزیں)مجھے پسندکرائی گئیں، یا میرے دل میں ان کی محبت ڈالی گئی، گویا میں نے از خود کسی چیز کو پسند نہیں کیا، بلکہ میرے مولیٰ نے مجھے ان کی پسند اور محبت کا حکم فرمایا ۔      فافھم۔           
 لہٰذ ا اب خلاصہ یہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں منجانب اﷲتین چیزوں کی محبت ڈالی گئی۔آسمانِ ہدایت کے سراجِ منیر نے نجومِ ہدایت کے ہجوم میں جب یہ بات ارشاد فرمائی تو صحابۂ کرامؓ متوجہ ہوئے، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پسند ہے؟تاکہ ہم بھی ان چیزوں کو پسند کریں، یہ حقیقت ہے نا! کہ چاہنے والو ں کے لیے محبوب کی چاہت بھی محبوب ہواکرتی ہے، او ریہ بھی محبت کا تقاضا ہے۔
حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  اور خوشبو  :ارشاد ہوا : پہلی چیز جس کی محبت اور پسند میرے دل میں پیدا کی گئی وہ ہے ’’اَلطِّیْبُ‘‘یعنی عمدہ خوشبو ، جوانسان کے فطری، روحانی او رملکوتی تقاضوں میں سے ہے، اس سے جسم کے علاوہ روح و قلب کو بھی ایک خاص نشاط حاصل ہوتاہے، عبادت میں کیف و ذوق اور لذت حاصل ہوتی ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کو بھی اس سے راحت پہنچتی ہے۔ اس لیے ہر صحیح الفطرت اور سلیم الطبع انسان کوخوشبو سے محبت اور بدبو سے نفرت ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو سراپا سلیم الطبع و صحیح الفطرت ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوخوشبو سے محبت کیوں نہ ہوتی؟
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا تو جسم اطہر قدرتی طور پر معطر تھا،حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا پسینہ مبارک مشک و عنبر سے زیادہ معطر تھا۔  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ’’ ایک مرتبہ رحمت ِدو عالم صلی اللہ علیہ و سلم  ہمارے گھر تشریف لائے، اور دوپہر کے وقت وہیں محو ِ خواب ہوگئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم ِاطہر سے پسینہ بہت نکلا،حضرت ام سلیم (جو حضرت ابوطلحہ انصاریؓ کی بیوی ہیں، نہایت عاقلہ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے رضاعی یانسب مادری کی نسبت سے محرموں میں سے تھیں) (از: مظاہر حق جدید۵/۵۱۷)ام سُلیمؓ نے دیکھا تو ایک شیشی لاکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ اس میں جمع کرناشروع کردیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدارہوکر پوچھا :ام سُلیم! کیاکر رہی ہو؟ کہنے لگیں: حضور!یہ آپ کا مبارک پسینہ ہے، ہم اسے اپنی خوشبو میں ملائیں گے، کہ یہ ہر عطر سے زیادہ خوشبودار ہے۔(حلیۃ الاولیاء، لابی نعیم الاصفہانی/ص:۶۱،:۲ ، از :تراشے ص:۷۵،متفق علیہ، مشکوٰۃ /ص:۵۱۷) پسینہ پونچھ کر رکھتے صحابہؓ جسمِ اطہر کاجو خوشبو میں گلاب و مشک و عنبر سے بھی بہتر تھافضا ساری مہک جاتی وہ جس راہ سے جاتےنکلتے جستجو میں جو وہ خوشبوسے پتہ پاتے        آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس راہ سے گذر جاتے ساری فضا معطر ہو جاتی تھی، تلاش کرنے والا خوشبو سے معلوم کر لیتاکہ ابھی اللہ تعالیٰ کا محبوب یہاں سے گذراہے۔ (ترمذی، مشکوٰۃ/ ص:۱۵۷) .
ایک اور عاشق نے کہا کہ:جسمِ مطہر کتنا معطر، روئے مبارک ماہ منوردلکش باتیں، شیریں تبسم، صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ان سب کے باوجود آپ   صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو کو پسند فرماتے،اس لیے معمولِ مبارک تھاکہ تحفہ یاخوشبودار پھول وغیرہ واپس کرنے سے منع فرماتے، کیوں کہ خوشبو آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کی پسندیدہ چیز تھی، بلکہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم  کے مطالعہ کے بعد اس عاجز کا ناقص خیال تو یہ ہے کہ آپ   صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو سے کیا محبت فرماتے خود خوشبو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرتی تھی۔
عورت قابل نفرت نہیں، لائق محبت ہے : دوسری چیز جس کی محبت میرے دل میں ڈالی گئی وہ ہے نیک رفیقۂ حیات،فیشن پرست عورت نہیں، بلکہ فرمایا: ’’وَالنِّسَائُ‘‘ ، اور ایک روایت میں ’’المَرْأَۃ الصَّالِحَة‘‘ ہے، یعنی (وہ نیک)عورت جس کا دل ذوقِ وفا سے سرشار اور جبین اللہ تعالیٰ کے حضور سجدوں سے آباد ہو۔جو عبادت میں اللہ تعالیٰ سے وفاکرے او رعفت میں شوہر سے وفا کرے۔یہاں کسی اعتراض کا موقع اس لیے نہیں ہے کہ عورت سے محبت کرنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتی پسند نہیں، بلکہ منجانب اﷲ اس کی پسند آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کے د ل میں پیدا کی گئی۔ اور ا س میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں، عورت جو زندگی کی ایک بڑی اہم ضرورت ہے ،دورِ جاہلیت میں اس کے وجودہی سے نفرت کی جاتی تھی ،اس کی ولادت پر مذمت وندامت کی جاتی تھی، قرآنِ نے اسے یوں بیان فرمایا :       {وَإِذَابُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ} (النحل :۵۸) اور جب ان میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے، او ردل ہی دل میں کڑھتارہتاہے۔
بعد میں ساری زندگی اس کا استعمال محض تکمیل شہوت یا ضرورت کے لیے ہوتا تھا، اُس کے ساتھ عموماًوہ سلوک کیا جاتا کہ انسان تو کیا شیطان بھی شرما جائے ،زمانۂ جاہلیت میں عورت کی حیثیت کیا تھی؟عورت کنیز بن کر دنیا میں جی رہی تھی خونِ جگر کے قطرے خاموش پی رہی تھی ایسے سنگین حالات میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت سمجھائی کہ عورت بالخصوص جب کہ وہ نیک ہو، قابل نفرت نہیں، بلکہ لائق محبت ہے، اور محبت قائم ہونے کا ذریعہ بھی،یہی وجہ ہے کہ میرے د ل میں اس کی محبت من جانب اللہ ڈالی گئی۔
عورت سے محبت کرنے کا صحیح طریقہ  :          اور حضورِاکرم   صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں یہ بھی سمجھایا کہ عورت کی مختلف حیثیتیں ہیں، لہٰذاہر حیثیت سے اس کے ساتھ محبت کا انداز،تقاضا اور طریقہ بھی مختلف ہوگا، مثلا:                       
 ۱-   عورت اگر ماں ہے، تو اس کی ہر ممکن خدمت اور جائز امور میں اس کی مکمل اطاعت کرنا یہ اس کی محبت کا تقاضا ہے۔
 ۲- عورت اگر بہن ہے، تو ایک مخلص بھائی کا پیار دے کر اس کے تمام حقوق کو پورا کرنا اس کی محبت کا تقاضا ہے ۔       ۳- عورت اگر بیوی ہے، تو شوہر کے لیے ادائے حقوق اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا یہ اس کی محبت کا تقاضا ہے.
   ۴-   عورت اگر بیٹی ہے، تو اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا خیال رکھنا یہ اس کی محبت کا  تقاضا ہے ۔کسی بزرگ کا مقولہ ہے کہ ’’بیٹی رحمت ہے اور بیٹا نعمت ہے، نعمت زائل ہو سکتی ہے، لیکن رحمت تو رحمت ہی رہتی ہے۔‘‘
 الغرض! حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے محبت بھی فرمائی اور امت کو اس سے محبت کرنے کا صحیح انداز اور طریقہ بھی سکھلایا۔
نماز آپ   صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کا محور و مرکز ہے  :        تیسری چیز کے بارے میں فرمایا ’’وَجُعِلَتْ قُرَّۃ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ‘‘  کہ نماز تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، کیوں کہ نماز رب العزت کی ملاقات، یاداور محبت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، قرآنِ پاک میں فرمایا: {وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ} (طٰہٰ :۱۴) اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے لبریز تھا، اس لیے وہ چیز جوبطورِ خاص اس کی  یاد اورمحبت حاصل کرنے کا ذریعہ تھی یعنی نماز، اسے آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتلایا۔         صاحب مظاہر حق نے فرمایا: ’’لفظ ِ’’قُرَّۃُ‘‘یہ’’قَرَّ‘‘ سے مشتق ہے ، جس کے معنی قرار و ثبات کے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ جب نگاہ کو محبوب کا دیدار نصیب ہوتا ہے تو نہ صرف نظر کو قرار ملتا ہے، بلکہ دل کو بھی سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے، جس طرح محبوب کا دیدار نہ ہونے سے نظریں پریشان اور دل بے قرار رہتا ہے، لہٰذا نگاہ اور دل کے اسی قرار کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قُرَّۃٌ‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ( مظاہر حق جدید:۶/۹۵).
بہر حال! نماز،نیک عورت اور خوشبو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت اور محبت کا مرکز ومحور ہے، لہٰذا   آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جو چیزیں آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کو پسند ہیں وہ ہمیں بھی پسند ہوں۔
خلفائِ اربعہؓ  کی پسند  :    یہ تین چیزیں وہ تھیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند کرائی گئیں ،جن کا ذکر اس حدیث میں ہوا۔ دوسری روایت میں ابن حجرؒ نے اپنی تصنیف ’’المنبہات‘‘ میں مزید تفصیل بیان فرمائی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پسندیدہ اشیا ء کاذکر فرمایا، تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے اجازت لے کرعرض کیا: حضور!مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں :           عرض کیا:
’’  اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهكَ،    وَإِنْفَاقُ مَالِیْ عَلٰی أَمْرِکَ ،   وَأَنْ تَکُوْنَ بِنْتِیْ فِیْ بَیْتِکَ ۔
۱-        آپ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھنادنیا وما فیہا سے زیادہ پسندیدہ ہے۔    
۲-        آپ کے منشا وحکم پر اپنا مال خرچ کرنا مجھے بڑا پسند ہے۔      
۳-       آپ کے نکاح میں اپنی بیٹی دینا بھی مجھے بہت پسندہے۔  
  صدیق اکبرؓ کے بعد سیدنا عمرؓ نے عرض کیا: حضور! مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں:    
          ’’اَلأَمْرُبِالْمَعْرُوْفِ، وَالنهىُ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَالثَّوْبُ الْخَلَقُ۔‘‘           
۱-        امر بالمعروف کرنا،حسنات و معروفات کی اشاعت کرنا مجھے بہت پسند ہے۔  
۲-                     نہی عن المنکر کرنا ،برائیوں کا خاتمہ کرنا مجھے بہت پسند ہے۔
 ۳ -                  پرانے (مگر پاک صاف) کپڑے پہننابھی مجھے بہت پسند ہے۔      
 پھر سیدنا عثمان غنی     ؓنے حضور صلی اللہ علیہ و سلم  کے سامنے اپنی تین پسندیدہ چیزیں پیش کیں:         
’’إِطْعَامُ الْجِیْعَانِ، وَکِسْوَۃ العُرْیَانِ، وَتِلَاوَۃ الْقُرْآنِ‘‘۔          
۱-        بھوکوں کو کھانا کھلانا پسند ہے۔           
۲-        ناداراورننگوں کو کپڑا پہناناپسند ہے ۔   
۳-       قرآن کریم کی تلاوت کرنابھی بہت پسند ہے۔    
یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ آخری وقت میں بھی حضرت عثمانؓ نے قرآن کو اور قرآنِ کریم نے حضرت عثمانؓ  کو  اپنے سینے سے لگا کریاری پکی کرلی اور آپؓ نے تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
اخیر میں سیدنا علی کرم اﷲ وجہہٗ نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنی تین پسندیدہ چیزیں عرض کیں:
’’اَلْخِدْمة لِلضَّیْفِ، وَالضَّرْبُ بِالسَّیْفِ، وَالصَّوْمُ فِی الصَّیْفِ‘‘۔
۱-        مہمانوں کی خدمت کرنابہت پسند ہے ۔
۲-        جہاد بالسیف، یعنی راہِ حق میں تلوار سے جہاد کرنا بہت پسند ہے۔       
۳-       شدیدگرمیوں میں روزے رکھنابھی بہت پسند ہے ۔         
شمع رسالت کے ان بے لوث پروانوں کی یہ پسندیدہ اشیاء محض زبانی جمع خرچ نہیں تھیں، بقولِ شاہ صاحب علامہ سید عبدالمجید ندیمؒیہ پسند صرف زبان و بیان کی حد تک محدود نہیں،بلکہ اُنہوں نے عملی زندگی میں بھی اس کا بھر پور مظاہرہ فرمایا، جو تاریخ کا زرین باب ہے۔
جبرئیل امین علیہ السلام اور رب العالمین کی پسند  : ابھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور ان جلیل القدر صحابہؓ کی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ سیدالملائکہ حضرت روح الامین تشریف لائے اور عرض کیا : ’’رب العالمین نے آپ تمام کی گفتگو سن کر مجھے بھیجا ،تاکہ میں اپنی اور رب العالمین کی پسند بتلائوں، میری پسند تو یہ ہے  
:إِرْشَادُ الضَّالِّیْنَ، وَ إِعَانةعِیَالِ الْمُعْسِرِیْنَ، وَمُؤَانَسة الْغُرَبَائِ  الْقَانِتِیْنَ‘‘۔                                                   ۱- (دنیوی اور دینی اعتبار سے) بھٹکے ہوؤں کو راہِ راست بتلانامجھے بہت پسند ہے ۔         
۲-   عیال دار،تنگ دست کی نصرت کرنا،جس کی جیب تو خالی ہو، مگر ضمیر محفوظ ہو، مجھے بہت پسندہے۔
 ۳-  عبادت گزار غریبوں سے محبت کرنا،یعنی باضمیر غریبوں سے دوستی کرنابھی مجھے بہت پسند ہے۔           
پھر فرمایا ! اﷲ پاک کو اپنے بندوں سے تین چیزیں بڑی پسند ہیں:
 بَذْلُ الْاِسْتِطَاعة، وَ الصَّبْرُ عِنْدَ الْفَاقة،  وَالْبُکَائُ عِنْدَالنَّدَامة‘‘۔       
۱-     بندہ کا اپنی طاقت و استطاعت کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنااللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔         
۲-    فاقہ کے وقت شکوہ کے بجائے صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔    
۳-    گناہوں پر ندامت کے ساتھ رونابھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔
ائمہ اربعہ کی پسند  :’’نزھۃ المجالس‘‘ میں علامہ عبدالرحمن صفویؒ نے فرمایا :’’جب یہ حدیث ائمۂ اربعہ کو پہنچی تو ہر ایک نے اپنی اپنی پسند بیان فرمائی، سب سے پہلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒالنعمانؒ نے اپنی پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-  طویل رات میں جاگ کر علم حاصل کرنا  مجھے بہت پسندہے۔
۲- تکبر ترک کرنا اور تواضع اختیار کرنا مجھے بہت پسندہے۔
۳-  وہ دل جو دنیا کی محبت سے خالی ہو اور اللہ کی محبت سے لبریز ہومجھے بہت پسندہے۔     
پھر حضرت امام مالک ؒ نے اپنی تین پسندیدہ اشیا ء بیان فرمائیں:
۱- روضۂ اقدس کا قرب مجھے بہت پسندہے ۔
۲-        آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک (مدینہ) سے چمٹے رہنا بھی مجھے بہت پسندہے۔
۳-       اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔          
 اس کے بعدحضرت امام شافعی ؒ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-         مخلوق کے ساتھ اخلاق سے پیش  آنا  مجھے بہت پسندہے۔
۲-        ترکِ تکلفات  اور سادگی سے زندگی گذارنامجھے بہت پسندہے۔
۳-       راہِ تصوف اختیار کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔     
اخیر میں حضرت امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-        اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  میری پہلی پسندہے۔
۲-                آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کے انوارات  و ارشادات سے برکت حاصل کرنا بھی مجھے بہت پسند ہے۔
۳-       آپ   صلی اللہ علیہ و سلم  کے نقش قدم پر چلنا مجھے بہت پسندہے۔ ( نزہۃ المجالس/ ص: ۹۹/ ج :۱)     
  سچ ہے:{ أُولٰئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ  ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (المجادلۃ:۲۲) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی جماعت اورگروہ ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والاہے۔‘‘اوریہ ہے ان کا وہ گلدستۂ محبت وہدایت جس کی خوشبو سے گلشن انسانیت مہکتا رہے گا۔یہ عاجز دست بستہ اپنے مولیٰ کے حضور عرض کرتاہے کہ’’الٰہی ! مجھے۱-توبۃً نصوحاً ۲-اپنی مکمل اصلاح ۳-اور دونوں جہان میں تیری رضا پسندہے، لہٰذا اپنی محبت نصیب فرماکر اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطافرما، آمین۔ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلِّھِمْ٭…٭…٭
بحوالہ گلدستہ حدیث:     ترتیب  اکبر حسین اورکزئی 

پیر، 10 ستمبر، 2018

ایک محرم ۔ یوم شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔آپ ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو جنت کی خوشخبری دی گئی۔آپ کے دور میں اسلامی مملکت 28 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔

نام و*نسب
آپ کا نام مبارک عمر ہے اور لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و*کنیت دونوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

ابتدائی زندگی
آپ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ میں پید ا ہوۓ اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے.

ہجرت
ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا.آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہممت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا
عمر ابن الخطاب ، رسول کريم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں
رسول کريم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمايا "اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔" [ جامع ترمذی، ج 2 ، ص 563
]

ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا "جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔" [صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880 ]

مزید ایک موقع پر فرمايا " اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کردیا ہے۔

واقعات
آپ ایک انصاف پسند حاکم تھے۔ یک مرتبہ آپ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔
ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پن بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیۓ صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جھاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔
جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے : 1-گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔ 2-عمدہ کھانا نہ کھانا۔ 3-باریک کپڑا نہ پہننا۔ 4-حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔ اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عادات
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے اور خود حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی جلالت کے معترف تھے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو فرمایا آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر اللہ رحمت بھیجے کوئی شخص مجھے تمہارے درمیان اس ڈھکے ہوئے آدمی (مراد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی میت سے تھی) سے زیادہ پسند نہیں کہ میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

شہادت
یکم محرم کو ایک ایرانی مجوسی غلام ابولولو فیروز نامی بدبخت نے آپ کو اس وقت شہید کردیا جب آپ نماز پڑھارہے تھے۔آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

اتوار، 2 ستمبر، 2018

میت کے گھرسے کھانہ کھانے کا حکم


الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام على رسوله الكربم وعلى اله وصحبه اجمعين . امابعد
میں بندہ ناچیز اکبر حسین اورکزئی اپ تمام معزز دوستوں کا شکر گزار ھوں کہ اپ حضرات نے اپنے مابین ایک مسلے پر بحث مباحثے کے بعد ہم ناچیز کو اس پر روشنی ڈالنے کا موقع فراہم کیا ؛ یقین جانئیے کہ سوشل میڈیا پر اگر ھم لایعنی بحث مباحثوں میں پڑنے کی بجائی اس طرح دینی مسائل ڈسکس کریں اور جو بات سمجھ نہ ائے علماء کی طرف رجوع کریں وثوق سے کہتا ھوں کہ ھمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی ائی گی ۔ علم حاصل کرنا ھر مسلمان پر فرض ھے؛ یعنی وہ علم جس کے لیے ھم اپنی زندگی میں کم از کم محتاج ہیں جس میں سب سے اول عقائد کو بنیادی حیثیت حاصل ھے ۔ درست اور صحیح عقیدہ قیامت میں ذریعہ نجات ھوگا ۔
محترم دوستو میں اس مسئلہ کی طرف اتا ھوں جو اصل موضوع تھا ؛ اس سلسلے میں میں فتاوی محمودیہ
سے سوال جواب اپ حضرات کے سامنے پیش کرتا ھوں و باللہ التوفیق ۔

سوال: جس گھر میں فوتگی ہو وہاں کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:جب کسی کی وفات هوجائے تو اس کے گهر والے چونکہ صدمہ  میں مبتلا ہوتے ہیں  اس لئے اہل  محله اور رشتہ دار اهل ” میت ” کا کهانا تیار کریں اور جو نماز جنازه میں شریک نہ ہوسکا وه جاکر تعزیت بهی کرسکتاہے .

لیکن میت کے گهر اجتماع اور اہل  میت کا لوگوں کے لئے کهانا تیار کرنا ایک بهت بڑا گناه ہے اور بہت  سے علاقے اس قبیح حرکت کا شکار ہو  کر مقروض ہوجاتے ہیں  اور بسا اوقات وه تو سود پر قرض لینے پر بهی مجبور ہوجاتے ہیں اس طرح سے وارثوں کا اور بطور خاص یتیموں کا مال برباد کیا جاتا ہے ۔
1: حضرت جریر رضی الله تعالی عنه المتوفی51 هجری ” فرماتے ہیں :
” کنا نری الاجتماع الی اهل المیت وصنعته الطعام من النیاحته “
* ابن ماجه ص117 ، مسند امام احمد ج2 ص204 *
ترجمه: ہم  یعنی حضرات صحابه کرام رضوان الله اجمعین میت کے گهر جمع ہونے کو اور میت کے گهر کهانا تیار کرنے کو نوحہ سمجهتے تهے.
2: مرفوع حدیث میں آیا هے که میت پر آواز کے ساتھ رونا ، بین اور نوحه کرنا اهل جاہلیت کا کام هے اور نوحه کرنا جمہور ر سلف وخلف کر نزدیک حرام ہے .” امام نووی شرح مسلم ج1 ص303 “
اسی طرح میت کے گهر کا کهانا بهی سمجها جائے یہ روایت دوطریق سے مروی هے.
علامه هیثیمی رحمه الله ایک سند کے متعلق لکهتے هیں که یه بخاری کی شرط پر صحیح هے اور دوسری کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ  مسلم کی شرط پر صحیح ہے . * کتاب ، مجمع الزوائد *
3: حضرت علامه ابن امیر الحاج المالکی رحمه الله ” المتوفی 737 ه ” لکهتے هیں که:
” اهل میت کا کهانا تیار کرنا اور لوگوں کا جمع  ہونا اس میں کوئی چیز(سنت سے) منقو ل نہیں  ہے بلکہ  یہ  بدعت غیر مستحب ہے   
بعض لوگوں نے یہ  بدعت نکالی ہے کہ  میت کے تیجہ  پر طعام تیار کرتے ہیں  اوریہ  ان کے نزدیک معمول بہ   کام بن گیا ہے. ” کتاب مدخل ج3 ص275
حضرت علامه محمد بن محمد مبنجی حنبلی رحمه الله ” المتوفی 777هجری ” تسلیته المصائب ص99 ” میں 
اور حضرت امام شمس الدین بن قدامه حنبلی رحمه الله ” المتوفی 682 هجری ” شرح منقنع للکبیر ج2 ص426 میں اور امام موفق الدین بن قدامه حنبلی المتوفی 620هجری ” لکهتے ہیں :

4: ” کہ  اہل  میت جو لوگوں کے لئے کهانا تیار کرتے ہیں  وه مکروه ہے کیونکہ  اس میں اهل میت کو مزید تکلیف اور شغل میں مبتلا کرنا ہے  نیز اس سے مشرکین اہل  جاہلیت  کے ساتھ مشابهت بهی پائی جاتی ہے  ” 
* کتاب المغنی ج2 ص413 

5: حضرت علامه ابن عابدین شامی رحمه الله لکهتے هیں:
مذهبنا ومذهب غیرنا کالشّافعیته والحنابلته …… همارا ( یعنی ہمارے  احناف کے نزدیک ) اور حضرات شوافع اور حضرات حنابله رحمه الله کا یهی مذہب ہے .
” ج1 ص841 “
6: حضرت امام نووی رحمه الله شرح منهاج میں لکهتے ہیں :

” الاجتماع علی مقبرته فی الیوم الثالث وتقسیم الورد والعود والطعام فی الایام المخصوصته کالثالث والخامس والتاسع والعاشر والعشرین والاربعین والشهر السادس والسنة بدعته ممنوعته “

قبر پر تیسرے دن اجمتاع کرنا اور گلاب اور اگر بتیاں تقسیم کرنا اور مخصوص دنوں کے اندر روٹی کهلانا ، مثلاَ ” تیجه ، پانچواں ، نواں ، دسواں ، بیسواں اور چالیسواں ” دن اور چهٹا مهینه اور سال کے بعد یه سب کے سب امور بدعت ممنوعه هے .
* بحواله انوار ساطعه ص105 *
7: اسی طرح سے حضرت ملا علی قاری رحمه الله نے لکهتے ہیں 
همارے مذهب ” حنفی ” کے حضرات فقهاء کرام نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ  میت کے پہلے  اور تیسرے دن اور اسی طرح ہفتہ  کے بعد طعام تیار کرنا مکروهہے .
* مرقاته شریف ج5 ص482 *
* فتاوی محمودیه *
حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوھی دیوبند
والله اعلم بالصواب

بدھ، 11 جولائی، 2018

شہید کسے کہتے ہیں

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على رسوله الكريم وعلى اله وصحبه اجمعين . اما بعد
شہید کے اقسام :
اس کی وضاحت کے لئے پہلے احادیث رسول ﷺ دیکھیں۔
(1) ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
ما تَعُدُّونَ الشَّہِیدَ فِیکُمْ؟
تُم لوگ اپنے(مرنے والوں ) میں سے کِسے شہید سمجھتے ہو ؟
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
یا رَسُولَ اللَّہِ من قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
اے اللہ کے رسول جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا جاتا ہے (ہم اُسے شہید سمجھتے ہیں )،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
انَّ شُہَدَاء َ اُمَّتِی اذًا لَقَلِیلٌ۔
اگر ایسا ہو تو پھر تو میری اُمت کے شہید بہت کم ہوں گے ۔
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا:
فَمَنْ ہُمْ یا رَسُولَ اللَّہِ؟
اے اللہ کے رسول تو پھر شہید(اور)کون ہیں؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
مَن قُتِلَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الطَّاعُونِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ مَاتَ فی الْبَطْنِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
"جو اللہ کی راہ میں قتل کِیا گیا وہ شہید ہے،اورجو اللہ کی راہ میں نکلا (اور کسی معرکہِ جِہاد میں شامل ہوئے بغیر مر گیا ، یا جو اللہ کے دِین کی کِسی بھی خِدمت کے لیے نکلا اور اُس دوران )مر گیا وہ بھی شہید ہے ، اور اور جو طاعون (کی بیماری )سے مر گیا وہ بھی شہید ہے، اورجو پیٹ (کی بیماری )سے مر گیا وہ بھی شہید ہے۔
قال بن مِقْسَمٍ اَشْہَدُ علی اَبِیکَ فی ہذا الحدیث اَنَّہُ قال ۔
عبید اللہ ابن مقسم نے یہ سُن کر سہیل کو جو اپنے والد سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ کے ذریعے روایت کر رہے تھے ، کہا ، میں اِس حدیث کی روایت میں تمہارے والد کی (اِس بات کی درستگی)پرگواہ ہوں اور اِس حدیث میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
"وَالْغَرِیق ُ شَہِیدٌ "
ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے۔
(2) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے دوسری روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
الشُّہَدَاء ُ خَمْسَۃٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِق ُ وَصَاحِبُ الْہَدْمِ وَالشَّہِیدُ فی سَبِیلِ اللَّہِ عز وجل۔
شہید پانچ ہیں : (1) مطعون، اور(2)پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، اور(3) ڈوب کر مرنے والا ، اور(4) ملبے میں دب کر مرنے والا، اور(5) اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔
(صحیح مُسلم /کتاب الامارۃ)​
ایک وضاحت اور شرح :​
امام ابن حَجر العسقلانی رحمہ اللہ نے ، فتح الباری / کتاب الطب / با ب مایذکر فی الطاعون ، میں'''المطعون '''کے بہت سے معنی مختلف عُلماء کی شرح کے حوالے سے ذِکر کیے ہیں جِس کا خلاصہ یہ ہے کہ '' المطعون''طاعون کے مریض کو بھی کہا جا سکتا ہے ، کِسی تیز دھار آلے سے زخمی ہونے والے کو بھی اور جِنّات کے حملے سے اندرونی طور پر زخمی ہونے والے کو بھی کہا جا سکتا ہے ، اس لیے ترجمے میں "مطعون "ہی لکھا گیا ہے۔
(3) جابر بن عُتیک رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فی سَبِیلِ اللَّہِ الْمَطْعُونُ شَہِیدٌ وَالْغَرِق ُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَہِیدٌ وَالْمَبْطُونُ شَہِیدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِیقِ شَہِیدٌ وَالَّذِی یَمُوتُ تَحْتَ الْہَدْمِ شَہِیدٌ وَالْمَرْاَۃُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شہیدۃٌ۔
اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے عِلاوہ سات شہید ہیں (1) مطعون شہید ہے(2) اور ڈوبنے والا شہید ہے(3)ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور (4)اورپیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، اور(5) جل کر مرنے والا شہید ہے، اور (6)ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے ، اور (7)حمل کی حالت میں مرنے والی عورت شہیدہ ہے .
(سنن ابو داؤد حدیث 3111/ کتاب الخراج و الامارۃ و الفي ,مؤطا مالک /کتاب الجنائز /باب 12) اِمام الالبانی رحمہ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے.
(4) راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ُ کی عیادت (بیمار پُرسی) کے لیے تشریف لائے تو اِرشاد فرمایا:
أَتَعلَمُونَ مَن الشَّھِیدُ مِن اُمتِی ۔
کیا تُم لوگ جانتے ہو کہ میری اُمت کے شہید کون کون ہیں ؟
عُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا "اے اللہ کے رسول (اللہ کی راہ میں مصیبت پر )صبر کرنے اور اجر و ثواب کا یقین رکھنے والا "
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
انَّ شُہَدَاء َ امتی اذاً لَقَلِیلٌ الْقَتْلُ فی سَبِیلِ اللَّہِ عز وجل شَہَادَۃٌ وَالطَّاعُونُ شَہَادَۃٌ وَالْغَرَقُ شَہَادَۃٌ وَالْبَطْنُ شَہَادَۃٌ وَالنُّفَسَاء ُ یَجُرُّہَا وَلَدُہَا بِسُرَرِہِ إلی الْجَنَّۃِ والحَرق ُ و السِّلُّ ۔
اِس طرح تو میری اُمت کے شہید بہت کم ہوں گے(1)اللہ عز وجل کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے اور(2)طاعون (کی موت ) اورشہادت ہے اور (3) ڈوبنا (یعنی پانی میں ڈوبنے سے موت واقع ہونا ) شہادت ہے اور(4) پیٹ (کی بیماری) شہادت ہے اور (5) ولادت کے بعد نفاس کی حالت میں مرنے والی کو اُسکی وہ اولاد (جِس کی ولادت ہوئی اور اِس ولادت کی وجہ سے وہ مر گئی) اپنی کٹی ہوئی ناف سے جنّت میں کھینچ لے جاتی ہے ، اور(6)جلنا (یعنی جلنے کی وجہ سے موت ہونا)اور(7)سل (یعنی سل کی بیماری کی وجہ سے موت ہونا شہادت ہے۔
(مُسند احمد / حدیث راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ ُ ، مُسند الطیالیسی، حدیث 586) ، اِمام الالبانی رحمہ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے۔
''سل ''کی بھی مختلف شرح ملتی ہیں ، جنکا حاصل یہ ہے کہ ''' سل''' پھیپھڑوں کی بیماری ہے ۔
(5) عبداللہ ابن عَمرورضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
(مَن قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ ۔)
جِسے اُس کے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے۔ صحیح البخاری حدیث 2348 و صحیح مُسلم حدیث 141​
(6) سعید بن زید رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:

مَن قُتِلَ دُونَ مَالِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ اَھلِہِ او دُونَ دَمِہِ او دُونَ دِینِہِ فَہُوَ شَہِیدٌ۔
(1) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور(2) جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور(3) جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا وہ شہید ہے اور(4)اپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا ہو شہید ہے۔
(سنن النسائی،حدیث 4106،سنن ابو داؤد حدیث4772) اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دِیا ہے ۔
مذکورہ بالااحادیث کی روشنی میں شہید کی مندرجہ ذیل اقسام سامنے آتی ہیں۔
(1) اللہ کی راہ میں قتل کیا جانے والا ، یعنی شہیدِ معرکہ اور مسلمانوں کے یقینی اجماع کے مطابق یہ افضل ترین شہادت ہے۔
(2) اللہ کی راہ میں مرنے والا ، یعنی جو اللہ کی راہ میں نکلا اور موت واقع ہو گئی مثلاً غازی ، مہاجر ، وغیرہ ، سورت النساء(4)/ آیت 100۔
(3) مطعون ، طاعون کی بیماری سے مرنے والا ۔
(4) پیٹ کی بیماری سے مرنے والا۔
(5) ڈوب کر مرنے والا۔
(6) ملبے میں دب کر مرنے والا ،۔
(7) ذات الجنب سے مرنے والا ،(ذات الجنب وہ بیماری جِس میں عموماً پیٹ کے پُھلاؤ ، اپھراؤ کی وجہ سے ، یا کبھی کسی اور سبب سے پسلیوں کی اندرونی اطراف میں ورم (سوجن)ہو جاتی ہے جو موت کا سبب بنتی ہے )۔
(8) آگ سے جل کر مرنے والا ۔
(9)حمل کی وجہ سے مرنے والی ایسی عورت جس کے پیٹ میں بچہ بن چکا ہو۔
(10)ولادت کے بعد ولادت کی تکلیف سے مرنے والی عورت۔
(11)پھیپھڑوں کی بیماری (سل) کی وجہ سے مرنے والا ۔
(12) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
(13)جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا ۔
(14)جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کِیا گیا۔
(15)جواپنے دِین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا ۔
اِن کے علاوہ کسی بھی اور طرح سے مرنے والے کے لیے اللہ اوراُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کوئی ایسی خبر نہیں ملتی کہ اُسے شہیدسمجھا جائے ۔
والله اعلم وصلي الله على نبينا محمد وعلى اله وصحبه اجمعين . 

جمعہ، 15 جون، 2018

بائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنے کی تحقیق



قرآن و حدیث میں ذکر وتسبیح کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
"ذکر اللہ " کے لغوی مفہوم میں اگرچہ کافی عموم ہے۔ نمازوغیرہ کو بھی یہ شامل ہے۔ لیکن اس کا اصطلاحی اطلاق  تسبیح وتہلیل وغیرہ پر زیادہ ہے۔
اذکار وتسبیح   کے شمار کرنے میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک انگلیوں کے پوروں پہ گننا ثابت و مروی ہے۔

(۱) عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح - قال ابن قدامة - بیمینہ ․ (سنن ابی داود، ابواب الوتر، باب التسبیح بالحصی ۱/۲۱۰ وسکت عنہ ابوداود، ونقل المنذری تحسین الترمذی واقرہ واخرجہ الترمذی وفی روایتہ: بیدہ، واخرجہ ابن حبان ایضا بلفظ بیدہ)
”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا، کہ آپ تسبیح شمار فرمارہے تھے - اس سند کے امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے شیخ ثانی ابن قدامہ نے اس روایت میں ”بیمینہ“ (دائیں ہاتھ مبارک سے) کا اضافہ نقل کیا ہے۔جس کے معنی یہ ہوں گے کہ آپ اپنے دائیں دست مبارک سے تسبیح شمار فرمارہے تھے۔“

2۔۔عن یسیرة وکانت من المہاجرات قالت: قال لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: علیکن بالتسبیح والتہلیل والتقدیس واعقدن بالانامل فانہن مسئولات مستنطقات ولا تغفلن فتنسین الرحمة․ قال الترمذی: ہذا حدیث انما نعرفہ من حدیث ہانی بن عثمان ․ (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، احادیث شتّی ۲/۱۹۹ سنن ابی داود، کتاب الصلاة، ابواب الوتر، باب التسبیح بالحصی ۱/۲۱۰ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ۲/۱۰۳ حدیث: ۸۳۹، مسند احمد ۶/۴۰۲ حدیث: ۲۷۱۵۴، وحسّنہ النووی فی ”الاذکار“ ص:۲۲ وابن حجر فی ”نتائج الافکار“ ۱/۸۴)
”حضرت یسیرہ (بنت یاسر) رضی اللہ عنہا سے جو مہاجرات میں سے ہیں، روایت ہے، کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ہم سے ارشاد فرمایا، کہ تم تسبیح (سبحان اللہ کہنا)، تہلیل (لا الہ الا اللہ کہنا)، اور تقدیس  کو لازم پکڑو، اور ان کو انگلیوں کے پوروں سے شمار کرو، اس لیے کہ (دیگر اعضاء کی طرح) پوروں سے بھی (قیامت کے دن ان سے کیے گئے اعمال کے بارے میں) سوال کیا جائے گا، اور ان میں گویائی پیدا کرکے ان کو بُلوایا جائے گا۔ اور ذکر سے غافل مت ہوؤ یعنی ذکر کو مت چھوڑو، ورنہ تم رحمت کو یعنی سبب رحمت کو چھوڑنے والی ہوں گی۔“

ان دونوں حدیثوں میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا *قول اور عمل* انگلیوں کے پوروں پہ تسبیحات شمار کرنے کا ہونا مصرح ہے۔وہیں اس سلسلے میں کسی مخصوص ہاتھ کے پوروں کی تعیین وتحدید بھی نہیں کی گئی ۔بلکہ اس کے طریقے وکیفیت کے سلسلے میں یک گونہ آزادی دی گئی ہے۔اور اس  جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ اس عمل خیر میں ہاتھ کے زیادہ سے زیادہ پوروے شریک ہوں تاکہ روز قیامت گواہی دے سکیں ۔
اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں متعدد صحابہ وامہات المومنین نے کنکریوں اور کھجور کی گٹھیوں پر بھی تسبیحات شمار کی ہیں۔جنہیں آپ نے دیکھا اور کچھ نکیر کئے بغیر اسے برقرار رکھا۔مثلا :

عن سعد بن ابي وقاص انہ دخل مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم علٰی امرأة وبین یدیہا نوی اوحصی تُسبِّحُ بہا، فقال: (الا) اخبرک بما ہو ایسر علیک من ہذا او افضل، فقال: سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی السماء وسبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی الارض وسبحان اللّٰہ عدد ما خلق بین ذلک وسبحان اللّٰہ عدد ما ہو خالق، واللّٰہ اکبر مثل ذلک، والحمد للّٰہ مثل ذلک، ولا الہ الا اللّٰہ مثل ذلک، ولا حول ولاقوة الا باللّٰہ مثل ذلک․ (سنن ابی داود، ابواب الوتر، باب التسبیح بالحصی ۱/۲۱۰، جامع ترمذی، احادیث شتّی من ابواب الدعوات وقال الترمذی: حسن غریب ۲/۱۹۷، واخرجہ ابن حبان: الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ۲/۱۰۱ حدیث: ۸۳۵ والحاکم وقال الحاکم: صحیح الاسناد ووافقہ الذہبی: المستدرک للحاکم ج:۱، ص:۵۴۷، ۵۴۸، والطبرانی فی الدعاء ۳/۱۵۸۴ حدیث: ۱۷۳۸)

”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی معیت میں ایک خاتون کے پاس پہنچے ( ام المومنین )دراں حالیکہ اس خاتون کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں یا سنگریزے تھے، وہ ان گٹھلیوں یا کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میں تم کو وہ نہ بتادوں،جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا فرمایا کہ اس سے افضل ہے، پھر آپ نے فرمایا: (کہ تم اس طرح کہو:) سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی السماء و سبحان اللّٰہ عدد ما خلق فی الارض وسبحان اللّٰہ عدد ما بین ذلک و سبحان اللّٰہ عدد ما ہو خالق اللّٰہ أكبر عدد ما ہو خالق .  (اللہ اکبر عدد ما خلق فی السماء واللہ اکبر عدد ما خلق فی الارض ․․․) الحمد للہ اسی طرح، لا الہ الا اللہ اسی طرح اور لاحول و لاقوة الا باللہ اسی طرح۔“
(۲)   وعن حفصة قالت
دخل علیّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وبین یدی اربعة آلاف نواة اسبح بہا (بہن) قال: لقد سبّحت بہذہ، الا اعلمک باکثر ممّا سبحت بہ فقلت: بلی علمنی فقال: قولی: سبحان اللّٰہ عدد خلقہ․ (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب بلا ترجمة قبیل احادیث شتّی من ابواب الدعوات، وقال الترمذی: ہذا حدیث غریب لانعرفہ من حدیث صفیة الا من ہذا الوجہ من حدیث ہاشم بن سعید الکوفی ولیس اسنادہ بمعروف ۲/۱۹۵ و اخرجہ الحاکم فی المستدرک ۱/۵۴۷ وقال: ہذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ، ووافقہ الذہبی)
”حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، دراں حالیکہ میرے سامنے کھجور کی چار ہزار گٹھلیاں تھیں، جن کے ذریعہ میں تسبیح پڑھ رہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ان کے ذریعہ جتنی تسبیح پڑھی، میں اس سے زیادہ تم کو نہ بتلاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! مجھے سکھائیے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: تم کہو: سبحان اللہ عدد خلقہ“۔
ان دونوں روایتوں سے ثابت ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کو کنکروں اور گٹھلیوں پر بھی تسبیح پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے۔اس سلسلے کی مزید روایات و آثار کے لئے  ”سنن ابی دائود“ ”باب التسبیح بالحصی“ (سنن ابی داود، ابواب الوتر ۱/۲۱۰)
اور  ”نیل الاوطار“  للشوکانی ”باب جواز عقد التسبیح بالید وعدّہ بالنوی ونحوہ“ (نیل الاوطار ۲/۳۱۶) کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔(ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ10-11، جلد: 91 ‏، رمضان-ذی قعد 1428 ہجری مطابق اکتوبر -نومبر2007ء)

دور جدید کے دھاگے دار تسبیح کے دانوں پر اذکار شمار کرنے کے جواز کی دلیل بھی یہی روایت ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ"مجموع فتاوی، جلد۔٢٢ص -٥٠٦- لکھتے ہیں :

وعد التسبيح بالأصابع سنة كما قال النبي صلى الله عليه وسلم للنساء‏:‏ ‏"‏سبحن واعقدن بالأصابع فإنهن مسؤولات مستنطقات‏"‏‏.‏ وأما عده بالنوى والحصى ونحو ذلك، فحسن‏.‏ وكان من الصحابة رضي الله عنهم من يفعل ذلك، وقد رأى النبي صلى الله عليه وسلم أم المؤمنين تسبح بالحصى، وأقرها على ذلك، وروي أن أبا هريرة كان يسبح به‏.‏
وأما التسبيح بما يجعل في نظام من الخرز، ونحوه، فمن الناس من كرهه، ومنهم من لم يكرهه، وإذا أحسنت فيه النية، فهو حسن غير مكروه، وأما اتخاذه من غير حاجة، أو إظهاره للناس مثل تعليقة في العنق، أو جعله كالسوار في اليد، أو نحو ذلك فهذا إما رياء للناس، أو مظنة المراءاة ومشابهة المرائين من غير حاجة‏.‏ الأول محرم، والثاني أقل أحواله الكراهة؛ فإن مراءاة الناس في العبادات المختصة كالصلاة والصيام والذكر وقراءة القرآن من أعظم الذنوب۔"

 انگلیوں پر تسبیح پڑھنا سنت ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے کہا تھا کہ اپنی انگلیوں پر تسبیح پڑھو کیونکہ ان انگلیوں سے بھی قیامت کے دن سوال ہو گا اور یہ کلام کریں گی۔ جہاں تک تسبیح کو گھٹلی یا کنکری وغیرہ پر پڑھنے کا تعلق ہے تو یہ بھی بہتر ہے کیونکہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایسا کرنا مروی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین کو کنکریوں پر تسبیح پڑھتے دیکھا تو اس سے روکا نہیں۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ بھی کنکریوں پر تسبیح پڑھتے تھے۔
جہاں تک اس تسبیح کا تعلق ہے جو ایک دھاگے میں پرو کر تیار ہوتی ہے تو بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں اور بعض مکروہ نہیں سمجھتے ہیں۔ پس اگر تیری نیت اچھی ہو ( مثلا ہر وقت اپنی زبان کو ذکر سے تر رکھنا وغیرہ کی عادت ڈالنا ) تو ایسا کرنا بہتر ہے اور اس میں کراہت نہیں ہے۔ اور اگر ایسا بغیر کسی وجہ کے کیا جائے یا لوگوں کو دکھلانے کے لیے ہو کہ اس تسبیح کو گردن میں لٹکا لے یا ہاتھ میں گنگن کی طرح لپیٹ لے وغیرہ تو یہ عمل یا تو ریاکاری کے سبب سے کیا جاتا ہے یا ریاکاری اور ریاکاروں سے مشابہت کی صورت ہے۔ پہلی صورت یعنی ریاکاری کے لیے تسبیح پکڑنا حرام ہے جبکہ دوسری صورت یعنی ریاکاری یا ریاکاروں کے عمل سے مشابہت کا کم تر درجہ بھی کراہت ہے۔ مخصوص عبادات مثلا نماز، روزہ، ذکر اور تلاوت قرآن وغیرہ میں دکھلاوا کرنا عظیم ترین گناہوں میں سے ہے۔

 علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
والحدیثان الاخران (حدیث سعد بن ابی وقاص الذی اخرجہ ابوداود والترمذی وغیرہما وحدیث صفیة الذی اخرجہ الترمذی والحاکم وصححہ السیوطی) یدلاّن علٰی جواز عدّ التسبیح بالنوی والحصی وکذا بالسبحة لعدم الفارق لتقریرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم للمرأتین علٰی ذلک وعدم انکارہ․ (نیل الاوطار ۲/۳۱۶)
تحفة الأحوذي   میں ہے :
ویدلّ علٰی جواز عدّ التسبیح بالنوی والحصی حدیث سعد بن ابی وقاص․․․ وحدیث صفیة ․․․ (تحفة الاحوذی بشرح جامع الترمذی ۹/۳۲۲)

وفیہ دلیل علٰی جواز عدّ التسبیح بالنوی والحصی وکذا بالسبحة لعدم الفارق لتقریرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم للمرأة علٰی ذلک وعدم انکارہ ․․․ (تحفة الاحوذی ۱۰/۱۲)
ہکذا فی بذل المجہود شرح سنن ابی داود“ ۶/۲۲۹ دارالبشائر الاسلامیہ)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الروایات فی التسبیح بالنوی والحصی کثیرة عن الصحابة وبعض امہات الموٴمنین؛ بل رآہا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم واقرہا․ (مجموعة رسائل اللکنوی ۱/۱۳۲۔بحوالہ مولانا مفتی عمر لوہاروی صاحب یو کے ۔ماہنامہ دارالعلوم دیوبند  )
یعنی باتفاق جمہور علماء کرام دھاگہ دار تسبیح پر اذکار شمار کرنا بھی اگرچہ جائز ہے لیکن جیساکہ حدیث سے واضح ہوا کہ انگلیوں کے پوروں پہ شمار کرنا زیادہ اولی وبہتر ہے ۔

پہر اوپر کی  جس حدیث میں یہ آیا ہے کہ "اے خواتین ! انگلیوں کے پوروں سے تسبیحات کو شمار کرو کہ ان سے بھی پوچھ ہوگی اور ان کو بھی گویائی عطا کی جائےگی"۔
اس ارشاد میں آپ ﷺ نے دائیں اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں کوئی فرق نہیں فرمایا ہے، البتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كان يُحِبُّ التَّيامُنَ ما استطاع: في طُهورِه وتنَعُّلِه وترَجُّلِه قال شُعبةُ: ثمَّ سمِعْتُ الأشعثَ بواسِطَ يقولُ: ( يُحِبُّ التَّيامُنَ - وذكَر شأنَه كلَّه ثمَّ قال: - شهِدْتُه بالكوفةِ يقولُ: يُحِبُّ التَّيامُنَ ما استطاع .
الراوي: عائشة المحدث: ابن حبان - المصدر: صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 1091
خلاصة حكم المحدث: أخرجه في صحيحه
"آپ ﷺ وضو، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ دائیں طرف سے ابتداء کی جائے"۔
اس لئے  دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیح پڑھنا بہتر اور اولی ہے۔پہلے دائیں ہاتھ پہ پڑھے۔ضرورت پڑنے پر  پھر بائیں ہاتھ کی انگلیوں پر بھی تسبیح پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔
کیونکہ بائیں ہاتھ کو عربی میں
"اليسرى " کہتے ہیں ۔
جس کے معنی ہی سہولت اور آسانی کے آتےہیں ۔اسی لئے مالداری کو "یسار " کہتے ہیں۔تو بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ میں تسبیح وغیرہ گننے میں مددگار اور سہولت کار ہونے کی وجہ سے "الیسری " کہا جاتا ہے۔
امام رازی لکھتے ہیں :
[اليسر في اللغة معناه: السهولة؛ ومنه يقال للغنى والسعة: اليسار؛ لأنه يسهل به الأمور، واليد اليسرى قيل: تلي الفعال باليسر، وقيل: إنه يتسهل الأمر بمعونتها اليمنى۔ اهـ."مفاتيح الغيب" (5/258، ط. دار إحياء التراث العربي)

امام قرطبی بھی اپنی تفسیر میں یہی لکھتے ہیں ۔
 [سميت اليد اليسرى تفاؤلا، أو لأنه يسهل له الأمر بمعاونتها لليمنى] اهـ. القرطبي في "تفسيره" (2/301، ط. دار الكتب المصرية)

افضل الذکر قرآن کریم کی تلاوت ہے ۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور تابعین نے اس افضل الذکر کو بائیں ہاتھ سے شمار فرمایا ہے ۔ملاحظہ ہو :
حافظ ابو عمرو دانی اپنی کتاب: البیان فی عد آي القرآن  میں روایت نقل کرتے ہیں :
: «أَن النَّبِي صلى الله عليه وآله وسلم كَانَ يعد ﴿بِسم الله الرَّحْمَن الرَّحِيم﴾ آيَةً فاصلة، ﴿الْحَمد لله رب الْعَالمين الرَّحْمَن الرَّحِيم مَالك يَوْم الدّين﴾ وَكَذَلِكَ كَانَ يَقْرؤها،
﴿إياك نعْبد وَإِيَّاك نستعين اهدنا الصِّرَاط الْمُسْتَقيم﴾ إِلَى آخرهَا سبع، وَعقد بِيَدِهِ الْيُسْرَى وَجمع بكفيه».وأخرج أيضًا عَن التابعيِّ الجليل ابْن سِيرِين:
"أَنه كَانَ يعد الْآي فِي الصَّلَاة بِشمَالِهِ".

وأخرج عَن التابِعيَّيْن الجليلين طَاوُوس وَمُحَمّد بن سِيرِين: "أَنَّهُمَا كَانَا لَا يريان بَأْسًا بِعقد الْآي فِي الصَّلَاة، وَكَانَ
ابْن سِيرِين يعْقد بِشمَالِهِ".

وأخرج عن إِبْرَاهِيم بن سعد عَن أَبِيه: "أنه رأى عُرْوَة بن الزبير رضي الله عنه يعْقد الآي بيساره فِي الصَّلَاة".۔۔۔۔
الحافظ أبو عمرو الداني في كتابه "البيان في عدّ آي القرآن" (ص: 66، ط. مركز المخطوطات والتراث۔ بَاب ذكر من رأى العقد باليسار،
(شیخ مصراوی کے پیج سے )

جب دوران نماز قرآنی آیات بائیں ہاتھ سے شمار کی جاسکتی ہیں تو خارج نماز تسبیحات بائیں ہاتھ سے شمار کرنے میں کون سی قباحت ہے ؟؟؟
آخر یہ بھی تو قابل غور ہے کہ رکوع میں ،سجدے میں جاتے اور اٹھتے ہوئے۔رفع یدین میں ۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے میں ، معوذتین پڑھ کر بدن پر پہونک مارنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دونوں ہاتھ کا استعمال فرمایا ہے تو تسبیحات شمار کرنے میں دونوں ہاتھ استعمال کیوں نہ ہوں؟ ؟
اگر تسبیح شمار کرنے کے لئےبائیں ہاتھ میں کوئی خرابی ہے تو ان مذکورہ جگہوں میں یہ خرابی کیوں نہیں ؟؟؟

 حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ فَلَمَّا ثَقُلَ كُنْتُ أَنْفِثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَمْسَحُ بِيَدِ نَفْسِهِ لِبَرَكَتِهَا فَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ كَيْفَ يَنْفِثُ قَالَ كَانَ يَنْفِثُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ
صحيح البخاري5403
بَاب الرُّقَى بِالْقُرْآنِ وَالْمُعَوِّذَاتِ

 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ أَطْرَافٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ
صحيح مسلم 491

عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء: چہرہ ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں“۔
صحیح مسلم/الصلاة ۴۴ (۴۹۱)، سنن الترمذی/الصلاة ۹۱ (۲۷۲)، سنن النسائی/التطبیق ۴۱ (۱۰۹۵)، ۴۶ (۱۱۰۰)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ۱۹ (۸۸۵)، (تحفة الأشراف: ۵۱۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۰۶) (صحیح)

دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے تسبیح واذکار شمار کی جاسکتی ہیں۔شرعا کوئی حرج نہیں ۔
والله أعلم بالصواب
شكيل منصور القاسمي
مركز البحوث الإسلامية العالمي
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا مسنون ہے، ایک حدیث میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑتھے تھے، نیز حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے کاموں کے لیے داہنے ہاتھ کا استعمال فرماتے تھے ، لہذا دائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا بہتر ہوگا،تاہم بائیں ہاتھ سے بھی تسبیح پڑھنا ناجائز نہیں ہے۔ قال النووي: روینا في سنن أبي داوٴد والترمذي وفي سنن النسائي باسناد حسن عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہماقال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح۔ وفي روایة: بیمینہ۔ ( الأذکار للنووي: ۱/۱۸، تحقیق: عبد القادر الأرنوٴوط، ط: دار الفکر، بیروت )وقال العیني: عن عبد اللّٰہ بن عمرو قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعقد التسبیح۔ قال ابن قدامة: بیمینہ۔ ( شرح أبي داوٴد للعیني:۵/۴۱۳، کتاب الصلاة، باب التسبیح بالحصی، ط:مکتبة الرشد، الریاض ) و عن عائشة رضي اللّٰہ عنہا قالت: کانت ید رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الیمنی لطہورہ و طعامہ، وکانت ید الیسری لخلائہ وما کان من الأذی۔ ( أبو داوٴد، ص: ۵، ط: مکتبہ، بلال، دیوبند ) فتاوی دار العلوم (۱۷/۱۰۵، ذکر و دعا کا بیان ) میں ہے: سوال: بائیں ہاتھ سے تسبیح کا پڑھنا روا ہے یا نہیں؟ الجواب: بہتر داہنا ہاتھ ہے۔ 

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،د ارالعلوم دیوبند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



بسم الله الرحمن الرحيم
اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
ذِکْرِ اِلٰھِی کے لئے تسبیح یا بائیں ہاتھ کا استعمال
متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں بعض اذکار گنتی کے ساتھ بھی مطلوب ہیں اور یہ تعداد مختلف طریقوں سے پوری کی جاسکتی ہے، مثلاً صرف دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے، دونوں ہاتھ کی انگلیوں سے، کنکریوں سے، کھجور یا کسی اور چیز کی گٹھلی سے یا اسی طرح تسبیح کے ذریعہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   نے ذکر کے لئے گنتی کرنے کا کوئی خاص طریقہ معین نہیں فرمایا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   اپنے مبارک ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (ترمذی ۳۴۱۱ اور ۳۴۸۶، نسائی۸۱۹ اور ۱۲۷۸، ابن ماجہ، ابوداود۵۰۶۵، مسند احمد ۲/۲۰۴، بیہقی، صحیح ابن حبان، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، بزار، الادب المفرد للبخاری۱۲۱۶) اس حدیث میں دائیں یا بائیں ہاتھ کی تعیین کے بغیر بیان کیا گیا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلم   اپنے ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ البتہ ابو داود کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے داہنے ہاتھ پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ یہ حدیث ایک سند کے علاوہ باقی تمام سندوں سے دائیں (یمین) لفظ کے بغیر وارد ہوئی ہے۔ اس لئے اکثر محدثین نے دائیں لفظ کے اضافہ کوشاذ تسلیم کیا ہے، یعنی دائیں (یمین) کا لفظ راوی (محمد بن قدامہؒ ) کی طرف سے بڑھایا ہوا ہے۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے صحابہ کرام کا مختلف چیزوں پر گنتی کرکے ذکر کرنااحادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زندگی میں ایک مرتبہ بھی کسی صحابی کو انگلیوں کے علاوہ کسی اور چیز پر گنتی کرکے ذکر کرنے سے نہیں روکا ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   سے دائیں یا بائیں ہاتھ کی تحدید کے بغیر ہاتھ پر تسبیح پڑھنا ثابت ہے، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کو اپنے ہاتھ مبارک کی انگلیوں پر تسبیح شمار کرتے دیکھا۔ (ترمذی، باب ما جاء فی عقد التسبیح بالید(آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں کو دائیں یا بائیں ہاتھ کی تحدید کے بغیر انگلیوں پر تسبیح پڑھنے کا حکم دیا۔ (ترمذی، باب فی فضل التسبیح(ام المؤمنین حضرت صفیہ بنت حییؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   میرے پاس تشریف لائے ، میرے پاس چار ہزار کھجور کی گٹھلیاں رکھی ہوئی تھیں جن پر میں تسبیح پڑھا کرتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ارشاد فرمایا : حیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: ان گٹھلیوں پر میں تسبیح پڑھ رہی ہوں۔ (ترمذی ۴/۲۷۴ ۳۵۵۴، رواہ الحاکم فی المستدرک ۱/۷۳۲ وقال ہذا حدیث صحیح، ووافقہ الذھبی ۱/۵۴۷(حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ایک صحابیہ کے پاس گیا جن کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی ہوئی تھیں جن پر وہ تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔ (ترمذی ۵/۵۶۲ ۳۵۶۸، ابوداود ۔ باب التسبیح بالحصی ۱۵۰۰(حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ (ترمذی ۸/۷۱، مسند احمد ۲/۵۴۰، ابوداود ، مصنف ابن ابی شیبہ ۲/۱۶۰ ) * حضرت جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا گٹھلیوں پر تسبیح پڑھا کرتی تھیں۔ (مسند احمد، ابو داود(تسبیح کے متعلق علماء کرام کے اقوال:متعدد احادیث صحیحہ کی روشنی میں جمہور محدثین، فقہاء اور علماء کرام کی رائے یہی ہے کہ اذکار کی گنتی کے لئے انگلیوں کے علاوہ کھجور یا کسی اور چیز کی گٹھلی یا کنکری یا تسبیح کا استعمال کیا جاسکتا ہے، اگرچہ انگلیوں کا استعمال زیادہ بہتر ہے، کیونکہ یہ چیزیں مقصود عبادت نہیں ہیں بلکہ عبادت کا ذریعہ ہیں، مثلاً مساجد میں اسپیکر کا استعمال عبادت مقصودہ نہیں ہے بلکہ عبادت کے ایک جزء کے اداکرنے کا ذریعہ ہے، لہذا مساجد میں اسپیکر کے استعمال کی طرح تسبیح کا استعمال بھی بدعت نہیں ہے۔ ہند وپاک اور بنگلادیش کے جمہور علماء کرام بھی (جو قرآن وسنت کی روشنی میں امام ابو حنیفہ ؒ کی رائے کو اختیار کرتے ہیں) یہی فرماتے ہیں کہ تسبیح پر بھی ذکر کیا جاسکتا ہے۔ مشہور مفسر قرآن شیخ جلال الدین سیوطی مصری شافعی(متوفی ۹۱۱ھ)نے اپنی کتاب "المنحۃ فی السبحۃ" میں دلائل کے ساتھ تسبیح پر ذکر کرنے کے جواز پر جمہور علماء کاموقف تحریر فرمایا ہے۔
سعودی عرب کے مشہور ومعروف عالم دین وسابق مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز ؒ نے بھی یہی وضاحت کی ہے جو ان کی ویب سائٹ پر اس لنک کے ذریعہ پڑھی اور سنی جاسکتی ہے:

خلاصۂ کلام: مذکورہ احادیث صحیحہ وفقہاء وعلماء کرام کے اقوال کی روشنی میں ذکر الہی کے لئے صرف داہنا ہاتھ یا دونوں ہاتھ یا تسبیح وغیرہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے اقوال وافعال کی روشنی میں برصغیر کے علماء کا بھی یہی موقف ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص دونوں ہاتھ یا تسبیح کے ذریعہ ذکر کرتا ہے تو کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِس عمل کو بدعت کہے یا اُس شخص کو اُس کے عمل سے روکنے کی کوشش کرے، کیونکہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم  نے کنکری یا گٹھلی وغیرہ پر صحابہ کرام یا صحابیات کو ذکر کرنے سے کبھی نہیں روکا، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  یا کسی صحابی یا تابعی یا تبع تابعی سے بائیں ہاتھ پر ذکر کرنے سے کوئی انکار حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ملتا، تو ہمیں کیا حق حاصل ہے کہ ہم کسی شخص کو بائیں ہاتھ پر یا تسبیح پر ذکر کرنے سے روکیں۔ اگر ذکر کرنے کے لئے صرف دائیں ہاتھ پر ہی اکتفاء ضروری ہے تو قرآن کریم کو چھونے، اس کی طباعت اور جلدسازی کے لئے، اسی طرح بیت اللہ کا غلاف تیار کرنے اور اس کو بیت اللہ پر چڑھانے ، نیز مسجد کی تعمیر اور جانماز وغیرہ کو تیار کرنے میں صرف داہنے ہاتھ کے استعمال پر ہی اکتفاء کرنا ہوگا، اور ظاہر ہے کہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، لہٰذا ہم دونوں ہاتھ، اسی طرح تسبیح پر بھی ذکر کرسکتے ہیں۔
محمد نجیب سنبھلی قاسمی