جمعرات، 11 اکتوبر، 2018

ختم نبوت


سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں

الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمداً عبده ورسوله اما بعد .
”اللہ تعالیٰ نے دین کی ترویج و تقسیم کا کام آدم علیہ السلام سے شروع کیا اور بالآخر سیدالمرسلین خاتم النّبیین  صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ زریں سلسلہ مکمل و ختم فرمادیا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم وہی دین لے کر آئے جو دیگر انبیاء کرام لے کر آئے تھے جو ابتدا آفرینش سے تمام رسولوں کا دین تھا اسی دین کو تمام آمیزیشوں سے پاک کرکے اس کی اصل خالص صورت میں پیش کیا اب خدا کا حکم اس کا دین اس کا قانون وہ ہے جو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی خداکی نافرمانی ہے کلمہ طیبہ کی استدلالی و منطقی توجیہ یہ ہے کہ اس میں پہلے تمام خداؤں کا انکار پھر ایک خدائے وحدہ لاشریک لہ کا اقرار ہے اسی طرح تمام انبیاء کی سابقہ شریعتوں و طریقوں پر عمل کرنے کا انکار ہے (اس لئے کہ تمام شریعتیں شریعت محمدی  صلی اللہ علیہ وسلم میں سموگئی ہیں) اور صرف اسوئہ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کا اقرار ہے۔
قصراسلام میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی تھی سو وہ آپ کے ذریعے اللہ نے پرُکردی۔ آپ کی رسالت نسل انسانی پر اللہ کی سب سے بڑی رحمت اور نعمت غیرمترقبہ ہے۔ نزولِ کتب وصحف کا سلسلہ و طریقہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم پر منقطع کردیاگیا۔ سلسلہٴ نبوت و رسالت کو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا گیا۔ اب آپ کے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئیگا۔ قرآن کی طرح آپ کی رسالت ونبوت بھی آفاقی وعالمگیر ہے جس طرح تعلیمات قرآنی پر عمل پیرا ہونا فرض ہے اسی طرح تعلیمات نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنا فرض ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت تمام جن وانس کیلئے عام ہے دنیا کی ساری قومیں اور نسلیں آپ کی مدعو ہیں تمام انبیاء کرام میں رسالت کی بین الاقوامی خصوصیت اور نبوت کی ہمیشگی کا امتیاز صرف آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم گروہ انبیاء کرام کے آخری فرد ہیں اور سلسلہٴ نبوت و رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم خلاصہ انسانیت ہیں۔“(۱)
ختم نبوت قرآنی آیات کی روشنی میں
ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اسلام کی ساری خصوصیات اورامتیازات اسی پر موقوف ہیں۔ ختم نبوت ہی کے عقیدہ میں اسلام کا کمال اور دوام باقی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں اس کی پوری وضاحت اور ہرطرح کی صراحت موجود ہےمَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلَیْمًا“ نہیں ہیں محمد  صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے(۲)
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم کے متعلق اس آیت میں جو اعلان کیاگیا ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم آخری رسول ہیں۔ اب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد کوئی رسول آنے والا نہیں ہے اس قرآنی اعلان کا مقصد محض فہرست انبیاء و رسل کے پورے ہوجانے کی اطلاع دینا نہیں ہے بلکہ اس قرآنی اعلان اور پیغام کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اگرچہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ نبوت دنیا میں رہ جانے والی نہیں ہے مگر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا بدل کارِ نبوت کی شکل میں ہمیشہ تاقیامت باقی ہے۔ اللہ نے اس آیت میں خاتم الرسل یا خاتم المرسلین لفظ کے بجائے خاتم النّبیین کا لفظ اختیار فرمایا ہے اس میں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ نبی میں عمومیت ہوتی ہے اور رسول میں خصوصیت ہوتی ہے نبی وہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اصلاح خلق کیلئے منتخب فرماتا اور اپنی وحی سے مشرف فرماتا ہے اور اس کے لئے کوئی مستقل کتاب اور مستقل شریعت نہیں ہوتی ہے۔ پچھلی کتاب و شریعت کے تابع لوگوں کو ہدایت کرنے پر مامور ہوتا ہے جیسے حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب و شریعت کے تابع اور ہدایت کرنے پر مامور تھے۔ رسول وہ ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ مستقل کتاب و مستقل شریعت سے نوازتا ہے جو رسول ہوتا ہے وہ اپنے آپ نبی ہوتا ہے لیکن جو نبی ہوتا ہے وہ رسول نہیں ہوتا لفظ خاتم النّبیین کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے اور سب سے آخر ہیں اب قیامت تک نہ تو نئی شریعت و کتاب کے ساتھ کسی کو منصب رسالت پر فائز کیاجائے گا اور نہ پچھلی شریعت کے متبع کسی شخص کو نبی بناکر بھیجا جائے گا۔
اس آیت میں ان لوگوں کے خیال کا رد بھی ہے جو اپنی جاہلانہ رسم و رواج کی بناء پر لے پالک کو حقیقی بیٹا سمجھتے اور بیٹے کا درجہ دیتے تھے۔ زید بن حارثہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے منھ بولے بیٹے تھے چنانچہ جب انھوں نے اپنی بیوی حضرت زینب کو طلاق دیدی تو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کرلیا تو اس نکا پر طعن کرتے تھے کہ بیٹے کی بیوی سے آپ نے نکاح کرلیا اس آیت میں یہ بتانا مقصود ہے کہ زید بن حارثہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی بیٹے نہیں ہیں وہ تو حارثہ کے بیٹے ہیں مزید تاکید کے طور پر یہ بھی بتادیاگیا کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی جسمانی باپ نہیں ہیں البتہ اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے سب کے روحانی باپ ضرور ہیں۔ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے چار بیٹے قاسم، طیب، طاہر حضرت خدیجہ سے اور ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ سے تھے لیکن ان میں سے کوئی رجال کی حد تک نہیں پہنچاتھا اوراس آیت کے نزول کے وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ حقیقی باپ ہوتو اس پر نکاح کے حلال وحرام کے احکام عائد ہوتے ہیں لیکن حضرت زید بن حارثہ تو لے پالک بیٹے تھے اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اُمت کے مردوں میں سے کسی کے بھی نسبی باپ نہیں لیکن روحانی باپ سب کے ہیں۔
یہاں لفظ خاتم پر ایسی روشنی ڈالی جارہی ہے جس سے عقیدہٴ ختم نبوت کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے۔ لفظ خاتم دوقرأتوں سے بھی ثابت ہے۔ امام حسن اور عاصم کی قرأت سے خاتم بفتح التاء ہے اور دوسرے ائمہ قرأت سے خاتم بکسر التاء ہے۔ دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے اور دونوں کے معنی آخر اور مہرکے ہیں۔ اور مہر کے معنی میں یہ دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ مہر کے یہ معنی ہوئے کہ اب دستاویز مکمل ہوگئی۔ اس میں اب کسی قسم کی گنجائش اضافہ کی ہے نہ کمی کی ہے۔ امام راغب نے مفردات القرآن میں فرمایاہے: وَخَاتَمُ النُّبُوَّةِ لِاَنَّہُ خَتَمَ النُّبُوَّةَ الَّتِی تَمَّمَہَا بِمَجِیْئِہ  یعنی آپ کو خاتم النبوت“ اس لئے کہاگیا کہ آپ نے نبوت کو اپنے تشریف لانے سے ختم اور مکمل فرمادیا۔ (۳)
خاتم القوم سے مراد آخر ہم قبیلے کا آخری آدمی(۴) خَتَمَ النُّبُوَّةَ فَطُبِعَ عَلَیْہَا فَلاَ تُفْتَحُ لِاَحَدٍ بَعْدَہُ اِلَی قِیَامِ السَّاعَةِ آپ نے نبوت کو ختم کردیا اور اس پر مہر لگادی اب قیامت تک یہ دروازہ نہیں کھلے گا۔(۵)
امام غزالی لکھتے ہیں: اِنَّ الْاُمَّةَ فَہِمَتْ بِالْاِجْمَاعِ مِنْ ہٰذَا اللَّفْظِ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَمِنْ قَرَائِنِ اَحْوَالِہِ اَنَّہُ فَہِمَ عَدْمَ نَبِیِّ بَعْدَہُ اَبَدًا وَاَنَّہُ لَیْسَ فِیْہِ تَاوِیْلٌ وَلاَ تَخْصِیْصٌ فَمُنْکِرُ ہٰذَا لاَ یَکُوْنُ الاَّ اِنْکَارَ الْاِجْمَاعِ“ بیشک امت نے اس لفظ خاتم النّبیین سے اور اسکے قرائن احوال سے بالاجماع یہی سمجھا ہے کہ اس آیت کا مطلب یہی ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول اور نہ اس میں کوئی تاویل چل سکتی ہے اور نہ تخصیص اور اس کا منکر یقینا اجماع کا منکر ہے(۶)
ارشاداتِ ربانی فرموداتِ نبوی کی روشنی میں علمائے اُمت وصلحائے ملت نے اجماعی طور پر صدیوں سے اس آیت کا یہی مطلب یعنی ختم نبوت سمجھا اور سمجھایا ہے۔
ختم نبوت احادیث وروایات کی روشنی میں
حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد دشمنانِ اسلام نئے نئے فتنے اٹھائیں گے دین میں طرح طرح کے رخنے ڈالیں گے اور خصوصاً ختم نبوت کے تعلق سے شبہات پیدا کرکے اُمت مسلمہ کو راہِ راست سے ہٹانے کی کوشش کریں گے لہٰذا آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور پیش بندی اُمت کو ان آئندہ خطرات سے آگاہ فرمادیا اور اُمت کو پوری طرح چوکنا کردیا کہ جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے اسے وقت کا دجال باطل پرست اور فتنہ پرور سمجھا جائے اور اسے دین سے خارج کردیا جائے چنانچہ عقیدئہ ختم نبوت ہر زمانہ میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا جس کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا جس کسی نے بھی دعویٰ کو قبول کیا ہے اسے متفقہ طور پر اسلام سے خارج سمجھا گیا ہے اس پر تاریخ کے بہت سے واقعات شاہد ہیں۔ چند مندرجہ ذیل پیش کئے جارہے ہیں۔
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دور میں اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اس کے قتل کیلئے روانہ فرمایا۔ صحابی رسول نے جاکر اسود عنسی کا قصہ تمام کردیا۔ حضرت عروة بن الزبیر کا بیان ہے کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے ایک دن پہلے اسود عنسی کے مارے جانے کی خوشخبری ملی تو آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا۔(۷)
حضرت ابوبکر صدیق کے د ور میں سب سے پہلے جو کام ہوا وہ یہ تھا کہ حضرت ابوبکر نے مسیلمہ کذاب جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اسکی سرکوبی کیلئے حضرت خالد بن ولید کو صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ فرمایا تو حضرت خالد بن ولید نے مسیلمہ بن کذاب سمیت اٹھائیس ہزار جوانوں کو ٹھکانے لگاکر فاتح کی حیثیت سے مدینہ واپس ہوئے۔ صدیقی دور میں ایک اور شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا جس کا نام طلیحہ بن خویلد بتایاجاتا ہے اس کے قتل کیلئے بھی حضرت خالد بن ولید روانہ کئے گئے تھے۔(۸) ”اسی طرح خلیفہ عبدالملک کے دور میں جب حارث نامی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا تو خلیفہ وقت نے صحابہ و تابعین سے فتوے لیے اور متفقہ طور پر اسے قتل کیاگیا۔ خلیفہ ہارون رشید نے بھی اپنے دور میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص کو علماء کے متفقہ فتویٰ پر قتل کی سزا دی ہے“۔(۹)
امام ابوحنیفہ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کے علامات پیش کروں اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ ”لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ“(۱۰) غرض یہ کہ شروع سے اب تک تمام اسلامی عدالتوں اور درباروں کا یہی فیصلہ رہا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اور اسے ماننے والے کافر مرتد اور واجب القتل ہیں۔
اب آئیے ذرا احادیث کی روشنی میں ختم نبوت پر روشنی ڈالی جائے قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ الرِّسَالَةَ النُّبُوَّةَ قَدْ اِنْقَطَعَتْ فَلاَ رَسُوْلَ بَعْدِی وَلاَنَبِیَّ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رسالت و نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا میرے بعد اب کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔(۱۱)
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَاحْسَنَہُ وَاَجْمَلَہُ اِلاَّ مَوضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِیَةٍ فَجَعَلَ النَّٓسُ یَطُوْفُوْنَ بِہ یَعْجَبُوْنَ لَہُ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلاَّ وُضِعَتْ ہٰذِہ اللَّبِنَةُ قَالَ فَاَنَا اللَّبِنَةُ وَاَنَا خَاتِمُ النَّبِیِّیْنَ“۔ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اظہارِ حیرت کرتے اور کہتے تھے کہ اس جگہ ایک اینٹ نہیں رکھی گئی آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں یعنی میرے آنے کے بعد اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے نبوت کی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔(۱۲)
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَنَبِیَ بَعْدِیْ وَلاَ اُمَّةَ بَعْدِیْ“ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی امت نہیں یعنی کسی نئے آنے والے نبی کی امت نہیں۔(۱۳)
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ فَخَتَمْتُ الْاَنْبِیَاءَ پس میں آیا اور میں نے انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا۔(۱۴)
”قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یُمْحٰی بِی الْکُفْرُ وَاَنَا الْحَاشِرُ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی عَقْبِیْ وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہُ نَبِیٌّ“ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں کہ میرے ذریعے سے کفر محو کیا جائے گا میں حاشر ہوں کہ میرے بعد لوگ حشر میں جمع کئے جائیں گے یعنی میرے بعداب بس قیامت ہی آنی ہے اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔(۱۵)
اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبَیاءِ بِسِتٍ اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمَ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَاُحِلَّتْ لِی الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِی الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُوْرًا وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّةً وَخُتِمَ بِی النَّبِیُّوْنَ“ آنحضرت نے فرمایا مجھے چھ باتوں میں دیگر انبیا پر فضیلت دی گئی ہے: (۱) مجھے جامع و مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی، (۲) مجھے رعب کے ذریعے نصرت بخشی گئی، (۳) میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کئے گئے،(۴) میرے لئے زمین کو مسجد بھی بنادیاگیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی یعنی میری شریعت میں نماز مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین میں ہرجگہ پڑھی جاسکتی ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرکے وضو کی حاجت بھی پوری کی جاسکتی ہے،(۵) مجھے تمام دنیاکیلئے رسول بنایا گیا ہے،(۶) اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیاگیا۔“(۱۶)
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْکَانَ بَعْدِی نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّاب․ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعداگر کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ چونکہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم کردی گئی ہے اب کسی کو کسی طرح کی بھی نبوت نہیں مل سکتی۔(۱۷)
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلاَّ اَنَّہُ لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ․ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہے جو موسیٰ کے ساتھ ہارون کی تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(۱۸)
”قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْکَانَ مُوْسٰی حَیًّا لَمَا وَسَعَہُ اِلاَّ اِتِّبَاعِیْ“ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کیلئے میری پیروی کے علاوہ چارہ کار نہ تھا۔(۱۹)
چنانچہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر کے تعلق سے یہ وضاحت فرمادی کہ اگر موسیٰ بھی دوبارہ اس دنیامیں آتے تو انھیں میری شریعت پر ایک امتی کی حیثیت سے عمل پیرا ہونا پڑتا۔ اسی طرح آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل کے بارے میں بتادیا کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آسمانسے نزول فرمائیں گے تو ان کی بھی حیثیت امتی کی ہوگی۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں۔ ابوہریرہ سے روایت ہے: قَالَ النَّبِیُّ کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا قائد تمہیں میں سے ہوگا۔(۲۰)
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ”کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُہُمْ الْاَنْبِیَاءُ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہُ وَاِنَّہُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءُ“ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے جب کوئی نبی فوت پایا جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوجاتا تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے۔(۲۱)
حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت کا سلسلہ شروع ہوا۔ انبیاء آتے رہے اوراسلام کی تعلیمات کو پیش کرتے رہے۔ اس طرح اسلام بتدریج تکمیل کی طرف بڑھتا چلاگیا۔ یہاں تک کہ عمارت کا آخری پتھر سلسلہ انبیاء کے آخری نبی، رسولوں کی فہرست کے آخری رسول محمد عربی  صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوگیا نبوت کے سلسلہ کو بند کرناتھا تو نبی کے خلفاء کی طرف اشارہ کیاگیا اور خلافت رسول کا وعدہ کیاگیا۔ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ وعدہ کرلیا اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ یقینا ان کو خلافت ارضی عطا کرے گا۔(۲۲)
ختم نبوت  صلی اللہ علیہ وسلم اکابرِ اُمت کی تحقیقات کی روشنی میں
علامہ ابن جریر اپنی مشہور تفسیر میں سورة احزاب کی آیت کی تشریح میں ختم نبوت کے تعلق سے یوں رقمطراز ہیں اللہ نے آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم کردی اور اس پر مہرلگادی اب یہ دروازہ قیامت تک کسی کیلئے نہیں کھلے گا۔(۲۳)
امام طحاوی اپنی کتاب (العقیدة السلفیہ) میں ختم نبوت کے بارے میں ائمہ سلف خصوصاً امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد کے اقوال کی روشنی میں لکھتے ہیں کہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اوراس کے محبوب اورآخری نبی ہیں اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ سیدالانبیاء وسیدالمرسلین محمد  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اورآپ  صلی اللہ علیہ وسلم رب العالمین کے محبوب ہیں۔(۲۴)
علامہ امام غزالی فرماتے ہیں اس امر (ختم نبوت) پر اُمت مسلمہ کا کامل اجماع ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اور پوری اُمت اس بات پر متفق ہے کہ رسولِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”لا نَبِیَّ بَعْدِیْ“ سے مراد یہی ہے کہ ان کے بعد نہ کوئی نبی اور نہ رسول ہوگا جو شخص بھی اس حدیث کا کوئی اور مطلب بیان کرے وہ دائرئہ اسلام سے خارج ہے اس کی تشریح باطل اور اس کی تحریر کفر ہے۔علاوہ ازیں امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کے سوا اس کی کوئی تشریح نہیں جو اس کا انکار کرے وہ اجماعِ امت کا منکر ہے۔(۲۵)
علامہ زمخشری اپنی تفسیر الکشاف میں لکھتے ہیں: اگر آپ یہ سوال کریں کہ جب یہ عقیدہ ہوکہ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو پھر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی کیسے ہوسکتے ہیں میں کہتا ہوں کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم اس معنی میںآ خری ہیں کہ ان کے بعد کوئی اور شخص نبی کی حیثیت سے مبعوث نہ ہوگا۔ رہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ تو وہ ان انبیاء کرام میں سے ہیں جنھیں حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوت سے سرفراز کیاگیاتھا اور جب وہ دوبارہ آئیں گے تو حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے متبع ہوں گے اور انھیں کے قبلہ الکعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں گے۔(۲۶)
علامہ ابن کثیر تحریر فرماتے ہیں ”یہ آیت (یعنی سورہ احزاب والی) اس امر میں نص ہے کہ انکے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا کیونکہ مقامِ رسالت مقامِ نبوت سے اخص ہے کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدجو شخص بھی اس منصب کادعویٰ کرتا ہے وہ کذاب دجال مفتر اور کافر ہے خواہ وہ کسی قسم کے غیرمعمولی کرشمے اور جادوگری کے طلاسم دکھاتا پھرے اوراسی طرح قیامت تک جو شخص بھی اس منصب کا مدعی ہو وہ کذاب ہے۔(۲۷)
علامہ آلوسی لکھتے ہیں نبی کا لفظ عام ہے اور رسول خاص ہے اس لئے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیین ہونے سے خاتم المرسلین ہونا لازمی ہے کہ اس دنیا میں آپ کے منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد کسی بھی انسان یا جن کو یہ منصب نصیب نہیں ہوگا۔(۲۸)
علامہ جلال الدین سیوطی اس آیت وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا“ کے تحت لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے اورجانتا ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے پیروکار ہوں گے۔(۲۹)
علامہ بیضاوی یوں رقمطراز ہیں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کرام کی آخری کڑی ہیں جنھوں نے ان کے سلسلہ کو ختم کردیا ہے اور سلسلہٴ نبوت پر مہر لگادی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعث ثانیہ سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی تردید نہیں ہوتی کیوں کہ وہ جب آئیں گے تو انہی کے شریعت کے پیروکار ہوں گے۔(۳۰)
تاج العروس میں اس طرح ہے: وَمِنْ اَسْمَائِہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْخَاتِمُ وَالْخَاتَمُ وَہُو الَّذِیْ فَقَدَ النُّبُوَّةَ بِمَجِیْئِہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں میں سے خاتِم اور خاتَم بھی ہیں جن کا معنی یہ ہے کہ ان کی آمد پر نبوت ختم ہوگی۔(۳۱)
حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب کی کتاب سے مضمون بعنوان ”منکرین ختم نبوت وسنت کا مغالطہ اور اس کا مدلل اورمعقول جواب“ پیش خدمت ہے۔ واقعی حکیم الاسلام کا یہ جواب اتنا مدلل اور معقول ہے کہ اس سے گمراہ فرقہ قادیانیوں کی سازش کو سمجھنے اور بھولے بھالے مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ ”اس میں اکثر قادیانی یہ مغالطہ دیتے ہیں کہ نبوت تو دنیاکیلئے رحمت ہے جب نبوت ختم ہوگئی اور زحمت پیداہوگئی۔ نبوت تو ایک نور ہے جب وہ نور نہ رہا تو دنیا میں ظلمت پیدا ہوگئی تواس میں (معاذ اللہ) حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے کہ آپ دنیا کو زحمت دینے کیلئے آئے یا دنیامیں معاذ اللہ ظلمت پیدا کرنے کیلئے آئے کہ نور ہی ختم کردیا اور رحمت ہی ختم کردی یہ ایک مغالطہ ہے اور مغالطہ واقع ہوا ہے ختم نبوت کے معنی سمجھنے کے اندر یاتو سمجھا نہیں ان لوگوں نے یا سمجھ کر جان بوجھ کر دغا اور فریب سے کام لیا ہے۔
ختم نبوت کے معنی قطعِ نبوت کے نہیں ہیں کہ نبوت منقطع ہوگئی ختم نبوت کے حقیقی معنی تکمیل نبوت کے ہیں کہ نبوت اپنی انتہا کو پہنچ کر حدکمال کو پہنچ گئی ہے اب کوئی درجہ نبوت کا ایسا باقی نہیں رہا کہ بعد میں کوئی نبی لایا جائے اوراس درجہ کو پورا کرایا جائے۔ ایک ہی ذاتِ اقدس نے ساری نبوت کو حد کمال پر پہنچادیا کہ نبوت کامل ہوگئی تو ختم نبوت کے معنی تکمیل نبوت کے ہیں۔ قطع نبوت کے نہیں ہیں گویا کہ ایک ہی نبوت قیامت تک کام دے گی، کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ نبوت کے جتنے کمالات تھے وہ سب ایک ذاتِ بابرکات میں جمع کردئیے گئے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ جیسے آسمان پر رات کے وقت ستارے چمکتے ہیں ایک نکلا دوسرا تیسرا اور پھر لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ستارے جگمگا جاتے ہیں بھراہوا ہوتا ہے آسمان ستاروں سے اور روشنی بھی پوری ہوتی ہے لیکن رات رات ہی رہتی ہے دن نہیں ہوتا کروڑوں ستارے جمع ہیں مگر رات ہی ہے روشنی کتنی بھی ہوجائے لیکن جونہی آفتاب نکلنے کا وقت آتا ہے تو ایک ایک ستارہ غائب ہونا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ جب آفتاب نکل آتا ہے تو اب کوئی بھی ستارہ نظر نہیں پڑتا۔ چاند بھی نظر نہیں پڑتا تو یہ مطلب نہیں کہ ستارے غائب ہوگئے دنیا سے بلکہ اس کا نور مدغم ہوگیا۔ آفتاب کے نور میں کہ اب اس نور کے بعد سب کے نور دھیمے پڑگئے اور وہ سب جذب ہوگئے آفتاب کے نور میں اب آفتاب ہی کا نور کافی ہے کسی اور ستارے کی ضرورت نہیں اور نکلے گا تواس کا چمکنا ہی نظر نہیں آئے گا آفتاب کے نور میں مغلوب ہوجائے گا تو یوں نہیں کہیں گے کہ آفتاب نے نکلنے کے بعد دنیامیں ظلمت پیدا کردی نور کو ختم کردیا بلکہ یوں کہا جائے گا کہ نور کو اتنا مکمل کردیا کہ اب چھوٹے موٹے ستاروں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ آفتاب کافی ہے غروب تک پورا دن اسی کی روشنی میں چلے گا تو اور انبیاء بمنزلہ ستاروں کے ہیں اور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم بمنزلہ آفتاب کے ہیں جب آفتاب طلوع ہوگیا اور ستارے غائب ہوگئے تویہ مطلب نہیں ہے کہ نبوت ختم ہوگئی بلکہ اتنی مکمل ہوگئی کہ اب قیامت تک کسی نبوت کی ضرورت نہیں گویا نبوت کی فہرست تھی جس پر مہر لگ گئی۔ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر لگادی اب کوئی نبی زائد ہوگا نہ کم ہوگا یہ ممکن ہے کہ بیچ میں سے کسی نبی کو بعد میں لے آیا جائے جیسے عیسیٰ علیہ السلام بعد میں نازل ہوں گے مگر وہ اسی فہرست میں داخل ہوں گے اوران کی متبع کی حیثیت ہوگی یہ نہیں ہے کہ کوئی جدید نبی داخل ہو۔ پچھلے نبی کو اگر اللہ تعالیٰ لانا چاہیں تو لائیں گے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرہست مکمل کردی کہ اب نہ کوئی نبی زائد ہوسکتا ہے نہ کم ہوسکتا ہے۔(۳۲)
تمت بالخير

از: مولانا سید کمال اللہ بختیاری ندوی‏ ( بتغير يسير   )

حواشی
(۱)         تلخیصاً ماخوذ از : اسلام اور تعمیر سیرت، سیدکمال اللہ بخیار ی ندوی،ص:۴۰۔
(۲)        الاحزاب:۴۰۔                         (۳)                 ماہنامہ بانگ درا، لکھنوٴ،ص:۸، نومبر۹۷۔
(۴)        لسان العرب بحوالہ ختم نبوت،ص:۱۰، مولانا سید ابوالاعلی مودودی۔
(۵)        تفسیر ابن جریر،ص: ۱۲، ج:۲۲۔                       (۶)                  رسول نمبر، ڈائجسٹ،ص:۵۰
(۷)        فتح الباری،ص: ۸۹، ج:۸۔                                (۸)                 فتوح البلدان،ص: ۱۰۲۔
(۹)         شفا- قاضی عیاض                                              (۱۰)                ختم نبوت،ص:۲۲،مولانا مودودی۔
(۱۱)        ترمذی، کتاب الروٴیا۔                                         (۱۲)                بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النّبیین۔
(۱۳)      ترمذی، کتاب الآداب، باب اسماء النبی۔                 (۱۴)                مشکوٰة،ص: ۵۱۲۔
(۱۵)      مسلم کتاب فضائل الصحابہ۔                                (۱۶)                مسلم کتاب فضائل الصحابہ۔
(۱۷)      مسند احمد۔                                                         (۱۸)                مسلم، بیان عیسیٰ۔
(۱۹)       بخاری، کتاب المناقب عن بنی اسرائیل۔              (۲۰)               النور:۵۵۔
(۲۱)       تفسیر طبری، جزء:۲۲،ص: ۱۲۔                          (۲۲)               شرح الطحاویہ،ص: ۱۵۔
(۲۳)     الاقتصاد فی الاعتقاد،ص: ۱۱۴۔                           (۲۴)               الکشاف، ج:۲،ص: ۲۱۵۔
(۲۵)     تفسیر ابن کثیر، ج:۳،ص:۴۹۳-۴۹۴۔             (۲۶)               روح المعانی، ج:۳۲، جزء:۲۲۔
(۲۷)     جلالین،ص: ۷۶۸۔                                         (۲۸)               انوار التنزیل، ج:۴،ص:۱۶۴۔
(۲۹)      تاج العروس، ج:۴، ص:۱۸۶، بحوالہ: قادیانیوں کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ،ص:۲۰، محمد بشیریم۔اے
(۳۰)     ماخوذ از: ختم نبوت سورئہ کوثر کی روشنی میں،ص: ۱۴،۱۵،۱۶۔
______________________________
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ10، جلد: 90 ‏،رمضان المبارک1427 ہجری مطابق اکتوبر2006ء

اتوار، 7 اکتوبر، 2018

اج کا نیا فتنہ

الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام على رسوله الكربم وعلى اله وصحبه اجمعين . امابعد
برادران اسلام ٫ قرب قیامت کے بہت سارے فتنے سامنے آئیں گے اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے اپنے حفظ آمان میں رکھے امین ۔ اج ہی ایک دوست کی وساطت سے ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک شخص نے دعوی کیا ھے کہ میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم سے گیارواں خلیفہ راشد ھوں سب کو میرا بیعت کرنا چاہئیے نہ کرنے کی صورت میں اگر اپ کو موت ائے تو آپ جاہلیت موت مریں گے ۔ ویڈیو سنتے ہی سوچا کہ اس کی طرف توجہ نہ دی جائے مگر بعد میں خیال آیا کہ منکر پر خاموشی درست نہیں تو اس سلسلے میں مولانا منصور قاسمی صاحب کی ایک تحریر اپ سب کے ساتھ شیر کرنا چاہتا ھوں ۔ و باللہ التوفیق ۔
سوال یہ ھے کہ ۔ خلافت راشدہ کیا ہے؟
اس کی مدت کتنی ہے؟
بعد والوں کو خلیفہ کیوں نہیں کہہ سکتے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو شخص کسی کا جانشیں ونائب  بن کر اس کی جگہ پر کام کرے، اس کو  لغوی اعتبار سے اس کا “خلیفہ” کہتے ہیں۔
شرعی اصطلاح میں بقول حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ:
’’خلافت (عامہ): بذریعۂ اشاعت علومِ دینیہ (یعنی قرآن و حدیث کی تعلیم، وعظ و نصیحت) کو زندہ رکھنا، ارکانِ اسلام (پنج وقتہ نماز، جمعہ و عیدین کی جماعت کا اہتمام اور امامت، زکوۃ وصول کرنا، مصرف میں خرچ کرنا، عامل کا تقرر، ہلال کی شہادت اور اس کے بعد رمضان اور عیدین کا حکم، حج کا نظم وغیرہ) کو قائم کرنا۔ جہاد اور اس کے متعلقات کو قائم کرنا، عہدۂ قضا کے فرائض انجام دینا، حدود قائم کرنا، مظالم کو دور کرنااور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکو بجا لانا، یہ سارے کام بحیثیتِ نائبِ نبی  بالفعل انجام دینے کو خلافت کہا جاتا ہے ۔ [إزالۃالخفاء ۱؍۱۹]
اور  انہی نظام اور خوبیوں کے ساتھ  اس منصب کی ذمہ داری  بلاکم وکاست نبھانے والے کو  “خلیفہ راشد” کہتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت  کا مقصد : تلاوت آیات ، تزکیہ نفوس ،کتاب وحکمت کی تعلیم تھی۔جسے آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں ایک جامع دین اور صالح معاشرہ کی شکل میں انسانیت کے سامنے پیش فرمادیا۔ پھر چونکہ آپ کے حوالے امامت کبری کی ذمہ داری بھی تھی۔اس لئے آپ نے مرضیات باری اور وحی الہی  کے مطابق عدل وانصاف کے ساتھ  مدینہ طیبہ میں ایک نظام حکومت کی بنیاد ڈالی۔جس کے ذمہ دار آپ خود تھے۔ اور آپ بنفس نفیس تعلیمات ربانی  ووحی الہی کے مطابق احکام شریعت نافذ فرماتے رہے۔۔۔۔رحلت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نظام حکومت کے بارے میں یوں پیشین گوئی فرمائی:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَفِينَةُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ وَخِلَافَةَ عُمَرَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ ثُمَّ قَالَ لِي أَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ قَالَ فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً قَالَ سَعِيدٌ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْخِلَافَةَ فِيهِمْ قَالَ كَذَبُوا بَنُو الزَّرْقَاءِ بَلْ هُمْ مُلُوكٌ مِنْ شَرِّ الْمُلُوكِ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ قَالَا لَمْ يَعْهَدْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخِلَافَةِ شَيْئًا وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ
سنن الترمذي۔ رقم 2226 .ج 2۔ص 46۔
آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:
میری امت میں خلافت تیس سال تک رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت و سلطنت آجائے گی۔
(حضرت سفینہ کے شاگرد سعید بن جمھان کہتے ہیں) پھر مجھ سے حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے کہا اپنی انگلیوں پر گنو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت (کا دور) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت (کا دور) اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلاف (کا دور) پھر کہا انگلیوں پر گنو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت (کا دور)۔ کہتے ہیں کہ ہم نے (شمار کیا تو اس پوری مدت کو ہم نے ) تیس سال پایا۔‘‘
پھر میں نے سفینہ  سے کہا کہ: بنی امیہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ (مذکورہ)خلافت اُن (کے خاندان) میں ہی ہے، تو سفینہ  رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بنی زُرقا جھوٹے ہیں، وہ توبدترین بادشاہوں میں سے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کاملہ کہ جس میں دین وشریعت اور عدل وانصاف کے ساتھ ذرا سی بھی کسی چیز کی آمیزش نہ ہوگی تیس 30 سال رہے گی۔اس کے بعد خلافت کی شکل وصورت میں تبدیلی آجائے گی۔ حکومت اگرچہ خلافت کے نام کے ساتھ ہی قائم ہوگی۔ اور کچھ دور میں (جیسےحضرت عمر بن عبد العزیز کے دور میں ) جزوی طور پر خلافت راشدہ جیسے احوال بھی آئیں گے! مگر وہ خلافت کاملہ نہ ہوگی۔ نام خلافت کا ہوگا۔ لیکن اصل میں بادشاہت ہوگی۔ اس خلافت کو “راشدہ” نہیں کہیں گے! اگرچہ اس تیس سال کے بعد چلنے والے دور حکومت میں حکمرانی کو کسی نہ کسی حد تک خلافت راشدہ کے نہج پر رکھنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن قتل وغارتگری، دین وشریعت کی صریح خلاف ورزی اور ظلم وعدوان کی کثرت کی وجہ سے اہل سنت والجماعت کے نزدیک اسے “خلافت راشدہ ” کا نام نہ مل سکا۔ہاں حکمرانی کو “خلافت” اور حکمرانوں کو “خلیفہ” کا لیبل ہی لگتا رہا۔ (جیسے خلافت بنو امیہ اور خلافت بنی عباسیہ وغیرہ وغیرہ)
حدیث مذکور کے راوی حضرت سفینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے تیس سال کا جو حساب بیان کیا ہے وہ تخمینا ہے. انہوں نے کسور کو بیان نہیں کیا، چنانچہ صحیح روایات اور مستند تاریخی کتابوں میں خلافت راشدہ کی تیس سالہ مدت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کا زمانہ دو سال چار ماہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کا زمانہ دس سال چھ ماہ، حضرت عثمان غنی کی خلافت کا زمانہ چند روز کم بارہ سال اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کا زمانہ چار سال نو ماہ رہا ہے۔ اس طرح چاروں خلفاء کی مجموع مدت خلافت انتیس سال سات ماہ ہوتی ہے۔ اور پانچ مہینے جو باقی رہے وہ حضرت امام حسن ؓ کی خلافت کا زمانہ ہے، حضرت علی کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے سواد اعظم
نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پہ بیعت کی۔ پانچ یا چھ ماہ حکمرانی کرنے کے بعد جب تیس سال کی مدت پوری ہوگئی تو انہوں نے حکومت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سونپ کے خود کنارہ کش ہوگئے۔ اس طرح حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مدت بھی خلافت مشہود لہا بالخیر میں داخل ہوئی اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہوئے (شرح الفقہ الاکبر ص 68۔69۔شرح عقائد نسفی ص 151۔ شرح العقیدہ الطحاویہ ص 545 ۔الخلافہ والامارہ ۔)
واللہ اعلم بالصواب
اخوکم فی اللہ اکبر حسین اورکزئی

منگل، 2 اکتوبر، 2018

بہشتی دروازہ



بابا فرید الدین مسعود کے دربار پر موجود' بہشتی دروازہ 'کی شرعی حیثیت

سوال:پاکستان کے ایک شہر پاکپتن میں بابا فرید الدین مسعود کے دربار پر دو دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ سارا سال کھلا رہتا ہے جب کہ دوسرا دروازہ ہر سال ۵/ محرم کو صرف پانچ دن کے لیے کھلتا ہے جس کے متعلق خواجہ نظام الدین اولیا کی طرف روایت منسوب کی جاتی ہے کہ جو اس دروازے سے گزرے گا وہ جنتی ہو گا۔ لہٰذا لو گ اسے 'جنتی دروازہ' کہتے ہیں اور اس اعتقاد سے لا کھوں لوگ ہر سال اس دروازے سے گزرتے ہیں...
1
۔اس دروازے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
2۔اس کے متعلق بہشتی دروازہ ہو نے کا اعتقاد رکھنا کیسا ہے؟  (حافظ مقصود احمد، مدیر ماہنامہ 'توحید')
.......................................................................................................................................................................
جواب: شریعت کی نگاہ میں بہشتی دروازہ کااِطلاق صرف اُخروی جنت کے دروازہ پر ہوتا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: «وأنا أول من يقرع باب الجنة»  سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھٹکھٹاوٴں گا ۔" (ایمان: ۳۳۱)
اور صحیح مسلم ہی کی دوسری روایت میں الفاظ یوں ہیں:« آتي باب الجنة یوم القیامة»
قیامت کے روز میں جنت کے دروازہ پر آوٴں گا" (ایمان: ۴۸۵)
اور صحیحین میں ہے«في الجنة ثمانیة أبواب» " جنت میں آٹھ دروازے ہیں ۔" (مسلم: ۴۶)
اِن نصوص سے معلوم ہوا کہ بطورِ شعار بہشتی دروازہ کا اِطلاق صرف جناتِ خلد پر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی محترم و مکرم چیز کی طرف منسوب دروازہ کو بابِ جنت نہیں کہا جا سکتا ۔ اگر اس کاجواز ہوتا تو سلف صالحین اس کے زیادہ حقدار تھے۔اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے جواز کا پہلو نکلتا ہو۔ لہٰذا اس خود ساختہ بہشتی دروازہ کا اِنہدام ضروری ہے تا کہ افرادِ اُمت کوشرک کی نجاست سے بچایا جا سکے۔ جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیعت الرضوان کی طرف منسوب درخت کو کٹوا دیا تھا جبکہ عامة الناس اسے متبرک سمجھ کر اس کی زیارت کا قصد کرنے لگے تھے۔ ( فتح الباری : ۷/۴۴۸)
اسی طرح (مسند احمد :۵/۲۱۸) اور سنن النسائی الکبریٰ (حدیث ۱۱۱۸۵) میں مذکور ہے کہ حنین سے واپسی پر ایک بہت بڑی بیری جسے ذاتِ نواط کہا جاتا تھا اور مشرکین اس کی عبادت کرتے تھے ، کے قریب سے گزرتے ہوئے بعض صحابہنے آنحضرت ﷺسے درخواست کی کہ ہمارے لیے بھی 'ذاتِ انواط' مقرر کر دیں جیسا کہ کفار کے لیے ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے وہی بات کہی جو موسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم نے کہی تھی: یعنی ﴿اجعَل لَنا إِلـٰهًا كَما لَهُم ءالِهَةٌ ۚ قالَ إِنَّكُم قَومٌ تَجهَلونَ ١٣٨ ... سورة الاعراف
" ہمارے لیے معبود مقرر کر دیجئے جیسے ان کے معبود ہیں، فرمایا: تم جاہل لوگ ہو ۔"
(۲)  اس کے متعلق بہشتی دروازہ ہونے کا اعتقاد رکھنا شرکیات وکفریات میں داخل ہے کیونکہ یہ ایسی بات ہے جس کا علم نصوصِ شریعت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا جو یہاں مفقود ہے ۔لہٰذا عزم بالجزم کے ساتھ اس کو بہشتی دروازہ قرار دینا مداخلت فی الدین ہے جس کی جزا وسزا کا معاملہ انتہائی پر خطر ہے ۔ ایسے اعتقاد سے فی الفور تائب ہونا ضروری ہے ۔ورنہ ڈر ہے کہ کہیں جہنم کاایندھن نہ بن جائیں۔اللہ تعالیٰ کتاب وسنت کی روشنی میں صحیح عقائد کی توفیق عطا فرمائے تا کہ حقیقی جنت میں داخلہ ہمارا مقدر ہو ۔ آمین!
( بحواله محدث  میگزین  )

پیر، 17 ستمبر، 2018

نبی ٔ پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی تین پسندیدہ چیزیں



عَنْ أَنَسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلّٰی اللّٰه عَلَیه وَسَلَّمَ : ’’حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّیْبُ وَ النِّسَائُ، وَ جُعِلَتْ قُرَّۃ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ ۔‘‘ (رواہ أحمد والنسائی، مشکوۃ المصابیح/ص :۴۴۹، باب فضل الفقراء، الفصل الثالث)
ترجمہ  : حضرت انس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پسندیدہ بنائی گئیں میرے لیے خوشبو اور عورتیں اور بنائی گئی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں۔

تمہید  : یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی انسان کے طبعی وقلبی رحجان اور فطری ذوق کا اندازہ اس کی پسند اور چاہت (Choice)سے لگایا جا سکتا ہے، اگرا س کی طبیعت اور فطرت پر پاکیزگی کاغلبہ ہے تو اس کی پسند و چاہت بھی اعلیٰ اورپاکیزہ ہوگی، عربی کا مقولہ ہے: ’’کُلُّ إِنَائٍ یَنْضَحُ بِمَا فِیْہِ‘‘۔ (روضۃ الأدب/ص: ۴۷) یعنی برتن میں جو ہوگا وہی اس سے ٹپکے گا،لہٰذا اگر طبیعت پاکیزہ ہے تو چاہت بھی پاکیزہ ہوگی، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رحمت ِدو عالم صلی اللہ علیہ و سلم  کا ظرف کائنات کی ساری مخلوق میں سب سے اعلیٰ، مزکیٰ، مصفیٰ اور اﷲ تعالیٰ کی محبت سے لبریز تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کی چاہت اور پسند بھی نہایت اعلیٰ تھی، اور محبت کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ اس میں اپنی پسند پر نظر نہیں ہوتی۔مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر ہے:نظر اُن کی نظر اپنی، پسند اُن کی پسند اپنی نظر اپنی پسند اپنی، محبت میں نہیں ہوتی .
حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  کے دل میں تین چیزوں کی محبت ڈالی گئی :      
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنا فی اللہ کے اعلیٰ مقام پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کے دل میں اﷲ پاک کی اس قدر محبت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی تمام چاہتوں کو اس کی چاہت کے سامنے فنا کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی چاہت اور پسند وہی تھی جس کا اﷲ پاک نے حکم فرمایا، چناںچہ حدیث ِمذکور میں لفظ: ’’حُبِّبَ‘‘ جو بصیغۂ مجہول لایا گیا اس میں یہی راز ہے، مطلب یہ ہے کہ(تین چیزیں)مجھے پسندکرائی گئیں، یا میرے دل میں ان کی محبت ڈالی گئی، گویا میں نے از خود کسی چیز کو پسند نہیں کیا، بلکہ میرے مولیٰ نے مجھے ان کی پسند اور محبت کا حکم فرمایا ۔      فافھم۔           
 لہٰذ ا اب خلاصہ یہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں منجانب اﷲتین چیزوں کی محبت ڈالی گئی۔آسمانِ ہدایت کے سراجِ منیر نے نجومِ ہدایت کے ہجوم میں جب یہ بات ارشاد فرمائی تو صحابۂ کرامؓ متوجہ ہوئے، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پسند ہے؟تاکہ ہم بھی ان چیزوں کو پسند کریں، یہ حقیقت ہے نا! کہ چاہنے والو ں کے لیے محبوب کی چاہت بھی محبوب ہواکرتی ہے، او ریہ بھی محبت کا تقاضا ہے۔
حضور   صلی اللہ علیہ و سلم  اور خوشبو  :ارشاد ہوا : پہلی چیز جس کی محبت اور پسند میرے دل میں پیدا کی گئی وہ ہے ’’اَلطِّیْبُ‘‘یعنی عمدہ خوشبو ، جوانسان کے فطری، روحانی او رملکوتی تقاضوں میں سے ہے، اس سے جسم کے علاوہ روح و قلب کو بھی ایک خاص نشاط حاصل ہوتاہے، عبادت میں کیف و ذوق اور لذت حاصل ہوتی ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ لوگوں کو بھی اس سے راحت پہنچتی ہے۔ اس لیے ہر صحیح الفطرت اور سلیم الطبع انسان کوخوشبو سے محبت اور بدبو سے نفرت ہوتی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم تو سراپا سلیم الطبع و صحیح الفطرت ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوخوشبو سے محبت کیوں نہ ہوتی؟
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا تو جسم اطہر قدرتی طور پر معطر تھا،حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کا پسینہ مبارک مشک و عنبر سے زیادہ معطر تھا۔  حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ’’ ایک مرتبہ رحمت ِدو عالم صلی اللہ علیہ و سلم  ہمارے گھر تشریف لائے، اور دوپہر کے وقت وہیں محو ِ خواب ہوگئے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم ِاطہر سے پسینہ بہت نکلا،حضرت ام سلیم (جو حضرت ابوطلحہ انصاریؓ کی بیوی ہیں، نہایت عاقلہ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے رضاعی یانسب مادری کی نسبت سے محرموں میں سے تھیں) (از: مظاہر حق جدید۵/۵۱۷)ام سُلیمؓ نے دیکھا تو ایک شیشی لاکر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ اس میں جمع کرناشروع کردیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدارہوکر پوچھا :ام سُلیم! کیاکر رہی ہو؟ کہنے لگیں: حضور!یہ آپ کا مبارک پسینہ ہے، ہم اسے اپنی خوشبو میں ملائیں گے، کہ یہ ہر عطر سے زیادہ خوشبودار ہے۔(حلیۃ الاولیاء، لابی نعیم الاصفہانی/ص:۶۱،:۲ ، از :تراشے ص:۷۵،متفق علیہ، مشکوٰۃ /ص:۵۱۷) پسینہ پونچھ کر رکھتے صحابہؓ جسمِ اطہر کاجو خوشبو میں گلاب و مشک و عنبر سے بھی بہتر تھافضا ساری مہک جاتی وہ جس راہ سے جاتےنکلتے جستجو میں جو وہ خوشبوسے پتہ پاتے        آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس راہ سے گذر جاتے ساری فضا معطر ہو جاتی تھی، تلاش کرنے والا خوشبو سے معلوم کر لیتاکہ ابھی اللہ تعالیٰ کا محبوب یہاں سے گذراہے۔ (ترمذی، مشکوٰۃ/ ص:۱۵۷) .
ایک اور عاشق نے کہا کہ:جسمِ مطہر کتنا معطر، روئے مبارک ماہ منوردلکش باتیں، شیریں تبسم، صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ان سب کے باوجود آپ   صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو کو پسند فرماتے،اس لیے معمولِ مبارک تھاکہ تحفہ یاخوشبودار پھول وغیرہ واپس کرنے سے منع فرماتے، کیوں کہ خوشبو آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کی پسندیدہ چیز تھی، بلکہ سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و سلم  کے مطالعہ کے بعد اس عاجز کا ناقص خیال تو یہ ہے کہ آپ   صلی اللہ علیہ و سلم خوشبو سے کیا محبت فرماتے خود خوشبو آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرتی تھی۔
عورت قابل نفرت نہیں، لائق محبت ہے : دوسری چیز جس کی محبت میرے دل میں ڈالی گئی وہ ہے نیک رفیقۂ حیات،فیشن پرست عورت نہیں، بلکہ فرمایا: ’’وَالنِّسَائُ‘‘ ، اور ایک روایت میں ’’المَرْأَۃ الصَّالِحَة‘‘ ہے، یعنی (وہ نیک)عورت جس کا دل ذوقِ وفا سے سرشار اور جبین اللہ تعالیٰ کے حضور سجدوں سے آباد ہو۔جو عبادت میں اللہ تعالیٰ سے وفاکرے او رعفت میں شوہر سے وفا کرے۔یہاں کسی اعتراض کا موقع اس لیے نہیں ہے کہ عورت سے محبت کرنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتی پسند نہیں، بلکہ منجانب اﷲ اس کی پسند آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کے د ل میں پیدا کی گئی۔ اور ا س میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں، عورت جو زندگی کی ایک بڑی اہم ضرورت ہے ،دورِ جاہلیت میں اس کے وجودہی سے نفرت کی جاتی تھی ،اس کی ولادت پر مذمت وندامت کی جاتی تھی، قرآنِ نے اسے یوں بیان فرمایا :       {وَإِذَابُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ} (النحل :۵۸) اور جب ان میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے، او ردل ہی دل میں کڑھتارہتاہے۔
بعد میں ساری زندگی اس کا استعمال محض تکمیل شہوت یا ضرورت کے لیے ہوتا تھا، اُس کے ساتھ عموماًوہ سلوک کیا جاتا کہ انسان تو کیا شیطان بھی شرما جائے ،زمانۂ جاہلیت میں عورت کی حیثیت کیا تھی؟عورت کنیز بن کر دنیا میں جی رہی تھی خونِ جگر کے قطرے خاموش پی رہی تھی ایسے سنگین حالات میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حقیقت سمجھائی کہ عورت بالخصوص جب کہ وہ نیک ہو، قابل نفرت نہیں، بلکہ لائق محبت ہے، اور محبت قائم ہونے کا ذریعہ بھی،یہی وجہ ہے کہ میرے د ل میں اس کی محبت من جانب اللہ ڈالی گئی۔
عورت سے محبت کرنے کا صحیح طریقہ  :          اور حضورِاکرم   صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں یہ بھی سمجھایا کہ عورت کی مختلف حیثیتیں ہیں، لہٰذاہر حیثیت سے اس کے ساتھ محبت کا انداز،تقاضا اور طریقہ بھی مختلف ہوگا، مثلا:                       
 ۱-   عورت اگر ماں ہے، تو اس کی ہر ممکن خدمت اور جائز امور میں اس کی مکمل اطاعت کرنا یہ اس کی محبت کا تقاضا ہے۔
 ۲- عورت اگر بہن ہے، تو ایک مخلص بھائی کا پیار دے کر اس کے تمام حقوق کو پورا کرنا اس کی محبت کا تقاضا ہے ۔       ۳- عورت اگر بیوی ہے، تو شوہر کے لیے ادائے حقوق اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا یہ اس کی محبت کا تقاضا ہے.
   ۴-   عورت اگر بیٹی ہے، تو اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا خیال رکھنا یہ اس کی محبت کا  تقاضا ہے ۔کسی بزرگ کا مقولہ ہے کہ ’’بیٹی رحمت ہے اور بیٹا نعمت ہے، نعمت زائل ہو سکتی ہے، لیکن رحمت تو رحمت ہی رہتی ہے۔‘‘
 الغرض! حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے محبت بھی فرمائی اور امت کو اس سے محبت کرنے کا صحیح انداز اور طریقہ بھی سکھلایا۔
نماز آپ   صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کا محور و مرکز ہے  :        تیسری چیز کے بارے میں فرمایا ’’وَجُعِلَتْ قُرَّۃ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃ‘‘  کہ نماز تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، کیوں کہ نماز رب العزت کی ملاقات، یاداور محبت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، قرآنِ پاک میں فرمایا: {وَأَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ} (طٰہٰ :۱۴) اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے لبریز تھا، اس لیے وہ چیز جوبطورِ خاص اس کی  یاد اورمحبت حاصل کرنے کا ذریعہ تھی یعنی نماز، اسے آپ  صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتلایا۔         صاحب مظاہر حق نے فرمایا: ’’لفظ ِ’’قُرَّۃُ‘‘یہ’’قَرَّ‘‘ سے مشتق ہے ، جس کے معنی قرار و ثبات کے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ جب نگاہ کو محبوب کا دیدار نصیب ہوتا ہے تو نہ صرف نظر کو قرار ملتا ہے، بلکہ دل کو بھی سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے، جس طرح محبوب کا دیدار نہ ہونے سے نظریں پریشان اور دل بے قرار رہتا ہے، لہٰذا نگاہ اور دل کے اسی قرار کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’قُرَّۃٌ‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ( مظاہر حق جدید:۶/۹۵).
بہر حال! نماز،نیک عورت اور خوشبو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت اور محبت کا مرکز ومحور ہے، لہٰذا   آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جو چیزیں آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کو پسند ہیں وہ ہمیں بھی پسند ہوں۔
خلفائِ اربعہؓ  کی پسند  :    یہ تین چیزیں وہ تھیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند کرائی گئیں ،جن کا ذکر اس حدیث میں ہوا۔ دوسری روایت میں ابن حجرؒ نے اپنی تصنیف ’’المنبہات‘‘ میں مزید تفصیل بیان فرمائی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پسندیدہ اشیا ء کاذکر فرمایا، تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہٗ نے اجازت لے کرعرض کیا: حضور!مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں :           عرض کیا:
’’  اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهكَ،    وَإِنْفَاقُ مَالِیْ عَلٰی أَمْرِکَ ،   وَأَنْ تَکُوْنَ بِنْتِیْ فِیْ بَیْتِکَ ۔
۱-        آپ کے چہرۂ انور کی طرف دیکھنادنیا وما فیہا سے زیادہ پسندیدہ ہے۔    
۲-        آپ کے منشا وحکم پر اپنا مال خرچ کرنا مجھے بڑا پسند ہے۔      
۳-       آپ کے نکاح میں اپنی بیٹی دینا بھی مجھے بہت پسندہے۔  
  صدیق اکبرؓ کے بعد سیدنا عمرؓ نے عرض کیا: حضور! مجھے بھی تین چیزیں بہت پسند ہیں:    
          ’’اَلأَمْرُبِالْمَعْرُوْفِ، وَالنهىُ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَالثَّوْبُ الْخَلَقُ۔‘‘           
۱-        امر بالمعروف کرنا،حسنات و معروفات کی اشاعت کرنا مجھے بہت پسند ہے۔  
۲-                     نہی عن المنکر کرنا ،برائیوں کا خاتمہ کرنا مجھے بہت پسند ہے۔
 ۳ -                  پرانے (مگر پاک صاف) کپڑے پہننابھی مجھے بہت پسند ہے۔      
 پھر سیدنا عثمان غنی     ؓنے حضور صلی اللہ علیہ و سلم  کے سامنے اپنی تین پسندیدہ چیزیں پیش کیں:         
’’إِطْعَامُ الْجِیْعَانِ، وَکِسْوَۃ العُرْیَانِ، وَتِلَاوَۃ الْقُرْآنِ‘‘۔          
۱-        بھوکوں کو کھانا کھلانا پسند ہے۔           
۲-        ناداراورننگوں کو کپڑا پہناناپسند ہے ۔   
۳-       قرآن کریم کی تلاوت کرنابھی بہت پسند ہے۔    
یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ آخری وقت میں بھی حضرت عثمانؓ نے قرآن کو اور قرآنِ کریم نے حضرت عثمانؓ  کو  اپنے سینے سے لگا کریاری پکی کرلی اور آپؓ نے تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
اخیر میں سیدنا علی کرم اﷲ وجہہٗ نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنی تین پسندیدہ چیزیں عرض کیں:
’’اَلْخِدْمة لِلضَّیْفِ، وَالضَّرْبُ بِالسَّیْفِ، وَالصَّوْمُ فِی الصَّیْفِ‘‘۔
۱-        مہمانوں کی خدمت کرنابہت پسند ہے ۔
۲-        جہاد بالسیف، یعنی راہِ حق میں تلوار سے جہاد کرنا بہت پسند ہے۔       
۳-       شدیدگرمیوں میں روزے رکھنابھی بہت پسند ہے ۔         
شمع رسالت کے ان بے لوث پروانوں کی یہ پسندیدہ اشیاء محض زبانی جمع خرچ نہیں تھیں، بقولِ شاہ صاحب علامہ سید عبدالمجید ندیمؒیہ پسند صرف زبان و بیان کی حد تک محدود نہیں،بلکہ اُنہوں نے عملی زندگی میں بھی اس کا بھر پور مظاہرہ فرمایا، جو تاریخ کا زرین باب ہے۔
جبرئیل امین علیہ السلام اور رب العالمین کی پسند  : ابھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور ان جلیل القدر صحابہؓ کی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ سیدالملائکہ حضرت روح الامین تشریف لائے اور عرض کیا : ’’رب العالمین نے آپ تمام کی گفتگو سن کر مجھے بھیجا ،تاکہ میں اپنی اور رب العالمین کی پسند بتلائوں، میری پسند تو یہ ہے  
:إِرْشَادُ الضَّالِّیْنَ، وَ إِعَانةعِیَالِ الْمُعْسِرِیْنَ، وَمُؤَانَسة الْغُرَبَائِ  الْقَانِتِیْنَ‘‘۔                                                   ۱- (دنیوی اور دینی اعتبار سے) بھٹکے ہوؤں کو راہِ راست بتلانامجھے بہت پسند ہے ۔         
۲-   عیال دار،تنگ دست کی نصرت کرنا،جس کی جیب تو خالی ہو، مگر ضمیر محفوظ ہو، مجھے بہت پسندہے۔
 ۳-  عبادت گزار غریبوں سے محبت کرنا،یعنی باضمیر غریبوں سے دوستی کرنابھی مجھے بہت پسند ہے۔           
پھر فرمایا ! اﷲ پاک کو اپنے بندوں سے تین چیزیں بڑی پسند ہیں:
 بَذْلُ الْاِسْتِطَاعة، وَ الصَّبْرُ عِنْدَ الْفَاقة،  وَالْبُکَائُ عِنْدَالنَّدَامة‘‘۔       
۱-     بندہ کا اپنی طاقت و استطاعت کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنااللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔         
۲-    فاقہ کے وقت شکوہ کے بجائے صبر کرنا بھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔    
۳-    گناہوں پر ندامت کے ساتھ رونابھی اللہ تعالیٰ کو بہت پسندہے۔
ائمہ اربعہ کی پسند  :’’نزھۃ المجالس‘‘ میں علامہ عبدالرحمن صفویؒ نے فرمایا :’’جب یہ حدیث ائمۂ اربعہ کو پہنچی تو ہر ایک نے اپنی اپنی پسند بیان فرمائی، سب سے پہلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ؒالنعمانؒ نے اپنی پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-  طویل رات میں جاگ کر علم حاصل کرنا  مجھے بہت پسندہے۔
۲- تکبر ترک کرنا اور تواضع اختیار کرنا مجھے بہت پسندہے۔
۳-  وہ دل جو دنیا کی محبت سے خالی ہو اور اللہ کی محبت سے لبریز ہومجھے بہت پسندہے۔     
پھر حضرت امام مالک ؒ نے اپنی تین پسندیدہ اشیا ء بیان فرمائیں:
۱- روضۂ اقدس کا قرب مجھے بہت پسندہے ۔
۲-        آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک (مدینہ) سے چمٹے رہنا بھی مجھے بہت پسندہے۔
۳-       اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔          
 اس کے بعدحضرت امام شافعی ؒ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-         مخلوق کے ساتھ اخلاق سے پیش  آنا  مجھے بہت پسندہے۔
۲-        ترکِ تکلفات  اور سادگی سے زندگی گذارنامجھے بہت پسندہے۔
۳-       راہِ تصوف اختیار کرنا بھی مجھے بہت پسندہے۔     
اخیر میں حضرت امام احمد بن حنبل ؒ نے اپنی تین پسندیدہ چیزیں بیان فرمائیں:
۱-        اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  میری پہلی پسندہے۔
۲-                آپ صلی اللہ علیہ و سلم  کے انوارات  و ارشادات سے برکت حاصل کرنا بھی مجھے بہت پسند ہے۔
۳-       آپ   صلی اللہ علیہ و سلم  کے نقش قدم پر چلنا مجھے بہت پسندہے۔ ( نزہۃ المجالس/ ص: ۹۹/ ج :۱)     
  سچ ہے:{ أُولٰئِکَ حِزْبُ اللّٰہِ أَلاَ إِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ  ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (المجادلۃ:۲۲) ’’یہ اللہ تعالیٰ کی جماعت اورگروہ ہے، یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والاہے۔‘‘اوریہ ہے ان کا وہ گلدستۂ محبت وہدایت جس کی خوشبو سے گلشن انسانیت مہکتا رہے گا۔یہ عاجز دست بستہ اپنے مولیٰ کے حضور عرض کرتاہے کہ’’الٰہی ! مجھے۱-توبۃً نصوحاً ۲-اپنی مکمل اصلاح ۳-اور دونوں جہان میں تیری رضا پسندہے، لہٰذا اپنی محبت نصیب فرماکر اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطافرما، آمین۔ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِماً أَبَدًاعَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِالْخَلْقِ کُلِّھِمْ٭…٭…٭
بحوالہ گلدستہ حدیث:     ترتیب  اکبر حسین اورکزئی 

پیر، 10 ستمبر، 2018

ایک محرم ۔ یوم شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔آپ ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو جنت کی خوشخبری دی گئی۔آپ کے دور میں اسلامی مملکت 28 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔

نام و*نسب
آپ کا نام مبارک عمر ہے اور لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و*کنیت دونوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

ابتدائی زندگی
آپ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ میں پید ا ہوۓ اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے.

ہجرت
ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا.آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہممت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا
عمر ابن الخطاب ، رسول کريم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں
رسول کريم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمايا "اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔" [ جامع ترمذی، ج 2 ، ص 563
]

ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمايا "جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔" [صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880 ]

مزید ایک موقع پر فرمايا " اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کردیا ہے۔

واقعات
آپ ایک انصاف پسند حاکم تھے۔ یک مرتبہ آپ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔
ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پن بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیۓ صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جھاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔
جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے : 1-گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔ 2-عمدہ کھانا نہ کھانا۔ 3-باریک کپڑا نہ پہننا۔ 4-حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔ اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عادات
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے اور خود حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی جلالت کے معترف تھے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو فرمایا آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر اللہ رحمت بھیجے کوئی شخص مجھے تمہارے درمیان اس ڈھکے ہوئے آدمی (مراد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی میت سے تھی) سے زیادہ پسند نہیں کہ میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

شہادت
یکم محرم کو ایک ایرانی مجوسی غلام ابولولو فیروز نامی بدبخت نے آپ کو اس وقت شہید کردیا جب آپ نماز پڑھارہے تھے۔آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

اتوار، 2 ستمبر، 2018

میت کے گھرسے کھانہ کھانے کا حکم


الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام على رسوله الكربم وعلى اله وصحبه اجمعين . امابعد
میں بندہ ناچیز اکبر حسین اورکزئی اپ تمام معزز دوستوں کا شکر گزار ھوں کہ اپ حضرات نے اپنے مابین ایک مسلے پر بحث مباحثے کے بعد ہم ناچیز کو اس پر روشنی ڈالنے کا موقع فراہم کیا ؛ یقین جانئیے کہ سوشل میڈیا پر اگر ھم لایعنی بحث مباحثوں میں پڑنے کی بجائی اس طرح دینی مسائل ڈسکس کریں اور جو بات سمجھ نہ ائے علماء کی طرف رجوع کریں وثوق سے کہتا ھوں کہ ھمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی ائی گی ۔ علم حاصل کرنا ھر مسلمان پر فرض ھے؛ یعنی وہ علم جس کے لیے ھم اپنی زندگی میں کم از کم محتاج ہیں جس میں سب سے اول عقائد کو بنیادی حیثیت حاصل ھے ۔ درست اور صحیح عقیدہ قیامت میں ذریعہ نجات ھوگا ۔
محترم دوستو میں اس مسئلہ کی طرف اتا ھوں جو اصل موضوع تھا ؛ اس سلسلے میں میں فتاوی محمودیہ
سے سوال جواب اپ حضرات کے سامنے پیش کرتا ھوں و باللہ التوفیق ۔

سوال: جس گھر میں فوتگی ہو وہاں کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:جب کسی کی وفات هوجائے تو اس کے گهر والے چونکہ صدمہ  میں مبتلا ہوتے ہیں  اس لئے اہل  محله اور رشتہ دار اهل ” میت ” کا کهانا تیار کریں اور جو نماز جنازه میں شریک نہ ہوسکا وه جاکر تعزیت بهی کرسکتاہے .

لیکن میت کے گهر اجتماع اور اہل  میت کا لوگوں کے لئے کهانا تیار کرنا ایک بهت بڑا گناه ہے اور بہت  سے علاقے اس قبیح حرکت کا شکار ہو  کر مقروض ہوجاتے ہیں  اور بسا اوقات وه تو سود پر قرض لینے پر بهی مجبور ہوجاتے ہیں اس طرح سے وارثوں کا اور بطور خاص یتیموں کا مال برباد کیا جاتا ہے ۔
1: حضرت جریر رضی الله تعالی عنه المتوفی51 هجری ” فرماتے ہیں :
” کنا نری الاجتماع الی اهل المیت وصنعته الطعام من النیاحته “
* ابن ماجه ص117 ، مسند امام احمد ج2 ص204 *
ترجمه: ہم  یعنی حضرات صحابه کرام رضوان الله اجمعین میت کے گهر جمع ہونے کو اور میت کے گهر کهانا تیار کرنے کو نوحہ سمجهتے تهے.
2: مرفوع حدیث میں آیا هے که میت پر آواز کے ساتھ رونا ، بین اور نوحه کرنا اهل جاہلیت کا کام هے اور نوحه کرنا جمہور ر سلف وخلف کر نزدیک حرام ہے .” امام نووی شرح مسلم ج1 ص303 “
اسی طرح میت کے گهر کا کهانا بهی سمجها جائے یہ روایت دوطریق سے مروی هے.
علامه هیثیمی رحمه الله ایک سند کے متعلق لکهتے هیں که یه بخاری کی شرط پر صحیح هے اور دوسری کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ  مسلم کی شرط پر صحیح ہے . * کتاب ، مجمع الزوائد *
3: حضرت علامه ابن امیر الحاج المالکی رحمه الله ” المتوفی 737 ه ” لکهتے هیں که:
” اهل میت کا کهانا تیار کرنا اور لوگوں کا جمع  ہونا اس میں کوئی چیز(سنت سے) منقو ل نہیں  ہے بلکہ  یہ  بدعت غیر مستحب ہے   
بعض لوگوں نے یہ  بدعت نکالی ہے کہ  میت کے تیجہ  پر طعام تیار کرتے ہیں  اوریہ  ان کے نزدیک معمول بہ   کام بن گیا ہے. ” کتاب مدخل ج3 ص275
حضرت علامه محمد بن محمد مبنجی حنبلی رحمه الله ” المتوفی 777هجری ” تسلیته المصائب ص99 ” میں 
اور حضرت امام شمس الدین بن قدامه حنبلی رحمه الله ” المتوفی 682 هجری ” شرح منقنع للکبیر ج2 ص426 میں اور امام موفق الدین بن قدامه حنبلی المتوفی 620هجری ” لکهتے ہیں :

4: ” کہ  اہل  میت جو لوگوں کے لئے کهانا تیار کرتے ہیں  وه مکروه ہے کیونکہ  اس میں اهل میت کو مزید تکلیف اور شغل میں مبتلا کرنا ہے  نیز اس سے مشرکین اہل  جاہلیت  کے ساتھ مشابهت بهی پائی جاتی ہے  ” 
* کتاب المغنی ج2 ص413 

5: حضرت علامه ابن عابدین شامی رحمه الله لکهتے هیں:
مذهبنا ومذهب غیرنا کالشّافعیته والحنابلته …… همارا ( یعنی ہمارے  احناف کے نزدیک ) اور حضرات شوافع اور حضرات حنابله رحمه الله کا یهی مذہب ہے .
” ج1 ص841 “
6: حضرت امام نووی رحمه الله شرح منهاج میں لکهتے ہیں :

” الاجتماع علی مقبرته فی الیوم الثالث وتقسیم الورد والعود والطعام فی الایام المخصوصته کالثالث والخامس والتاسع والعاشر والعشرین والاربعین والشهر السادس والسنة بدعته ممنوعته “

قبر پر تیسرے دن اجمتاع کرنا اور گلاب اور اگر بتیاں تقسیم کرنا اور مخصوص دنوں کے اندر روٹی کهلانا ، مثلاَ ” تیجه ، پانچواں ، نواں ، دسواں ، بیسواں اور چالیسواں ” دن اور چهٹا مهینه اور سال کے بعد یه سب کے سب امور بدعت ممنوعه هے .
* بحواله انوار ساطعه ص105 *
7: اسی طرح سے حضرت ملا علی قاری رحمه الله نے لکهتے ہیں 
همارے مذهب ” حنفی ” کے حضرات فقهاء کرام نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ  میت کے پہلے  اور تیسرے دن اور اسی طرح ہفتہ  کے بعد طعام تیار کرنا مکروهہے .
* مرقاته شریف ج5 ص482 *
* فتاوی محمودیه *
حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوھی دیوبند
والله اعلم بالصواب